📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14731"]
50483 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Susraal  (Episode 02)

Susraal By Momina Rizwan

❤❤❤۔
آ گۓ آپ کتنا ٹآٸم لگایا ہے کب سے انتظار کر رہی ہوں۔۔۔
مومنہ نے عامر کے آتے ہی گلے شروع کر دیے۔۔۔
جان بس ٹاٸم تو لگتا ہے نا۔۔۔ عامر نے اسے پیار کرتے کہا
اچھا سب لوگ آ گے میں ان سے مل آتی ہوں۔۔۔ مومنہ نے اچھل کر کہا۔۔۔ سب گھر والے گاٶں گے ہوے تھے مومنہ پریگنینسی کی وجہ سے سفر نہیں کر رہی تھی۔۔۔گھر میں ناٸلہ ذیشان رابعہ اور مومنہ ہی تھے۔۔ شام میں عرغان صاحب بھی آ گے تھے باقی سب دو دن بعد لوٹے تھے تو مومنہ خوش ہو گی تھ۔۔۔
بات سنومومنہ ۔۔۔۔عامر نے اسے روکا۔۔
جی بولیں۔۔۔مومنہ واپس پلٹی تھی۔۔
یار ناٸلہ آپی ناراض ہو کر چلی گٸ ہیں؟؟
عامر نے بیڈ پر لیٹتے ہوے سوال کیا
مجھے تو نہیں پتا دو دن سے گھر میں دکھی نہیں ہیں شاٸد میکے گٸ ہیں کیوں خیر ہے۔۔؟
مومنہ بھی اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گٸ۔۔
ہاں وہ خفا ہیں تم خود ہی پوچھ لو جا کر مجھے تو ساری بات نہیں پتا۔۔۔۔ عامر نے آنکھیں موندتے کہا تو مومنہ اٹھ کر چلی گٸ۔۔۔
کیوں مومنہ ناٸلہ کو کیا کہا ہے جو وہ خفا ہو کر گٸ ہے۔۔۔؟
مومنہ جوں ہی باہر آٸ سلمہ نے ہنس کر طنز کیا
میں نے تو کچھ نہیں کہا۔۔۔۔
مومنہ نے فوراََ صفاٸ پیش کی ۔۔۔۔
وہ تو کہتی ہے کہ مومنہ کی وجہ سے خفا ہوں۔۔۔
سلمہ بھی کہاں مانتی تھ۔۔۔
پتا نہیں میں نے تو کچھ نہیں کہآ۔۔۔
مومنہ پریشان ہو گٸ نجانے کیا ہوا تھآ۔۔۔
۔ شام میں جرگہ بیٹھا ہوا تھا اور ناٸلہ کے مطابق مومنہ کو زیادہ پیار کیا جاتا ہے اور ناٸلہ کو نظر انداذ کیا جاتا ہے۔۔۔ شام کو عرفان ماموں نے کھانا کھاتے ہوے مجھے ڈانٹا ہے۔۔ ناٸلہ نے غصے سے عرفان صاحب کو دیکھا کیوں ڈانٹا کس بات پر ڈانٹا یہ بھی بتاو۔۔ عرفان صاحب نے بھی سوال کیا اپ نے کہا کہ کھانا بھی نہیں پکتا سہی سے اس گھر میں۔۔۔ ناٸلہ کی بے تکی بات پر سب ہی ماتھا پیٹ کر رہ گے۔۔۔ میری بیٹی اتنی لاڈلی رہی ہے اس سے کھانا بنواتے ہو اتنی جرت اپنی اس لاڈلی مومنہ سے کام کرواو نا۔۔۔ نآٸلہ کی ماں نے بھی حصہ ڈالا۔۔۔ مومنہ سر جھکاے بیٹھی سب سن رہی تھی۔۔ رات کو کھانا مومنہ نے بنایا تھا اور اسے نہیں معلوم تھا کہ عرفان چاول نہیں کھاتے ہیں عرفان نے جب ڈانٹا تھا تو وہاں سب موجود تھے صرف ناٸلہ نہیں تھی جس نے کھانا بنایا اسے برا نہیں لگا تو اس کو کیا تکلیف ہے۔۔۔ سلمہ نے ناٸلہ کو نیچا دکھانے کے لیے مومنہ کا ساتھ دیا۔۔۔ جرگہ کافی لمبا تھا ۔۔۔آخر ناٸلہ کی ماں نے فیصلہ سنایا۔۔ ناٸلہ کو الگ کر دیا جاۓ اور کھانے پینے راشن وغیرہ کا خرچہ آپ لوگ اٹھاو گے ۔۔۔ اس فیصلے کو چارو ناچار سب کو ماننا پڑا۔۔۔ ۔۔۔
