Susraal by Momina Rizwan | Emotional Urdu Domestic Abuse Story NovelM80015 Susraal (Episode 04)
Susraal (Episode 04)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Susraal By Momina Rizwan
دن گزر رہے تھے۔۔ مومنہ نے عامر سے معافی مانگ کر منا لیا تھا۔۔ مگر سلمہ کے طنز اب اس کی برداشت سے باہر تھے۔۔۔ اس نے عرفان صاحب کو سب بتانے کب سوچا تھا۔۔تا کہ اس کا کوٸ مثبت حل نکل سکے۔۔
شام میں اس نے عرفان صاحب کو سب کچھ بتا دیا۔۔ عرفا صاحب نے سب گھر والوں کو اکھٹا کیا ۔۔۔
مومنہ نے جب ساری باتیں دوہراٸیں تو سب لوگوں نے اسے غلط ٹھہرایا۔۔
مومنہ سلمہ ان بچوں کی سوتیلی ماں ہے اس نے ان کو پالا ہے ہم جانتے ہیں وہ ایسی نہیں ہے سمجھی۔۔ اگر وہ بری ہوتی تو ان بچوں کو اتنا پیار نہ دیتی۔۔
عرفان صاحب نے سراسر سلمہ کی ساٸیڈ لی۔۔
ابو ان کو اپ اسی لیے لاے تھے کہ یہ اپ کے بچوں کو پالیں اور دوسرا میں ان کی بیٹی نہیں ہوں بہو ہوں مجھ سے ان کو دشمنی تو ہو گی ہی نا یہ مجھے طنز کرتی ہیں کھانا چھپا دیتی ہیں۔۔
مومںہ نے بھرای آواذ میں بتایا
مومنہ جھوٹ مت بولو سمجھی آٸیندہ اس بارے ییں کوی بات نہیں ہوگی۔۔۔
عرفان صاحب کہہ کر اٹھ گے ۔۔۔سلمہ فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اٹھ کر کمرے میں چلی گی اور مومنہ نے بے بسی سے عامر کو دیکھا جس نے ایک بار بھی مومنہ کے حق میں آواذ نہیں اٹھای تھی۔۔۔
××××.۔
۔آج بریانی میں نے بناٸ ہے کونسی والی زیادہ اچھی تھی۔۔مومنہ کی یا میری۔۔۔۔
سلمہ نے کھانا کھاتے سب سے پوچھا
آج والی مزے دار ہے۔
مومنہ اور عامر کے علاوہ سب نے نعرو لگایا۔۔
مومنہ نے عامر کی طرف دیکھا اور بریانی کی پلیٹ کو دیکھا۔۔ بریانی تھی یا حلوہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔
مومنہ سلمہ سے اچھا کھانا بناتی تھی۔۔۔ سلمہ کا کھانا مومنہ کے لیے کھانا بہت مشکل تھانجانے وہاں رہنے والے کیسے کھا لیتے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مومنہ ہم لوگ لاہور جا رہے ہیں گھر تمہارے ذمے ہے خیال رکھنا ٹھیک ہے۔۔۔۔
سلمہ نے پیار سے مومنہ کو مخاطب کیا۔۔ مومنہ سمجھ گٸ کہ گھر کے کام کرنے پڑیں گے اسی لیے سلمہ محبت جھاڑ رہی ہے۔۔۔
گھر میں رابعہ آمنہ ارسلان دادا سسر اور چھوٹے بچے انس انیس اوع علیشا موجود تھے۔۔
مومنہ آٹھواں مہینہ چل رہا تھا۔۔ یہ مہینہ حاملہ خاتون کے لیے ویسے بھی بہت خطرناک ہوتا ہے۔۔۔ .
