📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="327"]
56426 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13 14 & 15

شمائم لائبریری میں بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی ۔۔۔

جب حدید اسے ڈھونڈتا وہیں آ گیا ۔۔۔۔

شمائم پہ نظر پڑی ۔۔۔

تو مسکراتا ہوا اس کے پاس آ کے ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھ گیا ۔۔۔

بنا کچھ کہے محویت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

شمائم جو نوٹس بنانے میں اتنی مصروف تھی ۔۔۔۔۔

کہ اس کے آنے کا نوٹس بھی نہیں لیا تھا اس نے ۔۔۔۔۔۔

پانی کا بوتل لینے کے لئے اس نے جیسے ہی سر اٹھایا ۔۔۔۔

اپنے ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھے حدید کو دیکھ کے چونک گئی ۔۔۔ ۔

” تم ۔۔۔ “

‘ ہاں میں ۔۔۔ “

وہ بھی مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

شمائم نے ادھر ادھر نظر دوڑائی پھر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

” تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟”

وہ دھیمے لہجے میں پوچھ رہی تھی ۔۔۔ ۔

” تمہیں دیکھ رہا ہوں “

اطمینان میں ذرا برابر بھی فرق نہیں آیا تھا اس کے ۔۔۔۔۔۔۔

” جاؤ یہاں سے “

اس نے سرگوشی کی ۔۔۔

” کہاں جاؤں ؟”

وہ بھی اس کے دیکھا دیکھی سرگوشی کرنے لگا ۔۔۔

شمائم کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لیں ۔۔۔

” میں ہی چلتی ہوں “

وہ اٹھنے لگی ۔۔۔

جب حدید بھی ساتھ میں اٹھ گیا ۔۔۔

” کینٹین چلیں ؟”

” نہیں ۔۔۔ “

شمائم دو ٹوک انداز میں کہتی آگے بڑھ گئی ۔۔۔

جبکہ وہ بھی ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔۔۔۔

دونوں ساتھ ہی باہر نکلیں ۔۔۔۔ ۔

تو شمائم نے گھور کے اسے دیکھا

” جان پیاری نہیں ہے تمہیں اپنی ؟”

” تم تو ہو میری جان “

شمائم کو اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔ ۔

کہ کافی حاضر جواب ہے یہ بندہ ۔۔۔

” تمہیں پتہ ہے ۔۔۔۔ “

وہ دھیان سے ادھر ادھر دیکھتی بولی تھی ۔۔

” نہیں ۔۔۔ نہیں پتہ “

وہ کندھے اچکاتا اس کی طرف جھکا تھا ۔۔۔

” تو سنو “

وہ گھورنے لگی تھی اب حدید کو ۔۔

” یہاں ہر طرف میرے بھائی کے بندے پھیلے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ ذرا سا بھی کوئی میرے آس پاس دکھا انھیں تو اسکی شامت آ جانی “

وہ رازداری سے اسے بتا رہی تھی ۔۔

” اوہ میں ڈر گیا “

حدید بےاختیار ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا بولا تھا ۔۔۔

” اس لئے دور رہو مجھ سے “

شمائم اونچی آواز میں اسے بولتی آگے بڑھ گئی ۔۔۔

حدید بھی سر کھجاتا اس کے پیچھے تھا ۔۔۔

” بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔ ارے میں کہہ دوں گا تمہارے بھائی سے ۔۔ کہ نکاح کروا دو ہمارا ۔۔۔۔۔ اگر زیادہ ہی مسلہ ہے تو “

” وہاٹ؟”

وہ رک کے اب اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

” ہاں ناں ۔۔۔ جینا مرنا ساتھ ہے اب ۔۔۔ “

وہ مزے سے بولنے لگا

” آڑ یو میڈ ؟”

اس نے حدید کو حیرت سے دیکھتے کہا تھا ۔۔

” یس میم فار یو “

وہ بھی ڈھیٹ ہی تھا ۔۔۔۔

” پاگل ہے “

کہہ کے وہ آگے بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔

” آپ کے لئے بس “

وہ جی جان سے بولتا اس کے ساتھ تھا ۔۔۔

شمائم نے رک کے اسے دیکھا

” فلرٹ کر رہے ہو “

” نہیں ۔۔۔ محبت “

وہ دوبدو بولا تھا

” تمہیں میری حقیقت پتہ بھی ہے ؟”

وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔

” ارحان علی خان اور عالیار خان کی بہن ہو اور عنازیہ کی نند “

وہ سینے پہ ہاتھ باندھتے بولا تھا

” اور کیا جانتے ہو میرے بارے میں ؟”

حدید نے رک کے اس کی جانچتی نظروں کو دیکھا ۔۔۔

” جاننا بھی نہیں چاہتا ۔۔۔ “

” جس دن جان جاؤ گیں میری حقیقت ۔۔۔۔ اس دن شاید میرے منہ پہ تھوک کے چلے جاؤ گیں تم حدید تاشفین ۔۔۔ “

اس کی آواز میں عجیب دکھ سا تھا ۔۔۔۔

حدید اسے دیکھے گیا ۔۔۔

” جس دن تمہاری حقیقت جان گیا میں شمائم ۔۔۔۔ اسی دن تم شمائم خان سے شمائم حدید بن جاؤ گی ۔۔۔۔ یہ وعدہ ہے میرا تم سے “

شمائم کے لبوں پہ تلخ مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔۔

سر جھٹک کے وہ آگے بڑھ گئی تھی ۔۔۔

” یہ حدید تاشفین کا وعدہ ہے تم سے شمائم خان “

وہ پیچھے سے چلایا تھا ۔۔۔

جبکہ شمائم تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے کلاس کی طرف جانے لگی ۔۔۔۔

اسے ڈر تھا کہ حدید اس کے بارے میں جانتے ہی ۔۔۔

اس کے منہ پہ تھوک کے ۔۔۔

چلا جائے گا ۔۔۔

اور پھر پیچھے مڑ کے دیکھے گا بھی نہیں۔ ۔۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” یہ صبح صبح تم کیوں بہار بن کے آئی ہو جان بہار “

امتسال کو دیکھ کے جاسم چہکا تھا ۔۔۔۔

” تمہارا رومینس بھی میتھ میتھکس کی طرح ہی ہے “

امتسال برا سا منہ بنا کے کچن میں آئی تھی ۔۔۔

” کیا بنا رہے ہو ؟؟ مجھے بھی بھوک لگی ہے “

وہ ناشتہ بناتے جاسم کی گلاسز اس کی آنکھوں سے لیتی بولی تھی ۔۔

جاسم نے مسکرا کے اس کی شرارت کو نوٹ کیا ۔۔۔

” کیا کھانا پسند ہے میری باربی ڈول کو “

امتسال ہنسی تھی ۔۔۔

” جو آپ بنا رہے سرتاج ۔۔۔ وہی کھاؤں گی میں بھی “

” میرا دل تو باربی ڈول کھانے کو چاہ رہا “

وہ آملیٹ پلیٹ میں نکالتے بولا تھا ۔۔۔

” تو آملیٹ میں کھا لیتی ہوں “

وہ پلیٹ اٹھا کے ۔۔۔

ہنستی ہوئی ڈائننگ ٹیبل پہ جا کے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔

جاسم بھی باقی ناشتہ لیے اس کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔

اپنی گلاسز لے کے اس نے دوبارہ سے پہنی تھی ۔۔۔

امتسال گھور کے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

” چین نہیں تمہیں ان گلاسز کے بنا “

” نہیں ۔۔۔ پھر میں اپنی کوئین آف ہارٹ کو غور سے دیکھ نہیں پاتا “

وہ مزے سے اسے دیکھتے بولا تھا ۔۔۔

” ہاہ۔۔۔۔ مائی کنگ آف ہارٹ ۔۔۔ تم پہ پیار آ رہا مجھے بےحد “

وہ اس کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

” بٹ رومینس بی فور شادی کے حق میں ہو نہیں ناں تم میری ملکہ سلطنت “

وہ اسے آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔۔

امتسال اس کی پیشانی پہ آئے بالوں کو سنوارنے لگی ۔۔۔

” میرے لئے تمہارا نام اپنے نام کے ساتھ منسوب ہونا ہی خوشی بخشتا ہے مائی لارڈ “

جاسم اس کے منہ میں آملیٹ اور بریڈ کا نوالہ دینے لگا ۔۔۔

” 673459 “

وہ حیرت سے دیکھنے لگی ۔۔

” یہ کیا ہے ؟”

