📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="155"]
56650 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

ساری رات بالاج کمرے میں نہیں آیا تھا صبح فجر کے بعد کہیں جا کر وہ کمرے میں لوٹا ۔۔۔۔۔ رات کمرے سے نکلنے کے بعد وہ دماغی طور ہر اتنا ڈسٹرب تھا کہ کمرے میں واپس جانے کی بجائے لاوئنج میں ہی سو گیا۔۔۔۔ مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکے قدم ٹھٹھک کر رکے۔۔۔

وہ تھوک نگلتا بیڈ کی جانب بڑھا جہاں صلہ ہنوز رات ہی کی پوزیشن میں بت بنی ساکت سی بیٹھی تھی۔۔۔ آنکھیں ساری رات روتے رہنے کی چغلی کھا رہی تھیں۔۔۔ آنکھوں کے پیوٹے سوجنے لگے تھے۔۔۔

صلہ ۔۔۔۔ بالاج صدمے کے زیر اثر اسکی جانب بڑھا۔۔۔ صلہ کیا ہو گیا ہے یار تم ابھی تک ایسے ہی کیوں بیٹھی ہو۔۔۔ اسنے دیوانہ وار صلہ کا چہرا تھامتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔ صلہ نے سرخ پڑتی نگاہیں اٹھا کر بالاج کو دیکھا۔۔۔ ٹپ ٹپ آنسو پھر سے گرنے لگے تھے۔۔۔

صلہ پلیز ایسے مت کرو۔۔۔ ایسے تو تمہاری طبیعت بہت خراب ہو جائے گی۔۔۔ مجھ پر یقین رکھو یار میں سب ٹھیک کرنے کی کوشیش کر رہا ہوں۔۔۔ بالاج نے بے بسی سے اسکے آنسو صاف کرتے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔۔

میں نے ایک دو جگہ اپلائی کیا ہے پارٹ ٹائم جاب کے لئے جلد ہی کوئی سبب بن جائے گا۔۔۔ مگر تم اگر یوں ٹینشن لو گئ تو میں کچھ بھی نہیں کر پاوں گا۔۔۔ وہ فکر مندی سے اسکے بال سہلا رہا تھا۔۔۔

بب۔۔۔ بالاج ۔۔۔ میں کوئی جاب کر لوں۔۔۔۔۔۔ کہیں جا کر نہیں تو آنلائن ہی سہی۔۔۔ تمہاری کچھ مدد ہو جائے گی اور۔۔۔۔ وہ آنسووں سے تر چہرا اٹھاتی اسکی جانب دیکھتی کہہ رہی تھی جب وہ قطعیت سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔

نہیں صلہ یہ سب تمہارے کرنے کے کام نہیں ہے اس لئے۔۔۔

میں کچھ آنلائن کر لیتی ہوں بالاج۔۔۔ آج کل آنلائن تو بہت سے آپشنز ہیں۔۔۔ جیسے فری لانسینگ یا۔۔۔

نہیں صلہ کہہ رہا ہوں نا۔۔ کہ میں مینج کر رہا ہوں۔۔۔ تم بس اپنی صحت پر توجہ دو۔۔۔ تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ قطعیت سے گویا ہوا۔۔

صلہ کا سارا جوش پھیکا پڑنے لگا۔۔۔ ساری رات بے تحاشہ سوچنے کے بعد ہی تو وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کے وہ کوئی آنلائن جاب کر لے گئ۔۔۔ لیکن اب بالاج کے جواب نے اسے خاموش کروادیا تھا۔۔۔

اٹھو تم اٹھ کر فریش ہو تب تک میں تمہارے لئے ناشتہ لاتا ہوں۔۔۔ ناشتہ کر کے تم کچھ دیر آرام کر لینا ورنہ طبیعت خراب ہو جائے گئ۔۔۔ وہ اسکے گال تھپتھپا کر اٹھ گیا جبکہ آنسو ایک مرتبہ پھر سے اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے ۔۔۔۔

