
khwab e Junoon by Umme Hani NovelM80032 Episode 17
Episode 17
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
جی ماں تو اب بتائیے ایسے کونسی ٹینشن لے رہی ہیں آپ جو آپکا بی ہی لو ہونے ہی نہیں دے رہی۔۔۔۔ عفرا امان کے جانے کے بعد فریش موڈ کے ساتھ واپس ماں کے کمرے میں آئی اور سائیڈ ٹیبل سے دلیے کی لیٹ اٹھا کر اسی کرسی پر بیٹھی جس پر کچھ دیر پہلے امان بیٹھا تھا۔۔۔۔
یہ امان کے رویے کا ہی اثر تھا کہ وہ لمحوں میں کھل اٹھی تھی۔۔۔ اسکا دل گواہی دے رہا تھا کے اسے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں تھی جلد ہی وہ اپنے پچھلے امان کو پا لیتی۔۔۔ یقیناً بدگمانی کی دھند چھٹ رہی تھی۔۔۔
تکیوں کے سہارے نیم دراز ماں نے شدت سے اسکا یہ سرشار روپ دیکھا یہ ہی سرشاری تھی جو اب تک وہ اسکی آنکھوں میں دھونڈنے سے بھی نہیں دیکھ پائی تھیں۔۔۔ اور اسی چیز نے انکی راتوں کی نیند اڑا دی تھی۔۔۔
وہ ماں تھیں اسکی رگ رگ سے واقف تھی۔۔۔اسکے جاننے سے پہلے اسے بتا سکتی تھیں کہ وہ خوش ہے کہ نہیں مگر وہ خاموش تھیں ۔۔ اگر انکی بیٹی اپنے رشتے کا بھرم قائم رکھنا چاہتی تھی تو انہیں بھی بیٹی کا یہ بھرم عزیز تھا۔۔۔ مگر اسکی آنکھوں کی اداسی انہیں راتوں کو سونے نہیں دیتی تھی۔۔۔ وہ انکی فرمابردار بیٹی تھی اور وہ راتوں کو جاگ جاگ کر دونوں بیٹیوں کے اچھے نصیب کے لئے اپنے رب سے دعائیں کرتی تھیں۔۔۔
صلہ نے تو خود اپنے راستے میں کانٹے اگائے تھے۔۔۔ ہونے کو تو انہیں بھی اب اسے اسکے حال ہر چھوڑ دینا چاہیے تھا۔۔۔ مگر وہ ماں کا دل تھا جو نافرمان اولاد کی خوشیوں کے لئے بھی ہمکتا تھا۔۔۔ وہ اسکے لئے بھی دن رات خوشیوں کی دعائیں کرتی تھیں۔۔۔
ماں اگر آپکو لگتا ہے کہ محض ماں ہی اولاد کا چہرا دیکھ کر جان جاتی ہے کہ اولاد پریشانی میں ہے یا نہیں اسے کوئی دکھ ہے۔۔۔ تو میری بات غور سے سنیں بیٹیاں بھی ماں کی صورت دیکھ کر پہچان جاتی ہیں کہ وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہیں۔۔۔ اب آپ بنا دیر کئے مجھ سے اصل وجہ شیئر کریں جو آپکی خرابی طبیعت کا باعث ہے۔۔۔ ورنہ میں بھی آپ سے ناراض ہو جاوں گی۔۔۔ پلیٹ میں چمچ چلاتے وہ سر جھکائے گم صم بیٹھی ماں کو دیکھتی گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ ماں نے آہستگی سے نظریں اٹھا کر بیٹی کی جانب دیکھا اور لمحے میں انکی آنکھیں چھلک آئیں۔۔۔
مااااں۔۔۔۔
عفرا تڑپ کر پلیٹ واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر ماں کے پاس بستر پر آ کر بیٹھتی نم آنکھوں سے انکے ہاتھ تھام گئ۔۔۔
یہ کیا ماں۔۔۔ ایسی کونسی بات ہے جس نے آپکو اسقدر پریشان کر رکھا ہے۔۔۔
