
From Hell to High Malayeka Rafi NovelM80037 Episode 05 & 06
Episode 05 & 06
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
وہ دونوں ابھی ابھی ہاسٹل پہنچے تھے ۔۔۔۔ وہاں عجیب ہلچل محسوس ہوئی تھی دونوں کو ۔۔۔۔۔ لڑکیوں میں خوف و ہراس ۔۔۔۔۔
اس نے خیام کی طرف دیکھا تھا ۔۔
وہ نا سمجھنے والے انداز میں کندھے اچکا گیا ۔۔۔۔
وہ جلدی سے وارڈن کے آفس کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔
دروازہ کھول کے جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی ۔۔۔
اس کی آنکھیں خوف و حیرت سے پھیل گئی تھی ۔۔۔
وارڈن زخمی حالت میں نیچے گری تھی ۔۔۔۔
اس کی گردن پہ کٹ کا نشان تھا ۔۔۔ ۔۔
خیام بھی پیچھے آیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ کے اشارے سے کچھ کہنا چاہ رہی تھی ۔۔
شاہد کچھ پوائنٹ آؤٹ کرنا چاہ رہی تھی ۔۔۔
اس کے ہاتھ کے اشارے کی طرف اس نے دیکھا ۔۔۔
وہاں کوئی نہیں تھا سوائے خیام کے ۔۔
وہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس گئی تھی ۔۔۔۔
اس کے لب کانپ رہے تھے ۔۔۔
کچھ کہہ رہی تھی وہ شاید ۔۔
آنکھیں باہر کو ابل رہی تھی ۔۔۔
عنازیہ نے کان قریب کر کے سننے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔
اور کچھ کہا تھا اسنے شاید ۔۔۔
اور سانسیں بند ہو گئی تھی اس کی ۔۔۔
خیام عنازیہ کا چہرہ غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
اس کا چہرہ بےتاثر تھا ۔۔۔
وہ خاموشی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
خیام گھبراتا اس کے پاس آیا تھا ۔۔
” عنازیہ ۔۔۔۔ ٹھیک ہو ؟”
وہ اثبات میں سر ہلاتی باہر کی طرف گئی تھی ۔۔۔۔
بےتاثر چہرہ تھا ۔۔۔۔
سپاٹ آنکھوں سے اس نے اپنے ارد گرد دیکھا ۔۔۔
وہاں بیت سی لڑکیاں تھی ۔۔۔۔
جو ہونے والے حادثے بےخبر تھی ۔۔۔۔
بہت سے چہرے تھے جن پہ خوف و ہراس تھا ۔۔۔۔
شاید انھیں بھی بھنک پڑ چکی تھی کہ زبان نہیں کھولنی ۔۔۔
کچھ اپنی وارڈن کا حشر دیکھ کے خوفزدہ تھیں ۔۔۔
کچھ لڑکیاں خاموش تھیں ۔۔۔
بلکل چپ ۔۔۔۔
وہ وہیں ڈھے گئی ۔۔۔۔
وہ بھی اس جیسی لڑکیاں کی تھیں ۔۔
عزت دار گھرانوں کی معصوم لڑکیاں ۔۔۔
جنہیں اپنے مقصد کے لئے ۔۔۔۔
نشہ دے کے اپنا کام نکلوایا جاتا ۔۔۔۔
وارڈن اپنے انجام کو پہنچی تھی ۔۔۔۔
” اسے کیسے خبر ہوئی کہ ہم آ رہے ہیں ۔۔۔ جو یوں وارڈن کو موت کے گھاٹ اتار دیا “
وہ غائب دماغی سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
خیام گڑبڑا سا گیا تھا ۔۔
لیکن لہجہ نارمل ہی رکھا
” ایسے لوگوں کے بہت مخبر ہوتے ہیں ۔۔ بہت سورسز “
وہ اثبات میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔
اس نے اپنا موبائل نکالا ۔۔۔
اور کوئی نمبر ڈائل کرنے لگی ۔۔۔
یہ انسپکٹر معارج تھا ۔۔۔
عالیار خان کا بےحد قریبی دوست ۔۔۔
” ہیلو معارج بھائی ۔۔۔۔ آپ کا فیور چاہئیے “
اس نے ایڈریس سمجھایا اور وہ لوگ بس پہنچنے والے تھے ۔۔۔۔
وہ جاتے جاتے ان لڑکیوں کی آنکھوں سے نوچے گئے خواب تو نہیں دلا سکتی تھی انھیں پھر سے
لیکن ۔۔۔
اتنا تو کر سکتی تھی کہ انھیں ان ظالموں کے چنگل سے نجات دلائے ۔۔۔۔
خیام خاموشی سے لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا
کیا چل رہا تھا اس کے دماغ میں ۔۔۔
وہ سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