بھوک تو واقعی اسے اب بہت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ نیز رات بھر رونے اور بیٹھے رہنے سے جسم بھی شدید درد کرنے لگا تھا۔۔۔ اگر وہ زرا بھی خود کو بہتر محسوس کرتی تو بالاج کو کبھی بھی ناشتہ بنانے نا دیتی کیونکہ اتنےوقت میں وہ کچھ کچھ اس گھر والوں کی سائیکی کو سمجھنے لگی تھی۔۔۔ ابھی بالاج تو اسے ناشتہ کرواکر چلا جاتا لیکن پیچھے سے اسے رن مرید اور جوڑو کے غلام کے القابات سے نوازنے کے بعد اسے اور اسکی ماں کی ذات کو خوب خوب رگیڈا جاتا کہ کیسے اسنے بالاج پر جادو ٹونے کر کے اپنے ہاتھوں میں کر لیا تھا اور اب اسے اپنی انگلیوں پر نچا رہی تھی۔۔۔ وہ جتنے آنسو صاف کرتی اتنے مزید بہنے لگتے ۔۔ عجیب پاگل خانے میں پھس گئ تھی وہ جہاں نا رہ سکتی تھی نا یہاں سے جا سکتی تھی۔۔۔

کچھ ہی دیر بعد بالاج فرائی انڈے بریڈ اور چائے کا ناشتہ لے آیا تو وہ سب چیزوں پر سر جھٹکتی ناشتہ کرنے لگی۔۔۔ ناشتہ کر کے وہ اپنی دوائیاں کھا کر وہیں سر کان لپیٹ کر سو گئ کے فلحال وہ کسی کی بات سننے کے بھی موڈ میں نا تھی۔۔۔

*****

صبح عفرا کی آنکھ آلارم کی آواز سن کر کھلی۔۔۔ اٹھتے ہی اسنے ارد گرد نظریں ڈورا کر امان کو تلاشنا چاہا مگر وہ کمرے میں کہیں نہیں تھا۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھا کر آلارم بند کیا۔۔۔ فجر کا وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔۔۔ یہ آلارام غالباً امان ہی اسکے لئے سیٹ کر کے گیا تھا کیونکہ اسنے تو رات کوئی الارم نہیں لگایا تھا۔۔۔

امان غالباً خود نماز ادا کرنے مسجد چلا گیا تھا وہیں سے اسنے مارنینگ واک کے لئے نکل جانا تھا۔۔۔ نیچے اترتے اسکی نظر اپنے ہاتھ میں جگمگاتی انگوٹھی پر پڑی تو ایک شرمگین مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔۔۔

رات امان کا صلح جو انداز اور اسکی جانب سے پیش قدمی دیکھ وہ اندر تک مطمیئن ہو گئ تھی۔۔۔

بعجلت اسنے ضروریات سے فارغ ہو کر فجر کی نماز ادا کی اور کچھ دیر تک قرآن پاک کی تلاوت کر کے وہ امان کے کپڑے استری کرنے لگی۔۔۔ یہ سب اسنے رات میں ہی مکمل کرنا تھا مگر رات وقوع پذیر ہونے والی غیر متوقع چیزوں کی بنیاد پر وہ ایسا کچھ نا کر پائی تھی اس لئے اب اسکے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔۔۔ بعجلت امان کی ساری چیزیں وہاں پوری کر کے وہ کچن کی جانب بھاگی۔۔۔

بھاگم بھاگ ناشتہ تیار کرتے اسنے خود بھی فٹافٹ وہیں کھڑے کھڑے ناشتہ کیا ۔۔۔ خالہ کو وہ ساری بات کل ہی بتا چکی تھی کہ وہ امان کے کہنے پر دوبارہ کالج جانا شروع کر رہی ہے۔۔۔ خالہ بھی اسکے فیصلے پر بہت خوش تھیں۔۔۔

