📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14731"]
50483 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Susraal  (Episode 11)

Susraal By Momina Rizwan

عامر فجر کی نماذ پڑھ کر لیٹا ہی تھا کہ مومنہ کی سر گوشی پر اٹھ بیٹھا
۔Happy birthday jaan.
مومنہ ہاتھ میں ایک کشن لیے کھڑی تھی۔۔
تھینکس ۔۔ عامر نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا
یہ آپ کا گفٹ ۔۔ کشن آگے کر کے اس نے عامر کو دیا۔۔
عامر نے کشن لے کر اسے دیکھا۔۔۔ کشن پر ایک طرف عامر کی تصویر تھی دوسری طرف جنم دن مبارک ۔۔لکھا ہوا تھا۔۔۔
اس کے ساٸیڈ پر زپ لگی تھی اسے کھولا تو اندر تصویریوں کی پوری البم بنی ہوٸ تھی۔۔ ہر صفحے پر عامر کی تصویر لگی ہوٸ تھی۔۔
تھینک یو مومنہ ۔۔یہ بہت اچھا ہے ۔۔۔ عامر نے خوش ہوتے ہوے مومنہ کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔
مومنہ اس کی تعریف پر پھولے نہیں سما رہی تھی۔۔۔اس نے یہ تخفہ بہت مان سے خریدا تھا۔۔
یہ یہ تم نے آرڈر کیا ہے نا۔۔۔ عامر نے کشن کو دیکھتے ہوے پوچھا
جی آرڈر پر بنوایا ہے۔۔۔ مومنہ نے اس کے کندھے پر تھوڑی رکھ کر کہا
مگر تمہاڑے پاس اتنے پیسے کیسے آۓ۔۔۔ عامر نے اچانک سوال کیا۔۔۔ عامر مومنہ کو پیسے نہیں دیتا تھا۔۔ مومنہ کے پاس ایک روپیہ بھی نہیں ہوتا تھا اور آجکل ویسے بھی مومنہ سے اس کی جمع پونجی عامر نے لے لی تھی تو یہ پیسے۔۔۔
آپ وہ سب چھوڑیں جیسے بھی آۓ۔۔۔ مومنہ نے بات آٸ گٸ کر دی۔۔۔
ویسے ہے بہت پیارا۔۔ عامر نے ستاٸشی نظروں سے کشن کو دیکھا۔۔۔
مومنہ عامر کو خوش دیکھ کر جھوم اٹھی تھی۔۔۔۔ اس نے کچھ پیسے ادھار لے کر اور کچھ اپنے جمع کیے ہوے پیسوں سے یہ گفٹ آرڈر کیا تھا۔۔تین مہینے سے وہ عامر کے جنم دن کے لیے بے تاب تھٸ۔۔۔ اس نے کیک وغیرہ نہیں منگوایا اور نہ ہی کوی سیلیبریشن کی کیوںکہ وہ جانتی تھی اسلام میں جنم دن منانا جاٸز نہیں یہ ہندووں کی رسم ہے۔۔۔
اب اسے اپنے جنم دن کا انتظار تھا۔۔ ایک ہفتے بعد وہ انیس سال کی ہونے والی تھی اور وہ بہت ایکساٸٹڈ تھی کہ عامر اسے کیا گفٹ دے گا۔۔۔۔
وہ تقریباََ روزانہ عامر کو اپنا گفٹ یاد دلاتی تھی اور عامر مسکرا کر سر ہلا دیتا ۔۔۔
***۔ عامر ۔۔۔۔ آپ کچھ بھول رہے ہیں کیا۔۔۔ مومنہ نے پریشانی سے اسے پکارا
نہیں تو کیوں کیا ہوا۔۔۔ عامر چھٹی کی وجہ سے گھر پر ہی تھا۔۔اس وقت موباٸل پر مصروف سے انداذ میی اسے جواب دیا
آج میرا برتھ ڈے ہے دوپہر ہو گٸ ہے آپ کو یاد نہیں ہے؟؟
مومنہ نے گلہ کیا ۔۔عامر نے چونک کر سر اٹھایا
Happy birth day jan …
مجھے یاد نہیں رہا سوری ۔۔۔ عامر نے معزرت کرتے کہا
اچھا میرا گفٹ۔۔۔ مومنہ نے ہاتھ آگے کر کے کہا
کیا چاہیے تمہیں میں لے دوں گا۔۔۔۔ عامر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا
مجھے چاہٸیے نہیں آپ نے خود کوی تحفہ دینا تھا۔اپنی مرضی سے۔۔