ماں مجھے بات بتائیے ورنہ میرا دل بند ہو جائے گا۔۔۔
ماں کو ہنوز خاموش دیکھ اسکی اپنی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔
تم اور صلہ دونوں ہی تو میری زندگی کا کل اثاثہ ہو عفرا۔۔۔ بیٹیوں کی ماوں پر بہت بھاری ذمہ داتی ہوتی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی اس زمہ داری کو احس طریقے سے نبھانے میں بری طرح ناکام رہی ہوں۔۔۔ وہ خاموش آنسو بہاتیں سر بیڈ کراوں سے ٹکا گئیں۔۔۔
ایسے کیوں ماں۔۔۔ عفرا صدمے کے زیر اثر گویا ہوئی۔۔
ایک تو باغی ہو گئ تھی۔۔۔ اپنی مرضی سے انگارہ ہاتھ میں لینا چاہتی تھی۔۔ مجھے چاہیے تھا اسکے دو تھپڑ لگاتی مگر اسے کبھی ایسا نا کرنے دیتی۔۔۔ مگر یوں کرتی تو وہ اور باغی ہو جاتی۔۔۔ ماں کو ہی دشمن سمجھنے لگتی۔۔۔ حالانکہ ماں باپ دشمن نہیں ہوتے۔۔۔ وہ کسی غیر مرئی نقطے کی جانب دیکھتیں نم آواز میں کہہ رہی تھیں۔۔۔ بغاوت حد سے بڑھتی تو وہ کوئی غلط قدم اٹھا لیتی۔۔۔ مرے باپ کی عزت کو پاوں تلے روند دیتی۔۔۔ اس لئے میں اسکی ضد کے آگے ہار گئ۔۔۔ اب میں اسکے لئے محض دعا ہی کر سکتی ہوں کہ بالاج اسکے حق ہمیشہ بہترین ثابت ہو۔۔۔
ماں یہ سب اسکا اپنا انتخاب ہے آپ اسکے لئے کیوں حلکان ہو رہی ہیں۔۔۔ عفرا نے ہاتھ آگے بڑھاتے ماں کے آنسو صاف کئے۔۔۔
بچے مجھے اسکی فکر تو ہے لیکن میری اصل فکروں کا محور تم ہو۔۔۔ میری معصوم فرمابردار بچی۔۔۔ ماں نے نم آنکھیں اسکی جانب کرتے اسکا چہرا اپنے نحیف ہاتھوں میں بھرا تو عفرا جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔
کک۔۔۔ کیا مطلب ماں۔۔۔
تم خوش نہیں ہو عفرا۔۔۔ تمہاری آنکھیں تمہاری باتوں کا ساتھ نہیں دیتیں۔۔۔ شاید امان اس معاملے میں مجھے غلط ثابت کر گیا۔۔۔ میں بری طرح ہار گئ عفرا۔۔۔ تمہارا دکھ مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتا۔۔۔
ماں بات کرتیں پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔۔۔ جبکہ عفرا جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔ اسنے کیسے سوچ لیا کے اسکی صورت دیکھ کر اسے پہچان جانے والی ماں اسکی آنکھوں سے ساری داستان سمجھ نہیں جائینگی۔۔۔ اسنے کیسے سوچ لیا کہ وہ ماں سے کچھ چھپا سکتی ہے۔۔۔
وہ دھواں دھواں ہوتے چہرے کیساتھ شرمندگی سے چہرا جھکا گئ۔۔۔
میں راتوں کو اٹھ اٹھ کر تمہارے حق میں دعائیں کرتی ہوں کہ اللہ مان کو تمہارے حق میں بہتر کردے۔۔۔
وہ گلوگیر لہجے میں کہہ رہی تھیں کہ وہ ماں کی بات کاٹ گئ۔۔۔
بس پھر سمجھ لیں ماں کہ مجھے آپکی دعائیں لگ گئ۔۔۔ اسنے نم آنکھوں سے ماں کو دیکھا جنکے آنسو ٹھٹھرنے لگے تھے۔۔۔