” اس کا مطلب ہے ایم آل یورز بیبز “

وہ اس کے ہاتھ تھامتے بولا تھا ۔۔۔

” اسٹار ۔۔۔ اسٹار ۔۔۔۔ اسٹار۔۔۔۔ “

وہ بھی اس کی آنکھوں کی۔ دیکھتی مگن سی بولی تھی ۔۔۔

” یہ کیا ہے ؟؟”

جائسم مسکراتے پوچھ رہا تھا ۔۔۔

” گالی ہے ۔۔ کھاؤ گے ؟؟”

امتسال کی گھوریاں عروج پہ تھی ۔۔۔

” نہیں یار ۔۔۔ آملیٹ کھا تو رہا ہوں میں “

وہ سر جھکا کے اپنی آملیٹ کھانے لگا ۔۔۔۔

جبکہ امتسال مسکرا کے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

ان کا نکاح تین مہینے پہلے ہوا تھا ۔۔۔

کافی زور و شور کے عشق کے بعد ۔۔۔ ۔

اس نے اپنی انگلی کی پور سے جاسم کے چہرے کو چھوا تھا۔ ۔

جاسم اسے دیکھنے لگا

” ایم فالنگ فار یو جاسم ۔۔۔۔۔

ہر روز ۔۔۔

ہر دن ۔۔

ہر لمحہ ۔۔۔ “

جائسم نے مسکرا کے اس کے ہاتھ کو اپنے لبوں سے لگایا ۔۔۔

” تھینک یو امتسال فار بینگ ان مائی لائف ۔۔۔۔ “

تھوڑا آگے کو جھک کے اس کے گال پہ اس نے اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔

امتسال کا چہرہ جیسے دہک اٹھا ۔۔۔

جاسم اس کے چہرے پہ پھیلے خوبصورت رنگوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

” 4369012″

وہ کہہ رہا تھا سرگوشی میں۔ ۔۔ ۔امتسال نے گھور کے اسے دیکھا ۔۔۔

تو وہ گھبرانے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔۔۔

” آئی مین یو آڑ دا موسٹ بیوٹی فل گرل “

امتسال کو ہنسی آ گئی تھی ۔۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

مکہ اس کی ناک پہ زور سے پڑا تھا ۔۔۔۔ ۔

ابھی آفس میں وہ عنازیہ کے روم میں بیٹھا اپنی ناک سہلا رہا تھا ۔۔۔۔۔

جب دھڑام سے دروازہ کھلا تھا ۔۔۔

اور عالیار خان اندر آیا تھا ۔۔۔

اس کے خطرناک تیور دیکھ کے وہ اندر ہی اندر گھبرا گیا تھا ۔۔۔۔

عالیار ایک جست میں ہی اس کے قریب پہنچا تھا ۔۔۔

اس کا گریبان پکڑے وہ اسے خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” ہمت کیسے ہوئی تمہاری عنازیہ کو چھونے کی بھی ۔۔۔ “

وہ غرایا تھا ۔۔۔

ایک جاندار مکہ اس کے منہ پہ مارا تھا اس نے ۔۔۔

” اسے لے کے تم ایسی جگہ آئے ہی کیوں تھے ؟؟؟ اور پھر اسے ڈرنک بھی تم نے پلائی ہوگی “

خیام کے لئے تھوک نگلنا مشکل تھا ۔۔۔

” ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو چھونے کی بھی ۔۔۔۔ جانتے نہیں ہو کیا مجھے تم ۔۔۔۔ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر کے میں کسی کھائی میں گرا دوں گا جانتے بھی ہو “

عالیار دھاڑا تھا ۔۔۔۔ ۔

اس کے ہونٹوں کو دبوچ کے ۔۔۔۔

اس نے اپنی لائٹر نکالی تھی ۔۔۔۔

” انہی ہونٹوں سے چھوا تھا ناں “

” م۔۔۔ میں ۔۔۔ “

وہ گھگھیانے لگا ۔۔۔

لیکن عالیار لائٹر آن کر کے اس کے لبوں کے پاس لے جا چکا تھا ۔۔۔

وہ تو چیخ ہی پڑا تھا ۔۔۔۔۔

” ہشششش “

اسے چپ رہنے کا اشارہ کر کے وہ اب اس کے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا۔ ۔۔

