📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14731"]
50483 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Susraal  (Episode 08)

Susraal By Momina Rizwan 

مومنہ ۔۔مومنہ میری بچی۔۔
شازیہ بیگم کمرے میں داخل ہوتے ہی پستر پر پڑی مومنہ کی طرف بھاگی۔۔ان کے ساتھ ساتھ مومنہ کی دادی بھی موجود تھی۔۔
مومنہ بمشکل اٹھ بیٹھی۔۔ شازیں بیگم نے اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔
پھٹے ہونٹ جن سے خون بہہ کر خشک ہو گیا تھ۔۔آنکھوں میں پڑھے سیاہ گڑے۔۔منہ پر خراشوں کے نشانات۔۔۔بازووں پر دانتوں کے نشان۔۔واضع نظر آ رہے تھے۔۔
چند دنوں میں ہی وہ صدیوں کی بیمار لگی تھی۔۔جس ذہنی اذیت میں وہ تھی صرف وہی جانتی تھی۔۔۔
یہ کیا حال ہو گیا مومنہ ۔۔۔شازیہ بیگم بھراٸ آواذ میں بولی ۔۔پھر پس سوے ہوے معاویہ کی طرف بڑھی اور اسے اٹھا کر چومنے لگیں۔۔مومنہ ابھی سب کے سامنے جرگہ لگے گا ہر بات بتانا آج میں ان لوگوں سے سوال کروں گی آخر میری بچی نے کیابگاڑا تھا۔
مومنہ کی دادی دکھ اور غصے سے گویا ہویٸں
مومنہ ہلکا سا سر ہلا کر رہ گٸ۔۔۔
***۔
آپ لوگ نہیں جانتے یہ کیا کرتی ہے ہمارے ساتھ ۔۔۔
رابعہ مصنوعی اداکاری سے بولی تھی۔۔جرگہ لگ چکا تھا اور سب ایک جگہ موجود تھے۔۔
مومنہ کی دادی شازیہ بیگم اور بلال چاچو جرگے میں موجود تھے شہزاد صاحب کو اس سب سے بے خبر رکھا تھا۔۔۔
عرفان صاحب کیا اس لیے میں نے اپنی بچی آپ کو دی تھی؟؟
بلال چاچو کے لہجے میں دکھ اور افسوس تھا
غلطی ہماری نہیں ہے یہ ذیادہ مسلے پیدا کرتی ہے آخر کب تک سہتے ہم۔
عرفان صاحب نے بھی اداکاری کی حد پھلانگی تھی
کیا کرتی ہے یہ بتایں نا پھر ہم حل نکالیں گے
شازیہ بیگم ان کے جھوٹ کو بھانپ گٸ تھیں
گڑھے مردے مت اکھاڑیں بس آٸیدہ آپ کو شکایت نہیں ملے گی۔۔ عرفان کے پاس مومنہ کے خلافکچھ ہوتا تو وہ کہتے۔۔اب سب کے سامنے جھوٹ بول کر اپنی پول نہں کھول سکتے تھے اس لے معاملہ رفع دفع کرنا چاہ رہے تھے۔۔۔
مومنہ اللہ کی خاطر معاف کر دو ۔۔۔
عرفان اب مومنہ سے مخاطب تھے۔۔
مومنہ خاموش بیٹھی سب کو سن رہی تھی۔۔اسے کچھ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔۔سب کچھ سامنے تھا۔۔ہر کوی جانتا تھا کہ غلط کون ہے۔۔۔
شازیہ بیگم نے بہت کوشش کی مگر عرفان بات کو یہاں وہاں کر کے ختم کر کے اور وعدہ کر لیا آٸندہ کوی شکایت نہیں ملے گی۔۔۔اور آخر وہ لوگ مومنہ کے بسے بساۓ گھر کو اجڑنے نہیں دے سکتے تھے سو خاموش ہو گے مگر اتنا ضرور کہہ دیا کہ آٸیندہ اگر کچھ ہوا تھا برداشت نہیں کیا جاے گا۔۔او عرفان ان کی ہاں مں ہاں ملاتے رہے۔۔آخر کو ان کے ساتھ دشمنی مول لے کر وہ اپنی عزت اور کرٸیر داو پر نہیں لگا سکتے تھے۔۔کیوںکہ بلال چاچو کے ساتھ ان کے بہت سے مطلب وابستہ تھے جو وہ پورا کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔
***۔
عامر اگر سکون چاہٸیے تو ہمیں الگ ہونا پڑے گا ورنہ یہ روز روز کے جھگڑے ہمیں جینے نہیں دیں گے۔۔۔
شام مومنہ عامر کو اپنا فیصلہ سنا رہی تھی۔۔
میں بات کرتا ہو ابو سے ہم الگ ہو جاٸیں گے۔۔۔