صبح اٹھ کر مومنہ نے سب کے لیے ناشتہ تیار کیا پھر برتن دھوے۔۔عامر کو ناشتہ دیا اور وہ دفتر چلا گیا۔۔ پھر دادا سسر کو ناشتہ دیا۔۔
بعد میں باقی سب اٹھے تو انہیں ناشتہ دیآ۔۔
مومنہ بھابھی اور پراٹھے بنا دیں۔۔
آمنہ کے حکم پر مومنہ نے پھر سے پراٹھے بناے۔۔۔
سلمہ کے ہاتھ کا آدھا پراٹھا کھا کر سب اٹھ جاتے تھے مگر مومنہ کے ہاتھ کے پراٹھے کھا کھا کر ان کا دل نہیں بھر رہا تھا۔۔مزے دار ہی اتنے تھے۔۔۔
اس کے پیٹ میں درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی تھیں۔مگر وہ کھڑی کھڑی ہی کام کر رہی تھی۔۔ سارا کام ختم کر کے وہ اپنے پورشن میں آٸ۔ کپڑے دھو کر تھوڑا آرام کیا۔۔درد ابھی بھی ہو رہا تھا بھوک بھی لگ رہی تھی۔۔۔ ایک بج چکا تھا۔۔
وہ جلدی سے کچن میں گٸ تو کچن ویسے ہی پڑا تھا جیسا چھوڑ کر گٸ تھی۔۔۔
رابعہ آپی کھانا بنا دیں نا بھوک لگی ہے۔۔۔
مومنہ نے موباٸل پر مصروف رابعہ کو کہا تو وہ منہ بناتی سر ہلا گٸ۔۔
مومنہ باہر آ کر دھوپ میں بیٹھ گٸ۔۔ سردیاں شروع تھیں۔۔دھوپ میں بیٹھ کر اسے کچھ سکون ملا۔۔
یک گھنٹے بعد اس نے کچن میں جا کر دیکھا تو عجیب سے حلوے نما چاول پڑے تھے۔۔۔
جیسے تیسے کر کے اس نے کھانا کھایا اور کمرے میں آ کر لیٹ گٸ۔۔۔
درد اب کم ہو گیا تھا۔۔ وہ لیٹے لیٹے ہی نیند کی وادی میں اتر گ۔۔
۔
شام میں وہ عصر کی نماذ پڑھ کر کچن میں گٸ تو کچن کی حالت دیکھ کر اسے غش آنے لگے۔۔۔سارا کچن پھیلا ہوا تھا۔۔۔ اس نے سارا کچن سمیٹا اور رات کا کھانا بنانے لگی۔
اس نے سارا کام جلدی سے کیا پا کہ رابعہ کو کوی کام نہ کرنا پڑے ۔۔وہ چاہتی تھی کہ اس کے ہوتے ہوے اس کی نندیں کوی کام نہ کریں ۔۔۔ مگر نندیں چاہتی تھیں کہ وہ ہی گھرمیں نہ رہے۔۔
سبزی تیار کر کے اس نے آٹا گوندا اور باہر آ کر چہل قدمی کرنے لگی۔۔
شام کو مغرب کے بعد وہ کچن میں آٸ تو رابعہ ٹیڑھی میڑھی روٹیاں بنانے میں مصروف تھی اور باقی سب کھا رہے تھے۔۔غالباََ دادا سسر کو بھوک لگی تھی جس وجہ سے وہ مجبوراََ کام کر رہی تھی۔۔
اپنے لیے روٹی بنا لو۔۔
رابعہ نے کہا۔۔ آپ بنا دو نا میری طبیعت خراب ہے
مومنہ کے کہنے پر اسے دو چاٸنے کے نقشے بنا دیے۔۔😏
❤❤❤۔
یہ آٹا کس نے گوندا ہے؟؟
سلمہ کی آواذ پر باہر بیٹھی مومنہ چونکی ۔۔۔
مومنہ نے۔۔رابعہ نے بتایا
کیسا آٹا ہے یہ اتنا سخت روٹی نہیں پکتی اور جگہ جگہ سے جیسے پتھر ہوں۔۔
سلمہ نے بے زارگی سے کہا حالانکہ آٹا بہت نرم کا اچھا تھا۔۔۔
