Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 Shoq e Deedar (Episode 08)
Shoq e Deedar (Episode 08)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi
گاڑی پارک کرکے برہان فوری گاڑی سے اترا وفا بھی گاڑی سے اتری دوسری طرف سے گاڑی سائڈ پر پارک کرتا تبریز بھی اترا…
سوری یار…آگے گاڑی دیکھ نہیں سکا…برہان شرمندہ سا تبریز سے بولا وفا کی تو اسے دیکھتے ہی تیوری چڑگئی تھی…
اٹس اوکے…ہلکی سی ٹچ ہوئی ہے…کوئی بات نہیں…تبریز نے برہان کی شرمندگی دور کرنا چاہئی…
اسلام و علیکم ماموں…وفا ارمان کو باہر آتے دیکھ کر بولی…
وعلیکم سلام بچے…اندر چلو سب باہر کیا کررہے ہو…ارمان روڈ پر کھڑے انِ لوگوں کو بولا گو تینوں ارمان کے ساتھ اندر چل دیئے سب اندر صوفے پر بیٹھے ارمان نے اپنے بیوی اور ماں کو آواز دی لاونج میں آنے کی البتہ ارمان کچھ گھبرایا ہوا لگ رہا تھا…
سوری بچے…مجھے ضروری کام سے واپس آنا پڑھا…ارمان نے بات کا آغاز کیا…
کوئی بات نہیں ماموں…وفا مسکرا کر بولی…
ارے بچے آئے ہیں…رافیہ بیگم ارمان کی والدہ وفا برہان کو دیکھ کر بولی پھر نظر تبریز پر گئی…
ارے تبریز میرا بیٹا بھی آیا ہے…رافیہ بیگم تبریز کو دیکھ کر نیہال ہی ہوگئی…
اسلام و علیکم…وفا اٹھ ہی رہی تھی کہ تبریز اٹھ کر رافیہ بیگم کے پاس بیٹھ گیا…
وعلیکم سلام جیتے رہو…میرے شہزادے…رافیہ بیگم عمرہ پر گئے ہوئی تھی جب تبریز واپس پاکستان آیا تھا دو دن سے اسے ٹائم نہیں مل رہا تھا ملنے کا اس لیئے آج فارغ تھا تو ملنے آگیا…
کیسی طبیت ہے نانو…تبریز مسکرا کر بولا…لیکن نانو بولنے پر وفا اور برہان نے چونک کر اسے دیکھا…
نانو کی جان…اپنے بیٹے کو اتنے ارصے بعد دیکھ کر تو میں بلکل ٹھیک ہوگئی…رافیہ بیگم مسکرا کر بولی اور اپنے خوبرو جوان نواسے کو دیکھا…
اور برہان…گھر میں سب ٹھیک…ارمان بولا…
اللہ کا شکر ماموں آپ انہیں جانتے ہیں…برہان نے دل میں آیا سوال پوچھ ہی لیا…
یہ…یہ تبریز ہے…ارمان گھبرا کر بولا…
جی میں جانتا ہوں ملاقات ہوئی تھی…برہان بولا تو تبریز مسکرایا وفا خاموش سن رہی تھی آخر یہ اس کی نانو کے گھر کیا کررہا تھا…
ارمان بتادو آخر کب تک چپھا کر رکھو گے…رافیہ بیگم بولی تو ارمان نے ماں کو دیکھا…
تم چھوڑوں ارمان میں بتاتی ہوں…برہان وفا یہ تمہاری خالہ کا بیٹا تبریز ہے…رافیہ بیگم بولی تو برہان اور وفا نے چونک کر انہیں دیکھا انِ کی تو کوئی خالہ ہی نہیں تھی پھر یہ…
لیکن نانو ہماری تو کوئی خالہ نہیں…برہان نے سوال کیا..
