📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="155"]
56650 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

غصے سے اسکا دماغ پھٹنے کے در پر تھا۔۔۔ کنپٹی کی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔۔ صلہ ایک جھٹکے سے اپنے کمرے کا دروازہ وا کرتی اندر داخل ہوئی اور زوردارانہ انداز میں دروازہ بند کیا۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یوں لمحوں میں اسکے ساتھ ہو کیا گیا تھا۔۔۔ وہ ابھی تک اپنی ہمت پر حیران تھی کہ وہ جو کبھی ماں کے سامنے اونچی آواز میں بولی تک نا تھی آج کیسے ماں کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئ تھی۔۔۔ اندر کچھ باربار کچوکے لگا رہا تھا۔۔۔ وہ ہونٹ چباتی بے چینی سے جلے پیر کی بلی کی مانند کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔ دل بھرآ رہا تھا۔۔۔ دفعتاً موبائل کی بپ بجی تو وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی اور بھاگ کر سائیڈ ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل اٹھایا۔۔۔ سکرین پر بالاج کے واٹس ایپ مسیجز کے نوٹیفکیشن شو ہو رہے تھے اسنے بے تابی سے چیٹ کھولی جہاں پچھلے ایک گھنٹے سے اسکےکئ ایک میسجز آئے ہوئے تھے جس میں وہ اس سے گھر آنے والے مہمانوں اور انکی آمد کے مقصد کے بارے میں مستفسر تھا۔۔۔۔
اسنے تھک کر آنکھیں موندی اور گہرا سانس لیتی بیڈ پر ڈھنے کی صورت بیٹھی۔۔۔ آج کے ناقابل یقین واقعہ نے اسکی ساری طاقت نچوڑ لی تھی۔۔۔اپنا آپ بھی حق پر لگ رہا تھا اور ماں سے بدتمیزی کر کے بھلا وہ خود کیسے پرسکون رہ سکتی تھی لیکن برداشت ہی کی تو کمی تھی اس میں۔۔۔ بات کو تحمل سے سنے بنا سمجھے بنا وہ ابتدائی کلمات پر ہی فوراً شدید ردعمل دے دیتی تھی ۔۔ اس سے اپنا غصہ کنٹرول کیا ہی نہیں جاتا تھا اور اپنی اس عادت کے باعث وہ اکثر بعد میں پچھتاتی کئ کئ گھنٹے کڑھتی رہتی اور دوبارہ غصے میں کبھی بھی بدتمیزی نا کرنے کا عہد کرتی لیکن وہ عہد ہمیشہ بھربھری ریت کا محل ثابت ہوتا جو دوبارہ صورتحال کے پیش نظر ابتدائی لمحوں میں ہی ڈھے جاتا۔۔۔ درحقیقت اس سے اپنے غصے پر قابو پایا ہی نا جاتا ۔۔۔ وہ بہت جلدی ہائپر ہو جاتی تھی۔۔۔ کیا پسند کی شادی کرنا گناہ ہے۔۔۔ اسکی اجازت تو ہمارے اسلام نے بھی دی ہے پھر میری ماں کیوں نہیں مانتی اس بات کو۔۔۔
گیلی سانس اندر کھینچتے اسکے ہاتھ تیزی سے موبائل کی ٹچ سکرین پر حرکت کرتے موبائل کی سکرین پر پے در پے کئ الفاظ ابھارتے جا رہے تھے۔۔۔ کچھ لمحوں بعد موبائل پر گردش کرتی اس کی انگلیاں تھمی اور اسنے ایک ناقدانہ نگاہ اپنے لکھے الفاظ پر ڈالی اور مطمیئں ہوتے سینڈ کا بٹن پریس کیا۔۔ اسنے مختصر الفاظ میں آج کے واقعہ کی ساری تفصیل بالاج کے گوش گزاری تھی۔۔۔
