Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 Shoq e Deedar (Episode 26)
Shoq e Deedar (Episode 26)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi
بہت اچھے بہت ہی اچھے مجھے فخر ہے کہ تم میری مطلب عون مصطفیٰ شاہ کی بہن ہو واقعی…ابھی وفا ہے غصے سے کال بند کرکے فون رکھا ہی تھا کہ پیچھے سے عون بولا تو وفا نے سوالیاں آئبرو اچکائی…
ایسے ہی بلکل ایسے ہی شوہر کو قابو میں رکھنا یہ یہ جو تبریز ہے نہ مجھے بہت ہی الٹے دماغ کا بندہ لگا ہے میرے دوست…اففف میرے دوست کے ساتھ جو ظلم کیا تو کیا وہ کمزور ہے وہ کچھ کر نہ سکا….لیکن تم میری بہن ہو تم وفا مصطفیٰ شاو ہو…اس تبریز کا جینا حرام کردینا…اور فکر مت کرنا تمہارا بھائی ابھی زندہ ہے تم پر ایک آنچ نہیں آنے دےگا ہوں…عون نے سنجیدگی سے مشورہ دیا…
ہممم…اب یہ ہی سب میں مریم کو بھی سکا کر جاوگی…وفا بےنیازی سے بولتی باہر نکل گئی…
یہ تو وہ ہی کہاوت ہوگئی…نیکی کر کنوائں میں ڈال…عون بڑبڑاتا نکلا…
بانٹ لیا گیان…شرم نہیں آتی بہن کو ایسے مشورہ دیتے…شاہ ذر نے عون کو باہر نکلتے دیکھ کر گردن سے پکڑ کر کہا…
آپ…آپ ہمارے اپر نظر رکھے ہوئے ہیں…شاہ بھائی مجھے تنگ کرنی سزا بہت بری ہوتی ہے اور اور آپ کی تو ماشااللہ شادی بھی ہونے والی ہے سوچ سمجھ کر مجھ سے پنگا لیں…عون نے گردن چھڑواتے دھمکی دی…
کیا ہورہا ہے یہاں…برہان دونوں کو دیکھتا ادھر آیا..
برہان بھائی یہ…یہ شاہ بھائی وفا کو تبریز کے خلاف غلط مشورہ دے رہے تھے بول رہے تھے کہ تبریز کا جینا حرام کردیا سکون کا سانس نہ لینے دیا…عون نے کمال مہرات سے سارا ملبہ شاہ ذر پر ڈالا اور ایک شاطر نظر شاہ ذر پر ڈالی جو گھبرایا گھبرایا سا لگا رہا تھا…
تمہارا ہی بھائی ہوں عون…تمہیں اور شاہ ذر کو اچھی طرح جانتا ہوں…یہ ساری عورتوں والی حرکیتیں تمہارے علاوہ اس گھر میں کوئی نہیں کرسکتا…برہان نے طنزیا انداز میں سچائی بتائی جس پر شاہ ذر نے ایک دل جلاتی نظر عون پر ڈالی جو اب خودُ صومے میں کھڑا تھا…
کچھ نہیں عون یہ دنیا جلتی ہے تمہارے ٹیلنٹ سے…عون نے خودُ کو بہلایا جس پر شاہ ذر اور برہان نے نظروں ہی نظروں میں کچھ اشارہ کیا اور ایک دم دونوں عون پر جھپٹ پڑے ابھی عون کو قابو کیا ہی تھا کہ کیف وہان آ دھمکا…
رکیں برہان بھائی اس کام میں میں بھی حصہ لینا چاہتا ہوں صبح سے میری بیوی سے چائے کباب پڑھاتے کھاکر بولتا ہے مجھے کسی کا احسان نہیں چاہیئے بڑا آیا میرا سالا بنے…کیف نے بول کر ان لوگوں کے ساتھ عون پر ہاتھ صاف کرنا شورع کیا…
ویٹ گائز کیا اس نیک کام میں میرا بھی کچھ حصہ ہوسکتا ہے…ارسل بھی قریب آتا بولا کب ہی موقعہ ملتے تھے عون کو قابو کرنے کہ…
ضرور ضرور نیکی اور پوچھ پوچھ..برہان نے کھولے دل سے آفر کی البتہ عون اپنا آپ چڑانے کی پوری کوشش میں تھا اب اکبر ولا میں ان لوگوں کے مکہ اور قہقہہ اور عون کی فریادیں گونج رہی تھی…
🌟🌟🌟🌟🌟
تین دو…ایک…ابھی وفا نے ایک بولا تھا کہ تبریز کی گاڑی اس کے پاس رکی اور تبریز نے بےساختہ سر اسٹرینگ پر ٹکایا اور گہری گہری سانسیں لینے لگا…
او نو بچ گئے تم جیل جانے سے…وفا گاڑی میں بیٹھتی افسوس سے بولی…
تم…تمہاری وجہ سے اتنی بار میرا ایکسڈنٹ ہوتا بچا ہے…یہ سمجھو اللہ نے تمہیں بیوہ ہونے سے بچایا ہے…
تو کیا ہوتا پھر آپ کی جگہ کوئی اور…وفا بول ہی رہی تھی کہ تبریز نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو پکڑا…
سوچنا میں مت ایسا…تمہاری زبان پر صرف تبریز نام ہونا چاہیئے اس کے علاوہ کسی غیر کا نام تمہاری زبان پر نہ آئے…تبریز کے لہجے میں بولتی جنونیت کو ایک پل کے لیئے وفا کو بھی ساکت کردیا تھا تبریز نے گاڑی آگے بڑھائی کچھ دیر خاموشی کے بعد وفا بولی..
