Susraal by Momina Rizwan | Emotional Urdu Domestic Abuse Story NovelM80015 Susraal (Episode 06)
Susraal (Episode 06)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Susraal By Momina Rizwan
عامر مومنہ کو درد میں دیکھ کر کافی اداس تھا۔۔ ہسپتال سے چاچو کے گھر لے جاتے وقت اس نے فون کر کے گھر مومنہ کے بارےمیں بتا دیا تھا۔۔۔ ان لوگوں کی بے رخی پر عامر اور دکھی ہوا تھا۔۔مومنہ نے عامر کے چہرے کو دیکھا ۔ضبط سے اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی اس نے خود کو رونے سے باز رکھا تھا آنسوو بار بار آنکھوں سے بہہ پڑتآ۔۔
وہ مرد تھا مگر بہت کمزور دل مرد تھا۔۔ مومنہ کی طبیعت خرابی پر یوں ہی رو پڑتا۔۔ وہ جیسا بھی تھا
مگر مومنہ پر جان دیتا تھا۔۔اگر غصہ کر بھی دیتا تھا تو یہ اس کی فطرت تھی۔۔ مرد تو ہوتے ہی انا زادے ہیں۔۔اپنی انا پر سوال اٹھانے والی انگلی برداشت نہیں کر سکتے۔۔عامر کو بھی اس کچھ عرصے میں احساس ہو گیا تھا کہ مومنہ کیا کیا سہہ رہی ہے۔۔۔ اسےپچھتاوہ تھا اپنی لاعلمی پر ۔۔۔ اسوقت وہ صرف مومنہ کو سوچ رہا تھا جو درد سے رو رہی تھی۔۔عامر کے پاس تسلی کے الفاظ بھی نہیں تھے اسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔۔
***۔
چاچو کے گھر پہنچ کر مومنہ پر سکون ہو گٸ۔۔درد بڑھتا جا رہا تھا اور دل کی دھڑکن تیز سے تیز تر ہو رہی تھی۔۔ایک طرف ماں بننے کی خوشی اور دوسری طرف عجیب سا ڈر تھا کہ کیا ھو گا۔۔۔۔۔
مومنہ کو گھر کے نیچے والے پورشن میں رکھا تھا تا کہ وہ پر سکون رہ سکے۔۔
پرآٸیویٹ کلینک سے ایک لیڈی ڈاکٹر کو بلوا کر مومنہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی گٸ۔۔ مومنہ کی مما اس کے ساتھ ساتھ رہی تھیں۔۔ اس کی چاچی ناذیہ اس کے لیے بار بار کچھ کھانے کو لے آتیں۔۔ ان کے پیار کو دیکھ کر مومنہ بے ساختہ مسکرا دیتی۔۔۔
رات مغرب کے وقت سلمہ عرفان صاحب اور عظمی ممانی وہاں آن ٹپکے۔۔
اچھی خاصی دعوت اڑا کر بغیر مومنہ کو تسلی دیے یا کوی مدد کیے گھر جانے کی تیاری میں کھڑے ہو گے۔۔۔
سلمہ کو رات رکنے کا کہا تو اس نے بے نیاذی سے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ اس کی چھوٹی بیٹی اس کے بغیر سوتی نہیں ہے اگر رات میں بچہ پیدا ہو جاے تو ہمیں بتا دینا ورنہ صبح آ جاٸیں گے ہم۔۔
ان لوگوں کا اس قدر بے حس پن شازیہ بیگم سمیت سب کو حیران کر گیا۔۔۔ رات عشا۶ کے بعد مومنہ سے شازیہ نے اصرار کر کے پوچھا تو مومنہ نے انہیں ساری باتیں بتا دیں جو شادی کے بعد سسرال میں اس نے سہی تھیں۔۔۔
