
From Hell to High Malayeka Rafi NovelM80037 Episode 3 and 4
Episode 3 and 4
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
” عنازیہ بھابی “
بھرائی ہوئی آواز پہ اس کا دل ڈوبا تھا ۔۔۔
وہ جو اپنے خیالوں میں گم اسکے لمس پہ ڈر گئی تھی اب حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” شمائم “
متورم آنکھیں ۔۔۔۔ بکھرے بال ۔۔۔ زرد پڑتا چہرہ ۔۔۔ نڈھال وجود ۔۔۔
” مجھے بچا لیں بھابی پلیز “
وہ منمنائی تھی ۔۔۔
دروازہ کھول کے وہ اسے جلدی سے لیے اندر آئی تھی اور دروازہ بھی بند کردیا تھا ۔۔۔۔
اسے صوفے پہ بٹھایا
اس کے لئے کچن سے پانی لے کر آئی ۔۔۔
وہ ایک ہی سانس میں سب پانی پی گئی ۔۔۔
عنازیہ سامنے ہی بیٹھی سنجیدگی سے اب اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
شمائم کی نظر اس پہ پڑی تو پھر سے آنسو امڈ آئے تھے ۔۔۔
اور وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی اب ۔۔۔
” شمائم کیا ہوا ہے ؟؟ کچھ بتاؤ گی یا مجھے پریشان کرتی رہو گی “
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔
کیسے عنازیہ کو بتائے اپنی بربادی کی کہانی ۔۔۔۔
اس نے اپنا موبائل اس کے سامنے کیا اور خود سر جھکا کے بیٹھ گئی ۔۔۔
کیونکہ اس وقت وہ صرف ایک ہی ہستی پہ یقین کر سکتی تھی ۔۔۔
اور وہ تھی اس کی بھابی عنازیہ ۔۔
جبکہ عنازیہ ان تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھ کے دل تھام کے رہ گئی ۔۔۔
لڑکیون کی ہم جنسی کرتے ویڈیوز بنائی گئی تھی ۔۔۔۔
اس نے حیرت سے شمائم کو دیکھا ۔۔۔
” م۔۔۔ مجھے نہیں پتہ یہ سب کیسے انھوں نے بنایا ۔۔۔۔ مجھے کوئی نشہ آور چیز دی گئی تھی ۔۔۔ مجھے نہیں یاد یہ سب کیسے ہوا “
وہ اچھی خاصی ٹریپ ہوئی تھی ۔۔ عنازیہ اسے دیکھ کے رہ گئی ۔۔
کتنا منع کیا تھا اسے ۔۔۔
کہ ہاسٹل مت جاؤ ۔۔
گھر پہ رہو ۔۔۔
دوستیاں مت بناؤ ۔۔۔
ہاسٹل کی لڑکیوں سے دور رہو ۔۔۔
اپنی یونی فیلوز کے ساتھ بس بات کرو ۔۔۔ وہ بھی بہت کم ۔۔
لیکن مجال ہے جو اس نے سنا ہو ۔۔
اور اب رزلٹ سامنے تھا ۔۔
” ہیلپ می عنازیہ بھابی پلیز ۔۔۔۔ “
” عالیار کو پتہ ؟؟”
اس کے پوچھنے پر شمائم نے سر نفی میں ہلایا تھا۔۔۔
” جانتی ہو ان میں سے کسی کو ؟”
وہ پوچھنے لگی
” نہیں ۔۔۔ کچھ لڑکیاں تو بلکل نیو ہیں۔ ۔۔۔ فرسٹ ٹائم ویڈیو میں دیکھ رہی ۔۔۔ باقی لڑکیاں ہاسٹل کی ہیں ۔۔۔۔۔ اور وہاں ایک آدمی آیا تھا۔۔۔۔۔۔
آبان سکندر ۔۔۔
چہرے پہ ماسک تھا ۔۔۔۔
وارڈن بھی تھی ساتھ میں ۔۔۔
باقی نہیں یاد ۔۔۔
نشہ کروایا تھا ہمیں “
وہ بتا رہی تھی دھیرے دھیرے ۔۔۔
” ہمممم آبان سکندر “
اس نے پرسوچ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔
جب موبائل رنگ ہوئی تھی اس نے دیکھا کوئی نمبر تھا ۔۔۔
شمائم کا رنگ فق سے اڑ گیا ۔۔۔
وہ رونے ہی لگ گئی ۔۔
” بھابی ۔۔۔ پلیز مجھے بچا لیں اس سے ۔۔ میری ویڈیوز وائرل کر دے گا ۔۔۔
ب۔۔۔ بھائی کو دے دیں گا ۔۔۔ “
وہ رونے لگ گئی ۔۔
” ہشششش “
اس نے منہ پہ انگلی رکھ کے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
شمائم منہ پہ ہاتھ رکھ کے اپنی سسکیاں روکنے لگی ۔۔۔
عنازیہ نے کال ریسیو کی تھی
” ہیلو مس چڑیا ۔۔۔۔ “
” ہیلو ۔۔۔۔ “
فون خیام کے ہاتھ سے چھوٹتے بچا تھا ۔۔۔
جبکہ محتسب کہہ رہا تھا
” کیا ہوا “
وہ منہ پہ انگلی رکھ کے اسے چپ رہنے کو کہہ رہا تھا
” عنازیہ ہے ۔۔۔ “
” وہاٹ ۔۔۔ “
اس نے جلدی سے کال کاٹ دی ۔۔۔۔
عنازیہ بھی موبائل سائیڈ پہ رکھ چکی تھی ۔۔۔
ٹھوڑی دونوں ہاتھوں پہ ٹکائے وہ کچھ سوچ رہی تھی ۔۔۔
اور
شمائم اسے دیکھ رہی تھی اپنی بھیگی آنکھوں کے ساتھ ۔۔۔۔
عنازیہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کیسے شمائم کو ان سے بچائے ۔۔۔
