Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 Shoq e Deedar (Episode 15)
Shoq e Deedar (Episode 15)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi
وفا گڑیا…کچھ نہیں ہوا…رونا بند کرو شاباش…وفا نے ہوش مین آتے ہی رونا شروع کردیا تھا سب پریشان تھے برہان وفا کو چپ کروانے کی کوشش کررہا تھا…
اس موسیٰ کو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا….شاہ ذر مٹھیاں بیچھنی بولا…
چھوڑو شاہ ذر ہم تو چاہتے ہی یہ تھے…برہان نرمی سے بولا..
بھائی مجھے رشتہ ختم ہونے کا افسوس نہیں مجھے اس بات کا غصہ ہے کہ سب رشتے داروں کے سامنے اسُ نے میری بہن سے شادی سے انکار کیا…شاہ ذر غصے سے بولا…
پتہ نہیں ایسا کیوں کیا…وفا ہچکیوں کے درمیان بولی…
میں چلتا ہوں…باقی سب ہیں ادھر مجھے ارجنٹ جانا ہے…تبریز بامشکل مسکرا کر بولا اور ایک نظر وفا پر ڈالتا سب سے ملا نکل گیا حرم شاہ سلمان شاہ زین کے ساتھ بعد میں آئے گے تبریز اپنی گاڑی پر آیا تھا
وہ باہر جانے کے لیئے نکلا تو سامنے سے آتی ماریہ ٹکرائی…
اوپس سوری…تبریز جلدی سے پیچھے ہوتا بولا…
ام…سوری غلطی میری تھی…ماریہ ایک نظر تبریز پر ڈالی آگے بڑگئی تبریز کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
یہ موقعہ تو نہیں لیکن میں پھر بھی آپ لوگوں سے بات کرنا چاہتی ہوں…وفا کو آرام کی دوایاں دے کر اس وقت یہ لوگ مصطفیٰ شاہ کے روم میں تھے تینوں بیٹے مشعل اور طلال شاہ کی فیملی سوائے تبریز کے وہ جاچکا تھا طلال صاحب سے کچھ مشورہ کرکے حمت کرکے حرم شاہ بولی…
بولو حرم…تانیہ بیگم بولی مصطفیٰ شاہ میں تو نظرین اٹھانے کی حمت نہیں تھی جس بہن کی وجہ سے آج تک وہ اپنی بیوی اور سسرال والوں سے لڑتے آئے تھے اسُ نے ان کی بیٹی کو عین موقعی پر ٹھکرایا تھا…
میں وفا کو اپنے تبریز کی دلہن بنانا چاہتی ہوں…حرم شاہ کی بات پر زین سمیت سب نے چونک کر حرم شاہ کو دیکھا تھا…
یہ…تم کیا بول رہی ہو…مصطفیٰ شاہ نرمی سے بولے تھے…
جی بھائی وفا کو میری بہو بنادیں برہان پلیز سمجھاو نہ…حرم شاہ بولی…
بابا تبریز اچھا لڑکا ہے آپ نے دیکھا بھی تھا تھوڑی دیر پہلے…اور مجھے وہ وفا کے لیئے پسند ہے میں نے پہلے بھی آپ سے بولا تھا…برہان باپ سے بولا…
اور وفا وہ مان جائے گی…مصطفیٰ شاہ بولے…
جب آپ نے موسیٰ کے ٹائم کسی کے بارے مین نہیں سوچا تو اب جب سب راضی ہے تو کیا مسلئہ ہے مان جائے گی وفا…برہان طنزیا انداز میں بولا تو مصطفیٰ شاہ نے شرمندگی سے سر ہاں میں ہلادیا حرم شاہ خوشی سے تانیہ بیگم کے گلے لگی…
مبارک ہو میرے بھائی تمہارے سالے بنے والے ہیں…زین شرارت سے عون کے گلے لگ کر بولا…
اور جلد تم میرے سالے بنوگے…شاہ ذر آیت کا چہرہ نظروں میں لاتا بڑبڑایا…
