📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="155"]
56650 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

ارے واہ ماں ایسی خوشخبری لائی ہوں نا کہ سن کر آپ سب خوش ہو جائیں گی۔۔۔ کرن اور ثانیہ ماں کے کمرے میں موجود تھیں جب تانیہ چہکتی ہوئی اندر داخل ہوتی ڈرامائی انداز میں گویا ہوئی۔۔۔

ناہید بیگم سر باندھے بستر پر دراز تھیں جب بیٹی کی آواز پر زرا سا اونچا ہوتیں اسے دیکھنے لگی۔۔۔

ارے اس جادوگرنی نے بالاج کے گھر آتے ہی اسے وہ وہ ہماری شکایتیں لگائیں کہ اللہ معاف کرے۔۔۔ اسنے توبہ توبہ کرتے کانوں کا ہاتھ لگایا۔۔۔

مگر اب بالاج بھی شاید اس سے بیزار ہونے لگا ہے جو اسکی کسی بھی بات پر کان دھرے بنا اسے نظر انداز کرنے کا مشورہ دیتا کمرے سے ہی نکل گیا۔۔۔

کیا۔۔۔ ماں اسکی بات سن کر جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔

ارے بس ایسی جادوگرنیوں کا جادو بھی اتنی دیر تک ہی ہوتا ہے۔۔ اب کب تک اسکے پیچھے پاگل ہوا رہتا۔۔۔ ثانیہ نے مسکراتے ہوئے ناک سے مکھی اڑآئی۔۔۔

ارے میں نا کہتی تھی کہ وہ عالم بہت پہنچی ہوئی چیز ہے۔۔۔ اسکے تعویز صحیح اثر دکھا رہے ہیں۔۔۔ ناہید بیگم نے پرجوش ہوتے سر پر باندھا ڈوپٹہ اتار کر رکھا جیسے یہ خبر اتنی خوشی کی تھی کہ جسنے انہیں انکی تکلیف بھی بھلا دی تھی۔۔۔

تو ثانیہ آپا کو فون کر صبح میں پھر سے جاوں گی اس عامل بابا کے پاس کہ بس کسی طرح اس بد ذات لڑکی سے میرے بیٹے کی جان چھوٹ جائے۔۔۔ اور مشال کو بھی حوصلہ دینا کہ بہت جلد میں اسے دھوم دھام سے اس گھر کی بہو بنا کر لاوں گی۔۔

اور تم کرن۔۔۔ کہاں ہے بالاج اس وقت۔۔۔ ناہید بیگم کی جلد بازیاں دیکھنے لائق تھیں۔۔۔

اکتائے ہوئے عاشق کی طرح لاوئنج میں لیٹا ہے۔۔۔

جا جا کر تو اسے چائے پانی پوچھ۔۔۔ ارے بیوی کا اکتایا ہوا ہے ایسے میں ماں بہنوں کے ہی قریب آئے گا۔۔۔ڈولتے کو کیا چاہیے ہوتا ہے۔۔۔ سہارا۔۔۔ اور وہ سہارا اسے ہم دیں گے نا۔۔۔۔

اور ہاں چائے میں وہی تعویز گھول دینا جو عامل بابا نے دیا تھا۔۔۔ اس کا دل کسی طرح سے بھر جائے بس اس جادوگرنی سے پھر دیکھنا زرا میں کیسے نکالتی ہوں اس گز بھر لمبی زبان کی حامل لڑکی کو چوٹی سے پکڑ کر۔۔۔ ناہید بیگم کیساتھ ساتھ ان تینوں کی آنکھوں میں بھی ایک چمک تھی۔۔۔ جبکہ ان سب سے بے خبر بالاج باہر لاوئنج میں آنکھوں پر ہاتھ رکھے صوفے پر دراز تھا۔۔۔ اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ آج اسنے ایک اور جگہ اوور ٹائم لگایا تھا اور اب جسم تھکن سے چور تھا۔۔۔ بس وہ کسی طرح سے ماں کو مہینہ خرچ کے پیسے مکمل دینا چاہتا تھا۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس بات کو لے کر پھر سے گھر میں تماشے لگتے کہ بالاج نے دونوں ہاتھوں سے سب کچھ صلہ پر لٹا دیا۔۔۔

