📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Episode 22)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Episode 22)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

اففف تھک گیا…ضیغم صوفے پر ہی لیٹ گیا اور آنکھوں پر بازو رکھ کر آنکھیں بند کی ابھی مشکل سے دس منٹ ہوئے ہوگے کہ کسی نے آنکھوں پر پانی مارا ضیغم ہڑبڑا کر اٹھا…

کیا ہوا…ضیغم سدرہ کو دیکھ کر آنکھیں ملتا بولا کچھ ارصے بعد ہی ضیغم نے آھاد سے بول کر اسلام آباد مین گھر لے لیا تھا اور یہ لوگ یہاں شفٹ ہوگئے تھے زامن اپنی فیملی کے ساتھ کراچی تھا اکسر مہینے میں ضیغم درنجف کو مومن کے گھر لےجاتا تھا کراچی اور آھاد سدرہ زیادہ تر کراچی ہی ہوتے تھے…

وقت دیکھا ہے…ان دو سالوں میں بھی سدرہ میں بلکل چینج نہیں آیا تھا…

رات کے دو بچ رہے ہیں…ضیغم صوفے سے کھڑا ہوتا بولا…

وہ مجھے بھی دیکھ رہا ہے…تمہاری عادیتں کب بدلے گی ضیغم…اب تم اکیلے نہیں ہو کہ آوارہ گردی کرتے رہو…سدرہ نے ڈپٹا…

واٹ ماما آوارہ گردی یہ آپ پہلے بولتی تو سمجھ آتا تھا لیکن اب تو آپ کو پتہ ہے میرا کام کیا ہے پھر بھی…ضیغم حیرت سے بولا…

تم تبریز کے ساتھ تھے نہ…سدرہ بولی ضیغم اور تبریز کی دوستی فرانس میں ہوئی تھی جب ضیغم وہاں کسی کورس کرنے فرانس گیا تھا اور تبریز کے برابر والے فیلٹ میں رہتا تھا ضیغم کے سارے گھر والے اسے جانتے تھے اور تبریز کے گھر والے ضیغم کو…

ماما میں تبریز کے ساتھ گھومنے نہیں گیا تھا کیس کے سلسلے میں گیا تھا اچھا ابھی تھک گیا ہوں باقی کی بےعزتی صبح ناشتہ پر اوکے…ضیغم سدرہ کا ماتھا چمتا اپنے روم کی طرف بڑگیا سدرہ اسے دیکھتی رہے گئی…
🌟🌟🌟🌟🌟
کمرے میں داخل ہوا تو اس کی محبت اور زندگی دونوں سکون سے سورہے تھے ضیغم نے اپنا والٹ گھڑی موبائل ڈریسنگ پر رکھا اور فریش ہونے چلاگیا کھٹر پٹر کی آواز سے در نجف کی آنکھ کھولی تو اٹھ کر بیٹھی…

آپ کب آئے…در نجف ضیغم کو دیکھ کر بولی جو اب ڈریسنگ کے سامنے کھڑا بال بنارہا تھا…

دنیا میں آئے تو ستائیس سال ہوگئے…ضیغم نے بیڈ پر بیٹھ کر اپنے ایک سالہ بیٹے میثم کے گال چمے…

ابھی بہت مشکل سے سویا ہے اب آپ اٹھا مت دیجے گا…در نجف میثم کو کسمائی دیکھ کر بولی…

اٹھ گیا تو میں سلادوگا یار…ضیغم نے دوبارہ اس کے گلابی بھرے بھرے گالوں پر پیار کیا وہ بلکل اس کی کاپی تھا…

کھانا لاوں…درنجف نے پوچھا…

نہیں مری میں کھالیا تھا…ضیغم بولا تبریز اور ضیغم نے مری کے ریسٹورنٹ میں ہی کھانا کھالیا تھا…

آپ اکیلے مری گئے تھے…درنجف نے پرشکوہ نظروں سے اسے دیکھا…

گھومنے نہیں گیا تھا…کیس کے سلسلے مین گیا تھا…ضیغم گھورتا بولا…

خود پتہ نہیں کہاں کہاں گھومتے ہیں کبھی فرانس مری لاہور کراچی اور مجھے گھر کہئی لے کر نہیں جاتے…درنجف بڑبڑائی…

