
khwab e Junoon by Umme Hani NovelM80032 Episode 31
Episode 31
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
گھر آنے کے بعد ماں کچھ دیر تک عفرا کے پاس ہی رہیں جبکہ وہ ہنوز گنودگی میں تھی۔۔ پھر صلہ کا خیال کرتیں دوبارہ آنے کا کہتیں واپس گھر چلی گئیں۔۔۔ خالہ بھی رات سے ہسپتال میں جاگ رہی تھیں اس لئے امان نے انہیں بھی کچھ دیر آرام کرنے کا بولا۔۔۔
ماں میں یہیں ہوں عفرا کے پاس اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی تو آپکو جگا دوں گا۔۔۔۔ انکے حیل و حجت کرنے پر وہ رسان سے انہیں سمجھاتا گویا ہوا اور پھر انہیں انکے کمرے میں بھیج کر بستر پر لٹا کر ہی دم لیا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا جسقدر وہ رات سے بے آرام رہی ہیں۔۔۔ عفرا کو سمبھالنے کے چکر میں خود بیمار پر جاتیں۔۔۔۔
انہیں کمرے میں لٹا کر وہ باہر برآمدے میں ہی پڑے صوفے پر بیٹھاتا سر صوفے کی پشت سے ٹکا گیا ۔۔
رات سے اب تک ہونے والے واقعات نے اسے بری طرح تھکا دیا تھا۔۔۔ جسمانی تھکاوٹ کو تو وہ کسی کھاتے میں لیتا ہی نا تھا۔۔ لیکن یہ وار گویا اسکی روح پر ہوئے تھے جو اسے بری طرح تھکا گئے تھے۔۔۔
عفرا کی دلدوز چیخیں اسکا دل کرلاتی تھیں۔۔۔ عفرا کی موجودہ حالت اسکی برداشت سے باہر تھی۔۔۔
خود کو تو وہ جیسے تیسے کر کے سمبھال گیا تھا مگر عفرا کی حالت دیکھ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے اسے کیسے سمبھالے۔۔۔۔۔
وہ بے چین سا آنکھیں موندے بیٹھا تھا جب کمرے سے عفرا کے کراہنے کی آواز سن کر تیر کی سی تیزی سے سیدھا ہوتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
ایک ہی جست میں بھاگ کر کمرے کا دروازہ عبور کرتا وہ کمرے میں پہچا جہاں وہ ہذہانی انداز میں چیختی ہاتھ پر لگا بنولہ نوچ رہی تھی۔۔۔
اسکی حاکت دیکھ امان کا کلیجہ منہ کو آگیا۔۔۔۔اسے یہ اب برداشت کرنا محال لگا۔۔۔
عفرا۔۔ عفرا۔۔۔۔ عفی یار کیا کر رہی ہو۔۔۔۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا لمحوں میں اسکے پاس پہنچا اور بیڈ پر بیٹھ کر اسکا ہاتھ ہٹاتا اسکا کملایا آنسووں سے تر چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا نرمی سے مستفسر ہوا۔۔۔
عفرا نے بے بسی بھری نگاہوں سے امان کو دیکھا۔۔۔ اس چہرے کی ویرانی امان کے دل ہر نشتر چلا رہی تھی۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اسکے شانے پر سر رکھ گئ۔۔۔۔ امان نے ضبط سے ہونٹ بھینچتے اسکے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کیا۔۔۔۔
وہ ٹرپ ٹرپ کر روتی ٹوٹ کر بکھر رہی تھی۔۔۔ امان نے خاموشی سے اسے رونے دیا۔۔۔ شاید وہ بھی یہ ہی چاہتا تھا کہ وہ ایک دفعہ رو کر اپنا دل ہلکا کر لے۔۔۔
امان میرا بے بی۔۔۔۔
امان میرا بے بی چلا گیا۔۔۔ میں کیا کروں۔۔۔
میں اسکا خیال نہیں رکھ پائی امان۔۔۔
میں نے کیسے اتنی لاپرواہی کر دی۔۔۔۔
مجھے یہ پچھتاوا اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔۔۔ میں گھل رہی ہوں امان۔۔۔ میں کیسے اتنی لاپرواہ نکلی۔۔۔
