
From Hell to High Malayeka Rafi NovelM80037 Episode 22 23 & 24
Episode 22 23 & 24
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Episode 22
” گڈ نیوز فار یو ۔۔۔ “
عنازیہ جو جلدی جلدی ناشتہ کر رہی تھی ۔۔
اسے آفس کے لئے نکلنا تھا ۔۔
جب عالیار اس کے پاس بیٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔
عنازیہ کے ساتھ رواحہ اور شمائم بھی متوجہ ہوئی تھیں ۔۔
” کیا ؟”
وہ سوالیہ نظروں سے عالیار کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” محتسب پکڑا گیا ۔۔۔
گرلز ہاسٹل میں ہونے والے حادثات کے گینگ کا امپورٹنٹ بندہ “
عالیار نے مسکراتے ہوئے بتایا ۔۔
” رئیلی؟؟
واؤ “
عنازیہ کے چہرے پہ خوشی پھیلی تھی ۔۔۔
” یس ۔۔
ابھی معارج کی کال آئی تھی ۔۔۔
لیکن اتنا ٹارچر ہونے کے بعد بھی اس نے اپنی زبان نہیں کھولی ۔۔۔۔ “
عالیار کی بات پہ اسکے ہونٹ سکڑ گئے ۔۔۔
” آبان سکندر تک پہنچا دے وہ ہمیں ۔۔۔ “
عنازیہ نے دانت پیستے کہا تھا ۔۔
” ہو جائے گا وہ بھی ۔۔۔ انشا اللہ “
عالیار نے اسے تسلی دی ۔۔۔
شمائم جو انھیں ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کہنے لگی ۔۔
” اس کے چہرے پہ ماسک ہوتا ہے ۔۔ اسے کوئی نہیں پہچانتا “
عنازیہ اور عالیار نے اسے دیکھا ۔۔
” وہ ماسک بھی اتر جائے گا اس کا ۔۔۔ “
اسے اچانک سے اس ماسک کے پیچھے ۔۔۔
وہ آنکھیں یاد آئی تھی ۔۔۔۔
اپنی گردن پہ اسکی سانسوں کی تپش محسوس ہوئی تھی۔ ۔۔
” عنزا ؟؟”
عنازیہ نے چونک کے عالیار کو دیکھا ۔۔
” آڑ یو اوکے “
وہ پوچھ رہا تھا ۔۔
عنازیہ غائب دماغی سے سر اثبات میں ہلانے لگی ۔۔۔۔
” میں چلتی ہوں آفس”
وہ اپنا بیگ لے کے اٹھنے لگی ۔۔
” میں چھوڑنے جاؤں تمہیں۔ آفس ؟”
عالیار اس کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔
” نہیں ۔۔ میں خود چلی جاؤں گی “
وہ مسکرانے کی کوشش کرتی بولی تھی ۔۔۔
اور پھر چلی گئی ۔۔۔
عالیار وہیں بیٹھ گیا ۔۔۔
” ناشتہ ہی کر لیتے ہیں ۔۔ “
شمائم نے ناشتہ اس کی طرف بڑھایا تھا ۔۔
لیکن اس کو ذہن عنازیہ کے چہرے پہ پھیلے تفکرات میں الجھا ہوا تھا ۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” حدید جاگ رہے ہو ؟”
امتسال اس کے کمرے میں آئی تھی ۔
وہ یونیورسٹی کے لئے تیار ہو رہا تھا ۔۔
” جی ۔۔۔ “
” ایک بات کہنی تھی مجھے تم سے “
وہ ہچکچا رہی تھی ۔۔
” کہئیے ۔۔ “
وہ اپنے نوٹس ٹھیک کرتے بولا تھا ۔۔
” حدید ۔۔۔ ان سے ایک بار بات کر لیتے تو اچھا تھا “
اس نے نرمی سے کہا تھا ۔۔
حدید نے لب بھینچ لیے تھے ۔۔۔
امتسال اس کے چہرے پہ پھیلی سنجیدگی کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” حدید ۔۔۔ “
” سن رہا ہوں “
اس کا لہجہ سرد تھا ۔۔۔
” حدید ۔۔ رات کو وہ بہت ٹوٹے ہوئے لگ رہے تھے ۔۔۔
جیسے بہت تھک چکے ہو ۔۔۔
میں نے ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے “
” اور ہمارے آنسو ؟”
حدید نے سر اٹھا کے اچانک کہا تھا ۔۔ ۔
امتسال نظریں چرا گئی ۔۔۔
” ایمی ۔۔ ہمارے آنسو بےوقعت تھے ؟؟
ہم بھی روئے تھے ناں ۔۔
ٹوٹے ہم بھی تھے ۔۔
تھک گئے تھے ہم اپنی زندگی سے لڑتے لڑتے ۔۔
کبھی بھی ۔۔۔
کبھی بھی ۔۔ ایک پل کے لئے بھی ۔۔
انھوں نے سوچا تھا کہ ہم کس حال میں ہیں ؟؟
آ کے پوچھا تھا کہ ہمیں کیا چاہئیے ؟؟
بس پیسہ لٹاتے رہے ۔۔۔
میرے سامنے اس شخص کی وکالت نہ ہی کرے تو بہترہے “
امتسال کو دکھ ہو رہا تھا ۔۔۔
ایسے صبح صبح ناحق اپنے بھائی کا موڈ آف کر دیا ۔۔۔
حدید سر جھٹک کے باہر نکلا تھا ۔۔
” ناشتہ کر لو”
امتسال اس کے پیچھے آئی تھی ۔۔
” بھوک نہیں ہے “
کہہ کے وہ اپنے شوز پہننے لگا ۔۔
” بھوکے پیٹ نکلو گے اب گھر سے “
امتسال دکھی ہو رہی تھی ۔۔
” کہا ناں بھوک نہیں ہے “
کہہ کے حدید گھر سے نکلا تھا ۔۔۔
امتسال بجھے دل کے ساتھ ۔۔
ڈایینگ ٹیبل پہ آ کے بیٹھی تھی ۔۔
کیا ضرورت تھی یوں صبح صبح اس کا موڈ خراب کرنے کی ۔۔
وہ خود کو کوسنے لگی ۔۔۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھلا تھا ۔۔
امتسال نے دیکھنے کی کوشش کی ۔۔۔
حدید تھا ۔۔
وہ وہیں آ کے بیٹھ گیا تھا ۔۔
” لائیے دیں ناشتہ”
روٹھا روٹھا سا لہجہ ۔۔
امتسال آنکھوں میں آنسو لیے مسکرا پڑی تھی ۔۔۔ ۔
اثبات میں سر ہلاتی وہ اس کا ناشتہ بنانے لگی ۔۔۔۔
جبکہ حدید لب بھینچے نارمل ہونے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
خیام بےچینی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا ۔۔
آبان سکندر صوفے پہ بیٹھا ۔۔
ٹانگ پہ ٹانگ رکھے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” اگر محتسب نے منہ کھول دیا تو ؟؟؟”
خیام اپنا خدشہ ظاہر کر رہا تھا ۔۔
” یہ سب فساد کرنے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا ۔۔۔ “
آبان کا لہجہ پرسکون تھا ۔۔
خیام نے گھور کے اسے دیکھا ۔۔
” تیرا بھی نام آئے گا بیچ میں ۔۔
آبان سکندر ۔۔۔
عنازیہ بس آبان سکندر کا نام سنتی ا رہی ہے اور
وہ آبان سکندر کو ہی جانتی ہے ۔۔ “
آبان سکندر نے کندھے اچکائے تھے ۔۔
” آئی لائک ہر اسٹائل ۔۔۔
مجھے ڈھونڈے گی ۔۔
ڈھونڈتی رہ جائے گی ۔۔
میں تو نہیں مل پاؤں گا اسے ۔۔
تیرا کچھ کہہ نہیں سکتا ۔۔
خیام انوار کو تو وہ اچھے سے جانتی ہے ۔۔
نام بھی اور شخصیت بھی ۔۔۔ “
وہ پرسکون انداز میں بیٹھا تھا ۔۔
خیام وہیں سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔۔
” اوہ یار ۔۔ کیا کروں میں ۔۔
ملنے بھی تو نہیں جا سکتا ۔۔۔
پوچھے گیں ۔۔
تمہیں کیوں ملنا ہے اس سے “
آبان سکندر گہرا مسکرایا تھا ۔۔
” ٹک ٹاک ۔۔ ٹک ٹاک ۔۔۔ ٹک ٹاک “
خیام نے گھور کے اسے دیکھا
” کیا کر رہا تو ؟”
” کاؤنٹ کر رہا ۔۔
تیرا ٹائم بھی تو آنے والا ہے ناں ۔۔ “
آبان زیر لب مسکراتا بولا تھا ۔۔
