📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Episode 06)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Episode 06)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

شاہ ذر تم وفا کی گاڑی لے کر آو….برہان باہر نکلتا شاہ ذر سے بولا اور اپنے گاڑی میں جاکر بیٹھا وفا بھی خاموشی سے بیٹھ گئی پورے راستے دونوں خاموش رہے وفا تو آگے کا سوچ سوچ کر ہی خوف زدہ ہورہی تھی…گاڑی پورچ میں پارک کرکے برہان خاموشی سے اندر داخل ہوئے شاہ ذر بھی خاموشی سے اندر بڑھا وفا اندر داخل ہوئی تو سب نے سکون کا سانس لیا برہان پانی کی بوتل سے منہ لگا کر پانی پی رہا تھا جیسے کہ غصہ پی رہا ہو…

کہاں تھی وفا…مشعل اور عون اس کے قریب آکر بولے…

بابا آئے یا نہیں…برہان نے سرد آواز میں پوچھا…

نہیں بابا دیر سے آئے گے…عون نے جواب دیا…

شاہ ذر وفا کا موبائل دو…برہان صوفے پر بیٹھے ساہ ذر سے بولا تو شاہ ذر نے موبائل برہان کو دیا برہان نے موبائل لے کر کیچھ کر دیوار پر مارا کہ وفا ڈر کر عون سے چپکی…

اس ہی کی وجہ سے تم نے آج یہ کارنامہ کیا ہے نہ…ہیرے لگے ہوئے تھے اس میں…تمہاری جان و عزت سے بڑ کر تھآ یہ موبائل…برہان دھاڑا…

برہا…برہان ہوا کیا…تانیہ بیگم گھبرا کر بولی…

امی مجھے پولیس اسٹیشن سے کال آئی تھی کہ آپ کی بہن یہاں موجود ہے…برہان چلایا…

کیا پولیس اسٹیشن..تانیہ بیگم و عون نے اسے حیرت سے دیکھا…

ایک تو تم اکیلے گئی کیوں..پھر موبائل چھن گیا تھا تو جانے دیتی…تمہیں معلوم ہے کتنا برا فیل ہوا مجھے…کتنی شرمندگی ہوئی ایس پی کے سامنے…کسی اچھے گھرانے کا ہوگا وہ جس نے تمہیں آفس میں بیٹھنے دیا ورنہ انتی دیر تک تم باہر بیٹھی ہوتی…برہان سرد لہجر میں بولا تو وفا کے رونے میں روانی آئی…

تمہیں ایسے کہئی بھی جانا نہیں چاہیئے تھا…سخت شرمندگی ہوئی ہے آک ہمیں…پتہ ہے کتنا پریشان ہوگئے تھے سب…شاہ ذر سخت لہجے میں بولا…

نہیں ہم تو جیسے مرگئے تھے…یا ایک موبائل چھن جانے سے ہم سڑک پر آجاتے…برہان چلایا…

سور…سوری بھائی دوبارہ نہیں کروگی ایسا…

دوبارہ تو تب ہوگا نہ جب تم کہئی اکیلے جاؤگی…شاہ ذر عون اگر مجھے معلوم ہوا یہ اکیلے باہر نکلی ہے تو تم لوگوں کی خیر نہیں اور تم وفا تمہارا پھر میں باہر جانا بند کردوگا…

بھ…اسلام و علیکم…وفا ابھی بولتی کہ مصطفیٰ شاہ کی رعب دار آواز پر خاموش ہوئی مصطفیٰ شاہ کے پیچھے پیچھے سیما شاہ ارسل اور حجاب بھی داخل ہوئے…

وعلیکم سلام…سب سمبھل کر بولے…

کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھے ہو…تم کیوں رو رہی ہو…مصطفیٰ شاہ صوفے پر بیٹھے پہلے سب پر نظر ڈال کر وفا سے بولے جس کی آنکھیں رونے کی علامت کررہی تھی…