وہ سسکیاں لیتی اسکی کندھی میں منہ گھسائے اپنا غبار نکال رہی تھی۔۔۔ اور اسکی باتیں سن کر امان جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔ گویا اسکا یہ اسقدر سخت ردعمل اس وجہ سے تھا کہ وہ خود کو مجرم تصور کر رہی تھی۔۔۔۔
امان میں کیا کروں مجھے سکون نہیں مل رہا۔۔۔ امان میرا دل پھٹ رہا ہے۔۔۔
میرا بچہ امان۔۔۔ ہمارا بچہ۔۔۔۔ وہ ایک دفعہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
روتے روتے اسکی ہچکی بندھی تو امان نے اسے سیدھا کر کے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر اسکے منہ کو لگایا۔۔۔
بس عفرا۔۔۔ تمہاری اس میں کوئی غلطی نہیں تھی۔۔۔ اس گلٹ سے نکل آو۔۔۔ اللہ کو یہ ہی منضور تھا یار۔۔۔ نا کرو یوں اپنے ساتھ۔۔۔ میں تمہیں یوں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ تم تو میری بہت بہادر پرنسس ہو نا۔۔۔۔ امان نے بے بسی سے اسکے چہرے سے بال ہٹائے جو ندھال سی ویران سی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
آسکی آنکھیں ایک مرتبہ پھر سے بھر آئیں ۔۔۔۔
عفرا ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہو سکتے یار۔۔۔ وہ دے کر بھی آزماتا ہے۔۔۔ وہ لے کر بھی آزماتا۔۔۔۔
وہ دے گا نا ہمیں ۔۔۔ نوازے گا اولاد کی نعمت سے۔۔۔ ہم مانگیں گے نا اس سے ۔۔۔ بار بار۔۔۔۔ وہ رحمان ہے وہ سنے گا ہماری۔۔۔
امان آہستہ آہستہ اسکے بال سہلاتا کہہ رہا تھا ۔۔۔ اب رونا نہیں تم نے میں تمہارے لئے سوپ لاتا ہوں پھر تم نے دوائی بھی کھانی ہے۔۔۔
اور مجھے روتی عفرا بالکل بھی پسند نہیں وہ اداسی سے مسکراتا گویا ہوا تو عفرا ہنوز اسے دیکھتی رہی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں امان کچن سے اسکے لئے سوپ کا باول لے آیا جو کچھ دیر پہلے ہی خالہ نے اسکے لئے بنایا تھا۔۔۔
مان نے اسے بامشکل تھوڑا سا سوپ پلا کر اسکی دوائی کھلائی اور اسے لٹا کر اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔۔۔
ہر طرح کی سوچ کو جھٹک دو عفرا۔۔۔ اللہ بڑا کارساز ہے۔۔۔ بس تم سونے کی کوشیش کرو۔۔۔ وہ ہمارے لئے بہتریاں پیدا کرے گا انشااللہ۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتا بول رہا تھا جبکہ خاموش آنسو ہنوز عفرا کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے دوائی نے اثر دکھایا اور وہ گہری نیند کی وادیوں میں کھو گئ۔۔۔ اسکی کندیشن کے زیر اثر اسے زیادہ سے زیادہ رسکون رکھنے کے لئے سلایا جا رہا تھا۔۔
****
صلہ مضحمل سی ماں کے پاس لاوئنج میں بیٹی تھی۔۔۔ ماں اسکے سامنے سنگل صوفے پر براجمان سلائیوں مدد سے اون کا چھوٹا سا سویٹر بن رہی تھیں جبکہ وہ کھوئی کھوئی سی یک ٹک ماں کے تیزی سے حرکت کرتے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
ماں حسد سے بچنے کا کیا طریقہ ہے۔۔۔ وہ کچھ سوچتی ہوئی ماں سے گویا ہوئی۔۔
بیٹا حسد سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں۔۔۔ اللہ نے دشمن سے بچنے کا طریقہ بتا دیا کہ اس سے پیار سے بات کرو۔۔۔ محبت سے پیش آو تو آپکا دشمن بھی دوست بن جائے گا۔۔۔ لیکن حسد سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں۔۔۔ ماں اپنے دھیاں کام کرتیں مصروف سی گویا ہوئیں۔۔۔ جبکہ صلہ نے ماں کی بات سن کر بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔
ہاں حاسد سے پناہ مانگنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔۔
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
(الفلق – 5)
کہ انسان صرف حسد کرنے والے حاسدوں کے شر سے پناہ مانگے۔۔۔۔
وہ مزید گویا ہوئیں۔۔۔
اور ماں حسد کرنے سے بچا کیسے جاتا ہے۔۔۔ مطلب۔۔۔ کسی کی خوشیاں دیکھ کر اسکے پاس کوئی اچھی چیز دیکھ کر جو ایک دل چاہتا ہے کاش یہ میرے پاس بھی ہوتی۔۔۔ یا جلن اور رقابت کے جو احساسات پیدا ہوتے ہیں وہ۔۔۔
آج اسے بھی واپس اپنے گھر چلے جانا تھا اور وہ جانتی تھی کہ وہاں جا کر اسکی یہ الجھنیں کوئی سلجھانے والا نا تھا اس لئے وہ جانے سے پہلے سب اپنی ماں سے کنفرم کرنا چاہتی تھی۔۔۔
عفرا والے حادثے کو ہفتہ ہو چکا تھا۔۔۔ اس بیچ ماں روز عفرا سے ملنے جاتی رہی تھیں۔۔۔ اور ہر گزرتے دن کیساتھ ساتھ صلہ کا پچھتاوا بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔۔
بیٹا۔۔۔ حسد ایک ایسی آگ ہے جس میں حاسد خود ہی سلگتا ہے اور خود ہی جلتا ہے۔۔۔
اچھا اور صاف نیت کا شخص جب کسی دوسرے کے پاس وہ چیز دیکھتا ہے جو اسکے پاس نہیں تو اسے چاہیے کے وہ ماشااللہ کہے۔۔۔ اور اس چیز کے حوالے سے اس شخص کو دعا دے۔۔۔ اسکی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرے۔۔ دل سے دکھاوے کے لئے نہیں۔۔۔
یوں اسکی اس اعلی ظرفی کے باعث اللہ اس شخص کے لئے بھی بہتری کے در وا کر دیتا ہے۔۔۔
لیکن اس کے برعکس جو شخص کسی دوسرے کی خوشی اور کامیابی پر دل میں بغض پال لے یا حسد کرے تو وہ پوری زندگی بے سکونی میں گزار دیتا ہے۔۔۔
اچھا تم اب اٹھ کر خود بھی تیار ہو جاو۔۔۔ اور کچن میں ایک نظر کھانے کو بھی دیکھ لو بالاج بھی آتا ہی ہوگا۔۔۔
ماں نے اسے گم صم بیٹھے دیکھ ٹوکا تو وہ سر ہاں میں ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
*****
امان ابھی ابھی اپنی مارنینگ واک سے واپس گھر آیا لیکن کمرے میں داخل ہوتے ہی لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔
بیڈ کراوں سے ٹیک لگا کر بیٹھی عفرا ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی جیسے وہ اسے گھنٹہ بھر پہلے چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔ مضحمل سی بیڈ کراون سے لگی کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی وہ کسی اور ہی جہاں میں پہنچی ہوئی تھی۔۔۔
امان اسکی اس کیفیت سے بہت پریشان تھا۔۔۔ وہ جہاں بیٹھی ہوتی گھنٹوں وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی نا جانے کیا کیا سوچتی رہتی۔۔۔
اب بھی وہ فجر کی نماز ادا کر کے بیڈ کراوں سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی جب امان گھر سے نکلا تھا لیکن اب وہ پھر سے ابھی تک اسی حالت میں بیٹھی تھی۔۔۔
کیا سوچا جا رہا ہے۔۔۔ امان نے مسکراتے ہوئے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی اور اسکی پاس ہی بستر ہر بیٹھ گیا۔۔۔۔
ہممم۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی اور آہستگی سے نفی میں سر ہلا گئ۔۔۔