” شٹ اپ “
خیام غرایا تھا ۔۔
” یو شٹ اپ “
آبان اسے کہہ کے ۔۔
آنکھیں موندے اب گہری سانس لے رہا تھا ۔۔۔
اپنا سینہ مسلتے اس نے سر اٹھا کے ادھر ادھر نظر دوڑائی ۔۔
تھوڑا سا آگے ہو کے ۔۔
ٹیبل سے سگریٹ اور لائٹر لے کے ۔۔
وہ جلانے لگا ۔۔
خیام سر تھامے بیٹھا ہوا تھا ۔۔
جبکہ وہ سگریٹ لبوں سے لگا چکا ۔۔
سر پھر سے صوفے کی پشت پہ ٹکا کے ۔۔
آنکھیں موندے اب اس کے نشے سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔۔
” نشہ ۔۔۔ نشہ ۔۔۔نشہ “
اس نے گہرا سانس لیا ۔۔
” ہر دکھ کا مداوا ۔۔
ہر اذیت کی دوا ۔۔
ہر درد کا سکون ۔۔۔ “
وہ دھیرے دھیرے ۔۔
بھاری ۔۔۔
بوجھل آواز میں کہہ رہا تھا ۔۔۔
” ول یو میری می عین ؟”
” نو ۔۔۔ “
تمسخر اڑاتا لہجہ ۔۔
مذاق اڑاتا چہرہ ۔۔
” آئی رئیلی لو یو عالیار ۔۔۔ “
اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دی تھی ۔۔۔۔
آوازیں ۔۔۔۔
ماضی ۔۔
حال۔۔۔
اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی کھبی ۔۔
” آحان ۔۔۔ آحان رکو ناں ۔۔۔ “
دور کہیں سے آواز آئی تھی ۔۔
اس کا بازو تھامے وہ مسکرا رہی تھی ۔۔۔
آبان نے اپنے ہاتھ کو دیکھا ۔۔۔
جہاں اس کا لمس تھا ۔۔
” عین ۔۔۔ “
” آحان کی عین بولو ناں “
کھلکھلاتی ہوئی آواز ۔۔۔
نرم سے نگاہیں ۔۔
مسکراتی آنکھیں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ٹوٹا تھا ۔۔
بکھرا تھا ۔۔
اندر سے چھن چھن کی آوازیں آ رہی تھی ۔۔
دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔
آنکھیں بھیگ گئی تھی ۔۔
سرخی مائل گرے آنکھوں میں درد ہلکورے لے رہا تھا ۔۔
آنسو ٹوٹ کے گر رہے تھے ۔۔۔
ہاتھوں میں ارتعاش سا ہوا تھا ۔۔
خاموشی تھی کمرے میں ۔۔
مکمل خاموشی۔۔۔
پن ڈراپ سائلنس ۔۔
لیکن
اس وجود کے اندر بربادی ہو رہی تھی ۔۔
کوئی چیخ رہا تھا ۔۔۔
درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔
بےچینی سرایت کر رہی تھی ۔۔۔
” کیوں ؟؟؟ کیوں ؟؟ “
سوال تھے ۔۔
جواب کوئی نہیں ۔۔
سوال پوچھنے تھے ۔۔
اسے سامنے بٹھا کے ۔۔
اس سے سوال کرنے تھے ۔۔
بہت سے سوال ۔۔
جن کا جواب جھوٹ بھی ہو ۔۔
اسے سننا تھا ۔۔
سچ سننا تھا ۔۔
اس نے سگریٹ اپنی مٹھی میں مسلی تھی ۔۔۔
” تمہیں میرے ہر سوال کا جواب دینا ہوگا عنازیہ خان ۔۔۔ “
وہ اندر ہی اندر پلان بنا چکا تھا ۔۔
کہ اسے کیا کرنا ہے ۔۔
آنکھیں سرد تھی ۔۔
بلکل سرد ۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ول یو میری می عین ؟؟”
وہ اپنی خوبصورت آنکھیں ۔۔۔
اس کے چہرے پہ جمائے ۔۔۔
سوال کر رہا تھا ۔۔۔
سب انھیں ہی دیکھ رہے تھے ۔۔
آذر بھی وہیں تھا ۔۔
عنازیہ نے مسکرا کے ان آنکھوں میں دیکھا تھا ۔۔
ایک پل کو دل چاہا ۔۔
آگے بڑھ کے ان آنکھوں پہ اپنے لب رکھ دیں ۔۔
اور کہے ۔۔
ہاں ۔۔ ہاں ۔۔ ہاں
قبول ہو ۔۔ قبول ہو ۔۔ قبول ہو ۔۔
لیکن پھر شرارت سوجھی تھی ۔۔
” نو ۔۔۔ “
اس نے کہا تھا
اور منہ موڑ کے وہاں سے جارہی تھی ۔۔
آحان کے چہرے پہ سایہ سا گزر کے معدوم ہوا تھا ۔۔۔
دل ڈوب رہا تھا ۔۔۔
آنکھیں ساکت ہو رہی تھی ۔۔۔
تو کیا ؟؟
کیا میں مذاق تھا اس کے لئے ۔۔ ؟؟
کیا آذر سچ کہہ رہا تھا ؟؟؟
دھندلا گئے تھے منظر ۔۔
بےیقینی سی تھی آنکھوں میں ۔۔
” اوہ لوزر ۔۔ “
” احان از آ لوزر “
” ایک مافیا ۔۔ ایک ڈرگ ڈیلر کے بیٹے سے کون شادی کرنا چاہے گی “
” عزت دار گھر کی لڑکیاں تو بلکل بھی نہیں “
” عنازیہ اسکا مذاق بنا رہی تھی ۔۔ آئی کانٹ بلیو یار “
” میں کر رہی شادی اس سے ۔۔ کتنا کیوٹ ہے ۔۔ “
” ڈونٹ بی ۔۔ وہ ابھی ہرٹ ہے عنازیہ دھوکہ دے گئی ۔۔ “
اور ایسی بہت سی اور باتیں ۔۔
لیکن عین سے یہ امید تو نہ تھی ۔۔
وہ ایسا کرے گی اس کے ساتھ ۔۔
کیوں ؟؟
پیار میں تو کوئی کمی نہیں رہ گئی تھی ۔۔
بن موت مار دیا ہے ۔۔
کیسے رہ پاؤں گا ۔۔
سب کچھ نہ کچھ کہہ رہے تھے ۔۔
وہ سن رہا تھا ۔۔
سب کی باتیں سن رہا تھا ۔۔
لیکن
کہنے کے لئے الفاظ نہیں تھے ۔۔
کچھ نہیں تھا ۔۔
وہ پلٹا تھا ۔۔
اور پھر پلٹ کے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ جا چکا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
” آحان کیوں نہیں آیا ۔۔۔ ناراض تو نہیں ہو گیا ۔۔
عنازیہ تو بھی ناں ۔۔
جا کے کہہ اسے کہ تو اس سے شادی کر رہی ہے ۔۔
تنگ نہ کر ۔۔ “
یہ خیال آتے ہی وہ پیچھے مڑی تھی ۔۔
اور بھاگتی ہوئی وہاں تک گئی تھی ۔۔
جہاں کچھ دیر پہلے آحان اسے پروپوز کر رہا تھا ۔۔
لیکن وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔
وہ ہر طرف دیکھنے لگی ۔۔
سب ادھر ادھر ہو چکے تھے ۔۔
اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے ۔۔
” آحان ۔۔۔ آحان کہاں ہے ؟”
وہ پوچھ رہی تھی کسی سے ۔۔
” وہ تو چلا گیا “
کوئی بتا رہا تھا ۔۔
” کہاں ؟”
” پتہ نہیں ۔۔ یونی گیٹ سے باہر جا رہا تھا “
وہ یونیورسٹی گیٹ تک گئی ۔۔
وہاں بھی نہیں تھا ۔۔
روڈ کراس کر کے وہ کافی آگے تک گئی ۔۔
کہیں نہیں تھا آحان ۔۔
دھندلا سا منظر تھا ۔۔
” آحان “
بےچین آواز ۔۔
وہ وہیں گر گئی ۔۔
بےجان ہوتی ٹانگوں کے ساتھ ۔۔
” آحان “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اس نے ایک رپورٹ بنائی تھی ۔۔
اور ارحان علی خان کی وجہ سے وہ رپورٹ ایپروو بھی ہو گئ تھی ۔۔
جس میں ان تمام لڑکیوں کو جو گرلز ہاسٹل میں تھیں ۔۔
جنہیں خطرہ تھا ۔۔
ان سب کو عنازیہ کڑی سیکیورٹی کے تحت کسی اور جگہ شفٹ کر دیا تھا ۔۔۔
ان کے لئے جگہ کا انتظام عنازیہ کے نگرانی میں ہوا تھا ۔۔
پولیس اہلکار وہاں چوبیس گھنٹے موجود رہتے تھے ۔۔۔
کیمرے لگائے گئے تھے ۔۔
جن کے ذریعے ہمہ وقت لڑکیوں کی نگرانی کی جاتی تھی ۔۔۔
سب لڑکیاں خوش تھی عنازیہ کے اس اقدام سے ۔۔۔
ان کے گھر والے دعائیں دیتے نہیں تھکتے تھے عنازیہ کو ۔۔
پورے نیوز چینلز پہ عنازیہ کے اس اقدام کے چرچے تھے ۔۔۔۔
