
khwab e Junoon by Umme Hani NovelM80032 Episode 07
Episode 07
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
رات تک جب عفرا واپس ماں کے پاس نا آئی تو انہیں بے چینی ہونے لگی تھی۔۔۔ صلہ تو شروع سے ہی لاپرواہ تھی لیکن عفرا وہ ماں کے بہت قریب تھی۔۔۔ اور جب سے وہ بیمار رہنے لگی تھیں تب سے تو وہ سائے کی مانند انکے ساتھ ساتھ رہتی تھی۔۔۔ اب اتنی دیر تک وہ سامنے نہیں آئی تھی تو ماں کی بے چینی فطری تھی۔۔۔ صبح کے ماں کے فیصلے کے بعد سے وہ کمرے سے نہیں نکلی تھی اسی لئے اب ماں گھٹنوں پر وزن ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔ انکا رخ عفرا کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔۔ کمرے میں عفرا ہنوز تکیے میں منہ گھسائے لیٹی تھی۔۔۔ ماں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکے پاس جا کر بیٹھیں۔۔۔ ایسے کیوں لیٹی ہے میری بیٹی۔۔۔ میں دوپہر سے انتظار کر کر کے اب خود ہی تمہارے پاس آگئ۔۔۔ وہ اسکے پاس ہی بستر پر بیٹھتیں اسکے سر پر ہاتھ پھیرتیں محبت سے گویا ہوئیں تو عفرا نے نم آبدیدہ چہرا اٹھا کر ماں کی جانب دیکھا اور بنا ایک بھی لفظ کہے انکی گود میں چہرا چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ ماں خاموشی سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھیں۔۔۔ فیصلہ تو سنا دیا تھا اب بیٹی کو بھی تو راضی کرنا تھا۔۔۔ کیا بات ہے عفرا ماں سے شیئر نہیں کرو گی۔۔ وہ لہیمی سے گویا ہوئیں۔۔۔ امی آپ نے امان بھائی سے می۔۔۔میرا نکاح۔۔۔ ط۔۔۔طے کر دیا۔۔۔ امی وہ تو بھائی ہیں میرے۔۔۔ بڑے بھائی۔۔۔ ہمیشہ سے۔۔ پھر آپ ایسا کیسے کر سکتیں ہیں۔۔۔ وہ ماں کی گود سے سر اٹھاتی ہچکیوں سے روتی گویا ہوئی۔۔۔ آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں۔۔۔ چہرے کا حشر ہوا پڑا تھا ۔۔۔ جسم ہچکولے کھا رہا تھا۔۔۔ ماں کو اس پر جی بھر کر ترس آیا۔۔۔ عفرا بچے کیا تمہیں بھی ماں پر یقین نہیں۔۔۔ ماں اسکا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتیں بے بسی سے گویا ہوئیں۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے ماں۔۔۔ آپ پر تو پوری دنیا سے زیادہ یقین ہے۔۔۔ آپکا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر۔۔۔ پر۔۔۔۔ پر ماں دل نہیں مان رہا۔۔۔ وہ ماں کے وہی ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھام کر آنکھوں سے لگاتی شدت سے رو دی۔۔۔ بچے اگر بھروسہ ہے نا تو اعتبار رکھو انشااللہ یہ فیصلہ اللہ تمہارے حق میں بہت بہترین کرے گا۔۔۔ امان تمہارے حق میں ایک بہترین شوہر ثابت ہوگا۔۔۔ ماں نے اسے خود میں بھینچتے اسکے سر کا بوسہ لیا۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ بس اب رونا بند کرو اور منہ ہاتھ دھو کر آو آ کر کھانا کھاو اور تمہارے انتظار میں میں نے بھی ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔۔۔ ماں نے اسکی کمر تھپتھپاتے اسے حوصلہ دیا۔۔۔ ماں کیا کرتی ہیں آپ ۔۔۔ آپنے کیوں نہیں کھانا کھایا ابھی تک۔۔۔ آپکو پتہ تو ہے کہ آپ نے اپنی دوائی بھی کھانی ہوتی ہے۔۔۔ وہ غصہ کرتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔ جلدی آو بچے اللہ نصیب اچھے کرے۔۔۔ ماں اسکی فکرمندی دیکھتیں ہلکے سے مسکرا دیں۔۔۔ ماں کبھی ایسی دعائیں مجھے تو نہیں دیں۔۔۔ نا ہی کبھی اتنے پیار سے دلاسہ دیتے مجھے خاموش کروایا میں بھی تو آپکی سگی بیٹی ہی ہوں نا۔۔۔ دفعتاً صلہ کمرے میں آتیں ماں سے شکوہ کناں انداز میں کہتی سامنے صوفے پر بیٹھی۔۔۔ اللہ ہر بیٹی کی قسمت اچھی کرے۔۔۔ بیٹیوں کے دکھ رب سوہنا کسی دشمن کو بھی نا دیکھائے۔۔ اللہ تمہاری قسمت بھی بہت اچھی کرے۔۔۔ صبح عفرا کے ساتھ جا کر دونوں اپنے لئے کچھ شاپنگ کر لینا۔۔۔ ماں گلوگیر لہجے میں کہتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔ امی مجھے صبح بالاج کیساتھ بھی جانا ہے بری کی چیزیں خریدنے تو تب ہی باقی شاپنگ بھی کر لوں گی۔۔ آپ عفرا کو کسی اور کیساتھ بھیج دیں۔۔۔ عفرا ہونٹ چباتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔ ماں اسے کچھ پل دیکھ کر گہرا سانس خارج کرتیں باہر نکل گئ وہ کچھ دنوں کی تو مہمان تھی اب کیا اس سے بحث کرتیں۔۔۔
رات میں امان واپس گھر آیا تو خاصا خاموش تھا ماں کو سلام کرکے وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔ امان بیٹا کھانا لاوں۔۔۔ کچھ دیر تک اسکا انتظار کرنے کے بعد جب وہ نہیں آیا تو ماں خود اسکے پاس کمرے میں آ گیئں جہاں وہ سٹڈی ٹیبل کے سامنے بیٹھا انہماک سے اپنے نئے پلان پر کام کر رہا تھا البتہ لباس تبدیل کر لیا گیا تھا۔۔۔ نہیں ماں بھوک نہیں ہے۔۔۔ وہ مصروف سا بنا ماں کی جانب دیکھے گویا ہوا۔۔۔ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے امان۔۔۔ ماں کچھ دیر اسے یونہی کھڑی دیکھتی رہی پھر سوچ کر بولتی اسکے پاس ہی کرسی کھینچ کر بیٹھیں۔۔۔ جی کہیے ماں۔۔ اسنے ہاتھ میں تھاما پوائنٹر بند کر کے اپنے سامنے موجود سفید کاغذ پر رکھا اور خود مکمل طور پر ماں کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔ صبح کچھ دیر کے لئے وقت نکال کر مجھے شاپنگ پر لے چلنا عفرا کے لئے نکاح کو جوڑا خریدنا ہے اس ہفتے تمہارا اور عفرا کا نکاح ہے۔۔۔ ماں نے آرام سے بات اسکے گوش گزارتے اسے ایک زور دار جھٹکا دیا تھا۔۔۔ کیااااا۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ماں۔۔۔ وہ یوں بدکا جیسے بجلی کی ننگی تار کو چھو گیا ہو۔۔۔ وہی جو تم سن رہے ہو۔۔۔ ماں ہنوز پرسکون تھی۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ماں۔۔۔ وہ شدت سے ماں کی بات کی نفی کرتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔ اور خبردار جو صبح کی طرح یہاں سے بھاگے تو۔۔۔ حالات سے بھاگنا بھگوڑوں کا کام ہوتا ہے۔۔۔ وہ بھی اسکی ماں تھی جانتی تھی کہ یہ تبدیلی اسکے لئے قبول کرنا کس قدر مشکل تھی تبھی تو وہاں وار کیا کہ وہ ماں کی بات سنے بغیر بھاگ بھی نا سکے۔۔۔ میں بھگوڑا نہیں ہوں ماں۔۔۔ لیکن مجھے اس گھر میں شادی کرنی ہی نہیں ہے۔۔۔ اور عفرا۔۔۔ ماں وہ چھوٹی بچی۔۔۔ آپ نے سوچ بھی کیسے لیا ماں۔۔۔ وہ جھٹپٹا رہا تھا۔۔۔ کبھی بالوں پر ہاتھ پھیرتا کبھی لبوں پر زبان پھیرتا وہ خاصا مضطرب دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں اماں صلہ سے دو سال ہی چھوٹی ہے اور تم اسے چھوٹی بچی یوں کہہ رہے ہو جیسے وہ کوئی فیڈر پیتی بچی ہو۔۔۔ وہ بھی بیٹے کے مدمقابل آئیں ۔۔۔۔ جو بھی ہو ماں لیکن مجھے وہاں شادی نہیں کرنی۔۔۔ چٹختے اعصاب پر قابو پانے کی کوشیش میں وہ خود بھی چٹخ ہی تو اٹھا تھا۔۔۔۔ میں نصرت کو زبان دے چکی ہوں امان۔۔۔ اب میں پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔۔۔ ماں بے بسی سے گویا ہوئیں۔۔۔ ماں کیا آپکی نظروں میں بھی میری کوئی سیلف ریسپیکٹ نہیں ۔۔ ایک گھر کی بڑی بیٹی جو آپکے بیٹے کو بری طرح ریجیکٹ کر چکی ہے آپ اسی کی چھوٹی بہن سے میری شادی کروا رہی ہیں۔۔ کیا آپکو نہیں لگتا کہ ایسا کر کے آپ میری ذات میری عزت نفس کو سب کی نظروں میں ہلکا کروا رہی ہیں۔۔۔ اب وہ غصہ نہیں کر رہا تھا وہ ماں سے شکوہ کناں تھا۔۔۔ کیا آپ نے اب عفرا سے پوچھا ہے کہ وہ کیا سوچتی ہے میرے بارے میں۔۔۔ بیٹا ایسی بات نہیں ہے عفرا بہت پیاری بچی ہے وہ تو ہمیشہ سے تمہیں آئیڈیل مانتی ہے اور رہی بات صلہ کی تو وہ باغی ہو گئ ہے۔۔۔ اسکی وجہ سے تو نصرت کے آنسو خشک نہیں ہو رہے ایسے میں میں بہن کو مزید کیا دکھ دیتی۔۔۔ وہ دونوں ہی نم آنکھوں سمیٹ آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔ اور میرے دکھ کا کیا ماں۔۔۔ میں سچ کہہ رہا ہوں اگر میرا اس گھر میں رشتہ ہوا تو آپکی بھانجی کو محبت تو کیا میں عزت بھی نہیں دے پاوں گا شاید۔۔۔ اس لئے خدارا آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لیں۔۔۔ میں دلی طورپر اس گھر میں شادی کے لئے آمادہ نہیں ہوں۔۔۔ وہ بے بسی سے سر ہاتھوں میں تھامتا بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔ نہیں میرا بیٹا ایسا نہیں میں اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔ وہ بھی اسکے پاس ہی بیٹھتیں اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ گئیں۔۔۔ ماں جب سب طے کر ہی چکی ہیں تو پھر کل مجھ سے کوئی شکوہ مت کیجیئے گا۔۔۔ میرا خود پر کوئی اختیار نہیں رہا اور شاید میں خود بھی وہ نہیں رہا وہ اجنبی لہجے میں کہتا اٹھ کر کمرے سے ہی چلا گیا جبکہ نزہت بیگم اسکی پشت ہی دیکھتیں رہ گئیں۔۔
