From Hell to High Malayeka Rafi NovelM80037 Last updated: 4 December 2025
From Hell to High
Malayeka Rafi NovelM80037
Novel Code: NovelM80037
اسکے انگلیوں کی سرسراہٹ اسے اپنی پشت پہ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ اس کے پرحدت لبوں کا لمس عنازیہ کو اپنی گردن پہ محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ وہ جھٹکے سے مڑی تھی ۔۔۔ لیکن ہر طرف لاشیں تھیں ۔۔۔۔ اس کے اپنوں کی لاشیں ۔۔۔ اس کے پاپا کی خون میں لٹ پر باڈی ۔۔۔ اس کے مما کی تڑپتی باڈی ۔۔۔ اس کے بھائی کا مردہ جسم اور اس کی چھوٹی بہن کی برہنہ لاش ۔۔۔ وہ آنسو آنکھوں میں لیے ان سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جنہیں وہ کھو چکی تھی ۔۔۔ اور بلکل اچانک وہ سامنے آ گیا تھا ۔۔ " عالیار خان" وہ ایکدم سے چیخ کے اٹھی تھی ۔۔۔ پورا جسم پسینے سے نہایا ہوا تھا ۔۔۔ چہرے پہ پسینے کی ننھی ننھی بوندیں تھی ۔۔۔ اور دل کانپ رہا تھا ۔۔۔۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا وہ اپنے کمرے میں تھی ۔۔۔۔ دوسرے کمرے سے امتسال بھاگتی ہوئی آئی تھی ۔۔۔ " عنازیہ ٹھیک ہو تم ؟" وہ خوفزدہ آنکھوں سے امتسال کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر رونے لگ گئی ۔۔۔ " کیسے زندہ گھوم رہا ہے میرے اپنوں کا قاتل ۔۔۔۔۔ کیسے " وہ اپنے بال مٹھیوں میں پکڑ کے چلائی تھی ۔۔۔۔۔ امتسال نے اسے ایسا کرنے سے روکا تھا ۔۔۔۔ " ریلیکس عنازیہ مل جائے گا قاتل ۔۔۔ عالیار نے کہا تو ہے کہ ڈھونڈ نکالے گو اسے " " جھوٹ بولتا ہے وہ ۔۔۔ جھوٹا ہے وہ ۔۔۔ مجھے تکلیف دیتا ہے وہ " وہ چیخی تھی ۔۔۔ " جو شخص تم سے اتنی محبت کرتا ہے عنازیہ کہ تمہیں چوٹ تک لگے وہ تڑپتا ہے ۔۔۔۔۔ پھر کیسے وہ تکلیف دےسکتا ہے تمہیں ؟ حقیقت جلد کھل کے سامنے آ جائے گی " امتسال پرسوچ نظروں سے اپنی دوست کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ کافی عرصے سے وہ دونوں ایک ساتھ اس فلیٹ میں رہتی تھی ۔۔۔۔ جب سے عنازیہ ۔۔۔ عالیار خان سے الگ ہوئی تھی اور طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی ۔۔۔ تب سے وہ یہی تھی۔ ۔۔ وہ نفرت کرتی تھی عالیار خان سے اور اسے ہمیشہ یہی لگتا کہ عالیار کو اس سے کھبی محبت نہیں ہوئی وہ بس اس کے ساتھ تھا ۔۔۔ اس کے لئے سب رشنا ہی ہے جس کے ساتھ اس نے عالیار کو رنگے ہاتھوں پکڑا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن امتسال کو ایسا نہیں لگتا تھا ۔۔۔ جو شخص پولیٹیکس میں ہوتے ہوئے بھی اتنی شدت کی محبت کرتا ہو اپنی بیوی سے ۔۔۔۔ وہ کیسے ایسا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔ جبکہ عنازیہ یہی سمجھ رہی تھی ۔۔۔ کہ اس سے بےانتہا محبت کی سزا کاٹ رہی ہے وہ اب ۔۔۔۔۔ عنازیہ ایک جرنلسٹ تھی ۔۔۔ ایک کانفرنس میں دونوں کا سامنا ہوا تھا ۔۔۔ اور پھر محبت ۔۔۔ شادی ۔۔۔۔ جنون کی حد تک عشق ۔۔۔ اور پھر سب ختم ۔۔۔۔ عنازیہ اسے اپنی وحشت زدہ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ " مجھ سے زیادہ تمہیں اس سے ہمدردی ہے ۔۔۔۔ " امتسال نے افسوس سے اسے دیکھا ۔۔ اور پھر اسے گلے لگا لیا ۔۔۔ " میں یہ نہیں کہتی کہ تم بری ہو ۔۔۔ لیکن عنازیہ کچھ تو ہے ۔۔۔ کوئی ایسا پہلو ضرور ہے جو ہمیں نظر نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔ اور مجھے وہ ڈھونڈنا ہے " " تم بس عالیار خان کو بےقصور پروف کرنا چاہتی ہو ۔۔۔ " وہ امتسال کو گھور رہی تھی ۔۔۔ " اور تم عالیار خان کو قصوروار " امتسال نے بھی دوبدو جواب دیا تھا ۔۔۔۔ عنازیہ اس سے الگ ہو کے بیڈ پہ گرتے منہ پہ تکیہ رکھ لیا ۔۔۔۔ " گڈ نائٹ " امتسال تاسف سے سر ہلا گئی ۔۔۔اور اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف چل پڑی ۔۔۔
SUMMARY
Anaziya’s nights are no longer her own — they belong to her nightmares.
Nightmares filled with blood, screams, and the lifeless bodies of the family she once adored. The face that haunts her dreams, the man she believes destroyed her entire world, is the same man she once loved: Aalaayar Khan.
A powerful politician.
Her ex-husband.
Her biggest fear.
Broken, traumatized, and desperate for justice, Anaziya struggles to survive her memories while hiding in a small apartment with her only support — her best friend, Umtisal. But the deeper Umtisal digs, the more she senses a truth Anaziya refuses to see.
Because love doesn’t disappear this easily.
And monsters don’t bleed when you’re hurt… unless they’re not monsters at all.
Was Aalaayar truly the killer who murdered her entire family?
Or is the real enemy still hidden in the shadows, watching... waiting?
A story of trauma, obsession, political power, misunderstood love, and a truth that has the power to destroy them both.
GENRE
-
Dark Romance
-
Psychological Drama
-
Political Thriller
-
Mystery & Suspense
-
Trauma & Healing
-
Enemies-to-Lovers (Broken Marriage Trope)