📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="155"]
56650 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

سورج اپنے نارنجی پر سمیٹتا سمیٹتا مکمل روپوش ہو گیا تھا۔۔۔ رات کی رانی نے ہر جانب اپنا قبضہ جماتے چہار سو اندھیرا کر دیا۔۔۔ ایسے میں عفرا لان کے پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس بالوں کی ڈھیلی سی پونی بنائے آنچل شانوں پر اوڑھے ماں کا بیڈ بنا رہی تھی۔۔۔ ماں سفید آنچل کے ہالے میں دمکتا چہرا لئے صوفے پر براجمان ہاتھ میں تھامی تسبح کے دانے گراتیں مسلسل کچھ پڑھتیں مسکراتے ہوئے عفرا کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔ وہ ابھی ابھی عشاء پڑھ کر فارغ ہوئی تھیں۔۔۔

ماں میں رات آپکے پاس سو جاوں نا۔۔۔ ہمارے والے کمرے میں تو صلہ اور بالاج بھائی رکیں گئے۔۔۔ چادر کی شکنیں نکال کر وہ اب تکیے بیڈ پر رکھ رہی تھی۔۔۔ ماں نے آسودگی سے مسکراتے تسبح کرتے سر ہلا کر رضا مندی دی۔۔۔

دفعتا صلہ اور بالاج مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔۔ بیساختہ بالاج کو اندر آتا دیکھ عفرا نے آنچل کا پ

لو اٹھا کر سر پر ڈالا۔۔۔۔

امی ہم زرا آئسکریم کھانے جا رہے ہیں کچھ دیر تک آ جائیں گئے۔۔۔ عفرا چہکتے ہوئے ماں سے مخاطب ہوئی تو انہوں نے اسے بھی مسکرا کر سر ہلاتے رضا مندی دی۔۔۔ صلہ اس وقت ڈیپ ریڈ شارٹ ایمبرائڈد شرٹ کیساتھ وائٹ کیرپی زیپ تن کئے ریڈ ہی آنچل سر پر جمائے نفاست سے کئے میک آپ اور نفیش سی جیولری میں نو بیہتا ہی لگ رہی تھی۔۔۔

عفرا انہیں ایک نظر دیکھ کر واپس اپنے کام میں مشغول ہو گئ۔۔۔ جبکہ ماں صلہ کے وہاں سے جانے کے بعد کتنی ہی دیر تک غیر ارادی طور پر صلہ اور عفرا کا موازنہ کرتی رہیں ۔۔ جو کہ دھلے دھلائے چہرے اور سنجیدہ صورت کی بدولت کہیں سے بھی نو بیاہتا نہیں لگ رہی تھی۔۔۔

انکی آنکھوں میں کئ الجھنیں جنم لینے لگی تھیں۔۔

****

رات اپنے جوبن پر تھی۔۔۔ ریستوران کی مضنوعی روشنیاں روشن تھیں۔۔۔ وہاں جیسے دن کا سماں تھا ۔۔۔ ایسے میں ایک فیملی کیبن میں صلہ اور بالاج بیٹھے آئسکریم کھا رہے تھے۔۔۔ یہاں چھوٹے چھوٹے سے فیملی کیبنز بنائے گئے تھے۔۔۔ جہاں دیوار کے کیساتھ صوفے اور انکے آگے شیشے کی میز موجود تھی۔۔۔ ایک سائیڈ پر گلاس وال بنی تھی جس سے باہر لان کا سارا منظر دکھائی دیتا تھا۔۔۔

زندگی کتنی خوبصورت ہے نا بالاج۔۔۔ یا شاید اب ہو گئ ہےتم سے وابسطہ ہونے کے بعد۔۔۔ میں نے کبھی سوچا بھی نا تھا کہ یوں اتنی آسانی سے ہم ایک ہو جائیں گے اور پھر یوں اتنے حق سے بنا روک ٹوک ایک دوسرے کے ساتھ ہوٹلینگ کر رہے ہوں گئے۔۔۔ صلہ آئسکریم کھاتی بالاج کے خوبرو چہرے کی جانب دیکھتی جذب کے عالم میں کہہ رہی تھی۔۔۔