موبائل رکھ کر اسنے اپنے ابھی تک کھلے بالوں کو گول مول کر کے انکا رف سا جوڑا بنایا۔۔۔
بے چینی و پشیمانی اسکے انگ انگ سے واضح تھی۔
۔۔
کیااااا۔۔۔۔ تمہیں فورا انکار کر دینا چاہیے تھا۔۔۔ تبھی میں کہتا تھا کہ چچی سے ہمارے بارے میں بات کر لو تاکے میں آگے کوئی قدم اٹھا سکوں۔۔۔
سارا واقعہ سن کر بالاج تو ساکت رہ گیا تھا۔۔۔ حواس بحال ہوتے ہی کھٹاکھٹ ٹائپ کرنے لگا۔۔۔ہوا کے دوش پر اگلا پیغام اسکی سکرین پر جگمگایا۔۔۔
ایسا ہی کیا ہے بلکہ اس چکر میں امی سے بہت بدتمیزی کر گئ میں جسکا مجھے اب پچھتاوا ہو رہا ہے۔۔۔ وہ تھکے تھکے انداز میں بیڈ کراوں سے ٹیک لگاتی ٹائپ کر رہی تھی۔۔۔
یار چچی سے بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی تمہیں ۔۔۔ تم آرام سے بھی بات کر سکتی تھی۔۔۔
شام کے سائے ڈھل رہے تھے گرمی کا زور ٹوٹ کر ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگی تھی ایسے میں کھلی چھت پر چکر کاٹتے بالاج پریشانی سے ٹائپ کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ سن ہی نہیں رہی تھیں۔۔۔ بس ہر حال میں امان سے میرا رشتہ پکا کرونے کا کہہ رہی تھیں پھر مجھے غصہ آگیا اور میں نے غصے میں تمہارا ذکر بھی کر دیا۔۔۔ باوجود ضبط کے ایک آنسو صلہ کی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا۔۔۔
پھر چچی کا کیا ری ایکشن تھا۔۔۔ بالاج نے بے چینی سے بالوں میں ہاتھ چلائے۔۔۔۔
کیا ہوسکتا تھا بھلا۔۔۔ وہی جسکی توقع تھی ۔۔۔ وہ مزید دلگرفتہ ہوئی۔۔۔۔
تم فکر مت کرو صلہ میں خود چچی سے بات کروں گا۔۔۔ انکے پاوں تک پکڑنے پڑیں تو پکروں گا لیکن انہیں راضی کر لوں گا۔۔۔ وہ صرف امی اور اپنے مابین موجود چپقلشوں کے باعث تحفظات کا شکار ہیں۔۔۔ لیکن تمہاری شادی امی سے نہیں مجھ سے ہونی ہے اور میں اپنے سے منسوب رشتے کی عزت کرنا اور کروانا خوب جانتا ہوں۔۔۔ امی کا ردعمل بھی اس بات ہر ایسا ہی ہوگا لیکن جلد ہی وہ ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔
بالاج کا میسج پڑھ کر اسکی کچھ ڈھارس بندھی۔۔۔ یہ سب اتنا بھی مشکل نا تھا۔۔۔ تب سے اب پہلی مرتبہ اسکی آنکھیں مسکرائیں۔۔۔
تھینک یو بالاج۔۔۔ تم نا ہوتے تو میرا کیا ہوتا۔۔۔ میں تمہارے بنا زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