مومنہ تجھ بھی ہم الگ کر رہے ہیں جیسے ناٸلہ اپنے کمرے میں چولہا رکھ کر کھانا پکاتی ہے تو بھی پکا لینا مگر راشن کا خرچہ ہم نہیں اٹھاٸیں گے۔
سلمہ نے اپنے ہاتھ صاف کیے۔۔
مگر امی میں الگ نہیں ہونا چاہتی میں آپ کے ساتھ ہی رہوں گی۔۔۔
مومنہ نے بھراٸ آواذ میں کہا۔۔۔
سلمہ بے زار سی نظر ڈال کر اٹھ گٸ۔۔۔
مومنہ اٹھ کر عامر کے پاس گٸ اور اسے صورتحال سے آگاہ کیا
مومنہ میں کیا کر سکتا ہوں اگر ابو کہتے ہیں تو ہو جاٸیں گے الگ۔۔۔
عامر نے بھی مجبور ہو کر کہا ۔۔۔
مومنہ اداس سی ہو گٸ۔۔۔
۔۔۔ مما میں الگ نہیں ہوتی۔۔۔۔ مومنہ نے اپنی مما کو فون کر کے ساری بات بتا ڈالی تھی۔۔۔ میں پوچھتی ہوں ان لوگوں سے تجھ الگ نہیں کرتے۔۔۔
شازیہ بیگم نے اسے تسلی دی۔۔۔
مومنہ کے والد شہزاد صاحب کافی سخت مزاج کے تھے۔۔۔ اپنے علاقے کے ڈون مانے جاتے تھے۔۔۔ یہی وجہ تھی ان کے غصے سے سب لوگ ہی ڈرتے تھے۔۔۔ ان کے کہنے پر مومنہ کو الگ نہیں کیا گیا مگر اب مومنہ کی اصل آز ماٸش شروع ہو چکی تھی۔۔۔۔
***۔
اس دن کے بعد کچھ عرصہ خاموشی رہی تھی۔۔مومنہ اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی جب اسکے موباٸل پر ایک مسج موصول ہوا۔۔مسج عامر ممانی کا تھا ۔۔۔
عظمیٰ ممانی مومنہ سے اس کی شادی کا لہنگا مانگ رہی تھی ان کے بھای کی شادی تھی کچھ دنوں تک لوٹانے کا وعدہ کیا ۔۔۔ مگر مومنہ نے انکار کر دیا۔۔۔
وہ اپنا لہنگا کسی کو دینا نہیں چاہتی تھی کیوںکہ وہ کافی مہنگا تھا اور اگر خراب ہو گیا تو ۔۔۔ اور دوسری بات مومنہ کو لہنگا پہننا بہت پسند تھا شادی سے پہلے کسی نے پہننے نہیں دیآ۔۔سب کہتے کنواری لڑکی نہیں پہں سکتی۔۔ سو شادی کے بعد وہ لہنگا پہن کر اپنا شوق پورا کرنا چاہتی تھی۔۔۔
مومنہ عظمیٰ کو لہنگا چاہیے دے دو اسے۔۔۔ سلمہ نے کمرے آکر حکم صادر کیا
امی میں لہنگا نہیں دیتی کسی کو بھی پلیز۔۔
مومنہ نے التجا کی
مومنہ وہ لہنگا ویسے بھی ہم نے اپنے رشتہ دار سے کراے پر لیا ہوا ہے واپس تو کرنا ہے نا۔۔
سلمہ نے ایک اور بم پھوڑا
