
khwab e Junoon by Umme Hani NovelM80032 Episode 24
Episode 24
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
دوپہر کو کسی وقت صلہ کی باہر سےآتے شور کے باعث آنکھ کھلی۔۔ آنکھ کھلتے ہی اسنے بیزاری سے لیٹے لیٹے اس شور کو سمجھنے کی کوشیش کی کہ شور کس چیز کا ہے۔۔۔ باہر غالباً ثانیہ اور تانیہ کا کسی بات پر جگھڑا چل رہا تھا۔۔۔ ساتھ ہی ثانیہ کی دو سالہ بیٹی کا باجا بھی اونچی آواز میں جاری تھا۔۔۔۔
وہ کسلمندی سے اٹھ کر بیٹھتی کوفت سے سر تھام گئ۔۔۔ نیند سے جاگتے ہی اسکا سر درد کرنے لگا تھا۔۔۔ اس گھر میں سکون نام کو کہیں نا تھا۔۔۔ پہلے ثانیہ کیا کم تھی جو اوپر سے تانیہ بھی آ دھمکی تھی۔۔۔ پتہ نہیں انہیں اپنے گھروں میں سکون کیوں نہیں ہے۔۔۔ وہ محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔
ایک تو طبیعت پہلے ہی بوجھل بوجھل سی رہتی تھئ اوپر سے یہ مسلسل ذہنی ٹارچر ۔۔۔ وہ اپنی کنپٹیاں سہلاتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ ارادہ لنچ کرنے کا تھا کیونکہ اب اسے کافی بھوک محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
لو آگئ مہارانی بستر توڑ کر۔۔۔ دوسرا تو کوئی کام ہے نہیں کھا لیا اور بستر توڑ لیا۔۔۔صحیح پاگل بنایا ہوا ہے میرے بھائی کو۔۔۔۔ابھی اسنے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ ثانیہ کی طنزیہ آواز اسکے کانوں میں گھونجھی۔۔۔
اسکا دماغ پہلے ہی خراب تھا مزید ثانیہ کی باتوں نے جلتی پرتیل کا کام کیا تھا۔۔۔
چلو میں کچھ تو کرتی ہوں ۔۔ مگر اپنے سسرال میں تو تمہیں بستر توڑنا بھی نصیب نییں ہوتا۔۔۔۔ وہ توڑنے بھی تم مائیکے کا ہی رخ کرتی ہو۔۔۔چچچ۔۔۔۔ وہ زرا کی زرا رک کر اسکی جانب دیکھتے ٹھنڈا طنز کر کے کچن کی جانب بڑھ گئ۔۔۔
وہ کوئی انیسویں صدی کی دکھیاری بہو تھوڑی تھی جو چپ چاپ سب برداشت کرتی رہتی۔۔۔
ثانیہ اس سے بڑی تھی۔۔۔ کوئی عزت احترام نامی چیز ہوتی ہے۔۔۔۔۔لیکن جب وہ خود ہی ان چیزوں سے نابلد تھی تو بھلا پھر صلہ بھی کیوں اسے کوئی عزت دیتی ۔۔ عزت احترام سب گیا تیل لینے۔۔۔ اسکے نزدیک زندگی گزارنے کا ایک ہی اصول تھا عزت دو اور عزت لو۔۔۔ جب کوئی اسکی عزت نہیں کر سکتا تو وہ کبھی مر کر بھی اسکی عزت نہیں کر سکتی۔۔۔
اسکے اتنے سے فقرے نے گویا وہاں آتش فشانی کر دی تھی۔۔۔ جس میں ثانیہ جل جل جاتی اب اندر کی کھولن لفظوں کی صورت اس پر انڈیل رہی تھی ۔۔۔۔ اور تاریخ گواہ تھی کہ بد زبانی میں صلہ کبھی انکا مقابلہ نہیں کر سکتی تِھی۔۔۔
وہ وہ کوسنے اسے اور اسکی ماں کو دیئے گئے کے صلہ کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔۔۔۔ وہ اس وقت کو کوسنے لگی جب اسنے کیچر میں کنکر پھینکا تھا۔۔۔
