
khwab e Junoon by Umme Hani NovelM80032 Episode 02
Episode 02
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
افف اللہ۔۔۔۔۔ منیبہ امان کیساتھ گھر پہنچی تو نعمان آفس جا چکا تھا۔۔۔ چوکیدار نے اسے دیکھتے ہی گیٹ وا کیا تو وہ بھائی کو خداحافظ کہتی مغیث کو اٹھا کر اندر بڑھ گئ۔۔۔
چھوٹے مگر خوبصورت سے لان سے گزر کر اسنے لکڑی کا منقش داخلی دروازہ وا کیا تو ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے نے اسکا استبال کیا گویا نعمان ابھی ابھی اے سی بند کر کے گیا ہو۔۔۔۔ لاوئنج میں ہی اسے ٹھٹھک کر رکنا پڑا۔۔۔۔ وہ گھر کی حالت دیکھ کر سر تھام کر رہ گئ۔۔۔ ہر چیز بکھری پڑی تھی کھانے کے برتن سینٹرل ٹیبل پر لڑھک رہے تھے ۔۔۔ کئ جرنل بھی وہیں پڑے تھے۔۔۔
سیون سیٹر صوفے پر ہی سرہانہ اور کمفرٹر پڑا تھا غالباً اسکے جانے کے بعد لاوئنج کو ہی بیڈ روم سٹڈی روم اور ڈائینیگ کے طور ہر استعمال کیا گیا ہو۔۔۔
عموماً نعمان ایک نفاست پسند شخص تھا۔۔۔ منیبہ کے مائیکے جانے کے بعد مکمل صفائی نا سہی مگر وہ اتنا بکھیرا بھی نہیں بکھیرتا تھا یقیناً آج اسے جلدی میں آفس کے لئے نکلنا پڑا تھا تبھی پورا گھر طوفان کے بعد کا منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔
منیبہ نے ایک گہری سانس خارج کی اور ملازمہ کے انتظار کرنے کا ارادہ ملتوی کرتی مغیث کو لے کر بیڈروم کی جانب بڑھی۔۔۔
مغیث کو سلا کر کمرے کا سپلٹ آن کر کے وہ بازو چڑھاتی کمرے سے نکلی ۔۔۔ لاوئنج سے برتن اکھٹے لکرتے اسکے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ ابھری شادی کے بعد کے مناظر اسکی آنکھوں کے سامنے سے گھوم گئے ۔۔۔
منیبہ شادی کے پانچویں روز ہی پرپل کلر کی پاوں کو چھوتی فراک میں ملبوس ہلکا پھکلا سا میک آپ کئے اپنی گھنی آبشار کو ہاف کیچر میں مقید کئے تندہی سے نعمان کی شرٹ استری کر رہی تھی جب وہ واش روم کا دروازہ کھولے جینز میں ملبوس ٹاول گلے میں ڈالے اس سے اپنے بال رگڑتا باہر نکلا۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو منیبہ۔۔۔ منع کیا ہے نہ تمہیِں کہ یوں میرے چھوٹے چھوٹے کام مت کیا کرو۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگتا تم سے اپنے کام کروانا۔۔۔ شادی سے پہلے بھی میں اپنے کام خود ہی کرتا تھا۔۔۔ شادی میں نے تم سے اپنے کام کروانے کے لئے نہیں کی۔۔۔ وہ منیبہ کے شانوں پر ہاتھ رکھتا اسکا رخ اپنی طرف کرتا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا اسے صوفے پر بیٹھا کر خود شرٹ پریس کرنے لگا۔۔۔۔۔
آپکو اچھا لگے یا نا لگے یہ میرا فرض ہے اور آپکے کام کر کے مجھے خوشی ہوتی ہے آپ مجھ سے میری خوشی کا یہ ذریعہ نہیں چھین سکتے۔۔ منیبہ ایک جھٹکے سے اٹھتی نعمان کے ہاتھ سے استری کھینچ کر منہ پھلائے شرٹ استری کرنے لگی۔۔۔