دفعتاً اسے باہر سے امان کی آواز آئی تو وہ اسکے لئے ناشتہ تیار کرنے لگی ۔۔۔ کچھ دیر بعد امان تیارسا باہر موجود گول میز پر آ کر بیٹھا تو عفرا نے اسکا ناشتہ اسکے سامنے اس میز پر رکھا اور خود اپنے کمرے میں بھاگ گئ۔۔۔

امان نے اسکی جلد بازیاں دیکھتے اسکے چہرے پر کچھ تلاشنا چاہا مگر اسے وہاں سوائے ہربونگ اور پریشانی کے کچھ دکھائی نا دیا۔۔۔

امان الجھتے ہوئے ناشتہ کرنے لگا۔۔۔

ناشتہ مکمل کر کے وہ کمرے میں آیا تو عفرا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی کالج کے سفید یونیفارم میں ملبوس بال بنا رہی تھی۔۔۔ ایک میں کنگھا تھام رکھا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں بال تھے البتہ ہیر بینڈ اسکے منہ میں تھا۔۔۔ اسکے ہر ہر انداز میں عجلت تھی۔۔۔

وہ اسے یوں دیکھ مسکرا دیا۔۔۔ وہ کالج کے یونیفارم میں بالکل ایک بچی ہی لگ رہی تھی لیکن وہ یہ بات ابھی اسے کہہ رہا یہیں ایک جنگ عظیم نہیں شروع کروانا چاہتا تھا۔۔۔

امان جاتے ہوئے مجھے بھی ساتھ لیجائیے گا۔۔۔ وہ کنگھا ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر منہ سے ہیئر بینڈ نکال کر بالوں کی اونچی پونی بناتے گویا ہوئی۔۔

جو حکم میڈم۔۔۔ اب تو پورے دل و جان سے آپکی ذمہ داری پوری زندگی کے لئے قبول کی ہے۔۔۔

وہ اسکے مدمقابل جاتا ڈریسینگ ٹیبل سے کمر ٹکائے سینے پر ہاتھ رکھ کر زرا سا جھکتا مخمور نگاہوں سے اسے دیکھتا مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔

مجھے یوں لوفروں کی طرح دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے امان۔۔۔ اور خبردار جو یوں سستے رومیو کی طرح حرکتیں کی تو۔۔۔ وہ امان کی نگاہوں سے جزبر ہو رہی تھی۔۔ تبھی اپنی اندرونی کیفیت پر قابو پاتی اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرتی بیڈ کی پائنتی کی جانب بڑھی۔۔۔ کہاں دیکھے تھے اسنے پہلے امان کے ایسے اطوار و انداز۔۔۔۔

اسکی حرکت پر امان قہقہ لگا کر ہس دیا ۔۔۔ وہ اسکی کیفیت بخوبی سمجھ رہا تھا۔۔۔ لیکن آج اسے یوں تنگ کر کے وہ لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔۔ اسکا یوں جھجھکنا امان کو محظوظ کر رہا تھا۔۔۔

اچھا تو پھر کیسی حرکتیں کروں۔۔۔ وہ ابھی شاید اسے مزید تنگ کرنے کے موڈ میں تھا اسی لئے کاوئچ پر بیٹھتا اسے نظروں کے حصار میں لئے گویا ہوا۔۔۔

مجھے صرف میرےوہ ڈیسینٹ سے امان ہی پسند ہیں اس لئے آپ بس ویسے ہی رہیں۔۔۔ بیڈ کی پائنتی پر بیٹھی وہ نیچے جھک کر جوتوں کے سٹیپ بند کر رہی تھی ۔۔۔

شکر ہے کہ تم نے بھائی کا لاحقہ نہیں لگایا ورنہ شاید مجھے ایک زندگی لگ جاتی اس لاحقے کو اپنے حوالے سے اتروارے اترواتے ۔۔۔وہ ہاتھ کی گول مٹھی لبوں پر ٹکائے شریر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

