Susraal by Momina Rizwan | Emotional Urdu Domestic Abuse Story NovelM80015 Susraal (Episode 05)
Susraal (Episode 05)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Susraal By Momina Rizwan
مومنہ کے پیٹ میں خاصا درد تھا۔۔ وہ صبح سے بھوکی کمرے میں پڑی تھی۔۔ نہ ہی کسی نے آکر پتا خبر کی اور نہ ہی کھانے کا پوچھا۔۔۔ بھوک سے الگ چکر آرہے تھے اور درد الگ تھا۔۔۔ وہ بستر سے کوشش کر کے کھڑی ہوٸ تو سر بری طرح چکرانے لگا۔۔ وہ سر کو تھام کر دوبارہ سے بیٹھ گٸ۔۔ گھڑی پر وقت دیکھا تو دوپہر کے بارہ بج رہے تھے۔۔
ابھی کھانا پکا ہو گا شاید کھا رہے ہوں تھوڑا میں بھی کھا لوں تب کہ طبیعت ٹھیک ہو۔۔ مومنہ خود سے بڑبڑاتی اٹھی اور بمشکل سیڑھیاں چڑھتی کچن تک پہنچی۔۔۔
کچن سارا خالی تھا۔۔برتن چیک کیے تو خالی تھے۔۔
امی کھانا نہیں ہے؟؟ مومنہ نے سلمہ سے پوچھا جو بستر میں گھسی سردی کم کرنے کی کوشش میں تھی۔۔
نہیں ہے کھانا۔۔مانگنے والا آیا تھا اسے دے دیا۔۔
سلمہ نے ایک نظر اسے دیکھا
میں کیا کھاوں بھوک لگی ہے پیٹ میں بہت درد ہے۔۔
مومنہ نے درد سے ہونٹ بھینچتے بے بسی سے کہا
کیا درد ہے ۔۔میں نے بھی بچے پیدا کیے ہیں۔۔ سارا کام کرتی تھی۔۔ میرے آپریشن کو دوسرا دن تھا میں نے سارا گھر کا کام کیا تھا اور بکریاں بھی سنبھالی تھیں۔۔
سلمہ نے اپنی تعریفیں شروع کر دی تھیں۔۔
مومنہ چپ چاپ کمرے سے نکل گٸ ۔۔آپریشن کے چوتھے پانچویں دن تو ہاسپٹل سے ڈسچارج کرتے ہیں یہ وہاں ڈاکٹر کی بکریاں سنبھال رہی تھیں کیا؟؟ مومنہ نے زیر لب بڑبڑایآ۔۔ سلمہ کے یہ فضول ہواٸیاں اسے سمجھ نہیں آتی تھں۔۔ وہ کتنی آسانی کے جھوٹ بول جاتی تھی۔۔ حتی کہ وہ جھوٹی قسم بھی اٹھا لیتی تھی۔۔ نماذ تو وہ ایک نہیں پڑھتی تھی اور اگر رمضان میں ایک آد پڑھ بھی لے تو نماذ پڑھتے پڑھتے باتیں بھی شروع کر دیتی۔۔ وہ گاٶں کی ایک جاہل عورت تھی جو ایک خوشحال مرد سے شادی کر کے خود کو ماڈرن سمجھنے لگی تھی۔۔😏
رکو یہ پتیلی میں کچھ دال ہے روٹیاں پکا کر اس پتیلے کو چاٹ لو۔۔
سلمہ کہہ کر سر بستر میں دے گٸ۔ مومنہ تھکے قدموں سے کچن میں گٸ پتیلے میں دال کا پانی پڑا تھا جو ایک گھونٹ جتنا تھا۔۔فریج کو بھی تالا لگا تھا۔۔مومنہ آہستہ آہستہ چلتی ہوٸ کمرے میں آ گٸ۔۔
شام تک وہ یوں ہی پڑی رہٸ۔۔۔ آجکل عامر کے حالات بھی پتلے تھے اس لیے نہ ہی فروٹ تھا نہ ہی کچھ اور کھانے کا سامان۔۔
جمعے کا دن تھا اس لیے عامر جلدی گھر آگیا تھا۔۔ مومنہ کو اس حالت میں دیکھ کر اسے شدید غصہ آیا۔۔اس نے مومنہ سے کافی پوچھا مگر مومنہ ٹالتی گٸ۔۔آخر عامر کے اصرار پر اس نے دن والا واقعہ گوش گزار کر دیا۔۔۔
عامر غصے سے تن فن کرتا سلہ کی طرف پہنچ گیا۔۔مومنہ اسے روکتی رہ گٸ مگر وہ رکا نہیں۔۔
مومنہ بمشکل بھاگتی ہوٸ اس کے پیچھے گٸ۔
امی جی مومنہ صبح سے بھوکی ہے آپ کو پتا ہے نہ وہ بیمار ہے۔۔
عامر نے غصہ کنٹرول میں کرتے ہوے نرم لہجے میں سلمہ سے پوچھا۔۔
سلمہ پہلے سے ہی لڑنے کو تیار تھی فوراََ چلانا شروع ہو گٸ۔۔