سیریسلی۔۔۔ سچ سچ بتانا منیبہ کہیں شادی سے پہلے اندر ہی اندر مجھ سے محبت تو نہیں کرتی تھی مطلب یہ ارینج میرج تو نہیں لگتی جو اچانک بڑوں کا فیصلہ ہو اور محض چند دنوں میں وقوع پزیر ہو جائے ۔۔۔ مجھے تو معاملات کچھ اور ہی لگتے ہیں۔۔۔ یعنی میری طرف سے تو کنفرم ارینج میرج ہی تھی پرررر۔۔ وہ شرارتی نگاہوں سے اسے دیکھتا بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔۔
انکی شادی اچانک ہی ہوئی تھی نزہت بیگم جنہوں نے نعمان کے ماں باپ کی وفات کے بعد اسکا سگی اولاسے زیادہ خیال رکھا تھا وہ ماں کے بعد اسکی ممانی کم اور ماں زیادہ تھیں۔۔۔
اور ماں ہونے کی حیثیت سے انہوں نے امان سے پہلے نعمان سے اسکی شادی کے حوالے سے رائے پوچھی تھی کیونکہ بقول انکے اب نعمان برسرروزگار تھا تو اب اکیلے رہنے کی کوئی تک ہی نہیں بنتی تھی۔۔۔ ممانی کے پوچھنے پر وہ کافی دیر تک خاموش رہا تھا کیونکہ ابھی تک اسنے اس بارے میں کچھ سوچا ہی نا تھا ۔۔ جیسے آپکو مناسب لگے ممانی جان ۔۔۔ مجھے آپکی پسند پر اعتبار ہے یقیناً آپ میرے لئے کسی اچھی لڑکی کا ہی انتخاب کریں گی۔۔۔ تب انہوں نے اسکے سامنے منیبہ کا نام لے کر اسکی رائے جاننی چاہی تھی۔۔۔ اور اسنے بھی خاموشی سے اپنی رضا مندی دے دی کہ شادی تو کسی نا کسی سے کرنی ہی تھی پھر وہ کوئی بھی ہو لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ لڑکی اسکی زندگی میں اسقدر بہار لے کر آئے گی کہ اسے اپنا اسیر ہی بنا ڈالے گی۔۔
اب بھی وہ مسلسل اسکی ٹانگ کھینچتا اسے چھیڑ رہا تھا۔۔۔ بظاہر خاموش طبع سخت مزاج اور لیے دیئے رہنے والے شخص کی اصل خوشیوں کا محور اب یہ لڑکی بن چکی تھی۔۔۔
سچ سچ بتانا کہیں ممانی کو تم نے فورس تو نہیں کیا تھا مجھ سے شادی کروانے کے لئے کیونکہ مجھے تو یہ لو میرج کا سین لگتا ہے۔۔۔ اب وہ اس سے چند قدم دور سینے پر بازو باندھے مسکراتی نگاہوں سے اسے ایک جذب کے عالم میں دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ تیزی سے شرٹ پریس کرتی منیبہ کا بوکھلانا اوراس کے ہاتھوں کی واضح لرزش پوری شدت سے محسوس کرتا مسکرا دیا۔۔۔ ۔جی نہیں ۔۔۔۔ خیر لو میرج تو نہیں البتہ لو آفٹر میرج ضرور ہے۔۔۔ وہ کھل کر مسکراتی اسے دیکھ کر گویا ہوئی جبکہ اسکی بات پر نعمان کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔
منیبہ سر جھٹک کر مسکراتی جلدی جلدی سارا بکھیرا سمیٹ کر کچن کا رخ کر گئ۔۔۔
سارا کام ختم کرتے کرتے اسے بارہ بج گئے۔۔ مغیث کے رونے کی آواز سن کر وہ کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
امی یہ عفرا کیا کہہ رہی ہے۔۔۔ صلہ دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ ماں کے کمرے میں داخل ہوتی گویا ہوئی ۔۔۔ماں ابھی ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر تسبح کرتیں بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے بیٹھی تھیں۔۔۔ وہ ایک فربہہ مائل پروقار سی خاتوں تھی ۔۔۔ سفید دوپٹہ سر پر اوڑھے ایک ٹانگ مورے ایک ٹانگ کھڑی کئے وہ نہایت پرنور لگ رہی تھیں۔۔۔
کیا کہہ دیا اب عفرا نے۔۔۔ تسبیح کے دانوں پر گردش کرتے انکے ہاتھ ٹھٹکے اور وہ ٹیک چھوڑ سیدھی ہو بیٹھیں۔۔۔