” او گدھے ۔۔۔ یہ عنازیہ کی نند ہے ۔۔ تم اسے تنگ کرنے آ گئے ۔۔۔ کچھ ہو جاتا اسے تو تیرا سر کاٹ دیتے اس کے دو ہینڈسم بھائی “
امتسال اپنے بھائی کو گھور رہی تھی ۔۔۔
” تو مجھے کیا پتہ تھا کہ میری گدھی بہن گھر پہ نہیں ہے “
وہ منہ بسور کے بولا تھا ۔۔
تینوں اس وقت ناشتہ کر رہے تھے ۔۔۔
” یہ عنازیہ نہیں ہے گھر پہ ۔۔۔ تو رونق ہی ختم ہے یہاں کی ۔۔۔ “
وہ اسے فون کرنے لگی اپنے موبائل سے ۔۔۔
” میں ابھی بزی ہوں امتسال “
کہہ کے کھٹ سے کال ڈسکنیکٹ کردی تھی ۔۔۔
امتسال اپنے موبائل کو گھورنے لگی
” اس خبطی لڑکی کے ہاتھ پھر کوئی سوشل ہیلپ پروگرام لگا ہوگا “
منہ بنا کے کہا گیا تھا ۔۔
شمائم خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” یا ہو سکتا ہے تمہارے بھائی کے ساتھ امپورٹنٹ میٹنگ ہو اس کی “
وہ شمائم کو آنکھ ونک کرتی بولی ۔۔۔ اور خود ہی ہنسنے لگی تھی
” ہائے ۔۔۔ سو رومینٹک کپل “
وہ خود ہی اپنی بات کے مزے لے رہی تھی ۔۔۔
شمائم تو مسکرا بھی نہ سکی ۔۔۔ جبکہ حدید کن اکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
پھر شرارتی آنکھیں امتسال پہ گاڑ کے کہنے لگا
” اسے بلکل بھی مزہ نہیں۔ آیا دیکھو مسکرائی تک نہین “
” شٹ اپ “
منہ بنا کے اسے چپ رہنے کو کہا گیا تھا ۔۔۔
پھر شمائم کو دیکھنے لگی
” تمہیں کیوں چپ لگی ہے ۔۔۔ مانتی ہوں میرا بھائی کسی بھوت سے کم نہیں ۔۔۔ لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ تم منہ پہ ٹیپ لگا کے بیٹھ جاؤ ۔۔۔۔ میری طرح گالیوں سے نواز کے چپ کراؤ اسے “
حدید کی گھوریاں حسب حال تھی ۔۔۔
” ابے چل ۔۔ کسی اور کو گھور “
امتسال نے سر جھٹکا تھا ۔۔۔
دونوں کی نوک جھونک دیکھ کے شمائم بھی مسکرائی تھی ۔۔۔
کتنے کیوٹ ہیں دونوں ۔۔
اس نے دل میں سوچا تھا ۔۔۔۔
” مسکرا رہی ہے ۔۔ یار قسم سے مسکرا رہی ہے “
حدید اتنی اچانک سے بولا تھا ۔۔۔ کہ وہ بوکھلا ہی گئی ۔۔ ہونٹ بھی سکڑ کے نارمل ہو گئے تھے ۔۔۔
جبکہ ان کے بیچ اگین بحث شروع ہو چکی تھی ۔۔
” میری بات پہ مسکرائی ہے “
امتسال کہہ رہی تھی ۔۔۔
جبکہ حدید کہہ رہا تھا ۔۔
” نہیں بونگی۔ ۔۔ میری بات پہ “
شمائم نے باری باری دونوں کو دیکھا ۔۔۔۔۔ اور پھر اپنے موبائل جو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
جہاں عالیار کی مسڈ کالز تھی ۔۔۔۔
دل زور سے کانپا تھا اس کا ۔۔۔
ٹھنڈے پسینے بھی آ گئے تھے اسے ۔۔۔۔۔
” بھائی زندہ نہیں چھوڑے گیں مجھے “
وہ اندر ہی اندر دہل گئی تھی ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
” آئی نیڈ یو عالیار ۔۔۔ آئی رئیلی نیڈ یو “
رشنا اس کے قریب آئی تھی ۔۔۔۔
عالیار اپنی جگہ سے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔
تیز نظروں سے اسے ملاحظہ فرما رہا تھا
” ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی ؟”
وہ غرایا تھا ۔۔
جبکہ وہ اس کی شرٹ کا کالر پکڑ گئی ۔۔۔
“آئی نیڈ یو ۔۔۔۔۔ آئی نیڈ یو عالیار ۔
۔ کیوں نیڈ پوری نہیں کر رہے میری “
وہ اسکی آنکھوں میں اپنی وحشت زدہ آنکھیں گاڑے پوچھ رہی تھی۔۔۔
لیکن آج وہ نشے میں نہیں تھا ۔۔۔
کہ اسے خود سے دور کرنے میں اسے ٹائم لگتا ۔۔۔
اس نے زور سے اسے پیچھے دھکیلا تھا ۔۔۔
” دور رہو ۔۔۔ اپنی حد مت بھولو رشنا “
” کیا کروں ۔۔۔ کیا کروں عالیار ۔۔۔۔ نہیں روک پا رہی خود کو ۔۔۔۔
اس رات بھی مجھے خود سے دور کر دیا تھا تم۔نے ۔۔۔
دھتکار کے چلے گئے تھے ۔۔۔۔
دیکھ نہیں رہے میری تڑپ ؟”