وہ مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔
جبکہ خیام دور بیٹھا سخت نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ایک تو اس کی کوئی کمزور ہاتھ نہیں آ رہی تھی ۔۔
کہ وہ عالیار کو نیچا دکھا سکے سب کے سامنے ۔۔۔
اس کے عزت کی دھجیاں اڑا سکے ۔۔
اور اوپر سے ۔۔۔
اپنے اس اقدام سے اس کا چلتا بزنس بھی ڈاؤن کر چکا تھا ۔۔۔
کتنی لڑکیوں کی عزتیں نیلام ہو چکی تھی اب تک ۔۔۔
کتنی لڑکیاں بیچی جا چکی تھی ۔۔۔۔
کتنی اپنی جان سے چکی تھیں ۔۔
اور جن لڑکیوں کی وجہ سے یہ سب ہو رہا تھا ۔۔
جن کا ہاتھ تھا ان سب میں ۔۔
جو خیام کے لئے کام کرتی تھی ۔۔
انھیں بھی اریسٹ کیا گیا تھا ۔۔۔
اور کڑی نگرانی میں تھے ۔۔۔
اور اب خیام کو اپنا سارا پلان برباد ہوتا لگ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ جو بہت بڑا ہاتھ مارنے والا تھا ۔۔۔
اس کا یہ پلان بھی فلاپ ہو چکا تھا ۔۔۔۔
‘ عنازیہ خان یہ تم ٹھیک نہیں کر رہی ‘
وہ دل ہی دل میں اپنا غصہ اتار رہا تھا ۔۔۔۔
ایک بہت بڑے پریس کانفرنس میں وہ انوائیٹیڈ تھی عالیار کے ساتھ ۔۔۔
عنازیہ کسی کے سوال کا جواب دے رہی تھی ۔۔
اور
عالیار خان اسے جن نظروں سے مسکرا کے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
سب انھیں رشک بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔
” یار ہزبینڈ ہو عالیار خان جیسا ۔۔ “
ایک لڑکی نے اہ بھرتے کہا تھا ۔۔
دوسری بولی ۔۔
” کتنی محبت سے دیکھ رہا ہے اپنی بیوی کو یار “
” اتنی محبت کرتا ہے وہ اپنی وائف سے ۔۔۔ “
” یار عالیار خان جیسا ہزبینڈ چاہئیے مجھے “
ایک رپورٹر لڑکا جو کب سے بیٹھا ان لڑکیوں کی باتیں سن رہا تھا ۔۔
ان کی طرف تھوڑا جھک کے رازداری سے بولا ۔۔
” سامنے والی بھی تو عنازیہ خان ہونی چاہئیے ناں “
تینوں لڑکیوں نے گھور کے اسے دیکھا تھا ۔۔
تو وہ اپنی مسکراہٹ دباتا پیچھے ہو گیا تھا ۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
From High to Hell
#Episode_23_24
#Malayeka
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
Episode 23
نکاح کی تیاریاں عروج پہ تھی ۔۔۔
ابھی بھی ۔۔۔
حدید اور شمائم کو لیے ۔۔
امتسال اور عنازیہ شاپنگ پہ آئی ہوئی تھی ۔۔۔۔
وہ دونوں اپنا سر کھپانے میں مصروف تھی ۔۔
اور یہ دونوں لو برڈز بنے ۔۔۔
ایکدوسرے سے نظریں ملاتے ۔۔
پھر چراتے ۔۔۔
مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔
” آئی فیل لائک ۔۔۔
1990 کی کوئی انڈین مووی چل رہی ہے ۔۔ “
حدید ہی آخر بول پڑا تھا ۔۔۔
شمائم نے اسے حیرت سے دیکھا تھا ۔۔
” کیوں ؟؟”
” یوں آنکھیں ملانا ۔۔
پھر چرانا ۔۔۔
اسٹرینج سا ہے “
شمائم ہنس پڑی تھی ۔۔
” ہاں میرے لئے بھی “
حدید بھی ہنسنے لگا تھا ۔۔۔
” سب ان کے لئے چھوڑ کے ۔۔
کیوں ناں ہم باہر چلیں ؟”
وہ تھوڑا اس کی طرف جھک کے بولا تھا ۔۔
شمائم نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا ۔۔
” ناراض ہو جائے گی بھابی “
” نہیں ہوتی ..”
حدید نے اسے تسلی دی تھی ۔۔
” میں بتا تو دوں “
وہ جانے لگی ۔۔
جب حدید نے اس کی کلائی پکڑ لی ۔۔
” بھابی کی چمچی چلو “
وہ اسے کھینچتا ہوا وہاں سے جانے لگا ۔۔۔
عنازیہ نے ایک ڈریس پسند کر کے پیچھے دیکھا ۔۔
نہ شمائم تھی نہ حدید ۔۔
” یہ دونوں کہاں گئے ؟”
امتسال بھی پیچھے مڑی تھی ۔۔
اور پھر ہنسنے لگی ۔۔
” دولھا دلھن بھاگ گئے “
عنازیہ کو بھی ہنسی آئی تھی ۔۔
” حدید بھی کافی پہنچا ہوا ہے ۔۔
ایویں میں اسے معصوم کہتی رہتی “
” چلو کوئی بات نہیں ۔۔
یہی کہیں گئے ہونگیں آ جائے گیں”
امتسال نے اسے تسلی دی ۔۔
اور عنازیہ بھی سر جھٹک کے اپنے کام میں مصروف ہو گئی تھی ۔۔۔
دونوں بوتیک سے باہر نکلی تھیں ۔۔
عنازیہ امتسال کی کسی بات پہ ہنس رہی تھی ۔۔۔۔
جبکہ ان سے فاصلے پہ گاڑی میں بیٹھا ۔۔
آبان سکندر اس کی ہنسی دیکھ رہا تھا ۔۔
دل میں ہوک سی اٹھی تھی ۔۔۔
وہ خوش ہے ۔۔
بےحد خوش ۔۔۔
درد بڑھنے لگا ۔۔
تو وہ اپنا سینہ مسلنے لگا ۔۔
عنازیہ کو خود پہ کسی کی نظریں محسوس ہوئی تھی ۔۔
اس نے آس پاس نظریں دوڑائی ۔۔
لیکن وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔
جسکا اسے لگتا کہ وہ پہچانتی ہے ۔۔
” کیا ہوا عنازیہ ؟”
امتسال اسے پوچھنے لگی ۔۔
” نہیں ۔۔ نہیں کچھ نہیں “
وہ سر جھٹک کے پھر سے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔۔
لیکن اپنا وہم سمجھ کے وہ پھر سے امتسال کی طرف دیکھنے لگی ۔۔
اور پھر دونوں دوسرے بوتیک کی طرف بڑھ گئی تھیں ۔۔۔
آبان سکندر کچھ دیر وہیں گاڑی میں بیٹھا رہا تھا ۔۔
پھر گاڑی آگے بڑھا کے وہ وہاں چلا گیا تھا ۔۔۔
اسے ایک امپورٹنٹ میٹنگ میں جانا تھا ۔
جانے کا بلکل بھی دل نہیں تھا اس کا ۔۔
لیکن جانا ضروری تھا ۔۔
تبھی اس کی گاڑی کا رخ اب آفس کی طرف تھا ۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
ارحان کی کوئی پریس کانفرنس تھی ۔۔
جس کے بارے میں نیوز میں دکھا رہے تھے ۔۔۔
اور رواحہ سب بھول بھول کے ٹی وی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
اس کی نظریں ٹی وی اسکرین سے ہٹ نہیں رہی تھی ۔۔
لبوں پہ مسکراہٹ سجائے وہ ارحان علی خان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ارحان ابھی ابھی گھر پہنچا تھا ۔۔۔
رواحہ کو یوں محو دیکھ کے اس کے لب مسکرائے تھے ۔۔۔
وہ اس کے قریب آیا تھا ۔۔
لیکن اس کی محویت ابھی بھی نہیں ٹوٹی تھی ۔۔۔
ارحان نے کھنکھار کے گلا صاف کیا تھا ۔۔۔۔۔
رواحہ نے گردن موڑ کے ایک نظر اپنے دائیں طرف کھڑے ارحان پہ ڈالی ۔۔
پھر ٹی وی پہ جما دی ۔۔
پھر دوبارہ سے اسے دیکھا ۔۔
اور بوکھلا کے ریموٹ ڈھونڈنے لگی ۔۔۔۔
چوری پکڑی گئی تھی اسے چھپ چھپ کے دیکھنے کی ۔۔۔