امی یہ کہہ رہی ہے کہ خالہ آئی تھی آج میرا رش۔۔۔ رشتہ۔۔۔ حواس باختگی سے بات کرتے اسکی زبان لڑکھڑائی۔۔ آنکھیں کسی بھی پل چھلک پڑنے کو بے تاب تھیں۔۔
ہاں بیٹا آپا آئی تھیں آج امان کے لئے تمہارا ہاتھ مانگنے میں تو۔۔۔
کیوں امی۔۔۔ وہ ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔۔ کیا سوچ کر انہوں نے میرا رشتہ مانگا اپنے کالے کلوٹے بیٹے کے لئے۔۔۔ نصرت بیگم مسکرا کر اسے بتا رہی تھیں۔۔ حقیقی خوشیوں کے گل انکے چہرے پر کھل پڑے تھے جب صلہ درشتی سے انکی بات کاٹتی چیخ اٹھی۔۔۔
یہ کیا بکواس ہے صلہ ۔۔ یہ تم کس انداز میں بات کر رہی ہو۔۔۔ وہ ناگواری سے گویا ہوئیں
صلہ کے اندازو اطوار دیکھتے نصرت بیگم کے ماتھے ہر جابجا بلوں کا اضافہ ہوا تھا۔۔۔
کیا کمی ہے مجھ میں امی جو وہ میرے لئے اپنے اس کالے۔۔۔۔
بس کردو صلہ یہ تم کونسے الفاظ استعمال کر رہی ہو امان بھائی کے لئے۔۔۔ اچھی خاصی روبدار پرسنالٹی ہے انکی اور کس دیدہ دلیری سے تم انکی کھلتی گندمی رنگت کو کالے رنگ سے تشبیہ دے رہی ہو۔۔۔۔
عفرا جو ان دونوں کا شور سن کر کمرے میں آئی تھی صلہ کی بدزبانی سن کر چٹخ کر گویا ہوئی۔۔۔
تم تو منہ بند ہی رکھو امان کی چمچی نا ہو تو۔۔۔ وہ عفرا کی جانب دیکھتی آنکھیں نکال کر غرائی۔۔۔
تم اب حد سے بڑھ رہی ہو صلہ۔۔ اپنی زبان کو لگام دو۔۔۔ تمہارا یہ جواز ہرگز قابل قبول نہیں۔۔۔ پہلی بات تو امان بہت پیارا اور فرمابردار بچہ ہے دوسری بات وہ برسرروزگار ہے اچھا کماتا۔۔۔
بس کر دیں امی۔۔۔ بس کردیں۔۔۔ بہت اچھا کماتا ہے ۔۔۔ وہ ایک پڑھا لکھا گوار شخص ہے جو پڑھ لکھ کر سڑک کنارے چائے کا ٹھیلہ لگاتا ہے۔۔۔
سی اے چائے والا۔۔۔ ہنہہ۔۔۔۔ آتے جاتے لوگ ہستے ہیں اس پر۔۔۔ خود ہی اپنی ڈگری کا اشتہار لگا کر خود ہی لوگوں کو مذاق اڑانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔۔۔ وہ نخوت سے سر جھٹکتی گویا ہوئی۔۔۔
تمہیں آج ہو کیا گیا ہے صلہ۔۔۔ تم کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔ امان بھائی کے لئے تمہارا لہجہ کس قدر تحقیر آمیز ہے۔۔۔ وہ ایک سیلف میڈ بندے ہیں جنہوں نے حالات کی ستم ظریفی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا نا ہی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔۔۔ خالو کی وفات کے بعد یکدم جیسے انکے گھر کے حالات خراب ہوئے اور باوجود شدید خواہش اور بھرپور تیاری کے وہ سی اے کا داخلہ نہیں بھیج پائے تو انہوں نے بیٹھ کر رونے کی بجائے صفر سے شروع کیا۔۔۔ روڈ کنارے ایک چائے کے ٹھیلے سے شروع کر کے انہوں نے ثابت کردیا کہ کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا محض چھ مہینوں میں ہی وہ چائے کے ٹھیلے سے بڑی دکان تک پہنچ چکے ہیں تم تصور کر سکتی ہو کہ انکا مستقبل کتنا تابناک ہے۔۔۔
عفرا کو کہاں منظور تھا بھائیوں سے بڑھ کر عزیز سوبر اور ڈیسینٹ سے کزن کی شان میں یوں گستاخی کرنا تبھی تو حیرت و انبساط سے بہن کا یہ روپ دیکھتی خود کو صفائی دینے سے روک نا پائی۔۔۔
