Susraal by Momina Rizwan | Emotional Urdu Domestic Abuse Story NovelM80015 Susraal (Episode 10)
Susraal (Episode 10)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Susraal By Momina Rizwan
مومنہ اپنے میکے آٸ تھی۔۔ سوچوں میں گھری وہ صحن میں بیٹھی کسی غیر مرعی نقطے میں کھوی ہوٸ تھی۔۔
مومنہ تم ٹھیک ہو؟
شازیہ بیگم کی آواذ پر وہ چونکی
جی میں ٹھیک ہوں۔۔
مومنہ سیدھی ہو کر بیٹھی تھی
معاویہ سو گیا؟
شازیہ بیگم اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوے بولیں
جی سو گیا ہے۔۔
ہممم مومنہ مجھے بتاو سب کچھ کیا ہو رہا ہے وہاں۔۔
شازیہ بیگم بولی
کہاں کیا ہو رہا ہے؟
مومنہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
تمہارے سسرال میں
شازیہ بیگم اس کے تاثرات کا جاٸزہ لیتے بولی
کچھ نہیں مما کیا ہونا ہے۔۔
مومنہ نے بات ختم کی
مجھے بتو ہر ایک بات بتاو جو آج سے پہلے ہوی ہے۔۔ورنہ میں تمہرے پاپا کو بتا دوں گی۔۔۔
شازیہ بیگم نے اسے دھمکایا
مما پلیز۔۔۔ مومنہ نے التجا کی
پھر بتاو مجھے مومنہ خدا کے لیے میں بہت پریشان ہوں۔۔
شازیہ بیگم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا
مما یہی نصیب ہے میرا آپ کیا کر لیں گی جان کر۔۔
مومنہ نے سامنے لگے پودوں کو دیکھتے کہا
تم نے چھلانگ لگای تھی یا پر گری تھی سچ بتاو
شازیہ بیگم نے اپنے ذہن میں چلنے والا سوال کیا
چھلانگ لگای تھی
وہ بدستور پودوں کو دیکھتے سپاٹ لہجے میں بولی
کیوں؟؟ یک لفظی سوال
تنگ آ گٸ تھی میں ذندگی سے سمجھ نہیں آیا کیا کروں۔۔پھر احساس ہوا کہ میرا بچہ بھی اس کی خاطر جینا پڑے گا مجھے۔۔
لہجہ سپاٹ تھا۔۔
وہ لوگ چاہتے کیا ہیں آخر۔۔۔۔؟
شازیہ بیگم نے بے بسی سے کہا
مومنہ نے رخ موڑ کر اپنی پریشان حال ماں کو دیکھا
مما۔۔ اس نے کہنا شروع کیا۔۔شازیہ بیگم اس کی طرف متوجہ ہوٸیں۔۔
ان لوگوں کو پتا ہے کیا مسلہ ہے۔۔ ؟؟ وہ چاہتے ہیں میں ان کی غلام بن کر رہوں۔۔ مگر میں ایسی نہیں ہوں جتنا زیادہ سہی مگر اتنا ظلم بھی نہیں سہا جاتا ۔۔میری ساس مجھے گھر سے نکالنا چاہتی ہے۔۔وہ نہیں چاہتی کہ میں اس گھر پر قبضہ کر لوں۔۔وہ گاوں کی جاہل عورت اس سارے گھر پر خود قبضہ جمانا چاہتی ہے۔۔۔
***۔
عرفان صاحب کی پہلی بیوی ان کی کزن تھی۔۔ گلے کے کینسر کی وجہ کے ان کی موت ہو گٸ۔۔ بچوں کی خاطر انہوں نے دوسری شادی کر لی۔۔۔
وہ ایک ہی بیٹے تھے۔۔ان کا بھای نہیں تھا البتہ چار بہنیں تھی۔۔ان کا بچپن ان کی جوانی عورتوں میں ہی گزری ۔۔۔۔ ماں بہنیں بیویاں۔۔۔ ان کے بیٹے بھی ہوشیار نہیں تھے۔۔۔۔ عامر نرم طبیعت کا مالک تھا۔۔۔ وہ زیادہ غصہ نہیں کرتا تھا۔۔۔ مومنہ اور عامر کے درمیان لڑآٸ اور کشیدگی کا اصل زمہ دار عرفان صاحب تھے۔۔۔سلمہ کے کہنے پر وہ عامر کے کان بھرتے اور عامر آنکھیں بند کر کے اپنے باپ پر بھروسہ کر لیتا۔۔۔ دوسری وجہ عظمی ممانی تھی جس کو یہ غصہ تھا کہ عامر کی شادی اس کی بہن سے کیوں نہ ہوی۔۔۔ عظمی اپنی بہن کی شادی عامر سے کروانا چاہتی تھی۔۔ عامر خوبصورت تھا۔۔بس کی نوکری سرکاری تھی۔۔ اور باپ بھی اچھا کماتا تھا۔۔۔ عرفان صاحب کے پاس جو دولت تھی وہ سلمہ کے رشتہ داروں پر لٹاتے رہے کبھی عظمی کی فرماٸشوں پر خرچ کرتے۔۔یہاں تک کہ انہوں نے سلمہ کے میکے والوں کو گھر بھی خرید کر دیے۔۔چونکہ وہ سرکاری ملاذم تھے اس لیے عامر کی نوکری بھی اچھی جگہ لگ گٸ تھی۔۔۔عامر میٹرک فیل سہی مگر عرفان نے کوشش کر کے اس کی نوکری پکی کر دی تھی۔۔۔دیکھنے میں وہ لوگ کھاتے پیتے اور امیر لگتے تھے مگر وہ سب صرف عرفان صاحب کی حد تک تھا۔۔۔ علیحدہ ہونے کے بعد عامر پر قرضوں کا بوجھ اس لیے بڑھ گیا کیوں کہ عرفان صاحب عامر سے ایڈوانس تنخواہ منگوا چکے تھے۔۔سرکاری ملاذموں کو ایچ پی اے۔۔۔ ملتا ہے جو کہ ایک قرض ہوتا ہے۔۔تنخواہ میں سے پیسے کاٹ کر اس قرض کی اداٸیگی ہوتی رہتی ہے۔۔۔
عرفان صاحب نے عامر سے چار لاکھ ایچ پی اے نکلوایا تھا۔۔۔رشتہ داروں پر لٹا لٹا کر جب ان کے ہاتھ خالی ہو گے تو انہوں نے گھر کی تین گاڑیاں بیچ ڈالی۔۔ یوں کچھ عرصہ عیش کرنے کے بعد وہ پھر سے خالی ہو گۓ۔۔ گھر میں موجود ذیور بیچ کر کچھ عرصہ نکالا۔۔یوں قرضے بھی لیے گے جن میں عامر نے عرفان صاحب کی خاصی مدد کی تھی۔۔عامر کے پاس جو پیسے آتے وہ بھی عرفان صاحب کے ہاتھ پر رکھتا۔۔رات جو پیسے مومنہ نے اسے دیے تھے وہ بھی عران صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیۓ۔۔۔ عامر بے وقوفوں کی طرح اپنے باپ پر سب کچھ لٹا رہا تھا۔۔مومنہ جتنا معصوم دکھتی تھی اتنی تھی نہیں۔۔اسے سب خبر تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔۔عرفان اور عظمی کے تعلقات کی خبر بھی اسے تھی۔۔۔۔ وہ خاموش تھی اس کی خاموشی کی بڑی وجہ صرف یہ تھی ۔۔۔وہ ڈرتی تھی لوگوں کی باتوں سے اسے خوف تھا کہ لوگ باتیں کریں گے میرے باپ پر طعنے کسیں گے۔۔۔ شہزادصاحب اپنے علاقے کے ڈون تھے وجہ ان کا غصہ تھا۔۔مگر وہ تھے تو ایک باپ ہی۔۔۔بیٹی کے نام سے سنا ایک طعنہ باپ کی کمر توڑ دیتا ہے۔۔اگر بیٹی طلاق کادھبہ لگا کر لوٹ آۓ تو وہ باپ جتنا اثر رسںوخ والا ہو۔۔ اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔۔اور کیا گارنٹی ہے کہ دوبارہ مومنہ کو اچھا سسرال ملے۔۔۔؟؟ کہنا آسان ہے مگر کرنا مشکل۔۔
خود کو ایک مرتبہ مومنہ کی جگہ رکھیں ایک طرف باپ کی عزت ہے دوسری طرف بچے کا مستقبل تیسری طرف شوہر جس سے اپ بے پناہ محبت کرتے ہیں اور چوتھی جگہ لوگوں کی کان پھاڑ دینے والی باتیں ہیں جو مرتے دم تک جان نہیں چھوڑتی۔۔
**۔
سر جھکاے وہ اپنی بات کر کے خاموش ہو گٸ۔۔۔ رخ موڑ کر شازیہ بیگم کو دیکھا تو ان کی انکھیں بھیگی ہوی تھیں۔۔
مومنہ تو کب اتنی سمجھدار ہو گٸ۔۔۔
شازیہ بیگم نے اس کے ماتھے پر لب رکھے