ایک دنیا سے ٹکر لے کر تمہیں اپنا بنایا ہے صلہ۔۔۔ مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آتا کہ میں تمہیں پانے میں کامیاب ہو چکا ہوں۔ صلہ کے جگمگاتے چہرے کو دیکھتے بالاج طمانیت سے مسکرا دیا۔۔۔ زندگی واقعی بہت خوبصورت ہو گئ تھی۔۔۔

ہمیشہ ایسے ہی رہو گئے نا۔۔۔ ایسے ہی مجھ سے محبت کرو گئے۔۔۔ وہ آنکھوں میں شرارت سموئے اسے دیکھتی یقین دہانی چاہ رہی تھی۔۔۔

ہمیشہ۔۔۔۔۔ وہ اسکے کان کے قریب جھکتا سرگوشانہ گویا ہوا۔۔۔

ہمیشہ ایسے ہی مجھے آئسکریم کھلانے لے کر آو گئے۔۔۔ ایک اور وعدہ لیا گیا۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔ جب تم نانی اور دادی بن جاو گئ اور ہمارے پوتے پوتیاں ہوں گے تب بھی۔۔۔ اسکی محبت بھری شرگوشی پر وہ کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔ چلو باہر چل کر کچھ دیر واک کرتے ہیں پھر گھر چلیں گے ۔ وہ صلہ کا ہاتھ تھامتا وہاں سے باہر نکلا۔۔۔

*****

صلہ اور بالاج ابھی تک واپس نہیں آئے تھے۔۔۔ ماں بیڈ کراون سے ٹیک لگائے پرسوچ انداز میں عفرا کو دیکھ رہی تھیں جو انکے بالکل سامنے حجاب کئے خشوع و خضوع سے جائے نماز پر نماز ادا کر رہی تھی۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ نماز مکمل کر کے جائے نماز تہہ کر کے اٹھی اور حجاب کا سرا پکڑ سے اسے سر سے اتار کر آنچل صوفے پر رکھا اور بالوں کو پونی کی قید سے آزاد کرکے انگلیوں کو بالوں میں چلا کر ماں کے ساتھ آ کر بستر پر لیٹی۔۔۔

ایسے کیا دیکھ رہی ہیں آپ ماں۔۔۔ وہ ماں کی محویت نوٹ کر کے چونکی۔۔۔

ماں بھی اسکے ساتھ نیم دراز ہوتیں کہنی بیڈ پر ٹکا کر ہاتھ پر سر رکھ گئیں۔۔۔

بیٹا تم خوش تو ہو نا۔۔۔۔ ماں کے لہجے میں اندیشے بول رہے تھے۔۔۔ عفرا ک دل دھک سے رہ گیا۔۔ کیا ماں کو کچھ پتہ لگ گیا تھا۔۔۔ یا انہوں نے کوئی اندازہ لگایا۔۔۔ بے ساختہ اسنے ماں کا چہرا دیکھتے تھوک نگلا۔۔۔

وہ ماں تھی شاید اسی لئے اسکی ہزاروں اختیاطی تدابیروں کے باوجود اسکے چہرے سے پہچان گئ تھی۔۔۔ عفرا کو ان سے جھوٹ بولنا محال لگا۔۔۔

آپکو ایسا کیوں لگا ماں۔۔۔ اسنے جواب دینے کی بجائے الٹا سوال پوچھا۔۔۔۔

مجھے محسوس ہو رہا ہے عفرا۔۔۔ میں تمہارے چہرے پر خوشی کے وہ حقیقی رنگ ڈھوند پانے میں ناکام ہوئی ہوں۔۔۔ کیا تم اس شادی سے خوش نہیں۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ پوچتی اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں۔۔۔

ماں میں خوش ہوں۔۔۔ بہت خوش ہوں۔۔۔ خالہ جیسی پیار کرنے والی ساس ہر کسی کو نہیں ملتی۔۔۔ وہاں تو محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں سسرال میں ہوں یا اپنے ہی گھر۔۔۔ خالہ نے تو مجھے ہاتھ کا چھالہ بنایا ہوا ہے۔۔ کیا آپ اپنی بہن کو نہیں جانتی ۔۔۔ وہ ماں سے جھوٹ نہیں بول سکتی تھی اسی لئے خالہ سے مشروط سچ بتانے لگی۔۔۔

