📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="155"]
56650 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

عفرا آئینے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی۔۔۔ اسنے میروں کلر کی گھٹنوں تک آتی ایمبرائڈڈ شرٹ کے ساتھ کیپری زیب تن کی ہوئی تھی۔۔۔ بالوں کو ہاف کیچر میں مقید کئے وہ ہلکی سی فاوئنڈیشن لگانے کے بعد اب میرون ہی لپسٹک لگا رہی تھی۔۔ میروں کلر سے ہونٹ رنگتے ہی انہوں نے چہرےکو ایک الگ ہی جازبیت بخشی تھی۔۔۔

وہ اپنا عکس آئینے میں دیکھتی مسکرا دی۔۔۔ وہ واقعی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔

امان کا کچھ دیر پہلے ہی اسے فون آیا تھا خالہ چونکہ اپنے کسی جاننے والے کی عیادت کرنے گئ تھیں اس لئے امان نے کہا تھا کہ وہ آج لنچ باہر ہی کریں گئے۔۔۔

ویسے بھی انکا ڈنر کافی مہینوں سے پینڈنگ تھا۔۔۔ ہر دفعہ ڈنر کے وقت کوئی نا کوئی مسلہ ہی ہو جاتا تھا ۔۔۔ اس لئے آج امان بھی کچھ فارغ تھا تو انہوں نے لنچ ہی باہر کرنے کا سوچا تھا۔۔۔

باہر سے بائیک کے ہارن کی آواز سنائی دی تو وہ بعجلت چادر اپنے اوپر اوڑھتی باہر کو بھاگی۔۔۔

ویسے آج یہ آپ نے اتنی کرم نوازی کیسے کر دی کہ مجھ غریب کے لئے آپ نے وقت نکال لیا۔۔۔ وہ اسکے پیچھے بائیک پر بیٹھتی شرارت سے گویا ہوئی۔۔۔

پچھلے کافی عرصے سے اسکی واقعی یہ ہی روٹین تھی کہ وہ گھر پر بہت کم ٹکتا تھا۔۔۔

مدرز ڈے والے واقع کے بعد اسے اتنی پبلسٹی مل چکی تھی کہ اس شہر میں تو اسکا جو کام چلا سو چلا تھا اسنے دوسرے دو اور شہروں میں اپنی بھی کئ انویسٹرز کی مدد سے برانچیں کھولیں تھیں۔۔۔ یعنی اپنے اپنے شہروں کے وہ لوگ جو اسکے کام سے متاثر تھے اور سرمایا رکھتے تھے انہوں نے امان سے کولیبریٹ کرکے اسی کے نام سے اپنے علاقوں میں اسکی برانچیں کھولیں تھیں۔۔۔ یوں ان برانچوں سے ایک فکس پڑافیٹ ہر مہینے امان کو ملنا تھا۔۔۔ کیونکہ نام اسکے اسٹیبلشڈ بزنس کا چل رہا تھا۔۔۔

اور اب اس مقام پر اسے اپنا معیار بھی برقرار رکھنا تھا اس لئے وہ ہر چند دنوں بعد ان دوسری برانچز میں بھی چکر لگاتا وہاں ہر چیز دیکھتا تھا۔۔۔ جہاں کوئی کمی بیشی معلوم ہوتی اسے دور کرتا تھا۔۔۔ ان سب کاموں میں محنت تھی اور وقت درکار تھا۔۔۔ جتنی اسے کامیابی مل رہی تھی وہ مزید کام کے لئے ڈیوشنل ہوتا جا 0رہا تھا۔۔۔ اسکے پاس تو اب فرصت سے سانس لینے تک کا وقت نا تھا۔۔۔ اب تو آئے روز اسکے دوسرے شہروں میں بھی چکر لگتے۔۔۔

مزید وہ اپنے شہر میں اب اپنا ڈریم ٹی پلیس جسکا نقشہ وہ ابتدائی دنوں سے دیکھ دیکھ کر خود کو ہمت دلاتا رہا تھا اسکی بنیاد رکھنے جا رہا تھا۔۔۔ جاگتی آنکھوں سے اسنے جو خواب دیکھا تھا اسکی تعبیر حاصل کرنے کی طرف پہلا قدم بڑھانے جا رہا تھا۔۔