ان کے پاس تو اس کے علاؤہ بھی تصاویر اور ویڈیوز ہوگی شمائم کی ۔۔۔
کیسے ڈیلیٹ کروائے ۔۔۔
کیسے ان سے چھینے سب ۔۔۔
کیسے ۔۔۔۔ کیسے ۔۔۔ کیسے ؟؟؟؟
دماغ سن ہو رہا تھا ۔۔۔۔
وہ اٹھ کے لاونج میں ادھر ادھر ٹہلنے لگی ۔۔۔۔
اور پھر ایکدم سے رک گئی ۔۔۔
کچھ تو ہوا تھا ۔۔
شمائم اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” ب۔۔۔ بھابی “
وہ شمائم کی طرف مڑی ۔۔
” تم میرے روم میں جا کے سو جاؤ ۔۔۔۔ بلکل بھی گھبرانا نہیں ہے ۔۔۔ سب ٹھیک کر دوں گی میں۔ ۔۔ کسی کے لئے دروازہ نہیں کھولنا ۔۔۔ میں سب ٹھیک کر کے آتی ہوں “
وہ اس کے گال پہ پیار کرتی ۔۔۔
اپنا بیگ اٹھا کے باہر کی طرف بھاگی تھی اور شمائم نم آنکھوں سے اپنی بھابی کو جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ۔
” اے اللہ میرے بھائی اور بھابھی کو پھر سے ایک کردیں پلیز ۔۔۔ “
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” یہ لڑکی وہاں کیسے پہنچ گئی ؟”
خیام ٹہلتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ محتسب سوچوں کے سمندر میں غوطہ زن تھا ۔۔۔۔
” اگر میری آواز سے پہچان لیا ہو اس نے تو ۔۔۔ “
خیام کو نئی فکر لاحق ہوئی تھی ۔۔۔
” اوہ یار کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔ نہیں پتہ چلا اسے کچھ بھی ۔۔۔ اگر پتہ چلتا تو ابھی تک تمہیں کال کر کے سنا بھی چکی ہوتی ۔۔۔ دس بارہ گالیوں کے ساتھ “
محتسب نے اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کرتے بولا تھا ۔۔۔۔
خیام ٹھنڈی آہ بھر کے وہیں صوفے پہ بیٹھ گیا ۔۔۔۔
” اس لڑکی کا کیا بنا جو شام کو یہاں لایا تھا تو ؟”
خیام رک کے اس سے پوچھنے لگا
” اپنے انجام کو پہنچ گئی ۔۔۔۔ اس کی ویڈیوز بھی ویب سائٹس پہ ڈال دی ہے ۔۔۔۔ “
محتسب نے زہریلی مسکراہٹ لبوں پہ سجاتے کہا تھا ۔۔۔
” ویری گڈ ۔۔۔ تگڑا مال ملے گا اب ۔۔۔ اس وارڈن کو دے آئے اس کی بتائی رقم ؟”
خیام نے سر صوفے کی پشت پہ رکھتے کہا تھا ۔۔۔
” یس دے آیا ۔۔۔ بڑی چلاک عورت ہے وہ بھی ۔۔۔ مال ہڑپنا اسے بےحد پسند ہے “
محتسب کا منہ بن گیا تھا ۔۔۔ خیام ہنسا تھا
” مال بھی تو تگڑی دیتی ہے ہمیں ۔۔ تھوڑا نخرا تو چلتا ہی ہے ۔۔۔ “
” لیکن مجھے بلکل نہیں پسند وہ عورت ۔۔۔ دل کرتا گردن مڑور اس کی رگیں چٹخ دوں”
محتسب کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی غصے سے ۔۔
” صبر رکھ میرے بھائی۔ ۔۔۔۔ اس کا ٹائم بھی آ جائے گا ۔۔ ابھی ہمارا وقت چلنے دیں “
خیام۔نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ تو وہ سر ہلا گیا ۔۔۔
” میں ڈرنکس بنا کے لاتا ہوں “
کہتا اٹھا ہی تھا۔۔۔
جب آبان سکندر کوٹ ایک بازو پہ ڈالے تھکا تھکا سا آیا تھا ۔۔
” لو آ گیا ہمارا مولوی بھائی “
محتسب بولا تھا ۔۔
” کدھر سے مولوی بھائی ۔۔۔
سارے برے کام کرتا ہے بس ہمارے کام نہیں آتا ۔۔۔۔ “
خیام نے منہ بنایا تھا ۔۔
” شٹ اپ “
دونوں کو کہتا وہ صوفے پہ بیٹھ چکا تھا ۔۔
” بےغیرتی کے لئے تم دونوں کافی ہو “
اس نے سر صوفے کی پشت پہ ٹکایا تھا ۔۔
آنکھیں بھی موند لی تھی ۔۔
” میں ڈرنک بنا کے لا رہا ۔۔۔ پیے گا ؟ “
خیام کچھ کہنے کا ارادہ ترک کرتے کہا تھا ۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
تو خیام بھی محتسب کی طرف آنکھ ونک کرتا کچن کی طرف بڑھ گیا
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اس وارڈن کا پردہ فاش کرنا اس نے بعد کے لئے چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ ابھی اسے یہ پرابلم سولو کرنی تھی ۔۔۔ اور اس کے لئے وہ کسی پہ بھی ٹرسٹ نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ سوائے اس ایک شخص کے ۔۔۔۔