او محترمہ یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ اور بند کرو اپنا یہ امان نامہ۔۔۔ یہ کتابی باتیں صرف فلموں اور ڈراموں میں ہی اچھی لگتی ہیں۔۔۔ ورنہ دیکھا ہے تم نے کہیں چائے کے ٹھیلے سے کسی کو محل بناتے۔۔۔ آج عفرا کے تو رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے تبھی تو گستاخانہ انداز میں گویا ہوتی عفرا کے سامنے دونوں ہاتھ زوردارانہ انداز میں جوڑ گئ۔۔۔
نصرت بیگم تو بیٹی کے باغیانہ انداز و اطوار دیکھتی گنگ رہ گئ تھیں۔۔۔
وہ میری آپا ہیں صلہ آج کے دور میں جب نفسا نفسی کا دور دوڑا ہے تمہارے بابا کی وفات کے بعد انہوں نے میرا کس قدر ساتھ دیا ایک پل کے لئے بھی تنہا نا چھوڑا ۔۔ اور تو اور اب بھی تو بیوہ بہن کا خیال کرتیں اس گھر راشتہ مانگے آ پہنچیں ورنہ امان کو کوئی رشتوں کی کمی ہے۔۔۔ اور میں کیا کہہ کر انہیں رشتے سے انکار کروں کہ میری بیٹی باغی ہو گئ ہے۔۔۔ انکے لہجے میں ٹوٹے مان کی کرچیاں تھیں جو بے بسی سے اسے دیکھتیں مستفسر تھیں۔۔۔
آپ رہنے دیں امی آپ سے نہیں ہوگا۔۔۔ انہیں انکار میں خود کر دوں گئ۔۔۔ وہ نخوت سے سر جھٹکتی گویا ہوئی۔۔۔
صلہ۔۔۔ انکی آواز کسی سرگوشی سے زیادہ نا تھی۔۔۔ تم میرے سامنے یوں اتنی منہ زور نہیں ہو سکتی۔۔ ماں ہوں میں تمہاری تمہارا بھلا ہی چاہوں گی۔۔ اس لئے تمہاری شادی امان سے ہی ہو گئ۔۔۔ لمحوں میں ہی نصرت بیگم جلال میں آتیں بستر سے نیچے اتریں۔۔۔
عین نکاح کے روز گولیاں کھا کر خود کشی کر لوں گی ماں لیکن اس امان نامی بلا سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔ وہ مان کے مدمقابل آ کر انکی آنکھوں میں دیکھتی غرائی۔۔۔ وہ جیسے عقل سے اندھی ہو گئ تھی۔۔۔ خودسری و باغی پن سر چڑھ کر بول رہا تھا۔۔۔ نصرت بیگم کے چہرے کا رنگ فق ہونے لگا۔۔۔
ماں۔۔۔ ماں آپ یہاں بیٹھیں۔۔۔ اس سے پہلے کہ ماں لڑکھڑا جاتی عفرا نے بھاگ کر ماں کو سہارا دیتے انہیں بستر پر بیٹھایا۔۔۔
تمہیں کیا ہو گیا ہے صلہ امان بھائی۔۔۔
تمہیں وہ امان اتنا ہی پسند ہے تو خود کر لو اس سے شادی لیکن اس بلا کو میرے گلے مت ڈالو۔۔۔ اس پر تو ماں کی طبیعت کا بھی اثر نہیں ہوا تھا خونخوار نظروں سے بہن کو دیکھتی وہ دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔ جبکہ عفرا تو حق دق کسی بت کی مانند اسے دیکھ رہی تھی۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا۔۔۔ کیا کہہ گئ تھی وہ بھلا ۔۔۔ کیا عفرا ایسا سوچ بھی سکتی تھی۔۔۔ امان بھائی اسکے سگے بھائی نا سہی پر بھائیوں سے بڑھ کر تھے۔۔۔ عفرا ابھی تک صدمے میں تھی کہ اسے آخر ہوا کیا ہے۔۔۔
کون ہے وہ جسنے تمہیں اسقدر باغی کر دیا ہے کہ نا تمہاری آنکھ میں شرم باقی رہی نا مرتی ماں کا احساس۔۔۔ ماں کی پاٹ دار آواز نے دروازہ عبور کرتے اسکے قدم جھکڑے۔۔۔ ماں کی بات سن کر ایک بار تو اس کے دل پر بھی گھونسا پڑا۔۔۔ لب کپکپا گئے۔۔۔ مگر ابھی کمزور پڑنے کا مطلب تھا اپنی محبت سے دستبرداری جو اسے کسی صورت قبول نا تھی۔۔۔
