📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="327"]
56426 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

مانا بکھرا ہوں میں ابھی
میں نے خواب پروئے تھے ۔۔۔
تیری سانسوں میں گم ہوں ابھی
میری چاہت ادھوری ہے ۔۔۔۔

وہ اچانک دیوار سے لگی تھی ۔۔
اور وہ اس پہ جھکا اسے کڑے تیوروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
اس کی خوبصورت آنکھیں ۔۔۔
جو کھبی مسکراتی تھی ۔۔۔
ابھی وحشت زدہ تھی ۔۔۔
عنازیہ دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” اس کا خیال ہے تمہیں۔۔۔۔۔ اور میرا ؟؟”
اس نے کاٹ دار لہجے میں کہا تھا ۔۔
” بیوی ہوں میں اس کی ۔۔۔
فکر ہے مجھے اس ۔۔۔ “
وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔
جب آبان نے اس کا منہ دبوچ لیا ۔۔
عنازیہ کی آنکھیں بھیگی تھی ۔۔
وہ جو اتنا نرم دل تھا ۔۔
کہ اسے دکھ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔
آج وہ یوں اس سے سرد لہجے میں بات کر رہا تھا ۔۔۔
” آحان ۔۔
یو آڑ ہرٹنگ می ۔۔۔ “
وہ بھرائی آواز میں بولی تھی ۔۔۔
اس نے عنازیہ کا چہرہ چھوڑ دیا تھا ۔۔۔
اس کے خون آلود ہاتھ سے عنازیہ کے چہرے پہ بھی خون کے دھبے لگے تھے ۔۔
” سوری … “
وہ دھیمے لہجے میں کہتا ۔۔۔
پھر سے فریج کی طرف بڑھا تھا ۔۔
اور دوسری بوتل نکال کے ۔۔
وہ وہیں کھڑا غٹاغٹ پینے لگا ۔۔
عنازیہ اسے بھرائی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اس کے ہاتھ سے خون کے قطرے نیچے گر رہے تھے ۔۔
لیکن اسے کہاں پرواہ تھی ۔۔
” آحان تمہارا ہاتھ ۔۔۔ “
عنازیہ نے کہنے کی کوشش کی ۔۔
” ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ “
اس نے سرد لہجے میں کہا تھا ۔۔
اپنے من پسند نشے سے بھرا سگریٹ اس نے لے کے سلگایا تھا ۔۔۔
عنازیہ کے پہلو سے ہوتا ۔۔
وہ لاونج میں جا کے صوفے پہ بیٹھ گیا ۔۔۔
اور
آنکھیں موندے وہ اب سگریٹ پی رہا تھا ۔۔۔
عنازیہ کو اس سے خوف محسوس ہو رہا تھا اب ۔۔۔
جو محبت شدت کی کرتے ہیں ۔۔
وہ نفرت بھی شدت کی کرتے ہیں ۔۔
وہ کچھ دیر وہاں کھڑی ۔۔۔
اس کے خون آلود ہاتھ کو دیکھتی رہی ۔۔۔
پھر کچن میں جا کے ۔۔۔
اس نے فرسٹ ایڈ باکس ڈھونڈا ۔۔۔
وہ لے کے وہ آبان کے پاس آئی تھی ۔۔
” آحان ۔۔۔ “
اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔
” آحان ۔۔ “
شاید سو چکا تھا ۔۔۔
وہ اس کے قریب بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
اس نے آہستگی سے ابان کے ہاتھ کو تھاما ۔۔۔۔
وہ تھوڑا کسمسایا تھا ۔۔۔
لیکن نشے میں ہونے کی وجہ سے ۔۔
وہ یونہی پڑا رہا ۔۔۔
عنازیہ نے اس کے ہاتھ کو روئی کے ساتھ صاف کیا ۔۔
کئی جگہوں پہ کٹ لگے تھے ۔۔۔
اس کا دل ہی کٹ گیا اتنے زخم۔دیکھ کے ۔۔۔
ڈھونڈ کے اس نے مرہم لگائی اس کے ہاتھ پہ ۔۔۔
اور پھر بینڈج کرنے لگی ۔۔
جب آبان کسمسایا تھا ۔۔
” عین ۔۔۔ تم عین ہو ناں “
وہ نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” مجھے سلا دو ۔۔
برسوں کا جاگا ہوں ۔۔ “
وہ ٹوٹے لہجے میں کہہ رہا تھا ۔۔