مما میں اپنے پاپا کی عزت تباہ نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ لوگوں کو تو میری غلطی ہی لگے گی۔۔نقص تو عورت میں ہی نکلتا ہے نا۔۔۔ اگر میں ساری عمر ایک بچے سمیت یہاں آکر رہ لوں تو کیا اپ مجھے برداشت کریں گی؟ میری بھایٸوں کی شادیا ہوں گی تو کیا میری بھابھیاں مجھ برداسشت کریں گی۔۔دوسری شادی تو نصیب سے ہو گی مگر تب تک مجھے کون برداشت کرے گا۔۔میرا باپ زندہ رہے گا تب تک کھاتی رہوں گی جب وہ نہ رہے تو کون میرے سر پر ہاتھ رکھے گآ۔۔
اس سے اچھی میں سسرال میں نہیں ہوں؟؟ وہاں میرے پاس شوہر ہے۔۔ایک وقت غصہ کرتے ہیں تو دوسرے وقت معذرت کر لیتے ہیں۔۔۔ وہ اپنے باپ کی خاطر سب کچھ لٹا رہے ہیں مگر کب تک؟؟ آخر ایک نا ایک دن انہیں بھی احساس ہو گا نا جو باپ ان سے پیسے کے سوا کوی بات نہیں کرتا ۔۔۔ وہ باپ ان کے ساتھ مخلص ہے؟ بے شک باپ ہے وہ مگر ماں تو سوتیلی ہے ۔۔ابو میرے ساس کے کہنے پر یہ سب کر رہے ہیں مگر کب تک۔۔۔آخر میرا اللہ کبھی تو ان کی رسی کھینچے گآ۔۔۔
مومنہ کی آنکھوں سے انسسو بہتے جا رہے تھے اور وہ بولتی جا رہی تھی۔۔۔ شازیہ بیگم سر جھکاے خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔مومنہ سچ کہہ رہی تھی۔۔طلاق یافتہ بیٹی ماں باپ پر بھی بوجھ بن جاتی ہے۔۔۔
میں اپنے شوہر کو سنواروں گی۔۔ہر بات برداشت کروں گی مگر میں ان سے محبت کرتی ہوں ۔۔حلال محبت میں اتنی طاقت تو ہوتی ہے کہ مقابل کو بدلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔۔شادی کو ابھی ڈیڑھ سال ہی تو ہوا ہے۔۔۔ کونسا دس سال ہو گے ہیں جو میں دکھوں کا ڈھنڈورا پیٹتی پھروں۔۔ ایک دن سب ٹھیک ہو جا ۓگا۔۔۔ انشا۶اللہ سب ٹھیک ہو گا مجھ اللہ پر بھروسہ ہے پورا۔۔۔
مومنہ کہہ کر رکی نہیں۔۔ شازیہ بیگم کو آج ان کی اولاد نے لاجواب کر دیا تھا۔۔۔ مومنہ درست تھی وہ سچ کہہ رہی تھی۔۔اس کا ہر لفظ حقیقت تھا۔۔۔شازیہ بیگم آنسوو پونچھتی اٹھ کھڑی ہوی۔۔آج انہیں وہ سب کچھ معلوم ہو گیا تھا جو شاید مومنہ نے کبھی کسی سے نہیں کہا تھا۔۔۔
****۔
مومنہ آٶ میں نے چاۓ بناٸ ہے کچن میں ہی آجاٶ۔۔
شازیہ بیگم کی آواذ پر وہ معاویہ کو اٹھا کر کچن میں چلی گٸ۔۔
او میرا شونا میرا بچہ اٹھ گیا صدقے آ جا میرے پآس۔۔
معاویہ کو دیکھ کر شازیہ بیگم نے اسے گود میں لے لیا۔۔معاویہ بھی اپنی نانی سے کافی مانوس تھا ۔۔ان کی گود میں کلکاریاں مارنے لگا۔۔
مومنہ پس ہی گدی پر بیٹھ گٸ۔۔ مومنہ اس کا بہت خیال رکھنا اللہ نے تمہیں بچہ دے دیا ہے کٸ لوگ تو ترستے ہیں اولاد کو۔۔ شازیہ بیگم نے اس ننھے شہزادے کو سینے سے لگاے کہا
جی میں خیال رکھتی ہوں اس کا۔۔۔میرا دھیان بٹ گیا ہے اس کے آنے سے۔۔۔۔ میں اب زیادہ سوچنے ک بجاے اسی کے ساتھ مصروف رہتی ہوں۔۔
مومنہ نے مسکرا کر پیار سے معاویہ کو دیکھ کر کہا۔۔
ایک بات کہوں؟؟ شازیہ بیگم نے اجازت مانگی تھی ۔۔