ٹی وی آف کر کے وہ اپنی جگہ سے ہی کھڑی ہو گئی ۔۔
ارحان اس کی کاروائی دیکھ کے زیر لب مسکرا دیا تھا ۔۔۔۔
” تم سے کچھ بات کرنی ہے…”
” ہاں کریں “
وہ جلدی سے بولی تھی ۔۔
” یہاں نہیں ۔۔۔ روم میں ۔۔ “
وہ اطمینان سے بولتا اس کا ہاتھ پکڑ کے آگے بڑھنے لگا ۔۔
” ن۔۔۔ نہیں ۔۔۔ یہیں کرے “
وہ ہاتھ چھڑانے لگی ۔۔
ارحان نے اسے آبرو اچکا کے دیکھا ۔۔
” آڑ یو شیور ؟”
” یس ۔۔۔ یہیں کریں بات “
وہ نظریں چراتی کہنے لگی ۔۔
” چل رہی ہو یا اٹھا کے لے جاؤں ؟”
ارحان کی بات پہ رواحہ پریشان نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
‘ یا اللہ کدھر جاؤں میں ‘
ارحان اسے سوچتا دیکھ کے آگے بڑھا تھا ۔۔
رواحہ ایکدم سے پیچھے ہوئی تھی ۔۔
” م۔۔۔ میں ۔۔۔ میں چل رہی ہوں “
ارحان زیر لب مسکرا پڑا ۔۔
تو رواحہ سر جھکا کے اس کے ساتھ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔۔
من من بھاری ہوتے قدموں کے ساتھ ۔۔۔
وہ ارحان کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی ۔۔۔۔
بیڈ روم میں پہنچ کے ۔۔۔
ارحان دروازہ بند کر کے اس کی طرف مڑا تھا۔ ۔۔
” کہ کہئیے کیا کہنا تھا آپ کو “
رواحہ لرزتی پلکیں جھکائے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
وہ مسکرا کے اس کے قریب آیا تھا ۔۔
رواحہ بےاختیار پیچھے ہوئی تھی ۔۔۔
ارحان نے اس کا ہاتھ کھینچ کے اپنے سینے سے لگایا تھا اسے ۔۔۔
” کھا نہیں رہا میں تمہیں “
وہ گھمبیر لہجے میں سرگوشی کر رہا تھا ۔۔۔
اور رواحہ کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہو رہی تھی ۔۔۔۔
” و۔۔۔ وہاں ۔۔۔۔ ب۔۔ بیٹھ کے بات کرتے ہیں ناں “
وہ لڑکھڑاتی آواز میں کہہ رہی تھی ۔۔
ارحان اس کے بال سنوارنے لگا ۔۔
” لیکن مجھے تو ایسے ہی بات کرنی ہے تم سے “
رواحہ نے پلکوں کے جھالر اٹھاکے اسے دیکھا ۔۔
” ک۔۔ کیوں ؟”
ارحان کی آنکھوں میں تو کچھ اور ہی داستان تھی ۔۔۔
لو دیتے جذبے تھے ۔۔۔
وہ پھر سے پلکیں جھکا گئی ۔۔۔
” جواب دوں اس کیوں کا؟”
وہ مسکرا رہا تھا ۔۔۔
ارحان نے جھک کے اپنے لب اسکی گردن پہ رکھے تھے ۔۔۔
وہ تڑپ کے اسکے سینے میں سمٹ سی گئی ۔۔۔
اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچا تھا ۔۔۔۔
جب کہ وہ اپنے محبت بھرے لمس بکھیر رہا تھا اس کی گردن پہ ۔۔۔
بےحد نرمی سے ۔۔۔
” ا۔۔۔ ارحا۔۔۔۔۔ “
وہ بول ہی نہیں پا رہی تھی ۔۔
ارحان نے رک کے اس کی لرزتی پلکوں کو دیکھا تھا ۔۔ ۔
اس کی ٹھوڑی کے نیچے اپنی انگلی رکھ کے ۔۔۔
اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا ۔۔۔۔۔
اس کے لرزتے لبوں کو اس نے مسکراتے دیکھا تھا ۔۔۔
اور پھر نرمی سے اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔
اس کی سانسوں کو ارحان نے محسوس کیا تھا ۔۔۔۔
وہ سمٹی سمٹائی سی ۔۔۔
اس کے دل میں گھر کر رہی تھی ۔۔۔
” رواحہ ۔۔۔۔ “
اس نے مدھم سرگوشی کی تھی اس کے لبوں پہ ۔۔
رواحہ کے لئے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔
ارحان نے اس کے لبوں کو نرمی سے چھوڑا تھا ۔۔۔۔
جبکہ وہ اپنی سانسیں بحال کرنے لگی۔ ۔۔ ۔
ارحان کی قربت کو جھیلنا اس نازک سی جان کے بس کا کام نہیں تھا ۔۔۔ ۔
” ہئی ۔۔ کیسے جھیل پاؤ گی مجھے ۔۔۔
جب مکمل تمہیں خود میں جذب کروں گا ۔۔۔۔”
جبکہ رواحہ کانپ رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے تھک کے اپنا سر ارحان کے سینے پہ ٹکا دیا تھا ۔۔۔
ارحان نے مسکرا کے اسے بانہوں میں بھر لیا تھا ۔۔
وہ اس لڑکی کو قبول کر رہا تھا ۔۔
دل سے ۔۔۔
اب تو رواحہ کا خیال آتے ہی اسے بےچینی سی ہو جاتی ۔۔
دل بےاختیار اس کی چاہ کی رٹ لگاتا ۔۔۔ ۔
اور وہ بےخود سا اسے سوچے جاتا ۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
” بیڈ نیوز ہے عالیار ۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہی بھابی سے کیسے کہوں”
معارج عالیار کے آفس میں بیٹھا ۔۔۔
سر جھکائے شرمندہ شرمندہ سا کہہ رہا تھا ۔۔۔ ۔
عالیار اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
” کیا ہوا ہے ؟”
” محتسب کو کسی نے زہر بھرا انجکشن دے کے ختم کر دیا ہے “
معارج نے نظریں چراتے بتایا تھا ۔۔
” وہاٹ ؟”
عالیار تفکر اور حیرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
” ایسے کیسے ۔۔۔
جیل کے اندر کون یہ سب کر گیا ؟؟”
” اندر کا ہی کوئی بندہ ہے ۔۔۔ “
معارج کہہ رہا تھا ۔۔
” تو اندر کا بندہ ہے ۔۔۔
اس کا پتہ کون لگائے گا ؟؟
میں ۔۔۔ تم ۔۔۔ یا باہر کا کوئ بندہ ؟”
عالیار نے تیز آواز میں کہا تھا ۔۔ ۔
” ریلیکس عالیار ۔۔۔
ویری سون پتہ چل جائے گا “
معارج اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔
” ابھی تک آپ لوگ یہ نہیں جان پائے کہ عنازیہ کے فیملی کا قاتل کون ہے ؟
ڈھونڈ نہیں پائے ۔۔
ایک کلیو تک نہیں مل پایا ۔۔۔ “
وہ غصے کی شدت سے چلا رہا تھا ۔۔
” ایک بندہ ہاتھ لگا ۔۔
وہ بھی مار دیا گیا ۔۔
اندر کا بندہ ۔۔۔
ڈیم اٹ ڈس اندر کا بیٹا “
اس نے غصے سے ہاتھ ٹیبل پہ مارا تھا ۔۔۔
معارج کو شرمندگی ہو رہی تھی ۔۔
کہ وہ اپنے دوست کے کسی کام نہ آ سکا ۔۔۔
وہ خاموش رہا ۔۔
عالیار نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔
پھر سر ہی جھٹک گیا ۔۔۔
” ایم سوری “
وہ اپنی کنپٹی کھجاتا کہنے لگا ۔۔
” ہممم “
معارج نے اسے دیکھا ۔۔
” نو عالیار ۔۔
تم سچ کہہ رہے ۔۔۔
ہم کچھ نہیں کر پا رہے ۔۔
ایون میں کچھ نہیں کر پا رہا ۔۔
ایم سوری “
عالیار اسے دیکھے بنا سر اثبات میں ہلانے لگا ۔۔
معارج اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا ۔۔
” انشا اللہ اچھی نیوز کے ساتھ ہی آؤں گا “
عالیار بھی کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔ ۔
معارج کا مصافحے کے لئے بڑھا ہاتھ ۔۔۔