گندگی ماں کی گندی بیٹی۔۔۔ جو پوری زندگی ماں نےگل کھلائےوہی تو اب بیٹی۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی بے حیا بےغیرت عورت۔۔۔ اب ثانیہ کی باتیں برداشت سے باہر تھیں تبھی وہ ہاتھا میں تھاما چائے کا مگ باہر لے کر آتی غصے سے چیختی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔ البتہ ہاتھ میں تھاما گرم چائے کا مگ اسنے پوری قوت سے لاوئنج کے وسط میں پھینکا۔۔۔
صد شکر کے ثانیہ کچھ فاصلے پر تھی جو بچت رہی۔۔۔
میری ماں تک پہنچنے سے پہلے اپنی کرتوتیں تو دیکھ لو۔۔۔ خود کیسی ماں ہو جسکی اولاد رل رل کر یتیموں کے جیسےپل رہی ہے۔۔۔جسے سسرال میں کوئی پوچھتا نہیں آئے روز مائیکے میں دوسروں کا سکون برباد کرنے پہنچی ہوتی ہے۔۔۔
یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے۔۔۔ نا ہی وہاں سے چیزیں آتی ہیں جو اپنا پاگل پن یہاں دکھا رہی ہو۔۔۔ اسکے کپ توڑنے اور غصے سے چیخنے پر تائی جان بھی بازو چڑھاتی بیٹی کی حمایت کو باہر نکلی تھیں۔۔۔
باپ کا گھر نہیں ہے لیکن شوہر کا تو ہے اور رہ گئ بات پاگل پن کی تو یہ گھر تو ہے ہی پاگل خانہ جہاں سارے کے سارے پاگل اکھٹے ہوئے ہیں۔۔۔ یہاں جو آئے گا پاگل ہی ہو جائے گا۔۔۔
بس بہت رہ لی وہ خاموش ۔۔۔ اب مزید نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔اسکا لڑائی جگھڑے سے محسوس ہونے والا ابتدائی خوف روز روز کے ڈراموں کے باعث زائل ہو گیا تھا اور اسے اندازہ ہی نا ہوا کہ وہ کب انکے رنگ میں رنگتی ویسی ہی ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
سنی ماں تو نے اپنی بہو کی بکواس۔۔۔ یہ تمہیں پاگل کہہ رہی ہے۔۔۔۔ ابکی بار کرن نے بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہا۔۔۔
ارے یہ پاگل خانہ ہے تو دفعہ کیوں نہیں ہو جاتی یہاں سے۔۔۔ جا دفعہ ہو جا میرے بیٹے کی زندگی سے۔۔۔ زرا ہمیں بھی تو سکون ہو۔۔۔ ارے میرے بیٹے کو کوئی رشتوں کی کمی تھوڑی ہے ۔۔۔ ایک چھوڑ دس قدموں میں ڈھیر ہونے کو تیار ہیں۔۔۔ ناجانے یہ کرم جلی کہاں سے ہماری جانوں کو چمٹ گئ۔۔۔
وہ تینوں بیٹیاں اور ماں اس بات پر اتحاد کرتی اکھٹی میدان میں کود چکی تھیں جبکہ وہ ان سب کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھی۔۔ اتنی سی دیر میں ہی اسکا جسم کپکپانے لگا تھا۔۔۔ سانس پھول گیا تھا۔۔۔ کندھوں میں کھنچاو پڑنے لگا تھا۔۔۔ بگڑتی طبیعت کے پیش نظر وہ خود کو گھسیٹتی اندر چلی گئ۔۔۔
جبکہ باقی سب گھر والوں کے لئے شاید یہ نارمل بات تحی تبھی وہ شام تک مسلسل اسی کی ذات کو رگیڈتے رہے تھے۔۔۔
صلہ کا دماغ پھٹ رہا تھا کہ کیا کرے وہ۔۔۔ رات تک وہ بالاج کا انتظار کرتی رہی۔۔۔ رات بالاج کے آتے ہی اسنے روتے ہوئے ساری بات بالاج کے گوش گزاری۔۔۔