عنازیہ اسے ہی خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ عنازیہ کی گود میں سر رکھ کے لیٹ گیا ۔۔
اپنے بینڈج لگے ہاتھ کو دیکھتا رہا ۔۔
عنازیہ سہمی سی بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” عین ۔۔۔۔ عین ۔۔۔ “
اس کی بوجھل آواز ابھری تھی ۔۔
” ہ۔۔۔ ہاں؟؟”
عنازیہ نے اسے جواب دیا ۔۔
” ڈر لگ رہا ہے تمہیں مجھ سے عین ؟؟ “
وہ پھر سے بولا تھا ۔۔
عنازیہ خاموش رہی تھی ۔۔
” مت ڈرو اپنے آحان سے “
وہ پھر سے بولا تھا ۔۔۔
” میں بہت رویا ہوں عین ۔۔
بہت زیادہ رویا ہوں ۔۔۔ “
وہ دھیرے دھیرے بتا رہا تھا ۔۔۔
” تم بہت یاد آتی ہو عین ۔۔
بہت یاد آتی ہو ۔۔۔
ادھورا ہو گیا ہوں تم بن ۔۔۔
بہت ادھورا ۔۔۔
نیم جان ۔۔۔ “
عنازیہ کی آنکھیں بھیگی تھی ۔۔
۔۔۔
” عین ۔۔۔ “
وہ پھر سے بولا تھا ۔۔
” ہممم “
وہ اپنے آنسوؤں کا گلا گھونٹتے بولی تھی ۔۔
” تم رو رہی ہو عین ؟
مت رو تم عین ۔۔۔ “
وہ اپنا سینہ مسلنے لگا ۔۔
” میرے مرنے پہ رونا بہت سارا “
کہتے کہتے وہ کھانسنے لگا ۔۔۔
عنازیہ گھبرا کے اسے دیکھنے لگی ۔۔
” آحان ۔۔۔ “
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
لیکن میری موت پہ رونا پلیز ۔۔
کوئی تو ہو میری موت پہ رونے والا ۔۔۔
رو گی ناں عین ؟”
وہ کہہ رہا تھا ۔۔
” سو جاؤ آحان ۔۔۔ میں یہیں ہوں “
اس نے دھیرے سے کہا تھا ۔۔
آبان نے اس کا ہاتھ ۔۔۔
اپنے بالوں میں دے دیا ۔۔
عنازیہ دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی ۔۔۔
اور وہ آنکھیں موند گیا تھا ۔۔
پرسکون سا تھا ۔۔۔
عنازیہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
اس کے چہرے کی چمک ماند پڑ گئی تھی ۔۔
اس کی آنکھوں کے گرد حلقے سے بنے تھے ۔۔۔
اس کے بال بکھرے سے ۔۔
اس کے ماتھے پہ بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔
اس نے آنکھیں پھیر لیں ۔۔۔
اسے یہاں سے جانا تھا ۔۔۔
عالیار اسے ڈھونڈ رہا ہوگا ۔۔
اس نے سوچا ۔۔۔
اسے یہاں سے جانا تھا کسی بھی طرح ۔۔۔
لیکن وہ خوفزدہ تھی آحان سے ۔۔۔
اس کی نظر سامنے ٹیبل پہ آحان کے موبائل پہ پڑی تھی ۔۔۔
اس نے چپکے سے ایک نظر آحان کے سوئے وجود پہ ڈالی ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

موبائل ہاتھ سے گر چکا تھا اسکے ۔۔ ۔۔
پھٹی آنکھوں سے وہ اپنے سامنے بیٹھے حدید کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ۔
حدید کی نظر اپنی بہن کے سفید پڑتے چہرے پہ پڑی ۔۔۔
تو پریشانی سے اس کے پاس آ کے بیٹھ گیا ۔۔
” ایمی ۔۔ آڑ یو اوکے ؟؟؟ “
وہ پھر بھی سرد نگاہوں میں حیرت لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ ۔
” ایمی کیا ہوا ہے “
” مار دیا تم نے اس شخص کو “
وہ سرد لہجے میں بولی تھی ۔۔ ۔
” یہی تربیت کی تھی تمہاری میں نے حدید ؟”
حدید لب بھینچے اس سے نظریں چرانے لگا ۔۔ ۔
٫ کیوں گئے تھے تم وہاں ؟؟؟
جانتے ہو کیا کر آئے ہو ؟؟
ہاسپٹل میں پڑا ہے وہ شخص ۔۔
موت اور زندگی کے بیچ “
حدید نے چونک کے اپنی بہن کو دیکھا ۔۔
” ہارٹ اٹیک ہوا ہے انھیں ۔۔ “
حدید کا دل کانپا تھا ۔۔۔
جبکہ امتسال رو رہی تھی ۔۔۔
اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی ۔۔
” کہاں جا رہی ہو ایمی ؟”
حدید اسے دیکھنے لگا ۔۔
امتسال نے ایک تیز نظر اس پہ ڈالی ۔۔
” ہاسپٹل ۔۔
تم بیٹھ کے یہاں اپنی انا کا جشن مناؤ “
کہہ کے وہ تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔
حدید کو دکھ ہو رہا تھا اب ۔۔۔
وہ اس کے بنگلے گیا تھا ۔۔
جہاں اس نے تاشفین ارحم کو بہت باتیں سنائی ۔۔۔
اور اس کے جاتے ہی تاشفین کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔
امتسال جب ہاسپٹل پہنچی ۔۔
تو وہاں تاشفین کی سیکنڈ وائف نرمین موجود تھی ۔۔۔
امتسال نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔
اور پھر تھوڑا فاصلے پہ ۔۔
دیوار سے لگ کے کھڑی ہو گئی تھی ۔۔
نرمین جو پریشانی سے ٹہل رہی تھی۔ ۔۔
اب رک کے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔
حورین۔ ۔۔
ان کی بیٹی غصے سے امتسال کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” اور کچھ کہنا باقی رہ گیا تھا کیا ۔۔
جسے سنانے تم آ گئی اس بدتمیز کی بجائے “
نرمین نے اسے بازو سے پکڑ کے روکا تھا۔ ۔۔۔
جبکہ امتسال نے ان سنی کر دی تھی۔ ۔۔
وہ سامنے دیوار کو ایسے دیکھ رہی تھی۔
جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو ۔۔۔
” ممی چھوڑیے مجھے “
حوریں جھنجھلائی تھی ۔۔
” یہ وقت ان باتوں کا نہیں۔ ہے حورین ۔۔۔
جاؤ بنچ پہ جاکے بیٹھ جاؤ “
نرمین نے اسے سختی سے کہا تھا ۔۔
” لیکن ممی ۔ “
وہ اب بھی غصیلی نظروں سے امتسال کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” حورین ۔۔۔ “
نرمین نے اسے تنبیہ کی ۔۔
تو وہ منہ بنا کے ۔۔۔ ۔غصے میں تن فن کرتی اس بنچ پہ جا کے بیٹھ گئی تھی ۔۔
نرمین نے ایک نظر امتسال پہ ڈالی ۔۔۔
اور پھر اپنی جگہ پہ جا کے بیٹھ گئی ۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

ابان سو رہا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ کی نظریں اس کے موبائل پہ ہی تھی ۔۔۔
جو اس نے ٹیبل پہ رکھی تھی ۔۔۔۔
وہ آہستہ سے کھسکی تھی ۔۔۔
اور آبان کا سر اس کی گود سے صوفے پہ رکھا تھا ۔۔۔
وہ تھوڑا کسمسا کے سوگیا تھا ۔۔۔۔
کانپتے دل کے ساتھ ۔۔۔
وہ آہستگی سے اٹھی اور موبائل کی طرف ہاتھ بڑھانے لگی ۔۔۔
اس کی نظریں آبان کے چہرے پہ تھی ۔۔۔
وہ سو رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے موبائل اٹھایا ۔۔۔
اور دھیرے دھیرے چلتی دوسرے کمرے میں گئی تھی ۔۔۔
اپنی پھولی سانسیں بحال کی ۔۔
دل ابھی تک کانپ رہا تھا ۔۔۔
ہاتھوں کی لرزش واضح تھی ۔۔۔
وہ جلدی سے عالیار کا نمبر ملانے لگی ۔۔۔
کان سے لگایا ۔۔۔
تو رنگ جا رہی تھی ۔۔۔
” پک اپ دی فون عالیار پلیز “
زیر لب بار بار دہرا رہی تھی ۔۔۔۔
” ہیلو ۔۔۔ “
عالیار کی بھاری آواز اس کے کان سے ٹکرائی تھی ۔۔۔
” ہ۔۔۔۔ “
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ۔۔۔
اس کے منہ پہ بھاری ہاتھ رکھا تھا آبان نے پیچھے سے آ کے ۔۔۔
ساتھ ہی موبائل اس کے ہاتھ سے لے کے اس نے کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی ۔۔۔۔