جس پہ یقین نہ ہوتے ہوئے بھی یقین تھا ۔۔۔۔۔
” عالیار خان “
اس نے موبائل نکال کے اسے کال کی ۔۔۔۔
تین چار رنگز کے بعد کال ریسیو ہوئی تھی
” ہیلو ۔۔۔ “
اس کی نیند سے بوجھل آواز ابھری تھی ۔۔۔
لگتا ہے وہ سو رہا تھا ۔۔
” تم کب سے اتنی جلدی سونے لگے “
طنزیہ انداز ۔۔۔۔
عالیار خان مسکرا کے رہ گیا ۔۔۔۔
” تمہارے جانے کے بعد ۔۔۔
تمہاری خوشبو کو محسوس کرتے آنکھ لگ گئی تھی “
اس کی بوجھل آواز پہ عنازیہ کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔
لیکن لہجہ نارمل ہی رکھا تھا اس نے ۔۔۔۔۔
” ملنا ہے تم سے ابھی “
عالیار کی آنکھیں مکمل کھل چکی تھی ۔۔۔
” اتنی یاد ستا رہی میری تمہیں “
عنازیہ اسے گالی دیتے دیتے چپ کر گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
” میں آفس کے باہر ویٹ کر رہی تمہارا ۔۔۔ پانچ منٹ تک پہنچو ادھر “
” آفس رومینس ۔۔۔ “
کال ڈسکنیکٹ کر چکی تھی عنازیہ میڈم ۔۔۔
اور اب وہیں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔
««««««««««»»»»»»»»»»»»
وہ سو رہی تھی ۔۔۔۔
وہ اتنا ڈری ہوئی تھی ان دنوں کی آج بہت دنوں بعد اسے اتنے مزے کی نیند آنی ہی تھی ۔۔۔
اسے پتہ تھا عنازیہ سب ٹھیک کر دے گی ۔۔۔
وہ نڈر ہے ۔۔
کسی سے نہ ڈرنے والی ۔۔۔
سب کو انگلی پہ نچانے والی ۔۔
اس کی پرابلم بھی سولو کر دے گی وہ ۔۔۔۔۔۔
تبھی اسے سکون کی نیند بھی آ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ مزے سے ڈپلیکیٹ چابی سے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔ اندھیرے میں اس نے امتسال کے روم کا اندازہ لگایا ۔۔۔۔۔
رات کے اس وقت اس لڑکی کو سرپرائز دینے کا سوچ کے اس کے لبوں پہ تلخ مسکراہٹ پھیل چکی تھی ۔۔۔۔۔
کتنا بھاگے گی ۔۔۔
ہر وقت بھاگنے کا بھوت سوار رہتا ہے اس پہ ۔۔۔
ابھی ہی وقت ہے اسے پکڑنے کا اور بہت زور کا جھٹکا دینے کا ۔۔۔۔۔۔
اس نے آہستگی سے عنازیہ کے کمرے کی طرف دیکھا ۔۔۔
لگتا ہے سو رہی ہے ۔۔
اس نے سوچا تھا ۔۔۔
جب تک وہ اپنا کام کرے گا ۔۔۔۔ عنازیہ اٹھ بھی گئی تو وہ اپنا سرپرائز پروگرام انجام دے چکا ہوگا ۔۔۔۔۔
پینٹ پاکٹ سے اس نے چھری نکالی تھی ۔۔۔
اور آہستگی سے وہ اس کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔
وہ مزے سے بیڈ پہ سو رہی تھی ۔۔۔
کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے اس کا چہرہ وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔
لیکن جانتا تھا وہی ہوگی ۔۔۔۔
وہ آہستہ سے اس کے بیڈ کے قریب گیا ۔۔۔
اس کی گردن پہ اپنے ہاتھ کی گرفت ڈالتے اس نے چھری اس کے چہرے کے قریب کی تھی ۔۔۔۔
شمائم کی آنکھ کھلی تھی ۔۔
ایک آدمی کو خود پہ جھکا دیکھ کے وہ چیخی تھی ۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
گاڑی گیٹ سے اندر داخل ہوئی ۔۔۔
تو گارڈ اس کی کار کے قریب آیا تھا ۔۔۔
” سلام سر “
عالیار خان کے نکلتے اسنے کہا تھا ۔۔
” وعلیکم السلام ۔۔۔ میڈم کہاں ہے ؟”
” سر جی ۔۔۔ ان کو میں نے اندر جانے کا کہا ۔۔ یہاں ڈسٹرب ہو رہی تھی “
اس نے جواب دیا تو عالیار بھی سر اثبات میں ہلاتا آفس کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
آفس میں ہر طرف خاموشی تھی ۔۔۔
وہ یونہی چلتا ہوا اپنے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔۔
لیکن وہ وہیں رک چکا تھا ۔۔۔۔۔
وہ وہیں صوفے پہ سو رہی تھی ۔۔۔۔
وہ چلتا ہوا اس کے پاس رکا تھا ۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پہ تھکن رقم تھی ۔۔۔
اس کے قریب ہی وہ نیچے بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔
اس کی بوجھل سانسوں کا شور بتا رہا تھا کہ وہ گہری نیند میں ہے ۔۔۔۔۔
