📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Episode 25)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Episode 25)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

عون عون…مشعل کب سے اسے پورے گھر میں ڈھونڈ رہی تھی لاآخر وہ اسے اسُ کے کمرے میں ہی ملا..
جی بھابھی…عون موبائل سے نظریں اٹھاتا مشعل سے بولا..
یہ لو تمہاری چائے…مشعل نے کپ اس کی سائیڈ ٹیبل پر رکھا عون نے ایک نظر مشعل کو دیکھا پھر چائے کو پھر مشعل کو پھر چائے کو پھر گہری سانس لے کر بولا…
مجھے کسی کے احسان کی ضرورت نہیں اب میری بیوی آرہی ہے…عون گردن اکڑا کر بولا اور پھر چائے کا کپ اٹھا کر سپ لیا مشعل حیران ہوگئی وہ سمجہ رہی تھی عون نے اس لیئے بولا کہ وہ چائے نہین پیئے گا لیکن جناب تو…
اور ہاں رات بریانی بنائی گا…مجھے کسی کے احسان کی ضرور نہیں…لیکن بریانی ہی بنائے گا پلیز مجھے کسی کے احسان کی ضرور نہیں…عون سارے کام بولتا چائے پیتا بھی یہ ہی بولے جارہا تھا مشعل نے کچھ بولنا فضول ہی سمجھا عون سے بولنا مطلب وقت برباد کرنا اور فلحال اس کا وقت نہیں تھا اس لیئے مشعل بنا کچھ بیلے گھورتی چل دی…
🌟🌟🌟🌟🌟
امی آپ نے بلایا…ارسل سیما شاہ کے روم میں داخل ہوتا بولا…
ہاں آو ادھر…سیما شاہ نے اسے بیڈ کے سائیڈ پر بیٹھنے کو کہا بیڈ پر تین چار جولیری کے ڈبے رکھے تھے…
یہ دیکھو ارسل یہ میں نے حجاب کے لیئے رکھا تھا…سیما شاہ ایک سونے کے سیٹ کا ڈبے ارسل کو دیکھاتی بولی…
ماشااللہ بہت پیارا ہے یہ تو…ارسل نے سراہا…
اور یہ وفا کے لیئے…سیما شاہ نے ایک اور سونے کے سیٹ کا ڈبا ارسل کے آگے کیا ارسل بری طرح چونکا اس کی امی سونے کا سیٹ وہ بھی وفا کے لیئے اور وفا کا نام لیئے اتنا پیار…
یہ وفا کے ہی لیئے ہے نہ…ارسل نے کان مسلتے کہا کہ کہئی سنے مین اس سے تو غلطی نہیں ہوئی ارسل کی بات پر سیما شاہ ہنسی…
مجھے امید تھی تمہارا ایسے ہی ریکشن ہونا تھا…ارسل وفا میرا خون ہے میری بھتیجی میرے بھائی کی اکلوتی بیٹی…سیما شاہ بولی…
بڑی جلدی یاد آگیا آپ کو…نہیں مطلب آپ وفا کے ساتھ ایسا کرتی ہیں…ارسل نے طنز کیا لیکن جلدی گڑبڑا کر بولا آخر کو ماں تھی…
ارسل وہ گھر کی اکلوتی ہے ماشااللہ سے تین بھائی وہ بھی اپنی جان سے زیادہ پیار کرنے والے لاڈ اٹھانے والے کوئی اسُ کی ایک چو سے بھی پریشان ہوجاتا ہے…میں نے اپنا رویہ اس لیئے ایسا رکھا تاکہ وہ آگے کسی اور گھر جائے تو عادت ہو کسی کو کسی کے نصیب کا پتہ نہیں ہوتا تبریز کی جگہ کوئی اور خاندان بھی ہوسکتا تھا وہ لوگ کیسے ہوتے کس کو پتہ…لیکن اب میں مطمعین ہوں وہ محفوظ ہاتھوں میں جائے گی اسُ کا وہاں خیال رکھا جائے گا سمجھا جائے گا اللہ اسُ کے نصیب اچھے کرئے…سیما شاہ کے بولنے پر ارسل شاک ہوا مطلب وہ کس انداز سے سوچتی تھی واقعی کیسی کوئی اپنے خون سے اس طرح کا سلوک کرسکتا ہے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے ارسل بےساختہ اپنے ماں سے گلے لگا…
آپ آپ بہت اچھی ہیں امی…ارسل پیار سے بولا…
🌟🌟🌟🌟🌟
