Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 Shoq e Deedar (Episode 24)
Shoq e Deedar (Episode 24)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi
زین ہمارے ساتھ بہت ظلم ہورہا ہے…عون اپنے روم میں لیٹا کال پر زین سے بولا…
صیح بول رہا ہے توُ یار…آج آج پتا ہے تمہیں تیرے دوست کے ساتھ کیا ہوا…زین بھری آواز میں بولا…
کیا ہوا جان بولو نا…میرا دل بند ہورہا ہے…عون پریشان سا بولا…
عون آج بھَائی نے ماما بابا کے جاتے ہی مجھے ہتکڑی لگاکر منہ پر ٹیپ لگاکر بند بیڈ کے پاس ہتکڑی سے بند کردیا تھا…اور اور ظلم یہ کہ مجھے دیکھا دیکھا کر میری آنکھون کے سامنے چیزیں کھارہے تھے…زین آنسو صاف کرتا بولا…
ہائے اللہ یہ ہی باقی رہے گیا تھا جو بنا جرم کیئے…توُ ٹھکک تو نے نہ…عون فکرمندی سے بولا…
اب کیا کرنا ہے عون یہ ظلم دن با دن بڑتا ہی جارہا ہے…زین سو سو کرتا بولا…
کچھ تو کرنا ہی پڑے گا…عون پیشانی پر ہاتھ مسلتا بولا…
ڈون سے بات کرنی پڑی گی…زین ایکدم بولا…
جس کے پیچھے سات ملکوں کی پولیس لگی ہوئی ہے…عون حیرت سے بولا…
ابے نہیں یار اس معاملہ کو سیریس لو ورنہ کسی دن ہمارے جنازہ کو اٹھانے وہ بلیک سوٹ میں چار آدمی آرہے ہوگے اور ناچتے ہوئے لے کر جائے گے…زین نے اسے ڈپٹا…
توبہ ڈرا کیوں رہے ہو یار…ویسے تم صیح کہہ رہے ہو ہم کب تک یہ ظلم برداشت کرتے رہے گے آخر ہم بھی انسان ہے…کیا واقعی ہم انسان ہے…عون نے آخر میں وہ سوال کیا جس کا جواب پر زین بھی خاموش ہوگیا…
خیر ہمیں پہلے ڈون سے بات کرنی چاہیئے…زین بولا…
صیح ویسے مین سوچ رہا تھا مال روڈ پر دھرنا دے دو برہان بھائی کے خلاف..عون سر کھجاتا بولا…
اور میں تبریز بھائی کے پولیس اسٹیشن کے باہر…لیکن سب سے اچھا ضیغم بھائی ہمارے کام آسکتے ہیں..میں انہیں کال کرنے جارہا ہوں تم بھی کرلو اور اپنا مسلئہ بیان کرو امید ہے وہ تھوڑا ترس کھالے ہم پر…زین نے مشورہ دیا جو عون کو بھی اچھا لگا…
🌟🌟🌟🌟🌟
کیسا ہے کیف…عون کیف کو لان می دیکھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ مارتا بولا…
ہم تو مست ہے اپنی بتا…کیف بولا…
ہم بھی بس ٹھیک ہی ہے…عون بولا…
ماہم بھابھی کہاں ہیں…عون نے سوال کیا…
وہ میرے لیئے چائے بنانے گئی ہے…یہ لگا عون کے زخم پر نمک…
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی توُ چائے پی رہا تھا…اپنی جزبات پر قابو پاتے عون بولا…
تو ابھی پھر دل چارہا ہے…خیر توُ کیا جانے یہ شادی شدہ لائف ہے جب دن چاہا بول دو کسی کے آگے بھیک تو نہین مانگنی پڑتی…کیف نے اسے جلانے کو کہا…