اس کی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا ۔۔۔۔

” عالیار خان کی بیوی کو چھوؤ گے ۔۔۔ اس کی طرف غلط نظر ڈالو گے ۔۔۔ تمہیں۔ کیا لگا تھا کہ میں ایسے ہی چھوڑ دوں گا تمہیں ۔۔۔۔۔ “

وہ چلایا تھا ۔۔۔۔

ساتھ اس کے بازو کو تھاما ۔۔۔

” اسی ہاتھ سے چھوا تھا ناں “

” ن۔۔۔ نہیں “

خیام اس کے غصے سے واقف تھا ۔۔۔

اس سے پہلے وہ کچھ بولتا ۔۔۔

عالیار نے جھٹکے سے ۔۔۔

اپنی ٹانگ پہ اس کا بازو دبوچ کے مڑور دیا تھا ۔۔۔

جھٹکے سے چٹاخ کی آواز آئی تھی ۔۔۔۔ ۔

خیام کی چیخیں ابھری تھی ۔۔۔

آفس کے لوگ وہاں آئے تھے ۔۔۔

خیام کو ٹوٹے بازو ۔۔۔

اور عالیار کو اشتعال میں دیکھ کے وہ سب حیران رہ گئے تھے ۔۔۔۔

” میری بیوی کے روم میں کیا کر رہے تم ؟”

اسے دوسرے بازو سے پکڑ کے دھکا دیتے ہوئے باہر نکالا تھا ۔۔۔

خیام ان سب کے بیچ نیچے گرا تھا ۔۔۔۔۔

درد سے برا حال تھا اس کا ۔۔۔۔

عالیار کڑے تیور لیے اس کے قریب آیا تھا ۔۔۔۔

اس کے سینے پہ اپنے بھاری بوت والے پاؤں رکھے تھے ۔۔۔

اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کے غرایا تھا ۔۔۔

” آئندہ مجھے تم میری بیوی کے آس پاس بھی نظر آئے ۔۔۔۔۔ تو اس دن تمہاری زندگی کا آخری دن ہوگا ۔۔۔ گاٹ اٹ “

اسے چھوڑ کے وہ لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے جانے لگا تھا ۔۔۔

تو اس کی نظر وہاں کھڑی عنازیہ پہ پڑی ۔۔۔

جو حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

وہ ابھی ابھی پہنچی تھی ۔۔۔

اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔۔

اور پھر لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔

سب کولیگز کھبی عنازیہ کو دیکھتے ۔۔۔

کھبی خیام کو ۔۔۔

ایک نے آگے بڑھ کے اسے اٹھنے میں مدد دی تھی ۔۔۔

خیام کی نظر عنازیہ پہ پڑی تھی ۔۔

” عنازیہ ۔۔۔۔۔ “

جبکہ اس کی آنکھوں کے سامنے پھر سے وہ ویڈیو گھوم گئی تھی ۔۔۔

غصے سے اس کے قریب آئی تھی ۔۔۔

اور زور کا تھپڑ اس کے منہ پہ مارا تھا ۔۔۔

خیام حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا اب ۔۔۔۔

” شٹ اپ خیام ۔۔۔۔ دوست سمجھتی تھی تمہیں ۔۔۔ “

موبائل اس کی طرف کر کے چلائی تھی

” دیکھو ۔۔۔ غور سے دیکھو ویڈیو کو ۔۔۔۔۔ یہ سب واہیات کرتے تمہیں شرم تک نہیں آئی ۔۔۔۔ میں اتنی گری ہوئی لگی تھی تمہیں۔ ۔۔۔۔ نشے میں تھی تو تم یہ سب کرو گے ۔۔۔۔۔ “

خیام نے شرمندہ سی نظر اس پہ ڈالی تھی ۔۔

” ایم سوری عنا۔۔۔۔ “

” شٹ اپ خیام ۔۔۔۔۔ “

کہہ کے وہ ایک قہر آلود نظر اس پہ ڈال کے وہاں سے جا چکی تھی ۔۔۔۔

باقی سب بھی اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔

خیام کو اپنی پوزیشن کلئیر کرنا تھا ان سب کے بیچ ۔۔

خاص طور سے عنازیہ کے سامنے ۔۔۔

لیکن وہ اس وقت کچھ کر نہیں پا رہا تھا۔ ۔۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