ہاں جی تو کیسے حال ہیں ماریہ میڈم…ضیغم اور تبریز اس وقت ہوسپٹل کے روم میں بیٹھے ماریہ سے بولے جس کے ہاتھ میں ڈرپ لگی ہوئی تھی سلمان شاہ تو جیل میں قید تھے لیکن ماریہ ماریہ خودُ بھی نشہ کرتی تھی اور اب اسےُ اتنی عادت ہوگئی تھی کہ وہ ایک دن بھی اسُ کے بغیر رہا نہیں گیا پولیس نے اسے ہوسپٹل میں ایڈمٹ کروادیا تھا اور اب اس کا علاج چل رہا تھا جب ضیغم کو معلوم ہوا کہ وہ اب بات کرنے قابل ہوگئی ہے تو وہ اور تبریز اس سے پوچھنے آئے تھے…
تو ماریہ شروع ہوجاو کیا سے یہ نشہ کرنے کا سفر شروع ہوا آپ کا…ضیغم بولا تبریز بھی ساتھ ہی بیٹھا تھا ضیغم کی بات پر ماریہ تلخی سے مسکرائی اور بولنا شروع ہوئی…
میں جب تھوڑی بڑی ہوئی تو ہر جگہ ہر مقام پر میں نے وفا کو ہی آگے پایا وفا کلاس نے پوزیشن لی وفا نے کالج میں اچھے نمبر لیئے وفا سے ہر کوئی بےانتہا محبت کرتا تھا اسُ کے تینون بھائی اسے ہاتھوں کا چھالا بناکر رکھتے تھے…ہاہاہاہا تھے کیا ہیں اب بھی ہے…اور اور میرا بھائی میرا اکلوتا بھائی بھی ہر وقت وفا وفا کرتا رہتا تھا مطلب اسُ کی بھی تو سگی دو بہنیں ہیں وہ انُ سے پیار کریں لیکن وہ زیادہ تر وفا وفا کرتا پایا جاتا…میری بہن مریم صرف نام کی بہن کیونکہ ساتھ تو وہ ہر وقت وفا کے ہوتی ہے…ہر آنکھ کا تارا وفا ہر طرف وفا بس یہ ہی میری زندگی میں رہے گیا تھا میری کوئی سنتا نہیں تھا میں ڈپریشن میں جانے لگی تھی میں اکیلی پڑگئی تھی میں کیا کرتی بتائیں انسان جب اکیلا پڑجائے تو وہ ڈپریشن میں چلاجاتا ہے میرے ساتھ بھی یہ ہی ہوا…ایک دن سلمان انکل آئے ہوئے تھے بات وفا کی ہی چل رہی تھی مجھے وفا سے حسد گھی جلن تھی میرے ایکسپریشن سے سلمان انکل بالکنی میں مجھے روتا دیکھ کر میرے پاس آئے…
کیا ہوا…سلمان شاہ بولے…
سکون نہیں مل رہا…ماریہ بولی تو سلمان شاہ نے مسکرا کر جیب سے ایک پیکٹ نکال کر ماریہ کے ہاتھ میں رکھا…
یہ لو اور رات میں آرام سے کسی کو ناموجودگی مین استعمال کرنا پھر ہر طرف سکون ہی سکون ہوگا…سلمان شاہ مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ بولے اسُ وقت مجھے پر بھی شیطان غالب آگیا تھا میں نے رات جب سب سوگئے تو میں وہ پیکٹ کھول کر دیکھا اسُ میں سفید پاوڈر تھا اور جس طرح مجھے سلمان انکل نے بتایا تھا میں نے ویسے ہی استعمال کی اور اور پھر آپ لوگوں کو یقین نہیں آئے گا مجھے واقعی سکون ملا بہت سکون اتنے عرصے بعد سکون ملا تھا مجھے بس پھر کیا جب کچھ دن بعد وہ پاوڈر ختم ہوا میں نے سلمان انکل سے کہا تو انہیں نے بولا یہ مفت کا نہیں ملتا تمہیں میرے ساتھ کام کرنا پڑے گا یہ پاوڈر اپنے یونی میں نوجوان نسل کو دینا ہوگا مجھے اپنا سکون چاہیئے تھا میں نے بھی شروع کردیا کوئی امتحان کی ٹینشن میں تھا کوئی گھر والوں کی باتوں سے پریشان کوئی عشق میں ناکام کوئی حالات سے پریشان تو کوئی اکیلے پن سے بےجان کوئی محبوب کی بےوفائی میں نشئی بنا تو کوئی گھر والوں کے طعنوں سے…ہاہاہا میرا بزنس بہت چلا سلمان انکل بہت خوش ہوئے مجھے ڈرگس کے ساتھ اب وہ پیسے بھی دیتے تھے میری زندگی سکون میں تھی…پھر تو سب آپ لوگوں کو پتہ ہی ہے…ماریہ آنسو صاف کرتی بولی تو تبریز نے افسوس کیا…