تمہاری ایک خالہ ہیں تبریز کی ماں حرم شاہ میری بیٹی…رافیہ بیگم سنجدگی سے بولی تبریز آرام سے بیٹھا تھا اور وفا کے فیس ایکسپریشن انجوائے کررہا تھا…
تو…تو ہم کیوں نہیں ملتے…برہان بھی سنجدگی سے بولا…
تمہارے باپ کی وجہ سے…جواب ارمان نے دیا تھا…
کیوں بابا کی وجہ سے کیوں…کب سے خاموشی بیٹھی وفا بولی…
کیوں کہ تمہارے باپ اتنے پورانی بات پر رک گئے ہیں انُ کی ان اور عزت انہیں گوارہ نہیں کرتی کہ وہ اس گھر میں آئے اور حرم سے ملے…ارمان بولا…
آپ آپ سچ بتائیں بات کیا ہے…برہان بولا اب کچھ کچھ باپ پھوپھو کی نفرت کی وجہ سمجھ آرہی تھی…
تو سنو پھر…ارفیہ بیگم بولی…
🌟🌟🌟🌟🌟
ماضی..
اکبر شاہ،حیدر شاہ،ارحم شاہ (تانیہ بیگم کے والد)
تینوں گہرے دوست تھے تینوں کی دوستی کی ہر جگہ مثال دی جاتی تھی اسی دوستی کی گہرا کرنے کے لیئے حیدر شاہ نے طلال شاہ کا رشتہ اکبر شاہ کی بیٹی حمنہ شاہ سے کردی تھی یہ بات جب طلال شاہ کو پتہ چلی جو پڑھنے کے لیئے اسلام آباد گئے ہوئے تھے…
بابا میں حمنہ سے شادی نہیں کرسکتا…طلال شاہ جھنجھلا کر کال پر بولے…
شادی تمہاری حمنہ سے ہوگی میں نے بات کرلی ہے طلال…شادی کی تاریخ بھی رکھ دی ہے تم بس جلد واپس آجاؤ…حیدر شاہ بولے…
بابا میں کسی اور سے پیار کرتا ہوں آپ سمجھ کیوں نہیں رہے…طلال بلآخر بولے ہی اٹھے…
دیکھوں طلال میں کچھ نہیں کرسکتا اب…حیدر شاہ کچھ نرم ہوئے…
ٹھیک ہے تو یہ کام بھی میں ہی کردیتا ہوں…طلال نے بول کر کال بند کردی…
وہ محبت کرتے تھے سوچا تھا پڑھائی مکمل کرکے ماں باپ کو لے کر رشتہ لے کر جائیں گے وہ بھی تو اب انِ سے محبت کرتی تھی…پھر بابا کی کال آئے اور صرف رشتہ پکا نہیں بلکہ شادی کی تاریخ بھی رکھ دی لیکن طلال شاہ کبھی انہیں دھوکہ دینے کا نہیں سوچ سکتے تھے اس لیئے جب باپ نہین مانے تو حمنہ شاہ کو کال کی نمبر پہلے لیا تھا جب وہ مری میں رہتا تھا آنا جانا ہوتا تھا لیکن اسلام آباد آنے کے بعد کسی سے بات ہی نہیں ہوسکی تھی…
اسلام و علیکم..کیسے ہیں آپ…موبائل کی گھنٹی تیسری بار بجی تو وہ بھاگتی ہوئی اپنے روم میں اندر داخل ہوئی موبائل پر کال کرنے والا کا نام دیکھا تو خوشگوار حیرت ہوئی اور بےتابی سے کال رسیو کی…
وعلیکم سلام…میں نے حال حیوال کے لیئے کال نہیں کی میں نے یہ بتانا تھا آپ کو کہ میں آپ سے شادی نہیں کرسکتا میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں اور اسُ ہی سے شادی کروگا میں نے اپنے والدین سے کہا لیکن وہ نہیں سن رہے میری اس لیئے میں آپ کو بتارہا ہوں اگر اموشنل بلیک میل کرکے میرے والدین برات لےکر آئے تو عین نکاح کے وقت ہی میں خودکشی کرلوگا لیکن آپ سے شادی نہیں…وہ سرد لہجے میں اپنے بات مکمل کرکے کال کاٹ دی لیکن ادھر اسے لگا جیسے زندگی کی ڈور گاٹ دی ہو کسی نے…