وہ تڑپ رہی تھی ۔۔۔
اس کے قریب آنے کے لئے وہ تڑپ رہی تھی ۔۔۔۔
عالیار خان نے اشتعال سے اپنی مٹھیاں بند کی تھی ۔۔۔۔
اسے اس عورت پہ غصہ آ رہا تھا ۔۔
جسے نہ اپنی حرمت کا خیال تھا ۔۔۔
نہ اس کی ساکھ کا ۔۔۔۔
اور
اسی کی وجہ سے تو وہ عنازیہ کا خود پہ یقین کھو چکا تھا ۔۔۔
رشنا نے ہاتھ اوپر کر کے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے چاہے ۔۔۔۔
عالیار اتنی زور کا چلایا تھا ۔۔۔ کہ وہ اپنی جگہ کانپ گئی ۔۔۔۔
سیکریٹری اور ایک گارڈ بھی اندر آیا تھا ۔۔۔
اپنے باس کو اتنے غصے میں دیکھ کے دونوں ہی گھبرا گئے تھے ۔۔
” کس نے آنے دیا اس عورت کو یہاں ؟؟؟”
اس کی سیکریٹری خولہ ہکلائی تھی ۔۔۔
” سر وہ ۔۔۔۔”
” جانتی ہے ناں آپ مس خولہ کہ عنازیہ نے اسے یہاں آنے سے منع کیا تھا ۔۔۔ کہا تھا ناں اس نے آپ سے ۔۔۔ کہا تھا ؟”
وہ اس کی بات کاٹ کے زور سے چلایا تھا ۔۔۔۔
وہ کانپ ہی گئی ۔۔
” یس ۔۔۔ یس سر کہا تھا عنازیہ میم نے “
” تو آئندہ یہ عورت یہاں میرے آفس میں نظر آئی تو آپ کو جاب سے نکال دوں گا میں ۔۔ از ڈیٹ کلئیر ؟”
وہ دھاڑا تھا ۔۔۔
” یس سر ۔۔ “
وہ اپنے اتنے ہینڈسم باس کو غصے میں دیکھ کے بوکھلا گئی تھی ۔۔۔۔ ۔
گارڈ آگے بڑھا تھا ۔۔۔۔
” آپ چلئیے یہاں سے مس رشنا ۔۔۔ ورنہ مجھے زبردستی کرنی پڑ جائے گی “
گارڈ نے تیز لہجے میں کہا تھا ۔۔
رشنا آہنی بےعزتی پہ سیخ پا ہوئی تھی ۔۔۔
اس نے آگ برساتی نظر عالیار خان پہ ڈالی تھی ۔۔۔
اور پھر ٹک ٹک کرتی کمرے سے ۔۔۔ اس آفس سے نکل گئی تھی ۔۔۔
عالیار وہیں بیٹھ اپنے غصے کو کم کرنے لگا ۔۔۔۔
اس کی نظر سامنے کھڑی خولہ پہ پڑی ۔۔
” آپ گئی نہیں ابھی تک ؟”
” سر ایم سوری ۔۔ مجھے جاب سے مت نکالئے گا پلیز ۔۔۔ میرے گھر پہ صرف میں ہی جاب کرتی ہوں ۔۔ پلیز سر “
وہ بھرائی آواز میں بولی تھی ۔۔
عالیار نے ایک ٹھنڈی سانس کھینچی تھی ۔۔۔۔
خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
پھر نرم لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔
” آپ جائیے مس خولہ ۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔ “
” تھینک یو سر ۔۔۔۔ اب آپ کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں۔ ہو گی “
وہ ممنونیت سے بولی تھی ۔۔
اس کی آنکھیں نم تھی ۔۔۔
یہ وہی لڑکی تھی ۔۔۔ جو اپنے گھر والوں کی خاطر جسم فروشی کرنے پہ آمادہ ہوئی تھی ۔۔۔
لیکن وہ اتفاق سے اس رات سڑک پہ عالیار کی گاڑی سے ٹکرائی تھی ۔۔۔
اس روتی ہوئی لڑکی کو اس نے سہارا دیا تھا ۔۔۔
اس کے نیم برہنہ ڈریس پہ اس نے اپنا کوٹ اوڑھایا تھا ۔۔۔
اور اسے اپنے آفس میں جاب دی تھی ۔۔۔ ۔
” ایم سوری مس خولہ ۔۔۔۔ میں روڈ ہو گیا تھا زیادہ ۔۔۔ “
وہ نرمی سے بولا تھا
” ارے نہیں سر ۔۔۔ آپ تو میرے محسن ہے “
عالیار خاموش رہا تھا ۔۔۔ تو وہ بھی خاموشی سے کمرے سے نکل گئی تھی اور دروازہ بھی بند کر گئی تھی ۔۔۔
عالیار اپنی کنپٹی سہلائی تھی۔ ۔۔
اچھائی ۔۔۔
کوئی نیکی کرنا۔ ۔
بنا سوچے ۔۔۔ بنا سمجھے
کہ یہ چھوٹی نیکی ہے یا بڑی نیکی ہے ۔۔۔
لیکن ایک دن وہی چھوٹی سی نیکی آپ کے کام ضرور آتی ہے ۔۔۔۔
کسی کی عزت بچاؤ گے ۔۔۔
کل کو تمہارے گھر کی عزت بھی بچی رہے گی ۔۔۔۔۔
مکافات عمل ہوتا ہے سب ۔۔
اور کچھ نہیں۔ ۔۔
نیکی کے بدلے نیکی ۔۔
بدی کے بدلے بدی ۔۔
کل عالیار نے خولہ کو بچایا تھا
اور
آج عنازیہ نے شمائم کو ۔۔۔
لائف سائکل ۔۔ !!!