مومنہ نے سلمہ کے گوندے آٹے کے بارے میں سوچا
آٹا اتنا نرم ہوتا کہ جیسے حلوہ بنایا ہو۔۔ نجانے وہ روٹی کیسے بناتی ہے اس آٹے کی مومنہ تو جببھی روٹی پکاتی اپنے لیے آٹا الگ سے گوندتی۔۔۔
***۔
یہ لو مومنہ یہ تمہارے لیے انڈے لایا ہوں۔۔۔ دادا سسر نے چھ انڈے اس کے سامنے کیے۔۔۔
مومنہ نے خوشی سے انڈے لیے اور اپنے کمرے میں رکھ دیے۔۔
تھوڑی دیر بعدانس حاضر ہو گیا۔۔
مومنہ بھابھی مما کہہ رہی ہیں کہ ہمارے انڈے دو۔۔۔
کونسے انڈے؟ مومنہ نے پوچھا
جو دادا ابو نے دیے ہیں وہ ہمیں دو۔۔
انس نے کہا
نہیں ہیں انڈے ونڈے جاو یہاں کے
مومنہ نے غصے سے کہا۔۔
۔۔
عامر مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں آپ۔؟
مومنہ نے پیار سے عامر سے پوچھا۔۔ وہ اس کے سینے پر سر رکھے لیٹی ہوی تھی۔۔
تھوڑا سا۔۔ عامر نے شرارت سے کہا۔۔مونہ نے ہزار بار اس سے یہ ایک سوال شادی کے بعد سے کر لیا تھا۔۔
بتاٸیں نا۔۔ مومنہ نے اس سینے پر مکہ مارآ۔۔
بتایا نا تھوڑا سا۔۔ عامر بدستور ہنسی دباے شرارت کے موڈ میں تھا
سچی بتا دیں ورنہ میں ناراض ۔۔۔
مومنہ نے منہ بنا کر کہا
ہاہا یار پتا بھی ہے پھر بھی پوچھتی ہو اپنے آپ سے بھی زیادہ ۔۔۔ پیار کرتا ہوں ۔۔جان
عامر نے اسے پیار کرتے کہا
کبھی میرا ساتھ تو نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ مومنہ مطمٸن نہیں تھی۔۔
نہیں چھوڑتا تمہیں چھوڑ کر ذندہ کیسے رہوں گا جان۔۔۔
عامر نے اسے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔
***۔
مجھے سفید نان کھانا ہے تندوری روٹی نہیں کھاتی میں۔۔۔
عامر مومنہ کی فرماٸش پر اسے ریسٹورنٹ لے کر آیا تھا۔۔ یہاں نان نہیں ملتے تھے مگر مومنہ بضد تھی کہ اسے نان ہی کھانا ہے۔۔
دیکھو مومنہ ضد نہ کرو کھا لو اب میں کہاں سے لاوں گا نان پلیز۔۔۔
عامر نے چوتھی بار اسے سمجھایامگر وہ منہ بنا کربیٹھ گٸ۔۔
عامر چپ چاپ کھانا کھانے لگا۔۔
کھاو کھانا ابھی گھر بھ چلنا ہے۔
عامر نے سخت لہجے میں کہا۔۔ مومنہ خاموشی سے بیٹھی رہی ریسٹوران میں وہ ایک الگ کمرے میں بیٹھے تھے۔۔مومنہ خاموشی سے کمرے میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
عامر کیمرے لگے ہیں چپ رہیں۔۔ مومنہ کے کہنے کے باوجود عامر نے دھیان نہیں دیا۔۔
کھانا کھاو مجھے غصہ مت دلاو۔۔
عامر نے غصے سے کہا
عامر مجھے یہ روٹی نہیں پسند میں گھر کھا لوں گی پلیز اپ کھا لین۔۔ حاملہ ہونے کی وجہ سے اس کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی اسے اب کھانا دیکھ کر متلی ہو رہی تھی۔۔۔