اچھا یار ابھی تبریز کی شادی پر چلے گے وہ بول رہا تھا ایک دو دن میں کارڈ دینے آئے گا اسُ کی شادی ایک مہینے بعد ہے ویسے لیکن اسُ کے کزن نے بڑی رکیوسٹ کی ہے انُ کی شادی میں آنے کی پرسو کیف کی برات ہے تو چلے گے…ضیغم بولا…

ہائے تبریز بھائی کی شادی ہورہی ہے…درنجف جوش سے بولی…

ہممم

انُ کی بیوی بھی اچھی ہوگی…درنجف نے سوال کیا…

تمہاری سوچ سے بھی اچھی…تمہین پتہ ہے آج اسُ نے تبریز کو نمک والی چائے پلائی…ضیغم کو یاد آیا تو ہنس کر بولا..

نمک والی چائے…یہ کیسی ہوتی ہے…درنجف ناسمجھی سے بولی…

اففف میری معصوم بیوی کل تمہیں میں نمک والی چائے بناکر پلاوگا…ضیغم آنکھوں میں شرارت لیئے بولا..
🌟🌟🌟🌟🌟
ماما کب تک آپ ایسا کرے گی…رات ہوگئی تھی لیکن حمنہ بیگم خاموش نہین ہورہی تھی سیما شاہ کو بھی انہیں نے اپنے روم سے جانے کو کہہ دیا تھا…

تم کیسے بیٹے ہو موسیٰ اپنے باپ کو خودُ ہی گرفتار کروادیا…حمنہ بیگم بےحسی سے بولی…

ماما…یہ کیسی باتیں کررہی ہیں مین نے جو کیا وہ بلکل ٹھیک کیا…موسیٰ مضبوط لہجے میں بولا…

تمہیں اس منحوس حجاب کو طلاق دینی ہوگی…حمنہ شاہ نفرت سے بولی…

واٹ ماما میری اسُ سے منگنی نہین نکاح ہوا ہے نکاح مذاق نہین ہوتا اور کیوں فالتو مین طلاق دو اسےُ کیا غلطی ہے اسُ کی…موسیٰ کا دماغ ہی گھوم گیا تھا…

اسُ نے خاموش رہے کر تمہیں پھسایا ہے میں اسےُ کبھی اپنی بہو نہیں بناوگی…حمنہ بیگم زہر لہجے میں بولی…

ایسی کوئی بات نہین جب دن میں سب سچ نیچے بتادیا تھا…اور آپ کو بہو بنانا نہین وہ بن بہو بن چکی ہے بیوی ہے میری جنت کی شادی کے ساتھ حجاب کی رخصتی ہوگی…اور یہ بات میں دوبارہ نہین کہوگا…موسیٰ نے اٹل لہجے مین کہا…

اور ہاں ماما میں نے جنت کا رشتہ پکا کردیا ہے…موسیٰ کی بات پر حمنہ شاہ نے چونک کر موسیٰ کو دیکھا…

کس سے کب کسی سے پوچھا بھی نہیں…حمنہ شاہ بولی…

تبریز کے بھائی زین طلال شاہ سے…موسیٰ بولا…

ک…کیا تم پاگل ہو کیسے انُ خبیث لوگوں میں اپنی معصوم بہن کا رشتہ کرسکتے ہو کل کو باپ کی طرح بیٹا بھی شادی سے منع کردے تو…حمنہ ساہ چلائی…

ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا بابا بھی تو گینگسٹر تھے کیا اس طرح مین بھی ہوں…نہیں نہ اور ویسے بھی ماما زبردستی کہ رشتہ زیادہ ارصے نہیں چلتے طلال انکل کی شادی آپ سے ہو بھی جاتی تو کچھ ارصے ہی چلتی اور زین بہت اچھا لڑکا ہے آپ فکر نہ کریں میں جنت کا بھائی ہوں باپ کی طرح غلط فیصلہ نہیں کروگا…موسیٰ نرمی سے بول کر روم سے نکل گیا..
🌟🌟🌟🌟🌟
اففف آج تو لائف ایکشن مووی دیکھلی میں نے تو…. اس وقت برہان کے روم میں وفا برہان مشعل شاہ ذر عون موجود تھے کہ عون بولا…