ویسے شرمندگی نہین ہوتی تجھے…تیری عمر کے لڑکے کی شادی تیری آنکھوں کے سامنے ہوگئی اور توو اب تک کنوارا گھوم رہا ہے…کیف بولا…
توُ ارسل بھائی بھی تو ہیں شاہ ذر بھی…عون اپنے دفاع میں بولا…
ارسل بھائی کی بات الگ ہے وہ حجاب کی شادی کے بعد کرے گے اور شاہ ذر بھائی کی وفا کے ساتہ ہورہی ہے شادی لیکن تم…چک چک چک…بیچارے…کنوارے…بھکاری…کیف اس کا چہرہ دیکھتے مزے سے بولا…
ویسے ادھر دیکھو…کیف نے عون کا چہرہ اپنی طرف کیا…
کیا ہے…عون چڑا…
یہ لعنت تیرے لیئے…کیف نے اسے لعنت دیکھتے بولا…
ارے ماہم چائے کے ساتھ جو تم نے شامی کباب بنائے ہے وہ بھی لیتی آنا…کیف کباب پر زور دیکھا بولا جس پر عون سے دھکیلتا اندر بڑگیا پیچھے کیف کا قہقہہ نکلا…
🌟🌟🌟🌟🌟
ضیغم آپ کا فون کب سے بج رہا ہے…درنجف ضیغم سے بولی جو رات دیر سے آیا تھا اور اب تک سو رہا تھا کب سے فون بج رہا تھا لیکن وہ تھا کہ سونے میں لگا تھا…
تم ادھر بابا پاس بیٹھو میں کال دیکھتی ہون کس کی ہے…درنجف میثم کو ضیغم کے برابر بیڈ پر بیٹھاتی فون اتھا کر دیکھنے لگی اتنے میں ضیغم بھی آنکھیں کھولتا اٹھا اور میثم کو سینے سے لگا اور پیار کرنے لگا…
اسلام و علیکم جی کون…ضیغم کے کچھ بولنے سے پہلے ہی درنجف نے کال رسیو کرتے کہا…
وعلیکم سلام…ہائے پیچھانا مجھے ریڈ چیکس والی لڑکی…کاش آپ مجھے پہلے مل جاتی…عون درنجف کی آواز سنتا بولا…
کیا آپ کو پہلے مل جاتی تو کیا ہوتا…درنجف ناسمجھی سے بولی لیکن اتنی سی بات سن کر جلدی سے ضیغم نے اس کے ہاتھ سے موبائل لیا اور خودُ بات کرنے لگا…
ہاں بے کون ہے…کس کو پہلے نہ ملنے پر دوکھ ہے…عون کو ضیغم کی سرد آواز سنائی دی جس سے عون کے پسینے بھنے لگے…
م…مین تو بول رہا تھا کاش آپ میری…
کیا کاش…ضیغم تیز لہجے مین بولا…
کاش آپ میرے والد ہوتے…نہیں مطلب آپ میرے سالے ہوتے…ارے یار مطلب آپ میرے بھائی ہوتے…عون گڑبڑا کر کیا سے کیا بول دیا…
کام کی بات پر آؤ عون…ضیغم بولا…
وہ وہ…بھائی…ہمارے ساتھ بہت ظلم ہورہا ہے…آپ آپ یقین نہین کرے گے…ہماری آنکھوں کے سامنے سب شادی کررہے ہیں…عون بھاری آواز میں بولا…
تو آنکھیں بند کرلو سمپل….ضیغم نے کمال کا مشورہ دیا تھا کہ عون نے ایک بار موبائل کان سے ہٹاکر گھورا تھا سامنے تو ایسی حرکت کر نہیں سکتا تھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
اس دن مصطفیٰ شاہ تانیہ بیگم برہان مشعل موسیٰ حمنہ بیگم طلال شاہ کے گھر آئے تھے اور شاہ ذر کا رشتہ آیت سے خیر خیریت سے کردیا تھا اور وفا تبریز کی شادی کے ساتھ ہی شاہ ذر اور آیت کی شادی کا فیصلہ کیا تھا زین اور جنت کا نکاح ان لوگون کی مہندی والے دن ہونا تھا شادی جنت کی پڑھائی مکمل ہونے پر شادی میں ایک ہفتہ بچا تھا گھر کے سب ہی بڑے بازاروں میں لگے ہوئے تھے اس وقت اسُ دن کی طرح زین اور تبریز تھے ابھی تبریز فریش ہوکر نکلا ہی تھا کہ اس کے روم کا دروازہ کھولا اور زین اندر داخل ہوا…