فکر مت کرو انشااللہ سب اچھا اچھا ہی ہوگا۔۔۔ اور اب کچھ کھانا کھلا دو دوپہر سے تمہارے چکر میں لنچ تک نہیں کیا اب تو پیٹ میں بھی چوہے ڈورنے لگے ہیں۔۔۔۔ آج تو کافی اچھی ڈشز بنائی ہیں نا چچی نے۔۔۔ بات کلیئر کرکے وہ ہلکا پھلکا ہوتا ٹائپ کرنے لگا۔۔۔ مسلہ کچھ حل ہوتا دکھا تو پیٹ کی بھوک بھی چمک اٹھی تھی۔۔۔
ابھی بھیجتی ہوں۔۔۔ میں کھانا ڈال کر میسج کروں گی پھر خاموشی سے نیچے آ کر کھانا لے جانا۔۔۔ وہ میسج ٹائپ کر کے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
صد شکر کہ عفرا اور ماں دونوں کمرے میں تھیں اسنے بعجلت کھانا ڈال کر اب ٹرے میں سیٹ کیا اور بالاج کو میسج کیا۔۔۔ اگلے کچھ لمحوں بعد وہ اسکے پاس کچن میں موجود تھا۔۔۔
کیا کرتی ہو یار دیکھو رو رو کر آنکھوں کا حشر کر لیا ہے تم نے۔۔۔ یقین رکھو مجھ پر میں حالات اپنے حق میں موافق کر لوں گا۔۔۔ اسنے صلہ کا چہرا تھپتھپاتے اسے تسلی دی تو وہ نم آنکھوں سے سر ہاں میں ہلا گئ


سارا گھر چم چما اٹھا تھا۔۔۔ منیبہ کو اس حد تک ہی گھرداری میں دلچسپی تھی کچھ شوہر کی نفاست پسند طبیعت کا عمل دخل تھا کہ وہ گھر میں زرا سی بھی بے ترتیبی نہیں ہونے دیتی تھی۔۔۔ وہ گھر کے سارے کام مکمل کرنے کے بعد بالخوص نعمان کی وارڈروب کو پھر سے سیٹ کرتی کہ کچھ بھی ادھر ادھر نا ہو۔۔۔ نعمان کی ٹائیاں جرابیں والٹ سٹڈ پرفیوم وہ ہر ہر چیز کو اسکی جگہ پر اور طریقے سے رکھتی۔۔۔ یہ سب کام کر کے اسے دلی خوشی محسوس ہوتی تھی۔۔۔ سبھی کام مکمل کر کے اسنے پہلے مغیث کو تیار کیا اور پھر خود فریش ہو کر ہلکا پھلکا سا تیار ہو کر کچن کی طرف بڑھی۔۔۔ ڈنر میں وہ آج نعمان کی پسند کا کھانا بنانا چاہتی تھی ۔۔۔ نعمان کو اسکے ہاتھ کے کھانے بہت پسند تھے۔۔۔اور وہ باقاعدہ فرمائشیں کر کے اس سے کھانے پکواتا۔۔۔۔
ابھی وہ کچن میں ہی مصروف تھی کہ اسے باہر سے گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔۔۔ یقیناً نعمان واپس آگیا تھا۔۔۔ ایک دلفریب مسکراہٹ منیبہ کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
نعمان بلیک پینٹ وائٹ شرٹ میں ملبوس بلیک کوٹ بازو پر لٹکائے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا بعجلت اندر کی جانب بڑھا۔۔۔
لکڑی کا منقش داخلی دروازہ وا کرتے ہی اسنے ستائشی انداز میں ایک بھنور اچکائی۔۔
سیلقے سے سجے لاوئنج کو دیکھ اسکی بوجھل طبیعت پر خاصے اچھے اثرات پڑے تھے۔۔۔
لاوئنج میں ہلکی آواز میں دیوار گیر ایل ای ڈی چل رہی تھی جسکے سامنے ہی ماربل لگے فرش پر ایک سالہ مغیث ارد گرد کھلونے بکھرائے کھیل رہا تھا۔۔۔
ہے چیمپ بابا کی جان۔۔۔۔ بیٹے کی صورت دیکھتے ہی وہ کھل اٹھا اور کوٹ وہیں صوفے پر رکھتا اسکی جانب لپکا.