بس کول ڈرنگ اور چپس کی کمی تھی…وفا آم کھاتے بولی…

تم آم کھاو گھٹلیاں کیوں گن رہی ہو…عون نے ایک تیر دو نشانے لیئے وفا اس وقت آم کی گھٹلی کھارہی تھی کہ عون بولا وفا کا تو خون کھول گیا تبریز کی حرکت یاد کرکے…

تمہیں زیادہ ہنسی آرہی ہے…وفا عون سے بولی جو اب ہنس رہا تھا…

کیا کرو بچپن سے ہی ہس مک ہوں….عون مسکرا کر بولا…

ویسے یہ تبریز کا دوست تو بہت ہینڈسم تھا…مشعل جوش سے بولی تو مصروف سا برہان چونک کر سیدھا ہوکر بیٹھا…

بہت زیادہ ہی ہینڈسم نہیں تھا…برہان نے دانت پیس کر طنز کیا جو مشعل خجل ہی ہوئی…

اوہ…شاہ بھائی دیکھو زرا برہان بھائی جیلس ہورہے ہیں…عون شاہ ذر کے کندھے پر ہاتھ مارتا جوش سے بولا…

اب جھوٹ بولیں تو بھی گناہ ہوگیا ہے نہ بھابھی…وفا نے مشعل کی سائیڈ لی…

تبریز بتارہا تھا ایک سال کا بیٹا بھی ہے اسُ کا…شاہ ذر بولا…

واٹ…میں تو شادی شدہ پر ہی شاک تھی ایک بیٹا بھی ہے…وفا حیرت سے بولی…

ہائے دو دل ٹوٹ گئے اس کمرے میں…عون مشعل اور وفا کی طرف اشارہ کرتا بولا…

ویسے اگر وہ سنگل ہوتا تو مریم کے لیئے مین ضرور بات کرتا…برہان نے عون کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا جس پر وہ بدک بھی گیا تھا…

خدا کا خوف کریں بھائی کیوں اٹیک دلوانا چاہتے ہیں مجھے…عون کے سنجیدہ سے بولنے پر کمرے میں قہقہہ گونجا…
🌟🌟🌟🌟🌟
اسلام و علیکم…سب ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کررہے تھے کہ ضیغم فریش سا ساتھ آکر بیٹھا…

وعلیکم سلام…سب نے یک زبان کہا…

میری جان دادا کے ساتھ ناشتہ کررہا ہے…ضیغم آھاد کی گود میں بیٹھے میثم کو پیار کرتا بولا…

کچھ اپنے بچے سے ہی سیکھلو تم سے پہلے اٹھ جاتا ہے…سدرہ نے گھورتے کہا…

یہ ہر وقت جلاد والے موڈ میں کیوں ہوتی ہیں…ضیغم آھاد کے کان میں بولا…

مومن کی بہن ہے ایسا تو ہوگا ہی…آھاد نے کندھا اچکایا…

ماموں آپ میرے بابا کے بارے میں کیا بول رہے ہیں…درنجف آھاد کو گھورتی بولی…

میں کیا بول سکتا ہوں یار…آھاد گڑبڑا کر بولا…

دید آپ پاش آنا (ڈیڈ آپ کے پاس آنا) میثم ضیغم کی طرف لپکتا بولا…

آجا میرے شیر…ضیغم نے اسے گود میں لیا…

رات تم کہئی جاوگے…آھاد نے سوال کیا…

جی بابا تبریز کے کزن کی کے کزن کی شادی ہے اسو نے بہت بہت بلایا ہے اس لیئے جانا لازمی ہے…ضیغم بریڈ کا سلائس میثم کو کھلاتا بولا…