ہاں مگر میں کمرے میں چولہا نہیں جلاوں گی فلحال مجھے سٹور صاف کروا کر دیں میں اس کوکچن سیٹ کروں گی۔۔۔
مومنہ قطعی انداذ میں بولی
مگر ان لوگوں کا سامان۔۔۔۔۔
مومنہ عامر کی بات کاٹ کر پھر سے بولی
مجھے نہیں پتا جو بھی کریں بس کل میں الگ ہو چاوں گی بس۔۔۔۔
۔ دوپہر تک سٹور کا ایک حصہ صاف کر کے کچن سیٹ ہو چکا تھا۔ایک حصے میں کباڑ دھرا ہوا تھا۔۔مومنہ نے اس پر شکر کیا۔۔کم از کم وہ سکھ سے کھا توسکے گی۔۔بھوکا تو نہیں رہنا پڑے گا۔۔ ۔۔ علیحدہ ہونے کے بعد مومنہ کافی پر سکون تھی۔۔ وہ اپنی ایک نٸ زندگی شروع کرنا چاہتی تھی۔۔ اب وہ اور عامر ایک دوسرے کو وقت دیتے۔۔سب کچچ بھلا کر وہ ایک نٸ شروعات کر چکے تھے۔۔۔
عامر اب مومنہ کو پہچاننے لگا تھا۔۔ مومنہ ایک معصوم اور معصوم بچوں جیسی لڑکی تھی۔۔ حالات نے اسےکافی سنجیدہ بنا دیا تھا۔۔مگر عامر کا ساتھ اور توجہ پا کر وہ پھر سے کھل اٹھی تھی۔۔ وہ بہت بدل چکی تھی۔۔اس نے خود کوعامر کے رنگ میں رنگ دیا تھا۔۔ضد غصہ اور اڑیل پن اس نے بہت دور چھوڑ دیا تھا۔۔ وہ عامر کے ساتھ دال روٹی کھا کر بھی خوش تھ۔ مومنہ نے کبھی اس سے کوی خواہش نہیں کی۔۔کبھی گلا نہیں کیا۔۔۔
گیارہویں کے امتحان میں وہ اول آٸ تھی۔۔اس پر وہ بہت خوش ہوی تھی۔ آگے پڑھ کرکچھ بننا اس کا جنون تھا۔۔۔
اسے نماذ سکھای اور قرآن سکھایا اور بہت جلد عامر نماذ کا پابند ہو گیا۔۔ قرآن وہ اٹک اٹک کر پڑھتا تھا۔۔
سوتیلی ماں نے صرف کھانا پکا دیا۔۔اور کپڑے دھو دیے۔۔ تربیت کچھ بھی نہ کی تھی۔۔ مومنہ نے عامر کو بدل دیا۔۔تھ۔
وہ دونوں اپنی ذندگی میں خوش تھ۔۔مگر یہ خوشی بھی وقتی ثابت ہوٸ ۔۔
رمضان بھی شروع ہو چکا تھا۔۔ شازیہ بیگم نے مومنہ کے لیے افطار کا سارا سامان اپنی طرف سے بھیجا۔۔۔ عامر کے پاس تو اتنی گنجاٸش نہ تھی کہ وہ مومنہ کو عید کی خریداری کروا سکتا۔مومنہ نے اس پر بھی صبر کیا تھا۔۔شازیہ بیگم نے عید کے کپڑے بھی خود خرید کر انہیں بھیجے تھے۔۔ عید بھی خیریت سے گزر گٸ تھی۔۔۔ اور مومنہ کے بارہویں کے پرچے شروع ہوگے۔۔۔
عامر مومنہ کو پرچے دلوانے ساتھ لے جاتا تھا معاویہ بھی ان کے ساتھ ہی تھا۔۔چار ماہ کا معاویہ بہت تنگ کرتا اس لیے مومنہ اپنا پرچہ بیچ مین چھوڑ کر اسے دودھ پلاتی اور پھر واپس آ کر پرچہ دیتی۔۔۔ نگران بھی اس کی مجبوری سمجھتے تھے۔۔سو روک ٹوک نہ کرتے۔۔۔وہاں سبھی جانتے تھے کہ مومنہ کتنی لاٸق اور ذمہ دار لڑکی ہے اس لیے پورے حال میں اسی کے چرچے ہوتے رہتے کہ شادی شدہ ہے بچہ بھی سنبھالتی ہے گھر بھی سنبھالتی ہے اور پڑھای بھی کرتی ہے۔۔۔۔
خیر یوں ہی پرچے مکمل ہوے اور ہمیشہ کی طرح وہ اول آٸ تھی۔۔۔اور اسی طرح اس نے بارہویں کے پرچے بھی دے دیے جن میں وہ پھر سے اول آٸ تھی۔۔ مگر عامر کے حالات ایسے نہ تھے کہ وہ اسے پڑھا سکتا اس لیے مومنہ نے خوشی سے پڑھای چھوڑ دی۔۔۔
مومنہ کو عامر کی فکر ستانے لگی تھی۔۔عامر میٹرک فیل تھا۔۔ اور نوکری ہونے کے باوجود اسے ڈر تھا کہ اگر اسے نوکری سے نکال دیا گیا تو۔۔۔
مومنہ نے ضد کر کے عامر کو ایڈمیشن دلایا۔۔اور یوں عامر نے پراٸویٹ پر میٹرک کے پیپر دیے۔۔مومنہ نے اس کا بہت ساتھ۔۔۔دیا…..