اگر کچھ نہیں سوچا جا رہا تو محترمہ شوہر کو کچھ کھانے پینے کا ہی پوچھ لو۔۔۔ ناشتہ ہی کروا دو۔۔۔ بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔
وہ بیچارگی سے اسکا دھیان بٹانے کو گویا ہوا۔۔۔
امان خالہ سے کہہ دیں۔۔ میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔۔۔ آپ پلیز تھوڑی دیر میرا سر دبا دیں۔۔۔
وہ منہ کے زاویے بگاڑتی وہیں کسلمندی سے بستر پر دراز ہوئی اور امان کا ہاتھ پکر کر اپنے سر پر رکھتی آنکھیں موند گئ۔۔۔
امان لب بحینچے اسے دیکھتا آہستہ آہستہ اسکا سر دبانے لگا۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی وہ تیار ہو کر ناشتہ کر کے عفرا کے لئے ناشتے کی ٹرے لے کر واپس کمرے میں آیا۔۔۔ جو ہنوز اب کروٹ کے بل لیٹی ٹکٹکی باندھے کسی غیر مری نقطے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
یہ لو عفرا ناشتہ کرو۔۔۔۔ اسنے عفرا کے پاس بیٹھتے ٹرے میز پر رکھی تو وہ ویسے ہی لیٹی اسے دیکھتی رہی۔۔۔
جلدی اٹھو یار مجھے دیر ہو رہی ہے اور تم جانتی ہو کہ تمہیں کھانا کھلائے بنا میں کہیں جاوں گا نہیں۔۔۔
امان کے یوں کہنے پر وہ آہستگی سے سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔
امان نے اسے کھانا کھلا کر میڈیسن دی اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اسکا رخ اب اپنی بک شلف کی جانب تھا۔۔۔
وہ عفرا کو مزید اس ذہنی پراگندگی کے ساتھ جینے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔
عفرا اب بس کر دو مراقبے کرنا یار۔۔۔ اب تھوڑا آگے بڑھو۔۔۔ اس سے زیادہ میں تمہیں اپنی ذات کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دوں گا اس لئے اب زرا ایکٹو ہو جاو۔۔۔ اور شام تک اس کتاب کا کم از کم ایک چیپٹر تم نے پڑھنا ہے واپس آ کر میں تم سے اسے ڈسکس کروں گا۔۔۔
امان نےا یک انگلش کتاب اسکی جانب بڑھائی جسے عفرا نے کافی دیر کی سوچ بچار کے بعد تھام ہی لیا۔۔۔
اس کے علاوہ تم اپنے لئے اپنی پسند کے مطابق کوئی کورس منتخب کر کے رکھنا واپس آ کر میں تمہارا آنلائن ایڈمیشن کروا دوں گا۔۔۔
مجھے تو ویسے بھی وقت ضائع کرنے والے لوگ اچھے نہیں لگتے۔۔۔
حادثے دکھ اور تکلیف ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں لیکن ان سب چیزوں کو بھلا کر اللہ سے بہتری کی امید رکھتے آگے بڑھنا ہی زندگی ہے۔۔۔
اور ویسے بھی آج تمہارے لئے میرے پاس ایک سرپرائز ہے شام تک شاید وہ ڈیلیور ہو جائے اور مجھے سو فیصد یقین ہے کے تمہیں وہ گفٹ بہت پسند آئے گا۔۔۔۔
وہ اسکے پاس بیٹھا بہت نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا۔۔۔ آخر میں وہ مسکرا کر اس پر جھکتا اسکے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑتا اسکا گال تھپتھپا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ اسکے جاتے ہی ایک آنسو عفرا کی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا۔۔۔ اسنے خالی خالی نگاہوں سے ہاتھ میں تھامی کتاب کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔
ناجانے کیسے ابھر پائے گی وہ اس صدمے سے جو اسے ہمیشہ ادھ موا کر چھوڑتا تھا۔۔۔