وہ لمحوں میں فیصلہ کر چکی تھی کے اسے اب مزید ماں سے کچھ نہیں چھپانا۔۔۔ اور پھر وہ شادی کے پہلے دن سے انہیں سب بتاتی چلی گئ ہر ہر بات۔۔۔۔
اب اس شخص کیساتھ دل کا ایسا رشتہ جڑتا چلا جا رہا تھا کہ اسے ماں کے دل میں اسکے حوالے سے ہلکی سی بدگمانی بھی منظور نا تھی۔۔۔
اور ماں کل شام امان کی صورت دیکھنے لائق تھی۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔ خالہ نے انکی وہ کی وہ تو بیچارے کہتے ہی رہ گئے کے میں نے کچھ نہیں کیا ماں۔۔۔ وہ تو بعد میں میں نے خالہ کو بتایا کہ واقعی انکی کوئی غلطی نہیں تو کہیں جا کر انکی جان خلاصی ہوئی۔۔۔
ماں وہ برے نہیں ہیں۔۔۔ شاید صلہ کے الفاظ نے انہیں زیادہ تکلیف پہچائی تھی ۔۔ لیکن اب وہ اس فیز سے آگے بڑھ رہے ہیں۔۔۔ اس لئے آپکا خون خشک کرنے کے لئے آپکی ایک ہی بیٹی کافی ہے۔۔۔ میری طرف سے آپ بے فکر رہیں۔۔۔ پہلے نہیں لیکن اب میں اپنی زندگی میں مطمیئں ہو۔۔۔
میری ایک ماں یہاں اس گھر میں ہے تو وہاں میری دوسری ماں ہے۔۔۔ آپکو لگتا ہے کے انکے ہوتے ہوئے وہاں میرے ساتھ کوئی زیادتی ہوگئ۔۔۔
اور رہ گئ بات امان کی تو ہم دونوں کی بانڈنگ شروع سے ہی بہت مضبوط تھی ماں۔۔۔ بس رشتہ بدل گیا ہے۔۔۔ لیکن جتنا میں انہیں جانتی ہوں وہ نا تو کسی کے ساتھ غلط کر سکتے ہیں اور نا ہی کسی کی حق تلفی کر سکتے ہیں۔۔ آہستہ آہستہ وہ واپس ٹریک پر آ رہے ہیں اور جلد ہی سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
وہ مسکرا کر کہہ رہی تھی۔۔۔ اور اس بار ماں کو اسکی باتوں پر یقین کرنا پڑا کیونکہ اسکی چمکتی آنکھیں اسکی مسکراہٹ کا ساتھ دے رہی تھیں۔۔۔ اسکے چہرے پر آسودگی تھی جو ماں کے دل سے ایک بوجھ سرکا رہی تھی۔۔۔ بے شک بیٹیاں اپنے گھروں میں خوش ہوں تو ماوں کے دلوں کو ٹھنڈک رہتی ہے۔۔۔
*****
شام میں گویا انکے گھر میں رونق لگ گئ تھی۔۔۔ وہ ماں کے ساتھ لاوئنج میں بیٹھی ایل سی ڈی پر کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔۔۔ ماں اب صبح کی نسبت کافی بہتر تھیں وہ ماں کو کھانا کھلانے کے بعد دوائی کھلا کر لاوئنج میں لائی تھی۔۔۔ ماں صوفے پر بیٹھی تھی جبکہ وہ خود فلور کشن پر بیٹھی صوفے سے ٹیک لگائے سامنے موجود کانچ کی میز سے اخروٹ اٹھا کر کھا رہی تھی کہ دفعتا امان اور خالہ کے ساتھ منیبہ نعمان اور مغیث اندر داخل ہوئے۔۔۔ دروازہ کھلا ہی تھا کیونکہ اسنے ابھی ابھی محلے کے بچے کو دودھ لینے بھیجا تھا کیونکہ صبح کا دودھ ختم ہو گیا تھا اور اسے چائے کی طلب ہو رہی تھی۔۔۔ ان سب کو اندر داخل ہوتا دیکھ وہ خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سمیٹ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ان سب سے مل کر ماں کے چہرے پر بھی رونق آ گئ تھی۔۔۔