مومنہ کا چہرہ بجھ گیا تھا۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتی گفٹ وغیرہ کی تمہیں میں اگلے ہفتے بازار لے جاٶں گا لے لینا۔۔۔ ٹھیک ۔۔
عامر نے مسکرا کر اس بچوں کی طرح ٹالا اور وہ خاموش ہو گٸ۔۔۔
اگلے ہفتے وہ مومنہ کے اصرار پر بازار لے گیا۔۔۔
میرے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں تم کچھ چھوٹا موٹا سامان لے لو۔۔یہ دو ہزار ہیں رکھ لو۔۔ اس میں سے سبزی دودھ اور پیمپر لے آنا کچھ پیسے آٹا خریدنے کے لیے رکھ لینا باقی سے شاپنگ کر لینا۔۔۔
عامر نے دو ہزار روپے اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوے کہا۔۔۔
مومنہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا جو اب باٸیک میں پیٹرول چیک کر رہا تھا۔۔ پیٹرول بھی کم ہی ہے۔۔۔ عامر کی آواذ اس کے کانوں سے ٹکراٸ تھی۔۔
مجھے کچھ نہیں چاہٸیے آپ چلیں گھر ۔۔مومنہ نے پیسے اس کی جانب بڑھاے۔۔۔
اب نخرے مت کرو بعد میں گلہ کرو گی کہ کچھ لے کر نہیں دیا۔۔۔
عامر نے ناک سے مکھی اڑاٸ تھی۔۔ ن نہیں میں گلہ نہیں کرتی چلیں۔۔۔
مومنہ نے بمشکل مسکرا کر پیسے اس کی طرف بڑھاے۔۔
عامر نے کندھے اچکا کر پیسے لے لیے۔۔۔
مومنہ معاویہ کو سنبھالتی اس کے پیچھے باٸیک پر بیٹھ گٸ۔۔ راستے میں پیٹرول ڈلوا کر جب وہ لوگ آگے کو چلے تو مومنہ نے اسے پکارا۔۔۔
عامر باٸیک تو ابو نے بھای کو دیا ہوا ہے تو اپ کیوں اس میں پیٹرول ڈلواتے ہیں خراب ہو جاے تو ٹھیک بھی اپ ہی کرواتے ہیں۔۔
مومنہ یار میں نے اگر ٹھیک کروا دیا یا پیٹرول ڈلوا دیا تو کونسی بڑی بات ہے۔۔۔ میں اگر ابو کو بولوں تو وہ ابھی ہی مجھے نیا باٸک لے دیں۔۔
عامر فخریہ کہا تو مومنہ خاموش ہوگٸ۔۔ ڈیڑھ سال ہو گیا تھا شادی کو اور عامر ہمیشہ یوں ہی کہتاکہ ابو کو بولوں تو فوراََ فلان چیز لے دیں مگر ضرورت پڑنے پر ابو سے دس روپے بھی مانگ لو تو وہ آٸیں باٸیں شاٸیں کرن لگ جاتے۔۔۔مومنہ نے افسوس سے سر جھٹکا وہ اسے کیسے سمجھاتی کہ یہ لوگ اسے استعمال کر رہے ہیں باپ اپنی دوسری بیوی کے کہنے پر اپنے بچوں کو خود سے دور کر رہا ہے آج عامر ہے ۔۔اسے سلمہ ساٸیڈ پر ہٹا کر ذیشان کے پیچھے پڑھ جاے گی پھر دوسرے بچوں کے پیچھے۔۔لڑکیوں کی شادی تو وہ دور دراذ کی جگہوں پر کروانا چاہتی ہیں تا کہ مہینوں ان کی شکلیں بھی نہ دیکھنی پڑھیں۔۔اور بیٹوں کو برا بنا کر انہیں باپ سے دور کر دے گی پھر اپنی سگی اولاد کے ساتھ علیحدہ فیملی بناے گی اور عیش کرے گی۔۔۔
مگر ہوتا وہی ہے جو میرا اللہ چاہتا ہے۔۔۔ ایک نہ ایک دن اللہ ظالم کو پکڑتا ہے اور مظلوم کو سرخرو کرتا ہے۔۔۔۔
اللہ کی دی ہوٸ ڈھیل کو ہم اپنی چالاکی نہ سمجھیں
اللہ جب رسی کھینچتا ہے تو انسان منہ کے بل گرتا ہے۔۔
❤❤❤۔