اس سب میں عفرا اسکی مزید قدر کرنے لگی تِھی جو اتنے مصرف اور ٹف شیڈیول میں بھی اسے اور ماں کو فراموش نہیں کرتا تھا۔۔۔ دن میں کئ کئ دفعہ فون کر کے ان کی سرگرمیوں سے آگاہ رہتا تھا۔۔۔

جی جی بس۔۔۔ عاجز سے بندے ہیں ہم ۔۔۔ بتانا چاہتے ہیں کہ اتنی مصروفیت میں بھی ہم آپکو بھولے نہیں۔۔۔ وہ بھی مسکرا کر گویا ہوا تو عفرا کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔

ایک فائو سٹار ریسٹورینٹ کے سامنے بائیک روک کر وہ اسے لئے اندر بڑھا ۔۔۔ عفرا حیرت سے اسکے ساتھ اندر بڑھتی ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔۔ کسی فائیو سٹار ریسٹورینٹ میں آنے کا یہ اسکا پہلا تجربہ تھا۔۔۔ اس سے پہلے وہ امان کیساتھ آئسکریم کھانے یا فاسٹ فوڈ سپاٹ تک ہی گئ تھی۔۔۔

اس ہائی کلاس ماحول میں وہ قدرتی طور پر خود کو کافی غیر آرام دہ محسوس کر رہی تھی۔۔

امان نے اپنے لئے عفرا کی وجہ سے پرائیورٹ کیبن بک کروایا تھا اور کیبن میں داخل ہوتے ہی عفرا کی حیرت کی انتہا نا رہی کہ کیبن کو طرح طرح کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔

مطلب کہ یہ سب پری پلین تھا۔۔۔

عفرا خوشگوار حیرت میں گھری امان کو دیکھنے لگی جو مسکراتا ہوا اسکے چہرے کے اتار چڑھاو سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔۔۔

یہ سب کیا امان۔۔۔

ششش۔۔۔ آج کا دن بالخصوص میری اس جنگلی بلی کے نام ہے۔۔۔ اسنے عفرا کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے اسے کچھ بھی کہنے سے روکا اور اسے لئے وہاں خوبصورتی سے سجائی گئ گول کے میز کے گرد کرسی کھینچ کر بیٹھایا۔۔۔

اور اس دن کو بالخصوص اپنی جنگلی بلی کے نام کرنے کی کوئی خاص وجہ۔۔۔ وہ کہنی میز پر ٹکائے ہاتھ کی ہتھیلی پر چہرا رکھے شرارت سے گویا ہوئی۔۔۔

وجہ۔۔۔ ہممم۔۔۔۔ بہت کچھ پینڈینگ رہتا تھا جو میں کرنا چاہتا تھا مگر وقت نہیں مل رہا تھا تو آج کچھ فرصت تھی تع سوچا کہ آج یہ کارخیر بھی انجام دے ہی دیا جائے۔۔۔

وہ مسکرا کر اسکے چہرے کو دیکھتا گویا ہوا جب دروازہ ناک کر کے ویٹر انکا آرڈر لئے اندر داخل ہوا ۔۔۔ گویا وہ آرڈر بھی پہلے دے چکا تھا۔۔۔

امان خیرت ہے نا۔۔۔ آج آپ اتنے مشکوک کیوں لگ رہے ہیں۔۔۔ عفرا نے رغبت سے کھانا کھاتے ناسمجھی سے امان کو دیکھتے کہا۔۔۔ سارا کھانا ہی اسکی پسند کو مدنظر رکھتے آرڈر کیا گیا تھا۔۔۔

تمہیں کہاں سے میں مشکوک لگ رہا ہوں لڑکی۔۔۔ اب بندہ اپنی بیوی کو لنچ بھی نہیں کروا سکتا۔۔۔ وہ عفرا کی حیرت انجوائے کر رہا تھا وہ الجھی الجھی سی اسے اور بھی پیاری لگی۔۔۔

