Susraal by Momina Rizwan | Emotional Urdu Domestic Abuse Story NovelM80015 Susraal (Episode 01)
Susraal (Episode 01)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Susraal By Momina Rizwan
عامر کے سینے سے لگی وہ اسے محسوس کر رہی تھی۔۔ اس کی یہ رات زندگی کی سب سے حسین رات تھی۔۔ اس نے عامر سے کوٸ محبت کے دعوے نہیں کیے تھے نہ ہی ملاقاتیں ہوی تھیں۔۔مگر اب وہ اس کا شوہر تھا اور اپنے مجازی خدا سے وہ بے پناہ محبت کرتی ہے۔۔۔
عامر مجھے یقین نہیں ہوتا کہ ہماری شادی ہو گٸ ہے۔۔
مومنہ نے سر اس کے سینے پر رکھے ہی عامر سے کہا۔
میری جان یہی حقیقت ہے ہم دونوں ساتھ ہیں۔۔۔
عامر نے اس کے بالوں میں پیار دے کر اسے مزید سینے میں بھینچ لیا۔۔۔
میں بہت خوش ہوں۔۔۔ مومنہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔
مومنہ ایک بات کہنی ہے۔۔۔۔ عامر نے اپنا سر کے سر پر ٹیک کر کہا
بولیں نا کیا کہنا ہے۔۔۔۔ مومنہ نے محبت سے کہب
چاہے کچھ بھی ہو میرے ماں باپ سے کبھی بدتمیزی نہیں کرنا انیں اپنا سمجھ کر خدمت کرنا میرے والدین تمہارے والدین ہیں۔۔۔۔ ہمم
عامر نے پیار سے اسے بتایا
جی میں ہمیشہ ان کی خدمت کروں گی آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔۔۔۔
مومنہ نے خلوص سے اور پورے دل کے ساتھ کہا تو عامر کو اس معصوم لڑکی پر ٹوٹ کر پیار آیا۔۔۔۔۔
❤❤❤۔
کیوں مومنہ اپنے میکے کا جوڑا پہن لیا۔۔۔ لوگوں کو یہ ثابت کرنا چاہتی ہو کہ میری ساس نے مجھے کچھ دیا ہی نہیں ہے۔۔۔
مومنہ کی ساس سلمہ نے شادی کے پہلے دن طنز کا تیر چھوڑا۔۔
مومنہ نے سر جھکا لیا اس نے وہ سوٹ اس لیے پہنا تھا کیوںکہ اسے وہ پسند تھا مگر ساس کے طنز پر اسے لگا کہ ان کا لہجہ ہی ایسا ہے وہ پیار سے کہہ رہی ہیں۔۔۔وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں آکر فوراََ کپڑے تبدیل کر کے اپنی بری کا ایک سوٹ نکال کر پہنا۔۔۔
کپڑے تبدیل کر کے وہ کچن میں چلی گٸ۔۔۔
یہ ہوٸ نا بات چلو اب کھیر بناٶ ناٸلہ نے کسٹرڈ بنانا ہے۔۔۔
سلمہ کہہ کر کچن سے نکل گٸ۔۔ ناٸلہ آپی مجھے کھیر بنانی نہیں آتی آپ مجھے گاٸیڈ کریں گی۔۔۔ مومنہ کو لگا کہیں اس کی ساس کو اس کی کھیر پسند نہ آٸ توکیا سوچیں گی اس لیے اس نے اپنی جیٹھانی کو کہا تو ناٸلہ اسے گاٸیڈ کرنے لگی۔۔۔
کھیر بنا کر سب کو سروو کی سب نے کھیر کھا کر برتن رکھے اور اپنے کاموں میں لگ گے۔۔۔
شاید یہاں تعریف کرنے کا رواج نہیں ہے خیر میں بھی کی سوچ رہی ہوں۔۔۔