رمضان کا مہینہ بھی شروع ہو چکا تھا۔۔معاویہ بھی ایک سال کا ہو گیا تھا۔۔ پورے رمضان میں عامر کا رویہ کافی عجیب تھا۔اچانک موڈ بدل جاتا اور فضول غصہ کرتا حتی کہ مومنہ کو مارنا بھی شروع کر دیا تھا۔۔ عامر کی مار کی وجہ سے اس کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی روزہ رکھنا کافی مشکل تھا لیکن وہ پھر بھی روزہ رکھ رہی تھی۔۔اس کی سمجھ سے باہر تھا عامر کو کیا ہوا ہے۔۔ شاید روزہ رکھنے سے تھک جارے ہیں چڑچڑے ہو گے ہوں گۓ۔۔وہ خود کو تسلی دے کر سر جھٹک دیتی مگر اس کی برداشت اس دن ختم ہوٸ۔۔جب عامر نے کسی بات پر اسے ماں کی گالی سے نوازا۔۔۔
عامر ہوش میں رہ کر بات کریں میری ماں کو گالی مت دیں۔۔۔
مومنہ نے سرخ آنکھوں سے اسے وارننگ دی تھی۔۔
کیا کرو گی تم ہاں۔۔ عامر نے غصے سے کہا
میں سب کو بتا دوں گی آپ کیسے ہو۔۔۔
مومنہ بھی غصے سے بھر گٸ۔۔ تو بتاے گی سب ہیں۔۔۔ عامر نے غصے سے اس کے باگ پکڑ کر اسے گھسیٹآ۔۔ایک سالہ معاویہ خوفزدہ سا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔۔عامر نے میز سے چھری اٹہھای اور مومنہ کو مار مار کر جسم پر نشان بنا دیے۔۔مومنہ کی چیخیں آسمان پر تھں۔۔مگر بے حس لوگوں نے جھانکنا بھی مناسب نہ سمجھا۔۔
تھک کر عامر بیٹھ گیا۔۔
میں اللہ سے شکایت لگاوں گی عامر۔۔میں اپنے اللہ کو بتآٶں گی۔ میرا اللہ پوچھے گا سب کو۔۔ وہ زور زور سے چیخ رہی تھی۔۔روزہ رکھ کر چیخنے سے اس کا گلہ خشک ہو گیا تھآ۔۔
عامر نے اس کی حالت دیکھی تو بوکھلا گیا۔
مومنہ چپ ہو جاو سوری پلیز مجھے غصہ آگیا تھا۔۔
اسے چپ کروانے کی کوشش کرنے لگا اور تھوڑی دیر سینے سے لگا کر خاموش کروایا
سوری مومنہ مجھے معاف کر دو پتا نہیں کیا ہو جاتا ہے سوری آٸیندہ نہیں کروں گا پلیز۔۔۔
عامر کی منتیں کرنے پر مومنہ چپ ہو گٸ۔۔وہ معافی مانگ رہا تھا مومنہ کو اس کا گڑگڑانا اچھا نہیں لگا اس لیے اسے معاف کر دیا۔۔
مگر یہ اختتام نہیں تھا۔۔
***۔
ماں باپ کی لڑاٸ بچوں پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔۔اور یہی وجہ ہے معاویہ بھی بہت چڑچڑا اور ضدی ہو گیا تھا۔۔ عامر سے دور رہنے لگا تھ۔۔مومنہ کو مارتے ہوے معاویہ نے اسے دیکھا تھا اس لیے وہ عامر سے بری طرح خوفزدہ تھا وہ اس کے پاس جاتے یوں روتا جیسے نجانے کیا چیز ہو۔۔عام طور پر وہ اجنبیوں سے بھی دوستی لگا لیتا مگر عامر سے وہ بہت دور ہو گیا تھا۔۔۔
آخر عید بھی آ گٸ تھی۔۔مومنہ نے اس عید پر شوپنگ نہیں کی تھی معاویہ کے لیے شوپنگ کر کے وہ آ گٸ تھی۔۔۔ عانر کہنے کے باوجود اس نے کچھ نہیں خریدا تھا اس کا من ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔۔۔
***۔
دوپہر کا وقت تھا فجر کی نماذ سے فارغ ہو کر اس نے دم ہوا مرہم اپنے ان زخموں پر لگایا جو عامر کے مارنے سے بنے ہوے تھے۔۔۔ معاویہ سویا ہوا تھا۔۔ مرہم لگا کر اس نے قرآن پاک اٹھایا اور صحن میں بیٹھ کر پڑھنے لگی۔۔۔
ایک جگہ رک کر اس نے آیت کو پڑھا جس کا مفہوم یہ تھآ۔۔
”اے ایمان والی عورتو اپنے چہروں کو ڈھکو۔“
اس آیت کو بار بار دوہراتی رہی پھر قرآن پاک بند کر کے ایک طرف رکھا اور الماری سے بہشتی زیور نکال کر پردے کے مساٸل پڑھنے لگی۔۔۔
”🚨توجہ فرماٸیں🚨
