Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 Shoq e Deedar (Episode 19)
Shoq e Deedar (Episode 19)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi
ماریہ کی باتیں نے اس کو اشتعال دلا دیا تھا وہ ولا کے پچھلے حصہ میں آکر سگریٹ سلگانے لگا کچھ بہت ہونے پر وہ اندر داخل ہوا سب مہمان جا چکے تھے اس وقت صرف گھر والے موجود تھے اور چائے کا دور چل رہا تھا وہ کچن میں وفا کو دیکھ کر ادھر بڑھا…
ایک کپ چائے دینا…وہ مصروف سا موبائل یوز کرتا بولا..
رکھوائی تھی…وہ سوالیاں انداز میں کمر پر ہاتھ رکھے بولی…
ہر وقت بتمیزی اچھی نہیں لگتی وفا…تبریز سرد آواز میں بولا تو وفا نے غور سے اسے دیکھا تبریز اس وقت تبریز بلکل نہیں لگا تھا اس لیئے چپ چاپ وفا نے چائے کپ مین نکال کر تبریز کے آگے کی اور اسےُ تھما کر نکل گئی…
شٹ یار…میں کیا ماریہ کی فضول بکواس میں آکر وفا کو سنا دی…تبریز افسوس سے بولا ماریہ کی باتوں نے اس کا دماغ گھما دیا تھا اسےُ وفا پر پورا یقین تھا لیکن یہ وقتی ماریہ کی باتوں کا اصر تھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
اب بھئی ارسل کی بھی شادی ہوجانی چاہیئے…سیما شاہ بولی اس وقت سب بیٹھے چائے پی رہے تھے ارتضیٰ شاہ کے کہنے پر حمنہ شاہ کی پوری فیملی یہاں ہی تھی انُ کا کہنا تھا سب لڑکیاں یہاں ہے تو مصطفیٰ شاہ نے ماہم کی شادی اپنی طرف کرنے کا کہا تھا اس لیئے حمنہ شاہ کی پوری فیملی یہان ہی موجود تھی سلمان شاہ بھی یہاں ہی موجود تھے…
ہاں بھئی صیح کہا…حمنہ شاہ بھی مسکرا کر بولی…
بھئی مجھے تو اپنی جنت بہت پسند ہے…سیما شاہ کے بولے پر زین نے مٹھیاں بینھچ کر تبریز کو دیکھا تبریز نے موسیٰ کو موسیٰ نے آنکھوں سے تسلی دی…
کیا ہوگیا ماما جنت میرے لیئے چھوٹی بہنوں جیسی ہے مجھ سے عمر میں بھی بہت چھوٹی ہے…ارسل بدک کر بولا تو زین نے سکھ کا سانس لیا…
ارے لیکن…
پلیز ماما دوبارہ یہ بات مت کریے گا…ارسل بول کر وہاں سے چلا گیا…
مریم…ایک کپ چائے بنادو نا…عون مریم کو آیت کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر بولا…
ابھی سب نے پی ہے پھر…مریم بولی…
سب نے پی ہے مجھے کوئی عزت ہی نہیں دیتا کہ کبھی کوئی بولے یہ لو چائے…مجھے تو سب بولتے ہیں اگر بچ گئی تو دے دے گے…عون نے اپنے دھکڑے سنائے تو آیت ہنس پڑی…
ہنسو ہنسو…ہائے کاش کوئی کہتی یہ لے چائے آپ تھک گئے ہوگے…عون نے مریم کو دیکھتے خوائش کی…
تھکو تو بات ہے نہ ہر وقت تو گھر پر پڑے رہتے ہو…مریم نے بولتے پاوں میں چپل پہنی…
دیکھو زرا لڑکی بھی کیا سوچ رہی ہوگی کتنے بتمیز لوگ ہے…کیسے رہو گی میں…پیچھے سے شاہ ذر آتے آیت کی طرف اشارہ کرتا بولا جس پر سمجھ آنے پر عون نے شرارتی نظروں سے شاہ ذر کو دیکھا…