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اور
پھر یوں ہوا ۔۔۔
شام کے نیوز پیپرز میں سرخی بن کے چھپی تھی وہ ساری خبر ۔۔۔
جس کی رپورٹ ساری رات عنازیہ نے عالیار کے آفس میں بیٹھ کے بنائی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہر آنکھ اشکبار تھی
سوائے ان لوگوں کے جن کا اس پوری کہانی میں ہاتھ تھا ۔۔۔۔
عنازیہ ۔۔۔
دی گریٹ جرنلسٹ ۔۔
دی بریو نیوز کاسٹر ۔۔
کو جو بھی پڑھتا ۔۔۔
جو بھی سنتا ۔۔۔
رونگٹے کھڑے ہو جاتے ۔۔۔
خبر چھاپنے کا انداز ۔۔
لکھنے کا انداز ہی اس کا اسقدر خوبصورت تھا ۔۔۔
وہ ان معصوم لڑکیوں کی آواز بنی تھی اپنی رپورٹ کے ذریعے ۔۔
جو کب سے لب سیے ۔۔۔
یہ گھٹیا پن اور سفاکیت کو خود پہ برداشت کر رہی تھیں ۔۔۔
ہر روز ۔۔
ہر دن ۔۔
ہر لمحہ ۔۔
نئے سرے سے ۔۔۔
” آبان سکندر “
اپنا نام دیکھ کے وہ غضبناک ہوا تھا ۔۔۔۔
پورا نیوز پیپر اس نے پھاڑ دیا تھا ۔۔۔
اوپر سے ۔۔۔
کیسے ان کے موبائل ہیک ہوئے تھے ۔۔
اور
سب ختم ہو چکا تھا ۔۔۔
ڈیلیٹ ہو چکا تھا ۔۔
محتسب خیام پہ دھاڑا تھا ۔۔
” سمجھاؤ اپنی اس عنازیہ کو ۔۔۔
زیادہ شیرنی بن رہی ہے ناں ۔۔۔
تیرا خیال نہ ہوتا ۔۔۔
تو کب کا اسے اس کے انجام تک پہنچا چکا ہوتا میں “
خیام لب سیے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
دکھ اسے بھی ہوا تھا ۔۔
سب ان کے ہاتھ سے جا چکا تھا ۔۔۔
مطلب بزنس ڈاؤن ان کا ۔۔۔
” اور ۔۔۔ کہا بھی تھا کہ سب میٹرئیل اس ۔۔۔ اس موبائل سے نکال کے لیپ ٹاپ میں سیو کردو ۔۔۔
لیکن نہیں سنی تو نے ۔۔۔
کل کرے گا ۔۔
کل کرے گا ۔۔۔
دیکھ لیا تو نے اپنا کل ۔۔۔
سب ختم ہو گیا ۔۔
سب برباد ہو گیا “
وہ چلا رہا تھا ۔۔۔
اتنے دنوں کی محنت جو ضائع گئی تھی ۔۔۔۔
خیام لب بھینچے ہوئے تھا ۔۔
” بھونک کچھ تو بھی ۔۔۔ “
وہ اس کی طرف دیکھ کے غرایا تھا ۔۔
” کیا بولوں ؟؟”
خیام اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” جس بدلے کی آگ میں جل رہا تھا میں۔ ۔۔۔ جسے نیچا دکھانا میں نے ۔۔۔ وہ ڈیل ہی ہاتھ سے نکل گئی تو “
اسے افسوس ہو رہا تھا ۔۔
صدمہ پہنچا تھا اسے ۔۔۔
شمائم کا سب ختم ہو چکا تھا ۔۔۔
سب ڈیلیٹ ہو چکا تھا ۔۔۔
اب وہ عالیار سے کیسے بدلہ لے گا ۔۔۔
کیسے رسوا کرے گا اسے ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں سرخ ڈوریں سی بنی تھی ۔۔۔۔
آبان سکندر لمبے ڈگ بھرتا وہاں آیا تھا ۔۔
نیوز پیپر خیام کے منہ پہ پھینکا تھا ۔۔۔ ۔
” کیا بکواس ہے یہ ۔۔۔۔ میرا نام ۔۔۔ میرا نام سر عام آ گیا ۔۔۔۔ تیری وجہ سے ۔۔۔۔۔ صرف تیری وجہ سے۔۔۔ جو بھی پڑھے گا یہی کہے گا ڈرگ ڈیلر سے بےغیرت بن گیا میں ۔۔۔ “
وہ بال نوچنے لگا تھا ۔۔۔
” یار حوصلہ رکھ ۔۔
تجھے کون جانتا اس نام سے ۔۔۔
جو تپ چڑھی ہے تجھے ۔۔۔
آحان خان نام ہے تیرا ۔۔۔
تجھے سب اس نام سے جانتے ہیں ۔۔۔ کیوں آگ کی طرح برس رہا ہے تو ایک نام کے لئے ۔۔۔۔ “
وہ جھنجھلایا تھا ۔۔۔
” سارے ثبوت ہاتھ سے جا چکے ہیں ۔۔۔۔ اس عالیار کو نیچا دکھانے کے ۔۔۔ اس کے خاندان کو بدنام ہوتا دیکھنا چاہتا تھا میں ۔۔۔ کیا کچھ کیا میں نے ان سب کے لئے ۔۔۔۔ لیکن کچھ ہاتھ نہیں۔ آ رہا ۔۔۔ کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا ۔۔۔۔۔ بھاڑ میں جائے ۔۔۔۔ کون تھا یہ ہیکر ۔۔۔
کون ہو سکتا ۔۔۔۔
سالا ۔۔۔ کتا ہاتھ لگے ۔۔
ایسی ذلالت بھری موت دوں گا کہ ۔۔۔ “
” بس کر تو بس کر