کون تبریز…وہ ہماری تین گھر چھوڑتے جو انکل ریتے ہیں وہ یا کالج کے کینٹین والے انکل….اوہ یاد آیا وہ مال روڈ پر آئسکریم کی جس کی شوپ ہے اسُ کی بات کررہے ہو…صیح تم یقین کرو ہر وقت میں یہ ہی بولوں گی تبریز کی شوپ پر چلو…وفا نے تبریز کی بات اس انداز میں لی کہ ایک پل کو تبریز گھوم کر رہے گیا اور سر نفی میں ہلایا…
🌟🌟🌟🌟🌟
کیا آپ نے واقعی عون کی مدد کیا ہے…زین کی تو چلو اسُ نے مجھے کال کرکے بتادیا تھا کہ آپ گئے تھے وہاں لیکن عون…سچ سچ بتائیں ضیغم….دو دن بعد اب ضیغم کو سکون سے گھر بیٹھنے کا موقعہ ملا تھا اس وقت وہ فریش ہوکر آیا تھا اور آئینے کے سامنے کھڑا بال سیٹ کررہا تھا کہ درنجف بولی…
بولا نہ کردی تھی…ضیغم بولا…
اففف ٹھیک ہے میں خودُ کال کرکے عون سے معلوم کرکیتی ہوں…درنجف جھنجھلا کر بولی اور موبائل اٹھایا..
کوئی کال نہیں کررہی تم عون کو…ایک بار بتادیا برہان کو بول دیا…ضیغم موبائل لیتا ناگواری سے بولا…
🌟🌟🌟🌟🌟
یہ کچوے کی طرح کیوں چل رہی ہوں…تبریز اس کیس سست رفتار پر بولا..
میرے پیر میری مرضی…وفا کندھے اچکاتی مزہ سے بولی…
پھر تو بیٹا برات والے دن تک تو لے ہی لے گے ڈریس…تبریز نے طنز کیا…
خاموشی سے چلو…وفا ناگواری سے بولی اور ساتھ لیئے آگے بڑی لڑکیوں کا رک رک کر تبریز کو دیکھنا اسے ناگوار گزرہا تھا پھر ایک جگہ رکی…
کیا ہوا…تبریز اسے اپنے آپ کو گھورتا دیکھ کر بولا…
کیا ضرور تھی اتنا تیار ہوکر آنے کی سسرال دعوت میں آئے تھے…وفا نے طنز کیا…
میں کیا تیار ہوا ہوں…تبریز حیرت سے بولا…
یہ بال جیل سے سیٹ کیئے کلائی پر گھڑی پہنے بلیک شیٹ اور جینس اپر سے اتنا اچھا پرفیوم…وفا نے ایک ایک چیز گنوائی…
تو کیا کیسے آتا…ہوں…تبریز نے سوالیاں آئبرو اچکا کر سوال کیا اتنے میں دو لڑکے وفا کو دیکھتے آگے بڑے…
اور…اور تم کس خوشی میں اتنا تیار ہوکر آئی ہو…تمہاری نند کے گھر دعوت تھی…ہوں…تبریز ناگواری سے بولا…
جیلس ہورہے ہو…وفا ایک ادا سے بولی…
تو تم بھی جیلس ہورہی ہو…تبریز نے بھی سوال کیا…
جیلس وہ بھی تمہارے لیئے مر کر بھی نہیں…وفا ہنس کر بولی…
تم سے تو بات ہی فضول ہے چلو آگے اب…تبریز اس کا ہاتھ پکڑتا اسے آگے لے جاتا بولا…
🌟🌟🌟🌟🌟
مریم…تھکا سا مریم کے پاس آیا جو ہی نظر مریم کی اس پر پڑی ایک ہلکی سی چیخ نکلی عون کے چہرہ پر لال لال نشان تھے مارنے گے…
یہ…یہ کیا ہوا عون…مریم پریشان سی بولی…