اس کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا ۔۔۔
” مجھے بلا کے خود سو رہی ہے محترمہ ۔۔ “
انگلی کی پور سے اس کی پلکوں کو چھوتا وہ مسکرا رہا تھا ۔۔۔
دل میں منہ زور جذبے شور مچانے لگے تھے ۔۔۔۔
دل جیسے گستاخی پہ آمادہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھا ۔۔۔ اور سگریٹ جلا کے وہ کمرے میں ٹہلنے لگا ۔۔۔۔
سگریٹ پیتے وہ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
کمرے میں عنازیہ کی بوجھل سانسوں کا شور تھا ۔۔۔۔
وہ اب سٹپٹا کے پھر سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
اس کے سوئے ہوئے نازک وجود پہ اس کی نظر ٹھہر گئی تھی ۔۔۔
کتنے دکھ تھے اس نے ۔۔۔
اپنی فیملی کی اچانک دردناک موت کو سہنا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔۔۔۔
عالیار خان اس کیس کو ایک قابل پولیس آفیسر کے حوالے کر چکا تھا ۔۔۔ لیکن ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل پایا ۔۔۔ ان ظالموں کا ۔۔۔
ان قاتلوں کا ۔۔۔۔۔
‘ میں ان کے قاتلوں کو ڈھونڈ نکالوں گا اور تمہارے سامنے انہیں دردناک موت کے گھاٹ اتاروں گا عنازیہ ‘
اس کے کانوں میں اپنی ہی آواز گونجی تھی ۔۔۔
‘ تم قاتل ہو عالیار خان ۔۔۔ تم قاتل ہو ‘
اور عنازیہ کی وہ سرد آواز ۔۔۔۔
وہ کانپ ہی گیا ۔۔۔۔۔
اس کی نظریں اس کے وجود پہ تھی ۔۔۔۔
جب اچانک سے پہلو بدلتے وہ گرنے والی تھی ۔۔۔۔
عالیار نے آگے بڑھ کے اسے بانہوں میں بھر لیا تھا ۔۔۔
وہ لڑھک کے اس کی بانہوں میں گری تھی ۔۔۔۔
انگڑائی لیتی بوکھلا کے اسنے آنکھیں کھولی تھی ۔۔۔
اور عالیار کی بانہوں میں خود کو پا کے وہ پلکیں جھپکنا ہی بھول گئی ۔۔۔۔۔
اور یہی لمحہ تھا جب عالیار کو اپنا آپ بےبس ہوتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔
وہ اس کی لبوں پہ جھکا تھا ۔۔۔۔
اس کے نرم و نازک لبوں پہ عالیار نے اپنے تشنہ لب رکھے تھے ۔۔۔
اور بےاختیار سا اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ بھی اس لمحے کے زیر اثر تھی ۔۔۔
وہ بھول چکی تھی ۔۔
اس کی قربت میں سب بھول چکی تھی شاید ۔۔۔۔
جب بہکی سانسوں کے شور میں۔۔۔۔ بند پلکوں کے پیچھے وہ لمحہ آن رکا تھا ۔۔۔۔
رشنا کا عالیار پہ وہ جھکا ہوا بہکا وجود ۔۔۔۔
وہ بدک کے پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔۔
اسے دھکا دے کے وہ پیچھے ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
اپنے ہونٹوں کو ہاتھوں سے صاف کرنے لگی ۔۔۔ جیسے کوئی مکروہ چیز اس کے لبوں سے لگ گئی ہو ۔۔۔۔
عالیار نے ایک ٹھنڈی سانس بھری ۔۔۔
اور وہیں بیٹھ کے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
” یو ***** “
گالی سے نواز گئی تھی ۔۔۔
” ایبیوز نہیں کرو عنازیہ “
وہ اسے گھور رہا تھا ۔۔
” دوں گی ۔۔۔ کیا کر لوگے “
وہ اسے گھورتی دانت پیستی بولی تھی۔ ۔۔۔۔
” اب ایبیوزیو ورڈ یوز کیا ۔۔۔۔۔ تو “
وہ اسے گھورتے کہہ رہا تھا ۔۔
” تو کیا ؟”
وہ بھی عنازیہ تھی ۔۔۔ بےخوف ۔۔۔ نڈر ۔۔۔۔
” تم جانتی تو ہو ۔۔۔ ایک جھلک تو ابھی دیکھ بھی چکی ہو “
وہ اسے جتاتا بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ عنازیہ دانت پیستی رہ گئی ۔۔۔۔
اس میں اس کی بھی تو غلطی تھی ۔۔۔
وہ اس کے حصار کے زیر اثر جو ہو چکی تھی ۔۔۔۔
غصے سے تلملاتی وہ اٹھ کے صوفے پہ بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔
اپنے بکھرے بال سمیٹنے لگی ۔۔۔
” کھلے رکھو ناں “
اس کی بوجھل آواز ۔۔۔
عنازیہ نے گھور کے اسے دیکھا ۔۔۔
اور بڑے زور و شور سے پورے بالوں کا کس کے بن بنا گئی اوپر ۔۔۔
عالیار زیر لب مسکراتا اٹھا تھا ۔۔۔ اور اس کے پاس صوفے پہ بیٹھ گیا ۔۔۔