کیا ہوا آپ پھر قید ہونے کا دل چارہا ہے…تبریز نے طنز کیا جو کھڑا مسکرا رہا تھا…
نہین آج کسی کو قید دیکھنے کا دل چارہا ہے…زین مسکراہٹ لیئے بولا تو تبریز کندھے پر ڈلا ٹاول بیڈ پر ڈالتا اس کے پاس آیا…
توُ کرکے گا مجھے قید…تبریز ہنس کر بولا…
نہیں یہ کرے گے…زین مسکرا کر بولا ہٹا تو ضیغم اندر داخل ہوا…
توُ کب آیا…تبریز سچ میں چونکا تھا…
مسٹر تبریز طلال شاہ آپ کو بیچارے اکیلے اور معصوم بھائی پر ظلم کرنے کے الزام پر گرفتار کیا جاتا ہے…ضیغم جلدی سے تبریز کے ہاتھ میں ہتکڑی باندی…
یہ کیا حرکت ہے ضیغم چھوڑ مجھے…تبریز چلایا…
چھوٹے کہاں بند کیا تھا تمہیں…بڑے ہی پیار سے ضیغم نے زین سے سوال کیا…
بک برو ادہر بیڈ کے پاس…زین نے اشارہ سے بتایا تو ضیغم اسے گھسیٹا لیکر ادھر گیا اور ہتکڑی کا دوسرا حصہ بیڈ سے باندا…
ضیغم میں تیری جان لے کوگا کھول مجھے…تبریز چلاتا بولا…
پہلے کھول تو جا…ضیغم نے اس کا مذاق اٹرایا اور زین کے ہاتھ سے ٹیپ لیا اور تبریز کے منہ پر لگایا…
صیح ہے چھوٹے…ضیغم نے زین سے سوال کیا اور تبریز کے بیڈ پر آڑی ترچی لیٹ گیا…
بک برو یہ لیں…زین نے تبریز کے ہی فریج سے چاکلیٹس نکال کر ضیغم کو دی پھر آم نکالے…
آم کھائے گے آم….زین نے تبریز کے سامنے آم کیئے تو وہ اسے خوانخوار نظروں سے گھورنے لگا اور اپنے آپ کو کھولنے کی تکودی کرنے لگا…
بک برو چائے پیئے گے…ضیغم جو لیٹا موبائل یوز کررہا تھا زین کے بولنے پر بولا…
نیکی اور پوچ پوچ…لیکن خیال رہے چائے “نمک والی چائے” نہین ہونی چاہیئے…ضیغم تبریز کو دیکھتا بولا…
فکر مت کریں وہ صرف تبریز بھائی کے لیئے ہی ہوتی ہے…زین نے اور تبریز کا دل جلایا اور چائے بنانے چل دیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
عون کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھے ہو…وفا کب سے عون کو ڈھونڈ رہی تھی جب نہ ملا تو اس کے روم مین داخل ہوئی وہ کھڑے کے پاس خاموش بیٹھا ہوا تھا…
جاو وفا جاؤ جیی لو اپنی زندگی…عون بنا دیکھے وفا سے بولا…
نشئہ کرنا شروع کردیا کیا تم نے…وفا نے طنز کیا…
ہان ہاں اب یہ بھی وقت آنا تھا یہ بھی الزام مجھ پر لگادو…ارے میں ہوں ہی اتنا برا…عون کو پھٹ ہی پڑا…
ہوا کیا میرے بھائی…وفا عون کا چہرہ ہاتھوں مین لیتی بولی…