کچھ نہیں بابا سر میں درد ہورہا ہے اس کے…برہان جلدی سے بولا…

ہائے اللہ لڑکیوں کو اتنا بھی نازک نہیں ہونا چاہیئے کہ ایک معمولی سر درد کی وجہ سے پورا گھر سر پر اٹھا لیں…جاؤ حجاب آرام کرو صبح سے اٹھی ہوئی ہو…سیما شاہ پہلے وفا سے بولی پھر پیار سے اپنی بیٹی سے بولی…

آپ جلدی آگئے بابا…آپ دوستوں میں گئے تھے نہ…برہان سیما شاہ کی بات نظرانداز کرتا باپ سے بولا…

ہاں کیوں تمہیں کیا مسلئہ ہے…جانا تھا دوستوں میں لیکن پھر گیا نہیں..مصطفیٰ شاہ برہمی سے بولے…

بیٹھی کیا ہو…کھانا لگواؤ…مصطفی شاہ تانیہ بیگم کو صوفے پر بیٹھے دیکھ کر چلائے…

ارے بھائی جان بھابھی دن بھر آرام کرکے ابھی نکلی ہوگی..سیما شاہ مکرو مسکراہٹ کے ساتھ بولی تو مشعل انہیں دیکھتی رہے گئی مطلب تانیہ بیگم صبح سے ملازمہ کے ہوتے ہوئے کتنے کام کرتی تھی اور وہ کیا بول رہی تھی…

آپ کی قسمت پر تو مجھے افسوس ہوتا ہے مطلب نہ بیوی ایسی نہ بہو نہ بیٹی یقین مانے بھائی بیٹی کو کاموں کی عادت ڈالیں ملازمہ کو چھٹی کرائیں…تانیہ بیگم مشعل وفا کے جانے کے بعد سیما شاہ نے آگ لگائی برہان خاموشی سے سن رہا تھا اگر ابھی جواب دیتا تو باپ اسے بلا فضول زلیل کرتے…

صیح کہہ رہی ہو…بہن کیا کیا جاسکتا ہے…مصطفی شاہ کے بولنے پر برہان نے تاسف سے باپ کو دیکھا…

آجائیں کھانا لگادیا ہے…مشعل نے ڈائنگ ٹیبل پر سے آواز دی…

یہ وفا کہا نے…مصطفیٰ شاہ پیشانی پر بل لائے پلیٹ میں بریانی نکالتے بولے سب ہی موجود تھے سوائے وفا کے…

وہ..وہ اسُ کے سر میں درد ہے نہ تو تو آ نہیں رہی…مین گئی تھی ابھی…مشعل اٹک اٹک کر بولی اور ایک نظر برہان پر ڈالی جو خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا…

میں دوبارہ بلاتا ہوں…عون کھڑا ہوتا ہوا بولا…

کوئی ضرورت نہیں بیٹھے رہو…آج رات کھانا نہین کھائی گی تو کچھ ہوگا نہیں…بھوکی رہنے دو آج تاکہ پتا چلے…مصطفیٰ شاہ سرد لہجے میں بولے تو عون کو مجبور ہوکر بیٹھنا پڑھا سیما شاہ بھائی کے کہنے پر مسکرا کر کھانے لگی…
🌟🌟🌟🌟🌟
آج دیر ہوگئی بیٹا…کھانا کھاتے ہوئے طلال شاہ تبریز سے بولے…

ہاں بابا زرا کام میں پھس گیا تھا…تبریز کھانے میں مگن بولا…

خیریت آج پولیش اسٹیشن میں کوئی چور آیا تھا یا دہشت گرد…زین بولا…

پاگل لڑکی…تبریز بےساختہ بولا پھر چونک کر زین کو دیکھا جو مسکراہٹ لیئے اسے دیکھ رہا تھا…

پاگل لڑکی…حرم شاہ ناسمجھی سے بولی…

ارے کچھ نہیں…وہ وہ آیت کہاں ہے نظر نہیں آرہی دو دن سے…تبریز گڑبڑا کر بولا…
🌟🌟🌟🌟🌟
امی وہ…ب…کیا ہوا…عون بنا ناک کیئے تانیہ بیگم کے روم میں داخل ہوا تانیہ بیگم جو موبائل پر کسی سے بات کررہی تھی فون بند کیا…

کچھ نہیں…بولوں کیا ہوا…تانیہ بیگم گھبرائی سی بولی…

وہ بابا کہاں ہے…عون بولا..