مومنہ نے دل میں سوچا۔۔۔اسے لگا شاید میری پہلی کوکنگ پر تعریف ہو گی مگر کسی نے ایک لفظ تک نہ کہا تو وہ سر جھٹکتی کمرے میں آگٸ۔۔۔
❤❤❤۔
مومنہ اپنے والدین کی ایک بیٹی ہے۔۔۔اس کے دو بھاٸ سلطان اور ارسل جو کہ اس سے چھوٹے ہیں۔۔۔ مومنہ سترہ سال کی ہے اور سلطان پندرہ کا۔ارسل کی عمر دس سال ہی۔۔۔۔
شہزاد صاحب اور شازیہ بیگم کے یہ تین ہی بچے ہیں ۔۔۔
مومنہ کی شادی کمر عمری میں ہی کر دی گٸ۔۔کیوںکہ اچھا رشتہ ملنے پر مںگنی کے بعد اس کے سسرال والوں نے شادی کا زور دینا شروع کر دیا اس لیے مجبوراََ اس سترہ سال کی معصوم لڑکی کو پیا دیس بیاہ دیا گیا۔۔۔
مومنہ جواٸنٹ فیملی میں بیاہ کر آٸ۔۔تھی۔۔۔ صدیق صاحب کا ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں تھیں۔۔ بیٹیوں کو بیاہ کر انہوں نے بیٹے کی شادی کرواٸ۔۔ ان کی بہو کو گلے کا کینسر ہو گیا جس وجہ سے وہ چھ بچوں کو رلتا چھوڑ اللہ کو پیاری ہو گٸیں۔۔۔ ان کی وفات کے ایک سال بعد ان کے شوہر عرفان نے دوسری شادی سلمہ سے کر لی۔۔۔ ان کے چھ بچوں کو سلمہ نے پال پوس کر بڑا کیا۔۔ سلمہ ایک غریب گھر کی لڑکی تھی اس لیے مجبوراََ پراٸ اولاد پالنی پڑی کیوںکہ عرفان کے گھر وہ عیاشی کی زندگی گزار رہی تھی ۔۔۔
کچھ عرصے میں سلمہ کے اپنے چار بچے پیدا ہو گے۔۔۔
اس طرح کل ملا کر سب بچے دس تھے۔۔۔
چھ سگے اور چار سوتیلے ۔۔۔
رابعہ۔ذیشان۔عامر۔اریبہ۔ارسلان۔آمنہ۔۔۔ یہ چھ سگے بہن بھاٸ تھے ۔۔علیشہ ۔۔انس انیس جڑواں بھای اور علیشبہ ۔۔۔ یہ چار سوتیلے تھے۔۔۔
انس انیس پیداٸش سے ہی نہیں چہرے سے بھی جڑواں تھے۔۔۔ابھی صرف چھ سال کے ہی تھی۔۔۔
گھر والوں نے بڑے دو بھای عامر اور ذیشان کی شادی کا فیصلہ کیا۔۔۔
ذیشان نے اپنی پھپو کی بیٹی ناٸلہ کو پسند کیا اور گھر والوں کی خلاف ورزی کے باوجود ناٸلہ سے منگنی کر لی۔۔۔عامر کے لیے مومنہ کا رشتہ مانگا گیا جو کہ عرفان صاحب کے دوست کی بھتیجی تھ۔۔
دونوں بھاٸیو کی شادی ایک ساتھ کرواٸ گٸ۔۔ اس طرح گھر میں دو بہوٸیں ناٸلہ اور مومنہ بھی آگٸیں۔۔۔۔
❤❤❤❤۔
دیکھ مومنہ یہ ناٸلہ سے دور ہی رہنا یہ جادو تونے کرتی ہے ایسا نہ ہو کہ تجھ پر بھی کچھ کروا دے۔۔۔
سملہ سے مومنہ اور ناٸلہ کا ایک ساتھ رہنا ہضم نہیں ہوتا تھ۔۔ اسے ناٸلہ سے تو دشمنی تھی ہی مگر وہ چاہتی تھی کہ گھر میں صرف سلمہ کی مرضی چلے اور ناٸلہ ایک ہوشیار عورت تھی وہ عمر میں اپنے شوہر سے بھی چار سال بڑی تھی تو ہوشیار کیسے نہ ہوتی۔۔۔
مگر امی وہ جادو کیوں کرتی ہیں؟؟
مومنہ نے ازلی معصومیت سے پوچھا۔۔بھلا اس معصوم کو کیا معلوم کہ اس کی ساس کیا کھیل کھیل رہی ہے۔۔۔