میری کوئی عزت نہیں وفا وہ وہ میرے سامنے بڑا ہوا ہے اور آج مجھے لعنت دے رہا تھا…بول رہا تھا گیری کوئی عزت نہیں بھکاری ہر وقت چائے مانگتے رہتے ہو …اب بتاو جب اس بات پر مین نے برہان بھائی سے کہا کہ مجھے بیوی چاہیئے تو کہتے ہین پہلے کچھ بن تو جاؤ…عون بولا…
اچہا نہ میں بات کروگی بھائی سے…وفا پیار سے بولی…
تم بھی ایک ہفتے بعد چلی جاوگی پھر پھر کیا ہوگا میرا وفا سوچا ہے تم نے کوئی تو ہونا چاہیئے جسے مین پریشان کرو…وفا یہ دنیا معصوم لوگوں کی نہین یہ ظالم لوگ مجھے جینے نہیں دے گے…عون معصومیت سے بولا تو وفا کو پیار آیا کوئی اور بھی تھا جو دروازہ کے پاس کھڑا ویڈیو بنارہا تھا…
اچھا کیسی بیوی چاہیئے میرے بھائی کو…وفا نے محبت سے پوچھا…
مریم چاہیئے…عون معصومیت سے بولا…
کہاں ملتی ہے…وفا نے سوال کیا…
ہمارے اپرُ والے پورشن میں…وہئی معصومیت بھرا لہجہ…
مریم…او گڈ عون تم اپنی مریم کی بات کررہے ہو…وفا حیرت سے بولی…
ہاں…عون آنکھیں بند کرتا بولا…
چلو آو بھائی کے پاس چلتے ہیں…وفا عون کو زبردستی کھچتی لیکر برہان کے پاس آئی جو بیٹھا لیپ ٹوپ پر کام کررہا تھا پاس ہی شاہ ذر بیٹھا تھا…
برہان بھائی مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ہے…وفا بولی…
جی بھائی کی جان بولو…برہان لیپ ٹوپ بند کرتا بولا…
بھائی مجھے عون کی بیوی مطلب اپنی بھابھی چاہیئے…وفا بولی…
مجہے بیوی چاہیئے…عون بھی بولا…
بھابھی بیوی بول تو ایسے رہے ہو جیسے بازار سے جاکر سوٹ لینا ہے…برہان نے طنز کیا…
بھائی پہلے یہ دیکھلے…شاہ ذر نے اپنا موبائل نکالتے ایک ویڈیو برہان کو لگاکر دی جو ابھی وفا اور عون کی شاہ ذر نے چپھ کر بنائی تھی…
بہت ظلم ہورہا ہے تم پر ہیں نا…برہان بولا…
پپہلے ضیغم سے کال کروارہے ہو وہ مجھے کال کرکے بول رہا ہے اپنے بھائی کا چھوٹا سا نکاح ہی کروادو وہ میری بیوی کے پیچھے پڑا ہے ورنہ وہ خودُ گن پوائنٹ پر عون کا نکاح کروادے گا اور اب یہ…برہان بولا…
تو کروادے نہ یار پلیز نہ…عون برہان سے پیار سے بولا…
ہممم…اچھا ٹھیک ہے کل بات کرتے ہیں بابا چاچو سے…لیکن ابھی صرف نکاح شادی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد…برہان نے ہار ماتے کہا تو عون نے وفا کو خوشی سے گلے لگایا…
تھیک یو تھیک یو بھائی…عون کی خوشی دیکھنے لائق تھی…
بھائی مجھے تبریز کے ساتھ ہی شاپنگ پر جانا ہے…وفا بولی لیکن آنکھیں چمکی تھی ایسا کیسے ہوسکتا تھا وہ تبریز کو زچ کرنے کا موقعہ جانے دے…
ایک ہفتے تو سکون سے جینے دو آگے تو اللہ ہی خیر ہے…شاہ ذر نے طنز کیا…
آپ کو بڑی فکر ہورہی ہے…وفا چڑ کر بولی…
سالا جو بنے والا ہے جناب کا…برہان نے بھی شاہ ذر پر طنز کیا…
آپ بھی ویسے آگ لگانے میں کسی سے کم نہیں ہے…شاہ ذر تپ پر بولا….
