Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 Shoq e Deedar (Episode 07)
Shoq e Deedar (Episode 07)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi
اسلام و علیکم کیسے ہیں آپ…وفا بھاگتی ہوئے نیچے آئی اور لاونج میں کھڑے ارمان سے بولی…
وعلیکم سلام بیٹی ہم تو ٹھیک ہیں آپ بتائیں کہاں غائب ہیں..ہوں…ارمان اسے پیار کرتا شکوہ کن لہجے میں بولا…
بس ماموں آئے بیٹھے تو میں امی کو بلاتی ہوں…وفا ارمان کو صوفے پر بیٹھا کر تانیہ بیگم کو بلانے چلی گئی…
اسلام و علیکم آپی…ارمان تانیہ بیگم کو آتا دیکھ کر کھڑا ہوا…
وعلیکم سلام ارمان..کیسے ہو ارم کیسی ہے…تانیہ بیگم ارمان سے بڑی تھی اور ارمان کے کوئی بچے نہیں تھے تو ارمان کی بیوی ارم کی خیریت پوچھی…
اللہ کا شکر آپی…کہاں غائب ہیں آپ لوگ نہ آرہے ہیں نہ کوئی کال…سوچا مل کر آؤں…ارمان نے شکوہ کیا…
ارے ارمان بس…تانیہ بیگم سر جکھائے اتنا ہی بولی اور ارمان سمجھ گیا کیا بات ہوگی…
اچھا خیر…برہان شاہ ذر عون کہاں ہیں…ارمان بہن کو شرمندہ دیکھ کر بولا…
شاہ ذر بھائی عون یونی گئے ہوئے ہیں برہان بھائی آفس…چائے کی ٹرولی لاتی وفا بولی…
ارے گڑیا اس کی ضرورت نہیں تھی…ارمان ٹرولی میں سجے لاوزمات دیکھ کر بولا…
ارے ماموں آپ ہمارے گھر آتے ہیں کب ہیں اور اپر سے نکھرے کررہے ہیں…وفا منہ بناتی بولی تو ارمان ہنس دیا..
چلو کوئی نہیں…خیر تم میرے ساتھ چل رہی ہو ایک ہفتے کے لیئے ہمارے گھر رکنے تمہاری نانو اور مامی یاد کررہی ہے…ارمان بولا تو وفا نے تانیہ بیگم کو دیکھا…
نہیں ارمان وفا…نہیں مصطفیٰ غصہ کریں گے…تانیہ بیگم گھبرا کر بولی…
آپی بولنے دیں جو بولتے ہیں وہ بس فالتو میں اپنے انا میں رہے گئے آپ فکر مت کریں اور تم شام میں آوگا ابھی کام سے جارہا ہوں ادھر ہی کام ہے شام تک آتا ہو اپنا سامان پیک کرلو یونی قریب ہے ہمارے گھر سے تمہاری…ارمان چائے کا کپ رکھتا کھڑا ہوا اور وفا سے بولا..
