Susraal by Momina Rizwan | Emotional Urdu Domestic Abuse Story NovelM80015 Susraal (Episode 12)
Susraal (Episode 12)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Susraal By Momina Rizwan
❤❤❤۔
رمضان کا مہینہ گزر گیا تھا ۔۔اس دوران مومنہ نے شرعی پردہ شروع کر لیا تھا۔وہ کمرے سے باہر نکلتی تو نقاب کر لیتی۔۔ گھر والوں نے تنقید کی اسے کافی کھری سناٸیں مگر اس نے کسی کی ایک نہ سنی ۔۔عامر کو اس کے پردے پر اعتراض نہیں تھا مگر وہ بھ یہی کہتا کہ رشتہ داروں سے ملا کرو۔۔ مومنہ نے یہ کہہ کر اسے منا لیا کہ میں آپ کے اصرار پر پردہ چھوڑ دوں گی لیکن قیامت والے دن اللہ کو جواب دے دینا۔۔اور اگر کسی نے مجھے بری نظر سے دیکھا تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔۔۔ مومنہ کی دلیلوں پر عامر چپ ہو گیا جانتا تھا کہ اب وہ نہیں مانے گی۔۔۔
عید بھی یوں ہی گزری سلمہ اور عرفان صاحب اس کے پردہ کرنے پر اور ذیادہ بپھر گے تھے۔۔ اور مومنہ اس کو اللہ کی آذماٸش سمجھ کر صبر کرتی رہی۔۔۔ نماذ قرآن شرعی پردہ شروع کر کے وہ اب پرسکوں ہو گٸ تھی۔۔وہ اپنے رب کو راضی کرنا چاہتی تھی کیوںکہ وہ جانتی تھی دنیا کبھی خوش نہیں ہو سکتی۔۔۔
عید پر بھی وہ حجاب اور نقاب اوڑھے سب کے گھر گٸ تھی۔۔۔ جس پر کافی لوگوں نے باتیں بھی کیں مگر مومنہ نے کان نہ دھرے۔۔۔ عامر بھی اس کا ساتھ دے رہا تھا جس پر سلمہ کو آگ لگی تھی اور اس نے اپنا جال بننا شروع کر دیا۔۔۔
❤❤❤۔
مومنہ ایک بات کرنی ہے ٹھنڈے دماغ سے سوچنا ٹھیک ہے؟۔
عامر مومنہ کو پاس بٹھا کر تصدیق کرنے لگا
بولیں کیا بات ہے۔۔۔
مجھے تم اپنے سونے کے کانٹے دے دو میں نے باٸیک خریدنی ہے پلیز۔۔۔
عامر نے منت بھرے لہجے میں کہا تو مومنہ ٹھٹکی
۔۔
دیکھیں میرے پاس صرف یہی جھمکے ہیں جو پاپا نے مجھے گفٹ دیے تھے۔۔باقی زیور میں اپنے میکے رکھوا کر آٸ ہوں۔۔پلیز میں نہیں دے سکتی
مومنہ صاف انکار کیا
مومنہ مجھے باٸیک کی ضرورت ہے۔۔آفس جاتے ہوے بہت پریشانی ہوتی ہے دیکھو تم تو منع نہ کرو میری مدد کر دو پلیز میں لوٹا دوں گا تمہیں بہت جلد۔۔
عامر نے مومنہ کے ہاتھ پکڑ کر منت کی۔۔تو مومنہ نرم پڑی تھی۔۔
ٹھیک ہے ۔۔ مومنہ نے کان سے جھمکے نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔۔اس نے دل بہت بڑا کیا تھا اس کے شوہر سے زیادہ ضروری تو نہیں ہے سونا۔۔۔
۔۔۔بجلی تو اس پر تب گری جب اسے پتا چلا کو عامر نے جھمکے بیچ کر باٸیک نہیں لیا بلکہ وہ پیسے عرفان صاحب کو دے دیے ہیں۔۔اس نے سلمہ اور عرفان کی باتیں سن لیں تھیں۔۔
