Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 Last updated: 9 December 2025
Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi
Novel code: NovelM80067
میں وفا سے شادی نہیں کرسکتا...موسیٰ کے بولنے پر سب کھڑے ہوئے شاہ ذر تو اس کی بات سن کر بھڑک اٹھا اور کچھ سیکنڈ میں موسیٰ کا گربان شاہ ذر کے ہاتھوں میں تھا موسیٰ کے بولنے پر تانیہ بیگم نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا حرم بیگم نے جلدی سے تانیہ بیگم کو سمبھالا اور مصطفیٰ شاہ ناسمجھی سے موسیٰ کو دیکھ رہے تھے...
کیا بولا دوبارہ بول...شاہ ذر دھاڑا...
میں وفا سے شادی نہیں کرسکتا...موسیٰ سنجدگی سے بولا موسیٰ کی بات پر صرف مارا دل سے خوش ہوئی تھی..
تیری تو...شاہ ذر نے ایک مکہ اس کے منہ پر مارا تو سب ہوش میں آکر شاہ ذر کو موسیٰ سے الگ کرنے لگے...
شاہ ذر پلیز...تبریز اور عون نے اسے الگ کیا لیکن برہان بس سرد نظروں سے موسیٰ کو دیکھ رہا تھا شاہ ذر کو کچھ نہ کہا جیسے چاہتا ہو کہ شاہ ذر موسیٰکو مار مار کر جان نکال دے...
وفا نے آنسو بھری نظروں سے موسیٰ کو دیکھا تو اس کے دیکھنے پر موسیٰ نے نظریں چرائی وفا کو اب وہ سوری کا میسج سمجھ آیا تھا اسےُ کوئی محبت غشق نہیں تھا موسیٰ سے لیکن وہ ایک لڑکی تھی اس کے ساتھ اپنی زندگی سوچ چکی تھی اور ایک دم سے موسیٰ کے انکار پر اس کی آنکھیں بھر آئی تھی مریم اور مشعل اس کے پاس ہی کھڑے تھے...
کیوں نہین کرسکتے...کیا کوئی بات بری لگی ہے موسیٰ...مصطفیٰ روعب دار آواز میں بولے...
اگر آپ یہ گھر اور پچاس لاکھ روپے وفا کے جہزہ میں دیں تو موسیٰ وفا سے شادی کرلے گا...سلمان شاہ موسیٰ کے پاس کھڑے ہوتے بولے تو سب نے بےیقینی سے انہیں دیکھا...
آپ میری بہن کی قیمت لگائے گے...برہان کی برداشت اتنی ہی تھی...
بھی دیکھو اکلوتی بہن ہے...تین تین بھائی ہیں...اتنا تو حق بنتا ہے...کیا نہیں کرسکتے اتنا تم لوگ...سلمان شاہ بولے موسیٰ سر جکھائے خاموش کھڑا تھا...
ہم اپنی بہن کے لیئے جان بھی دے سکتے ہیں لیکن...لیکن آپ جیسے لوگوں کو اب ہم خودُ اپنی بہن نہیں دے گے...شاہ ذر تبریز سے اپنا وجود چھڑواتا غصے سے بولا...
چلو یہاں سے موسیٰ....حمنہ بیگم آنسو روکی بولی انہین نے بھائی کی نظروں میں سرد مہری دیکھ لی تھی...
ہممم...میں وفا سے نہیں ماریہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں...موسیٰ کی بات پر سب کو سانپ سونگ گیا تھا عون طنزیا نظروں سے ماریہ کو دیکھ رہا تھا جس کا چہرہ موسیٰ کی بات پر کھل اٹھا تھا...
ہمیں منظور ہے...ارتضیٰ صاحب کی بات پر سے نے بےیقینی سے انہیں دیکھا....
ارتضیٰ...مصطفیٰ نے صاحب نے کچھ بولنا چاہا لیکن اپنے بہن بھائیوں کو اپنی بیٹی کے ٹھکرانے جانے پر خوش دیکھ کر وہ ٹوٹے غرور اور ٹوٹے دل کے ساتھ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑگئے...ابھی سب سکتے بھی تھی کہ کسی کے گرنے کی آواز پر پلٹ کر دیکھا تو وہ بےجان زمین پر پڑی تھی...
وفا...وفا میری جان اٹھو...اس سب واقعہ میں وفا کو سب فرواموش کرچکے تھے اور اب برہان شاہ ذر عون مشعل زین سب اسے ہوش میں لانے کی کوشش کررہے تھے تبریز اور حرم بیگم تانیہ بیگم کو سمبھال رہے تھے...موسیٰ سے برداشت نہ ہوا تو وہ باہر نکل گیا ماریہ کا رشتہ موسیٰ سے ہوگیا تھا ماریہ خوش تھی بہت خوش شاید اسے پتہ نہیں تھا اسُ کی زندگی موسیٰ کس طرح جہنم بنانے والا ہے وفا کو برہان اٹھا کر اس کے روم کی طرف بڑگیا تھا مریم بھی ساتھ آرہی تھی کہ عون نے اسے سرد نظروں سے گھورا اور دروازہ منہ پر بند کردیا مرین نے بےیقینی نظروں سے بند دروازہ کو دیکھا...
Complete Novel Download link AVAILABLE