جبکہ اپنے کمرے میں صلہ بستر پر دراز اپنا سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی۔۔۔ بالاج کا بے زار اور اکتایا لہجہ اسکے سینے میں انی کی مانند چبھ رہا تھا۔۔۔ وہ شاید اپنی ساس اور نندوں کے رویے کے باعث اپنا آپسی تعلق بھی خراب کر رہی تھی۔۔۔ ان دونوں کے رشتے میں دوریاں پیدا ہونے لگی تھیں۔۔۔ اسے کیسے بھی کرکے ان دوریوں کو پاٹنا تھا۔۔۔ وہ ہر لحاظ سے خود کو ایک اندھیری کوٹھری میں کھڑا پا رہی تھی جہاں چاروں اوڑھ گھپ اندھیر تھا اور روشنی کا کوئی روزن نا تھا۔۔۔

*****

دور کہیں سے فجر کی اذانوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔ جبکہ اس کمرے میں صبح کے اس وقت بھی بھر پور زندگی دور رہی تھی۔۔۔ سٹڈی ٹیبل کے سامنے جابجا کاغذات بکھرے تھے پاس ہی امان کا ٹرائی پوڈ اسٹینڈ اور اسکا موبائل بھی پڑا تھا جبکہ وہ خود ان کاغذات پر جھکا کچھ کر رہا تھا۔۔۔ پاس ہی دو تین چائے کے خالی مگ پڑے تھے۔۔۔۔ جبکہ اس سے فاصلے پر موجود بیڈ پر عفرا تکیوں کے سہارے اونگھتے ہوئے اپنی کتاب پر جھکی تھی۔۔۔ آج اسکا آخری پیپر تھا۔۔ ان دو مہینوں میں امان نے واقعی اپنے کہے کے مطابق اسکا سارا کورس کور کروا تھا۔۔۔ اپنے ہر کام کو پس پشت ڈال کر اسنے اپنا زیادہ سے زیادہ وقت عفرا کو دیا تھا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ اسکے امتحانات اسکی توقع سے بڑھ کر اچھے ہو رہے تھے اور آج اسکا آخری پیپر تھا۔۔۔ وہ تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے اٹھی تھی اور اسی لئے اب اسے باربار جمائیاں آ رہی تھیں۔۔ جبکہ آج کل وہ امان کو لے کر کافی پریشان تھی۔۔۔ اسنے اپنی پوری زندگی میں کسی انسان کو اپنے کام کیساتھ اتنا مخلص نا پایا تھا جسقدر وہ تھا۔۔ عفرا نوٹ کر رہی تھی کے آج کل وہ بہت کم نیند لے رہا تھا ۔۔ ناجانے کس مقام پر وہ سٹک ہوا تھا کہ جب تک اسکا وہ مسلہ حل نا ہوجاتا وہ ایسے ہی اپنا کھانا پینا تک بھلائے رکھتا۔۔۔۔

اب بھی وہ غور کر رہی تھی کے وہ تو ابھی اٹھی تھی لیکن امان شاید پوری رات نا سویا تھا۔۔۔ اسکے پاس پڑے خالی چائے کے کپ اس بات کے گواہ تھے۔۔۔

عفرا سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی جسکے چہرے پر واضح تھکن کے اثرات تھے۔۔۔

اب وہ کاغذات سے سر اٹھا کر موبائل پر کچھ کرنے لگا تھا۔۔۔

غالباً وہ اپنی رات ریکارڈ کی جانے والی ویڈیو اپلوڈ کر رہا تھا۔۔۔

امان آپ اتنی باقاعدگی کیساتھ ویڈیوز کیسے اپلوڈ کر لیتے ہیں ۔۔۔۔ اور کیا ملتا ہے آپکو اتنی محنت کر کے مطلب دس ہزار سبسکرائبرز ہیں آپکے لیکن آپکی چند گنی چنی ویڈیوز ہی ہیں جن پر دس ہزار ویوز آئے ہونگے۔۔۔ ورنہ تین ہزار چار ہزار یا زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار ویوز۔۔ اور اتنے ویوز پر جو آپکا ریوینیو بن رہا ہے وہ بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔۔۔ پچھلے تین مہینوں میں آپکے بامشکل سو ڈالے بنے ہیں۔۔۔ پھر اتنی محنت کا فائدہ۔۔۔