پردہ ہر عورت پر فرض ہے۔۔ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ کی کوٸ گنجاٸش ھی نہیں ہے ہر عورت نے غیر محرم سے پردہ کرنا ہے۔۔۔ غیر محرم کون ہیں؟
محرم رشتے👇🏻👇🏻
آپ کے والد،بھاٸ،سگے ماموں،سگے چاچو،دادا،سسر،شوہر،رضاٸ بھاٸ یعنی دودھ کا ساتھی، سوتیلا بھاٸ..بیٹا،ماں کے سگے ماموں اور چاچو، نانا، باپ کے سگے چاچو یا ماموں۔تایا ، سگا بھانجا اور بھتیجا اور انتہاٸ بوڑھا شخص جس کے اندر نفسانی خواہش ختم ہو چکی ہو۔۔۔،
اوپر دیے گے تمام رشتے محرم ہیں۔۔ان سے پردہ درست نہیں ۔۔ ان کے سامنے آپ چہرہ کھول سکتی ہیں۔۔۔
🚨مگر ان کے علاوہ کوٸ کزن کوٸ رشتہ دار حتیٰ کہ منگیتر بھی محرم نہیں ہے۔۔ اس کے علاوہ کسی بھی مرد چاہے وہ چچا زاد ہو یا مامہں زاد خالو زاد پھوپھا زاد کے سامنے بغیر پردہ نہںں جانا چاہٸیے
خالہ کے شوہر۔پھپو کے شوہر۔ دیور جیٹھ شوہر کا بھانجا بھتیجا محرم ہر گز نہہیں ہیں۔۔
🚨یاد رکھیں ایک بے نمازی عورت صرف خود جہنم میں جاۓ گی مگر ایک بے پردہ عورت چار لوگوں کو اپنے ساتھ جہنم میں لے کر جاۓ گی۔۔۔۔۔👇🏻👇🏻
”بھاٸ باپ شوہر اور بیٹا“
🚨دنیا کی عظیم عورتوں یعنی صحابیات نے عظیم مردوں یعنی صحابہ کربمؓ سے پردہ کیا تو کیا ہم ان سے زیادہ پاکیزہ ہیں؟؟؟
جب حضرت محمدﷺ نے ایک نابینا صحابی سے بھی پردہ کا حکم دیا تو کیا ہم آنکھوں والے زیادہ نیک ہیں؟؟
جب اللہ نے کہہ دیا کے ”اے ایمان والی عورتو پردہ کرو“ تو پھر کیا بہانہ بچ جاتا ہے۔۔۔
بس جب کوٸ تمہارا پردہ کرنے میں رکاوٹ بنے تو اسے بس اتنا کہو کہ پردہ کرنا میرےاللہ کا حکم ہے۔۔“
جیسے نماز فرض ہے ویسے پردہ بھی فرض ہے۔۔۔“
🚨لوگ باتیں بناٸیں گے لوگ گلہ شکوہ کریں گے کہ ہم سے کیا پردہ ہن تو اپنے ہیں۔ تم مت ڈگمگانا۔۔۔ چندہ جب تم مر جاٶ گی ۔۔قبر میں چلی جاٶگی تو یہی اپنے تمہارے لیے ایک بار بھی دعاۓ مغفرت نہیں کریں گے۔۔
دفنانے کے بعد تو سگے رشتے بھول جاتے ہیں تو یہ رشتے دار کیا یاد رکھیں گے۔۔۔۔
🚨جب عورت مر جاتی ہے تو اسکاجنازہ غیر محرم نہیں دیکھ سکتے یہاں تک کہ شوہر بھی صرف دیکھ سکتا ہےچھو نہیں سکتا۔۔موت آتے ہی سارے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔۔تو زندہ عورت کو بے پردہ گھومنے کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔؟؟؟
جاہل لوگوں کے جاہلانہ طعنے۔۔۔
فلانے کے سامنے کیوں نہیں گٸ وہ تو اپنا ہی تھآ۔۔🙄بندہ پوچھے اللہ کے حکم سے بھی بڑھ کر کچھ ہو سکتا ہے کیا؟؟؟😖😤۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور پردہ کرنے والی عورتوں کی مدد فرماۓ۔۔۔۔ آمین آمین آمین آمین آمین آمین❤️❤️❤️❤️❤️❤️🤲🏻🤲🏻🤲🏻🤲🏻🤲🏻
مونہ رضوان💞💞
مومنہ کی آنکھوں سے آنسوو جاری ہو گے تھے۔۔ اسے یہ سب پہلے سے معلوم تھا مگر آج اسے لگ رہا تھا وہ پہلی بار یہ سب پڑھ رہی ہے۔۔ صحن میں بیٹھی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔
میں اللہ کو راضی کروں گی میں کروں گی پردہ ۔۔۔
ایک عزم ک ساتھ کہتی آنسو پونچھ گٸ تھی۔۔۔