📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Episode 04)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Episode 04)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

کیا ہوا منہ کیوں بنا ہوا ہے…عون گاڑی مری ہائے وے پر ڈالتا وفا سے بولا جو منہ بنائے خاموش بیٹھی تھی…

میرا منہ ہی ایسا ہے…وفا باہر دیکھتی ہوئے بولی…

او…میں بھول گیا شاید میک آپ اتر گیا تمہارا جبھی ایسا بولا…عون شرارت سے بولا لیکن وفا باہر دیکھنے میں مگن تھی…

اتنے اندھرے میں کچھ نظر نہیں آئے گا ہاں شاید سفید کپڑوں میں لمبے بال والی چڑیل آجائے تم سے ہیلو ہائے کرنے…عون نے اس کے باہر دیکھنے پر طنز مارا تو وفا نے جلدی سے شیشہ اپر کیا…

مسلئہ کیا ہے تمہارے ساتھ خاموش بیٹھے رہو…وفا جھنجھلا کر بولی…

اوکے میں تو سوچ رہا تھا مال روڈ سے آئسکریم کھاتے جائیں گے لیکن کوئی بات نہیں…عون سکون سے بولا آئسکریم کے نام پر وفا کی آنکھوں چمکی..

نہیں مطلب میرے بھائی…اتنی خوبصورت آواز ہے تمہاری خاموش رہا کرو نظر لگ جائی گی…وفا نے پڑھری بدلی تو عون نے مسکراہٹ دبائی…

نہیں کوئی بات نہیں…عون نے مسکراہٹ دبا کر کہا…

عون…وفا دانت پیس کر بولی…

اچھا اچھا میری جان مذاق کررہا تھا…عون ہنس کر بولا..
🌟🌟🌟🌟🌟
چلو تم اندر میں گاڑی لاک کرکے آیا…عون نے گاڑی گراج میں رک کر وفا سے کہا تو وہ نکل کر اندر داخل ہوئی ابھی وہ اپنے روم کی طرف جا ہی رہی تھی کہ کسی سے ٹکراؤ ہوا…

اوپس…سوری…وفا جلدی سے سمبھل کر بولی لیکن مقابل اسے دیکھنے میں مگن تھا اور وفا کو اس کا اس طرح دیکھنے سے الجھن ہونے لگی دوسری طرف یہ منظر ماریہ نے دیکھ تو وفا سے جلن ہوئی..

اسلام و علیکم…خاموشی عون کی آواز نے توڑی تو موسیٰ گڑبڑا کر سمبھلا…

وعلیکم سلام کیسے ہو عون…موسیٰ بولا..

اللہ کا شکر..آپ لوگ کب آئے پھوپھو بھی آئی ہیں..عون بولا…

ہاں سب آئے ہیں وہ مصطفیٰ ماموں نے بولا تھا آج ڈنر ادھر ہی کرنا سب…موسیٰ نے بتایا…

او اچھا…عون نے سمجھ کر کہا…

اور وفا کیسی ہو کیسا رہا پہلا دن یونی میں…موسیٰ وفا سے بولا جو بیزار ہی کھڑی تھی…

اچھا رہا بس تھکن بہت ہوگئی اففف…ایک تو ادھر ادھرُ جاو…پھر یہ مریم میڈم کو ڈھنڈنے میں انسان خوار ہوجائے مت پوچھے یار بس…وفا تو نان اسٹوپ شروع ہوچکی تھی موسیٰ مسکراہٹ دبا کھڑا سن رہا تھا…

ہاں صیح ہے تم بس تھک گئی جاؤ اب…عون نے ہاتھ جوڑے…

قدر ہی کوئی نہیں…وفا بڑبڑاتی آگے بڑی ابھی وہ لاونج سے گزرتی تھی کہ مصطفیٰ شاہ کی آواز پر رکی جہاں سب موجود تھے اور سلمان شاہ کے آنے کا انتظار کررہے تھے…

جی بابا…وفا مصطفیٰ شاہ کی سخت طبیت کی وجہ سے ڈرتے ڈرتے بات کرتی تھی ورنہ برہان تک سے وہ بنا جھجک بات کرلیتی تھی…

تمہیں نظر نہیں آرہا یہاں کوئی بیٹھا ہے ادھر آو…مصطفیٰ شاہ حمنہ شاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سخت لہجے میں بولے ناچار وفا کو ادھر آنا پڑھا سوچا تھا فریش ہوکر آئی گی ایک تو یونی کا پہلا دن پھر راستے کی تھکن برہان نے باپ کو ناپسندگی نظروں سے دیکھا…

