📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14731"]
50483 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Susraal  (Episode 07)

Susraal By Momina Rizwan 

مومنہ بیٹھی کسی گہری سوچ میں گم تھی۔۔شادی کے بعد سے اب تک کے تمام مناظر اس کی نظروں سے سامنے تھے۔۔
غلطی میری بھی مگر اتنی نہیں کہ مجھ پر یہ ظلم کیے جاٸیں۔۔
عورت تو محبت کی بھوکی ہوتی ہے۔۔اپنے شوہر سے وفا کرتی ہے صرف اس کے پیار کے لیے توجہ کے لیے۔۔اگر عامر اس کا ساتھ دے تو اسے کسی دوسرے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔۔ مومنہ کو اس کے والدین دینی اور دنیاوی دونوں تعلیم دیں۔۔شادی سے پہلے تک وہ پردہ کرتی نماذ قرآن پڑھتی صبح شام کے اذکار کری۔مگر شادی کے بعد اس نے نماذ تو نہ چھوڑی مگر باقی سب کچھ چھوڑ دیا تھ۔
میرا اللہ مجھ سے خفا ہے اسی لیے آزماٸش میں ڈال دیا ہے۔۔میں میں اب کوی گناہ نہیں کروں گی بس اللہ کو راضی کروں گی۔۔۔ مومنہ خود سے مخاطب تھی۔۔۔
حملہ عورت کے ہارمونز میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے کبھی وہ کسی معمولی بات پر غصہ کرتی ہے کبھی یوں ہی خوش ہو جاتی ہے۔۔کبھی چڑچڑی ہو جاتی ہ کبھی طبیعت کیسی کبھی ویسی۔۔۔ اس حالت میں عورت کو کسی پیار کرنے والے اور خیال رکھنے والے کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ اسے پیار سے ٹریٹ کیا جاے ورنہ اس کے ذہن کے ساتھ ساتھ بچے پر بھی اثر پڑتا ہے۔۔مگر مومنہ نے اپنی ساری بریگننیسی کی حالت میں ذہنی اذیت ہی جھیلی ہے۔۔
مومنہ۔۔۔۔۔
عامر کی آواذ پر وہ چونک کر خیالات سے باہر آٸ۔۔
چلیں ۔۔لیٹ ہو رہا ہے۔۔۔
جی۔۔۔ مومنہ کہتی اٹھ کھڑی ہوی۔۔۔۔آج وہ واپس اپنے سسرال جا رہی تھی۔۔۔
**۔ شازیہ بیگم مومنہ اور بچے کو لےکر اندر دخل ہوٸیں تو ساری عورتیں ناگواری سے منہ بنا کر چلی گٸیں۔۔۔سلمہ نے سلام دعا کی اور کچن میں گھس گٸ۔۔
مومنہ لب پھینچے کمرے میں آ گٸ۔۔۔
کیا نام سوچا ہے پھر بچے کا۔؟
شازیہ بیگم مومنہ سے مخاطب ہوٸیں
وہی جو اس کے دادا نے بتایا تھا۔امیر معاویہ۔۔۔
مومنہ نے خیالوں میں گم جواب دیا
شازیہ بیگم نے تاسف سے سر جھٹکا۔۔۔
دو دن بعد مومنہ بستر سے اٹھی تھی۔۔۔ دو دن عامر کی چھٹی تھی سو وہ کھانا اسے لا دیتا آج وہ آفس چلا گیا تھا۔۔ بھوک نے ستایا تو وہ اٹھ کر کچن میں گٸ۔۔ سلمہ ناٸلہ کے ساتھ گپیں ہانکنے میں مگن ھی۔۔
امی کھانا نہیں ہے۔۔مومنہ نے خالی برتن دیکھ کر پوچھا
ختم ہو گیا۔۔ سلمہ نے مختصر جواب دیا اور پھر سے گپیں ہانکنے لگی۔۔
مومنہ خاموشی سے واپس آگٸ۔۔
دودھ اور دبل روٹی کھا کر اس نے کمرے کی صفاٸ کی۔۔معاویہ سو رہا تھا اس لیے وہ مطمٸن تھی۔۔۔
صفای کرتے وقت اسے احساس ہوا کہ اس کے جہیز کی کافی چیزیں غآٸب ہیں۔۔
مومنہ سلمہ کے پاس گٸ اور پوچھا تو پت چلا کہ وہ چیزیں تو سلمہ نے خود کی خریدی ہیں۔۔ مومنہ اس کے سفید جھوٹ پر حیران رہ گٸ۔۔