اور امان۔۔۔ اسکا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ وہ ماں تھی جنکی شاید ابھی تسلی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ اور عفرا وہ اس وقت خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اندر سے زخمی بیوی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ انہیں انکے بھانجے کا چہرا دکھا دو۔۔۔مگر زخمی بیوی سے پہلے وہ ایک بیٹی تھی جسے ماں کا مان برقرار رکھنا تھا۔۔۔

ماں آپ اپنے بھانجے کو بھی اچھے سے جانتی ہیں۔۔ ایسی کوئی بات نہیں جیسے آپ سوچ رپی ہیں۔۔۔ لب چباتی وہ گول مول سا جواب دیتی کنی کترا گئ۔۔۔

پھر تم اداس کیوں ہو۔۔۔ مضحمل سی بجھی بجھی سی۔۔۔ شادی کے بعد تو لڑکیاں کھل اٹھتی ہیں۔۔۔ ماں ہنوز کش مکش میں تھیں۔۔۔

ماں یہ سب میرے لئے ابھی نیا ہے۔۔۔ آپ سے کبھی دور نہیں رہی۔۔۔ گھر سے باہر کبھی رات نہیں گزاری۔۔۔ اچانک ہی اس گھر سے دور جانا پڑ گیا تو اداس تو ہوں گئ نا۔۔۔ پودے کو بھی ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگاو تو وہ اس زمین میں جڑیں پکڑنے کو وقت تو لگاتا ہے نا۔۔۔

میرا بھی اس گھر میں ابھی دل نہیں لگ رہا۔۔۔ آپ یاد آتی ہیں۔۔۔ اپنا گھر اپنا کمرا یاد آتا ہے۔۔۔ مجھے وہاں ایڈجسٹ ہونے میں مشکل ہو رہی ہے ماں۔۔۔ میرا وہاں دل نہیں لگ رہا۔۔۔ آپ دعا کریں نا کہ میرا وہاں دل لگ جائے۔۔۔ اسکی بس ہوگئ تھی۔۔۔ وہ ماں کے سامنے مزید آنسووں کو روک نہیں سکتی تھی۔۔۔ تبھی انکے سینے میں منہ چھپائے وہ بات کو دوسرا رنگ دیتی شدت سے رو دی۔۔۔ وہ انہیں بتا ہی نا پائی کے اسے خود سے منسوب کر کے اپنے ساتھ لے جانے والا ہی اجنبی بن بیٹھا تھا تو وہ وہاں دل کیسے لگاتی۔۔۔ پودے کو لگانے والی زمین ہی زرخیز نا تھی تو بھلا پودا اس زمین میں جڑیں کیسے پکڑتا۔۔۔۔

اچھا بس میرا بچہ۔۔۔ خاموش ہو جاو۔۔۔ تم تو میرا بہادر بچہ ہو نا۔۔۔ ماں نے اسکا سر سہلاتے اسے پچکار ۔۔۔ وہ انکے سینے میں ہی منہ چھپائے شدت سے سر نفی میں ہلاتی انکی بات کی نفی کرنے لگی۔۔۔

نہیں ہوں میں بہادر میں بہت کمزور ہوں۔۔

نا میرا بچہ یوں نہیں کہتے۔۔۔ ہاں کچھ دن لگے گئیں ایڈجسٹ ہونے میں پھر تمہارا وہاں دل لگ جائے گا۔ لڑکی کا اصلی گھر تو اسکا سسرال ہی ہوتا ہے بیٹا۔۔۔ تمہارا جب مجھ سے ملنے کو دل چاہیے تم امان سے کہنا وہ تمہیں یہاں لے آیا کرے گا۔۔۔ میں بھی وہاں چکر لگاتی رہوں گی۔۔۔ یوں اداس نہیں ہوتے۔۔۔ ماں اسکی کمر تھپتھپاتی اسے حوصلہ و ہمت دلا رہی تھی۔۔۔ اور وہ کل رات سے اب تک شدید بے چینی و بے بسی کے بعد اب ان کے سینے سے لگی آنسو بہا کر جیسے پرسکون ہو گئ تھی۔۔۔ اور پھر وہیں انکے سینے سے لگے لگے ہی وہ پرسکون نیند کی وادیوں میں اتر گئ۔۔۔۔