صلہ یار کیا کرتی ہو۔۔۔ سارا دن کا تھکا ہارا گھر آیا ہوں اور آتے ہی تم نے رونا شروع کر دیا ہے۔۔۔ وہ بیزاری سے اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے بیڈ پر بیٹھا۔۔۔۔ تھکن اسکے بھی چہرے سے ہوادیدہ تھی۔۔۔
بالاج میں تمہیں تمہاری ماں اور بہنوں کے ناروا رویے کے بارے میں بتا رہی ہوں۔۔۔
پلیز صلہ بس کردو۔۔۔ جیسا وہ کرتی ہیں تم بھی انہیں ویسا ہی جواب دے کر بات ختم کر دیا کرو۔۔۔ اب کیا میں ہر روز ہوئی گھر کی باتوں کو لے لے کر پنچائتیں بیٹھاتا رہوں۔۔۔
کچھ مسلے خود بھی حل کر لو۔۔۔ میرے لئے باہر کے مسائل رہنے دو۔۔۔ صبح سے نکلا ہوں گھر سے اب تھک ہار کر لوٹا ہوں۔۔۔ سر درد سے جان نکل رہی ہے۔۔۔ اب تم کیا چاہتی ہو باہر نکل کر پھر سے ایک ہنگامہ کھڑا کروں۔۔۔ وہ جھنجھلایا سا اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔ صلہ اسے بھرائی نگاہوں سے دیکھتی لب بھینچ گئ۔۔۔
انہیں انکے حال پر چھوڑ دو صلہ اور اپنی زندگی جیو۔۔۔
وہی تو وہ جینے نہیں دیتیں بالاج۔۔۔ جان بوجھ کر مجھے ہر بات میں گھسیٹ کر تماشا لگا لیتی ہیں۔۔۔ اسکا دل چاہ رہا تھا کے کمرے کے وسط میں بیٹھ کر ڈھاریں مار مار کر رو دے۔۔۔
اسکے دو ہی حل ہیں صلہ۔۔۔ کہ یا تو انکا مقابلہ کر لیا کرو۔۔۔ یا پھر انہیں نظر انداز کر دیا کرو ۔۔۔ جو دل چاہیے کرو۔۔۔۔ مگر خدارا یہ گھریلو معاملات خود ہی فکس کر لیا کرو۔۔۔ میرے پاس معاش کے ہی سو مسائل ہی۔۔۔ وہ اکتائے سے انداز میں کہتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ جبکہ وہ بیڈ پر ڈھتی تکیے میں منہ گھسائے پھر سے رو دی۔۔۔
کسے سناتی اپنا دکھ۔۔۔ کسے دکھاتی دل کے زخم۔۔۔ ماں کے سامنے جاتی بھی تو کس منہ سے۔۔۔ اور کیا کہتی ماں سے۔۔۔۔کہ ماں کے خلاف جا کر ۔۔۔ انہیں انکے اپنوں کی نظروں میں ذلیل و رسوا کر کے آ خر اسنے کیا پایا تھا۔۔۔ اب تو بس دن رات اپنے اللہ سے ہی وہ اپنی حرکتوں کی معافیاں مانگتی اسکے حضور بہتری کے لئے دعا گو تھی۔۔۔
******
موسم آج خاصا خوشگوار تھا۔۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا پورے زور سے چل رہی تھی جیسے کچھ وقت پہلے ہی بارش کے آنے کا پتہ دے رہی ہو۔۔۔ ایسے میں امان رات کا کھانا کھانے کے بعد حسب سابق سٹڈی ٹیبل کے سامنے بیٹھا اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔ جبکہ اسکے سامنے موجود کاوئچ آج خالی تھا۔۔۔ نا وہاں عفرا تھی اور نا ہی اسکی کتابیں ۔۔۔۔
آج اتنے پیارے موسم کو انجوائے کرنے کے لئے عفرا خالہ کے ہوم گارڈن میں واک کر رہی تھی۔۔۔ تیز چلتی ہوا کے جھونکے درختوں کے پتوں کے سنگ اسکا آنچل اڑا کر لے جا رہے تھے۔۔۔ جبکہ ٹیل پونی میں مقید اسکے بال ہوا سے بکھر بکھر اسکی گردں اور چہرے پر بکھر جاتے۔۔۔