**۔ عامر میرے جہز کی چیزیں امی لے گٸ ہیں اور واپ نہیں کر رہی۔۔۔
شام میں مومنہ عامر سے مخاطب ہوی۔۔ جو کچھ بھی ہو جہیز ایک بات کی عمر بھر کی کمای ہوتا ہے جو وہ اپنی بیٹی کو دیتا ہے
ایک بیٹی کبھی بھی اپنا جہیز کسی کے ساتھ نہیں بانٹ سکتی۔۔۔
مومنہ اگنور کردو چھوڑو ۔۔ عامر نے بے زارگی سے کہا
عامر میرا جہیز ہے۔۔۔
عامر نے مومنہ کی بات ہی کاٹ دی
واٹ جہیز بس کرو چھںوڑ دٶ۔۔۔ میں تنگ آ گیا ہوں روز روز کے جھگڑوں سے ۔۔
عامر اکتا کر کمرے سے جانے لگا
ٹھیک ہے میں ہی چلی جاتی ہوں آپ کی زندگی سے آپ کی جان چھوٹ جاۓ گی۔۔۔
مومنہ نے معاویہ کو گود میں لے کر غصے سے کہا
بلاتا ہوں ان **(گالی) کو کیوں تیرا جہیز لے گے۔۔۔
عامر غصے سے کہتا کمرے سے نکل گیا۔۔ مومنہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد عرفان اور سلمہ بھی وہاں پہنچ گے
کیا تکلیف ہے تمیں مومنہ
عرفان نے غصے سے کہا
مومنہ لب بھینچے خاموش رہی
کچھ چیزیں ہی لے کر گے ہیں اتنا شور کیوں ڈالا ہوا ہے
عرفان پھر مخاطب ہوا
میرا جہیز ہے وہ ۔۔چیزیں نہیں ان کا کوی حق نہیں میرے کسی بھی سامان کو ہاتھ لگاٸیں
مومنہ نے سختی سے کہا
تم تو بڑی شریف ہو جیسے
عرفان نے پھر زہر اگلا
ہاں تو ناٸلہ جیسی شریف ہی کوی لے آتے جو اپ کو پسند بھی اتی
مومنہ نے دوبدو جواب دیا
ناٸلہ تیر ی وجہ سے لڑتی تھی ہم سے ۔۔تجھے ہم اتنی عزت دیتے ہیں۔۔
سلمہ نے بھی دانت پیس کر کہا
کونسی عزت بھٸ۔۔ بھوکی میں رہتی رہی۔۔ طعنے میں سنتی رہی۔۔بچہ پیدا کر کے آگٸ آپ لوگوں کو خبر نہ ہوی۔۔میکہ میں پورا مہینہ رہ کے آٸ ۔۔۔بچے کی شک بھی تم لوگوں نے نہں دیکھی یہ عزت ہے؟؟؟
مومنہ پھٹ پری تھی۔۔عامر خاموشی سے ایک جگہ بیٹھا رہ۔یوں جیسے وہ کوی بت ہو۔۔
سلمہ بھاگ کر اریبہ اور رابعہ کو بلا لای۔۔
کیا تکلیف ہے مومنہ کیوں جان نہں چھوڑتی ہماری۔۔
اریبہ آتے ہیی بدلحاظی سے بولی۔۔
عامر کے بت میں پہلی بار حرکت ہوی اور وہ غصے س اٹھ کر اریبہ پر چڑھ دوڑا
دفع ہو جا میرے کمرے سے۔۔نکل جا کمینی ورنہ جان سے مار دوں گا۔۔۔ عامر نے اریبہ کو دھکے دے کر کمرے سے نکال دیا
عرفان بھی غصے سے کھڑے ہو گے
یہ اپ کی بیٹیاں میری ماں کے سامنے منہ پھیر کر جاتی رہیں سلام تک نہیں کیا
مومنہ چپ نہ رہی تھی۔۔۔ ان کی مرضی یہ جو بھی کریں تجھے کیا۔۔۔
عرفان نے بے حسی کی مثال قاٸم کی اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
***۔
امی کونس گلاس چاہیے آپ کو جو مجھ پر چوری کا الزام لگاا تھا۔۔
صبح سلمہ کو مومنہ کمرے میں لے آٸ اور گلاس کی کہانی پوچھی
یہ بستر جو تم نے بچھایا ہے یہ میرا ہے۔۔ سلمہ نے بستر کی طرف اشارہ کیا جو مومنہ نے پھٹا ہوا سی کر بچھایا تھا۔۔ لے جاو۔۔۔مومنہ نے سپاٹ چہرے سے کہا۔۔
سلمہ بستر اٹھا کر چل دی۔۔
***۔
آج ہفتہ تھا۔۔عامر کو چھٹی تھی اس لی وہ گھر پر ہی تھآ۔۔ مومنہ ناشتہ بنانے کچن میں آٸ۔۔اپنی دھن میں ناشتہ بنا رہی تھی جب رابعہ بول پڑی۔۔۔