ہم تو آپ کو بہت شریف سمجھتے تھے…جی ہاں دیکھو سب دیکھو یہ ہے وہ شخص جو اپنے معصوم چہرہ کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کی جیب سے سگریٹ چراتا ہے…عون ایکدم جوش سے شاہ ذر کا چہرہ پکڑ کر بولا جس پر شاہ ذر بڑبڑا کر اسے دھکا دے کر بھاگا…
🌟🌟🌟🌟🌟
تبریز کہاں ہو…رات وہ مہندی سے واپسی سے پولیس اسٹیشن چلا گیا تھا کام سے اور اب دوسرا دن آگیا تھا دوپہر کا وقت تھا اب آخر پریشان ہوکر حرم بیگم مے تبریز کو کال کی…
اسلام و علیکم ماما…سوری ماما میں نے صبح بابا کو کال کرکے بتادیا تھا میں کیس میں پہسا ہوا ہوں اور اس لیئے رات تک ہی گھر آوگا…تبریز عجلت میں بولا…
اچھا ٹھیک ہے خیال رکھنا اپنا اور کھانا ضرور کھالینا…حرم بیگم فکرمندی سے بولی تو تبریز تھکن و مصروف سا مسکرادیا…
جی ماما آپ فکر نہ کریں اور دعا کریں سب ٹھیک ہو…تبریز بولا…
🌟🌟🌟🌟🌟
یہ لے چائے…سب کام میں لگے ہوئے تھے موسیٰ فریش ہوکر ابھی لاونج میں آیا تھا کہ حجاب نے چائے اسے لاکر دی…
شکریہ…موسیٰ نے مسکرا کر چائے کا کپ لیا…
حجاب یہ تمہاری زمہ داری نہیں…ماریہ موسیٰ کو حجاب کے آس پاس دیکھ کر ان لوگون کے پاس آکر بولی…
وہ..وہ ادھر کوئی نہیں تھا اس لیئے مین نے دے دی…حجاب گھبرا کر بولی…
حجاب یہ ابراہیم نہیں موسیٰ ہے…ماریہ طنزیا مسکراہٹ کے ساتھ بولی…
واٹ کیا مطلب ہے اس بکواس کا…موسیٰ ماریہ کی بات پر بولا…
کیوں حجاب ابراہیم تمہیں پوری مہندی میں دیجھ نہیں رہا تھا مجھے پتہ ہے وہ تمہیں بھی پسند ہے فکر نہ کرو میں اور موسیٰ سب بڑوں سے بات کرلے گے…ماریہ کے معصومیت سے بولنے پر موسیٰ نے حجاب کی طرف دیکھا…
ایسا کچھ نہیں موسیٰ میرا یقین کریں…حجاب کی آنکھوں سے آنسو کب نکلے اسےُ پتہ ہی نہیں چلا…
ارے ڈر کیوں رہی ہو یار اچھا ہے ابراہیم اچھا کپل رہے گا تمہارا تیار ہوجاو حجاب ابراہیم بنے کے لیئے…ماریہ مسکرا کر بولی…
شیٹ آپ ماریہ…بہت ہوگئی بکواس تمہاری…موسیٰ دھاڑا تو ان لوگوں کی آواز سن کر سب ادھر آئے…
ادھر کیا ہورہا ہے…وفا عون سے بولی…
ضرور اس ناگن نے کچھ کیا ہوگا…عون نے ماریہ کی طرف اشارہ کرتے کہا تو وفا کی ہنسی نکل گئی برہان نے آنکھیں دیکھائی تو دونوں خاموش ہوئے…
تمہیں کیوں آتنا برا لگ رہا ہے…کب سے برداشت کرتی ماریہ ناگواری سے موسیٰ سے چلاکر بولی…
اس لیئے یہ حجاب شاہ نہیں ہے اب یہ “حجاب موسیٰ شاہ” ہے سمجھی تم بیوی ہے میری…موسیٰ نے کیا بولا تھا سب ہی سن ہوگئے تھے سکون میں بس ارسل برہان کیف تھے…
اور دوبارہ میری بیوی کے ساتھ کسی غیر کا نام کبھی مت جوڑنا رونہ بولنے لائق نہیں چھوڑوں گا…موسیٰ ماریہ کو وارن کرتا حجاب کا ہاتھ تھاما ماریہ کو دیکھ کر سب کو لگتا تھا وہ سکتے میں چلی گئی ہے وہ سن بس ایک جگہ کھڑی تھی…
کیا ہوا یہ شور کیسا ہے…باہر گاڑیوں کا شور سن کر برہان ملازمہ سے بولا تو پھولی ہوئی سانس کے ساتھ پریشان سا آیا تھا…
چھوٹے صاحب ہابر پولیس کی گاڑیاں آئی ہیں…