کام کرتے اچانک امان کی نظر کھلی کھڑی سے باہر امی کے ہوم گارڈن کی جانب اٹھی تو ایک مسکراہٹ اسکے ہونٹوں کو چھو گئ۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا وہاں سے اٹھا اور سبھی کاغذات سمیٹ کر دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔ اسکا رخ باہر کی جانب تھا۔۔۔ جب سے یہ لڑکی اسکی زندگی میں آئی تھی زندگی مزید حسیں لگنے لگی تھی۔۔۔ زندگی کے مقاصد میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔۔۔
اب زندگی کے مقاصد میں سب سے اہم مقصد اس معصوم سی کانچ سی لڑکی کو زندگی کی خوشیوں سے متعارف کروانا تھا۔۔۔ اسے اسکی شایان شان سب دلوانا تھا۔۔۔
ہممم تو اکیلے اکیلے موسم انجوائے ہو رہا ہے ہاں۔۔۔ امان نے اسکے قریب جاتے اسکے کندھے سے کندھا ٹکرایا تو وہ مسکراتی ہوئی اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
آپ کام کر رہے تھے اس لئے میں نے آپکو ڈسٹرب نہیں کیا۔۔۔
عفرا نے امان کی بازو میں اپنی بازو حائل کرتے اسکے کندھے پر سر رکھا اور پھر سے واک کرنے لگی۔۔۔
تم نے اپنی آج کی پڑھائی کر لی۔۔۔ عفرا کی اس حرکت سے اسکے اندر تک سرشاری اتر گئ۔۔۔
نہیں ابھی نہیں۔۔۔ ابھی تو موسم انجوائے کر رہی ہوں۔۔۔ مگر محترم امان صاحب رات سونے سے پہلے سب کر کے سووں گئ۔۔۔
وہ اسکی کام کو لے کر پوزیسونیس دیکھ کر صفائی دیتی گویا ہوئی۔۔۔
چلو واک کرنے باہر چلتے ہیں۔۔ امان کی اس آفر پر عفرا کی آنکھیں چمکی۔۔۔ ایسے موسم میں امان کی یہ آفر اسے کسی نعمت مترکبہ سے کم نا لگی۔۔۔
آپ دو منٹ انتظار کریں میں اپنی چادر لے آتی ہوں اور زرا خالہ کو بھی بتا دوں۔۔ وہ ہاتھ سے دو کا اشارہ کرتی آندھ دھند اندر کو بھاگی۔۔۔
ارے آرام سے گر جاو گی۔۔۔ وہ اسکی جلدبازیاں ملاخظہ کرتا مسکرا دیا جو گرتی پڑتی اندر کو بھاگ رہی تھی۔۔۔ کچھ ہی پلوں میں وہ سیاہ چادر کے ہالے میں دمکتا چہرا لئے باہر اسکے پاس آئی۔۔۔ امان نے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے مسکرا کر اسکے دمکتے چہرے کو دیکھا اور اسے لئے باہر نکل آیا۔۔۔
آمان آپ سے ایک بات ہوچھوں۔۔۔ آپ مائنڈ تو نہیں کریں گئے۔۔۔ وہ اسکے سنگ روڈ کنارے چلتی جھجھکتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔۔
ایسی کونسی بات ہے عفرا جسے کرنے کے لئے تمہیں مجھ سے یوں اجازت لینی پڑ رہی ہے۔۔۔۔ اسنے عفرا کی جھجھک کو بہت شدت سے نوٹ کیا تھا۔۔۔
پلیز آپ مجھے غلط مت سمجھیے گا میں تو بس۔۔۔
نہیں میں تمہیں غلط نہیں سمجھوں گا عفی۔۔۔ غلط سمجھ ہی نہیں سکتا۔۔۔ کیونکہ تم غلط ہو ہی نہیں۔۔ بے فکر ہو کر وہ بات شیئر کرو جس نے تمہیں پریشان کر رکھا ہے۔۔۔ عفرا کو یوں جھجھک کر نروس ہوتا دیکھ وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتا گویا ہوا جو اپنے ہاتھ بے طرح مسل رہی تھی جیسے امان سے بات کرنے کو ہمت جٹا رہی ہو۔۔۔ یا سمجھ نا پا رہی ہو کے یہ بات امان سے کرے کے نا۔۔ ۔