تو جا کے اپنی اس عنازیہ کے پلو سے بندھ کے چپک جا ۔۔۔
اسی کے ہاتھوں تو ذلیل ہو کے مرے گا ایک دن “
اسکی بات کاٹ کے آبان سکندر چلایا تھا ۔۔۔
خیام نے اسے شاکی نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔ ۔
” بات بات میں عنازیہ کو بیچ میں نہ لا ۔۔۔۔ “
” لاؤں گا ۔۔۔۔ سالے بےغیرت ۔۔۔ نامردوں کی طرح دم ہلاتا ہے تو اس کے پیچھے ۔۔۔ “
خیام ویسے ہی غصہ تھا ۔۔۔۔ اس نے ابان کے منہ پہ مکا مارا تھا ۔۔۔
” چپ کر ۔۔۔ کیا بکواس کر رہا میں “
وہ دھاڑا تھا ۔۔۔
” ہے ہی نامرد تو “
آبان بھی جواباً اسے مارا تھا ۔۔۔۔
خیام نے اسے پھر سے مارا تھا
” کیا کر رہے ہو تم دونوں “
محتسب بھی بیچ میں آیا تھا ۔۔
لیکن ایک گھونسہ اسے بھی پڑا تھا ۔۔
تو وہ سائیڈ پہ جا کے بیٹھ گیا ۔۔
” لڑ لو دونوں ۔۔۔ مر جاؤ “
وہ دونوں مار رہے تھے ایک دوسرے کو ۔۔
یہاں تک کے زخموں سے چور ہو کے لڑھک گئے تھے دونوں ۔۔
دونوں مات کھا چکے تھے ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
#Episode_6
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ہاسٹل کی ان معصوم لڑکیوں کی عزت ۔۔۔
ان کی آہ بکا سن کے ۔۔۔
ان کی زندگیاں جہنم بننے سے بچا کے ۔۔۔
وہ سرخرو ہوئی تھی ۔۔۔
یہ وہ نہیں سوچتی تھی ۔۔۔
بلکہ اس کے چاہنے والے ایسا سوچتے تھے ۔۔
ایسا سمجھتے تھے ۔۔۔۔
اس کا انسٹاگرام بھرا ہوا تھا ۔۔۔
خوبصورت لکھاریوں سے ۔۔۔
اس کی آنکھیں دھندلا گئی تھی ۔۔
دل میں عجیب بےچینی سی تھی ۔۔۔۔
کچھ کھو دینا کیا ہوتا ہے ۔۔
اپنوں کو کھو دینا کیا ہوتا ہے ۔۔
یہ وہ محسوس کر سکتی تھی ۔۔
بہت سو کی زندگیاں بچائی تھی اس نے ۔۔۔
نوین ۔۔۔۔ اس کی ساتھی اندر آئی تھی ۔۔
” عنازیہ ۔۔ لیٹس گو ۔۔۔ ٹائم ہو گیا ۔۔ آن ائیر جا رہی ہو “
وہ آنسو کو اپنی انگلی کی پور سے چنتی اٹھی تھی ۔۔
ایک نظر آئینے میں کھڑے ہو کے اپنے سراپے پہ ڈالی تھی ۔۔۔
اور پھر کمرے سے نکل گئی تھی ۔۔۔
کیمرے کے سامنے کھڑی ہو کے اس نے اپنی ہمت مجتمع کی ۔۔۔۔۔
اور
ون ۔۔۔ ٹو ۔۔۔ تھری ۔۔۔
بولڈ سی نیوز کاسٹر عنازیہ خان سب کے سامنے تھی
اپنے بولڈ اور کانفیڈنٹ ورڈز کے ساتھ ۔۔۔
ٹی وی کے سامنے بیٹھا عالیار خان ۔۔۔
سانس روکے اسے سن رہا تھا ۔۔۔
دل نے بےطرح اسے بانہوں میں بھرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا ۔۔۔
اسکے لبوں پہ زخمی مسکراہٹ تھی ۔۔۔
ہر طرف عنازیہ کے لئے واہ واہ ہو رہی تھی ۔۔۔
دعائیں مل رہی تھی ۔۔۔
بوڑھے ماں باپ ہاتھ اٹھائے ۔۔۔
آنسو بھری آنکھوں سے اسے دعا دے رہے تھے ۔۔۔
معصوم سی لڑکیاں ۔۔۔
آنسو آنکھوں میں لیے اسے خاموشی سے مسکراتی دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔
اور
عنازیہ کے فینز ۔۔۔۔
تو اس کے قصیدے پڑھ رہے تھے ۔۔
اور وہ ۔۔۔
اسے یہ حق ہی چھین لیا گیا تھا ۔۔۔
کہ ۔۔۔
اس کی اس کامیابی کو وہ ۔۔
اس کے ساتھ مل کے سیلبریٹ کرے ۔۔۔۔۔
نمی سی محسوس ہوئی تھی اسے ۔۔۔
وہ خاموشی سے اسے بولتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
دل بےچین ہو رہا تھا ۔۔۔
ہاتھوں میں لرزش سی ہوئی تھی ۔۔۔
دھڑکنیں بےترتیب ہوئی تھی ۔۔۔
اور
اس نے موبائل کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
>>>>>>><<<<<<<<🌺🌺🌺🌺🌺
روم سے نکلی تھی ۔۔۔۔۔
جلدی سے اپنا موبائل اٹھا کے چیک کیا تھا ۔۔۔۔۔
کچھ نہیں تھا ۔۔
نہ اسکا میسج ۔۔
نہ اس کی کال ۔۔۔
دل بےطرح اداس ہوا تھا ۔۔۔
نہ جانے کیوں !!!