وہ کبھی کبھار امان کو اتنی محنت کرتا دیکھ چڑ جاتی تھی۔۔۔ وہ کیوں کبھی تھکتا نہیں تھا یا کبھی دلبرداشتہ نہیں ہوتا تھا۔۔۔

محنت کرتے وقت نا نتائج پر توجہ نہیں دینی چاہیے عفرا۔۔۔ صرف مکمل یکسوئی سے اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے۔۔۔ اپنے کام کو ہر گزرتے دن کیساتھ بہتر کرنا ہے اور باقاعدگی سے کرتے جانا ہے بنا نتائج دیکھے۔۔۔۔ اگر ویڈیو پر ویوز دیکھنے بیٹھ جاوں تو شاید کبھی اگلی ویڈیو بنا ہی نا پاوں۔۔۔

ویوز کتنے آئے وہ آپکا مسکہ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ آپکا کام خود بولے گا۔۔۔ جو اچھا کانٹینٹ ہوتا ہے نا وہ ایک آدھ دن کے لئے نہیں ہوتا وہ لائف ٹائم ہوتا ہے جس پر اگر ابھی ویوز نہیں ہیں تو سال بعد آ جائیں گے۔۔۔ کیونکہ وہ کانٹینٹ لوگوں کے لئے کارآمد ہے۔۔ اور یوٹیوب کی دنیا میں کب آپکی کونسی ویڈیو کلک کر جائے اور وائرل ہو جائے کوئی کچھ نہیں جانتا۔۔۔ اس لئے نتائج کو دیکھے بنا توجہ صرف اپنے کام پر دینی چاہیے۔۔۔ جب نتائج آئیں گے نا تو دنیا دیکھے گی

۔۔۔ یہ دنیا کے دیکھنے کی چیز ہے اسی کے لئے چھوڑ دینی چاہیے۔۔۔ خود صرف اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے۔۔۔ پھر آپکی جو گاڑی رک رک کر چل رہی ہوتی ہے وہ کیسے زن سے بھاگنے لگتی ہے پتہ بھی نہیں چلتا۔۔۔

اسکے ہاتھ تیزی سے موبائل کی سکرین پر حرکت کر رہے تھے۔۔۔

امان کوئی مسلہ ہے کیا۔۔۔ مطلب میں دیکھ رہی ہوں کے آپ نے کھانے پینے حتکہ سونے تک کا ہوش بھلا دیا ہے۔۔۔۔

وہ فکر مندی سے اسے دیکھتی گویا ہوئی جس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ابھرنے لگے تھے۔۔۔

ہاں چھوٹا سا ایک مسلہ ہے ۔۔۔ اور ایسے اتار چڑھاو بزنس میں آتے ہی رہتے ہیں انشااللہ جلد ہی حل ہو جائے گا۔۔۔ بس اب بزنس کو ایک سٹیپ مزید آگے بڑھانا چاہ رہا تھا اسکے لئے ایک نئ سٹریٹجی پر کام کر رہا ہوں۔۔۔

وہ مسکرا کر موبائل میز پر رکھتا کرسی سے پشت ٹکا کر فرصت سے اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ جو کتاب سائیڈ پر رکھ کر بستر سے اتر رہی تھی مگر ایک ہی قدم آگے بڑھانے پر اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ لہرا کر نیچے گرتی امان پھرتی سے اٹھ کر اسکی جانب بڑھا۔۔۔

کیا بات ہے عفرا تم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔

امان نے فکر مندی سے اسے بستر پر بیٹھاتے اسکا زرد پڑتا چہرا تھاما۔۔۔

پچھلے چند دنوں سے اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی جسے وہ مسلسل نظر انداز کر رہی تھی۔۔۔ مگر آج جس طرح کا چکر اسے آیا اسے زمین و آسمان گردش کرتے دیکھائی دے رہے تھے۔۔۔

ہمم۔۔ دراصل امتحانات کی وجہ سے سلیپ سائیکل ڈسٹرب ہو گیا ہے اور سٹریس کی وجہ سے شاید کمزوری ہوگئ ہے

۔۔ اب میرا ایمیون سسٹم آپکے جتنا مضبوط نہیں ہے نا کہ رات رات بھر جاگنے کے بعد بھی میں ٹھیک رہوں۔۔۔ اسنے پھیکا سا مسکرا کر کہا ورنہ آج اپنی حالت کی بدولت وہ خود بھی اچھا خاصا ڈر گئ تھی۔۔۔