الے میرلا پالا بے بی۔۔۔ میلے پاش آو۔۔ عفرا نے منیبہ سے مل کر اسکی گود سے مغیپ کو تھاما۔۔۔
خالہ آپ لوگوں کو آنے سے پہلے بتانا تو چاہیے تھا تا کہ میں کوئی انتظام کر کے رکھتی۔۔۔
عفرا کو نئ فکر لاحق ہوئی تو خالہ سے بیچارگی سے گویا ہوئیں۔۔۔
اسی لیے تو بتایا نہیں ڈائریکٹ چھاپہ مارا ہے۔۔۔ ہم امی کی طرف سے کھانا کھا کر آئے ہیں۔۔۔ رات بارہ بجے کی ہماری فلائٹ ہے اس لئے آپ سب سے ملنے چلے آئے کے خالہ کی طبیعت بھی خراب ہے انکی عیادت بھی کر لیں اور مل بھی لیں۔۔ باقی تکلف کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔
منیبہ نے مسکراتے ہوئے اسکی بات کا جواب دیا۔۔۔
اچھا چلیں پھر چائے ہی بنا لاتی ہوں۔۔۔
اسکی بھی کوئی ضرورت ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے منیبہ پھر سے انکار کرتی عفرا جھٹ سے بول اٹھی۔۔۔
اب تو آپ رہنے ہی دیں منیبہ آپی۔۔۔ وہ مغیث کو ماں کی گود میں تھما کر خود کچن کی جانب بڑھی۔۔۔ اسکے کچن میں جانے کے کچھ دیر بعد ہی امان نا محسوس انداز میں وہاں سے اٹھ کر اسکے پیچھے کچن میں داخل ہوا۔۔ جہاں وہ پریشاں حال سی چائے بننے کے لئے دودھ ڈال رہی تھی جو ابھی ابھی وہ بچہ اسے دے کر گیا۔۔۔
کیا ہوا کوئی پریشانی ہے۔۔۔ اپنے بالکل پیچھے امان کی آواز سن کر چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ جو ٹراوزر اور ہاف سلیو ٹی شرٹ میں ملبوس اسکے پیچھے کھڑا تھا اور ایک ہی نظر میں اسکی پریشانی بھانپ چکا تھا۔۔۔
نن۔۔۔ نہیں۔۔۔ دراصل میں سوچ رہی تھی کے چائے کے ساتھ کیا منگواوں۔۔۔ وہ ایک نظر اسے دیکھتی دوبارہ چائے کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
تم چائے بناو میں آتا ہوں۔۔۔ وہ بنا مزید اسکی کوئی بات سنے وہیں سے پلٹ گیا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد اسکی واپسی ہوئی تو اسنے چند شاپر لاکر کاونٹر ٹاپ پر رکھے ۔۔۔
چائے چھانتی عفرا محض اسے دیکھتی ہی رہ گئ جو بنا مزید کچھ بولے کچن کیبنٹ سے پلیٹیں نکال کر ان میں کوکیز نمکو مٹھائی اور دوسری چیزیں ڈالنے لگا لگا تھا۔۔۔
عفرا کی آنکھیں اسکی اسقدر اپنائیت پر بھرانے لگی۔۔۔
جب تک عفرا نے چائے کپوں میں انڈیلی وہ پلٹیں سیٹ کرکے ٹرالی میں رکھ رہا تھا۔۔۔
ہو گیا سب امان اب آپ جا کر بیٹھیں میں چائے لاتی ہوں۔۔۔ ویسے آپ تو خاصے سگھر بندے ہیں مسقبل میں مجھے کافی آسانی رہے گی۔۔۔ وہ چائے کی ٹرے ٹرالی میں رکھتی نا نا کرنے کے باوجود بھی زبان کو ایک لطیف سا جملہ کہنے سے روک نا سکی تھی۔۔۔ دل میں آسودگی ہو تو چہرے پر خوشی ایسے ہی پھیلتی ہے۔۔۔