“آئس کوکرسٹل میتھ یاڈی میتھ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہ پاوڈر یا کرسٹل کی شکل میں دستیاب ہوتا ہے جس کو عام طور پر ناک کے زریعے انجیکشن یا دھوئیں کے زریعے استعمال کیا جاتا ہے-آئس کے نشے کا اثر بہت زیادہ لذت اور بےپناہ توانائی کی صورت میں محسوس اور نشہ کرنے والا سوچتا ہے کہ وہ ہر مشکل سے مشکل فیصلہ کرسکتا ہے اور ہر طرح کی خطرناک منصوبہ بندی کرسکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آئس ڈرامائی طور پر ڈویا میں ہامون کی مقدار کو ایک ایک ہزار گنا تک بڑھا دیتا ہے-جسمانی اثرات میں دل کی دھڑکن کا تیز ہونا،سانس کا تیز چلنا اور خوراک کا کم ہوجانا شامل ہیں آئس کے نشے کے اثرات 4 سے 12 گھنٹے رہتے ہیں اگر چہ آئس کے اثرات خون کے ذرات میں اگلے 72 گھنٹے تک پائے جاتے ہیں،72 گھنٹے کے بعد جب نشے کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں تو مریض میں ایسی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں جو نشے کے اثرات کے بلکل الٹ ہوتے ہیں-اب مریض کے قوت فیصلہ میں شدید کمی آجاتی ہے،ارتکاز کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور معمولی معمولی چیزوں کے لیئے منصوبہ بندی کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے،نظر دھندلی ہوجاتی ہے،بھوک لگتی ہے اور سر میں درد محسوس ہوتا ہے،پریشانی،بےچینی،ڈپریشن بہت زیادہ کمزوری اور کئی دن تک سونا عام علامات ہیں،کچھ ماہرین کے مطابق سونے کی شدید خوائش رکھنے کے باوجود مریض سو نہیں پاتا-اگر آئس کا نشہ زیادہ مقدار میں بار بار استعمال کیا جائے تو اس کے زیراثر لذت کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونا ہونا شروع ہوجاتے ہیں-جسمانی درجہ حرارت میں اضافہ منہ کا خشک ہونا اور متلی قے شامل ہیں-آج سے 15 سال پہلے نشے کا استعمال کرنے والے لوگوں میں 3 فیصد لوگ کرسٹل میتھ کا استعمال کرتے تھے، لیکن موجودہ دور میں 40 فیصد لوگ کرسٹل میتھ کا شکار ہیں-یہ اتنا خطرناک نشہ ہے کہ اگر کوئی صرف ایک بار اس کا استعمال کرئے تو وہ بھی اس لت میں مبتلا ہوجاتا ہے-یہ ایک stimulant ہے جو کہ CNS مرکزی نظام عصبی کو stimulate کرتا ہے-یہ کیمیکل جسم میں فوری تیزی پیدا کرتا ہے-یہ نشہ ہمارے نوجواں کی رگوں میں زہر بن کر ڈورتا ہے-حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے دماغ کی شریانے پھٹنے،حرکت قلب بند ہونے اور کبھی کبھی مرگی کے دورے بھی پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے،اس کے علاوہ ذہنی طور پر اضطرابی کیفیت،شدید تشویش،مخالفانہ اور غصے کے جذبات عمومع اور شدید شک و شوبہ وہم وسوسہ کی علامات ہوتی ہیں،جس کی وجہ آئس کا دماغ میں ایک اور کیمیکل کا پیدا کرتا ہے،نشہ کرنے والے کے جسم کے اندر پاور fight اور ناfight کے اعمال پیدا کرتا ہے-“…ضیغم نے سنجیدگی سے تفصیل سے بتایا جسے تبریز بہی بڑے غور سے سن رہا تھا..