اس نے تھام لیا ۔۔۔
الوداعی کلمات کے بعد معارج جا چکا تھا ۔۔۔
اور عالیار وہیں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ سب وہ کیسے بتائے گا عنازیہ کو ۔۔
کی ایک بار پھر سے وہ اس کے سامنے ہار چکا ہے۔ ۔۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
عالیار اپنے ہی سوچوں میں گم تھا۔۔۔
جب عنازیہ اس کے پاس بیٹھ کے ۔۔۔
اپنے کندھے سے اس کے کندھے کو جھٹکا تھا ۔۔
وہ چونک کے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
” ہہ ؟؟ کیا ہوا ؟”
عنازیہ نے پہلے اسے شرارت بھری گھوری سے نوازا ۔۔۔
پھر کہنے لگی ۔۔
” میرے پیار میں کیا کیا تم نے ؟”
عالیار اس اچانک سوال پہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔۔
” اب دیکھو ناں ۔۔۔
کسی نے تاج محل بنایا ۔۔۔
کسی نے محل کھڑا کیا ۔۔۔
کسی نے اپنی نس کاٹی ۔۔۔
کسی نے چائے بنائی ۔۔۔
کسی نے پیزا آرڈر کیا ۔۔
تم نے کیا کیا ؟”
عالیار اس کی شرارت دیکھ کے مسکرا پڑا ۔۔۔
” میں نے اپنی عنزا کو پوری دنیا کے سامنے پروپوز کیا ۔۔
بھول گئی ؟”
عنازیہ مسکرا پڑی ۔۔
اسے یاد آیا کس طرح سے ۔۔
عالیار نے اس کے آفس آ کے ۔۔۔
اس کے آن ائیر شو پہ ہی ۔۔۔
انٹرویو کے دوران اس سے پوچھا تھا ۔۔
” شادی کرے گی مجھ سے ؟”
” جی ؟؟”
عنازیہ حیران ہوئی تھی ۔۔
” شادی کر لیں مجھ سے ۔۔
ایم ہینڈسم ۔۔ گڈ لوکنگ ۔۔
خوش بھی رکھوں گا بہت “
اس کی بات پہ عنازیہ بوکھلا گئی تھی تب ۔۔
اتنا پاپولر بندہ اسے پروپوز کر رہا آن ائیر ۔۔۔
اور ابھی یاد کر کے وہ ہنس رہی تھی ۔۔۔
عالیار نے اسے بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔۔
عنازیہ مسکرا دی تھی ۔۔۔
اسے وہ لمحہ یاد آیا تھا ۔۔
جب عالیار نے پھر سے اسے پروپوز کیا تھا ۔۔۔
اس کے کیبن میں آ کے ۔۔
اور وہ رو پڑی تھی ۔۔
عالیار پریشان ہوا تھا ۔۔
” کیا ہوا ہے آپ کو ؟؟”
اور اس نے اسے آحان کا بتایا تھا تب ۔۔۔
اور عالیار مسکرا دیا تھا ۔۔ ۔
” آپ کو چاہنے لگا ہوں عنازیہ خان ۔۔
شادی تو آپ سے ہی کروں گا ۔۔
لیکن تب ۔۔
جب آپ کو یہ احساس ہو کہ آپ کو بھی مجھ سے محبت ہو گئی ہے ۔۔
شدت کی محبت ۔۔۔ “
عجیب لمحے تھے وہ بھی ۔۔
تھوڑی خوشی لیے ۔۔
تھوڑے دکھ بھرے ۔۔۔
وہ سر جھٹک کے عالیار کی بانہوں میں ۔۔۔
سمٹ کے مسکرا پڑی ۔۔۔
” عالیار ۔۔۔ “
” ہممم “
وہ عالیار کی شرٹ کے بٹن سے کھیلنے لگی ۔۔۔
” میں نے تمہیں اتنا کچھ کہا ۔۔
کھبی نفرت نہیں ہوئی مجھ سے ؟”
عالیار مسکرا پڑا ۔۔
” جب تم غصے میں میرے قریب آتی ۔۔
اور پھر میں تمہیں بانہوں میں بھر لیتا ۔۔
تب تم سب غصہ بھلا کے ۔۔
مجھ میں ہی پناہ ڈھونڈتی ۔۔۔
اس لمحے مجھے محسوس ہوتا ۔۔
یہ ہمارا لمحہ ہے ۔۔
میرا اور تمہارا لمحہ ۔۔۔ “
عنازیہ مسکرانے لگی ۔۔۔
عالیار کی پناہوں میں وہ سب بھول ہی تو جاتی تھی ۔۔
اپنے سب دکھ ۔۔
تمام غم ۔۔
عالیار نے اسے سمیٹا تھا ۔۔۔
ہمیشہ کی طرح ۔۔۔
اس کے ہر دکھ کا مداوا بنا تھا وہ ۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
اور
آج وہ دن تھا ۔۔
جس کا بےچینی سے انتظار تھا ۔۔
حدید کو ۔۔
کیونکہ شمائم اس کی منکوحہ بننے جا رہی تھی ۔۔
نکاح کے بندھن میں بندھ رہے تھے دونوں ۔۔۔
نکاح کے بندھن میں بندھے ۔۔
وہ دونوں بےحد خوش تھے ۔۔
دونوں نے مسکرا کے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
تاشفین ان کے قریب آئے تھے ۔۔
امتسال بھی ساتھ تھی ۔۔
شمائم نے اٹھ کے ان سے دعا لی ۔۔۔
حدید لب بھینچے یونہی بیٹھا رہا ۔۔
امتسال نے منت بھری نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا تھا ۔۔
وہ سر جھٹک کے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔
” مبارک ہو “
کہہ کے وہ حدید کو گلے لگانا چاہتے تھے ۔۔
لیکن حدید نے روک دیا ۔۔ ۔
تاشفین شرمندہ سے ادھر ادھر دیکھنے لگے ۔۔۔۔
وہ اسٹیج سے اترے تھے ۔۔۔
اور باہر کی سمت جا رہے تھے ۔۔۔
عنازیہ اور امتسال نے انھیں تھکے کندھے جھکائے ۔۔
جاتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔
امتسال نے ایک نظر عنازیہ کو دیکھا تھا ۔۔۔
اور پھر ان کے پیچھے باہر آئی تھی ۔۔
سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔
کیسے آواز دے انھیں ۔۔
کس نام سے آواز دیں ۔۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔۔۔
گاڑی بھی آگے بڑھ چکی تھی ۔۔
امتسال وہیں کھڑی رہی ۔۔
اور انھیں جاتا دیکھتی رہی ۔۔
وہ انھیں کوئی نام نہیں دے پا رہی تھی ۔۔
جاسم اسے ڈھونڈتا وہیں آیا تھا ۔۔
اس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے اسے خود سے لگایا ۔۔
امتسال نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
” کیا ہوا جاسم کی جان “
وہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔ ۔
” میں تمہیں کب سے ڈھونڈ رہا ۔۔۔ چلو اندر چلتے ہیں “
وہ اثبات میں سر ہلاتی اس کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔۔
رات کافی ہو چکی تھی ۔۔
لیکن فنکشن ابھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔
عنازیہ سب کو مسکرا کے دیکھتی ۔۔
اپنے کلچ سے اپنا موبائل نکالنے لگی ۔۔
جب اسے میسج نظر آیا تھا۔۔
کوئی نمبر تھا ۔۔
اسے باہر بلایا گیا تھا ۔۔۔
مدد چاہئے تھی اسے ۔۔
وہ سامنے سب کو دیکھنے لگی ۔۔
عالیار ۔۔۔ارحان ۔۔ رواحہ ۔۔ شمائم ۔۔۔ حدید ۔۔۔ امتسال ۔۔ جاسم اور باقی سب دوست احباب ۔۔
خوشیاں منا رہے تھے ۔۔
وہ ایک نظر ان پہ ڈال کے باہر کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔۔
عمارت کے پیچھے جاتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی ۔۔
کہ کون ہو سکتا ہے ۔۔
ہاسٹل کی کوئی لڑکی ہوگی شاید ۔۔۔
یہی سوچ رہی تھی ۔۔