جی ٹھیک ہے ماموں…تانیہ بیگم کے بولنے سے پہلے ہی وفا بول اٹھی ناچار تانیہ بیگم خاموش ہوگئی…
🌟🌟🌟🌟🌟
کیا نام ہے بیٹا آپ کا…زین ناشتہ کررہا تھا تو عون کو بھی زبردستی سے نے بیٹھا دیا تھا ناشتہ کرنے کہ حرم شاہ بولی…
آنٹی عون نام ہے میرا…عون چائے پیتے ہوئے بولا…
پورا بتاؤ…ماما یہ بھی ہماری طرح پورا نام لیتا ہے اپنا…زین شرارت سے بولا…
عون مصطفیٰ شاہ…عون بھی شرارت سے بولا تو تبریز جو موبائل یوز کررہا تھا عون کے پورے نام پر چونکا…آج تبریز کا اوف تھا تو وہ گھر پر ہی موجود تھا…
ماشااللہ بہت پیارا اور شریف بچا ہے…حرم شاہ مسکرا کر بولی تو زین کو تو دھچکا ہی لگا گیا تھا حرم شاہ نے گھبرا کر اسے پانی دیا عون ہنس پڑا…
ماما یہ شریف پیار کیا ہوگیا آپ کو…زین صدمے سے بولا…
مطلب تم نہیں ہو تو ہم کسی اور کو بھی نہ بولیں…تبریز سنجدگی سے بولا تو عون کا قہقہ نکلا زین نے دونوں کو خوانخوار نظروں سے دیکھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
اے لڑکی…وفا جو اپنے کمرے میں جارہی تھی سیما شاہ کی آواز پر رکی…
جی بولیں…وفا بولی…
ایک کپ چائے بناکر کمرے میں لے کر دو…سیما شاہ نے ایسے حکم دیا جیسے وہ گھر کی ملازم ہو…
میں اپنی رشیدہ سے بول دیتی ہوں…وفا ضبط سے بولی…
تم سے بولا ہے نہ تم ہی بناوگی…اور میرے سامنے زیادہ زبان مت چلایا کرو…دوبارہ میرے آگے بولی تو زبان کٹوا دوگی سمجھی جاؤ اب…سیما شاہ چلاکر بولی مشعل چلانے پر آئی…
کیا ہوا کوئی کام ہے میں کردو…مشعل نرمی سے بولی…
ارے بی بی زیادہ مکھن نہ لگایا کرو تم کیا سمجھتی ہو نظر نہیں آتا ہمیں…اور کیا بول رہی تھی کہ کیا ہوا ہے تو بی بی تمہاری یہ نند زبان چلارہی تھی…سامنے سے مصطفیٰ شاہ کو آتا دیکھ کر سیما شاہ بولی…
آپ جھوٹ بول رہی ہیں…میں نے کب زبان چلائی…وفا صدمے سے بولی لیکن برا ہوا مصطفی شاہ وفا کے سامنے آئے اور بنا سوچے سمجھے ایک تھپڑ مارا مشعل نے شاک کی کیفیت میں مصطفیٰ شاہ کو دیکھا جب سے وہ اس گھر میں بہو بن جر آئی تھی کبھی اسُ نے وفا پر ہاتھ اٹھے نہیں دیکھا تھا اور آج….
بتمیز لڑکی…زبان چلاتی ہو بڑوں سے…یہ تربیت کی ہے تمہاری جاہل ماں نے…مصطفیٰ غصے سے دھاڑے…
با…بابا…می..میں…وفا شاک کی کیفیت میں روتے ہوئے بولی کی کوشش کررہی تھی لیکن اسُ سے بولا نہیں جارہا تھا…
اب…اب مجھے سے بھی زبان چلاوگی…مصطفی شاہ دوبارہ مارنے کو لپکے…
پلیز چھوڑ دیں میں معافی مانگتی ہوں…تانیہ بیگم جو شور سن کر آئی تھی خودُ بھی روتے ہوئے بولی…
جاہل عورت آگر دوبارہ کبھی اسے زبان چلاتے دیکھا تو زندہ نہیں چھوڑوں گا…مصطفیٰ شاہ چلاتے ہوئے کمرے کی طرف بڑگئے شو ختم ہوتے دیکھ کر سیما شاہ مسکراہٹ لیئے آگے بڑگئی اور وفا وفا کسی کو دیکھے بنا بھاگتی ہوئے اپنے روم میں داخل ہوئی اور روم بند کرلیا اندر سے باہر مشعل اور تانیہ بیگم آوازیں دے کر تھک گئے…
اگلے ہفتے حمنہ اور سلمان شاہ آئے گے…مصطفیٰ تانیہ بیگم سے بولے تو تانیہ بیگم نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا….