اس دن مومنہ اپنے میکے گٸ تھی اور وہاں جو اسے پتا چلا وہ کافی حیران کن تھا۔۔۔
عرفان صاحب وقتاََ فوقتاََ بلال چاچو کو مومنہ کے بارے میں جھوٹی معلومات دیتے رہتے تھے۔۔۔عرفان کا کہنا تھا کہ مومنہ سب سے بدتمیزی کرتی ہے اور اپنے شوہر سے گھر کے کام کرواتی ہے اور اسے بے عزت کرتی رہتی ہے۔۔۔ حالانکہ یہ سب جھوٹ تھا۔۔۔
بلال چاچو نے تنگ آ کر جب مومنہ کو بتایا اور تصدیق چاہی تو مومنہ نے صاف بتا دیا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔
بلال صاحب کے ساتھ ساتھ شازیہ بیگم کا دل بھی ان سے برا ہو گیا ۔۔۔۔
****۔
مومنہ تمہیں پتا ہے رابعہ آپی کا رشتہ آیا ہے۔۔۔
عامر نے انکشاف کیا تھا۔۔۔
نہیں تو مجھے نہیں معلوم۔۔۔ مومنہ چونکی نہیں تھی اسے پتا تھا کہ گھر میں جانے جو بھی ہو جاے اسے کبھی نہیں بتایا جاتا۔۔۔
میں نے ابو سے بولا ہے انکار کر دیں۔۔بہت دور ہے وہ جگہ اتنے دور کیسے رہے گی رابعی۔۔۔
عامر نے نیا انکشاف بھی۔۔۔کیا۔۔
آپ نے کیوں منع کیا ہے ابو جو بھی کریں اپ ایسے کیوں ٹانگ اڑا رہے ہیں۔۔
مومنہ کو آنے والے خدشات ستا رہے تھے کہ اب نجانے گھر کی عورتوں کا کیا رد عمل ہو۔۔۔
بھای ہوں میں اس کا ۔۔۔حق ہے میرا۔۔۔۔
عامر جتاتے ہوے بولا جبکہ مومنہ لب کچل کر رہ گی۔۔۔۔
**۔ ابو نے عامر کی وجہ سے رشتہ توڑا ہے۔۔ یہ عامر ہر جگہ ٹانگ اڑاتا رہتا ہے۔۔۔ پتا نہیں کون پٹیاں پڑھاتا ہے اسے۔۔۔
رابعہ منہ میں بڑبڑا رہی تھی۔۔۔مومنہ پاس بیٹھی سب سن چکی تھی۔۔۔اس دن کے جھگڑے کے بعد اسے براہ راست طنز نہںں کیا جاتا تھا البتہ طنز ضرور کیا جاتا تھا۔۔ دو دن رابعہ گھر میں سب سے خفا رہی اور بات بات پر غصہ کرنے لگ جاتی۔۔۔آخر تیس کی ہو چکی تھی اب بھی رشتہ نہہیں ہوتا تو شاید پاگل ہو جاتی۔۔۔
مومنہ نے عامر کو رشتہ کی ہاں کر دینے کا کہا۔۔۔
عامر بھی سوچ میں پڑ گیا۔۔مگر اس کی ہاں سے پہلے ہی عظمیَ نے عرفان کو بہلا پھسلا کر رشتہ کی ہاں کروا دی تھی۔۔۔
مومنہ نے شازیہ بیگم کو بھ خوشخبری سنای تو وہ ستی پڑ گٸیں
لڑکا کیا کرتا ہے۔۔۔
شازیہ بیگم بولی
تندوری ہے روٹیاں پکاتا ہے۔۔
مومنہ نے پرجوش ہوکر بتایا ۔۔وہ ایسی ہی تھی سب کی خوشی میں خوش ہو جانے والی۔۔۔
عرفان صاحب کو تیرے پاپا نے اتنے رشتے دکھاے مگر عرفان صاحب ہر بار کہہ دیتے کہ میں سرکاری نوکری والا لڑکا ڈھونڈوں گا جو میری جیسا ہو۔۔۔
اب کیا تندور سرکاری ہے
شازیہ بیگم کافی ناگواری سے کہہ رہی تھی۔۔
چھوڑیں نا مما جہاں بھی دیں ہمیں کیا
۔خوشی کی بات ہے یہ تو۔۔۔ اتوار کو منگنی ہے آپ بھی آنا۔۔۔
***۔