بالاج۔۔۔ میں بالاج سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور اسی سے شادی کروں گی۔۔۔۔ آنکھیں بند کر کے ایک ہی سانس میں کہتی وہ بنا ماں کی کوئی بات سنے ان دونوں کے سروں پر پہاڑ گرا کر باہر نکل گئ۔۔۔
جبکہ پیچھے وہ دونوں حق دق سی ایک دوسرے کو دیکھتی رہ گئیں۔۔۔ نصرت بیگم کے بدن ہر کپکپی طاری ہونے لگی جسم جھٹکے کھانے لگا تھا وہ سر تھامتیں کراہ کر رہ گئیں۔۔۔
سن۔۔۔سنا تم نے عفرا۔۔۔ کیا بکواس کر کے گئ ہے وہ۔۔۔ بالاج سے شادی کرے گی۔۔۔ دو آنسو انکی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے۔۔۔ ارے سالم نگل جائے گی وہ عورت اسے جسکے بیٹے کے اسنے خواب دیکھے ہیں یہ کسی بھول میں بیٹھی ہے۔۔۔
ماں ماں۔۔۔ ریلیکس۔۔۔ آپکا بی پی ہائی ہو رہا ہے۔۔۔
عفرا یہ بالاج سے۔۔۔ ماں بات ادھوری چھوڑتیں پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ ماں فکر نہیں کرے میں سمجھاوں گی اسے۔۔۔ آپ پلیز یہ کھائیں۔۔۔ ماں کی حالت دیکھ عفرا کے تو ہاتھ پاوں ہی پھول گئے تھے۔۔۔ آنسو آپو آپ ہی اسکی آنکھوں سے بہنے لگے۔۔۔ ٹھوکریں کھاتی وہ ماں کی دوائیوں والی باسکٹ کی جانب بڑھی اور بعجلت بی پی کی گولی نکال کر ماں کو کھلائی۔۔۔
ماں ابھی آپ کچھ مت سوچیں بس آرام کریں۔۔۔ اسنے زبردستی ماں کو بیڈ پر لٹایا۔۔۔ آرام۔۔۔ کونسا آرام عفرا۔۔۔۔ اولاد جب منہ زور اور نافرمان نکل آئے تو ماوں کو کہاں آرام نصیب ہوتا ہے۔۔۔ میں نے اسکی آنکھوں ۰میں بغاوت دیکھی ہے۔۔۔ وہ کنویں میں گرنا چاہتی ہے میں نہیں گرنے دوں گی۔۔۔ میں اسے یہ حماقت نہیں کرنے دوں گی۔۔۔ امان اسکے لئے بہتریں فیصلہ ہے اسے امان سے شادی کرنا ہوگی۔۔۔ تم مجھے آپا کا نمبر ملا کر دو میں انہیں فون کروں کہ اسی ہفتے اسکا اور امان کا سادگی سے نکاح ہوگا۔۔۔ میں اب اسے چھوٹ دینے کے قطعاً حق میں نہیں۔۔۔
انکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ حالت غیر ہو رہی تھی لیکن وہ آرام کرنے کو قطعاً تیار نا تھیں۔۔
ماں میں شام میں آپکی خالہ سے بات کروا دوں گی ابھی آپ آرام کریں۔۔۔ عفرا نے انہیں ٹال کر سلانا چاہا مگر وہ کسی صورت اسکی بات سننے کے حق میں نا تھیں۔۔۔
بلآخر اسے ماں کو نمبر ملا کر دیتے ہی بنی اور انہوں نے بھی بہن سے رابطہ استوار ہوتے ہی جھٹ پٹ سارا پروگرام فکس کر ڈالا جبکہ عفرا تو ناخن کترتی ماں کی جلدبازیاں ملاخظہ کر رہی تھی۔۔۔ ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر ۔۔۔
صلہ کی ھت دھرمی و خودسری اور دوسری طرف ماں کا اٹل فیصلہ۔۔۔ عفرا کا دل گھبرانے لگا تھا ناجانے آگے کیا طوفان آنے والا تھا اسے آنے والے وقت سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔ خالہ سے بات کرکے ماں کے پرسکون ہو جانے پر وہ چپکے سے کمرے سے باہر نکلی۔۔ ارادہ صلہ سے بات کر کے اسے سمجھانے کا تھا۔۔۔ مگر کیا وہ سمجھنے سمجھانے کی حدود میں تھی