بولیں نا ۔۔۔ مومنہ نے چاے کی چسکی لیتے کہا
تمہارے پاپا کو حالات کا بتا دوں۔۔تم جانتی ہو کہ وہ کفی سخت ہیں لوگ ان سے ڈرتے ہیں ایک بار ان کی پھینٹی لگ جاۓ تو وہ شاید تمہیں تنگ کرنا چھوڑ دیں۔۔
شازیہ بیگم کے مشورے پر مومنہ نے گہری سانس لی۔۔
مما میں اپنے باپ کو پریشان نہیں دیکھ سکتی۔۔اور جو لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے وہ میرے پاپا سے کیا ڈریں گے۔۔بے حس لوگ کبھی کسی کے ہمدرد نہں ہوتے۔۔۔۔اور اگر پاپا نے انہیں کچھ کہہ دیا تو وہ لوگ ضد میں آکر مجھے زیادہ تنگ کریں گے۔۔۔
مومنہ چاے کے کپ سے اڑتی بھاپ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
مگر پھر بھی مومنہ ہم انہیں بولیں گے کہ علیحدہ مکان بنا کر دو ۔۔۔
شازیہ بیگم بھی اپنی بات پر اڑی تھیں۔۔
ہنننہ علیحدہ مکان۔۔۔؟ ان سے کچن بنانے کا بھی کہا تھا انہوں نے بنا دیا؟؟ کتنا عرصہ ہو گیا ہے مجھے اس سٹور میں۔۔۔
مومنہ استہزایہ ہنسی
مومنہ میں بہت پریشان ہوتی ہوں۔۔ کبھی دل کرتا ہے تمہیں وہاں سے نکال لاوں۔۔
شازیہ بیگم بے بسی سے بولیں
مما شاید یہ میرے لیے ازماٸش ہو۔۔۔اللہ نے مجھے اتنے پیار کرنے والے رشتے دیے۔۔ہر چیز دی۔۔ اب کچھ لوگوں کی نفرتیں ملی ہیں تو مجھے اللہ سے گلہ نہیں کرن چاہہے۔۔۔میں خوش ہوں جو بھی ہے۔میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔۔ کٸ لوگ تو اس سب کے لیے بھی ترستے ہیں۔۔۔
مومنہ نے درواذے سے پار دیکھتے کہا
اور عامر۔۔۔ وہ بھی ایسا ہی ہے۔۔
شازیہ بیگم اب بھی متجسس تھیں۔۔
مما عامر برے نہیں ہیں۔۔ کبھی کبھار وہ غصہ کر جاتے ہیں تو اس میں کیا ہے۔۔۔ میرا خیال بھی تو رکھتے ہیں۔۔اور عرفان انکل انہیں بڑکاتے رہتے ہیں اس لیے وہ غصہ کر جاتے ہیں۔۔مرد ہیں وہ بھی انسان ہیں۔۔باپ اور بیوی کے درمیان پھنسے ہوے ہیں۔۔باپ کو کچھ کہہ نہیں سکتے مجھے بھی نہیں چھوڑ سکتے ۔وہ کیا کریں پھر۔۔۔۔
مومنہ سپٹ چہرہ لیے معاویہ کو دیکھ رہی تھی جو پورے کچن میں کرالنگ کرتا پھر رہا تھا۔۔
ہمم پھر آگے کیا سوچا ہے۔؟
شازیہ بیگم نے ہار مانی تھی۔۔ اگنور کروں گی سب کو۔۔ اور انشا۶اللہ اب شرعی پردہ کروں گی۔۔ اپنے رب کو راضی کروں گی کسی کی پرواہ نہیں کرتی بس اپنے شوہر کی خدمت کروں گی ۔۔۔
مومنہ ایک عزم سے بولی تھی۔۔۔
شرعی پردہ۔۔؟ شازیہ بیگم حیران ہوی تھیں۔۔ ہمم اس دن لوگوں کی نظریں یاد کر کے خوف آتا ہے۔۔
مومنہ فقط سوچ پای تھی وہ یہ بات انہیں بتا کر مزید پریشان نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
**۔
یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے۔۔ یہ ہر گھر کی کہانی ہے۔۔شادی شدہ خواتین اس کہانی کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہیں۔ عورت کو اپنا گھر بسانے کے لیے اس سب مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔۔ یہ ذہن کی تخلیق نہیں ہے جس میں ہیرو ہمیشہ کیٸرنگ اور لوونگ ہو گا اور ہیٸروین ہمیشہ معصوم ہو گی۔۔۔ اور ظلم ہمیشہ ولن ہی کرے گا۔۔ یہ حقیقت ہے اور حقیقت میں غلطی ہیروین اور ہیرو کی بھی ہو سکتی ہے۔۔