میں نے ٹھیکہ لیا ہے تیری بیگم کا۔۔ مجھے اور کام بھی ہوتے ہیں۔۔
سلمہ اس زور سے بولی کہ رابعہ اور اریبہ بھی باہر آ گٸ۔۔۔ دادا سسر بھی پریشانی سے بھاگے آۓ۔۔
امی میں پیار سے پوچھ رہا ہوں۔۔ بیوی ہے میری اس کا خیال کرنا چاہیے اپ بھی کچھ لگتی ہے۔۔
عامر نے لہجہ نرم رکھنے کی پوری کوشش کی۔۔
عامر کس لہجے میں بات کر رہا ہے تو امی سے شرم کر کل کی آٸ بیوی کے لیے ماں کو بے عزت کرے گا۔۔
رابعہ نے ٹانگ اڑانی ضروری سمجھی۔۔۔
تم چپ رہو آپی۔۔۔ عامر نے سختی سے کہا
کیوں چپ رہیں ہاں۔۔تو کون ہوتا ہے یہ کہنے والا اس کمینی کی خاطر ہمیں بے عزت کرے گا۔۔
اریبہ نے مومنہ کی طرف اشارہ کر کے کہا جبکہ سلمہ اب خاموش تماشای بنی ہوی تھی کیوںکہ اس کی سپورٹرز بیٹیاں لڑنے مرنے کو تیار کھڑی تھیں۔ یقیناََ یہ سب ان کی ملی بھگت تھ۔۔وہ مومنہ کو گھر سے نکالنا چاہتی تھیں۔
مومنہ خاموش کھڑی اپنے پیٹ درد کو بھی بردشت کر رہی تھی اور جو درد دل میں تھا اسے بھ۶ ضبط کیے ہوے تھی۔۔
تو میرے سامنے نہ آنا دفع ہو یہاں سے ۔۔۔ عامر نے اریبہ کو غصے سے کہا۔۔
کیوں دفع ہوں اپنی اس بیوی کو دفع کر۔۔۔ اریبہ نے تمیز کو ساٸڈ پر رکھ کر بد تمیزی شروع کر دی تھی۔۔
مومنہ کو خبردار کچھ کہا تو جان سے مار دوں گا۔۔۔
عامر نے آج پہلی بار مومنہ کا دفاع کیا تھا۔۔دادا سسر کھڑے بے زارگی سے مومنہ کو دیکھنے لگے۔۔۔
فتنے کی جڑ یہی ہے اس سے پوچھو کیا موت پڑی ہے اس کو۔۔۔
سلمہ نے مومنہ کو دھکا دیا جس سے وہ بستر پر جاگری۔۔ درد کی ایک تیز لہر اٹھی اور مومنہ کراہ کر رہ گٸ۔۔
رابعہ نے عامر کو دھکا دیا اور کرسی پر گرا دیا۔۔۔
سب بہنیں اور سلمہ عامر کو کھری کھری سنانے لگیں۔۔۔
عامر ان سب کے ساتھ بحث میں ناکام ہو رہا تھا۔۔۔ بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسوو آ گے اور وہ زار زار رونے لگا۔۔۔۔
سب عورتیں مسلسل اسے باتیں سنانے میں مصروف تھیں۔۔
مومنہ اپنے شوہر کے آنسوو برداشت نہ کر سکی۔۔ آج اس کی بس ہو گٸ تھی۔۔وہ درد کی پراوہ کیے بغیر اٹھی اور جا کر رابعہ کے پاس کھڑی ہو گی۔۔
ادھر بات کرو کیا کہہ رہی ہو۔۔۔
مومنہ نے اپنی انکھیں غصے سے بڑی کرتے ہوی مخاطب کیا۔۔۔
سسرال والے مارتے بھی ہیں گالیاں بھی دیتے ہیں۔۔تم کو تو ہم اچھے ملے ہیں اسی لیے فتنے بھیلا رہی ہو۔۔۔ ایک وقت نہ کھاتی تو مر جاتی کیا؟؟ اپنے کمرے میں کھانے پینے کا سامان منگوا کر رکھو وہ کھایا کرو۔۔عامر سے کہو بازار سے کچھ کھانے کو لا دے ہم نے ٹھیکہ لیا ہے تمہارا۔۔۔
رابعہ کے لمبے چوڑے طنز کو اس نے خاموشی سے سنا اور پھر غصے سے بولی۔۔۔
بیمار ہوں میں مری نہیں ہوں پہلے بھی تم لوگ بھوکا ہی رکھتے رہے ہو۔۔ اور جو سسرال والے گالیاں دیتے ہیں۔۔ وہ تمہیں ملیں گے۔۔۔ تم اپنے سسرال والوں کی ماریں بھی کھانا اور گالیاں بھی سن لینا مجھ سے یہ کام نہیں ہوتے۔۔۔
مومںہ اس زور سے چیخی کہ اس کی آواز سب کو سکتے میں لے آٸ۔۔ مومنہ اج پہلی بار بولی تھی اور سب کو خوفزدہ کر گٸ تھی۔۔۔