بدلے میں امان اسے گھورتا ہوا اسکے سر پر ایک چیت رسید کر کے باہر نکل گیا جبکہ پیچھے وہ کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
*****
باتیں کرتے کرتے رات کے گیارہ کیسے بجے پتہ ہی نا چلا۔۔۔ وقت کی قلت کا احساس کرتے منیبہ اور نعمان اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
امان بیٹا میں یہیں نصرت کے ساتھ ہوں تم اپنے ساتھ عفرا کو لے جاو انہیں ایئر پورٹ چھوڑنے کے لئے واپسی پر جب اسے یہاں چھوڑنے آو تو مجھے لے جانا۔۔۔ تب تک میں بھی زرا فرصت سے بہن سے باتیں کر لوں گی۔۔۔ نزہت بیگم صوفے پر دونوں پاوں اوپر کر کے پرسکون ہو کر بیٹھتی گویا ہوئیں۔۔۔
انکی بات پر عفرا نے ماں کی جانب دیکھا اور انکے مسکرا کر سر ہاں میں ہلانے پر اندر سے اپنی چادر اٹھانے بڑھی۔۔۔
سارا راستہ ہی منیبہ اور عفرا باتیں کرتی گئیں تھیں۔۔ لیکن وہاں پر آگے بڑھتے ہوئے منیبہ کی آنکھیں نم ہو اٹھیں وہ بھائی کے گلے لگتی ضبط کے باوجود رو دی۔۔۔ امان نے اسکا سر تھپتھپاتے اسے حوصلہ دیا۔۔۔
بھائی عفرا کا خیال رکھیے گا۔۔۔ جاتے جاتے بھی وہ اسے عفرا کے حوالے سے کئ نصیحتیں کرتی گئ تھی۔۔۔
انکے جانے کے بعد امان اور عفرا باہر کی جانب بڑھے ۔۔۔۔ یہ نعمان کی گاڑی تھی جو اسکی واپسی تک امان کے انڈر رہنی تھی۔۔ وہ الگ بات کے امان اسے استعمال میں لانے کا کوئی ارادہ نا رکھتا تھا۔۔۔
منیبہ کو روتا دیکھ عفرا بھی خاصی رنجیدہ ہوگئ تھی۔۔۔
آئسکریم کھاو گئ۔۔۔ امان نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے عفرا سے پوچھا۔۔۔
پتہ نہیں اب منیبہ آپی سے دوبارہ کب مل سکیں گئے۔۔۔ وہ ابھی تک اسی لمحے کے حصار میں تھی۔۔۔
موبائل ہے نا تمہارے پاس تو روز اس سے ویڈیو کال کر لینا۔۔۔ ابھی تو وہ گئ یے اور تم دعا کرو کہ اسکا وہاں دل لگ جائے کیونکہ ہر انسان بہتری کی طرف سفر کرتا ہے۔۔۔ اللہ نعمان کو اسکے مقصد میں کامیاب کرے تاکے وہ جلداز جلدواپس پاکستان آ سکیں۔۔۔
امان نے اسے رسان سے سمجھاتے آئسکریم پارلر کے سامنے گاڑی روکی۔۔
اب بولو آئسکریم کھاو گی۔۔۔ وہ جو اس کی باتیں سن کر زرا سمبھلی تھی چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔۔ وہ ایک نظر باہر موجود آئسکریمّ پارلر کو دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
اسکی بات سن کر امان گاڑی سے اترا اور کچھ ہی دیر بعد آئسکریم کے دو کپ تھامے واپس آیا۔۔۔
امان کے ہاتھ سے آئسکریم تھامتے ایک خوبصورت مسکراہٹ عفرا کے چہرے پر ابھری ۔۔۔ وہ اسکی پسند ناپسند سے بخوبی آگاہ تھا۔۔۔ جسکی گواہی عفرا کے ہاتھ میں تھامی چاکلیٹ آئسکریم دے رہی تھی جبکہ اپنے لئے وہ قلفا فلیور لایا تھا۔۔۔