عامر غصے سے اٹھا اور مونہ کو ایک زودار تھپڑ دے مارا مومنہ جھٹکے سے کرسی سے دور جا گری۔۔ پیٹ میں درد کی ایک ٹھیس اٹھی تھی۔۔۔ عامر اسے گھسیٹتے ہوے کرسی پر لے گیا اور اس کے منہ میں روٹی ٹھونسنے لگا نوالہ اس کے حلق میں پھنس گیا ۔۔ کھانسی کے دورے سے اس کے پیٹ میں اور درد ہونے لگا۔۔۔
کچھ دیر بعد عامر ریسٹورنٹ سے نکل گیا
۔مومنہ آنسو پونچ کر اس کے پیچھے چل پڑی۔۔ سب لوگ انہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے یقیناََ کیمرے کی آنکھ نے سب کچھ عیاں کر دیا تھا۔۔۔
گھر آ کر عامر نے شور مچا دیا غصے سے مومنہ کا موباٸل تک توڑ دیا۔۔ مومنہ خاموش رہتی مگر موباٸل ٹوٹنے پر اس کا ضبط جواب دے گیا اور وہ کمرے میں آ کر رودی۔۔۔
رات تک رو رو کر ہلکان ہو گی مگر نہ کوی اس کی خیر خبر کے لیے آیا نہ ہی تسلی دینے۔۔۔اللہ جی مجھے صبر دیں میں کیا کروں میرا کوی بھی تو نہیں ہے میرے ساتھ ہی کیوں۔۔۔۔؟ اللہ کتنے خواب دیکھے تھے شادی کے لیے۔۔۔ کتنے ارمان تھے وہ سب ٹوٹ گے ۔۔اللہ کس کو بتاوں کون سنے گا میری میں اکیلی ہو گی ہوں۔۔۔میرے والدین کو پتا چلا یا لوگوں کو پتا چلا تو سب باتیں کریں گے سب مذاق اڑاٸیں گے اللہ جی۔۔۔۔۔
وہ انیس سال کی معصوم اور کم عقل لڑکی اپنی عمر سے زیادہ سمجھدار اور صابرہ تھ۔۔
ایک عورت کے لیے یہی تو ہوتا ہے۔۔شادی کے بعد لوگوں کی باتوں اور والدیں کی عزت کی خاطر قربان ہو جاتی ہیں۔۔ مر مٹ جاتی ہیں مگر بھنک تک نہیں پڑنے دیتی کہ وہ کس اذیت سے گزر رہی ہیں۔۔۔ ۔
عامر کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو مومنہ کو اپنا موباٸل دے دیا مگر مومنہ اپنے موباٸل کے ٹوٹنے پر بہت دکھی تھی اسے بہت تکلیف ہوی تھی رو رو کے لکان ہو چکی تھی۔۔ عامر نے معافی مانگ لی اور اسے منا لیا مگر اس کا موباٸل اور سب کے سامنے کی ہوی بے عزتی تو لوٹ نہیں سکتی تھی۔۔مومنہ نے عہد کر لیا کہ وہ آٸندہ عامر سے نہ ضد کرے گی نہ ہی خفا ہوگی وہ اپنے ماں باپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
لڑکی تھی نا۔۔ بیٹی تھی وہ۔۔۔ شادی کے بعد پراٸ ہو گٸ تھی۔۔۔ سسرال والوں کے لیے ویسے بھی پراٸ تھی۔۔نجانے کون ہے جو بیٹیوں کا اپنا ہوتا ہے۔۔ ساری عمر خدمتوں میں لگ جاتی ہے۔۔ کبھی ساس سسر کی کبھی شوہر کی کبھی بچوں کی کبھی رشتہ داروں کی مگر ۔۔۔۔ مگر پھر بھی وہ غیر ہی رہتی ہیں