لنچ تک تو ٹھیک ہے لیکن یہ ساری سجاوٹ۔۔۔ وہ ہنوز حیرت زدہ تھی۔۔۔

تبھی امان نے مسکراتے ہوئے جیب سے ایک مخملی ڈبی نکالی اور آنکھوں میں جذبوں کا ایک سمندر بسائے عفرا کی جانب بڑھائی۔۔۔

تمہاری رونمائی کا تحفہ عفرا۔۔۔ کچھ زیادہ ہی لیٹ ہو گیا نا۔۔۔ اب تو جلد ہی ہماری شادی کو سال بھی ہونے والا ہے لیکن خیر دیر آئے درست آئے۔۔۔ اور یہ تحفہ میں تمہیں اچھے سے ماحول میں دینا چاہتا تھا۔۔۔

وہ ڈبی دیکھ کر عفرا کھل اٹھی تھی اسکی آنکھوں میں چمک کیساتھ ساتھ چہرے پربھی ایک خوبصورت سی مسکراہٹ ابھری۔۔۔

میں تو اسے بھول چکی تھی امان ۔۔ وہ پرجوش سی امان کے ہاتھ سے وہ ڈبی پکڑتی اسے کھولنے لگی۔۔۔

مائے گاڈ امان یہ۔۔۔ ڈبی کھول کر دیکھتے اسکی مسکراہٹ سمٹی اور وہ حیرت سے منہ کھولے امان کو دیکھنے لگی۔۔۔۔

کیا ہوا ہسند نہیں آئے۔۔۔ امان ٹیبل پر کہنیاں ٹکائے آگے کو جھکا۔۔۔

امان یہ بہت قیمتی ہیں۔۔۔ وہ ہنوز شاک کی کیفیت میں گویا ہوئی۔۔ جیسے وہ اس تحفے کی توقع نا کر رہی ہو۔۔۔ ڈبی میں موجود ہیروں کی چمک اسکی آنکھیں چندھیا رہی تھی۔۔۔

میری جنگلی بلی کی مسکراہٹ سے زیادہ قیمتی نہیں۔۔۔ وہ مسمرائز سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو ہنوز شاک کی کیفیت میں تھی لیکن اسکی معصوم صورت پر یہ تاثرات بھی جچ رہے تھے۔۔۔

امان۔۔۔ اسنے کچھ کہتے کہتے پھر سے اس ڈبی کو دیکھا جہاں پر ڈائمند ایئر رنگ اپنی طرز کا آپ نمونہ پیش کر رہے تھے۔۔۔

شادی کے بعد پہلی دفعہ کوئی لیڈیز چیز ہسند آئی تھی مجھے لیکن تب انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں تھی۔۔ اس لئے اس روز میں نے وہ وائٹ گولڈ کی انگوٹھی خرید لی اور اسے اپنی رونمائی کے تحفے کے طور پر پینڈینگ رکھ لیا تھا۔۔۔

امان نے اس کے ہاتھ سے ڈبی پکڑتے اس میں سے ایک ایئر رنگ نکالا۔۔۔

لیکن امان ابھی اپنا ٹی پوائنٹ بنانے کے لئے آپکو ایک ایک روپے کی ضرورت ہے ایسے میں آپ کیسے ان ایئر رنگز پر اتنے پیسے لگا سکتے ہیں۔۔۔ یہ تھعوڑی نا کہیں بھاگے جا رہے تھے۔۔۔ ایسے مواقع پر تو لوگ اپنے پاس موجود جیولری تک بیچ دیتے ہیں کہ بزنس اسٹیبلش ہو جائے پھر سب بن جائے گا۔۔۔

لیکن آپ ۔۔ آپکی تو ہر کل ہی نرالی ہے۔۔ الٹی کھوپری ہیں آپ۔۔۔

وہ تاسف سے اسے دیکھتی گویا ہوئی جبکہ امان اسکی اتنی لمبی اور جذباتی تقریر سن کر مسکرا دیا۔۔۔

میں نے اس چیز پر بہت سوچا عفرا۔۔۔ کوئی شک نہیں کہ مجھے اس وقت ایک ایک روپے کی ضرورت ہے۔۔