اس کی گردن کی پشت پہ اپنی گرم سانسیں چھوڑی تھی اسنے ۔۔۔
عنازیہ کا پورا وجود ہی کانپ گیا تھا ۔۔۔
” آبان سکندر سے دھوکا ۔۔
جانتی ہو انجام کیا ہے اسکا ؟”
اس نے بوجھل سرگوشی کی تھی ۔۔۔
عنازیہ نے ہمت مجتمع کر کے ۔۔
خود کو اسکی گرفت سے آزاد کیا تھا ۔۔۔
اور اب مڑ کے اسے سرد نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” تم آبان سکندر نہیں آحان خان ہو ۔۔۔
اور میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے جو تم نے مجھے باندھ کے یہاں رکھا ہوا ہے ۔۔۔۔ “
وہ چلائی تھی ۔۔۔
” میں عالیار خان کی بیوی ہوں ۔۔
مجھے اسکے پاس جانا ہے ۔۔۔
تم سے میرا تعلق نہیں ہے کوئی آحان خان ۔۔۔
سالوں پہلے تم خود یہ تعلق ختم کر کے گئے تھے ۔۔۔ “
چٹاخ کی آواز آئی تھی ۔۔۔
آحان کا بھاری ہاتھ عنازیہ کے گال پہ پڑا تھا ۔۔۔
وہ لڑکھڑا کے نیچے گری تھی ۔۔۔
” تم اس سے طلاق لو گی ۔۔۔
تم میری نہ بن سکی تو تم اس کی بھی نہیں بنو گی ۔۔
آئی سمجھ “
وہ اس کی طرف اپنی شہادت کی انگلی سے وارن کرتا دھاڑا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ جو حیرت سے ۔۔۔
اپنے گال پہ ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اب نفرت کی چنگاڑیاں جل رہی تھی اس کی آنکھوں میں ۔۔۔
” قابل رحم ہو تم آحان خان ۔۔
ترس آتا ہے تمہاری حالت پہ ۔۔۔۔
اتنا گر گئے ہو تم کہ ایک عورت پہ ہاتھ اٹھانا بھی تمہیں غلط نہیں لگ رہا ۔۔۔۔
مر چکا ہے تمہارا ضمیر ۔۔۔ “
وہ بھی بےخوف غرائی تھی ۔۔۔
” عالیار خان سے میں محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔
بےپناہ محبت ۔۔۔
اس سے طلاق لینے سے پہلے میں ۔۔۔
اسی عمارت سے کود کے اپنی جان دے دوں گی ۔۔۔۔
اس کی محبت میرے رگ رگ میں ہیں۔ ۔۔۔ اور میں “
” بس “
اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی ۔۔
آحان نے اسکے بال کھینچے تھے ۔۔۔
اس پہ جھک کے۔ ۔
اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب کیا تھا ۔۔۔۔
” ایک لفظ نہیں ۔۔۔۔
بس ۔۔۔
چپ ۔۔۔ ایکدم چپ ۔۔۔ “
اس کی آنکھوں میں وحشت سی تھی ۔۔ ۔
عنازیہ درد سے کراہی تھی ۔۔۔
” چھوڑو میرے بال ۔۔۔ “
آحان کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔
پھر جھٹکے سے ۔۔۔
اسے دھکا دے کے وہ کمرے سے نکل گیا تھا ۔۔۔ ۔
جبکہ عنازیہ کی آنکھیں نہ چاہتے ہوئے بھی بھیگنے لگی تھی ۔۔۔
اب وہ یہاں سے کیسے جا پائے گی عالیار کے پاس ۔۔۔
اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” ہیلو ۔۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔ “
لیکن کال ڈسکنیکٹ ہو چکی تھی ۔۔
عالیار نے اچھنبے سے موبائل کو دیکھا ۔۔۔
اس کے دماغ میں اچانک سے خیال آیا تھا ۔۔۔
” عنزا ۔۔۔ “
اس نے جلدی سے نمبر ملایا ۔۔
لیکن نمبر بند جا رہا تھا اب ۔۔۔
ایک بار ۔۔۔۔ دو بار ۔۔۔ تین بار ۔۔۔
نمبر بند تھا ۔۔۔
اسے بےچینی ہونے لگی تھی ۔۔۔
وہ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھ کے کمرے سے نکل گیا ۔۔
اسے جلد سے جلد آفس پہنچنا تھا ۔۔۔