کیا کرو عون کا بھائی ہو کچھ تو اصر ہوگا ہی…برہان بالوں میں ہاتھ پہرتا بولا…
🌟🌟🌟🌟🌟
میرا کچھ نہیں جاتا تمہیں ہی گناہ ملے گا…ضیغم موبائل یوز کرتا تبریز سے بولا جو سوچوں میں ضیغم کو گالیاں دے رہا تھا…
توُ پہلے کھول تو مجھے پھر بتاتا ہوں…تبریز سوچ میں بولا…
وقت آنے پر کھول دوگا…ضیغم بولا اتنے میں زین چائے ٹرے میں لیتا آیا تو ضیغم اٹھ کر بیٹھا…
یہ لیئے بک برو…زین نے کپ اس کے آگے کیا تو ضیغم نے ایک سپ لیا…
واہ لڑکے ٹیسٹ ہے ہاتھ میں…ضیغم بولا…
جی اچھا بنا لینا ہوں…زین شرماتا بولا…
واقعی بنا تو بہت ہی اچھا لیتے ہو…ضیغم نے طنز کیا ہارن کی آواز پر زین اچھل کر کھڑکی کے پاس گیا اور دیکھ طلال شاھ گاڑی پارک کرتے دروازہ بند کررہے تھے…
بک برو جلدی کریں ماما بابا آگئے مجرم کو آزاد کریں…زین چلایا تو ضیغم نے جلدی سے چابی نکال کر اس کے ہاتھ کھولے پھر منہ سے ٹیپ ہٹایا…
پانی دو اس کے منہ پر مارنا ہے…ضیغم زین نے سے بولا تو اسُ نے پورا گلاس بھر کر ضیغم کے آگے کیا ضیغم نے چھیٹے مارنے کے لیئے انگلیاں گلاس مین ڈالی تو زین بولا…
انہیں نے اتنا سا پانی میرر منہ پر مارا تھا آپ پورا گلاس ڈالے…زین نے مشورہ دیا تو ضیغم نے پورا گلاس اس پر الٹ دیا تبریز جھنجھلا کر رہے گیا اور ہوش مین آتے ضیغم کو پکڑ کر بیڈ پر دھکا دیا…
سالے توُ آج نہیں بچے گا مجھ سے…تبریز ضیغم کے پیٹ پر مکہ ماتے چلایا…
میری غلطی نہیں یہ مجھے بار بار کال کرکے میری بیوی کی قسمیں دے جارہا تھا پھر میری بیوی کو کال کرکے اپنے اپر ظلم کی رودات سنائی وہ ویسی ہی حساس ہے فوری مجھے بیچ دیا…ضیغم نے صفائی دی..
توُ تو ادھر آ بہت ظلم ہورہا ہے تم پر اسٹور مین بند کروگا تب عقل آئی گی…تبریز اٹھ کر زین کو کالر سے پکڑ کر بولا اتنے میں کمرے کا دروازہ کھولا…
یہ کیا کررہے ہو تبریز…حرم شاہ حیرت سے بولی…
ماما…میں نے بولا تھا نہ مجرموں کو کیسے ڈیل کرنا ہے اس کی پریکٹس یہ مجھ پر آزماتے ہیں…زین معصوم چہرہ لیئے بولا…
اسلام و علیکم آنٹی..ضیغم شریفوں کی طرف کھڑا بولا…
وعلیکم سلام ضیغم آیا ہے…حرم بیگم پیار سے بولی…
کچھ کھلایا اس کو چائے وائے پوچھی…حرم بیگم تبریز سے بولی…
نہین آنٹی کوئی بات نہیں تبریز بول رہا تھا بس پانی پلادیا بہت ہے باقی گھر جاکر اپنی بیوی کے ہاتھ کا کھانا…ضیغم نے معصومیت سے آگ لگائی زین نے مسکراہٹ دبائی تبریز تو حیرت سے دونوں کو دیکھ رہا تھا…
بہت بری بات ہے تبریز پہلے بیچارے زین کو آپ مار رہے تھے اور اب ضیغم سے ایسے بولا…حرم بیگم تیز لہجے میں بولی…
ماما میں ن…
بس جاو بیٹا زین بھائی کو ڈرائنگ روم میں بیٹھاو میں اپنی ناشتے کا انتظام کرتی ہوں…حرم بیگم تبریز کو گھورتی بولی…
آئے بک برو…زین ضیغم کو لیتا باہر نکلا پھر مڑ کر تبریز کو دونوں نے زبان چڑائی اور بھاگے…