عنازیہ کھسک کے اس سے دور ہوئی تھی ۔۔۔۔
” تمیز سے بیٹھو تم “
ساتھ اسے گھوریوں سے بھی نوازا تھا ۔۔۔ اور وہ بھی مؤدب سا سر جھکا گیا ۔۔۔
” کچھ کہنے آئی تھی تم یا ۔۔۔ “
عنازیہ نے اسے دیکھا ۔۔
” یا یہ ایک بہانہ تھا مجھے دیکھنے کا “
وہ زیر لب مسکرا رہا تھا
” اوہ شٹ اپ “
وہ منہ بنا کے بولی تھی ۔۔۔
تو وہ چپ کر گیا ۔۔۔
عنازیہ اپنا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔
جبکہ عالیار اسے دیکھتے رہنے کا عمل جاری رکھے ہوئے تھا ۔۔۔۔
” شمائم کے بارے میں کچھ بتانے جا رہی میں ۔۔۔ بٹ پرامس می کہ غصہ نہیں کرو گے ۔۔۔ اور کول ڈاؤن رہو گے “
اس نے کہنا شروع کیا ۔۔۔۔ عالیار بھی سنجیدہ نظر آ رہا تھا اب ۔۔۔
اس نے گلا صاف کیا اور کچھ باتیں چھپا کے اس نے پوری کہانی عالیار کو سنائی تھی ۔۔۔۔۔ جو شمائم اسے بتا چکی تھی ۔۔۔
عالیار کے چہرے پہ سرد تاثرات ابھرے تھے اب ۔۔۔۔۔
” یہ ہیں اس کا نمبر ۔۔۔۔ ٹریس کرواؤ “
اس نے اپنا موبائل اس کی طرف بڑھایا ۔۔۔ جس میں وہ نمبر سیو کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
وہ پرسوچ نظروں سے اس نمبر کو دیکھتا رہا ۔۔۔ اور اپنے موبائل سے کوئی نمبر ملا کے کسی کو یہاں آنے کا کہنے لگا ۔۔۔۔
عنازیہ اس کے چہرے پہ پھیلے سرد تاثرات کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
آنکھوں میں اس کے تفکر بھی تھا ۔۔۔۔
وہ بےچین ہوئی تھی ۔۔۔۔
زبان سے کچھ نہیں۔ بولا تھا وہ ۔۔۔
لیکن اسکے اندر جو طوفان مچا ہوا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ اتنی بےخبر نہیں تھی اس سے کہ اس کی کیفیت نہ جان سکے ۔۔۔۔۔
اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پہ رکھا تھا ۔۔۔
عالیار نے چونک کے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
” شمائم میری بھی بہن ہے ۔۔۔ اسے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔ “
اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔۔
” لیپ ٹاپ کہاں ہے تمہارا ؟”
وہ اٹھتی ہوئی پوچھ رہی تھی ۔۔۔
” وہاں ٹیبل پہ ۔۔۔۔ “
وہ اثبات میں سر ہلاتی آگے بڑھی تھی ۔۔۔
عالیار نے ٹائم دیکھنے کے لئے اس کا موبائل اسکرین آن کیا تھا ۔۔۔
اور اسکرین پہ اپنی اور اس کی ایک ساتھ مسکراتی تصویر دیکھ کے چونکا تھا ۔۔۔
نظر اٹھا کے عنازیہ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
جو لیپ ٹاپ میں مصروف تھی ۔۔۔
اسے پاس ورڈ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا پاسورڈ کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔
اس نے آہستگی سے عنازیہ کے موبائل کا پاس ورڈ انٹر کیا تھا ۔۔۔
ALAN
اپنے اور اس کا نام کے پہلے دو حروف ۔۔۔۔
‘ اور پھر کہتی ہو ۔۔۔ نفرت کرتی ہوں تم سے عالیار ‘
وہ سر جھٹک گیا ۔۔۔
دروازے پہ دستک ہوئی تھی ۔۔۔
لگتا ہے ہیکر آ چکا تھا ۔۔۔۔
” کم ان ” کہہ کے وہ اب اس ہیکر کی طرف متوجہ تھا ۔۔۔۔
/««««««»»»»»›««««««««««««««
#Episode_4
Episode 4
وہ چیخ ہی پڑی تھی ۔۔۔۔
حدید تاشفین ۔۔۔۔ امتسال کی جگہ کسی دوسری لڑکی کو دیکھ کے بوکھلا کے پیچھے ہٹا تھا
اور جلدی سے لائٹ آن کر دی تھی ۔۔۔۔
روشنی ہوتے ہی وہ اس موم سی لڑکی کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
جو کانپ رہی تھی اور ساتھ میں گہرے سانس لے رہی تھی ۔۔۔۔
خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھا تھا
” ک ۔۔۔ کون ہو تم ؟”
اور پھر ساتھ ہی نظر اس کے ہاتھ میں موجود چھری پہ گئی تھی ۔۔۔
حدید نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کیا تھا ۔۔۔ اور چھری بھی پھینک دی تھی ۔۔۔