رابعہ اپنا منصوبہ اتنی آسانی سے ہاں فیل ہونے دیتی اس نے زمین پر بیٹھ کر رونا شروع کر دیا۔۔
تم نے مجھے اتنی بڑی بد دعا ہے مومنہ ۔۔۔ رابعہ کے مصنوعی آنسوو اسے حیران کر گے تھے۔۔
بددعا یہ بد دعا ہے ؟؟ مومنہ نے حیرانگی سے کہا
رابعہ کو روتے دیکھ کر سب نرم پڑے مگر مومنہ حیرت اور غصے سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
مومنہ اس کے معافی مانگو تم نے غلط کہا ہے۔۔۔ عامر نے اس سے معافی مانگنے کا کہا تو مومنہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔
میں نے کسی کو بدعا نہیں دی میں معافی نہیں مانگوں گی۔۔۔
مومنہ نے رابعہ دیکھ ر دانت پیسے۔۔
دادا سسر نے اسے بازو سے پکڑا اور دھکے دے کر باہر نکال دیا۔۔
مومنہ کے پیٹ کے درد میں اضافہ ہوا تھا وہ تھکے قدموں سے چلنے لگی جب رابعہ کی آواذ سنای دی۔۔
ہم جھانکیں گے بھی نہیں تمہارے کمرے میں تم مرو یا جیوں کوی فرق نہیں پڑتا ہمیں۔۔
رابعہ عامر کو کہہ رہی تھی اور عامر خاموشی سے باہر نکل آیا۔۔
۔
ہفتے کا دن تھا۔۔ کل کی لڑای کے بارے میں عامر اور مومنہ نے کوی بات نہیں کی تھی۔۔ہفتہ ہونے کی وجہ سے سب مرد گھر ہی تھے۔۔آج چھٹی تھی۔۔عامر مومنہ کا خیال رکھ رہا تھا۔۔وقتاََ فوقتاََ اسے درد ہوتا رہتا مگر پھر آرام آجاتآ۔۔
دوپہر کو مومنہ کچن میں سب کو نظر انداذ کیے کھانا نکال کر کمرے میں لے آٸ ۔۔کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد اسکے درد میں اضافہ ہوا۔۔ اس نے عامر کو بتایا کہ اسے لیبر پین شروع ہو گیا ہے۔۔۔عامر پریشانی کے عالم میں سلمہ کے پاس بھاگا تھا۔۔۔ ماں سوتیلی ہو یا سگی ۔۔بچہ پریشانی کے وقت اسی کے پاس جاتا ہے۔۔مگر سگی ماں اور سوتیلی میں فرق ہوتا۔۔۔
سلمہ نے عامر کی بات پر کان نہ دھرے سب لوگ گھر میں موجود تھے مگر کسی نے جھانکنا گوارا نہیں کیا۔۔ عامر نے جلدی سے گاڑی کی چابی ڈھونڈی اور مومنہ ک گاڑی میں بٹھا کر ہسپتال لے آیا۔۔
دونوں کے لیے یہ پہلی بارتھا اس لیے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرنا ہے۔۔
ہسپتال میں داخل ہوتے ہی نرس نے اسے بڑی چادر میں لپٹا دیکھ کر ہنس دی۔۔
لگتا ہے تمہارے علاقے میں برف پڑی ہے۔۔
نرس کی بات پر مومنہ خاموشی سے سر جھکا گی۔۔۔ بیڈ پر لیٹ جاو ڈاکٹر ا رہی ہے۔۔۔
نرس کے کہنے پر مومنہ بیڈ پر لیٹ گٸ۔۔۔ درد بڑھتا جا رہا تھا ڈاکٹر نہ آٸ۔۔ اس نے تنگ ہو کر میکے فون کیا۔۔۔
اس کی امی نے اسے تسلی دی اور جلدی پہنچنے کا کہا۔۔۔
تمہارے ساتھ کون کون ہے۔ شازیں بیگم کے پوچھنے پر مومنہ رو دی۔۔ مما میں اکیلی ہوں میرے ساتھ صرف عامر ہیں مجھے آپ کی ضرورت ہے آپ آ جاٸیں پلیز۔۔۔
پاس بیٹھی نرس کو مومنہ کی تکلیف کا انداذہ ہوا تھا۔۔ کال کٹنے کے بعد نرس نے اس سے پوچھ ہی لیا ۔۔ کوی نہیں ہے تمہارے ساتھ؟؟
نہیں کوی نہیں ہے۔۔ مومنہ نے بیڈ سے اٹھتے کہا تھا۔۔شازیہ بیگم نے اسے ہسپتال کے قریب چاچو کے گھر آنے کا کہہ دیا تھا
سسرال والے کیوں نہیں آۓ۔۔ نرس نے تجسس سے پوچھا
پتا نہیں۔۔ مومنہ کہہ کر تیزی سے لیبر روم کے باہر آ گٸ۔۔۔