عامر یہ کیا کیا ہے آپ نے؟؟ شرم نہیں آتی۔۔
مومنہ عامر کے پاس پہنچی اور آتے ہی برس پڑی
کیا ہوا ؟ عامر نے سوال کیا
جھمکے بیچ کر ابو کو پیسے دے دیے ہیں۔۔
مومنہ کی بات پر عامر بوکھلایا تھا
وہ وہ انہیں پیسوں کی ضرورت تھی نا اس لیے۔۔
تو اپ میرا زیور بیچتے رہیں گے۔۔انہوں نے مجھے کیا دیا ہے ۔۔کس حق سے وہ لوگ میری چیزیں بیچ کر کھا رہے ہیں۔۔ آپ کو بھی شرم نہیں آٸ۔۔مدد کرنی ہی تھی تو اپنی جیب سے کرتے نا۔۔مجھ سے جھوٹ بول کر فریب کر کے میرے جھمکے۔۔۔آپ کو پتا ہے مجھے تنے عزیز تھے وہ جھمکۓ۔۔۔
مومنہ کی آنکھیں پر نم ہو گٸ تھیں
مومنہ بس کر دو یار۔۔ جھمکے ہی رو تھے میرا باپ ہے وہ۔۔اگر لے لیے تو کونسی قیامت آ گٸ ہے
عامر نے بے زارگی سے کہا۔۔
آپ کے باپ ہیں میرے نہیں جو میری چیزوں پر حق جتا رہے ہیں۔۔
مومنہ کی برداشت آج حد پر تھی۔۔۔
ہوش میں رہو مومنہ ۔۔میں اپنے باپ کے متعلق کوی بکواس نہیں سنوں گا۔۔بلکہ تیرے جھنکے تجھے واپس کروں گا اور تجھے طلاق دوں گا۔۔بہت ہو گیا یہ ڈرامہ اب بسس۔۔۔
عامر غصے سے کہہ کر اٹھ کھڑا ہو
عامر۔۔۔ مومنہ منہ پر ہاتھرکھے چیخی تھی
کیا بکواس کر رہے ہیں ۔۔۔منہ سے گندے الفاظ نہ نکالیں۔۔
نکالوں گا دیکھ تو آج بسس۔۔۔
عامر کہتا کمرے سے نکلنے لگا مگر مومنہ اس کے پیروں میں گر گٸ۔۔۔
خدارا ایسا مت کریں میرا بچہ رل جاے گا میرے پاپا۔۔ نہیں نہیں عامر اپ سب رکھ لیں سب کچھ لے لیں مگر ایسا نہ کریں خدا کے لیے۔۔
مومنہ گڑگڑاتی اس کے پیروں میں پڑی تھی۔۔عامر ایک جھٹکے سے پیر چھڑاتا کمرے سے نکل گیا۔۔
اللہ جی پلیز میرا گھر بچا لیں میرا بچہ رل جاے گا میری پاپا ۔۔اللہ میرے پاپا کی عزت تباہ ہو جاے گی لوگ انہیں طعنے کسیں گے۔۔۔اللہ جی پلیز۔۔۔۔
مومنہ وہیں سجدے مین گر کر اللہ سے دعا مانگ رہی تھی۔۔۔
عامر کمرے میں واپس لوٹا اور سوے ہوے معاویہ کو اٹھ کر دوسرے کمرے میں رکھا اور واپس مومنہ کے پاس آ گیا۔۔
مومنہ اپنا زیور ابو کو دے دو انہیں ضرورت ہے۔۔ وہ مطمٸن سا اسے حکم دے رہا تھا۔۔۔
عامر وہ میرے میکے پڑا ہے میں کیسے مانگوں ان سے۔۔
رونے سے اس کی ہچکی بندھ گٸ تھی۔۔
بہانا کر لو مگر ساری بات نہ بتانآ۔۔
عامر سرسری سا کہتا وہاں سے چلا گیا۔۔مومنہ کا ضبط ٹوٹا تھا بس نے بلال چاچو کو فون کر کے ساری بات بتاٸ انہوں نے تسلی دی اور کہا
طلاق دیتا ہے تو دے دے یہ سب باتیں مجھےپہلے کیوں نھیں بتاٸیں میں علاج کرتا ہوں ان کا
۔کہہ کا کال کاٹ دی۔۔ مومنہ پریشان سی بیٹھی موباٸل کو گھورے جا رہی تھی۔۔
شور کی آواذ پر مومنہ ٹھٹکی وہ بھاگ کر سیڑھیوں پر گٸ اور جھانک کر اوپر دیکھا تو عرفان اور عامر بحث کر رہے تھے۔۔