وہ بھی نہیں جان پائی تھی ۔۔۔۔
بجھ سا گیا تھا دل ۔۔۔
امتسال اس کے پاس آئی تھی ۔۔۔۔
” عنازیہ “
” ہاں ؟”
وہ اپنے آنکھوں کی نمی چھپاتی بولی ۔۔۔
” چل اس روم میں جاتے ہیں ۔۔ باس بلا رہے ہیں تمہیں “
وہ بتانے لگی ۔۔
اس کے آنکھوں کی نمی وہ دیکھ چکی تھی ۔۔ لیکن خاموش رہی ۔۔
” کیوں ؟”
وہ پوچھنے لگی نارمل ہوتے ہوئے۔ ۔
” نہیں پتہ “
وہ کندھے اچکا کے اس کے ساتھ چلنے لگی تھی ۔۔۔
عنازیہ اور وہ رائٹ سائیڈ مڑ کے اس کمرے کی طرف جانے لگیں ۔۔
جہاں کا امتسال کہہ رہی تھی…..
دروازہ کھول کے اندر داخل ہوئی تھی ۔۔
اور
ایکدم سے اس پہ پھولوں کی بارش ہوئی تھی۔ ۔۔
” سرپرائز “
امتسال اس کے کان کے پاس چیخی تھی ۔۔۔
وہ بوکھلا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔
سب اس کے لئے تالیاں بجا رہے تھے ۔۔۔۔
پورے کمرے کو سجایا گیا تھا ۔۔۔
سامنے ہی ٹیبل پہ بڑا سا کیک تھا ۔۔۔
عنازیہ کی کامیابی کے لئے ۔۔۔
گفٹس تھے ۔۔۔۔
وہ سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔
لب مسکرا رہے تھے ۔۔۔
اور
نظر سامنے اس دشمن جاں پہ ٹھہر گئی تھی ۔۔۔
دل زور سے دھڑکا تھا۔ ۔۔
آنکھوں میں نمی سی اتر آئی تھی ۔۔۔
اور
وہ مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
جس کے میسج کی ۔۔۔
کال کی ۔۔
وہ منتظر تھی ۔۔۔
وہ سامنے ہی تو تھا ۔۔۔
اتنے بڑے سرپرائز کے ساتھ ۔۔۔۔
امتسال اس کا ہاتھ تھامے اسے آگے لے گئ تھی ۔۔۔
جہاں عالیار خان کھڑا تھا ۔۔۔
وہ دونوں اب آمنے سامنے تھے۔ ۔
امتسال تو ان دونوں کو دیکھ دیکھ کے جھوم رہی تھی ۔۔
عالیار نے اس کا نازک سا ہاتھ تھاما تھا ۔۔۔
لبوں سے لگا کے ۔۔۔
اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
” کانگریجولیشن مائی گرل “
وہ کہہ رہا تھا
دل کی دھڑکنیں بھی عجیب تال پہ چل پڑی تھی ۔۔۔
” تھینک یو ۔۔ “
اس نے دھیرے سے کہا تھا ۔۔۔
نم آنکھیں ۔۔۔
مسکراتے لب ۔۔
عجب ہی امتزاج تھا ۔۔۔۔
” گفٹ بھی چاہئے بھئی “
امتسال کہہ رہی تھی ۔۔۔
عالیار نے مسکرا کے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔۔
پھر عنازیہ کو گہری نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔
ٹیبل پہ رکھے ڈبے پہ نظر پڑی ۔۔۔
اسے کھول کے ۔۔۔
ایک نازک سی چین ۔۔۔
جس میں ڈائمنڈ کا ہارٹ شیپ تھا ۔۔۔
اوپر لکھا ہوا تھا ۔۔
” Be Mine”
سب نے ہوٹنگ کی تھی ۔۔۔
عالیار نے آگے بڑھ کے عنازیہ کو پہنائی تھی ۔۔
اس کے برانڈ پرفیوم کی خوشبو ۔۔۔
عنازیہ مدہوش ہی ہو گئی تھی ۔۔۔
دل نے اودھم مچایا تھا ۔۔
پل یونہی ٹھہہر جائے ۔۔۔
عالیار نے اس کی پیشانی پہ لب رکھے تھے ۔۔
سب تالیاں بجا رہے تھے ۔۔۔۔
خوش ہو رہے تھے ان کے لئے ۔۔۔
اتنے اختلافات ان دونوں کے سر عام آئے تھے ۔۔
کہ
دو لو برڈز کا پھر سے ملنا انھیں خواب سا لگتا تھا ۔۔۔
لیکن آج یوں انھیں ساتھ دیکھ کے ۔۔
اس کے کولیگز خوش تھے ۔۔۔
سوائے اس شخص کے ۔۔
جو دور کھڑا انھیں شعلہ بار نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” خیام انوار “
کیک کاٹا گیا ۔۔۔۔
سب کو کھلایا گیا ۔۔۔
عنازیہ کی مسکراتی نظریں اس پہ ہی تھی ۔۔۔۔
سب عالیار خان کی خاطر میں لگے ہوئے تھے ۔۔
بھئی اتنا بڑا پولیٹیکل فیملی کا بندہ ان کے سامنے تھے ۔۔
ان کے بیچ تھا ۔۔۔
اور تو اور عنازیہ کا ہزبینڈ تھا وہ ۔۔