بابا ۔۔بابا ۔۔ بابا۔۔۔۔ مغیث بھی اپنے سبھی کھلونے وہیں پھینکتا چہکتا ہوا باپ سے آ کر لپٹا۔۔۔ نعمان نے دوزانوں بیٹھتے اسے گلے سے لگایا اور اسے گود میں اٹھاتے صوفے پر بیٹھا۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ کوئل سی مدھر آواز اسکے پاس سے ابھری تو وہ مسکراتے ہوئے اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ جو رائل بلو کلر کی گھٹوں سے نیچے تک آتی فراک میں ہلکا پھلکا میک آپ کئے پشت پر پھیلی آبشار کو ہاف کیچر میں مقید کئے ہاتھ میں تھامی چھوٹی ٹرے میں پانی کا گلاس رکھے اسکے سامنے کھڑی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
نعمان کہنی گھٹنے پر ٹکائے ہاتھوں کی گول مٹھی بنائے ہونٹوں سے لگائے پرشوق نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔
نعمان آپ بھی نا بس۔۔۔۔ وہ اسکی محویت نوٹ کرتی نظریں جھکاتی بال کانوں کے پیچھے اڑس کر ٹرے اسکے سامنے میز پر رکھتی واپس پلٹی تھی جب نعمان نے اسے ہاتھ سے کھینچ کر اپنے پاس ہی صوفے پر گرایا۔۔۔
اتنی دیر بعد گھر آئی ہو مجھے میری بیوی کو دیکھ تو لینے دو۔۔۔ وہ اسے اپنے حصار میں لئے ہنوز شرارت پر آمادہ تھا۔۔۔ مغیث اسکی گود سے اتر کر واپس کھلونوں کے پاس چلا گیا تھا۔۔۔۔ہاں جی میں بھی کوئی دو مہینوں بعد آئی ہوں نا۔۔۔
میرے لئے تو دو دن دو پمہینوں کے ہی برابر ہیں۔۔۔۔ نعمان نے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا۔۔۔
اچھا آپ فریش ہوں لیں میں چائے بناتی ہوں۔۔۔
منیبہ وہاں سے اٹھتی گویا ہوئی۔۔
سچ میں منیبہ جب تم گھر نہیں ہوتی تو گھر گھر نہیں لگتا۔۔۔ اس گھر میں رونق تمہارے دم سے ہے تمہارے بنا تو یہ گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔۔۔ تم نے ہمارے اس گھر کو جنت بنا دیا ہے۔۔ میں اپنی اگلی پوری زندگی تمہارے سنگ گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ تھامے ایک جذب کے عالم میں گویا ہوا تو منیبہ کھل کر مسکرا دی۔۔ وہ اظہار کے معاملے میں بہت کنجوس تھا۔۔۔ شازو نادر ہی منیبہ کے سامنے کھلتا۔۔ اب بھی ناجانے کس رو میں بہہ کر بول گیا تھا یا شاید منیبہ کی دو دن کی دوری نے مزید اسکی اہمیت واضح کر دی تھئ۔۔۔
اور ہاں مبارک ہو تمہیں بھائی کی شادی کی۔۔۔۔ نعمان صوفے سے اٹھتا دلکش مسکراہٹ چہرے ہر سجائے اسکے مقابل آیا۔۔۔۔
شادی کی مبارکباد۔۔۔ ابھی تو آج امی نے رشتہ پوچھنے جانا تھا۔۔۔ وہ حیرت سے اسے دیکھتی مستفسر ہوئی۔۔۔