جبکہ شمائم خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” م۔۔۔ مجھے معاف کردو ۔۔۔ مجھے مت مارو ۔۔۔ م۔۔۔ میں نے کچھ نہیں۔ کیا ۔۔۔۔ میرا ۔۔۔ میرا پیچھا چھوڑ دو “
وہ چیخ رہی تھی جبکہ حدید بوکھلا گیا تھا ۔۔۔
” دیکھو ۔۔۔ دیکھو مس ۔۔۔۔ مت روئیے پلیز ۔۔۔ مس ۔۔۔ مس پلیز “
وہ اسے پرسکون ہونے کو کہہ رہا تھاجبکہ وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔
بیڈ کراؤن سے لگی خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” ع۔۔۔ عن۔۔۔ عنازیہ بھابی ۔۔۔۔۔ “
وہ روتی ہوئی اسے بلا رہی تھی ۔۔۔
حدید نے بوکھلا کے دروازے کی طرف دیکھا ۔۔۔ پھر اس لڑکی کو دیکھنے لگا ۔۔۔
” دیکھئیے ۔۔۔ آپ ۔۔۔ آپ مت روئیے پلیز ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ دیکھئیے میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے “
وہ اسے اپنے ہاتھ دکھانے لگا ۔۔۔
جبکہ وہ اب بھی خوفزدہ تھی ۔۔۔
بھیگی خوفزدہ آنکھیں ۔۔
” می ۔۔ میرا گلا دباؤ گے ۔۔۔۔ “
وہ روتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔
” ارے نہیں ۔۔۔۔۔ میں مرڈر تھوڑی کرتا “
وہ مسکرانے کی کوشش کرتا اس کے پاس بیڈ پہ بیٹھنے لگا ۔۔ جبکہ شمائم چیختی ہوئی بیڈ سے دوسری طرف اتری تھی ۔۔۔۔
حدید بھی بوکھلا گیا تھا ۔۔۔
” ارے آپ چیخ کیوں رہی ہے “
لیکن اس پہ کون سا اثر ہونا تھا ۔۔۔
وہ روئے جا رہی تھی ۔۔۔
حدید اسکے قریب آنے لگا ۔۔۔
وہ چیختی دیوار سے لگی تھی ۔۔۔
اس کے قریب آ کے اس کے منہ پہ اپنا ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔
” چیخ کیوں رہی ہے آپ ۔۔۔ بلاوجہ”
وہ چلایا تھا ۔۔۔۔
” چپ ۔۔۔ ایکدم چپ “
وہ اسے ڈانٹتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ بھیگی آنکھوں میں خوف لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
حدید پل بھر کے لئے ان آنکھوں میں جیسے ڈوب گیا تھا ۔۔۔۔
” امتسال کہاں ہے ؟”
وہ اب پوچھ رہا تھا
” آپ اس کے بیڈ پہ کیا کر رہی ہے “
شمائم نے اشارے سے اسے اپنے منہ سے ہاتھ ہٹانے کو کہا تھا ۔۔
” چیخے گی تو نہیں “
وہ اطمینان حاصل کر لینا چاہتا تھا ۔۔۔
اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
حدید نے ہاتھ ہٹا دیا تھا ۔۔۔
تو وہ اپنی سانس بحال کرنے لگی ۔۔۔ ۔
” میں امتسال کا بھائی ہوں ۔۔ چھوٹا بھائی حدید تاشفین ۔۔۔ “
وہ اپنا تعارف کرانے لگا
” اور آپ ؟”
وہ اب اس سے پوچھ رہا تھا
” میں ۔۔۔ میں وہ عناز۔۔۔ عنازیہ بھابی کی نند “
وہ ہکلاتے بولی تھی
” ارحان علی خان اور عالیار خان کی بہن “
وہ حیران ہوا تھا
” ارحان علی خان دی گریٹ پولیٹیشن ۔۔۔ تو آپ کیوں اتنی ڈرپوک ہے ؟”
وہ اسے نظر بھر کے دیکھتا پوچھ رہا تھا ۔۔۔
شمائم کو برا لگا تھا
” میں ڈرپوک نہیں ہوں ۔۔۔ آپ یوں میرے سر پہ کھڑے ہونگیں آدھی رات کو ۔۔۔۔ اس چھری کے ساتھ ۔۔۔ تو یہ سب ہوگا ۔۔۔ میں چیخوں گی ہی “
وہ برا مناتے بتا رہی تھی ۔۔
اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا تھا
” بات تو بڑے پتے کی کی ہے آپ نے ۔۔۔ “
شمائم نے اسے شاکی نظروں سے دیکھا
” نہیں مطلب ۔۔۔۔ “
جب اچانک فلیٹ کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی ۔۔۔
شمائم ڈر کے اسکے سینے سے جا لگی تھی ۔۔۔
” م۔۔۔ مجھے بچا لیں پ۔۔۔ پلیز “
حدید نے چونک کے اس سمٹی سی نازک لڑکی کو دیکھا اور پھر کمرے کے دروازے پہ نظر گئی ۔۔۔۔
” تم ۔۔۔ “
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
یادوں نے پھر دستک دی تھی ۔۔۔ اور ارحان علی خان بےچین ہوا تھا ۔۔۔۔
بےچینی سی پھیلی تھی پورے وجود میں ۔۔۔۔
آگے بڑھ کے اس نے ساری کھڑکیاں کھول دی تھی ۔۔۔
ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے اس کے چہرے کو چھوا تھا ۔۔۔
لیکن بےچینی اور بڑھی تھی ۔۔۔۔
جایشا کی بےچین کر دینے والی یادیں اس کے حواسوں پہ چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔
کوئی رات ۔۔
کوئی لمحہ ایسا نہ تھا ۔۔
جب اس کی یاد نے دستک نہ دی ہو ۔۔۔
اور وہ بےچین نہ ہوا ہو ۔۔۔۔
اس نے سگریٹ جلائی تھی ۔۔۔
اور اب سگریٹ کے کش پہ کش لینے لگا ۔۔۔۔
گاڑی پہ فائرنگ ہوئی تھی ۔۔
اور جایشا کا نازک وجود ان گولیوں کی زد میں آیا تھا ۔۔۔
اسے بچانے کی کوشش میں اسے بھی گولیاں لگی تھی ۔۔۔
جایشا پریگننٹ تھی ۔۔۔
وہ وہیں دم توڑ گئی ۔۔۔
ان کا بچہ بھی نہیں رہا تھا ۔۔۔
اور
وہ خود بچ گیا تھا ۔۔۔۔
کیوں بچا تھا ؟؟؟
یہ سوال ہر رات نئے سرے سے اسے اذیت دیتا ۔۔۔
اس نے سگریٹ دور پھینک دیا تھا ۔۔۔
یادوں نے دستک دی ۔۔
تو
آنکھیں بھی نم ہوئی تھی ۔۔۔
سرخ آنکھیں بہنے کے لئے ےتاب تھی ۔۔۔۔
اور
وہ وہیں نیچے بیٹھ کے رونے لگا ۔۔۔
ملک کا کامیاب پولیٹیشن ۔۔۔ ۔
جس کی بہادری کی مثالیں دی جاتی ہے ۔۔۔
سب اسے مضبوط اعصاب کا مرد سمجھتے ہیں۔ ۔۔۔
جس کی شخصیت دیکھ دیکھ کے لڑکیاں آہ بھرتی ہے ۔۔۔۔
وہ مضبوط مرد ۔۔۔
ابھی اس تنہا کمرے میں ۔۔۔
رات کے اس پہر ۔۔
تنہا ۔۔۔اکیلا رو رہا تھا ۔۔۔۔
درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔
اذیت تھی کہ اس پہ حاوی ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔
وہ نڈھال سا رو رہا تھا ۔۔۔
جایشا کے لئے ۔۔۔
جایشا علی خان کے لئے ۔۔
جو شاید اتنی ہی زندگی اپنے نصیب میں لکھ کے آئی تھی ۔۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اس کی آنکھ کھلی تو خود کو عالیار کے سینے پہ سر رکھے پایا تھا ۔۔۔۔ ۔گھڑی پہ نظر پڑی صبح کے نو بج رہے تھے ۔۔۔
وہ بوکھلا کے اٹھی ہی تھی ۔۔۔۔۔۔ جب اسکے بال عالیار کی شرٹ کے بٹن میں پھنسا ہونے کی وجہ سے وہ اگین اس کے اوپر گری تھی ۔۔۔ ۔ساتھ میں ہلکی چیخ بھی نکلی تھی ۔۔۔ ۔
عالیار آنکھیں کھول کے اسے دیکھنے لگا ۔۔ ۔
” تم ہر وقت مجھ پہ گرتی کیوں رہتی ہو “
وہ جو درد سے بلبلا کے اپنے بال اس کی شرٹ کے بٹن سے الگ کر رہی تھی ۔۔۔
اس کی بات پہ سرخ پڑ گئی تھی ۔۔۔۔
منہ کھولا ہی تھا ۔۔۔
جب عالیار نے اسے روکا
” نہ نہ ۔۔ گالی نہیں دینا ورنہ تمہاری زبان سے ہی چرا لوں گا ۔۔۔۔۔ “
وہ اسے آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔
” تیری تو ۔۔۔ “
وہ غصے سے تلملاتی اٹھی تھی ۔۔۔
ساتھ میں بال بھی کھینچے تھے ۔۔۔۔
کچھ بال ٹوٹ کے وہیں اٹک گئے تھے ۔۔۔۔
اور وہ اپنا بالوں کا جوڑا بناتی بڑبڑا رہی تھی ۔۔۔۔
” کیا کہہ رہی ہو سنائی نہیں دے رہا ۔۔۔ اونچا بولو ۔۔۔ “
وہ اطمینان سے اسے دیکھتا کہہ رہا تھا ۔۔۔
عنازیہ نے دانت پیس کے اس خوبرو بندے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
پھر اس کا لیپ ٹاپ اٹھا کے بولی ۔۔
” میں کہہ رہی کہ میں تمہارا لیپ ٹاپ لے جارہی “
” اور مجھے ؟”
وہ نظر بھر کے اسے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔
اپنا موبائل اٹھا کے ۔۔۔ چیک کرتی وہ دروازے تک آئی تھی ۔۔۔
” اچھا سنو “
رخ موڑ کے اس نے عالیار کو دیکھا تھا ۔۔۔
وہ اسے ہی دیکھنے لگا زیر لب مسکراتا ۔۔۔۔
لیکن عنازیہ کے اگلے جملے پہ اسنے لب بھینچ لیے تھے ۔۔۔ اور وہ مسکراتی ہوئی باہر نکلی تھی ۔۔۔
وہیں باہر سے ۔۔۔ شیشے کے پار اسے مڈل فینگر دکھا کے وہ جا چکی تھی ۔۔۔
عالیار تلملا کے رہ گیا ۔۔۔
لیکن سر جھٹک کے مسکرا پڑا ۔۔۔
یہی انداز تو پسند تھا اس کا عالیار کو ۔۔
کچھ بھی بول دینے والی ۔۔۔
اور کانوں کو ہاتھ لگانے والی صاف ستھری گالیاں ۔۔۔
آفس پہنچ کے اس نے اپنا تیار کیا ہوئے رپورٹ پہ ایک نظر ڈالی ۔۔۔۔