اچھا ایک کام کرتےہیں پھر پیپر کے بعد واپسی پر ڈاکٹر کے پاس چلیں گئے۔۔۔ اب تم نماز پڑھ کر کچھ دیر ریسٹ کرو تا کے پیپر کے وقت خود کو فریش محسوس کرو۔۔۔ میں بھی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔۔۔ وہ اسے بستر پر لٹا کر خود اپنے کاغذت سمیٹنے لگا۔۔۔

اور ہاں ناشتہ اچھے سے کر کے جانا پیپر دینے۔۔ یہ نا ہو پیپر دیتے وقت وہاں بے ہوش پڑی ہو۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر مذاق کرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ وہ وقت دیکھتی کچھ دیر کے لئے لیٹ گئ کے ابھی فجر کی نماز کا کافی وقت پڑا تھا.

*****

اس روز کے بعد سے صلہ کو ایک گہری چپ لگ گئ تھی۔۔۔ بالاج اسے سیدھا سادھا منع کر چکا تھا کے وہ اسے اس گھریلو سیاست میں نا گھسیٹے۔۔۔ اور اب وہ مزید بار بار اسکے سامنے ایک ہی ذکر کر کر کے اسے خود سے متنفر نہیں کروانا چاہتی تھی اس لئے اسنے بالاج سے سبکی شکایتیں لگانا بند کر دی تھیں۔۔۔ اوور ٹائم کے باعث وہ خود بھی رات دیر سے گھر آتا۔۔۔ کھانا کھاتے ہی سو جاتا اور صبح اٹھتے ہی واپس اپنے کام پر چلا جاتا۔۔۔۔

صلہ اب بس ان لوگوں کو زیادہ سے زیادہ نظر انداز کر رہی تھی۔۔۔ وہ لوگ اسے اکسانے کے لئے اسے سخت سے سخت بات بھی کہتے تو وہ مٹھیاں بھینچتے دانتوں پر دانت جما جاتی کہ وہ جان چکی تھی کہ ان سے مقابلے بازی کا مطلب ایک طوفان کھڑا کرنا تھا۔۔۔

وہ آتیں جاتیں اس پر فکرے کستیں ۔۔۔ اسے اور اسکی ماں کو برے القابات سے نوازتیں وہ خاموشی سے آکر کمرے میں آنسو بہاتی انہیں خوب خوب بددعاوں سے نوازتی۔۔۔ لیکن شاید اسکی بددعاوں میں شدت نا تھی اسی لئے تو کسی کو نا لگتیں۔۔ کم از کم اسے تو ایسا ہی لگتا۔۔۔ اسنے کبھی سوچا بھی نا تھا کہ وہ کبھی اتنی بے بس بھی ہوسکتی تھی مگر اس سسرال والوں نے اسکی کمر توڑ دی تھی ۔۔

پہلے وہ تین چنڈالیں کیا کم تِھیں جو آئے روز وہاں مشال نامی بلا بھی آ دھمکتی۔۔۔ وہ سب مل کر اسکا خوب خوب خون جلاتیں۔۔۔ اور بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی تھی۔۔۔ انکے پاس صلہ کو تنگ کرنے کے ایک سو ایک طریقے تھے۔۔۔

وہ روٹی بنانے آتی تو کچن سے گندھا ہوا آٹا غائب ہوتا۔۔۔ وہ نہانے جاتی تو موٹر کا بٹن اٹھا دیا جاتا۔۔ جسکے باعث اسے ٹینکی کے گرم پانی سے نہانا پڑتا۔۔۔ اسکے نئے سوٹ جگہ جگہ سے پھٹے ملتے۔۔۔

کبھئ اسکا موبائل نا ملتا تو کبھی اسکے نئے جوتوں کے سٹیپ ٹوٹ جاتے۔۔۔ غرض ہر لحاظ سے اسکی ناک میں دم کر رکھا تھا۔۔۔ کئ بار تو اسے اپنے بیڈ کے نیچے سے ایک چوٹا سا گڈا ملتا جس پر چھوٹی بڑی کئ سوئیاں چبوئی ہوتیں۔۔۔ اسے دیکھ کر وہ اندر تک لرز جاتی۔۔۔ اسے مکمل طور پر مینٹلی ٹارچر کیا جا رہا تھا۔۔۔ وہ اتنی کم ہمت تھی نہیں جتنی ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ وہ ہر ہر آہٹ پر ڈر جاتی۔۔۔ اپنی طبیعت کے باعث چھوٹی چھوٹی باتوں ہر پہروں بیٹھ کر روتی رہتی۔۔۔