جب اچانک اندھیرے میں کسی نے زور سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا ۔۔
پہلے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھا تھا۔۔
وہ اس کے سینے سے جا لگی ۔۔
کانوں میں سرگوشی ہوئی ۔۔
” مائی لیڈی “
اور پھر اس کے ناک پہ رومال رکھا تھا ۔۔
وہ خود کو اس کی جکڑ سے نکالنے کی کوشش کرتی رہی ۔۔
لیکن پھر بےسدھ ہو کے اس کے بازوؤں میں جھول گئی تھی ۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
#Episode_24
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
ادھر ادھر نظر دوڑاتے ۔۔
اسے پہلا خیال یہی آیا تھا ۔۔
عنازیہ کہاں گئی ؟؟
وہ ادھر ادھر اسے ڈھونڈتا ہال سے باہر کی طرف نکلا تھا ۔۔۔۔
وہاں بھی کہیں نہیں تھی ۔۔۔
جب ایک ویٹر کی اندر جاتے ہوئے اس پہ نظر پڑی ۔۔
” سر آپ میم عنازیہ کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ ؟”
عالیار نے چونک کے اسے دیکھا تھا ۔۔۔
اور اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔
” سر ابھی میں نے کچھ دیر پہلے انھیں ۔۔
بلڈنگ کی بیک سائیڈ پہ جاتے دیکھا تھا ۔۔۔ “
” اوکے تھینک یو “
ویٹر اندر جا چکا تھا ۔۔
جبکہ وہ عنازیہ کو ڈھونڈتا بلڈنگ کے بیک سائیڈ پہ گیا تھا ۔۔
لیکن وہاں کہیں نہیں تھی عنازیہ ۔۔
” عنزا ۔۔۔ عنزا “
اس نے آواز دی تھی ۔۔
لیکن جواب موصول نہیں ہوا تھا ۔۔
اس کی نظر نیچے پڑے کلچ اور موبائل پہ گئی ۔۔۔
اس کے ڈریس کا بھاری بھر کم دوپٹہ بھی وہیں زمین بوس تھا ۔۔
وہ تیزی سے آگے بڑھا ۔۔
ان چیزوں کو ہاتھ میں لے کے ۔۔
وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر بھاگنے لگا ۔۔
” عنزا ۔۔۔ عنزا ۔۔۔۔ عنزا”
وہ چلایا تھا ۔۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
اسے ہوش آ رہا تھا ۔۔۔۔
آبان سکندر اس کی آنکھوں پہ ۔۔۔
بلیک کلر پٹی باندھ کے اسے بیڈ پہ لٹایا تھا ۔۔۔۔
اس نے آہستگی سے اپنے ماتھے کو ہاتھ لگایا ۔۔۔
اس سے پہلے وہ اپنی آنکھوں سے وہ پٹی ہٹاتی ۔۔
آبان نے آگے بڑھ کے اسے جلدی سے بٹھایا تھا ۔۔
اور پھر اس کے ہاتھ پیچھے لے جا کے باندھے تھے ۔۔
عنازیہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
کچھ نظر بھی تو نہیں آ رہا تھا اسے ۔۔
اوپر سے کسی کے ہاتھوں کا لمس ۔۔۔
” دور ہٹو ۔۔ کون ہو تم ۔۔۔ “
وہ چلائی تھی ۔۔۔
آبان گہرا مسکرایا تھا ۔۔
” یور موسٹ فیورٹ مانسٹر “
اس کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی ۔۔۔
” آبان سکندر “
اس نے دانت پیسے تھے ۔۔
” یس ۔۔۔ کیسے پہچانا ؟”
وہ اس کے کان کے پاس اپنی سانسیں چھوڑتا سرگوشی کر رہا تھا ۔۔۔
وہ اس سے دور ہونے لگی ۔۔۔
” کتے اپنی شکل کیوں نہیں دکھاتا تو مجھے ۔۔۔
اتنا بزدل ہے تو “
وہ غرائی تھی ۔۔
آبان کو اس کے جرات کی داد دینی پڑی ۔۔
ڈر تو اس کے وجود میں تھا ہی نہیں۔ ۔۔
” میری قید میں ۔۔
مجھ پہ ہی غرا رہی ہو “
وہ اطمینان سے وہیں بیڈ پہ لیٹا ۔۔۔
اسے دلچسپی سے دیکھتا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
” میرے ہاتھ بندھے ہیں۔۔۔
ورنہ بتاتی تمہیں میں ۔۔۔۔ “
اس نے پھر سے دانت پیستے کہا تھا ۔۔
جبکہ وہ گہرا مسکرایا تھا ۔۔۔۔
” ایسے ہی تو آپ سے نہیں ٹکراتا میں ۔۔۔ مس عنازیہ خان ۔۔
کچھ تو ہے جو میں آپ کی طرف کھینچا چلا آتا ہوں “
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے ریڈ لپ اسٹک سے سجے لبوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔
جو ادھر ادھر پھیل بھی چکا تھا ۔۔۔
اس نے بےاختیار ہاتھ بڑھا کے ۔۔
اس کے لبوں کو اپنے انگلی کی پور سے چھوا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ بدک کے دور ہوئی تھی ۔۔
اپنی ٹانگیں چلا کے اسے مارنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
” دور رہو مجھ سے ذلیل ۔۔۔۔ “
آبان کے لبوں پہ زخمی مسکراہٹ تھی ۔۔
وہ اس کے کان کے پاس جھکا تھا ۔۔
” میرے چھونے سے ۔۔
کسی کی یاد نہیں آتی آپ کو ؟؟؟”
مدھم سرگوشی کرتا وہ اب اس کے لبوں کو پھر سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” تیرے باپ کی یاد آئے گی کیا ۔۔۔ دور ہٹو مجھ سے “
آبان بیڈ سے اتر کے پیچھے ہوا تھا ۔۔
” پیچھے تو میں کب کا ہوچکا ۔۔
عنازیہ خان “
ٹوٹے لہجے میں کہتا ۔۔۔
وہ وہیں صوفے پہ جا کے بیٹھ گیا ۔۔۔
عنازیہ ادھر ادھر سر گھما کے ۔۔
کچھ محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
” ہیلو ؟؟؟
او ہیلو ۔۔۔ یہیں ہو ؟”
” ہممم یہیں ہوں ۔۔
ابھی گیا بھی نہیں میں مس کرنے لگ گئی مجھے “
وہ پھر سے شیطانیت پہ آیا تھا ۔۔
تبھی اسے غصہ دلانے کے لئے بولا تھا ۔۔۔
” شٹ اپ ۔۔۔ “
وہ چلائی تھی ۔۔
آبان سکندر ہنسنے لگا تھا ۔۔۔
” میں چلتا ہوں ۔۔۔
کچھ کام ہیں ۔۔ رات تک آؤں گا ۔۔۔ “
کہہ کے وہ کمرے سے نکل چکا تھا ۔۔۔
عنازیہ وہیں یونہی بیٹھی رہی تھی ۔۔۔
” آبان سکندر بھاڑ میں جاؤ ۔۔۔۔ ہاتھ کھولو میرے ۔۔۔
ڈیم اٹ “
لیکن وہ ان سنی کرتا جا چکا تھا ۔۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
بھونچال سا آ گیا تھا اس گھر کے مکینوں پہ ۔۔
عنازیہ کڈنیپ ہو گئ ہے ۔۔
لیکن کس نے کیا ہے کڈنیپ ؟؟
یہ کسی کو نہیں تھا معلوم ۔۔۔
ارحان نے اپنے اثر و رسوخ استعمال کر کے ۔۔۔
ہر طرف پولیس ۔۔۔
اپنے بندے پھیلائے ہوئے تھے ۔۔
لیکن کہیں سے پروف نہیں مل رہا تھا ۔۔۔
کہ کڈنیپر کہاں لے کے گیا ہے عنازیہ کو ۔۔۔
عالیار خان غم و غصے سے نڈھال وہیں لاونج میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔
ان کی خوشیوں کو غم کے سائے چمٹ گئے تھے ۔۔۔۔۔
ادھر خیام حیران و پریشان کمرے میں ٹہل رہا تھا ۔۔۔
آبان سکندر وہیں بیٹھا ۔۔۔
اسے کمرے کے چکر لگاتے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” عنازیہ کا اور کون دشمن ہو سکتا ہے ۔۔۔