یہ..یہ تمہارے بھائی نے کیا ہے…تم سے پیار کرنی کی سزا ہے یہ مریم…تم تم دیکھ رہی ہو نہ کتنی تکلیفیں اٹھا رہا ہوں تمہارے لیئے میں…عون زبردستی کے آنسو صاف کرتا بولا…
عون…مریم سسکی…
بس مریم…تم بس ایک کام کرو گرم گرم ہلدی والا دودھ لادو…تمہارے لیئے تو جان بھی حاضر ہے یہ تو صرف معمولی نشانات ہیں…عون نے کمال محارت سے بات بنائی اور مریم بیچاری فوری کچن بھاگی…
واہ عون واہ تم یہاں کیا کررہے ہو تمہیں تو ٹی وی اسکریٹ پر موجود ہونا چاہیئے تھا…عون اپنے آپ کو داد دیتا بولا یہ نشانات وفا کے میک آپ کٹ کے فائدہ سے آئے تھے جس سے عون پورے گھر سے ہمدردی لے رہا تھا…
آج مجھے خودُ پر خودُ ہی پیار آرہا ہے…عون بڑبڑایا…
🌟🌟🌟🌟🌟
تم تین گھنٹوں سے مجھے پاگلوں کی طرح کوئی تیسری بار پورا مال گھوما رہی ہو…تبریز جھنجھلا کر بولا نہ کچھ کھارہی تھی نہ کھانے دے رہی تھی بس ہر دوسری دوکان کو ایک نظر دیکھتی ایک سوٹ لیتی اور اس کے ہاتھ میں پکڑادیتی…
پاگلوں کی طرح نہیں پاگل کو گھوما رہی ہوں…وفا نے اس کا جملہ دروست کروایا…
وفا میری جان…دیکھوں اتنا ٹائم ہوگیا پرسوں مہندی ہے مجھے بہی بہت کام ہے پلیز شادی کا جوڑا لے لو…تبریز نے بڑی نرمی و پیار سے کہا…
اوکے چلو…وفا نے گویا تبریز پر احسان کیا اور ریڈ کلر کا شادی کا شرارا لیا جس پر تبریز نے بےساختہ خدا کا شکر ادا کیا لیکن بعد میں غور کیا تو سب سے پہلے یہ ہی واحد ڈریس تبریز کو پسند آیا تھا جس پر وفا نے منع کردیا تھا دم پرسکون مسکراہٹ تبریز کے چہرہ پر آگئی…
🌟🌟🌟🌟🌟
بابا آپ یقین نہیں کریں گے ان لوگوں نے مجھے کیسے مارا…عون بھری ہوئی آواز میں بولا اس وقت مصطفیٰ کے سامنے عون برہان شاہ ذر ارسل کیف سے کھڑے تھے اور عون اپنے دھکڑے رو رہا تھا جب کہ یہ لوگ حیرت زدہ تھے کہ ان لوگوں نے تو بس تھوڑا سا مارا تھے مقول برہان کے لیئے اصل میں اچھا خاصہ عونکی دھولائی کی تھی ان سب نے لیکن یہ چہرہ پر عون نے خود کارستاری کی تھی…
کیسے مارا…مصطفیٰ سنجیدگی سے بولا…
بابا میں نہیں بتاسکتا یہ کیسے مارا مجھے…عون بولا…
بتاو برہان کیسے مارا…مصطفیٰ شاہ برہان سے بولے…
بابا..برہان نے کچھ بولنا چاہا…
چلو چاروں میرے سامنے عون کو مار کر دیکھاو کیسے مارا تھا تاکہ میں بھی دیکھ سکو…مصطفیٰ مسکراہٹ ضبط کیئے بولے تو سمجھ آنے پر چاروں مسکرائے جب کے عون نے حیرت سے بابا کو دیکھا…
یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں میرے کام کی نہیں..عون افسوس سے گنگناتا بھاگا اور اس کے پیچھے چاروں..