نہیں۔۔۔ پریشان نہیں۔۔ لیکن تھوڑا سا الجھی ضرور ہوں۔۔۔ وہ مفاہمتی انداز میں مصلحتاً گویا ہوئی۔۔۔
امان کے لئے اسکا انداز بہت غیر متوقع تھا۔۔۔
وہ دراصل امان۔۔۔ پلیز آپ غصہ مت ہونا۔۔۔
ناجانے وہ کیسی تسلی چاہتی تھی جو الفاظ اسکی زبان پر آتے آتے رک جاتے۔۔۔
اب تمہارے زبان پر صرف وہ بات آنی چاہیے جو تم کرنا چاہتی ہو اور یقین رکھنا کے میں غصہ نہیں کروں گا۔۔۔ امان نے اسے بازو سے تھام کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے سنجیدگی سے کہا تو وہ پھیکا سا مسکرا دی۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ امان۔۔۔ دراصل۔۔۔ اسنے بے ساختہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے انہیں تر کیا۔۔
پہلے آپ نے صی۔۔۔ صلہ سے شش۔۔۔ شادی کی خواہش ظاہر کی تھی نا۔۔۔۔ تت۔۔۔ تو کیا آپ واقعی موو آن کر چکے ہیں۔۔۔
نہیں۔۔ میرا مطلب کک۔۔ کہ۔۔۔ بات کرتے اسکی زبان بری طرح سے ہکلا رہی تھی۔۔۔ پتہ نہیں اسے یہ بات کرنی بھی چاہیے تھی کہ نہیں۔۔۔ خالہ نے اسے سمجھایا بھی تھا کے ان دونوں کی ازواجی زندگی میں پچھلا کوئی حوالہ شامل نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ شاید اسی لئے وہ اتنا گھبرا رہی تھی۔۔۔ کے انجانے میں ہی کہیں امان کی کسی دکھتی رگ پر ہاتھ نا رکھ جائے۔۔۔ پریشانی اور ہراس اسکے چہرے سے ہوادیدہ تھا۔۔۔
اسکی بات سن کر امان چلتا چلتا رک گیا گویا عفرا سے اس بات کی توقع نا کر رہا ہو۔۔۔ عفرا بے طرح ہاتھ مسلتی غزالی آنکھیں بار بار جھپکتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
جب اسنے نرمی سے عفرا کے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے اسکے ہاتھ ایک دوسرے سے الگ کئے۔۔۔ مت کرو ان پر اتنا ظلم اور دیکھو یہ سرخ ہو گئے ہیں۔۔۔ اسنے عفرا کے تھامے ہاتھوں کا معائنہ کیا جنہیں بے طرح مسلنے سے وہ سرخ ہونے لگے تھے۔۔۔
عفرا تھوک نگلتے سر جھکا گئ۔۔۔
تمہارے بارے میں کبھی اس لحاظ سے سوچا نہیں تھا عفرا جس لحاظ سے ۔۔۔جس رشتے سے تم آج میری زندگی میں موجود ہو۔۔۔ وہ اسے بازو کے حصار میں لئے پھر سے چلنے لگا تھا۔۔۔
لیکن ضروری نہیں جو سوچا جائے ویسا ہی ہو۔۔۔۔ تم چھوٹی تھی ۔۔۔صلہ تم سے بڑی تھی۔۔۔ مجھے تم خالہ اور صلہ تینوں ہی بہت عزیز ہو۔۔۔ اس لئے جب امی نے میرے سامنے شادی کے لئے لڑکی کا آپشن رکھا تو میری پہلی سوچ اسی کی جانب گئ۔۔۔ وہ تم سے بڑی تھی اور خالہ کی بیٹی تھی۔۔۔ مجھے خالہ امی کی طرح ہی عزیز ہیں عفرا۔۔۔ مجھے انہی کا بیٹا بننا تھا۔۔۔ انکا حقیقی سہارا۔۔۔ میں نے پوری زندگی انہیں سٹرگل کرتے دیکھا ہے اور کہیں نا کہیں میرے اندر محنت کے یہ جراثیم خالہ سے ہی آئے ہیں۔۔۔ میں بچپن سے انکے بہت قریب رہا ہوں۔۔۔ اس لئے میں نے ماں کے سامنے صلہ کا نام لیا۔۔۔ اگر مجھے زرا بھی اندازہ ہوتا کہ وہ بالاج میں انٹرسٹڈ ہے تو میں ایسی حماقت کبھی نا کرتا۔۔۔