بلال صاحب پوچ رہے ہیں میں نے زیور مانگا ہے۔۔میں صاف مکر گیا وہ بہت غصے میں تھے میں نے کہا تھا کہ اسے صرف دھمکی دینا مگر وہ لوگ تو سچ میں طلاق دے رہے ہیں۔۔
عرفان صاحب سر پکڑے بول رہے تھے
ابو اپ نے ہی کہا تھا کہ دھمکی دو اور اسے مارو۔۔ اب خود ہی پریشان ہو رہے ہو۔۔اپ کی خاطر میں اسے چھوڑ دو گآ۔۔
عامر الفاظ مومنہ پر بجلی بن کر گرے تھے۔۔
وہ بھاگ کر اوپر گٸ۔۔
اچھا تو یہ سب آپ لوگوں کی چال ہے۔۔ شرم نہیں آٸ میرے ساتھ یہ سب کرتے ہوے۔۔اللہ کا خوف نہیں آیآ۔۔
مومنہ پھٹ پڑی تھی ۔۔آج حد ہو گٸ تھی۔۔۔
اور آپ۔۔۔ عامر سے مخاطب ہوی تھی۔۔
آپ چھوٹے بچے ہو جو باپ کے کہنے پر مجھےمارآ۔۔ کیا آپ کو صرف والدین کے حقوق ہی یاد ہیں۔۔بیوی کچھ نہیں ہے۔۔
اگر نہیں رہ سکتے میرے ساتھ تو ٹھیک ہے جا رہی ہوں میں۔۔۔مومنہ غصے سے کہتی مڑی اور پھر رک کر عرفان کی طرف پلٹی۔۔
اور آپ یاد رکھنا۔آپ کی بھی پانچ بیٹیاں ہیں۔۔میں بد دعا نہیں دوں گی مگر میرے آنسوو میں یہ بھی ڈوبیں گی۔۔ میرا اللہ آپ کو نہیں بخشے گا ۔۔۔انشا۶ اللہ۔۔۔۔
مومنہ ضبط سے کہتی واپس مڑی۔۔۔ اپنا سامان پیک کر کے اس نے معاویہ کو اٹھایا اور نچلے گیٹ سے نکل گٸ۔۔۔ بلال چاچو اسے لینے پہلے ہی کھڑے تھے۔۔۔مومنہ کے ہی منع کرنے پر وہ اندر نہیں آۓ تھے۔۔۔۔
❤❤❤❤۔
اس کو میکے آۓ ایک ہفتہ ہو گیا تھا۔ اس دوران اسے عامر کا کوی فون نہیں آیا تھا۔۔شہزاد صاحب کو کسی بات کا علم نہیں تھا۔۔مگر مومنہ کا مرجھایا چہرہ دیکھ کر انہیں شک ہوا تھا۔۔
مومنہ معاویہ کے کپڑے تبدیل کر کے اسے ارسل کے ساتھ کھیلنے کو چھوڑ آٸ۔۔کافی تھک گٸ تھی اس لیے سونا چاہتی تھی۔۔پچھلے کچھ دنوں میں وہ سو بھی نہ سکی تھی۔۔
موباٸل بپ پر وہ چونکی۔۔۔موباٸل اٹھا کر دیکھا تو عامر کی کال تھی۔۔۔ اس نے کال کاٹ دی۔۔مگر کال مسلسل آنے لگی۔۔
تنگ آ کر اس نے فون اٹھا ہی لیا
مومنہ ۔۔۔ عامر کی شکستہ سی آواذ سناٸ دی
اسلام و علیکم۔۔ مومنہ نے اسے جتاتے ہوے سلام کیا
وعلیکم سلام کیسی ہو؟ عامر یقیناََ مسکرایا تھآ۔۔
ٹھیک ہوں بتآٸ۶ں کیسے یاد کیا؟۔ مومنہ نے ضبط سے کہا اس کا دل چاہ رہا تھا کہ رو دے۔۔اتنے دنوں بعد عامر کی آواذ سن کر اس کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا۔۔۔
میں آ رہا ہوں تمہیں لینے۔۔۔ عامر نے بتایا تھا کہ سوال کیا تھا۔۔
کیوں؟ یک لفظی سوال
نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر۔۔۔ عامر نے بھراٸ آواذ م۶ں کہا
ایک ہفتہ ہی ہوا ہے بس۔۔۔ مومنہ نے یاد دلایآ۔۔