******

رات اپنے پر سمیٹتے رخصت ہوگی تو اندھیرے کے چھٹتے ہی ہر جانب امید اور اجالے کی کرنیں بکھرنے لگی۔۔۔ سورج اپنے دامن میں ڈھیروں ڈھیر روشنی اور اجالا لے کر پورے طمطراق سے طلوع ہوتا ناامیدی اور مایوسی کے اندھیروں کو نگل گیا۔۔۔ ایسے میں اس دو منزلہ گھر میں بھی صبح کی سرگرمیاں جاری و ساری ہوگئ تھیں۔۔۔ حسب سابق عفرا نے صبح ہوتے ہی کچن سنبھال لیا۔۔ ناشتے کے بعد بھی وہ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں مصروف ہوتی ہر ممکن کوشیش کر رہی تھی کہ اس ستم گر کو یاد نا کرے جس سے اچانک ہی بہت مضبوط رشتہ جڑ گیا تھا اور جو بن بلائے مہمان کی طرح ہی دل و دماغ میں امڈا چلا آ رہا تھا۔۔۔

سر شام ہی صلہ تو تیار ہو کر ماں سے اور اس سے ملتی بالاج کے سنگ اوپری منزل پر اپنے گھر چلے گئ۔۔ جبکہ وہ بھی ماں کے بار بار کہنے پر ملٹی کلر کی گھٹنوں کو چھوتی دیدہ زیب فراک زیب تن کئے ہلکا پھلکا سا میک آپ کئے امان کی منتظر تھی۔۔۔ شام کے سائے گہرے ہوتے ہوتے رات سے ملنے لگے تھے اب تو مغرب بھی باسی ہونے لگی تھی۔۔۔ مگر عفرا کا انتظار انتظار ہی رہنے لگا۔۔۔ ہر دفعہ دروازے کی جانب اٹھتی اسکی پر امید اور منتظر نگاہیں ناکام لوٹ رہی تھیں۔۔۔ پر اسے نا آنا تھا نا وہ آیا۔۔۔ اب تو وہ اسکے آنے کی امید بھی چھوڑ چکی تھی۔۔۔ ناجانے کیوں وہ جتنا خود کو کمپوز کرنے کی کوشیش کرتی اتنے ہی حالات ایسے بن جاتے کہ اسکا دل بار بار بھر آتا۔۔۔ ایک گہری چپ اسکا احاطہ کرنے لگی تھی۔۔۔

دفعتاً داخلی دروازے کی بیل بجی۔۔۔ ایک بار دو بار اور پھر تیسری بار مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔۔ لاوئنج کے صوفے پر نیم دراز وہ آنکھوں پر بازو رکھے شاید خود سے بھی ناراض تھی۔۔۔

پہلی بات تو اسے یقین ہو چلا تھا کہ باہر وہ ستم گر نہیں ہے اور دوسری بات کہ اگر ہوتا بھی تو اسکی یہی سزا تھی کہ وہ باہر ہی کھڑا دروازہ کھلنے کا انتظار کرتا رہتا جیسے وہ سر شام سے ہی اسکے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ پہلے تو کئ بار دل چاہا بھی کے بے دھڑک اسے فون کر ڈالے کہ پہلے بھی تو کرتی تھی لیکن ناجانے کیوں ہر بار ایک جھجھک آڑے آ جاتی ایک نادیدہ طاقت جو موبائل کی جانب بڑھتے اسکے ہاتھ روک دیتی۔۔۔ شاید انا۔۔۔ یا عزت نفس۔۔

جب اسنے ہی اسے اس رشتے میں بندھنے کے بعد کوئی مان نہیں بخشا تھا تو وہ کیوں خود سے اسکی جانب بڑھتی۔۔۔ دل کسی طور آمادہ نا ہو رہا تھا۔۔۔ ایک تو مسلسل اس سے زیادتی پہ زیادتی کر رہا تھا۔۔۔ ناکردہ جرائم کی سزا دے رہا تھا اوپر سے اس ستم گر کو اس چیز کا احساس تک نا تھا۔۔۔ اور یہ ہی بات تو اسکا دل کرلاتی تھی۔۔۔ کہ وہ ایسا تو نا تھا۔۔۔ تو پھر کیا صلہ کے بولوں میں اتنی طاقت تھی کہ وہ اپنے اصل سے ہی پلٹ گیا۔۔۔۔

عفرا بچے کب سے دروازے پر بیل ہو رہی یے دروازہ کیوں نہیں کھول رہی۔۔۔ وہ اپنے ہی ادھیڑ پن میں مصروف تھی جب ماں کمرے سے نکلتیں گویا ہوئیں۔۔ وہ غالباً مغرب پڑھ کر آ رہی تھیں۔۔