یا اگر وہ میرے ساتھ تحمل سے اس بات کو ڈسکس کرتی تو میں یقیناً اسکا کوئی بہتر حل نکال لیتا۔۔۔ لیکن خیر وہ میرا ماضی تھا۔۔۔ وہ میرے خاندان کی لڑکی ہے اور اس وقت کسی اور کی عزت ہے۔۔۔ وہ میرے لئے قابل احترام ہے۔۔۔
تم میرا حال ہو عفرا۔۔۔ میرا مستقبل ہو۔۔ میری زندگی کی جیتی جاگتی حقیقت ہو۔۔۔ اور اب تو لہو کی مانند میری رگوں میں سرایت کرنے لگی ہو۔۔۔ مجھے آج یہ قبول کرنے میں کوئی عار نہیں کہ امان حسن نے اپنی زندگی میں محض ایک ہی لڑکی کو اپنے دل کے سنگھاس پر بیٹھنے کی اجازت دی ہے جو میرے دل کی ۔۔۔۔میری ذات کی بلاشرکت غیر مالکن ہے وہ جو اس وقت میرے نکاح میں ہے اور جو اس وقت میرے پہلو میں موجود ہے مسز عفرا امان حسن۔۔۔ اسنے جذب سے کہتے عفرا کے سر پر اپنے لب رکھے تو کئ تشکر کے آنسو اسکی آنکھوں سے پھسل پھسل گئے۔۔۔
بس پاگل یہاں کو ایموشنل سین شروع نا کرنا میں یہاں تمہارے آنسو صاف نہیں کر سکتا۔۔۔ دور سے کہیں ان پر گاڑی کی ہیڈ لائٹ پڑی تو وہ عفرا کے گرد سے اپنا حصار ہٹاتا اسکے سر پر چیت رسید کرتا گویا ہوا۔۔۔
جبکہ وہ بھی ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی کھلکھلا دی۔۔۔
چلو واپس گھر چلتے ہیں اس سے پہلے کے یہ کن من تیز بارش کا روپ ڈھار لے۔۔۔ وہ قطرہ قطرہ کن من ہوتی بارش کو دیکھتا عفرا سے گویا ہوا ۔۔۔ وہ لوگ باتیں کرتے کافی آگے تک نکل آئے تھے۔۔۔
واپسی پر گھر پہنچتے پہنچتے بارش خاصی تیز ہوگئ تھی۔۔۔ گھر پہنچنے تک وہ دونوں اچھا خاصا بھیگ چکے تھے۔۔۔
ویسے آج کا ایڈوینچر خاصا اچھا رہا نا۔۔۔ عفرا دونوں ہاتھوں سے چہرا پر گری بارش کی بوندیں ہٹاتی کھلکھلا کر گویا ہوئی ۔۔۔
ایڈوینچر کی بچی ہم پورا بھیگ گئے۔۔ امان نے اسے تاسف سے دیکھا۔۔۔
اچھی بات ہے ۔۔۔ اب آپ کچن میں جا کر دو کپ اچھی سی چائے بنائیں تب تک میں آپ کے لئے کپڑے نکالتی ہوں۔۔۔
چائے کی کچھ لگتی تم مجھ پر کچھ زیادہ ہی روب نہیں جمانے لگی۔۔۔ اسے عفرا کا یوں حق جتا کر کہنا کافی اچھا لگا تھا۔۔۔
ظاہر سی بات ہے اب تو میرے پاس حق جتانے کا باقاعدہ پرمٹ ہے۔۔ جلدی چائے بنا کر لائیں۔۔۔ وہ کھلکھلا کر کہتی کمرے کی جانب بھاگ گئ۔۔۔ جبکہ وہ مسکراتا ہوا کچن کی جانب بڑھا۔۔۔
جانے کیوں ہر گزرتے لمحے کیساتھ ساتھ یہ لڑکی اسکے لئے ناگزیر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
******