وہ ہم شام کراچی جارہے ہے دعا بھی بہت مس کررہی تھی در سے پیچھا تھا چلنے کا لیکن اس نے منع کردیا تو میں اور سدرہ جارہے ہیں ایک مہینے کے لیئے…آھاد نے تفصیل بتائی تو ضیغم نے اوکے میں سر ہلایا اور ایک نظر درنجف پر ڈالی جس کو اس نے ہی سختی سے منع کیا تھا جانے کو کہ وہ خودُ لے کر دو مہینے بعد چلاجائے گا ابھی وہ دو تین کیس میں الجھا ہوا ہے…
🌟🌟🌟🌟🌟
گھر میں برات کی تیاریاں چل رہی تھی کوئی خوش تھا تو کوئی اداس زہرہ بیگم بار بار ماریہ کو یاد کرتی رو جارہی تھی ارتضیٰ شاہ تو خاموش ہوکر رہے گئے تھے انُ کے لیئے بس ایک بیٹی مریم اور کیف تھے ماریہ انُ کے لیئے مرچکی تھی حمنہ شاہ بھی بیٹے کے لاکھ سمجانے پر خاموش ہوگئی تھی ماہم اور جنت نے دوبارہ باپ کے بارہ مین بات ہی نہیں کیا تھی ماریہ اور سلمان شاہ کی ناموجودگی میں بہت سے لوگ باتیں بنارہے تھے…

ریڈ برائیڈل ڈریس میں ماہم بہت حسین لگ رہی تھی تو شیروازنی میں کیف بھی کسی سے کم نہیں لگا رہا تھا…

اسلام و علیکم…وفا بلیک اور وائٹ میکسی اور لائٹ سے میک آپ میں بہت پیاری لگارہی تھی سب ادھر ادھرُ ہی گھوم رہے تھے کچھ اسٹیج پر دلہا دلہن کے پاس تھے کچھ مہمانوں کے پاس کہ وفا نے ضیغم کی فیملی کو دیکھ تو قریب جاکر سلام کیا جہاں تبریز ضیغم سے بات کررہے تھا…

وعلیکم سلام…در یہ وفا ہیں تبریز کی فیانسے اور وفا یہ میری وائف در نجف…ضیغم نے تعارف کروایا تو وفا در نجف سے خوش دلی سے دونوں ملی…

اور یہ ضیغم کا بیٹا میثم…تبریز نے زور دے کر کہا جس پر ضیغم نے مسکراہٹ دبائی…

کتنا کیوٹ ہے ماشااللہ…وفا میثم کے گال پر پیار کرتی بولی جس پر سب مسکرا دیئے…

کتنی معصوم وائف ہے تمہاری…ضیغم تبریز جے کان مین بولا…

صرف دیکھنے میں…تبریز تپ کر بولا..

او ہاں..نمک والی چائے …مین بھول گیا تھا…ضیغم ہنس کر جس پر تبریز نے گھورا…

آئے میں آپ کو باقی سب سے ملاتی ہوں…وفا درنجف سے بولی…

متجے ماما تہ پاس جانا (مجھے ماما کے پاش جانا)میثم اپنی توتلی زبان میں بولا تو درنجف نے مسکرا کر اسے گود میں لیا اور وفا کے ساتھ آگے بڑگئی…
🌟🌟🌟🌟🌟
اوئے تم کہاں مجھ سے دور دور گھوم رہے ہو…ضیغم عون سے بولا جو اسے دیکھ کر دور دور سے گزر رہا تھا تو عون قریب آکر بولا…

مجھے تبریز بھائی نے بتایا آپ دماغ پڑھ لیتے اس لیئے میں نے سوچ لیا آپ سے سو فٹ کی دوری سے گزرو گا…عون سنجیدگی سے بولا تو ضیغم کو ہنسی آگئی…

تم پریشان مت ہو کچھ نہیں کہتے یہ…درنجف ہمدردی سے بولی اس کے ساتھ بھی تو یہ ہی ہوتا تھا…

آپ کی وائف کتنی کیوٹ ہیں…عون درنجف کے گلابی گال دیکھ کر بولا…

چلو بیٹا کٹو یہاں سے شاباش…ضیغم سیدھا ہوتا سنجیدگی سے گھورتا بولا جس پر عون بھاگا..