تمہاری پھوپھو کے ساتھ بیٹھے ہیں…تانیہ بیگم بولی…

ٹھیک ہے..عون بول کر روم سے جانے لگا..

گیٹ بند کرکے جاؤ…تانیہ بیگم بولی…
🌟🌟🌟🌟🌟
ہیلو کہاں غائب ہو…

دیکھیں میں اب اپنے بھائی کی بتادوگی…جنت جھنجھلا کر بولی…

ضرور بتاؤ بتاؤ آخر اسُ کا بھی حق ہے اپنے بہنوئی کے بارے میں جانے کا…زین شرارت سے بولا…

کیوں پیچھے پڑگئے ہیں میرے آپ…جنت رو دینے کو ہوئی…

رلیکس…رونا مت…نہیں کررہا کال…لیکن جب یاد آئی گی ایک بار کال ضرور کروگا شرط یہ ہے صرف روز ایک بار آواز سنا دینا اوکے خدا حافظ…بھائی کی شادی ہوجانے دو میری پھر اپنے ماما بابا کے ساتھ آوگا…زین سنجدگی سے بول کر کال کاٹ دی جنت موبائل جو دیکھتی رہے گئے…
🌟🌟🌟🌟🌟
کہاں جارہے ہیں…اتنی دیر سے کمرے میں چکر لگائے برہان کو کمرے سے نکلتا دیکھ کر مشعل بولی…

وفا نے کھانا نہیں کھایا….پیزا آوڈر کیا ہے لگتا ہے وہ آگیا…کھانا لے کر جارہا ہو…برہان سنجدگی سے بول کر نکل گیا پیچھے مشعل مسکرائی پتہ تھا غصہ جتنا بھی ہو بہن سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہے سکتے تھے…

آجائیں..وفا دروازہ پر ناک ہوتا دیکھ کر بولی تو شاہ ذر ہاتھ میں ٹرے لیئے جس میں بریانی کی پلیٹ سلاد رائتہ اور سوفٹ ڈرنک تھی وہ لیئے اندر داخل ہوئے…

ابھی شاہ ذر کچھ بولتا کہ برہان بھی پیزے کا پیکٹ لیئے اندر داخل ہوا…ابھی دو منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ عون آئسکریم چاکلیٹس اور برگر لیئے اندر داخل ہوا…

اوہ…سب یہاں موجود ہے…عون دونوں بھائیوں کو دیکھ کر بولا…

واو پیزا…عون پیزا دیکھ کر چلایا…

آہستہ بولو بابا اٹھ جائے گے…برہان نے اسے ڈپٹا…

یہ لو گڑیا…بریانی کھاؤ…شاہ ذر نے ٹرے آگے کی…

نہیں پہلے یہ پیزا کھاؤ…برہان نے پیزے کا ڈبا اس کے آگے رکھا…

نہیں پہلے آئسکریم اور یہ چوکلیٹس کھاؤ…عون نے ساری چیزیں اس کے آگے رکھی تو دونوں بھائیوں نے اسے گھورا وفا بہائیوں کی محبت دیکھ کر رو پڑی…

شش…گڑیا شہزادی…میری جان رونا بند کرو…تینوں بھائی اس کے پاس بیٹھ کر بولے گیٹ پر رکی مشعل مسکرا کر اندر داخل ہوئی…

کیا کہا وفا تم چاکلیٹس نہیں کھاوگی اوکے کوئی بات نہیں…اور پیزا بھی نہیں کھاوگی…کیا کہا…بریانی بھی نہیں کھانی…مشعل کے بولنے پر وفا نے اسے گھورا تو تینوں بھائی مشعل کی شرارت پر ہنس پڑھے…