میں نے انسٹالمنٹ پر جگہ لی ہے جہاں ہر میں ایک شاندار عمارت کو اپنے ٹی پوائنٹ سی اے چائے والا کے نام سے بنانے جا رہا ہوں جس پر مجھے اچھی خاصی انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔۔۔

اسکے بعد مجھے اپنی بہتر رہائش گاہ کا انتظام کرنا ہے اور پھر اس کے بعد کسی اچھی کنوینس کا۔۔۔

یعنی کے میرے اگلے کئ سال سٹرگل میں گزرنے والے ہیں تو ایسے میں اگر میں اپنے رونمائی کے تحفے کو ٹالتا رہتا تو شاید ہمارے بچے بھی جوان ہو جاتے۔۔۔ تو اسکا سب سے بہترین وقت مجھے ابھی لا۔۔۔ کہ ہر چیز پس پشت ڈال کر اسے ابھی خریدا جائے۔۔۔ ویسے بھی میں زرا سا پڑیکٹیکل انسان ہوں اور ہر چیز کو اسکی پریڑایٹی کے حساب سے کرتا ہوں اس لحاظ سے ہمارا رشتہ میری پہلی ترجیح ہے اور یہ چیز ہمارے رشتے سے منسوب ہے اس لئے اس تحفے کے لئے سب سے بہتریں وقت مجھے یہ ہی لگا۔۔

باقی سب وقت کیساتھ ساتھ چلتا رہے گا۔۔۔ اب تم یہ بتاو کہ تمہیں یہ ایئر رنگز کیسے لگیں۔۔۔

وہ اپنی جگہ سے اٹھتا اسکے اطراف میں آکر کھڑا ہوا۔۔۔ اور جھک کر اسکے کان میں آویزا ائیر رنگ نکال کر وہ ایئر رنگ پہنانے لگا۔۔۔ ااکے اتنے مفصل جواب پر عفرا خاموش ہو گئ بھلا باتوں میں بھی کوئی امان سے جیت سکتا تھا کیا۔۔۔

ایک کان میں پہبانے کے بعد اسنے جھک کر ڈبی سے دوسرا ایئر رنگ نکالا اور گھوم کر اسکے دوسرے کان میں پہنایا ۔۔۔

Now you look the prettiest girl of the word…

ایئر رنگز پہنانے کے بعد وہ اسکے چہرے کو بغور دیکھتا جھک کر اسکے ماتھے پر مہر محبت ثبت کر گیا۔۔۔ ایک خوبصورت مسکراہٹ نے عفرا کے چہرے کا احاطہ کیا۔۔۔ وہ اس وقت خود کو ہواوں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ بلاشبہ آسودہ ازواجی زندگی کے لئے ایک قدردان شوہر سے بڑھ کر اور کچھ نا تھا۔۔۔ وہ دونوں ہی ایک فسوں میں جھکڑے تھے جب عفرا کے فون کی بیل نے اس فسوں کو توڑا۔۔۔

جی اسلام علیکم امی۔۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔۔ فون کی سکرین پر چمکتا ماں کا نمبر دیکھ کر وہ مزید کھل اٹھی۔۔ لیکن فون سے ابھرتی آواز سن کر اسکی نگاہوں کے سامنے زمین آسمان گھوم گئے۔۔۔

امان۔۔۔ مجھے ہسپتال جانا ہے۔۔۔ صی۔۔۔ صلہ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔ اسکی کندیشن کافی سیریس ہے۔۔۔ بعجلت فون بند کرتی وہ تڑپ کر کھڑی ہوئی۔۔۔

ہمم۔۔ چلو ۔۔ امان اسکے پریشان حال چہرے کو دیکھتا سر ہاں میں ہلاتا باہر نکلا۔۔۔۔

****

بالاج اسے یوں ہاتھوں سے لڑھکتا دیکھ چکرا کر رہ گیا تھا تبھی اسے بانہوں میں بھرتا دیوانہ وار باہر کو بھاگا۔۔۔ جاتا جاتا وہ چچی کو انفارم کرنا نہیں بھولا تھا۔۔۔ وہ اکیلا اسے نہیں سمبھال سکتا تھا اور اپنے گھر والوں سے اسے کوئی توقع نا تھی۔۔۔