اتنا زیادہ ریڈ کلر مت لگایا کرو…ضیغم اسے گھورتا بولا…

یہ کوئی کلر نہیں ہے قدرتی ہے…درنجف بولی…

قدرتی ہیں…ضیغم نے گھورتا نکل اتراری جس پر میثم ہنس پڑا…
🌟🌟🌟🌟🌟
اب کہاں چھپتی پھر رہی ہو مجھ سے…زین جنت کے سامنے آتا بولا جو وائٹ اور پنک کلر کے ڈریس میں پیاری لگ رہی تھی…

م…میں کیوں چھپوگی…جنت گڑبڑا کر بولی…

اس لیئے کیونکہ جب سے تمہیں ہمارے رشتے کا پتہ چلا ہے تم مجھ سے شرما رہی ہو…زین شرارت سے بولا لیکن سچ یہ ہی تھا جب سے موسیٰ نے اس سے پوچھا تھا کہ اگر وہ اس کا رشتہ زین سے کردے تو کوئی مسلئہ تو نہیں جس پر جنت نے ہامی بھری تھی کہ کوئی مسلئہ نہیں…

لیکن ابھی بڑوں میں صیح سے بات نہیں ہوئی…جنت آہستہ سے بولی…

وہ بھی ہوجائے گی تم کہو تو ابھی ہی نکاح پڑوا لیتا ہوں…زین کے شرارت سے بولنے پر جنت بھاگی زین کا قہقہہ نکلا…

🌟🌟🌟🌟🌟
بےوفا بےوفا بےوفا نکلا ہے توُ جھوٹا پیار جھوٹا پیار کرتا تھا توُ…عون کیف کے پاس جاکر بولا…

کیا ہوگیا بھائی…کیف گھبرا کر بولا…

توُ نے بولا تھا ساری زندگی ساتھ رہے گے اور…اور آج…آج توُ مجھ سے پہلے شادی کررہے ہے…شرم آنی چاہیئے تمہیں…عون کی اداکاری عروج پر تھی اور پھر ڈرامہ کرتا نیچے اترگیا جس پر سب ہنس پڑے…

دونوں بہن بھائی ہی ڈرامہ ہیں…تبریز بڑبڑایا…

اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے…وفا آئبرو اچکا کر بولی…

بڑے ہی نیک خیال ہیں…تبریز بولا…

خیر میں یہ میٹھائی کھلانے آئی تھی…وفا مٹھیائی کی پلیٹ اس کے آگے کرتی بولی…

کس خوشی میں…تبریز نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا…

کیف اور ماہم کی شادی کی خوشی میں خیر ایک تو میں بچا کر آپ کے لیئے لائی اور آپ پولیس والے بن کر کھڑے ہوگئے…وفا ناراضگی سے بولی تو تبریز نے چمچے سے ایک گلاب جامن لیا اور کھانے لگا لیکن پھر آنکھوں سے آنسو بھنا شروع ہوگئے منہ ضبط سے لال ہوچکا تھا وہ نہ مٹھائی نگل سکتا تھا نہ اگل کیونکہ وفا میڈم نے گلاب جامن پر بھر کر چاٹ مصالہ اور لال مرچ لگئی تھی تبریز تو بیچارا سن ہوگیا تھا سب ہی آس پاس کھڑے تھے وہ کچھ کر ہی نہیں سکتا تھا…

گڈ جیتی رہو میری بہن…عون پانی کی بوتل تبریز کو پکڑاتا وفا سے بولتا آگے بڑگیا تبریز نے ایک ہی سانس میں پوری بوتل ختم کردی لیکن جلن ختم نہیں ہورہی تھی…

یہ کیا حرکت تھی وفا…تبریز مٹھیاں بینھچ کر بولا…

پتہ نہیں آپ کے کام میں ایسا کیوں خودُ باخودُ ہوجاتا ہے کبھی چائے میں نمک تو کبھی گلاب جامن میں مرچے…وفا معصومیت سے بولی…