ارے واہ مطلب بھائی کی شادی اور یہاں کسی کو خبر ہی نہیں ۔۔۔ چچ۔۔چچ۔۔۔۔ بس منیبہ کے لئے اسکی سنجیدگی یہیں تک تھی۔۔۔ وہ پوری دنیا کے لئے جیسا بھی تھا لیکن منیبہ کے سامنے اسکا بالکل الگ روپ تھا۔۔۔ بہت عرصہ بعد اسکی زندگی میں کوئی رشتہ بندھا تھا اور اس رشتے کو وہ دل سے نبھا رہا تھا ۔۔ منیبہ کیساتھ وہ زندگی کھل کر جینا چاہتا تھا اسی لئے منیبہ کو اسنے بہت سی چیزوں میں رعایت دے دی تھی۔۔۔ اس کے لئے اپنے بہت سے اصول و قواعد توڑ دیئے تھے اور شاید وہ لڑکی یہ سب ڈیزرو بھی کرتی تھی۔۔۔ تبھی تو عادت سے مجبور مضنوعی تاسف سے اسے چڑاتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔۔
کیا مطلب بھلا آپکی بات کا۔۔۔ کیا آپ کبھی کوئی بات سیدھی طرح سے بتا سکتے ہیں۔۔۔ وہ دونوں بازو کمر ہر رکھے تیکھے چتونوں سے اسے دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
آ آ آ آ۔۔۔۔ پالے بےبی کو غچھے آ رہے ہیں۔۔۔ وہ بچوں کی طرح اسے پچکارتا مزید اسے چڑا رہا تھا۔۔۔ منیبہ کو نعمان کی اسی حرکت سے چڑ تھی ہمیشہ سے ناجانے وہ کیوں اسے اتنا چڑاتا تھا۔۔۔
نعمان آپکی تو۔۔۔ وہ دانت پیسی اسکے پیچھے بھاگی جب وہ چھپاک سے اندر داخل ہوتا واش روم میں گھس کر دروازہ بند کر گیا۔۔۔پتہ نہیں وہ کون لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ نعمان ایک سنجیدہ اور کھڑوس باس ہے میں نے تو آج تک آپکے جتنا غیر سنجیدہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔۔۔ مجھے لگتا ہے میرے گھر میں ایک بچہ نہیں بلکہ دو دو بچے ہیں۔۔۔ منیبہ بربڑاتی ہوئی کمرے سے نکل گئ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ چائے تیار کرکے ساتھ کچھ سنیک رکھے میز پر لگا چکی تھی تب تک نعمان بھی فریش ہو کر ایزی ٹراوزر شرٹ میں ملبوس گیلے بال ماتھے پر بکھرائے واپس آ گیا۔۔۔
ڈنر میں آج کیا بن رہا ہے۔۔۔ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھا
تو منیبہ نے چائے اسکے سامنے رکھی۔۔۔ بس انکا جھگڑا اتنے ہی وقت ہر محیط ہوتا تھا جس میں کوئی روٹھنا منانا سرے سے تھا ہی نہیں۔۔ ایک پل کی بات دوسرے پل دونوں ہی بھول جاتے تھے۔۔۔ فرائڈ رائس بنا رہی ہوں ساتھ میں رائتہ۔۔۔ منیبہ بھی دوسری کرسی پر بیٹھتی چائے پینے لگی۔۔۔
ممانی کا فون آیا تھا۔۔ امان کا رشتہ پکا ہو گیا ہے اگلے ہفتے نکاح ہے اسکا۔۔۔ تمہاری خالہ کو کچھ جلدی ہے۔۔۔ ابکی بار اسنے مذاق کا ارادہ ترک کرتے سیدھی بات منیبہ کے گوش گزاری۔۔۔
واقعی ۔۔۔۔ آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔۔۔ وہ خوشگوار حیرت سے اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ارے چائے تو پی لو پہلے۔۔۔
نہیں چائے بعد میں ۔۔۔ اتنی بڑی خبر سنائی ہے پہلے میں امی سے کنفرم کر لوں۔۔۔ وہ چہکتی ہوئی اپنے موبائل کی جانب لپکی۔۔۔
ہاں میری تو کسی بات پر تمہیں یقین ہی نہیں نا۔۔۔ وہ بھی منیبہ کی جلد بازیاں ملاخظہ کرتا مسکرا دیا۔۔۔۔