صدمے وہ حیرت کے زیر عصر موبائل تو اسےُ پوزیشن میں تک رہی تھی اور دوسرے ہی پل وہ بےجان ہوکر زمین پر گرگئی…
جانتے ہے کے وہ نہ آئیں گے
پھر بھی مصروفِ انتظار ہے دل💔
(احمد فراز)
تانیہ بیگم حمنہ کے کمرے میں شاپنگ کا پوچنے آئی تھی لیکن انہیں زمین پر بےجان دیکھ کر جلدی سے مصطفیٰ شاہ کو بلایا اس وقت تانیہ بیگم کا ایک سال کا بیٹا برہان تھا…مصطفیٰ شاہ لاڈوں میں پلی بہن کو ہوسپٹل لے کر گئے جب حمنہ شاہ کو ہوش آیا تو انہوں نے ساری بات بھائی کو بتائی پھر مصطفیٰ شاہ نے اکبر شاہ کو بتایا حیدر شاہ کو کال کی…
آج سے تمہاری میری دوستی ختم حیدر…تمہارے بیٹے نے صیح نہیں کیا میں نے مصطفیٰ اور ارتضیٰ کو بہت سمجھایا ہے ورنہ وہ جوان خون ہے کچھ بھی کرسکتے تھے…اکبر شاہ سرد آواز میں بولے…
میں معافی چاہتا ہوں اکبر…لیکن کیا کرو میں نے بہت کوشش کی طلال مان جائے لیکن…حیدر شاہ شرمندگی سے بولے…
اب میں تمہیں اسُ ہی تاریخ کو حمنہ کی شادی کرکے دیکھاوگا…اکبر شاہ غرور سے بولے اور بنا سنے کال کاٹ دی…
سلمان شاہ اکبر شاہ نے اپنے بھائی اکرم شاہ کے بیٹے تھے انہیں نے سلمان شاہ کے باپ سے بات کی اور حمنہ کے لاکھ منع کرنے کر باوجود اسُ ہی تاریخ جس میں طلال شاہ سے شادی ہونی تھی اس تاریخ کو حمنہ شاہ کی شادی سلمان شاہ سے کردی…
اس سب کو دو سال گز گئے تھے حمنہ شاہ کو سسرال میں بہت تانے سنے کو ملتے تھے شوہر سے ساس سے اور یہ بات وہ گھر مین بتاتی تھی تو کوئی کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا…
ان ہی دنوں حرم شاہ کی شادی کی بھی تیاریاں شروع ہوگئی تھی کسی کو نہیں پتہ تھا انُ کی شادی کس سے ہورہی ہے کیونکہ ارحم شاہ اسلام آباد شفٹ ہوگئے تھے تو یہ لوگ زیادہ آیا جایا نہیں کرتے تھے کتنے ارصے بعد ایک دن تانیہ بیگم اپنے گھر جاتی تھی مصطفیٰ شاہ بزنس کے سسلے میں ملک سے باہر گئے ہوئے تھے جب وہ واپس آئے تو حرم کی برات کا دن تھا تانیہ بیگم نہ اپنے بہن کی منہدی میں گئی تھے نہ کسی اور تخریب میں کیونکہ مصطفیٰ بول کر گئے تھے تمہاری گھر کو دیکھنا ہے ارتضیٰ شاہ اپنی بیوی کے ساتھ اسُ وقت ملک سے باہر گھومنے گئے ہوئے تھے اس لیئے سب تانیہ بیگم ہی دیکھ رہی تھی..