اس کا بدلہ تو مین لے کر رہوگا وفا مصطفیٰ شاہ…تبریز چیلنج والے انداز میں بولا…

دیکھتے ہیں…مین نے بولا تھا نہ زندگی عزاب بنادوگی…وفا شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولتی آگے بڑگئی تبریز بیچارا سو سو کرتا رہے گیا…
کیا ہوا تم کیوں ایسے کھڑی ہو…عون مریم کے پاس جاکر کھڑا ہوتا بولا…

دل چارہا تھا تمہیں کوئی مسلئہ…مریم منہ بناتی بولی…

مہندی کا کلر کتنا ڈارک آیا ہے…عون اس کی مہندی کا کلر دیکھ کر بولا…

چھوڑو نہ…مریم نے جھڑکا دو دن سے اس کے موڈ میں چڑچڑا پن شامل ہوگیا تھا…

اچھا ٹھیک…میری بات غور سے سنو اب تم اسُ طرف جاتنی مجھے نظر نہ آو سمجھی…عون ایکدم سنجیدہ ہوتا بولا اور اسُ طرف اشارہ کیا جہاں مریم کے کزنز کھڑے تھے اسےُ کہاں برداشت تھا کہ کسی اور سے وہ ہنس ہنس کر بات کرے..
🌟🌟🌟🌟🌟
کیا ہوا یار لال کیوں ہورہے ہو اتنے…تبریز ضیغم کے پاس آکر بیٹھا تو ضیغم بولا…

کچھ نہیں یار واقعی زندگی عزاب بن گئی…آخری بات تبریز نے آہستہ سے خودُ سے کہئی ضیغم تھوڑی دیر اسے خاموشی سے دیکھتا رہا پھر درنجف کی طرف متوجہ ہوا…

در تم نے کبھی مرچوں والی گلاب جامن کھائی ہے…ضیغم کے کہنے پر تبریز نے گھور کر اسے دیکھا جو شرارتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اللہ ایسے دوست کسی کو نہ دے…

کیا ہوگیا ضیغم آپ کو کل رات نمک والی چائے کا پوچھ رہے تھے اور اب مرچوں والی گلاب جامن…درنجف منہ بناتی بولی جس پر ضیغم کا قہقہہ نکلا..

تم بہت ہی خبیث انسان ہو ضیغم…تبریز مارے شرمندگی کے چبا کر بولا…

نوازش…ضیغم نے سینے پر ہاتھ رکھ کر داد لی…
🌟🌟🌟🌟🌟
یہ تمہارے بالوں میں کرنٹ لگا تھا کیا…شاہ ذر آیت کے کلڑ بالوں کو دیکھ کر بولا…

کیا مطلب…آیت نہ سمجھی سے اپنے بالوں کو دیکھتی بولی…

یہ..یہ دیکھو ایسا لگ رہا ہے جیسے کرنٹ لگا ہو..شاہ ذر بولا…

یہ فیشن ہے مسٹر شاہ ذر اسے کلڑ کہتے ہیں…آیت تپ کر بولی…

عجیب مطلب اپنی غلطی چھپانے کے لیئے فیشن کا نام دے دو…شاہ ذر بڑبڑاتا آگے بڑگیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
ہائے حجاب کیسی ہو…ابراہیم حجاب کے پاس آکر بولا…

اللہ کا شکر…حجاب جھجکتی بولی اتنے مین دور سے موسیٰ ابراہیم کو حجاب کے پاس دیکھ کر ادھر آیا…