ائیرپورٹ پہ منہ پھلائے وہ ارحان کے ساتھ چل رہی تھی ۔۔۔

ارحان کی نظر اس پہ پڑی تو چہرے پہ خود ہی مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔۔۔

” ایسے چلو گی تو سب سوچے گیں زبردستی لے جا رہا میں تمہیں “

رواحہ نے ایک نظر اس کے مسکراتے چہرے پہ ڈالی تھی ۔۔۔

پھر سامنے دیکھنے لگی ۔۔

” زبردستی ہی تو ہے “

ساتھ ہی ادھر ادھر نظر پڑی ۔۔۔

تو سب کا ارحان علی خان کے لئے احترام دیکھنے لگی ۔۔۔۔

دل کو کچھ ہوا تھا۔ ۔

کچھ خوشگوار سا ۔۔۔۔

وہ جو اس کا ہے ۔۔۔

سب کا احترام اس کے لئے کتنا دلفریب سا ہے ۔۔۔۔

” تو واپس چلتے ہیں ؟”

وہ اس کی طرف جھک کے پوچھ رہا تھا ۔۔۔

رواحہ نے چلتے چلتے اس کا بازو تھام لیا ۔۔۔۔

ارحان نے چونک کے اسے دیکھا تھا ۔۔۔

اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی ۔۔۔

کیمرے کے فلشز ان کے چہرے پہ پڑ رہے تھے ۔۔۔۔

” میں چاہتی ہوں پوری دنیا کو معلوم ہے کہ میں ارحان علی خان کی ہوں اور ارحان علی خان بس میرے ہیں “

وہ اس کے ساتھ چلتی ہوئی مسکراتی دھیمی آواز میں بولی تھی ۔۔۔۔

ارحان زیر لب مسکرا پڑا تھا۔ ۔۔۔ ۔

” مطلب سب لڑکیوں کا دل توڑنے کا ارادہ ہے آپ کا ؟”

” منہ بھی توڑ دوں گی ان کا “

وہ مسکراتی ہوئی اس کے بازو پہ دباؤ ڈالتے بولی تھی ۔۔۔

” ایسی لگتی تو نہیں ہو “

وہ مسکراہٹ دبائے کہہ رہا تھا ۔۔۔

” میں کیا کچھ کر سکتی ۔۔۔ یہ ابھی آپ نے دیکھا ہی کہاں ہے “

” اچھا ۔۔۔۔۔ رئیلی “

اس کے انداز پہ ارحان کو ہنسی آ رہی تھی ۔۔۔ ۔

لیکن چہرے پہ سنجیدگی طاری کیے وہ چل رہا تھا ۔۔

” یہ کیمرے والے کب تک ہمارا پیچھا کرے گیں ؟”

رواحہ کو کوفت ہونے لگی تھی اب۔ ۔۔

” ابھی کے ابھی”

کہہ کے اس نے اپنے بندوں کو اشارہ کیا ۔۔۔۔۔

اور خود رواحہ کو لیے دوسری طرف سے نکل گیا ۔۔۔ ۔

رش کافی پیچھے رہ گیا تھا ۔۔۔۔ ۔

رواحہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” جادو کی چھڑی “

ارحان آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

رواحہ کو ہنسی آ گئی تھی ۔۔۔

” واؤ “

اور ساتھ ہی اس کا بازو بھی چھوڑا تھا ۔۔

ارحان نے چونک کے اس کی اس حرکت کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