جب وہ لوگ ہال میں پونچھے تو نکاح شروع ہورہا تھا…اور اور دلہا کو دیکھ کر مصطفیٰ شاہ کی رگیں تن گئی تھی غصے سے مٹھیاں بیھچ لی تھی…
انہیں نے زبردستی تانیہ بیگم کو گھر لے جارہے تھے کہ ارمان اور ارحم شاہ نے روکا…
مصطفیٰ میں نے آپ سے پہلے بھی کال پر معافی مانگی تھی اور اب بھی سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں…طلال صاحب نے پورے ہال کے سامنے ہاتھ جوڑ کر مصطفیٰ شاہ سے معلافی مانگی لیکن کہتے ہیں نہ ہر کسی کو عزت راس نہیں آتی…
میں ایسے خاندان میں دوبارہ نہ اپنے بیوی کو آنے دوگا نہ خودُ آوگا اور اس عورت جس کی وجہ سے میری بہن کی بےعزتی ہوئی تھی اس سے میرا اور میری بیوی بچوں کا رشتہ ہمیشہ کے لیئے ختم…اگر تانیہ اس سے ملے گی تو میں اسے طلاق دے دوگا…انِ کی بات پر سب خاموش ہوگئے تھے ارمان بہت ضبط سے کھڑا تھا ادھر تانیہ بیگم حرم بیگم سے لگی رو رہی تھی اور گھسیٹے ہوئے مصطفیٰ شاہ انہین وہاں سے لے گئے تھے…پھر آج تک تانیہ بیگم کو سارے سسرال والے انہیں تانے دیتے تھے باتیں سناتے تھے وہ بس تھوڑی دیر کے لیئے کبھی کبھی اپنی ماں کے گھر جاتی تھی بہن سے وہ شادی والے دن کے بعد نہیں ملی تھی…
🌟🌟🌟🌟🌟
حال…
او تو یہ بات ہے…برہان کو اب ساری بات سمجھ آگئی تھی وفا تو سن ہوگئی تھی ساری بات سن کر تبریز اپنے آپ کو موبائل میں مصروف ظاہر کررہا تھا…
یہ تہمارا کزن ہے برہان وفا…ارمان بولا تو برہان کھڑا ہوا تبریز بھی کھڑا ہوا اور دونوں گلے لگے…
تمہیں سب معلوم تھا…برہان تبریز سے بولا…
ہاں مجھے سب معلوم تھا جبھی اسے پولیس اسٹیشن میں دیکھ کر میرا خون کھولا تھا…تبریز وفا کی طرف اشارہ کرتا ہوئے بولا جو ہنہہ کرتی منہ موڑ گئی…
ہممم…تم اکلوتے ہو…برہان بولا…
نہیں میرا ایک بھائی ہے بلکل آپ کے بھائی عون کی طرح شرارتی ڈرامہ باز…تبریز ہنس کر بولا..
کیا ہم خالہ سے مل سکتے ہیں…برہان ہچکاتے ہوئے بولا…
ہان کیوں نہیں ماما بہت خوش ہوگی…تبریز خوش دلی سے بولا…
“رشتے کبھی ٹوٹتے نہیں ہے بس کبھی روٹھ جاتے ہیں”
🌟🌟🌟🌟🌟
کیا ہوا اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو…جنت موبائل پر زین کی بات بیزاری سے سن رہی تھی کہ موسیٰ ناک کرتا اندر داخل ہوا جنت نے موبائل فوری رکھا…
کچ…کچھ نہیں بھائی…جنت گڑبڑا کر بولی…
ہممم…کچھ ہونا بھی نہیں چاہیئے ایسا ورنہ تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دوگا…موسیٰ سرد لہجے میں بولا…
ایسی بات نہیں بھائی…جنت مے تھوک نگلا…
کل تیار ہوجانا ماہم کے ساتھ شاپنگ پر چلی جانا…اور کچھ گفٹس وفا کے لیئے بھی لے آنا..موسیٰ موبائل میں لگا بولا…
ج…جی بھائی…جنت بولی…
اور ہر وقت اس میں مت لگا کرو…میری عزت پر اگر بات آئی نہ جنت تو ہشر برا کرکے رکھ دوگا…موسیٰ اس کا گھبرانا گڑبڑانا محسوس کرچکا تھا اور بہت کچھ سوچ بھی چکا تھا…
پھر آپ وفا بھابھی کے ساتھ کیا کرگے وہ تو اتنی لاپروہ ہیں…جنت منمنائی معلوم تھا اس کے بھائی کو لڑکیوں کا زیادہ بولنا گھومنہ پسند نہیں تھا اور یہ دونوں خوبی وفا میں دور دور تک نہیں تھا…
مجھے سب کو ٹھیک کرنا آتا ہے ایک بار گھر میں آنے دو ایسا ٹھیک کروگا کہ کوئی پیچھان نہیں سکے گا…موسیٰ سرد آواز میں بولا اور جنت نے بےساختہ دل میں وفا کے لیئے دعا کی…