غم و غصے سے شازیہ بیگم لال ہو گٸ تھں۔۔
مومنہ کا مرجھایا چہرہ دیکھ کر بے ساختہ ان کی آنکھیں نم ہو گٸیں تھیں۔۔۔ اتنے لاڈ پیار سے پالا تھا انہوں نے اس معصوم پری کو۔۔۔۔ کبھی گرم ہوا بھی نہ لگنے دی تھی۔۔۔ اچھے لوگ سمجھ کر وہاں شادی کروا دی تھی اور وہ کیسے نکلے تھے۔۔۔ ان کی بیٹی کب اتنی سمجھدار ہو گٸ تھی کہ ان سے باتیں چھپانے لگی تھ۔۔ کبھی چھوٹے بھای سے لڑای ہو جاتی یا کوی چیز نہ ملتی تو گھر سر پر اٹھا لیتی تھی اور اب مسکرا کر ہر درد سہہ رہی تھی۔۔۔۔
رات کے تین بج گے جب مومنہ ٹھیک نہیں ہوٸ تو اسے ہسپتال شفٹ کر دیا گیا۔۔۔درد برداشتر کرتے کرتے بلآخر دن کے دو بجے مومنہ نے ایک خوبصورت اور ننھے سے وجود کو جنم دیا۔۔۔ بلکل مومنہ کی فوٹو کاپی تھا۔۔۔ بڑی بڑی آنکھیں۔۔مگر ان کا رنگ کالا تھاجبکہ مومنہ کی آنکھیں بھوری تھیں۔۔۔ چھوٹی سی ناک اپنے دادا پر گٸ تھی اور پتلے سے ہونٹ نجانے کس کی مشابہت رکھتے تھے۔۔خیر وہ ننھا وجود دیکھ کر مومنہ ہر درد بھول گٸ اور خوشی سے اس کی آنکھیں بھر گٸ۔۔ سب درد اس نے اپنی اولاد کو دنیا میں لانے کے لیے ہی رو جھیلا تھا۔۔ایک ماں ہر درد اپنی اولاد کی خاطر مسکرا کر سہہ لیتی ہے۔۔۔
ماں اور بچہ دونوں کو روم میں شفٹ کر دیا گیا۔۔ایک بات مومنہ کو سمجھ آ گٸ تھ۔۔سرکاری ہسپتالوں میں بغیر جان پہچان اور سفارش کے ڈاکٹرز مریض کو خاص اہمیت نہیں دیتی تھیں۔۔۔ مومنہ کے ساتھ والے بیڈ پر عورتیں تڑپتی اور چیختی رہیں تھیں مگر بنہیں ڈپٹ کر خاموش کر دیا جاتا۔۔۔ جس کی سفارش ہوتی اس کے آگے پیچھے بھاگ رہی ہوتی تھیں۔۔مومنہ کے والد ڈاکٹر تھے اور ان کی موجودگی کی وجہ سے مومنہ کا اچھی طرح خیال رکھا گیا تھا۔۔۔
سلمہ جوں ہی کمرے میں آٸ فوراََ بچے کو اٹھا کر گود میں رکھ لیا۔۔۔
مومنہ نے شازیہ بیگم کی طرف دیکھا جو نا گواری سے سلمہ کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔ مومنہ ایک سرد آہ بھر کر رہ گٸ۔ کچھ دیر بعد ہی وہ سب گھر لوٹ آۓ۔۔ شازیہ بیگم بچے اور مومنہ کو لے کر کمرے میں آ گٸیں ۔۔۔ تین دن وہ مومنہ کے پاس رہیں۔۔اور ان تین دنوں میں مومنہ کو کسی نے کھانے کا بھی نہیں پوچھا اور نہ ہی بچے کو دیکھا۔۔سلمہ کے علاوہ کسی نے بچے کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا۔۔ شازیہ بیگم خود جا کر کھانا لے آتی۔۔ تیسرے دن جب ان کی بس ہوٸ تو وہ مومنہ اور بچے کو لے کر اپنے گھر لے آٸیں۔۔۔۔