وہ ہنوز بنا ردعمل دیئے آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی رہی۔۔۔

ماں دروازے کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ اسکی ساری حسیات اسی جانب لگیں تھیں۔۔ باہر سے ماں کے ہسنے اور باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔ تو کیا وہ آگیا ۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ وہ ایک پل میں سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔

ارے کیسی ہے میری بیٹی۔۔۔ خالہ نے آگے بڑھ کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔ خالہ کو دیکھ اسے پشیمانی ہونے لگی۔۔۔ خوامخواہ اسکی وجہ سے وہ باہر اتنی دیر انتظار کرتی رہیں۔۔۔

اسکی نظریں بار بار بھٹک بھٹک کر پیچھے دروازے کی جانب جا رہی تھیں۔۔۔ مگر وہ ساتھ نہیں آیا تھا۔۔۔ دل میں اسکے لئے غصہ اور بڑھنے لگا۔۔۔ سمجھتا کیا تھا وہ آخر خود کو۔۔۔

خود نا آیا اور ماں کو بھیج دیا۔۔۔ یا شاید وہ اسے واپس گھر لیجانا ہی نہیں چاہتا تھا اور خالہ اسکی مخالفت کے باوجود اسے لینے آ گئ۔۔۔ اسکے اندر ایک محشر بھرپا ہونے لگا تھا۔۔۔ ایک بار وہ سامنے آ جاتا تو وہ بنا لحاظ کئے اسے کھڑی کھوٹی سنانے سے بھی باز نا آتی۔۔۔ کہ اگر یوں بزدل بننا تھا تو پہلے ہی اس سے شادی نا کرتا یوں نا اسکا تماشا بناتا اور نا خود تماشا بنتا۔۔۔ اسکا غصہ حد سے سوا تھا۔۔۔

خالہ اور امی بیٹھیں باتیں کرنے لگیں تھیں جبکہ وہ کش مکش میں گھری ہنوز کھڑی تھی۔۔۔

امان نہیں آیا آپا ۔۔۔۔ اسکی زبان پر مچلتا سوال ماں نے پوچھ ڈالا تھا۔۔۔ اسکی سبھی حسیات کان بن گئیں۔۔۔

ارے نہیں نصرت۔۔۔ دراصل کل اسکے دوست کا ایکسیڈینٹ ہوگیا تھا۔۔۔ کل اسی وجہ سے یہاں سے بھی چلے گیا۔۔۔

اسکے دوست کی ماں ساتھ تھیں وہ تو موقع پر ہی دم توڑ گئ جبکہ اس بچے کی حالت بھی خاصی سیریس ہے۔۔۔ وہ بچہ بھی دو بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔۔۔ اسی لئے وہ تو رات گھر بھی نہیں آیا۔۔۔ اسکی ماں کی تدفین کا سارا انتظام امان نے ہی سمبھال رکھا تھا۔۔۔ ہسپتال بھی بار بار چکر لگا رہا تھا۔۔۔ اب بھی فون آیا تھا کہ ماں آج رات بھی گھر نہیں آ سکوں گا۔۔۔ اسکے دوست کو ہوش آ گیا یے اور ماں کی وفات کا جان کر وہ کافی ہسٹرک ہو رہا تھا اس لئے کہہ رہا تھا کہ رات وہیں رکے گا۔۔۔ اسی لئے عفرا کو لینے میں آگی۔۔۔ خالہ ماں کو ساری تفصیل سے آگاہ کر رہی تھیں۔۔ جبکہ ساری بات جان کر دل کاغصہ کچھ کم ہوا تھا۔۔۔ وہ واقع مصروف تھا۔۔ ورنہ وہ اتنا بھی برا نہیں۔۔۔ دل کو ایک راہ دکھی تو وہ پھر سے اسکے حق میں دلائل دینے لگا تھا۔۔۔

عفرا اپنی ہی حالت سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔ ایک طرف دل میں اسکے لئے بے پناہ غصہ تھا تو دوسری طرف سے دل ہمک بھی اسی کے لئے رہا تھا۔۔۔ وہ شدید بے بسی کے تحت چڑچڑے پن سے سر تھام کر بیٹھ گئ۔۔۔

*****