امان۔۔۔ اسنے صدمے کی کیفیت میں امان کو دیکھا مگر اسکی پرشوق نگاہوں کا سامنے نا کر پاتے جلد ہی خفگی سے نظریں جھکا کر دوسرا جوتا پہننے لگی۔۔

میں خالہ سے آپکی شکایت لگاوں گی۔۔۔ کوئی اور طریقہ نا پاکر وہ خفگی سے سیدھا سیدھا دھمکیوں پر اتری۔۔۔

اچھااااا۔۔۔ ویسے کیا شکایت لگاو گی ان سے۔۔۔ اسے جوتا پہن کرتا اٹھتا دیکھ۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھتا مسکراتا ہوا اسکے مقابل آیا۔۔۔۔

جائیں میں نہیں جارہی آپکے ساتھ۔۔۔ آپ بہت خراب ہوگئے ہیں۔۔۔ تنگ کر رہے ہیں مجھے۔۔۔ خوامخواہ ہی۔۔۔

کوئی راہ فرار نا پا کر وہ روٹھے ہوئے وہیں بیڈ پر دھپ سے بیٹھ گئ۔۔ جبکہ امان کا قہقہ فضا میں جلترنگ بکھیر گیا۔۔۔

ویسے اب تو میرے پاس باقاعدہ پرمٹ ہے تمہیں تنگ کرنے کا۔۔۔ لیکن فلحال کے لئے جاو کیا یاد کرو گئ۔۔۔

اسنے جھکتے ہوئے عفرا کی ناک کھینچی تو اسنے خفگی سے اسکا ہاتھ جھتکتے اسے گھورا۔۔۔۔

جلدی سے باہر آو انتظار کر رہا ہوں تمہارا۔۔ وہ مسکراتا ہوا اسکے سر پر چیت رسید کر کے باہر نکل گیا تو وہ آنکھیں میچ کر خود کو کمپوز کرتی مسکراتی ہوئی بیگ اٹھا کر باہر اسکے پیچھے لپکی۔۔۔ چادر اوڑھ کر وہ خالہ کو خداحافظ کہتی بنا دیر کئے اسکے پیچھے ہی باہر نکل گئ۔۔۔

****

ویسے ایک بات تو بتاو عفرا۔۔۔ اتنی ٹینش کس بات کی ہے تمہیں ۔۔۔ صبح سے دیکھ رہا ہوں خاصی پریشان لگ رہی ہو۔۔۔ بائیک روڈ پر فراٹے بھر رہی تھی جبکہ عفرا امان کے پیچھے بیٹھی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے نا جانے کیا سوچ رہی۔۔۔ جب امان کی فکرمندانہ آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی۔۔۔ کچھ دیر پہلے والے شوخ لہجے کی جگہ آواز میں اب فکر مندی تھی۔۔۔۔

کچھ نہیں ۔۔۔ بس وہ اتنے دنوں کے بعد کالج جا رہی ہوں ایک تو اٹینڈیس میں بہت کمی آ گئ ہے اوپر سے کورس بہت مس ہو گیا ہے پتہ نہیں سب کیسے کور کروں گی۔۔۔ وہ لب چباتی پریشانی سے گویا ہوئی۔۔

اٹینڈینس کی فکر مت کرو عفرا میں اس معاملے میں تمہاری پرنسپل سے بات کر لوں گا۔۔۔ مزید کورس کی بھی فکر مت کرو میں کور کروا دوں گا اور اب اس چیز کو سر پر سوار مت کرنا۔۔۔ امان کی فکر مندی پر وہ مسکرا دی۔۔۔

ویسے یہ کتاب کہاں لے کر جا رہے ہیں آپ۔۔

اسنے امان کے سامنے بائیک کے ہینڈل میں اٹکی کتاب کو دیکھ کر اس سے پوچھا جسکا ٹائٹل وہ پیچھے بیٹھ کر بھی باآسانی پڑھ پا رہی تھی