پہلی بات تمہیں حسد تھی سب سے بڑی بیماری دوسرا تمہیں سکون کیسے آتا جب تمہیں حسد تھا اور آگر سکون چاہیئے تھا تو نماز پڑھتی یقین مانو اللہ کی عبادت میں بڑا سکون ہے اکیلی تھی…نہیں یار کوئی اکیلا نہیں ہوتا اللہ ہمیشہ ہر وقت آپ کے ساتھ ہوتا ہے کسی سے بات کرنی تھی…قرآن پڑھتی یقین مانو ایسا لگتا ہے جیسے اللہ ہم سے باتیں کررہا ہوں وہ بتارہا ہوں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں…ضیغم نے بڑے پیار سے مختصر بات میں سب بیان کردیا تھا ندامت سے ماریہ کی آنکھوں سے آنسو جارہی تھے…
“حسد انسان کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے”..تبریز سنجیدگی سے بولا تو ضیغم سے طنزیا نظروں سے اسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو “اچھا تم بھی یہاں موجود ہو تو تبریز نے سمجھ کر دانتوں کی نمائش کی”…
ماریہ سزا تمہیں ملنی ہے تم نے ہماری نوجوان نسل جو تباہ کرنا چاہا ہے جو اس ملک کا مستقبل ہیں تم لوگ اپنے ہی ملک کو کھوکھلا کررہے ہو پتہ نہیں جن کو تم لوگوں نے اس نشے میں لگایا ہے انُ میں کوئی مستقبل کا ڈاکٹر ہوگا تو کوئی انجیئر کوئی بزنس مین تو کوئی پوفیسر کوئی سرحودوں کا محافظ بنا چھاتا ہوگا تو کوئی کچھ بنا چھاتا ہوگا…کوئی کسی کا بھائی ہوگا تو کوئی کسی کی بہن کوئی کسی کا بیٹا تو کوئی بیٹی تم لوگ ہمارے ملک کے مستقبل کو برباد کررہے ہو…لیکن تم جیسے لوگوں کو پکڑنے کے لیئے ہم جیسے اس ملک کے بیٹے موجود ہے جو اس ملک کا مستقبل بچاسکتے ہے اور انشااللہ اپنی آخری سانس تک بچاتے رہے گے…ضیغم مضبوط لہجے میں بولا…
بلکل ہم آخری سانس تک اس ملک کی قدمت کریں گے…اور مجرم کو جڑ سے ختم کریں گے…تبریز بھی مضبوط لہجے میں بولا…
ماریہ…تم نے بہت سے لوگوں کی زندگیاں برباد کی ہیں اب تو پتہ بھی نہیں کتنے زندہ ہیں کتنے مرگئے اور جو مرگئے انُ کے ساتھ رہنے والے اپنے آپ مرجاتے ہیں…ضیغم نے ماریہ کو آئینہ دیکھایا ماریہ کے علاج کے بعد اسے بھی جیل ہی جانا تھا ابھی یہ لوگ بات ہی کررہے تھے کہ ضیغم کے موبائل پر کال آئی ضیغم نے کال آئے والے کا نام دیکھا پھر تبریز کو…
تیرا موبائل کہاں ہے…ضیغم نے سوال کیا..
جیب میں…اوپس سائیلنٹ پر ہے…تبریز ماتھے پر ہاتھ مارتا بولا ضیغم نے کال رسیو کی…
اسلام و علیکم وفا بھابھی خیریت…ضیغم بولا…
وعلیکم سلام…کیا تبریز آپ کے ساتھ ہیں…وفا تمیز سے بولی…
جی بلکل یہ لیں بات کریں…ضیغم نے موبائل کا اسپیکر آون کیا…
ایس پی کے بچے…لیٹ لتیف…دس منٹ سے تیار بیٹھی ہوں میں…وفا پھٹ پڑی تبریز کو ایکدم یاد آیا کہ اسے وفا کو شاپنگ پر لے جانا تھا جب کہ ضیغم قہقہہ دبانے کی پوری کوشش کررہا تھا…
می…میں بس پندرہ منٹ میں آیا…تبریز جلدی سے بولا…
صرف پندرہ منٹ…آگر تم پندرہ منٹ میں میرے سامنے موجود نہ ہوئے تو یقین کرو جس تھانے کہ تم ایس پی ہوں وہئی تمہیں قید کروائی گی…وفا تیز لہجے میں بولی بنا جانے کہ اس کی بات ضیغم بھی سن رہا ہے….
ہاں ہاں آیا..تبریز جلدی سے بولا…
جلدی ابھی تک آیا آیا کررہے ہو نکلو جہاں بھی ہو…وفا تپ کر بولی تو تبریز روم سے بھاگا پیچھے ضیغم نے ہانک لگائی…
اوے…مجھے بتادینا کل تک زندہ ملوگے یا اس ہی ہوسپٹل میں روم بک کرواں تمہارے لیئے…ضیغم ہنس کر بولا تو تبریز اسے گھورتا باہر بھاگا…
توبہ ابھی بیوی بنی نہیں اس کا تو ڈر کر یہ حال ہے آگے خدا ہی حافظ ہے جناب کا…تبریز بڑبڑایا…