اسلام و علیکم…وفا حمنہ شاہ کے پاس آکر بولی پاس ہی سیما شاہ بھی بیٹھی تھی سیما شاہ رہتی تو اسی گھر میں تھی لیکن اپنے کمرے سے نکلتی کم تھی اور جب نکلتی تھی تو وفا اور تانیہ بیگم کی جان عزاب کردتی تھی…

وعلیکم سلام کیسی ہے میری بیٹی…حمنہ شاہ اسے پیار سے بولی تو وہ بھی بیزاری سے جواب دینے لگی…

تم تھک گئی ہوگی…جاؤ فریش ہوجاؤ وفا…ارسل وفا کو بیزار دیکھ کر بولا وہ بھی روز جاتا تھا یونی اور اسےُ معلوم تھا کتنی تکھن ہوجاتی تھی راستے کی وجہ سے..

نہیں چلی جائے گی تھوڑی دیر میں…اتنی بھی کیا تھک گئی ہوگی…مصطفیٰ شاہ سختی سے اسے اٹھے دیکھ کر بولے تو وفا اور ارسل دونوں چپ ہوکر بیٹھ گئے…

ہاں بھئی اتنی نازک مجازی لڑکیوں پر اچھی نہیں لگتی…سسرال میں کیا کرے گی ناک کٹوا دے گی یہ لڑکی…سیما شاہ طنزیا انداز میں بولی تو برہان شاہ ذر نے مٹھیاں بیھچی…

امی میں بھی تو آکر آرام کرتا ہوں…ارسل ماں کی بات پر بولا…

تم لڑکے ہو ارسل…بلکہ وفا تمہیں اب گھر داری سیکھنی چاہیئے کیا ہر وقت بچی بنی رہتی ہو…سیما شاہ نے مشورہ دیا وفا تو انِ لوگوں کی باتوں سے ہی دل خراب ہونے لگا تھا…

ارے پھوپھو ابھی تو ہماری وفا چھوٹی ہے…اور اتنے ملازم ہے تو گھر تو کیوں ہم اپنی لاڈی بہن کو پریشان کریں…خاموش بیٹھا شاہ ذر بول ہی پڑھا..

ہائے بھئی دیکھ رہے ہیں بھائی جان…اٹھارہ سال کی لڑکی بچی ہے…شاہ ذر بیٹا اس عمر میں ہماری شادی بھی ہوچکی تھی…سیما شاہ طنز کرتے ہوئے بولی شاہ ذر ماں کی التجہ نظروں پر خاموش ہوا اپنی بیٹی کی فکر نہیں دوسروں کی بیٹی فکر ستانے لگتی ہے ارسل بھی ماں کی باتوں سے تنگ آکر اتھ کر چلا گیا…

وہ کیا ہے نہ پھوپھو ہماری ایک ہی بہن ہے اور ہمیں بہت پیاری بھی ہے…جب گھر میں اتنے ملازم ہے تو کیوں لاڈوں میں پلی بہن سے کام کروائے…اور دوسری بات ایسی گھر میں میں اپنی بہن کی شادی ہی نہیں کروگا جس گھر میں بہو نہیں ملازم لانے کی تیاری لگے مجھے…برہان نے بامشکل ضبط کرتے ہوئے کہا تو برہان کی بات پر حمنہ شاہ نے مصطفیٰ شاہ کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا…

اچھا بس برہان…اور بھئی کب تک آئیں گے سلمان شاہ…مصطفیٰ پہلے برہان سے پھر حمنہ شاہ سے بولے…

ہاں بس تھوڑی دیر میں…حمنہ شاہ بولی…

وفا وفا ادھر آنا زرا…مشعل نے لاونج کے دروازہ پر آکر پکارا تو سب نے اسے دیکھا وفا برہان شاہ ذر سمجھ گئے تھے کہ مشعل کو کوئی کام نہیں وہ وفا کو یہاں سے ہٹانے کے لیئے بلارہی ہے…

جاؤ بھابھی کی بات سنو…مصطفیٰ شاہ بولے تو سیما شاہ نہنہ کرتی رہے گئی…وفا اور برہان نے تشکر نظروں سے مشعل کو دیکھا اور پھر وفا اور مشعل نکل گئے…
🌟🌟🌟🌟🌟
توُ کمرے میں ہے باہر نہیں آیا سب باہر بیٹھے ہیں…عون کیف کے روم میں داخل ہوکر کیف سے بولا جو لیپ ٹوپ پر کچھ کام کررہا تھا…

کون بیٹھے وہ ہیں…کیف نے سوال کیا…

کوئی آیا وہ ہے باہر…عون شرارت سے بولا…

کون…کیف لیپ ٹوپ پر مصروف بولا…

وہئی کوئی کوئی…عون شرارتی انداز میں بولا…

کیا موسیٰ لوگ آئیں ہیں..کیف رک کر بولا…

بلکل..عون بولا…

ماہم بھی آئی ہے..کیف لیپ ٹوپ بند کرکے مسکرا کر بولا..