ہیلو ابراہیم…موسیٰ نے بامشکل مسکرا کر ہاتھ ملایا…

حجاب تمہیں سیما خالہ بلارہی ہیں…موسیٰ کے سنجیدہ سے کہنے پر حجاب جلدی سے بنا کچھ بولے آگے بڑگئی…
🌟🌟🌟🌟🌟
کیا ہوا تبریز بھائی کوئی کام تھا…سب ابھی ابھی ہال سے گھر آئے تھے طلال شاہ کی فیملی کو مصطفیٰ نے روک لیا تھا کہ رات بہت ہوگئی ہے صبح چلے جانا سب جاچکے تھے بہت گھر کے لوگ اور طلال شاہ کی فیملی نیچے لاونج میں بیٹھی چائے پی رہے تھے لڑکیاں کیف سے نیک لینے کی لڑائی کررہی تھی اور عون اور زین کی ڈرامہ بازیاں عروج پر تھی کہ تبفیز کو اپر بیچھ میں کھڑا دیکھ کر حجاب بولی…

ہاں وہ…وہ وفا کا موبائل اسُ کے روم میں ہے کیا آپ بتاسکتی ہے کون سا روم ہے اسُ کا وفا نے موبائل لینے بیجھا ہے مجھے…تبریز حجاب سے بولا تو حجاب نے سامنے کمرے کی طرف اشارہ کیا اور نیچے چلی گئی تبریز شیطانی مسکراہٹ لیئے وفا کے روم میں داخل ہوا…

اب آئے گا مزا…تبریز نے ڈریسنگ ٹیبل پر مہنگی مہنگی میک آپ کٹ دیکھی اور انہیں اٹھا کر زور سے فرش پر پھیکی سب ٹوٹ کر چکنا چور ہوچکی تھی پھر مہنگے لیڈیز پرفیوم کو واش روم میں خالی کیا اور بوتل ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دی پھر ایک نظر اپنے کارنامہ پر ڈالی وفا روم پورا پرفیوم کی خوشبو سے مہک رہا تھا فرش پر میک آپ کٹ چکنا چور پڑی تھی سامان ادھر ادھرُ ہوا تھا ایک پرسکون مسکراہٹ لیئے تبریز نے جانے کی را لی…

اب پتہ چلاگا کہ تبریز طلال حیدر شاہ ہے کون…تبریز بڑبڑاتا نکلا اور نیچے برہان شاہ ذر کے ساتھ جاکر بیٹھ گیا جہاں برہان شاہ ذر موسیٰ ارسل موجود تھے…
🌟🌟🌟🌟🌟
عون میں آج تمہارا سر پھاڑ دوگی…وفا جب فریش ہونے کے لیئے اپنے روم میں داخل ہوئی تو کمرے کی حالت اور اپنے مہنگی میک آپ کٹس فرش پر چکنا چور دیکھ کر صدمے مین چلی گئی تھی پھر نظر پرفیوم پر گئی جو خالی پڑا تھا صدمہ اور بڑا اور پہلا خیال عون پر ہی گیا تھا ایسی حرکتیں وہ ہی کرتا تھا اور اس وقت وہ خوانخوار بلی بنے عون جے سر پر مومجد تھی جو زین کے ساتھ بیٹھا تھا لیکن وفا کی حیالت دیکھ کر کھڑا ہوگیا تھا…

میں نے کیا کیا…عون حیرت سے بولا آج تو اس نے بقول خودُ کے کسی کے ساتھ کچھ نہیں کیا تھا…

کیا کیا ہے…میری اتنی مہنگی مہنگی میک آپ کٹس توڑ دی اور میری فیورٹ پرفیوم کی بوتل پوری خالر کردی…وفا چلائی اور اپنی چپل اٹھا کر عون کے قریب آئی تو وہ ہڑبڑا کر بھاگا اور اسُ کے پیچھے وفا باقی سب قہقہہ لگاتے ان لوگوں کے پیچھے بھاگے…
🌟🌟🌟🌟🌟
بھائی بھائی مجھے بچالے…پلیز میری ابھی شادی بھی نہین ہوئی بھری جوانی میں میں مرنا نہیں چاہتا…عون برہان کے پیچھے چپتا بولا سب ہی کھڑے ہوگئے تھے…

ہوا کیا وفا رکو…برہان پریشانی سے بولا اور وفا کو ایک طرف روکا جو عون کو مارنے لپک رہی تھی…