کیسے نہ ہوتی اس کی خاطر تواضع ۔۔۔۔
اور
عنازیہ بس اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
آنکھیں پھر سے خواب بننے لگی تھی ۔۔
دل پھر سے خواہشیں کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔
عالیار نے اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
وہ جو اسے دیکھنے میں محو تھی ۔۔
بوکھلا کے نظریں جھکا گئی ۔۔۔
پھر سے پلکوں کے جھالر اٹھا کے اسے دیکھنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
اور
گھبرا کے رخ موڑ کے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔۔
عالیار زیر لب مسکرا پڑا ۔۔۔۔۔۔
امتسال میڈم اب دونوں کو ساتھ بٹھا کے ۔۔
ان کی ڈھیر ساری تصویریں بنا ڈالی تھی ۔۔۔
” اب میں وڈ چٹخارے دار رومینٹک کیپشن کے ساتھ ۔۔۔ بناؤں گی ان پکس کو ہمارے نیوز پیپر کی زینت ۔۔۔ جلنے والوں کا منہ کالا “
وہ دانت پیستی کہہ رہی تھی ۔۔۔
اور
عنازیہ اور عالیار بےساختہ ہنس پڑے تھے ۔۔
اور
یہی لمحہ بھی کیپچر ہو گیا تھا امتسال کے موبائل میں ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
گاڑی اس کے فلیٹس کے سامنے رکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گہرا سانس لے کے عنازیہ پہ نظر ڈالی تھی ۔۔۔۔
وہ اسے دیکھنے سے کترا رہی تھی ۔۔۔۔
کہیں عالیار اس آنکھوں سے اس کے دل کا حال نہ جان لیں ۔۔۔
عالیار نے بےاختیار ہاتھ بڑھا کے اس کے بال کان کے پیچھے کیے تھے ۔۔۔۔
عنازیہ نے چونک کے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
اور
دل بےاختیار ہوا تھا ۔۔۔
عالیار نے اپنے انگوٹھے سے اس کے لبوں کو رب کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
عنازیہ بےاختیار آنکھیں موند گئی تھی ۔۔۔۔
اور
وہ ۔۔۔۔ اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔
عنازیہ سلگتے دل کے ساتھ اس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔
باہر بارش ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اور گاڑی کے اندر کا ماحول پرفسوں سا تھا ۔۔۔۔۔
عنازیہ چونک کے ایکدم پیچھے ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
اور
اس کی بےچین آنکھوں میں دیکھتی رہی ۔۔۔
پھر جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھول کے وہ اتری تھی۔۔۔۔
عالیار بھی اترا تھا گاڑی سے ۔۔۔
اور
اب بارش میں کھڑا وہ اس کے بھیگتے وجود کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
کہنا چاہتا تھا ۔۔
واپس آ جاؤ ۔۔۔
لیکن ۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ وہ نہیں آئے گی ۔۔۔
پھر سے انکار کر دے گی ۔۔
تبھی خاموش رہا تھا ۔۔۔
عنازیہ ۔۔۔
کون سننے کو بےتاب تھے ۔۔۔
ایک بار کہہ دے ۔۔۔۔
عالیار ایک بار کہہ دیں ۔۔
واپس آ جاؤ ۔۔۔
اور ۔۔۔ وہ اس کے ساتھ چلی جائے گی۔ ۔۔۔
لیکن خاموشی تھی ۔۔۔
بارش کو شور تھا بس ۔۔۔۔
اور
” اللہ حافظ”
عنازیہ کہہ کے منہ موڑ گئی ۔۔۔۔
” عنازیہ “
بوجھل سی آواز پہ وہ بےاختیار مڑی تھی ۔۔۔
اس بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“اور وہ جو کہنے جا رہا تھا کہ ۔۔۔
رک جاؤ پلیز ۔۔۔
” تھینک یو شمائم کے لئے اتنا سب کرنے کے لئے ” ۔
وہ بس یہی کہہ پایا تھا ۔۔۔۔ ۔
” وہ میری بھی بہن ہے “