The Five second rule by Mel Robins

یہ کتاب میں آج کل اپنی ورک پلیس پر ساتھ لے کر جا رہا ہوں جب بھی وقت ملتا ہے وہاں اسے تھوڑا بہت پڑھ لیتا ہوں۔۔۔ وہ کتاب کو دیکھتا مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔

تو آخر آپ انگلش کتابیں ہی کیوں پڑھتے ہیں آمان۔۔۔ اردو میں بھی تو سیلف امپرومنٹ کی بہت سی کتابیں ہیں آپ ان سے مستفید کیوں نہیں ہوتے۔۔۔ وہ الجھتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔ یہ سوال اسکے دماغ میں بہت دنوں سے گونج رہا تھا کہ امان کی بک شلف پر بہت کم اردو کی کتابیں تھیں۔۔۔۔

اسکی بات پر امان مسکرا دیا۔۔۔ جتنے بھی اردو رائٹرز ہیں نا عفرا اگر تم انکے انٹرویوز پڑھو تو تمہیں پتہ چلے گا ان سب نے یہ کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔۔۔ دراصل ان کتابوں میں سو سو سال کے انگریزوں کے نچوڑ اور تحقیقات ہیں۔۔۔ ہمارے اردو رائٹرز نے بھی یہ ہی کتابیں پڑھ کر اپنا نالج بڑھایا ہے اور پھر اپنے قلم سے شاہکار لکھیں ہیں۔۔۔ دراصل یہ اوریجنل منبع ہے معلومات کا۔۔۔ہر کامیاب انسان آج اسقدر کامیاب ہو کر بھی ان کتابوں سے مستفید ہوتا ہے کیونکہ بقول انکے یہ کتابیں کامیابی کی ضمانت ہے جو انکی سوچ کو وسعت دیتی ہیں۔۔۔ آج اپنی اپنی فیلڈ میں جانے پہچانے اور مصروف ترین انسان بھی روزانہ کی بنیاد پر کم و بیش پندرہ بیس منٹ تو کتاب لازمی پڑھتے ہیں۔۔۔۔ یہ سب کچھ جو ان کتابوں میں ڈیٹیل سے مصنفوں نے اپنی تحقیقات کے مطابق جو اپنے نظریات بتائے ہیں وہ سب کچھ ہمیں قرآن پاک میں اللہ تعالی نے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا۔۔۔۔۔لیکن افسوس ہم اس طرح سے کبھی قرآن کو پڑھ ہی نا پائے۔۔۔ لیکن خیر میں بات ان کتابوں کی کر رہا تھا تو میں نے اردو سیلف امپرومنٹ کی کتابیں بھی پڑھی ہیں لیکن یہ اوریجنل سورس آف نالج ہیں۔۔۔ اس بات کو شاید میں تمہیں یوں سمجھا نا سکوں۔۔۔ اس کے لئے تمہیں خود کوئی کتاب پڑھنی پڑے گی۔۔۔ جیسے کتاب کا ٹائٹل ہے

Think and grow rich…

اس ایک لائن پر جہاں مصنف نے کوئی تین سو صفحات کی کتاب لکھ ڈالی اس بات کو میں دو لائینوں میں واضح نہیں کر سکتا۔۔۔ یہ کتاب پڑھو گی تو پتہ چلے گا کہ ان کتابوں میں نالج اور دانائی کا کونسا خزانہ چھپا ہے جو ہماری محدود سوچ کو وسعت دیتا ہے۔۔۔

امان ان چیزوں پر گھنٹوں بول سکتا تھا تبھی بنا تردد کے اسے مفصل جواب دے رہا تھا۔۔۔

لیکن یہ سب تو انگلش میں ہیں نا امان ۔۔۔ اور اتنی گاڑھی انگلش کا ایک آدھ صفحہ پڑھ کر ہی میرا تو دماغ چکرانے لگتا ہے پھر اس چیز کی اتنی ضرورت بھی محسوس نہیں۔۔۔۔