برہان آپ یہ پیزا وفا کے لیئے لائے تھے نہ..لیکن وفا نہیں کھارہی مین کھالو کیا..مشعل بولی…

نہیں یہ میری شہزادی کھائی گئی..برہان مشعل کی مستی سمجھ کر بولا چادوں کو اس وقت ٹوٹ کر وفا پر پیار آرہا تھا وہ لگ رہی اتنی پیاری رہی تھی رونے سے سفید گال ناک سرخ ہورہی تھی…

سوری بھائی دوبارہ ایسا نہیں ہوگا…وفا برہان سے چپک کر بولی…

اوکے ایسا ہونا بھی نہیں چاہیئے دوبارہ وہ تو ایس پی اچھا تھا ورنہ کیا ہوسکتا تھا تم ابھی بچی ہو وفا…برہان سنجدگی سے بولے تبریز کی تعریف پر وفا نے دل میں اسے گالیاں دی…

چلو یہ کھاؤ…شاہ ذر عون برہان سب نے اسے ایک ایک چیز کھلائی…وفا مسکرائی تو چاروں مسکرا دیئے…
🌟🌟🌟🌟🌟
کیا ہوا ہچکیاں کیوں آرہی ہے اتنی…تبریز کچن میں کھڑا بار بار پانی پی رہا تھا تو زین بولا…

کوئی گالیاں دے رہا ہوگا…زین ہنس کر بولا اس بات پر تبریز کی آنکھوں کے سامنے وفا کا سایہ لہرایا اور ہچکیاں بھی بند ہوئی…

یہ لڑکی واقعی مجھے گالیاں دے رہی تھی…تبریز خودُ سے بڑبڑایا…
🌟🌟🌟🌟🌟
سوری..شاہ ذر ٹکرانے پر جلدی سے بولا…

اٹس اوکے…میری غلطی میں جلدی میں تھی…آیت شاہ ذر کو دیکھ کر بولی…

نہیں کوئی نہیں…میری بھی غلطی تھی میں راستہ میں کھڑا تھا…شاہ ذر مسکرا کر بولا تو آیت بھی ہلکہ سا مسکرا کر آگے بڑگئی شاہ ذر کی نظروں نے دور تک پیچھا کیا آیت کا…
🌟🌟🌟🌟🌟
جی بیٹا کس سے ملنا ہے…ملازم نے بتایا تھا کہ زین کا کوئی دوست ہے تو طلال صاحب نے ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا تھا…

وہ انکل…زین سے ملنا ہے وہ میرا یونی فیلو ہے..وہ احترامن کھڑے ہوکر بولا…

ہاں جی بیٹا وہ اپنے روم میں ہے آپ سامنے والے کمرے میں چلے جائیں…طلال صاحب مسکرا کر بولے تو وہ زین کے کمرے کی طرف بڑھا…

ابے میں نے تجھے کہا تھا اس ٹائم مجھے سوتے ہوئے مت ملنا…روم میں داخل ہوکر زین کو سویا دیکھ کر وہ جھنجھلا کر بولا زین نے آنکھیں کھول کر اسے گھورا…

کیا ہوگیا عون آآ…تو بھی سوجا…زین نیند میں گھورتا ہوا بولا…

سوجا…اٹھ چل جا فریش ہو پھر پرجیکٹ کے بارے میں بھی کام کرنا ہے…عون جھنجھلا کر بولا وہ جلدی اٹھ کر آیا تھا لیکن یہاں زین صاحب آرام فرما رہے تھے..
🌟🌟🌟🌟🌟
وفا چھت پر کھڑی تھی کہ کسی کی گاڑی اپنے پورچ میں رکتی دیکھ کر تجسس کے مارے دیکھنے لگی لیکن گاڑی سے نکلطے شخص کو دیکھ کر وفا اپرُ سے ہی چلائی…

ارمان ماموں…وفا کے خوشی سے چلانے پر ارمان نے بھی اپرُ دیکھ تو خوشی سے نیچے آنے کا اشارہ کیا…