لاوئنج میں دیوار گیر ایل ای ڈی چل رہی جہاں پر کوئی ٹاک شو جاری تھا پاس ہی ایک سالہ مغیث کھیل رہا تھا سامنے سیون سیٹر صوفے پر الجھی سی منیبہ بظاہر ایل ای ڈی پر نظریں جمائے سوچ کی وادیوں میں کہیں دور نکلی ہوئی تھی۔۔ دفعتاً نعمان فریش ہو کر کمرے سے نکلا تو منیبہ کو یوں کھوئے ہوئے دیکھ کر مسکراتا ہوا اسکے پاس آیا۔۔۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی آفس سے آیا تھا ۔۔۔ کہاں گم ہیں محترمہ۔۔۔ وہ منیبہ کیساتھ ہی صوفے پر دھپ سے بیٹھتا اسکے کندھے کے گرد بازو پھیلا کر گویا ہوا۔۔۔ منیبہ نے خالی خالی نگاہوں سے شوہر کو دیکھا۔۔۔ ارے کیا ہو گیا بھئ بھائی کی شادی ہے اور بجائے خوش ہونے کے یوں سڑی سی شکل بنا کر بیٹھی ہو۔۔۔ نعمان نے شریر سے انداز میں منیبہ کی ناک دبائی تو ٹپ ٹپ کئ قطرے آنسووں کے اسکے چہرے پر بہتے چلے گئے۔۔۔ ارے ہوا کیا ہے یار کچھ بتاو گئ بھی۔۔۔ اب کی بار تو نعمان بھی پریشان ہو اٹھا تھا۔۔۔ نعمان یہ سب کیا ہو گیا۔۔۔ بھائی تو صلہ کو پسند کرتے تھے نا پھر یوں اچانک عفرا سے شادی۔۔۔ امی بتا رہی تھی کہ بھائی بھی بہت غصہ کر رہے تھے۔۔۔ اسنے نظریں جھکاتے رگڑ کر اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔ کچھ بھی الٹا سیدھا مت سوچو منیبہ۔۔۔ بس میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا زندگی میں ہمارے ساتھ جو بھی کچھ ہوتا ہے نا وہ ہمارے لئے اچھا ہی ہوتا ہے۔۔ بس حالات اور وقت کے تقاضوں کے تحت ہمیں ایسا محسوس نہیں ہوتا لیکن جیسے جیسے وقت گزرے گا تم خود دیکھو گی کہ یہ فیصلہ امان کے لئے بہتریں ثابت ہوگا۔۔۔ کیونکہ ایک فیصلہ ہم لیتے ہیں اور پھر ایک فیصلہ ہمارا اللہ لیتا ہے انگلی سے اوپر کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ اور بلاشبہ وہ بہتریں پلانر ہے اور اسکے فیصلے بہتریں ہوتے ہیں۔۔۔ امان اور عفرا کا جوڑ اس رب کا فیصلہ ہے۔۔ اور ایک اچھا انسان وہی ہوتا ہے جو اس رب کے فیصلے کے آگے سر جھکا دے کیونکہ تقدیر سے کوئی نہیں لڑ سکتا ہاں اسے بہتر سے بہتریں بنانے کے لئے تدبیریں کی جاسکتی ہیں کبھی دعاوں کی صورت تو کبھی عمل کے ذریعے۔۔۔ ہماری زندگی میں کبھی بھی کچھ بھی غیر متوقع نہیں ہوتا۔۔۔ جو ہوتا ہے وہ پہلے سے ہی مقرر ہوتا ہے بس اگر انسان اس چیز کو سمجھ کر اسے اللہ کی حکمت جان کر اپنانے لگے تو بےسکونی کہیں ہو ہی نا۔۔۔ نعمان نے نرمی سے اسے سمجھاتے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر دل کیوں دکھتا ہے۔۔۔ درد کیوں ہوتا ہے۔۔۔ وہ ہنوز گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ نعمان ہلکے سے مسکرا دیا۔۔۔ عجیب بندی ہو یار تم بھی۔۔۔ جب انسان دنیا کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا ہے نا تو پھر اللہ اسے ہلکا سا جھٹکا لگاتا ہے تھوڑا سا دکھ دے کر ہلکی سی آزمائش بھیج کر تا کے وہ اسکے پاس لوٹ آئے۔۔۔ اور یہ حقیقت ہے کہ دکھی دل کے ساتھ انسان اسی رب کے سامنے جھکتا ہے ۔۔۔ اسے پکارتا ہے اس سے مدد طلب کرتا اور بلاشبہ سکون بھی اسی کے در پر نصیب ہوتا ہے۔۔۔ اور ایسی آزمائش جو آپکا تعلق اپنے رب سے جوڑ دے وہ آزمائش بھی اللہ کی ایک اطاعت ہوتی ہے جو آپکو آپکے رب کے قریب کر دیتی ہے۔۔۔ اگر زندگی میں محض خوشحالی ہی ہو تو ہم تو اپنے اصل کی جانب لوٹے ہی نا۔۔۔ تم نے سنا نہیں کہ آزمائشیں بھی اللہ کے نیک بندوں پر ہی زیادہ آتی ہیں۔۔۔ وہ اپنے ان بندوں کو بار بار خود سے جوڑتا ہے اور یقین مانو وہ رب کسی انسان کی استطاعت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتا۔۔۔ لیکن انسان فطرتاً خودغرض واقع ہوا ہے جیسے ہی اسکے مسلے حل ہوتے ہیں وہ واپس اس دنیا داری کی بھول بھلیوں میں کھو جاتا ہے اسکی غم اور ریشانی کے دنوں میں کی جانے والی عبادات میں پھر کمی آنے لگتی ہے۔۔۔ اور جب وہ رب سے بہت دور ہو جاتا ہے تو پھر اسے اللہ اپنے پاس بلانے کو اسکے پاس کچھ آزمائش بھیجتا ہے۔۔۔ یہ ہی دستور کائنات ہے جس سے بددل ہونے دلبرداشتہ ہونے یا ناامید اور مایوس ہونے کی بجائے صرف سمجھنے کی ضرورت ہے اور جس نے اس اصول کو سمجھ لیا اسکے لئے زندگی بہت سہل ہے بہت سہل۔۔۔ ہم مسلمانوں کے پاس نا ایک بہت بڑی طات ہے بہت بڑی۔۔۔ وہ اب صوفے سے ٹیک لگائے کسی غیر مری نقطے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ جسے ہم سب فارگڑانٹڈ لیتے ہیں۔۔۔ منیبہ ٹھٹھرتے آنسووں سمیٹ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ ایمان کی طاقت ۔۔۔توکل کی طاقت۔۔۔ ہمارے پاس ہمارا اللہ ہے۔۔ کیا یہ کوئی چھوٹی بات ہے۔۔۔ اس بات کو زرا دل سے محسوس کر کے دیکھو۔۔۔ جسیے کسی کے پاس جن ہو یا کوئی ہوائی طاقت وہ اتراتا ہے کہ وہ دنیا کے کم و بیش سب کام کر سکتا ہے۔۔۔ ہمارے پاس ہمارا رب ہے جو سب کر سکتا ہے۔۔۔ جسکے پاس ہر چیز کا حل ہے۔۔۔ وہ معجرے کرنا جانتا ہے۔۔۔ جہاں عقل اور سائنس ختم ہو جاتی ہے وہاں ہمارے رب کی حکمت شروع ہوتی ہے تو پھر ضرورت تو صرف مانگنے کی ہے نا۔۔۔ قسم اس خدا کی اگر ہم مانگنے کا سلیقہ سیکھ لیں اور یہ بات سیکھ لیں کہ مانگنا ہے تو صرف اسی رب سے اور محض اسی کی ذات ہمیں عطا کر سکتی ہے تو پھر دیکھو کہ کیسے ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔۔۔ سجدے کی توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی اور بالخصوص تہجد کے سجدے کی توفیق تو اسکے بہت خاص بندوں کو ہی ملتی ہے۔۔ صرف انہیں جنہیں وہ خود منتخب کرتا ہے۔۔۔ اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں وہ تہجد کی سعادت بخشتا ہے۔۔۔۔تب اس وقت اسکے حضور سر سجدے میں گرا کر مانگی جانے والی دعا ۔۔۔ میرا دعوی ہی نہیں ایمان ہے کہ کبھی رد نہیں ہوتی۔۔۔ ہاں اسکی قبولیت کا وقت آگے پیچھے ہو سکتا ہے۔۔۔ اللہ بہتر لے کر بہترین سے بھی نواز سکتا ہے لیکن وہ دعا قبول ہوتی ہے۔۔۔ ضرور قبول ہوتی ہے۔۔۔ میری ایک بات چاہے تو کہیں لکھ کر رکھ لو۔۔۔ جب کبھی کسی انسان کی زندگی میں ایسا مقام آئے کیونکہ ایسا مقام کم و بیش ہر انسان کی زندگی میں آتا ہے۔۔۔ حالات مختلف ہو سکتے ہیں واقعات مختلف ہو سکتے ہیں نوعیت بھی مختلف ہو سکتی ہے لیکن کم و بیش یہ مقام ہر انسان کی زندگی میں آتا ہے۔۔۔ کیونکہ ہم انسان ہیں اور دکھ اور سکھ کا ناتا زندگی کی آخری سانس کی ڈور تک ہم سے جڑا رہتا ہے تو ایسا مقام بھی زندگی میں بارہا آتا رہتا ہے۔۔۔ جب انسان خود کو بہت بے بس تصور کرتا ہے۔۔۔ جب وہ ہر طرف سے اندھیرے میں گھرا ہوتا ہے اس انداز میں کہ اسے وہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں سجھائی دیتا۔۔۔ جیسے کسی کی شادی نہیں ہو رہی بارہا کوشیش کے بعد بھی بیٹیاں باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہیں انہیں اس مسلے کا کوئئ حل دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔ کسی کی صحت دن با دن گرتی جا رہی ہے۔۔۔ وہ صحتیاب نہیں ہو رہا۔۔۔ کسی کو اولاد نا ہونے کا غم کھائے جا رہا ہے۔۔۔ کسی کی محض بیٹیاں ہیں بیٹا نا ہونے پر دنیا اسے جینے نہیں دے رہی۔۔۔ کسی کے اپنے شوہر سے اختلافات اتنے ہیں کہ وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو رہی ہیں۔۔۔کسیکے سسرالی مسائل حل ہونے کا نام نہیں لے رہے۔۔۔۔ کسی کے گھر میں رزق کی کمی ہے اور وہ روز ایک مشکل وقت میں سفر کر رہا ہے۔۔۔ غرض کئ طرح کی صورتحال ہو سکتی ہیں جس میں انسان بے بس ہو جاتا ہے جب وہ ڈپریشن میں جانے لگتا ہے۔۔۔ جب اسے لگتاہے کہ اسکا کوئی نہیں رہا وہ اکیلا ہے۔۔ لیکن یاد رکھنا ایک ذات تو تب بھی ہے ہمارے پاس ۔۔ ایک طاقت۔۔۔ ایک ایسی طاقت جو ناممکنات کو ممکن کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔۔۔ جس کے لئے آپ کے جو بھی مسائل ہیں وہ اس کے لئے کچھ بھی نہیں سب اسکے ایک کن کا محتاج ہے۔۔۔ یاد رکھنا جب انسان بے بسی کی انتہاوں کو چھو جائے کہ وہ خود کو چاروں جانب سے ایک اندھیری کوٹھری میں گرا پائے جس سے نکلنے کا اسکے پاس کوئی راستہ نا ہو تو تب بھی اسکے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔۔۔ اللہ کبھی بھی کسی انسان پر ہر راستہ بند نہیں کرتا بلکہ وہ ہر انسان کے لئے دو راستے ہمیشہ کھلے رکھتا ہے۔۔۔ نسان چاروں طرف سے اندھیرے میں گھر سکتا ہے لیکن اسکے پاس دو راستے ہوتے ہیں ایک ہے نیچے زمین اور دوسرا اوپر آسمان۔۔۔ اسنے باری باری نیچے اور پھر اوپر کی جانب انگلی کی۔۔۔ نیچے سجدہ ہے اور اوپر۔۔۔ اوپر نیچے کی جانے والی دعائیں جاتی ہیں جو جب اپنا رنگ لاتی ہیں تو پھر اوپر سے رحمتیں اترتی ہیں۔۔۔ نور کی بارش ہوتی ہے اور پھر وہی نور قطرہ قطرہ کر کے ہمارے دل میں سرایت کرتا ہمیں سکون فراہم کرتا ہے اور اسی نور کی بدولت رفتہ رفتہ پھر ہمارے ارد گرد سے وہ اندھیرے ڈپریشن اور مایوسی کی دیواریں چھٹنے لگتیں ہیں۔۔۔ یہ دو راستے تو ہر انسان کے پاس ہمہ وقت ہوتے ہیں بس یہ مانگنے والے کی شدت اور تڑپ پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کتنی جلدی اپنے رب کو راضی کر لیتا ہے۔۔۔ اگر کوئی چیز آپکی قسمت میں نہیں بھی ہے تو قسمت لکھنے والا بھی وہی رب ہے اور بلاشبہ اسے بدلنے پر قادر بھی وہی رب ہے۔۔۔ اور وہ قسمتیں بدلتا ہے۔۔۔ انسان کے پاس ایسی طاقت ہے کہ وہ زمین پر بیٹھے بیٹھے وہاں عرش پر اپنے رب سے اپنی قسمت بدلوا سکتا ہے۔۔۔۔۔ اور وہ ہے دعا کی طاقت اپنے رب پر یقین اور توکل کی طاقت۔۔۔ اور اللہ تو پھر بڑا پیارا ہے۔۔ سراپا محبت ہے۔۔۔ جو اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے وہ آپکے حالوں سے بے خبر نہیں ہوتا بس منتظر ہوتا ہے کہ کب ہم اسکے در پر جا کر اسے شدت سے پکارتے ہیں اس سے اپنا ناطہ پھر سے جوڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔ بات کرتے کرتے وہ کہیں بہت آگے نکل گیا تھا صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے اسکی بند آنکھیں نم تھیں اور ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ۔۔۔ نعمان آپ اتنے گہرے ہیں یہ میں نے اپنی دو سالہ شادی شدہ زندگی میں آج جانا۔۔۔ منیبہ کی حیران کن آواز پر اسنے مسکراتے ہوئے آنکھیں کھول کر منیبہ کو دیکھا۔۔۔ وقت اور حالات انسان کو سب سمجھا دیتے ہیں امی اور بابا کی ڈیٹھ کے بعد تم تصور بھی نہیں کر سکتی کہ میں کس قدر اکیلا ہو گیا تھا۔۔۔ تب اگر میرا تعلق میرے رب سے مضبوط نا ہوتا تو شاید میں پاگل ہو جاتا۔۔۔خیر چھوڑو ان باتوں کو اٹھو اور تیار ہو جاو ہم شادی کے لئے شاپنگ پر جا رہے ہیں۔۔۔ وہ خود کو کمپوز کرتا اسکا چہرا تھپتھپا کر اٹھ گیا کہ وہ اپنی ذات کے اس پہلو پر کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔۔۔