اب ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتآ۔۔ عامر کی آواذ ٹوٹ رہی تھی۔۔
آ جآٸیں روکا کس نے ہے۔۔؟
ضبط کے باوجود اس کا آنسوو گال پر لڑھکا تھا۔۔
مومنہ نے موباٸل کان سے ہٹایا اور آنسو صاف کرنے لگی۔۔
مت رو۔۔ عامر کی آواذ پر وہ اچھلی تھی۔۔
عامر ۔۔۔۔اس نے سر اٹھایا تو وہ درواذے میں کھڑا تھا۔۔۔
مومنہ۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔ عامر کی آنکھیں رونے سے سوجی ہوی تھیں۔۔۔ مومنہ یک دم بھاگ کر اس کے سینے سے جا لگی تھی۔۔
عامر۔ کہاں تھے آپ پتا ہے کتنا یاد کیا آپ کو۔۔۔
مومنہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔۔
کیووں آ گٸ۔۔۔ ذرا بھی خیال نہیں آیا میرا؟
وہ گلے کرنے لگا تھا
عامر سب ٹھیک ہے نا؟ مومنہ نے خدشے کے تحت پوچھ۔
عامر نے اسے کرسے پر بٹھایا۔۔۔ چلو میرے ساتھ واپس۔۔۔
***۔
مومنہ کے گے آج دوسرا دن تھا۔۔عامر کا غصہ اب ٹھنڈا ہو گیا تھا۔۔ وہ اپنے کیے پر پچھتا رہا تھا۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کرے۔۔
وہ اٹھ کر عرفان کے کمرے میں گیا۔۔جو سر پکڑے بیٹھے تھے۔۔ دو دن سے وہ سو نہیں سکے تھے۔۔مومنہ کی دے بدعا ان کے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔
”میرے آنسوو ان کو بھی ڈبوٸیں گے۔“
خود کی بیٹی پر بات آٸ تو ان سے برداشت نہیں ہوا تھا۔۔ انہیں خوف آ رہا تھا یہ سوچ کر کہ ان کی بیٹیاں بھی یوں ہی تڑپیں گی روٸیں گی ذلیل ہوں گی۔۔۔۔۔
ابو کیا ہوا پریشان کیوں ہیں۔؟
عامر کی آواذ پر انہوں نے سر اٹھایا
عامر تو اسے واپس لے آ۔۔ عرفان کی بات پر عامر حیران ہوا
آپ کو ہی شوق تھا اسے طلاق دلوانے کا۔اب کیا ہوا؟
عامر پاس چاپای پر بیٹھتے ہوے طنزیہ بولا
میں نے صرف دھمکی دینے کو کہا تھا۔۔مجھے لگاتھا کہ وہ ڈر جاے گی اپنا گھر بچانے کے لیے ہماری ہر بات مانے گی مجھے کیا پتا تھا کہ وہ اپنے خرانٹ باپ کے پاس چلی جاے گی۔۔ وہ وہ شخص مجھے مار دے گا۔۔
اس کا باپ مجھے نہیں چھوڑے گا۔۔۔
عرفان صاحب پاگل لگ رہے تھے۔۔
ابو کیا مطلب ہے آپ کا؟
عامر نے الجھ کر پوچھا
میں نے اس کے باپ سے بہت قرضہ لیا ہوا ہے۔۔بلال صاحب میرے سینٸیر ہیں وہ مجھے نوکری سے نکلوا دیں گے۔۔ اس کا باپ مجھے مارے گا ساری عمر عدالتوں میں گسیٹے گآ۔۔،چار لوگوں میں میری جو عزت ہے وہ ختم ہو جاے گی۔۔ تیرے لیے میں اپنا سب کچھ داو پر نہیں لگا سکتا ۔۔۔
عامر منہ کھولے حیرت سے اپنے مطلب پرست باپ کو دیکھ رہا تھا جس نے اپنے مطلب کی خاطر ایک معصوم کی زندگی برباد کر دی تھی۔۔اگر عامر غصے میں اسے طلاق دے دیتا تو۔۔۔ یہ سوچ کر ہی عامر کی جان نکل رہی تھی۔۔۔۔