عفرا سوری۔۔۔ آئسکریم کا دھکن اتارتا وہ عفرا کی جانب دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
عفرا نے چونک کر اسکی جانب دیکھا۔۔۔ کل صبح تمہارے ساتھ میرا رویہ خاصا معیوب تھا۔۔۔
کل صبح کی بات کو رہنے دیں آپ امان کیونکہ پھر تو مجھے بھی آپ سے ایکسکیوز کرنا پڑے گا نا کیونکہ تب ہائپر تو میں بھی ہوگئ تھی۔۔۔ اس سے پہلے کے امان مزید کچھ کہتا وہ سرعت سے اسکی بات کاٹتی غیر سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔وہ الگ بات کے اسکے لئے مجھے اکسایا بھی آپ نے ہی تھا۔۔۔ عفرا نے بات کرتے بامشکل اپنی مسکراہٹ دابی۔۔۔ مطلب زیادہ غلطی تو آپکی ہے لیکن تھوڑی سے میری بھی اس لئے اس بات کو ہم چھوڑ دیتے ہیں اس پر مٹی ڈالیں ۔۔۔ آپ نے کیا میں نے کیا حساب برابر۔۔۔ وہ آئسکریم میں چمچ ہلاتی سب طے کر رہی تھی۔۔۔
امان دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
اس سے زرا پیچھے چلتے ہیں۔۔۔ ہمارے نکاح سے لے کر کل صبح سے پہلے تک میرے بہت سے حساب نکلتے ہی آپکی طرف اور یقین مانے امان نا تو ان سب چیزوں کے لئے میں آپکو معاف کروں گی اور نا ہی اتنے سستے میں آپکی جان چھوٹے گی۔۔۔ اور سب سے بڑی بات وہ حساب یوں گاڑی میں بیٹھ کر چند منٹوں میں تو ہرگز ہرگز بے باک نا ہو گا کیونکہ ابھی تو ہمیں واپس گھر جانا ہے۔۔۔ تو یہ حساب کتاب ہم کسی اور دن کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں۔۔۔ اور یقین رکھیے گا مجھ پر امان کہ میں آپکی شاگردہ ہوں۔۔۔ حساب کتاب میں بڑئ پکی ہوں ایک پائی تک میں ہیر پھیر نہیں ہوگی۔۔۔ اصول و قوائد بھی آپ ہی سے سیکھیں ہیں تو جو بات لمبی ہے اسکو ہم اتنے مختصر وقت میں نہیں چھیریں گے
۔۔
وہ بڑے پرسکون انداز میں اپنے گزشتہ کی روز کی کھولن اور غصہ ٹھنڈے لہجے میں اس پر انڈیل کر اسے اپنے عزائم سے روشناس کروا چکی تھی کہ وہ کسی قسم کی خوش فہمی میں نا رہے کہ وہ اسکی پچھلی کوئی بات نہیں بھولی۔۔۔
امان بس سے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ اتنا پیچھے تک تو وہ گیا ہی نا تھا بقول اسکے تو وہ اس وقت صدمے میں تھا۔۔۔ اسنے تو اپنے کل والے رویے کی معذرت کرکے صلح کرنی چاہی تھی مگر عفرا کی باتیں اسے بہت پیچھے دھکیل گئ تھیں جہاں اسنے اپنے صدمے کے زیر اثر جو کام کئے تھے وہ کسی اور کی ذات پر کس قدر گراں گزرے تھے اسے اب اندازہ ہو رہا تھا۔۔۔ اب وہ ان دنوں کی تلخی کو محسوس کر پا رہا ہے تو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب ازالہ کیسے کرے۔۔۔
*****