دن بھر جسقدر گرمی اور حبس کا موسم تھا شام ہوتے ہی گرمی کا زور ٹوٹ گیا تھا اور موسم خاصا خوشگوار ہو گیا تھا۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں ہر ذی روح کو مسحور کر رہی تھی۔۔۔ بادلوں نے آسمان پر موجود چاند اور ستاروں کو اپنی اوٹ میں چھپا دیا تھا۔۔۔ کسی بھی پل بس بارش برسنے ہی والی تھی۔۔۔ ایسے میں اپنے کمرے میں موجود امان آرام دہ لباس میں ملبوس دنیا و مافیہا سے بےخبر سٹڈی ٹیبل کے سامنے بیٹھا سٹڈی ٹیبل پر کئ ایک چھوٹے بڑے کاغذات بکھرائے ہوئے تھا ۔۔ ایک سائیڈ پر ٹیبل لیمپ روشن تھا جسکی روشنی براہراست ان بکھرے ہوئے کاغذات پر پڑ رہی تھی۔۔۔۔ اسکی پرسوچ نگاہین ایک سے دوسرے کاغذ پر گردش کرتیں بلآخر ایک کاغذ پر آکر رکی۔۔۔۔ وہ غالباً اپنے چائے کے بزنس کو اسٹیبلش کرنے کے لئے مزید کوئی پلان بنا رہا تھا۔۔۔ اسکا ماننا تھا کہ کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔۔۔ اور کام کوئی بھی ہو اس میں آج کل کے دور میں آپکو حد سے زیادہ کامپیٹیشن ملے گا۔۔۔ اس لئےکامیاب ہونے کے لئے محض ایک راہ منتخب کر کے اس پر لیزر شاپ فوکس رکھتے ہوئے ہارڈ ورک کیساتھ ساتھ سمارٹ ورک کرتے دن رات ایک کر دینی ہوتی ہے۔۔۔ انتھک محنت مکمل یکسوئی اور باقاعدگی کسی بھی کام میں کامیابی کی کنجی ہے۔۔۔ اور اسی مقولے پر وہ عملدرامد تھا۔۔۔ جس روز اسنے نہایت سوچ بچار کے بعد روڈ کنارے چائے کا ٹھیلہ لگایا تھا اس روز لوگ اس پر بہت ہسے تھے۔۔۔اسپر کئ فقرے کسے گئے۔۔۔ بالخصوص اسکے پڑھے لکھے ہونے کو رگیڈا گیا۔۔۔ اسے پڑھے لکھے جاہل کے ٹائٹل سے نوازا گیا۔۔۔اور رشہ داروں کے نشتروں میں چھپے طنز الگ۔۔۔ مگر وہ خاموش تھا بالکل خاموش۔۔۔ وہ ہر منفی شخص کو جوابات دے دے کر اپنا فوکس لوز نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ اپنی تخلیقی صلاحیت کھو نہیں سکتا تھا۔۔۔ اس لئے وہ ناک کان لپیٹے محض اپنے کام میں مشغول تھا۔۔۔ ٹھیلہ لگانے سے پہلے اسنے بہت ریسرچ کی تھی کہ اسے شروعات کہاں سے کرنی چاہیے۔۔۔ لیکن ایک بات جو اسے سمجھ میں آئی کہ چائے پاکستان میں پانی کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ پی جاتی ہے۔۔۔ آئسکریم سب نہیں کھاتے نا ہی فاسٹ فوڈ ہر علاقے میں کھائی جاتی ہے لیکن چائے پنجاب سندھ غرض پاکستان کے ہر علاقے میں پی جاتی ہے تو اس میں گرو کرنے کا چانس سب سے زیادہ تھا۔۔۔ پچھلے چھ ماہ میں اسنے دن رات ایک کرتے اتنی محنت کی تھی ۔۔۔ اتنی نئ نئ سٹرٹیجیز اپنائی تھی جن میں سے کچھ چلی کچھ نہیں چلی اور بلآخر وہ ایک ٹھیلے کو دکان میں تبدیل کر لینے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔ لیکن وہ یہاں رکا نہیں تھا۔۔۔ اسکے خواب بہت اونچے تھے۔۔۔ جن کے لئے ابھی اسے دن رت مسلسل بہت محنت درکار تھی۔۔۔ ان سب میں اگر کسی نے اسکا ساتھ دیا تھا تو اسکی ماں اور بہن کے بعد نعمان نے۔۔۔۔ یہ تینوں ہی اسکے پیچھے ہر دم کھڑے تھے۔۔ ابھی وہ منہمک سا اپنے کام میں مشغول تھا کہ دفعتاً نزہت بیگم چائے کا کپ تھامے اندر داخل ہوئیں۔۔ ارے امی آپ۔۔۔ وہ ماں کو دیکھتا مسکرا دیا۔۔۔