کیا۔۔۔۔؟؟ مگر اپ تو کہہ رہی تھی کہ لہنگا میرا ہے وہ میرے پاس رہے گا آپ کو پتا ہے نا مجھے لہنگا پسند ہے اس لیے میں نے ذاتی لہنگے کی فرماٸش کی تھی۔۔
مومنہ حیرت اور دکھ کے ملے جلے جزبات لیے بولی۔۔۔
مومنہ جو بھی ہے اب لہنگا دے دو عظمیٰ خفا ہو جاے گی۔۔
سلمہ نے سخت لہجے میں کہا
کل یہ لوگ مجھ سے زیور بھی چھین لیں گے پھر کیا کروں گی۔۔۔ مونہ نے دل میں سوچا۔۔۔ خاموشی سے اٹھی اور لہنگا نکال کر دے دیا۔۔
پورا دن مومنہ رو رو کر بے حال ہوتی رہی۔۔ مگر پھر دل کو تسلی دے کر خاموش ہو گٸ۔۔۔
میں اپنا لہنگا کسی کو بھی نہیں دیتی بس۔۔۔۔ مومنہ نے آنسوو پونچھتے عزم کیا۔۔۔
کچھ دنوں بعد عظمی نے لہنگا واپس کر دیا مگر لنگا جگہ سے خراب ہو چکا تھا۔ مومنہ کو بہت دکھ ہوا مگر وہ خاموش ہو گٸ۔۔ شام کو سلمہ لہنگا مانگنے کے لیے ٹپک پڑی۔۔
مومنہ لہنگا دو واپس کرنا ہے۔۔۔
مگر امی میں لہنگا نہیں دیتی کسی کو بھی پلیز۔
مومنہ بے بسی سے رونے پر آ چکی تھی۔۔
نہیں جن کا ہے وہ مانگ رہے ہیں جلدی نکال کر دو۔۔
سلمہ کے دو ٹوک لہجے پر مومنہ چپ ہو گٸ۔۔اور لہنگا واپس کر دیآ۔۔۔
ابو میرا لہنگا چھین لیا آپ نے اور آج عظمی ممانی نے بھی مجھے بہت باتیں سناٸیں۔۔
کیا کہا اس نے بتاو۔۔
عرفان نے پریشانی سے پوچھا
وہ کہہ رہی تھی کہ ۔۔۔
شکل دیکھی ہے اپنی آٸینے میں جو لہنگا پہنو گی تم ۔۔ میری طرف سے لعنت ہے تم پر اور تمہارے لہنگے پر گھٹیا عورت۔۔
مومنہ نے عظمی کے مسج پڑھ کر سنا دیے
کوی بات نہیں مومنہ خیر ہے تم لہنگے کی خاطر ایسے نہ کرو میں تمہیں پیسے دے دوں گا تم اور لے لینا۔۔۔
عرفان صاحب نے بات ٹالی کیوںکہ عظمی اور ان کا جو خفیہ رشتہ تھا اس وجہ سے وہ عظمی کو ڈانٹ نہی سکتے تھے اس لیے معصوم مومنہ کا ہ منہ بند کروا دیا۔۔۔
عامر ایسے کیوں کر رہے ہیں یہ۔۔۔ مومنہ کمرے میں آکر رو دی تھی۔۔بھلا وہ معصوم ان سب چالاکیوں کو کیسے پہنچان سکتی تھی۔۔
میری جان چپ ہو جاو میں تمہیں زیادہ اچھا لہنگا لے دوں گا چھوڑو سب کو۔۔۔
عامر نے اسے گلے لگا کر تسلی دی
نہیں عامر بات لہنگے کی نہیں ہے میری اتنی بے عزتی کر دی انہوں نے مجھے بہت برا لگا کوی ہے ہی نہیں ایسا جو مجھے سہارا دے۔ مومنہ مسلسل روے جا رہی تھی۔۔
میری جان میں ہوں نا عظمی کی ایسی پھینٹی لگای ہے کہ آٸندہ سوچ کر بولے گی ۔۔۔ عامر نے مسکرا کر بتایا تو مونہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا پھر مسکرا کر اس کے سینے میں چھپ گٸ۔۔
ہمسفر اچھا ہو تو دنیا والوں کا ڈر نہیں ہوتا۔۔۔