جو یوں اسے غائب کر دیا ہے ۔۔۔ “
آبان سر جھٹک کے ہلکا مسکرایا تھا ۔۔۔
خیام اس کے پاس آ کے بیٹھا تھا ۔۔
” آبان کچھ کر یار ۔۔
پتہ کروا ۔۔۔ عنازیہ کو کون لے گیا ۔۔
وہ میرا شکار تھی۔۔۔
کون چھین کے لے گیا اسے مجھ سے ۔۔۔ “
آبان غور سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
” میں تجھے کوئی ڈیٹیکٹر لگتا ہوں جو میں پتہ کرواؤں ۔۔۔ “
” دوست ہوں تیرا یار “
خیام منہ بنا کے بولا تھا ۔۔۔
” اچھا ہے اب نظر نہیں آئے گی کہیں ۔۔۔۔
موت کی خبر بھی مل جائے اسکی ۔۔۔۔ تو زیادہ سکون ہوگا “
آبان نے سرد لہجے میں کہا تھا ۔۔
خیام اسے دیکھے گیا ۔۔
مطلب اسے بھی کوئی امید نہیں۔ رکھی جا سکتی کہ مدد کرے گا ۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔
” میں آفس جا رہا ۔۔۔ “
” رات کے ٹائم۔افس ؟”
آبان نے اچھنبے سے اسے دیکھا ۔۔
” تجھ سے مطلب ۔۔۔ “
کہہ کے وہ کمرے سے نکل چکا تھا ۔۔۔
آبان سکندر نے سر صوفے کی پشت پہ ٹکایا ۔۔
آنکھیں موندی تو وہ چہرہ آنکھوں پہ بوجھ بن کے آن گرا تھا ۔۔
صبح سے بھوکی ہے ۔۔
کچھ کھایا بھی نہیں ۔۔
ہاتھ بھی باندھے ہیں ۔۔
آنکھیں بھی ۔۔۔
پیاس لگی ہوگی اسے ۔۔۔
بہت سی باتیں اس کے ذہن میں گڈمڈ ہو رہی تھی ۔۔۔
دل عجیب سا ہو رہا تھا ۔۔۔
پٹ سے آنکھیں کھول کے وہ ٹائم دیکھنے لگا ۔۔
رات کے نو بج رہے تھے ۔۔
اور وہ صبح کا آٹھ کا اسے چھوڑ کے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔۔
” شٹ ۔۔۔ “
وہ جلدی سے اٹھ کے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
عالیار تھکا تھکا سا کمرے میں آیا تھا ۔۔۔
دل غم سے پھٹنے کو تھا ۔۔۔
آنکھیں بھی غمزدہ تھی ۔۔۔
کل سے عنازیہ کو ڈھونڈ رہے تھے ۔۔
لیکن عنازیہ کہیں نہیں تھی ۔۔۔
کمرے میں اس کی خوشبو رچی بسی تھی ۔۔
اور وہ بےاختیار سا چاروں طرف اسے ڈھونڈ رہا تھا ۔۔
” عنزا کہاں ہو میری جان۔ ۔۔
کہاں ہو ؟؟؟
کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں تمہیں میں ۔۔۔ “
وہ وہیں بیٹھا رو رہا تھا ۔۔
پھوٹ پھوٹ کے وتا اپنی عنازیہ کے کھو جانے کا غم منا رہا تھا ۔۔۔
” عالیار ۔۔۔ “
آواز پہ اس نے اچانک سے سر اٹھا کے دیکھا تھا ۔۔
لیکن وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔
” عالیار “
پھر سے آواز آئی تھی ۔۔
اس نے پاگلوں کی طرح آواز کی سمت دیکھا ۔۔۔
لیکن وہاں بھی نہیں تھی وہ ۔۔
” مجھے بھول تو نہیں جاؤ گیں عالیار ؟”
اس کی گھبرائی ہوئی سی آواز کمرے میں گونجی تھی ۔۔
” پتہ کیا ۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔
یہاں بہت اندھیرا ہے “
عالیار نے دھندلائی آنکھوں سے دیکھا ۔۔
وہ وہیں کونے میں ڈبکی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔
” میں آ رہا ہوں ۔۔
میں آ رہا ہوں عنزا ۔۔ “
لیکن وہ پرچھائی بھی غائب ہو چکی تھی ۔۔۔
” عنزا ۔۔ عنزا “
وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔
” مجھے درد ہو رہا ہے عالیار ۔۔۔ “
” عالیار میرے پاس آؤ “
” مجھے اپنی پناہوں میں کر لو عالیار “
ہر طرف سے عنازیہ کی آوازیں گونج رہی تھی ۔۔
وہ ایکدم سے چلایا تھا ۔۔
” عنزا ۔۔۔ “
ارحان دروازہ کھولتا اندر آیا تھا ۔۔
اپنے بھائی کو یوں تڑپتا دیکھ کے ۔۔۔
اس کا دل ہی کٹ کے رہ گیا ۔۔
وہ جلدی سے آگے بڑھا تھا ۔۔
” عالیار ۔۔۔ “
اسے بانہوں میں بھر لیا ۔۔
” عنزا ۔۔۔
ارحان عنزا ۔۔
پلیز عنزا کو بچا لو ۔۔۔ پلیز ۔۔۔
میری عنزا کو بچا لو “
وہ رو رہا تھا ۔۔
اس کے بازوؤں میں عالیار تڑپ رہا تھا ۔۔۔۔
اس گھر کے تمام مکین عنازیہ کے لئے دکھی تھے ۔۔
پریشان تھے ۔۔
لیکن کوئی راہ نہیں سجھائی دے رہی تھی ۔۔۔
” بس کرو عالیار ۔۔۔
میرے بھائی ۔۔
مل جائے گی عنازیہ انشا اللہ ۔۔۔ “
” کیسے ۔۔ کیسے ۔۔ کب “
وہ پھوٹ پھوٹ کے رو رہا تھا ۔۔
اس کی محبت ۔۔
اس کی بیوی کڈنیپ ہوئی تھی ۔۔
وہ غائب تھی ۔۔
نہیں مل رہی تھی ۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
اس کی آنکھوں پہ ابھی بھی بلیک کلر کی وہ پٹی بندھی ہوئی تھی ۔۔۔
اس کے ہاتھ بھی پیچھے بندھے ہوئے تھے ۔۔۔
اور آبان سکندر ۔۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
اس کے لب ہلکا سا مسکرائے تھے ۔۔۔۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کے ۔۔۔
اپنے انگوٹھے سے اس کے لبوں کو رب کیا تھا ۔۔۔
عنازیہ کسمسا کے پیچھے ہوئی تھی۔ ۔
” ڈونٹ ٹچ می کتے “
آبان سکندر کچھ نہیں بولا ۔۔۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کے اس کے ہاتھ کھولے تھے پہلے ۔۔
وہ مچلی تھی ۔۔۔
لیکن اس کے کان کے پاس جھک کے اس نے سرگوشی کی ۔۔۔
” ہشششششش مائی لیڈی “
اس کے سامنے پھر سے بیٹھ کے ۔۔۔
اس نے اب اس کی آنکھوں سے وہ کالی پٹی ہٹائی تھی ۔۔۔۔
عنازیہ نے دھندلائی آنکھوں سے سامنے کا منظر دیکھا ۔۔۔
اس کی آنکھیں پہلے چندیائی تھی ۔۔۔
لیکن پھر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کے اس کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی ۔۔۔
” آحان ۔۔۔۔ “
” تو میں تمہیں یاد ہوں ؟”
زخمی مسکراہٹ اس کے لبوں پہ تھی ۔۔۔
” پوری یونیورسٹی کے سامنے جس کا مذاق بنایا تھا تم نے ۔۔۔۔ “
عنازیہ نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا ۔۔۔
” تم۔زندہ ہو آحان ؟؟؟”
” تم۔زندہ ہو آحان ؟؟؟”
وہ حیرت سے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا اس نے اس شخص کو ۔۔۔
اس کے لبوں پہ تلخ مسکراہٹ ابھر کے معدوم ہوئی تھی
” پوری دنیا کے سامنے عالیار خان کا ہاتھ تھام کے تم اس سے محبت کا اظہار کرتی ہو ۔۔ اور میں ۔۔۔۔
میرا ہاتھ تھامنے کے بجائے تم نے مجھے سب کے سامنے مذاق بنایا ۔۔ میری محبت کو رسوا کیا ۔۔۔ میرا تماشا بنایا “
وہ آج ٹوٹ گیا تھا جانے کیوں !!!