کچھ چیزیں تصحیح کی ۔۔۔
اور پھر شام کی نیوز پیپرز کی سرخی کے لئے رپورٹ تیار تھی ۔۔۔۔
” اب آئے گا مزا ۔۔۔ جب کھلے گا راز ان کا “
اس کا دھیان اس ہاسٹل کی وارڈن کی طرف گیا تھا ۔۔۔۔
” اس کو تو کرتی ہوں ابھی میں ٹھیک “
دانت پیستے اس نے کہا تھا جب خیام اندر آیا تھا ۔۔۔۔ اسے دیکھ کے عنازیہ نے لیپ ٹاپ بند کر دیا تھا ۔۔۔
زیادہ قابلِ اعتماد بندہ اسے تو یہ لگتا نہیں تھا ۔۔۔۔
” گڈ مارننگ مس عنازیہ “
” گڈ مارننگ “
جواباً وہ بھی مسکرائی تھی ۔۔۔۔ ۔خیام سامنے پڑی کرسی پہ بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔
“کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ “
” ایک گرلز ہاسٹل ہے جہاں بہت گندی حرکتیں ہوتی ہے لڑکیوں کے ساتھ ۔۔۔ اور وہاں کی وارڈن بھی ان سب کے ساتھ ملی ہوئی ہے ۔۔۔ “
وہ بتا رہی تھی ۔۔
خیام کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تھا ۔۔
” اچھا ؟”
خود کو نارمل کرتے وہ بولا تھا ۔۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ چلو دونوں چلتے ہیں ۔۔۔ دیکھتے ہیں کیا ہو رہا ہے وہاں۔ ۔۔۔
کون ہے یہ وارڈن “
وہ خیام سے کہہ رہی تھی ۔۔۔ ۔اور ساتھ میں اٹھنے لگی ۔۔
خیام۔اسے دیکھنے لگا
” ارے کدھر جا رہی ہو ۔۔۔ تم کوئی پولیس تھوڑی ہو جو ان کاموں میں ہاتھ ڈال رہی ہو اپنا ۔۔۔ “
وہ اسے روکنے کے لئے بولا تھا ۔۔۔
” میں انسان ہوں خیام۔ ۔۔ ایک عورت ہوں ۔۔۔۔ کیسے دیکھ سکتی ان معصوم لڑکیوں کو ۔۔۔۔ کیا کچھ ہو رہا ہے وہاں ۔۔۔ تمہیں۔ کچھ خبر بھی ہے ۔۔۔۔ اس وارڈن کو پولیس کے حوالے کر کے اس سے اس کی ساری باتیں نکلواؤں گی “
وہ دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔
خیام ایسے ہی بیٹھا رہا ۔۔
” چل رہے ہو کہ نہیں ؟”
وہ اسے یونہی بیٹھا دیکھ کے رکی تھی ۔۔۔
تو وہ ایکدم سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا
” ہاں۔ ۔ ہاں چلتے ہیں پھر ۔۔۔ میں اپنے کیبن سے اپنا سیل اور کیز لے کے آتا ہوں “
کہہ کے وہ اس کے نکلنے سے پہلے ہی اپنے کیبن کی طرف جانے لگا ۔۔۔۔ جبکہ عنازیہ اس کی پشت دیکھتی باہر کی طرف چل پڑی تھی ۔۔۔
«««««««««««»»»»»»»»»»»»
ان کے موبائل ۔۔۔
ان کے لیپ ٹاپ ۔۔
سب ہیک کر چکا تھا وہ ہیکر ۔۔
جو جو نمبر اس کو دیے تھے عالیار نے ۔۔۔
سب کو ٹریس کر کے وہ مہارت سے ہیک کرتا گیا ۔۔۔
اور سارا ڈیٹا اسکے پاس آتا گیا ۔۔۔
جسے وہ ایک ہی بٹن پش کرنے سے ڈیلیٹ کرتا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
کام ختم کر کے اس نے عالیار کو دیکھا تھا ۔۔۔
” سر کام ختم ہو چکا ۔۔۔ “
سر اثبات میں ہلا کے ۔۔۔
اسے بھاری رقم دے کے ۔۔۔۔
اسے بھیج چکا تھا واپس۔ ۔۔۔
اور
ابھی صبح عنازیہ کے جانے کے بعد وہ دیر تک بیٹھا سوچوں میں گم رہا تھا ۔۔۔
اگر وہ ویڈیوز لیک ہو جاتی ۔۔۔
اگر وہ تصاویر لیک ہو جاتی ۔۔۔۔
اس نے جھرجھری لی تھی ۔۔۔
اس نے نہ ویڈیوز دیکھی تھی ۔۔۔
نہ تصاویر ۔۔
عنازیہ نے اسے سختی سے منع کیا تھا ۔۔
پرامس بھی لیا تھا اور وہ مان گیا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن اب ایک ہی بات سوچ رہا تھا
شمائم اتنی نادان اور بےوقوف کیسے ہو سکتی ہے ۔۔
کہ کوئی بھی اسے کچھ بھی پلا دے ۔۔۔
وہ پی لیں گی ۔۔۔
کب بڑی ہوگی وہ ۔۔
کب ہوگی سمجھدار ۔۔۔۔
اگر وہ عنازیہ کے پاس نہ جاتی ۔۔
اگر عنازیہ سے اس کا سامنا نہ ہوتا ۔۔۔
تو ؟؟؟؟
تو سب وائرل ہو جاتا ۔۔۔
اور
سب ختم ہو جاتا ۔۔۔
پوری فیملی برباد ہو جاتی۔۔۔
اس نے آنکھیں موند کے گہرا سانس لیا تھا ۔۔۔۔۔
” عالیار ۔۔۔۔ “
آواز پہ اس نے آنکھیں کھولی تھی ۔۔۔ اور سامنے رشنا کو دیکھ کے اس کے چہرے پہ ناگواری پھیلی تھی ۔۔۔۔۔۔۔