ہاں تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی اسی لئے یہیں چلی آئی ۔۔ انہوں نے چائے کا کپ امان کے پاس میز پر رکھا اور خود بیڈ پر بیٹھ گئیں ۔۔۔ امان نے کرسی کا رخ ماں کی جانب کرتے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔۔جی مای کہیے۔۔۔ وہ اب مکمل طور پر ماں کی جانب متوجہ تھا۔۔۔۔
بیٹا نصرت کا فون آیا ہے اسنے رشتے کے لئے ہاں کہہ دی ہے اور وہ اسی ہفتے تمہارا اور صلہ کا نکاح کروانا چاہتی ہے۔۔۔۔
ماں کی بات سنتا نعمان ٹیک چھوڑ کر سیدھا ہو بیٹھا جہاں خالہ کی طرف سے مثبت جواب آنے پر دل خوش ہو گیا تھا وہیں اب اسقدر جلدبازی کا سن کر وہ تھوڑا الجھا۔۔۔
ماں اتنی جلدی۔۔۔ اتنی جلد بازی کی کیا ضرورت ہے بھلا اور پھر اتنی جلدی سب تیاریاں کیسے مکمل ہونگیں۔۔
بیٹا نصرت نے سادگی سے نکاح کا کہا ہے۔۔۔ اور تم فکر مت کرو انشااللہ سب ہو جائے گا۔۔
تم بس سہرا باندھنے کی سوچو۔۔۔ مجھے تو اتنی خوشی ہوئی نصرت کا فون سن کر کہ بتا نہیں سکتی۔۔۔ چلو شکر ہے اس گھر میں بھی اب مجھے دوسراہٹ کا احساس ملے گا۔۔۔ ورنہ جب سے منیبہ کی شادی کی ہے میں تو بلکل ہی اکیلی ہو گئ ہوں۔۔ وہ مسکراتی ہوئیں اس سے باتیں کر رہی تھیں اور وہ بھی کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے مسکراتے ہوئے ماں کا خوشی سے جھگمگاتا چہرا دیکھ رہا تھا۔۔۔
بس اللہ تم دونوں کے نصیب اچھے کرے۔۔۔ انہوں نے بیڈ سے اٹھتے امان کے ماتھے کا بوسہ لیا اور اسے ڈھیروں دعائیں دیتیں کمرے سے نکل گیں۔۔۔۔
وہ مستقبل کے کئ خواب آنکھوں پر سجاتے واپس اپنے کام کی جانب متوجہ ہوا کہ دفعتاً اسکے موبائل کی بیل بجی۔۔۔ اسنے موبائل اٹھاتے سکرین پر ابھرتا نمبر دیکھا اور نمبر دیکھ کر وہ ایک پل کے لئے ساکت رہ گیا جہاں صلہ اسے فون کر رہی تھی۔۔۔
ابتدائی جھٹکے سمبھلتے وہ کھل اٹھا تھا۔۔۔ تو مطلب رشتہ پکا ہوتے ہی وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔ موبائل اٹھائے وہ کمرے سے تو کیا گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔ وہ کسی پرسکون سی جگہ پر صلہ سے ڈھیروں باتیں کرنی چاہتا تھا۔۔۔ گھر سے باہر نکل کر اسنے مسکراتے ہوئے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔۔۔۔مگر اگلی طرف کی باتیں سن کر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسکے چہرے کا رنگ فق ہوتا جا رہا تھا