بس وہ چاہتی ہے کہ تو اس گھر میں نہ رہے وہ تیری دشمن ہے دشمن۔۔۔
سلمہ نے بڑی مہارت سے مومنہ کا بین واش کیا۔۔۔
۔۔۔۔۔ عامر کیا ناٸلہ آپی جادو کرتی ہیں؟؟ مومنہ نے تجسس سے مجبور ہو کر عامر سے پوچھ ڈالا
تم سے کس نے کہا۔۔۔ عامر نے چونک کر سوال کیا۔۔۔
امی کہہ رہی تھیں۔۔۔
مومنہ کی معصومیت پر عامر کو جی بھر پیار آیا تھ۔۔۔
امی ہیسے کرتی ہیں ان کی باتوں پر دھیان مت دو ان کو عادت ہے۔۔۔
عامر نے اس کے ماتھے پر پیار دیتے ہوے کہا تو مومنہ جھینپ گٸ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناٸلہ آپی مجھے کچھ کام ہے یہاں آٸیں گی۔۔۔
مومنہ نے کچن میں کھڑی ناٸلہ سے کہا جو اریبہ کے ساتھ گپین ہانکنے میں مگن تھی۔۔۔
خیر تو ہے آج سب کو کام پڑ گے مجھ سے۔۔۔ ناٸلہ ہنستی ہوی اس کے پیچھے آ گٸ۔۔
ناٸلہ آپی یہ میں نے چیک کیا تھا تو کیا ہوا ہے۔۔۔؟
مومنہ نے پریگنینسی سٹیک آگے کر کے دکھایا۔ جس پر دو لاٸن بنی نظر آ رہی تھیں۔۔۔
یہ تو پازیٹوو بتا رہے ہیں مگر کبھی غلط بھی ہوت ہے ہاسپٹل جا کر چیک کروانا کل پھر پتا چلے گا۔۔۔
ناٸلہ نے سٹیک دیکھتے ہوے کہا۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔۔ مومنہ نے سٹیک کو احتیاط س ایک ٹشو پیپر میں رکھ دیا۔۔
ارے پگلی اسے پھینک دو کیوں رکھا ہے۔۔
ناٸلہ نے ٹشو پیپر میں رکھی سٹیک کو دیکھ کر کہا
جی پھینک دوں گی۔۔ مومنہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔
سٹیک کو پورا دن پاس رکھا پھر آخر عامر کے کہنے پر اسے پھینک ہی دیا وہ بہت خوش تھے کیوںکہ بچے ان دونوں کو ہی پسند تھے۔۔ شادی کے ایک ماہ میں ہی وہ پریگننٹ تھی ٠اس لیے سب ہی اس کا خیال رکھتے تھے۔۔۔ ناٸلہ کو یہ بات شدید کڑھتی تھی کہ اسے اتنی اہمیت کیوں مل رہی ہے
اتنی جلدی بچہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔ اپنی جان تو دیکھو۔۔۔ کتنی کمزور ہو۔۔تمہاری امی نے نہیں بتایا کہ شادی کے کچھ عرصہ تک احتیاط کرتے ہیں۔۔
نآٸلہ نے طنزََ مومنہ کو کہا ۔۔ مجھے بچے پسند ہیں۔۔
مومنہ نے پر جوش ہو کر کہا۔۔۔ اچھا مگر میں نے تو گیپ رکھا ہوا ہے مجھے بچے نہیں چاہے۔۔۔
آج کل کی ماٸیں بیٹیوں کو سہی طرح سکھاتی نہیں اور شادی کروا دیتی ہیں پتا نہیں کیسی جاہل ہوتی ہیں۔۔۔
ناٸلہ نے مومنہ کی ماں کو طنز کا نشانہ بنایا جس پر مومنہ کا دل ٹوٹا تھآ۔ بھلا اس ماں کا کیا قصور تھا بچے تو اللہ کی مرضی سے پیدا ہوتے ہیں۔۔
مومنہ نے سر جھکا لیا۔۔اسے لگا شاید یہ بھی مزاق کر رہی ہے مگر اس کےدماغ نے اس کے خیال کی نفی کی تھی۔۔۔
❤❤❤۔