اگر عورت یوں ہی طلاق لیتی رہے یا سٹینڈ لیتی رہے تو ہر گھر میں طلاق یافتہ عورتیں بیٹھی ہوں۔۔ گھر بسانا اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔ خاموش رہنا پڑتا ہے برداشت کرنا پڑت ہے۔۔۔سسرال اس قبر کانام ہے جہاں حساب ہونا لازم ہے۔۔۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔۔ایک عورت کو شوہر کے رنگ میں رنگتے ہوے سالوں لگ جاتے ہیں اور مرد کو عورت کی نفسیات سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔۔
***۔
یار سچ میں یاد نہیں رہا کل پکا لے آٶں گا تمہاری آٸس کریم۔۔
عامر مومنہ کا ہاتھ تھامے اسے منا رہا تھا۔۔ کل ہی اسے تنخواہ ملی تھی اور مومنہ نے اس سے آٸس کریم کی فرماٸش کی تھی۔۔
مومنہ منہ بناے بیٹھی رہی ۔۔عامر تاسف سے سر ہلاتا کپڑے چینج کرنے لگا۔۔
پھر معاویہ کے ساتھ کھیلنے لگا۔۔ مومنہ نے ٹیڑھی نظر سے اسے دیکھا۔۔
مومنہ کچھ کھانے کو ہے؟ عامر نے معاویہ کو گود میں لیتے پوچھا ۔۔مومنہ رخ پھیرے بیٹھی رہی
اب بھی خفا ہی ہو۔مان جاو نا کل لے آٶں گا۔۔۔
عامر نے حیرانگی سے پوچھا۔۔
آپ نے منایا کب ہے مجھے۔۔ مومنہ نے چہرہ اس کی طرف موڑا
ابھی تو کہا نا کل لے آٶں گا ۔۔
عامر اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا
مومنہ نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جس پر بے بسی عیاں تھی۔۔
آپ کو منانا کیوں نہیں آتا آپ کو نہیں پتا کہ ایک لڑکی کو کیسے ٹریٹ کرتے ہیں؟
مومنہ نے مسکرا کر اسے دیکھا
میری زندگی میں پہلی عورت تم ہی ہو اب تم ہی بتاو کہ کیسے ٹریٹ کرتے ہیں
عامر نے مسکرا کر کہا
مجھے پتا ہے آپ جھوٹ بولتے ہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوی مرد کسی عورت سے تعلق نہ بناۓ۔۔۔ شادی سے پہلے تو سب کی گرل فرینڈ ہوتی ہے۔۔۔
مومنہ نے کندھے اچکاے
کیا تم بھی کسی کی گرل فرینڈ تھی۔۔۔؟؟ عامر کے غیر متوقع جواب پر مومنہ بھوچکی رہ گٸ۔۔
کیا کہہ رہے ہیں اپ ؟؟ میں ایسی لگتی ہوں آپ کو۔۔
حیرت سے منہ کھولے اس نے سوال کیا
کیا میں تمیں ایسا لگتا ہوں جو کسی عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالے۔میری اپنی بہنیں بھی ہیں۔۔
عامر نے مسکرا کر اس کے سوال پر سوال کیا
بے ساختہ مومنہ کے دماغ میں وہ آیت گونجی تھی۔۔ ۔
”پاک عورتوں کے لیے پاک مرد اور بری عورتوں کے لیے برے مرد۔۔“
مومنہ نے مسکرا کر عامر کو دیکھا۔۔۔ وہ اب معاویہ کو لیے کمرے کے نکل گیا تھا۔۔
واقعی عامر نے کب کسی عورت سے تعلق بنایا تھا کہ ان کو پتا ہوتا کہ عورت کی نفسیات کیا ہیں۔۔
میرا شوہر پاک ہے وہ صرف میرا ہے اور میں ان کو خود سے جدا نہیں کروں گی۔۔
مومنہ نے مسکرا کر سوچا۔۔۔