ہمارے کچن میں تمیز سے رہنا۔میرے باپ کا کھاتی ہے اور نخرے کرتی ہ۔۔۔ رابعہ کپڑے استی کرتے بک بک کر رہی تھی۔۔۔
مومنہ سر جھٹک کر کام میں لگ گٸ۔۔ یہ تڑ کسی اور کو دکھانا میں ڈرتی نہیں ہوں۔ مومنہ کی خاموشی پر رابعہ دوبارہ بولی۔۔
مجھے چپ رہنے دو۔۔تنگ مت کرو۔۔
مومنہ نے پلٹ کر غصے سے کہا۔۔
رابعہ نے استری چھوڑ کر ہاتھ کمر پر رکھ کرکہا
مومنہ پاس پڑا بیلن اٹھا کر اس کے پاس گٸ۔۔
تنگ کیوں کر رہی ہو یہ بیلن دیکھا ہے نا۔۔۔
مومنہ ںے ڈرانے کی غرض سے اسے بیلن دکھایا۔۔
رابعہ آگے بڑھی اور بیلن اس یے ہاتھ سے چھین کر مومنہ کے سر پر دے مارا۔۔اور بس وہ لمحے تھے کہ مومنہ کا سر چکرا کر رہ گیا ۔۔۔سلمہ دور کھڑی مسکرا کر یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔ اریبہ نے بھی رابعہ کا ساتھ دیتے ہوۓ مومنہ کو مارنا شروع کر دیا۔۔
چہرے پر تھپڑ پیٹ میں مکوں کی برسات کر دی۔۔اسے نیچے گرا کر خوب گالیاں بکی۔۔
ارسلان بھاگ کر عامر کے پاس گیا اور اسے صورتحال سے آگاہ کیا
عامر فوراََ وہاں پہنچا اور بے سدھ پڑی مار کھاتی مومنہ کو چھڑایا۔۔
مومنہ کے کپڑے خون سے لت پت ہو چکے تھے اس کے پیٹ میں مارنے کی وجہ سے اسے بلیڈنگ شروع ہو چکی تھی۔۔ عامر نے اریبہ کو تھپڑ جڑ دیا
سلمہ بھی اسی لمحے حرکت میں آٸ اور راپعہ اور اریبہ کو لے کر کمرے میں چلی گٸ۔۔
عامر مومنہ کو لے کر کمرے میں آگیا ۔۔مومنہ درد سے بے حال بستر پر ڈھے گٸ۔۔
عامر نے فوراََ عرفان کو کال کر کے ساری بات بتاٸ۔۔عرفان نے مومنہ سے بات کروانے کو کہا۔۔
مومنہ یہ بات گھر میں ہی رکھنا میں آرہا ہوں۔۔عرفان کا اشارہ مومنہ کے میکے کی طرف تھا۔۔ میں فون کر کے بتا رہی ہوں سب کو۔۔
مومنہ نے سپاٹ چہرے سے کہا۔
نہیں مومنہ اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دو میں آ کر انہں منع کر دوں گا آٸیندہ ایسا نہیں ہو گا۔۔
عرفان کے لہجے میں منت تھی۔۔۔مومنہ نے بغیر کچھ کہے کھٹاک سے فون بند کر دیا
عامر خاموشی سے ساری کارواٸ دیکھتا رہا
مومنہ نے بلال چاچوکو فون کر کے ساری بات بتاٸ انہوں نے عرفان سے بات کرنے کا کہہ کر کال کاٹ دی۔۔
کچھ دیر بعد مومنہ کی مما کو فون آیا۔۔ان کے لہجے سے پتا چل گیا تھا کہ انہیں اس معاملے کا بلکل نہیں پتا۔۔مومنہ نے ان کی معلومات میں بھی اضافہ کیا اور ساری بات بتا دی۔۔ اور شہزد صاحب کو کچھ بھی بتانے سے منع کر کے کال کاٹ دی۔۔
عامر کو تھوڑی دیر میں عرفان کی کال آ گٸ۔
ابو وہ کچھ نہیں کہتے آپ گھر آ جاٸیں وہ صرف بات کریں گے بس۔۔
عامر نے انہیں ضمانت دی اور کال کٹ گٸ۔۔
کیا ہوا۔؟ مومنہ نے سپاٹ چہرے سے پوچھا نہ وہ اداس تھی نہ رو رہی تھی ۔۔ عامر اس کے تاثرات سے خوفزدہ ہوا تھا
کچھ نہیں بس انہیں ڈر ہے کہ تمہارے پاپا انہیں ماریں گے ۔۔تم جانتی ہو وہ کتنے سخت ہیں۔ابو گھر نہیں آ رہے ہں۔۔ کہہ رہے ہیں میں بھاگ جاوں گآ۔۔
عامر نے تفصیل بتاٸ۔۔
میرے ساتھ زیادتی کرتے انہیں خوف نہیں آیا۔۔؟ مومنہ نے استہزایہ کہا عامر نے سر جھکا لیا۔