وہ چاہ کر بھی یہ سب بھلا نہیں پاتی تھی۔۔۔
سوتی تھی تو کسی ننھے سے بچے کے رونے کی آوازیں آتیں اور وہ ہربڑا کر اٹھ بیٹھتی۔۔۔
وہ کرب سے آنکھیں میچتی سر ہاتھوں میں تھام کر رہ گئ۔۔
*******
صلہ اپنے سسرال واپس آئی تو وہاں کچھ بھی نا بدلہ تھا۔۔۔ سب کچھ ہنوز اول روز کی طرح ہی تھا۔۔۔ تانیہ واپس اپنے گھر جا چکی تھی۔۔۔ لیکن ثانیہ ہنوز وہیں تھی۔۔۔ اسکے غالباً واپس جانے کے ارادے ہی نا تھے۔۔۔۔
لیکن اب صلہ ان سب لوگوں کی باتوں کو پس پشت ڈال کر صرف اپنے یوٹیوب چینل کو اپنا سو فیصد دے رہی تھی۔۔۔ زندگی کو ایک واضح سمت ملی تو باقی سب چیزیں پھر ثانوی لگنے لگی تھیں۔۔۔
ایک دن اسنے باتوں ہی باتوں میں بالاج سے یوٹیوب چینل بنانے کا مشورہ مانگا لیکن بالاج کے صفا چٹ انکار پر وہ لب بھینچ کر رہ گئ۔۔۔ وہ اسے یہ تک نا بتا سکی کہ وہ چینل بنا چکی ہے۔۔۔
آج کل تو وہ ویسے بھی حالات کی ستم ظریفی کے باعث ہر کسی سے کھنچا کھنچا ہی رہتا تھا۔۔ ایسے میں وہ اس معاملے کو مزید کھینچنا نہیں چاہتی تھی اس لئے وہ بالاج کو بتانے کا ارادہ بھی نہیں رکھتی تھی کہ اسنے کوئی چینل بنایا بھی ہے یا نہیں۔۔۔
بقول اسکے۔۔۔ ابھی تھوڑی نا چینل چل نکلا تھا۔۔۔ ابھی تو ایک آگ کا دریا پار کرنا تھا۔۔۔ چینل سٹیبلش ہو جاتا تو بالاج کو کنوینس کرنا بھی آسان ہوتا۔۔۔
وہ یہ بات سب سے چھپا گئ تھی۔۔۔
لیکن اس چیز کا اسے ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا تھا کہ وہ سب کے سامنے اپنی ریسپیز شوٹ نہیں کر پاتی تھی۔۔۔
وہ اس وقت کچن میں جاتی جب سب کھانا کھانے سے فارغ ہو چکے ہوتے اور انکے کچن میں آنے کے کوئی امکان نا ہوتے۔۔۔
بعض اوقات تو ریسپی کے دوران اگر کوئی کچن میں آ جاتا تو وہ اپنا سارا کام وہیں روکتی کوفت سے اس شخص کے کچن سے جانے کا انتظار کرتی کے وہ شخص کچن سے نکل آئے پھر وہ کہیں ریسپی شوٹ کر پائے۔۔۔ اس چکر میں کئ بار اسکی ریسپی جل جاتی تو کئ بار کچی رہ جاتی۔۔
کئ دفعہ تو وہ ریسپی میں اجزا شامل کر رہی ہوتی اور اچانک کچن میں کرن آجاتی جسکی وجہ سے اسے فورا موبائل بند کر کے رکھنا پڑتا۔۔۔۔
اس وقت اسکا جھنجھلاہٹ سے برا حال ہوتا۔۔۔ لیکن بھلا ہو ایڈیٹنگ اور ایفیکٹس کا جو اسکی ریسپی کے سبھی عیب چھپا جاتے۔۔۔
ویڈیو کی وائس آوورینگ وہ کمرا بند کر کے موبائل کا مائیکرو فون منہ سے لگا کر آہستہ آواز میں کرتی۔۔۔ ایک ڈر جو ہمہ وقت اسکے دل میں جاگتا رہتا وہ چاہ کر بھی اسکا کوئی علاج نہیں ڈھونڈ پا رہی تھی۔۔۔
ان سب چیزوں کے علاوہ اپنا سو فیصد چینل کو دینے کے بعد بھی رزلٹ صفر تھا ۔۔۔ کئ دفعہ وہ بہت بری طرح دلبرداشتہ ہو کر سب چھوڑنے کا سوچتی مگر پھر اپنے حالات کا سوچتی دوبارہ سے کمر کس کر میدان میں کودتی کہ اسکے سوا چارا بھی کوئی نا تھا۔۔۔
کبھی نا کبھی تو کامیاب ہوتی ہی نا۔۔۔۔
آج بھی وہ ماں کی باتوں پر عمل پیرا ہوتی ساس کے لئے کھیر بنا کر انکے کمرے میں گئ۔۔۔ اب وہ محبت اور خدمت گزاری سے ہی ان سب کے دل اپنی طرف سے صاف کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
لیکن اس کے بعد جو اسکے ساتھ ہوا وہ سوچ کر بھی صلہ کے رونکھٹے کھڑے ہو جاتے۔۔۔
*****