اس نے مسکرا کے کہا تھا ۔۔۔۔
پھر سے خاموشی ۔۔۔
طویل خاموشی ۔۔۔
بارش میں بھیگتے ۔۔۔۔۔
ایک دوسرے سے نظریں چراتے ۔۔۔
دل میں امڈتے طوفان کو تھپکی دے کے سلاتے ۔۔۔۔
وہ رخ موڑ چکی تھی
اندر کی طرف قدم بڑھا رہی تھی ۔۔۔
اور
عالیار وہیں بارش میں کھڑا بھیگتا رہا تھا ۔۔۔
دل میں جلتی آگ کو شاید ۔۔۔
ایسے ہی بجھانا چاہتا تھا ۔۔۔
یوں بھگتے ہوئے ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ لڑکی ۔۔
ثمن نام تھا اس کا ۔۔۔۔
جس نے سب سچ سچ بتایا تھا۔ ۔۔۔
آبان سکندر کے حوالے سے ۔۔۔
وہ اب خیام کے دسترس میں تھی ۔۔
اور
اب وہ اپنا سارا غصہ اس پہ اتار رہا تھا ۔۔۔
خیام نے تھپڑ مار مار کے اس کا چہرہ ہی بگاڑ دیا تھا ۔۔۔۔۔
اس پہ بس نہ ہوا ۔۔۔۔
تو
اپنی بیلٹ نکال کے اسے مار مار کے لہو لہان کر دیا تھا ۔۔۔
یہاں تک کہ اس کے کپڑے پھٹ گئے تھے ۔۔۔
اور اس کا جسم جگہ جگہ سے عیاں ہوا پڑا تھا ۔۔۔۔۔
وہ چیخ رہی تھی ۔۔۔ چلا رہی تھی ۔۔۔
معافی مانگ رہی تھی ۔۔۔۔
گڑگڑا رہی تھی ۔۔
لیکن
خیام سن کہاں رہا تھا ۔۔
اس پہ جنون سوار تھا ۔۔۔
وہ اس عنازیہ کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا ۔۔
لیکن
اس لڑکی کو مار مار کے وہ اپنی فرسٹریشن نکال سکتا تھا ۔۔۔
یہاں تک کہ وہ لڑکی لہولہان ہو کے ایک طرف لڑھک گئی تھی ۔۔۔۔
وہ پھر بھی اسے مار رہا تھا ۔۔۔
اس کے چاروں طرف اس لڑکی کے خون کے چھینٹے پڑ چکے تھے۔ ۔۔۔۔۔
وہ چیخ رہا تھا ۔۔۔
جب آبان وہاں آیا تھا ۔۔۔
خیام کو یوں جنونی انداز میں اسے مارتا دیکھ کے وہ اس کے پاس آیا تھا اور بیلٹ اس کے ہاتھ سے چھین کے دور پھینک دیا تھا ۔۔۔۔ ۔
” کیا کر رہے ہو ۔۔ وہ مر چکی ہے “
آبان نے اسے روکنے کی کوشش کی ۔۔
لیکن خیام نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا اس سے ۔۔۔
” تو کیا کروں “
وہ دھاڑا تھا ۔۔ ۔
” کیا کروں میں۔ ۔۔۔ سب ختم ہو گیا ۔۔۔ سب برباد ہو گیا ۔۔ کچھ نہیں بچا ۔۔۔۔۔ سارا پیسہ برباد ہو گیا ۔۔۔۔
وہ عنازیہ سب برباد کر گئی ۔۔۔۔
سب برباد ۔۔۔۔
میڈیا میں لے کے چلی گئی ہاسٹل کو ۔۔۔
اور اس اب کو ۔۔۔۔
اب کہاں سے لاؤں میں لڑکیاں اتنے کم ٹائم میں ۔۔۔ کیسے ؟”
وہ چلایا تھا ۔۔۔
آبان اسے دیکھتا رہا ۔۔۔
” تجھے ویڈیوز ہی بنانی ہے ناں ۔۔۔ میں لڑکیان کے آتا ہوں ۔۔۔ کالج گرلز ۔۔۔ اسکول گرلز ۔۔۔۔ تم اطمینان سے ویڈیوز بنانا ۔۔۔۔۔ اب ریلیکس “
وہ اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔
خیام اس لڑکی کی لاش کو دیکھا ۔۔۔ جس کے جسم کے ٹکڑے ہو چکے تھے ۔۔۔۔
اسے وہ لاش یاد آئی تھی ۔۔
وہ برہنہ لاش۔۔۔
اس چھوٹی سی بچی کی لاش ۔۔۔
جو اس سے منت کر رہی تھی ۔۔۔۔
زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی ۔۔۔
” خیام بھائی ۔۔۔ مت کیجئیے پلیز “
اور وہ جب اس پہ جھکا تھا ۔۔۔۔
تو اس کی آنکھوں میں بےیقینی تھی ۔۔۔۔
اور پھر اسے مار دیا تھا اس نے ۔۔۔۔۔
وہ ایکدم پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔
آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے مسلنے لگا ۔۔۔۔
آبان اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” خیام “
” میں نے کچھ نہیں کیا “
وہ چلایا تھا جبکہ آبان حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