بلکل…عون ہنس کر بولا…

مجھے کیسے پتہ نہ چلا…کیف شیشہ کے سامنے کھڑا ہوکر بال ٹھیک کرتا گنگنایا…

اس لیئے کہ تم اپنے ہجرے میں بند جو بیٹھے تھے…عون نے کیف کی پشت پر تھپڑ مارا…

کتے…کیا کررہا ہے ہاتھ دیکھا ہے اپنا…کیف کراہ کر بولا عون جمنگ کرتا تھا تینوں بھائیوں کی بوڈی زبردست تھی کیونکہ تینوں ہی جمیگ کرتے تھے گھر کے پیچھے والے حصے میں برہان نے جم بنوایا تھا…

ہاں بہت بار تم بھی دیکھو اور دیکھ کر بتاؤ شادی کب تک ہوگی میری…عون اپنا ہاتھ کیف کے آگے کرکے بولا…

اس ہی جنم میں ہوجائے گی فکر مت کر..کیف مزہ سے بول کر روم سے باہر نکلا..

مجنو صاحب کو دیکھو دیدار کے لیئے کیسے تڑپ رہے ہیں…عون بھی بڑبڑاتا روم سے نکلا..
🌟🌟🌟🌟🌟
ویسے ماما اب بھائی کی شادی کرادینی چاہیئے…چاروں اس وقت لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ زین شرارت سے بولا…

تمہیں میری شادی کی اتنی جلدی کیوں ہے…تبریز آئبرو اچکا کر بولا..

کیونکہ پھر میری باری آئی گی…زین دانت نکالتا ہوا بولا…

تو ماما بابا پہلے اس کی کردیں شادی…تبریز ہنس کر بولا…

اچھا بھائی کوئی گرفرینڈ محبت وحبت عشق ہوا ہے آپ کو…زین شرارت سے بولا…

اگر کسی سے عشق ہوتا نہ تو اب تک تمہاری بھابھی کچن میں کھڑی چائے بنارہی ہوتی…تبریز بھی شرارت سے بولا تو حرم شاہ نے ایک چپت لگئی..

اوئے ہوئے…ویسے عشق کیا ہے آپ کی نظر میں…عشق نہ ملے تو جیت لیتے ہیں یا مل جائے تو…زین تبریز کو موڈ میں دیکھ کر بولا…

اصل عشق وہ ہے جس کی منضل نکاح ہو اگر عشق کی منضل نکاح نہیں تو وہ عشق ہی نہیں…تبریز سنجدگی سے بولا…

واہ بھائی واقعی عشق میں فاتح وہ ہی ٹھرا جو اپنے عشق کو محرم بنالے…زین بولا…

اچھا ویسے ہماری بھابھی کیسی ہونے چاہیئی ہیں…زین نے سوال کیا تو تبریز مسکرا کر بولا..

اچھی سلجھی ہوئی زیادہ بولنے والی نہیں زیادہ چنچل ٹائپ نہیں تمیز دار خوبصورت لمبے بال گوری زیادہ دماغ نہ کھانے والی اور بس کم بولنے والی…تبریز بولا تو…

اوکے ڈن ماما سن لیا نہ آپ نے سب بس ڈھونڈنا شروع کردیں آپ…زین موبائل پر ٹائپ کرتا حرم شاہ سے بولا تو تبریز نے زین کی پشت پر ہنس کر ایک چپت لگائی…
🌟🌟🌟🌟🌟
ہائے بھابھی آپ کا بہت بہت شکریہ اس جہنم سے نجات دیلانے کا…وفا لاونج سے نکل کر گہری سانس لے کر تشکر نظروں سے مشعل کو دیکھتی ہوئے بولی…

اگر آپ جہنم میں جارہی ہوگی نہ تو میرا وعدہ ہے میں آپ کی بخشش کے لیئے خدا سے رکویسٹ ضرور کروگی…وفا کے بولنے پر مشعل نے اسے گھورا…