اسے نمبر ٹریس آؤٹ کرنا تھا ۔۔۔۔
اسی طرح سے وہ عنازیہ تک پہنچ سکتا تھا ۔۔۔۔ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے بھی اس نے نمبر ملایا تھا ۔۔
لیکن نمبر بند جا رہا تھا ۔۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

ڈاکٹرز باہر آئے تھے ۔۔۔
وہ تینوں ان کے پاس گئے تھے ۔۔۔
” آپریشن از سکسیزفل ۔۔۔
ہی از آؤٹ آف ڈینجر ناؤ “
سینیئر ڈاکٹر نے بتایا تھا ۔۔۔
انھوں نے شکر کا کلمہ پڑھا ۔۔۔
” کیا ہم مل سکتے ہیں ان سے ؟؟”
نرمین پوچھ رہی تھی ۔۔۔
” فی الحال نہیں ۔۔۔۔
آپ باہر سے دیکھ سکتی ہیں انھیں ۔۔۔ “
ڈاکٹر نے معذرت کے ساتھ کہا تھا ۔۔۔
” تھینک یو ڈاکٹر “
وہ مسکرائی تھی ۔۔۔
تو ڈاکٹرز بھی آگے بڑھ گئے۔ ۔۔
حورین اس کی طرف مڑی تھی ۔۔
” ہو گئی تسلی ؟؟
یا دکھ ہو رہا کہ زندہ کیوں بچ گیا یہ شخص ؟؟؟”
امتسال نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔۔
اس کی آنکھیں نم تھی ۔۔۔
وہ اس روم کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔
جہاں تاشفین ارحم مشینوں کے بیچ جکڑا لیٹا ہوا تھا ۔۔۔
” تم سے کہہ رہی ۔۔
جاؤ یہاں سے “
اس نے امتسال کو دھکا دیا تھا ۔۔۔
امتسال نے اس کا وہی ہاتھ پکڑ کے زور سے جھٹکا تھا ۔۔
” اسٹے ان یور لیمٹس “
سرد لہجے میں اس نے کہا تھا ۔۔۔
” حورین بی ہیو “
نرمین نے اسے تنبیہی انداز میں کہا ۔۔
حورین غصے سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی ۔۔۔
” وہاٹ مام ۔۔۔۔
یہ دونوں بہن بھائی قا۔۔۔ “
” آئی سیڈ شٹ اپ حورین “
اس کی بات کاٹ کے نرمین دبی دبی آواز میں چلائی تھی ۔۔
” گھر جاؤ تم ابھی”
” وہاٹ ۔۔۔ “
وہ بےیقینی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” آئی سیڈ گو ۔۔۔ “
حورین پاؤں پٹختی وہاں سے گئی تھی ۔۔۔
نرمین نے امتسال کو دیکھا ۔۔۔
کچھ سوچ کے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھنا چاہا ۔۔۔
” تم دیکھ لو اپنے بابا کو جا کے “
لیکن امتسال نے اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکا تھا ۔۔۔
نرمین خاموش رہی ۔۔۔
امتسال آگے بڑھ کے شیشے کے پار تاشفین ارحم کو دیکھنے لگی ۔۔۔
آنسو اس کے گال بھگونے لگے ۔۔۔
” ایم سوری ۔۔۔۔
ایم سوری ۔۔۔ میں ۔۔۔ میں “
اس کا گلا رندھ گیا ۔۔۔ ۔
” کھبی احساس ہی نہیں جاگنے دیا آپ نے ہمارے وجود میں۔ ۔۔
ایک باپ ہونے کا احساس آپ نے کھبی جگایا ہی نہیں ہمارے اندر ۔۔۔۔
میری زبان ہمیشہ لڑکھڑاتی ہی رہی ۔۔۔
با ۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ لب بھینچ گئی ۔۔۔
” با ۔۔۔۔۔ بابا کہنے کے لئے “
دبی دبی سسکیاں ابھری تھی ۔۔۔
نرمین اس کی پشت دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کتنے دکھ ملے تھے امتسال کو ۔۔۔ حدید کو ۔۔۔
صرف اس کی بےجا ضد کی وجہ سے ۔۔۔
ان سے ان کا بابا چھین لیا تھا اس نے ۔۔۔
اور اب جب پچھتاؤے دستک دے رہے تھے ۔۔۔
تو وہ بچے بڑے ہو چکے تھے اب ۔۔۔
اپنا اچھا برا سمجھنے لگے تھے ۔۔۔
اس شخص سے دور ہو چکے تھے ۔۔۔ ۔
نفرت کرتے تھے ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