بھائی اس نے میری ساری میک آپ کٹس توڑ دی…وفا غصے سے بولی…

عون یہ تم نے کیا ہے سچ سچ بتاو…برہان سنجیدگی سے بولا…

مشعل بھابھی کی قسم بھائی میں نے آج کوئی شرارت نہیں کیا…عون سچ بولا…

مجھے کیوں بیچ میں لارہے ہو…مشعل جلدی سے بولی…

بھائی یہ جھو…وفا بول ہی رہی تھی کہ نظر تبریز پر پڑی جو جلانے والی مسکراہٹ لیئے کھڑا تھا ایک منٹ لگا تھا وفا کو سب سمجھنے میں…

یہ یہ سب بھائی اس نے کیا ہے…وفا تبریز کی طرف بڑی…

او ہیلو دور سے ورنہ مین کیس کردوگا سسرال بلاکر ہونے والے شوہر کو اپنے بھائیوں سے پٹوایا…تبریز گڑبڑا کر بولا…

وفا وفا کیا ہوگیا..برہان نے وفا کو پکڑا…

بھائی یہ سب اس نے ہی کیا ہے…وفا بےچارگی سے بولی…

کیا میں تمہیں ٹین ایج کا لڑکا لگتا ہوں جو یہ بچکانی حرکتیں کرے گا…تبریز چہرہ پر سنجیدگی لائے بولا…

ہاں تم نے بدلہ لیا ہے…وفا چلائی…

میں دس سال کا بچا نہیں ایس پی تبریز طلال شاہ ہوں جو یہ بچکانی حرکیتں کرکے بدلہ لو مین سیدھا بندہ کو ٹھوکتا ہوں…تبریز اکڑ کر بولا…

کس بات کا بدلہ…زین مزہ لیتا بولا…

میں نے اسے گلاب جامن میں مرچ ملاکر دی تھی اسُ کا بدلہ چائے میں چینی کی جگہ نمک ملایا تھا اسُ کا بدلہ…وفا کے غصے مین بولنے پر سب کا چھت پھاڑ قہقہہ نکلا…

بری بات وفا وہ کوئی تمہارا دوست تمہارا ہم عمر نہیں جو تم ایسی حرکیتیں کرو دوبارہ مین نے یہ سنا تو اچھا نہین ہوگا عزت کیا کرو اس کی شادی ہونے والی ہے کچھ دن بعد تم لوگوں کی…برہان نے سنجیچگی سے اسے ڈاٹا…

چلو آو ہم چلیں کچن میں اب ان لوگوں کے لیئے دوبارہ چائے بنانی ہے…مشعل سنجیدہ محول دیکھ کر وفا کو اپنے ساتھ کچن میں لے گئی…
🌟🌟🌟🌟🌟
وفا تم چائے دیکھنا میں زرا برہان کی بات سن آو…مشعل برہان کی آواز پر وفا سے بولتی کچن سے باہر نکل گئی مشعل کے نکلتے ہی تبریز اندر داخل ہوا…

اسے کہتے ہیں ایک تیر سے دو شکار…تبریز ہاتھ میں موبائل لیئے جلانے والی مسکراہٹ لیئے وفا سے بولا کہ اسُ نے بدلہ بھی لے لیا اور برہان سے اس کی ڈانٹ بھی پڑوادی…

تمہیں تو…

ایک گلاس پانی دو…تبریز بات کاٹ کر بولا جس پر وفا کے چہرہ پر بھی شیطانی مسکراہٹ آئی اور بنا کچھ بولے پانی لینے بڑگئی…

یہ لیں…وفا نے پانی کا گلاس تبریز کے سامنے کیا جو موبائل مین مصروف تھا…

ایک پانی تم اتنی دیر میں لائی ہو…تبریز طنز کرتا پانی کا گلاس لتا پینے لگا اور ایک گھوٹ لیتا ہی واش پیسن میں پھک دیا…

یہ کیا ہے…تبریز چلایا دیکھنے میں تو پانی ہی تھا…

سرکہ…وفا جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولی جس پر تبریز نے اپنی قسمت پر افسوس کیا…