ہسپتال آتے ہی صلہ کا فوری ٹریٹمنٹ شروع ہو گیا تھا۔۔۔ بالاج ہسپتال کی راہداری میں ہریشان حال سا چکر کاٹ رہا تھا جبکہ ماں سامنے بینچ پر بیٹھیں مسلسل آیات کا ودر کرتیں صلہ کی صحت و تندرستی کے لئے دعا گو تھیں۔۔۔۔

دفعتاً ڈاکٹر کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تو بالاج بھاگ کر اسکی جانب لپکا۔۔۔

مسٹر بالاج ہم نے آپکو پہلے ہی بتایا تھا کہ انکی پریگنینسی میں بہت کمپلیکیشنز ہیں انہیں سٹریس سے بالکل دور رکھا جائے ورنہ ماں اور بچے دونوں کی زندگی کو خطرہ ہے۔۔۔

اب انکا بی پی خطرناک حد تک شوٹ کر چکا ہے۔۔۔ انکی طبیعت ہر گزرتے لمحے کیساتھ بگڑ رہی ہے۔۔۔ جب تک انکا بی ہی نارمل نہیں ہوتا ہم انکا آپریٹ بھی نہیں کر سکتے۔۔ بچے کی دل کی دھرکن بہت سلو ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے ہمیں جلد از جلد آپریٹ کرنا ہوگا۔۔۔ لیکن اس سب کے لئے بی پی نارمل ہونا انتہائی ضروری ہے ورنہ ماں اور بچہ دونوں ہی زندگی ا

سے ہاتھ دھو سکتے ہیں ۔۔۔

انکا ٹریٹمنٹ جاری ہے ہم مکمل کوشیش کر رہے ہیں آپ دعا کریں۔۔۔ اللہ بہتریاں کرنے والا ہے۔۔۔لیکن اس سے پہلے آپکو کچھ پیپز پر دستخط کرنے ہونگے۔۔۔ کیونکہ انسان کے ہاتھ میں محض کوشیش ہی ہوتی ہے۔۔۔ ان پیپرز پر دستخط آپکی جانب سے ایک اجازت نامہ ہے کہ دوران آپریشن اگر کوئی مسلہ ہو جائے تو ڈاکٹر یا ہسپتال اس سب کا ذمہ دار نہیں یہ سب آپکی اجازت سے ہی ہوا ہے۔۔۔

ڈاکٹر اسے تفصیلی جواب دے کر وہاں سے چلی گئیں لیکن بالاج کو لگا جیسے وہ پتھر کا ہو گیا ہو۔۔۔ اسنے تو اپنی طرچ سے صلہ کو ہر طرح کی پریشانی سے دور رکھنے کی بھرپور کوشیش کی تھی۔۔۔

تبھی عفرا اور خالہ بھی بوکھلائی سی وہاں پہنچیں۔۔۔ بیٹی اور بہن کا سہارا پا کر ماں کے تب سے ضبط کئے آنسو بہہ نکلے۔۔۔ اندر جگر کا ٹکرا ز ندگی اور موت کی کش مکش میں جھول رہا تھا وہ باہر ماں بھلا کیسے پرسکون بیٹھ سکتی تھی۔۔ وہ تو بیٹی اور اسکے بچے دونوں کی سلامتی کے لئے دعا گو تھیں۔۔۔

کچھ نہیں ہو گا صلہ کو ماں ۔۔۔ اللہ ہے نا ہمارے ساتھ آپ بس اس سے دعا کریں اور ماں کی دعا تو ویسے ہی بڑی جلدی قبول ہوتی ہے۔۔۔ وہ ماں کے سینےسے لگی خود رو رہی تھی لیکن ماں کو بھی حوصلہ دے رہی تھی۔۔۔

صلہ کےسسرال سے کسی نے بھی وہاں آنے کی زحمت نا کی تھی۔۔ اور بیٹی کی حالت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی بے حسی بھی ماں کا دل چیر رہی تھی۔۔۔

*****