میری معصوم بیوی کیوں جہنم میں جانے لگی…برہان ان لوگوں کے قریب آکر وفا سے بولا…

اب شوہر کے گناہ کے جرم کی سزا بھی مل سکتی…وفا شرارت سے بولی…

میں نے کون سے ظلم کردیئے…برہان حیرت سے بولا…

ہم معصوم پر کرتے ہیں نہ…عون بھی ادھر آکر بولا…

خدا کا خوف کرو کچھ…تم جیسے معصوم ہونے لگے تو دنیا سے معصومیت سے اعتبار ہی اٹھ جائے گا…برہان بولا…

آپ لوگ لگے رہیں میں فریش ہوجاؤ پھر آتی ہوں ورنہ بابا کی دانٹ بھر سنے کو ملے گی…وفا منہ بناتی بولی تو مشعل نے اسے کمرے مین بیجھا…

برہان بابا ایسے کیوں ہوگئے صرف گھر والوں کے ساتھ…مشعل برہان سے بولی جو کھڑا کھیرا کھارہا تھا عون بھی چلاگیا تھا…

پتہ نہیں یار…باپ ہیں کچھ بول بھی نہیں سکتے…برہان ضبط سے بولا…

اچھا آپ پریشان نہ ہو…مشعل نرمی سے مسکرائی تو برہان بھی بامشکل مسکرادیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
امی عون چلاگیا…وفا دوپہر کے وقت تیار تانیہ بیگم کے کمرے میں کھڑی بولی…

ہاں کیوں…تانیہ بیگم اسے تیار دیکھ کر بولی…

شاہ ذر کیف برہان بھائی ارسل…کوئی بھی گھر پر نہیں ہے…وفا جھنجھلا کر بولی…

نہیں کیون بیٹا تمہاری تو آج کلاس نہیں تھی نہ مریم لوگ بھی اپنی نانی کی طرف گئے ہوئی ہیں…تانیہ بیگم بولی…

امی کلاس نہیں تھی لیکن یہ فورم جمع کروانا تھا…وفا بولی اور کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھا…

تو اب کیا کروگی…تانیہ بیگم پریشانی سے بولی…

گاڑی کھڑی ہے نہ میں خودُ چلی جاوگیٔ…وفا پرسکون سی بولی…

تم خودُ جاؤگی تمہار بابا اور برہان شاہ ذر غصہ کریں گے…تانیہ بیگم پریشانی سے بولی…

ارے امی آجاؤگی جب تک فکر نہ کریں آپ اوکے چلتی ہوں…اور تانیہ بیگم ارے ارے کرتی رہے گئی…
🌟🌟🌟🌟🌟
دو گھنٹے کی ڈرائیوف کے بعد وہ فورم جمع کرا کر روسٹرونٹ کی طرف بڑی ابھی گاڑی پارک کرکے اتری تھی کہ ایک لڑکا بندوق لیئے اس کے سر پر کھڑا ہوا…

جلدی دے موبائل پرس…وہ لڑکا ادھر ادھرُ دیکھتا جلدی سے وفا سے موبائل پرس چھنتا بھاگا وفا کو جب ہوش آیا تو اپنی سینڈل اتر کر کھیچ کر لڑکے کو ماری اسے بھاگتا دیکھ کر سامنے کھڑے پولیس موبائل بھی ادھر آکر رکی وفا لڑکے کے پاس پونچھ کر اسے مارنے لگی تو پولیس والوں نے اسے پکڑ کر پیچھے کیا اور لڑکے کی گن اور لڑکے کو پولیس موبائل میں ڈالا اور وفا کا سامان بھی…

ارے میرا موبائل کل ہی لیا ہے…میرا پرس…پولیس موبائل جاتے دیکھ کر وفا افسوس سے بولی اور اپنی سینڈل پہن کر پھر جلدی سے گاڑی پولیس موبائل کے پیچھے ڈال دی پولیس اسٹیشن پر گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہوئی اور ڈوبٹہ صیح سے لیا اگر گھر کسی کو معلوم ہوجاتا تو وفا کی خیر نہیں تھی…

جی محترمہ آپ یہاں کیوں آئی ہیں…ایک حوالدار وفا کو دیکھ کر بولا تو وفا تھوک نگلنے بولی…

وہ وہ ڈاکو جو آیا ہے ابھی اسُ نے میرا موبائل اور پرس چرایا ہے وہ اب پولیس والوں کے پاس ہے وہ میرا ہے اور مجھے چاہیئے ہے…وفا آہستے سے بولی…

وہ ساری چیزیں اب ایس پی صاحب کے آفس مین انُ کے پاس ہے آپ ادھر سے دوسری طرف جائے انُ کا آفس ادھرُ ہی ہے…حوالدار نے وفا کو راستہ دیکھایا…

کو…کون ایس پی…وفا گھبرا کر بولی…

ایس پی تبریز طلال حیدر شاہ…