عامر تو اسے لے آ واپس۔۔۔ بس اس کے باپ کو کھ مت بتانا وہ مار دے گا مجھے ۔۔۔تو بول دینا کہ تم دونوں کی لڑای ہے میرا نام نہ لگانا پلیز۔۔۔
عرفاں صاحب نجانے اسے اور کیا کیا کہتے رہے مگر وہ خاموشی سے انہیں دیکھتا رہ گیا
بس ابو بس۔۔بہت کر لیا اپ نے میں اپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔
وہ ایک دم غصے سے چھنگاڑا تھا ۔۔میں اپ کو باپ سمجھ کر اپ کی ہر بات مانتا تھا اور اپ نے کیا کیا۔۔اپنے مطلب کے لیے مجھے استعمال کرتے رہے۔۔۔ میری غلطی یہ ہے کہ میں ماں کے بعد باپ کو کھونے کے ڈر سے آپ کی ہر بات مانتا رہا مگر اج پتا چل رہا ہے کہ ماں مر جاے تو باپ بھی سگا نہیں رہتا۔۔ ابو اپ اس حد تک جاٸیں گے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔اچھا نہیں کیا اپ نے مجھے بڑ ھکا کر ایک معصوم کی ذندگی تباہ کر رہے تھے آپ۔۔؟؟
عامر نے افسوس سے سر ہلایآ۔اسے آج شدید صدمہ ہوا تھا۔۔غصہ آرہا تھا خود پر کہ اس نے اپنی عقل استعمال کیوں نہیں کی؟؟؟؟
آپ کی باتوں میں آ کر میں نے اس کے ساتھ کتنی زیادتی کی۔۔ عامر غصے سے کہتا واک اوٹ کر گیا اور عرفان نے دوبارہ سر ہاتھوں میں گرا لیا۔۔۔
**۔
اس دن کے بعد عامر کو چپی لگ گٸ تھی۔۔اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ مومنہ سے معافی مانگ پآتا۔۔ کس منہ سے اس کے سامنے جاتا۔۔۔
وہ بہت اکیلا ہو گیا تھا۔۔۔اسے کھانے کو بھی کوی نہ پوچھتا تھا۔۔کبھی خود ہی کچھ نہ کچھ کر لیتا اور کبھی بھوکا سو جاتا ۔۔۔
اب جب وہ آفس سے لوٹتا تو کوی اسکے انتظار میں نہ بیٹھا ہوتا تھا۔۔اندر آتے ہی اس کے سینے سے لگنے والی مومنہ اور پیروں سے لپٹنے والا معاویہ کہیں کھو گے تھے۔۔
بابا مما کی صدا اب اس گھر میں نہیں گونجتی تھی۔۔اسے پانی پلانے والی مومنہ اسےکھانا دینے والی مومنہ اب یہاں نہیں تھی۔۔۔ کوی نہیں تھا جو اس کے سین سے لگ کر اپنے دل کا حال اسے سناتا اور دس بار اسے پوچھتی کہ عامر مجھے چھوڑیں گے تو نہیں نا۔۔۔
مومنہ کو وہ ہمیشہ کہتا ۔۔۔بھلا روح کے بغیر بھی جسم کسی کام کا ہوتا ہے؟
آج وہ اپنی ذوح کے بغیر جسم لیے بیٹھا تھا۔۔اور وہ واقعی ذندہ نہیں تھا۔۔۔
اللہ یہ کیا ہو گیا مجھ سے ۔۔۔مومنہ لوٹ آٶ میں نہیں جی سکتا مگر جاوں گا۔۔
اس نفرت ہونے لگی تھی اپنے وجود سے۔۔۔۔
آخر تتھک کر اس نے ہمت جمع کی اور شہزاد صاحب کے پاس جا پہنچا۔۔۔
ان سے گڑگڑا کر معافی مانگی اور مومنہ کو لے جانے کی اجازت مانگی۔۔ شہزا صاحب نے ایک شرط اس کے سامنے رکھی جسے اس نے مان لیا۔۔
اور اب وہ مومنہ کے سامنے تھا۔۔۔۔
❤❤❤❤.