کیوں…خیریت…وہ ہچکاتی ہوئے بولی…
میں نے وفا کا رشتہ موسیٰ سے کردیا ہے منگنی کی ڈیٹ لینے وہ لوگ اگلے ہفتے آئے گے کیف کی شادی ماہم سے اس ہی مہینے ہوگی…تو وفا کی منگنی ابھی کردیں گے شادی کیف کی شادی کے بعد…مصطفیٰ شاہ پرسکون سے بولے لیکن تانیہ بیگم کو لگا جیسے زلزلہ آگیا ہو…
آپ…آپ..نہ..کسی سے پوچھا نہیں وفا سے بھی نہیں…تانیہ بیگم سکتے میں بولی…
مجھے جو فیصلہ کرنا تھا وہ میں کرچکا…مصطفیٰ شاہ نے گویا بات ہی ختم کردی..
🌟🌟🌟🌟🌟
موسیٰ کی شادی وفا سے ایسا میں ہونے نہیں دوگی…میں وفا کی زندگی عزاب کردوگی…سچ میں اپنے آپ کو شہزادی سمجھنے لگی ہے…اب دیکھنا وفا…ماریہ کو جب معلوم ہوا تب سے وہ آگ میں جل رہی تھی..
🌟🌟🌟🌟🌟
کیا ہوا آپ لوگ ایسے کیوں بیٹھے ہیں…شام کا وقت ہوگیا تھا گھر میں خاموشی کا راج تھا کہ تینوں بھائی لاونج میں مشعل اور تانیہ بیگم کو پریشان بیٹھا دیکھ کر بولا…
او ہاں ماموں کی کال آئی تھی انہیں ضروری کام سے جلدی جانا پڑھا اس لیئے وفا سے بولیں تیار ہوجائے میں چھوڑ دیتا ہوں ابھی…برہان بولا…
پہلے وفا گیٹ تو کھولے…مشعل پریشانی سے بولی…
کیوں کیا ہوا…شاہ ذر بولا تینوں بھائی نے ان دونوں کو دیکھا…
آج…آج…مشعل سے بولا نہیں جارہا تھا…
آگے بولوں مشعل…برہان چڑ کر بولا بہن کے معاملہ میں وہ بےصبر تھا…
آج بابا نے وفا پر ہاتھ اٹھایا…تانیہ بیگم بولی…
واٹ…بابا نے…عون صدمے سے بولا…
ہاں…پھر مشعل نے پوری بات بتائی تو تینوں بھائیوں کا بس نہ چلا کہ کیا کر گزریں…ابھی تو رشتہ پکا ہونے والی بات کسی کو نہیں بتائی تھی تانیہ بیگم نے…
🌟🌟🌟🌟🌟
گڑیا…سوری میری جان بابا پھوپھو کی طرف سے…برہان شاہ ذر عون تینوں اس وقت وفا کے پاس بیٹھے تھے وفا رو رو کر برا حال ہوگیا تھا..
مجھے ماموں کے گھر جانا ہے…ادھر رہی تو پاگل ہوجاوگی…تھوڑا فریش ہونا چاہتی ہوں…وفا کھڑے ہوتے ہوئے بولی…
ہان کیوں نہیں چلو تیار ہو…برہان کو بھی یہ ہی صیح لگا فل وقت…
🌟🌟🌟🌟🌟
پورا راستہ خاموشی سے گزرا تھا وفا خاموش باہر دیکھ رہی تھی اور برہان ہونٹوں میں سگریٹ دبائے گاڑی ڈرائیف کررہا تھا…برہان نے گاڑی ارمان کے گھر کے پاس ہو روکی تھی کہ سامنے سے آنے والی گاڑی سے ٹکر ہوئے…
او شٹ…برہان سامنے والی گاڑی کو دیکھ کر بولا اور ڈرائیونگ سیڈ پر بیٹھے تبریز کو دیکھا بہت ہلکی سی گاڑی پر لگی تھی…ارمان بھی چھت پر تھا اس لیئے فوری اتر کر گیٹ کی طرف بڑھا باہر جانے کے لیئے..