مشعل مٹھائی لاو…برہان نے بولا تو مشعل خوشی سے کچن مین مٹھائی لینے چلی گئی…
یہ جنت کا بھائی جہنم کیوں ہے…زین نے سوچا
مجھے لگتا ہے تم سے سیدھی طرح شادی نہین ہونے والی اب ایکشن کا ٹائم ہے…زین نے دل میں سوچا…
🌟🌟🌟🌟🌟
بابا یہ کیا کیا آپ نے…کیف کام کی وجہ سے یہاں موجود نہین تھا لیکن گھر آکر سب پتا چلا تو باپ سے حیرانگی سے سوال کیا…
صیح کیا…جب بیٹھے بیٹھائے اچھا رشتہ مل رہا ہے تو کیا ہوا…ارتضی شاہ کے بولے پر کیف نے افسوس سے دیکھا…
بابا لیکن…
کیف تم تھک گئے ہو جاو آرام کرو…کیف کے کچھ بولنے پر ارتضی شاہ بات کاٹ کر بولے تو کیف اپنے روم میں آیا اور ماہم کو کال کی…
ہیلو…ماہم بولی…
اچھا نہیں کیا تمہارے بھائی نے…کیف سرد آواز میں بولا…
میں کیا کرو کیف…ماہم بولی
صیح سب اپنی مرضی کے مالک ہے یہاں…کسی کو کسی کے احساست کا احساس نہیں…بیچاری وفا…کیف افسوس سے بولا اور کال کاٹ دی ماہم موسیٰ کے روم کی طرف بڑی…
🌟🌟🌟🌟🌟
وہ بالکنی میں کھڑا اب تک لاتادات سگریٹ سلگا چکا تھا…
اس سب سے مین کیا سمجھو بھائی…ماہم موسیٰ کے پیچھے کھڑی بولی تو موسیٰ نے اپنی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا ماہم کو ایکدم خوف آیا…
تم یہاں کیوں آئی ہو…موسیٰ اگلی سگریٹ سلگاتا بھاری آواز میں بولا آواز سے معلوم ہورہا تھا جیسے وہ رونا ہو ماہم نے حیرت سے اپنے بھائی کو دیکھا…
بھائی آپ…آپ نے کسی کے دباو میں وفا سے شادی سے منع کیا ہے…بابا نے کو رشتے سے انکار کا کہا تھا…ماہم بولی…
ماہم اس وقت چلی جاؤ پلیز ماہم…موسیٰ نے بےسی سے کہا تو ماہم افسوس سے اسے دیکھتی جلدی گئی…
میرے ساتھ کیوں ہوا ایسا..
میں نے تمہاری زندگی جہنم نہ بنادی نہ تو میرا نام بھی موسیٰ سلمان شاہ نہیں…تھو شرم آتی ہے اب مجھے اپنے ساتھ اپنے باپ کا نام لگاتے…موسیٰ نفرت سے بولا اور بےسی سے رو دیا رات کی خاموشی میں موسیٰ کی سسکیاں گونج رہی تھی ایک مضبوط مرد ٹوٹ گیا تھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
سیریسلی ماما…تبریز نے جب اپنا رشتہ وفا کے ساتھ پکا ہونے کا سنا تھا وہ بےیقینی سے حرم شاہ سے بولا…
تو کیا ہوگیا تبریز…طلال شاہ اس کے انداز پر ناسمجھی سے بولے..
بابا ماما دیکھیں وفا کبھی راضی نہیں ہوگی…دیکھا تھا نہ کیسے رو رہی تھی…وہ موسیٰ سے پیار کرتی ہوگی…آپ لوگ کیوں…تبریز سنجدگی سے بولا…
تبریز…جو فیصلہ ہوچکا مطلب ہوچکا…حرم شاہ سنجدگی سے بول کر روم کی طرف بڑگئی…
🌟🌟🌟🌟🌟
زین یہ صیح نہیں…زین کا دوست علی زین کی بات سن کر بولا..
ابے ڈر پوک کیوں ہو…زین بدمزہ ہوکر بولا..
یار لیکن یہ صیح نہیں ہے…علی بولا…
سب ٹھیک ہے بس صبح مجھے اس جگہ مل لینا مجھے کل یہ کام لازمی کرنا ہے…زین نے سنجدگی سے بول کر کال کاٹ دی…