آج وہ کھول کے رکھ رہا تھا خود کو اس کے سامنے ۔۔۔
سوال بھی تھے بہت سے تھے ناں ۔۔۔
اسے جواب بھی تو چاہئیے تھا ۔۔۔
” آحان تم ۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔ تم آبان سکندر نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔ “
وہ غائب دماغی سے اسے دیکھتی کہہ رہی تھی ۔۔۔
” میں سب کچھ ہو سکتا ہوں عنازیہ خان ۔۔۔ سب کچھ ۔۔۔۔۔ “
آبان سکندر تلخ سی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
” آج تو جواب چاہئیے مجھے ۔۔۔ کیوں کیا وہ سب تم نے میرے ساتھ ۔۔۔ کیوں ؟”
وہ جنونی سا ہو گیا تھا ۔۔۔
” میں نے کچھ نہیں کیا آحان ۔۔ میں آئی تھی تم نہیں تھے “
وہ اسے غور سے دیکھتی کہہ رہی تھی ۔۔۔
” جھوٹ مت بولو مجھ سے “
وہ چلایا تھا ۔۔
” میں جھوٹ نہیں بولتی ۔۔۔ یہ تم بھی جانتے ہو اچھی طرح سے آحان ۔۔۔۔ تمہیں میرے سچ سے ہی محبت تھی ۔۔۔۔ میں تمہیں تنگ کر رہی تھی ۔۔۔ تبھی نو کہا تھا اور وہاں سے گئی تھی ۔۔۔ م۔۔۔ مجھے لگا تم میرے پیچھے آؤ گے ۔۔۔ وجہ پوچھو گے ۔۔۔۔ لیکن تم نہیں آئے تھے ۔۔۔ اور جب میں وہاں دوبارہ پہنچی تو تم نہیں تھے ۔۔۔ میں یونیورسٹی گیٹ تک آئی ۔۔۔ تم نہیں تھے ۔۔۔۔ تمہیں ڈھونڈا ۔۔۔ ہر ایک سے پوچھا لیکن تم نہیں تھے۔۔۔
اور پھر ایک دن پتہ چلا ۔۔۔
ک ۔۔۔ کہ آیان مر گیا ہے ۔۔
اس کے پلین کریش ہو گیا ہے “
اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا ۔۔
اسے ابھی تک یقین نہیں ہو رہا تھا ۔۔
اس کے سامنے بیٹھا شخص آحان ہے ۔۔
“
عنازیہ کی آنکھیں بھیگی تھی ۔۔۔
آحان خان۔۔۔
یونیورسٹی کا ہونہار اسٹوڈنٹ ۔۔
جو جرنیلسٹ بن کے تہلکہ مچا دیتا ۔۔۔۔
وہ یہاں ہے ۔۔۔
ایک ڈرگ ڈیلر ۔۔۔
ایک سریل کلر ۔۔۔ ۔
” تم مجھے چھوڑ گئی تھی عنازیہ “
وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” چھوڑنا ہوتا تو تب چھوڑ دیتی جب مجھے پتہ چلا کہ تمہارے فاڈر ایک ڈرگ ڈیلر ہے آحان ۔۔۔ میں نے تمہیں کھبی نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔ اور تم ؟؟؟ یہ بن گئے ؟؟؟ ملک کے سب سے بڑے جرنلسٹ بننے چلے تھے ناں تم ۔۔۔۔
ڈرگ ڈیلر بن گئے ۔۔۔
مافیا بن گئیے ۔۔۔۔
معصوم لڑکیوں کے قاتل ۔۔
کیوں آحان ؟”
وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
جبکہ وہ چلایا تھا
” اسٹاپ کالنگ می آحان ۔۔۔ آحان ۔۔
ایم آبان سکندر ۔۔۔۔ آبان سکندر “
عنازیہ استہزائیہ ہنسی تھی ۔۔۔۔۔
” کیوں ؟؟؟ یہی سب کیوں ؟؟
اتنے ظالم کیسے بن سکتے ہو تم “
” اور تم ؟؟”
وہ اب اس کے قریب ہو کے اسے اپنی اذیت بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” تم عالیار خان سے محبت کر بیٹھی ۔۔۔
شادی کر لی ۔۔۔
اس کا ہاتھ تھامے پوری دنیا کے سامنے اس کی محبت میں آہیں بھرتی ہو ۔۔۔۔۔ “
” عالیار خان کی بیوی ہوں میں “
وہ آبان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہہ رہی تھی ۔۔۔
” لیکن مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔۔۔ تم سمجھتی کیوں نہیں ہو بہت تکلیف ہوتی ہے “
وہ بوجھل لہجے میں کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
” تم بزدل ہو آحان ۔۔۔ بےانتہا بزدل ۔۔۔۔ معصوم لڑکیوں کو موت کے گھاٹ اتارنا بہادری نہیں ۔۔۔ بزدلی ہے آبان سکندر تم ایک بزدل انسان ہو “
وہ اسے غصہ دلا گئی تھی ۔۔
” بس “
اس کے دونوں کندھوں پہ ہاتھ گاڑے تھے جیسے اس نے ۔۔۔
عنازیہ لب بھینچے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
جب خیام وہاں آیا تھا ۔۔۔
آبان کو اس کے بےحد قریب دیکھ کے ۔۔۔
وہ بنا سوچے سمجھے قریب آیا تھا ۔۔۔
” آبان ۔۔۔ “
اور اسے کھینچ کے عنازیہ سے دور کیا تھا ۔۔۔
جبکہ عنازیہ اب حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
آج کیا کچھ کھل رہا تھا اس کے سامنے ۔۔۔
” کیا کر رہے تھے تم ۔۔۔
تو وہ کڈنیپر تم ہو آبان سکندر ۔۔
مجھے شک تھا تبھی تمہیں فالو کرتا آیا تھا ۔۔۔۔
کہا تھا ناں عنازیہ سے دور رہو “
خیام نے تیز لہجے میں کہا تھا ۔۔۔
” شٹ اپ خیام ۔۔ تو مجھے بتائے گا اب کہ مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں ۔۔۔ “
آبان اسے تیز نظروں سے گھور رہا تھا ۔۔۔
” تجھ سے کہا تھا جو کرنا ہے کر ۔۔۔ عنازیہ سے دور رہ ۔۔ اس کے پاس بھی نہ پھٹکنا “
خیام اب بھی غصے میں تھا ۔۔
جبکہ آبان ہنسنے لگا ۔۔۔
” میں تو پھٹکوں گا ۔۔۔ کیا کر لے گا تو ؟”
” جان لے لوں گا تیری میں ۔۔ قتل کردوں گا”
وہ چلایا تھا ۔۔
” جیسے عنازیہ کی فیملی کا قتل کیا تھا ۔۔۔ ویسے ہی ؟”
وہ ہنستے ہنستے بولا تھا ۔۔۔
عنازیہ ساکت آنکھوں سے اب خیام کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
جبکہ خیام بےاختیار عنازیہ کی طرف مڑا تھا ۔۔۔
اس کی حیران آنکھوں کو اسنے لب بھینچے دیکھا تھا ۔۔۔