اب بھی بالاج صبح صبح اپنے آفس جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا جب وہ پزمردہ سی ناشتہ تھامے اندر داخل ہوئی۔۔۔ چہرے کی شادابی کہیں مرجھانے لگی تھی۔۔۔ وہ آج کل خود کو اتنا بے بس اور ہارا ہوا تصور کر رہی تھی کے ہر لحاظ سے اسکے اندر صرف منفی جذبات ہی جنم لے رہے تھے۔۔۔ وہ ایک ایک روپے کو ترس رہی تھی۔۔۔ بالاج نے جیسے تیسے کر کے ماں کے مہینہ خرچ کے پیسے پورے کئے تھے لیکن اسے جیب خرچ کے نام پر پھوٹی کوری نہیں مل رہی تھی۔۔۔ وہ اپنی کئ چھوٹی بڑی خواہشوں کو سرے سے نظر انداز کر رہی تھی۔۔۔ اب وہ شدت سے کچھ دیر اس ماحول سے دور رہنا چاہتی تھی ورنہ شاید یہاں اسکا دم گھٹ جاتا۔۔۔

بالاج میں کچھ دن امی کے پاس جا کر رہنا چاہتی ہوں میں چلی جاوں۔۔۔ وہ تیار ہو کر ناشتہ کرنے لگا تو وہ اسکے پاس ہی سر جھکا کر بیٹھی آہستہ سے گویا ہوئی۔۔۔ کتنی اجنبیت آ گئ تھِی دونوں کے رشتے میں۔۔۔

بالاج نے ناشتہ کر کے اسے اپنے ساتھ لگاتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا تو بے ساختہ ہی اسکا دل بھر آیا۔۔۔ زندگی کی خوبصورتی جیسے کہیں کھو گئ تھی۔۔۔ چلی جاو تم بہتر محسوس کرو گئ۔۔۔ وہ اسکا سر تھپتھپا کر باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ صلہ کے دل پر بوجھ مزید بڑھ گیا تھا۔۔۔

*****

کیسا ہوا پیپر۔۔۔۔ وہ پیپر دے کر سینٹر سے باہر نکلی تو امان پہلے ہی اسکا منتظر کھڑا تھا۔۔۔ اسے اپنے پاس آتا دیکھ وہ مستفسر ہوا۔۔۔

بہت۔۔۔ بہت اچھا ہوا۔۔۔ وہ چہکتے ہوئے اسکے پیچھے بیٹھی تو امان نے بائیک سٹارٹ کی۔۔۔

اور طبیعت کی سناو۔۔ امان کی آواز میں فکر مندی تھی۔۔۔

ہاں طبیعت ٹھیک ہی ہے بس چلتے چلتے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ ڈاکٹر کے کلینک میں ڈاکٹر کے روبرو بیٹھے تھے۔۔۔ ڈاکٹر نے عفرا کا تفصیلی معائنہ کر کے انہیں خوشخبری کی نوعید سنائی تھی جسے سن کر دونوں کے پاوں زمین پر نا لگ رہے تھے۔۔۔

انہیں مکمل ریسٹ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بہت کمزور ہیں۔۔۔ ڈاکٹر نے انہیں کئ ہدایات کیساتھ دوائیوں کا پرچہ تھمایا تو امان اب باقاعدہ خود اسکی ڈائٹ کا خیال رکھنے کا تہیہ کرتا وہاں سے اٹھا۔۔

واپسی پر وہ لوگ میٹھائی گھر لیجانا نہیں بھولے تھے۔۔۔ بائیک ڑود پر فراٹے بھر رہی تھی اور عفرا چہکتے ہوئے امان سے کوئی بات کر رہی تھی جب امان کو زور کا چکر آیا اور بائیک اسکے ہاتھوں سے ڈگمگا گئ۔۔۔ سامنے سے ایک ٹرالر تیز رفتاری سے انکی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔ ایک دلخراش چیخ عفرا کے حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔ امان کا بائیک پر توازن بگڑا اور بائیک وہیں زمین بوس ہو گئ۔۔۔۔

*****