مومنہ اپنے میکے میں تھی جب اسے خبر ملی کہ ناٸلہ بھی ہسپتال میں ایڈمٹ ہے اور سلمہ ایک ہفتے سے اس کے ساتھ ہسپتال میں ہے۔۔۔آپریشن سے ناٸلہ کو ایک بیٹی ہوٸ۔۔ مومنہ ایک سرد آہ لے کر رہ گٸ۔۔ مومنہ کی باری سلمہ نے بہانہ بنا دیا تھا اور نآٸلہ کے ساتھ ایک ہفتے سے ہسپتال ہے۔۔اور اتنا ہی نہیں ناٸلہ کے آپریشن کے بعد بچی اور ناٸلہ دونوں کو سلمہ نے بڑی لگن سے سنبھالا تھا۔۔ عامر اور مومنہ نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا تھا۔۔جتنا خیال ناٸلہ کا رکھا گیا تھا اتنا مومنہ کا حق بھی تو تھا۔۔آخر اس معصوم نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جو اتنی نفرتیں جھلنی پڑیں۔۔۔
عامر آفس کے سلسلے میں اکثر گھر آجاتا اور کبھی کبھار مومنہ سے ملنے چلا جاتا تھا۔۔۔۔
مومنہ امی کہہ رہی تھیں تم نے ان کے کچھ برتن چوری کر لیے ہیں کافی شور ڈالا تھا رات میں انہوں نے۔۔۔
عامر آج مومنہ سے ملنے آیا تھا۔۔اور سلمہ کے تماشے کے بارے میں اسے بتایا
کونسے برتن۔۔۔؟؟؟ مومنہ نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
امی کہہ رہی تھیں کہ تم سٹور سے کچھ چیزیں چرا کر لے گٸ ہو ان کے کچھ برتن بھی تھے۔۔۔
عامر نے بتایا تو مومنہ غصے سے بھر گٸ۔۔ اور آپ نے انہیں کچھ نہیں کہآ؟؟؟
میں نے کہا کہ میں پوچھوں گا وہ چوری نہیں کر سکتی۔۔۔ عامر نے یوں بتایا جیسے کوی تیر مار آیا ہو۔۔
عامر آپ کی بیوی پر چوری کا الزام لگایا گیا ہے اور آپ نے کچھ کہا بھی نہیں۔۔۔؟؟
مونہ غصے میں بولی تو عامر سر جھکا گیا
شازیہ بیگم نے دونوں کی باتیں سن لی تھیں۔۔وہ شہزاد صاحب سے بات نہیں کر سکتی تھیں۔۔کیوںکہ وہ غصے کے بہت تیز تھے اگر کچھ الٹا سیدھا کہہ دیتے تو بات بگڑ سکتی تھی۔۔۔۔
ایک بار گھر پہنچنے دو اب نہیں بخشوں گی ان لوگوں کو۔۔۔۔۔
مومنہ نے دل میں فیصلہ کر لیا اور آنے والے وقت کے لیے ذہن کو تیار کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے پتا چل گیا تھا کہ خاموش رہنے سے یہ لوگ اسے خوب دباٸیں گے۔۔۔
لیبر پین سے کچھ دن پہلے ہی اس نے سٹور کو صاف کیا تھا۔۔جالوں اور دھول سے بھرا ہوا سٹور اس نے کچھ گھنٹوں می صاف کر دیا تھا اور وہاں موجود ایک پھٹی ہوی دری اسے ملی تو وہ اسے اٹھا کر کمرے میں لے گٸ۔۔ اسے سلاٸ کر کے کمرے میں بچھا لی تھی۔۔۔سلمہ کو اسی کا غصہ تھا اس لیے الزام لگا رہی تھی۔۔ورنہ سٹور میں ایک بھی برتن موجود نہیں تھا صرف پرانا فرنیچر تھا جو مومنہ نے صاف کر کے چمکا دیا تھا۔۔جس کا کریڈیٹ رابعہ کو مل گیا تھا۔۔سلمہ نے سب کو یہی بتایا کہ رابعہ نے یہ سٹور صاف کیا ہے۔۔۔محنت مومنہ کی اور کریڈیٹ رابعہ لے گٸ۔۔