انگلش بولنا یا سیکھنا کوئی فیشن نہیں ہے عفرا۔۔۔ وہ ناجانے کیا کہنے والی تھی کہ امان اسکی بات سمجھتا درمیان میں ہی اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔

یہ آج کے دور کی ضرورت ہے۔۔۔ اگر تو آپ نے کسی فیلڈ میں کامیابی پانی ہے۔۔یا آپ ایک کامیاب انسان بننا چاہتے ہیں تو اس کے لئے انگلش پر عبور پانا سب سے پہلا سٹیپ ہے کیونکہ آج کی دور میں اس زبان کو سیکھے بنا کامیابی ممکن ہے ہی نہیں۔۔۔ یہاں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں پاکستانی ہوں اور مجھے اپنی قومی زبان پر فخر ہے۔۔۔ ٹھیک ہے اس بات پر فخر ہونا بھی چاہیے لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی۔۔۔ آج گوگل پر کچھ سرچ کر لو ۔۔ کوئی بائیو گرافی پڑھ لو یا کچھ لیول کا پڑھنے کی کوشیش کرو تو سب تمہیں انگلش میں ملے گا۔۔۔۔ اے ٹو زیڈ سب انگلش۔۔۔۔۔

کہیں کوئی انٹرویو کڑیک کرنا ہے تو آپکی کیمونیکیشن سکل بہت اچھی ہونی چاہیے۔۔۔ اور یہ کوئی مشکل کام نہیں۔۔ بالکل بھی مشکل نہیں ہے۔۔۔ اس کے لئے صرف پڑیکٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ ہم نے بس اینوی اس چیز کو ایک ہوا بنا رکھا ہے۔۔۔

ایک دور تھا جب برصغیر پر مسلمانوں کی حکومت تھی تب دنیا میں عربی زبان نے اپنا لوہا منوایا تھا اور تب ایسا ہی مقام عربی زبان کو حاصل تھا۔۔۔ تب دنیا بھر کے لوگوں کو برصغیر کے حکمرانوں سے بات چیت کرنے کے لئے ان سے کام کروانے کے لئے عربی زبان پر عبور حاصل کرنا پڑتا تھا ۔۔۔ پھر ہمارے امرا عیش و عشرت میں پڑ گئے اور ہمارا وہ مقام ہمارے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسلنے لگا اور آج انگریز اس مقام کو حاصل کرتے دنیا پر راج کر رہے ہیں۔۔۔

انگلش سیکھنے کے لئے صرف دماغ کو ایک دفعہ تیار کرنا پڑتا ہے کہ مجھے یہ سیکھنی ہے اور میں یہ کر سکتی ہوں اور بس۔۔۔ اگر آپ ذہنی طور پر تیار ہو گئے تو اگلے سارے مراحل آسان ہیں بہت آسان۔۔۔ جن پر عمل کر کے بہت جلد انگلش زبان پر گرفت مضبوط ہو جاتی ہے۔۔۔

ہوا سے عفرا کی چادر پھرپھرا رہی تھی۔۔۔ جسے وہ ہاتھ سے تھامے غور سے امان کی بات سن رہی تھی۔۔۔

میں انگلش پڑھ لیتی ہوں کوئی بات کر رہا ہو تو سمجھ بھی لیتی ہوں لیکن میں انگلش بول نہیں سکتی تو اس کے لئے مجھے پہلا سٹیپ کیا لینا چاہیے۔۔۔ وہ کچھ سوچتی ہوئی گویا ہوئ۔۔۔

مطلب کہتے ہیں کے انگلش بولنے کے لئے تو گرائمر کی بھی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔

غلط۔۔ بالکل غلط۔۔۔ یہ ہی تو ہماری غلطیاں ہیں جو ہمیں کامیاب ہونے نہیں دیتیں کہ ہم سنی سنائی باتوں پر یقین بہت کرتے ہیں اور انہیں حرف آخر مان کر بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔

انگلش کھیل ہی گرائمر کا ہے پھر چاہیے لکھنی ہو یا بولنی ہو گرائمر سب سے پہلے آتی ہے۔۔۔ بنیادی ٹینسیز آنے چاہیے۔۔۔ پھر کوئی اگلا سٹیپ آتا ہے۔۔۔

جیسے بچہ جب بولنا سیکھتا ہے تو کیا کرتا ہے۔۔۔ امان کے یوں اسکی تصیح کرنے پر وہ بالکل خاموش ہوتی الجھی سی اسے سننے لگی۔۔۔ وہ ہمیشہ اپنا ایک الگ ہی نقطہ نظر اسکے سامنے رکھتا تھا جسکا اسے قائل ہونا پڑتا کیونکہ اسکی ہر بات لاجک سے پر ہوتی۔۔۔

کیا کرتا ہے۔۔ وہ نا سمجھی سے بولی۔۔۔

پاگل وہ بولنے کی کوشیش کرتا ہے۔۔۔ ہمیں سنتا ہے اور پھر اسے کاپی کر کے غلط لفظ بولتا ہے اور آہستہ آہستہ غلط بولتے بولتے الفاظ کی درست آدائیگی کرنے لگتا ہے۔۔۔ کوئی بھی زبان سیکھنے کا پہلا سٹیپ اسے سننا ہی ہے۔۔۔ اگ aر تم اچھے سے انگلش بولنا چاہتی ہو تو آج سے ہی اپنے ارد گرد چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کرنا شروع کردو۔۔۔ جیسے جو کانٹینٹ تم سنتی ہو اسی سے متعلق یوٹیوب پر انگلش ویڈیوز سرچ کر کے دیکھو چھوٹی چھوٹی پانچ دس منٹوں کی۔۔۔ اس سے تمہاری دلچسپی اس زبان کو سیکھنے میں مزید بڑھے گی۔۔۔

چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہی زندگی میں بڑا بدلاو لاتی ہیں۔۔۔

جیسے ہم اردو کیسے سیکھتے ہیں۔۔۔ سب سے پہلے جب ہم سکول جاتے ہیں تو ہم ا ب لکھتے ہیں۔۔۔ پھر اسے سنتے ہیں اور پھر اسے پڑھنا شروع کرتے ہیں یہ ہی سٹیپ انگلش سیکھنے کے لئے بھی لاگو ہوتے ہیں۔۔۔ ویسے یہ اتنا لمبا ٹاپک ہے کہ اس پر ہم کیسی دن سکون سے بات کریں گے۔۔۔ امان نے مسکراتے ہوئے اسکے کالج کے سامنے بائیک روکی تو وہ حیران ہوتی بائیک سے اتری ۔۔۔ باتوں کے دوران راستہ کیسے کٹا اسے پتہ ہی نا چلا۔۔۔

میرا انتظار کرنا واپسی پر میں لینے آوں گا۔۔۔ وہ مسکرا کر ہاتھ ہلاتا وہاں سے چلا گیا تو۔۔ عفرا مسکراتے چہرے کیساتھ کھوئی کھوئی سی کالج کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ وہ شخص واقعی اس زبان کو اسکے سر پر سوار کر چکا تھا۔۔۔ اب جب تک وہ اس پر عبور نا پا لیتی وہ سکون سے نہیں بیٹھنے والی تھی۔۔۔

آخر وہ عفرا امان تھی اور دنیا کا کوئی ایسا کام نہیں جو وہ نا کر سکتی ہو۔۔۔ اگر امان کر سکتا تھا تو وہ بھی کر سکتی تھی۔۔۔ وہ خود کو دو مہینوں کا ٹاسک دے چکی تھی۔۔۔ اور وہ پر یقین تھی کہ جلد ہی وہ اس زبان پر عبور پا لے گئ۔۔۔

*****