لیکن جتایا کچھ نہیں ۔۔۔

مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ۔۔۔

وہ دونوں اب ائیروپلین میں تھے ۔۔۔۔۔

رواحہ اندر ہی اندر بےحد خوش تھی ارحان کے ساتھ ۔۔۔۔

یوں ایک خوبصورت سفر پہ جانا ۔۔۔

لیکن سامنے سے جتانا نہیں چاہتی تھی وہ ۔۔۔

اسے نظرانداز کیے وہ میوزک لگا کے بیٹھ چکی تھی ۔۔۔۔

جبکہ ارحان اس کی بےنیازی کو دیکھتا ۔۔۔

زیر لب مسکراتا ۔۔۔۔

میگزین دیکھنے لگا ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

عنازیہ رپورٹ بنا رہی تھی ۔۔۔

اسے کچھ دیر میں آن ائیر جانا تھا ۔۔۔۔

جب خیام اسکے آفس میں آیا تھا ۔۔۔۔

عنازیہ نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔۔

بازو پہ پلاسٹر لگا ہوا تھا اس کے ۔۔۔۔

چہرے پہ بھی جگہ جگہ زخم تھے ۔۔۔

آنکھوں کے گرد بھی نیل کے نشان تھے ۔۔۔۔

ہونٹ بھی سوجا ہوا تھا ۔۔۔

نظریں پھیر کے ۔۔۔۔

پھر سے اپنے کام میں مشغول ہو گئی ۔۔۔۔ ۔

وہ اس کے سامنے پڑی کرسی پہ بیٹھ گیا ۔۔۔

” ایم سوری عنازیہ “

اس نے شرمندگی سے کہا تھا ۔۔۔

وہ اتنی آسانی سے عنازیہ کو خود سے بدظن نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

” میں نشے میں تھا ۔۔۔ مجھے نہیں یاد ۔۔۔ یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔ ایم سوری تم تو میری دوست ہو ۔۔۔ میں کیسے تمہارے بارے میں ایسا کرنے کا سوچ بھی سکتا ہوں “

عنازیہ نے ایک خاموش نظر اس پہ ڈالی تھی ۔۔۔۔

خیام نے رونی صورت بنا لی تھی

” میں ہوش میں ہوتا تو یہ سب کرتا ۔۔۔۔ میں اتنا گرا ہوا لگتا تمہیں۔ “

عنازیہ نے اس کی باتوں پہ یقین کر لیا تھا شاید ۔۔

تبھی سر اثبات میں ہلایا تھا ۔۔۔۔

لیکن خیام کو حیرت ہو رہی تھی کہ وہ ویڈیو بنائی کس نے ہوگی ۔۔۔ ۔تبھی پوچھنے لگا

” وہ ویڈیو کس نے سینڈ کی تھی تمہیں۔ ؟”

” آبان سکندر نے “

اس نے دانت پیستے کہا تھا ۔۔۔ ۔خیام کو غصے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔۔۔۔

دل کیا ابھی جا کے اس کا منہ توڑ دے ۔۔۔

” مجھے ٹریپ کرنا چاہ رہا اس ویڈیو کے ٹرو ۔۔۔۔ لیکن وہ شاید ٹھیک سے مجھے جانتا نہیں ۔۔۔ میں اس جیسی ویڈیوز سے ڈر کے خاموش ہونے والوں میں سے نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ پورے ویب سائٹس پہ لیک بھی کر دیں مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔ میں پھر بھی اپنا کام کنٹینیو رکھوں گی “

اس کا لہجہ سرد تھا ۔۔۔۔ ۔

” بہت کتا اور ذلیل ہے یہ آبان سکندر تو ۔۔۔۔ تمہیں ڈرنا بھی نہیں چاہئے ۔۔۔۔ بی بریو ۔۔۔۔۔ اس کی تو “

خیام بھی اپنا غصہ اتار رہا تھا ۔۔

عنازیہ نے اسے ابرو اچکا کے دیکھا

” ریلیکس ۔۔۔ فی الحال تم اپنا ٹوٹا ہوا بازو سنبھالو ۔۔۔ “

خیام سے کھجانے لگا ۔۔۔۔

دل ہی دل میں وہ طے کر چکا تھا کہ اب وہ اس بات کا بدلہ عالیار خان سے بہت اچھے طریقے سے لیں گا ۔۔۔۔

اسے بس رشنا کو کال ملانی تھی ۔۔۔۔

اور رشنا نے اس کی ویڈیو لیک کر دینی تھی ۔۔۔

پورے ویب سائٹس ۔۔۔

نیوز چینلز پہ ۔۔۔

اور عالیار خان سے اس کا بدلہ پورا ہو جانا تھا ۔۔۔

لیکن سبق تو آبان سکندر کو بھی دینا تھا اس نے ۔۔۔

جو اس کی یوں ویڈیو بنائی تھی اس نے ۔۔۔۔

عنازیہ کے معاملے میں وہ کوئی سودے بازی نہیں کرنا چاہتا تھا

لیکن آبان سکندر بار بار ٹانگ اڑا کے اسے غصہ دلانے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔

عنازیہ پیپرز سنبھالتی اپنی جگہ سے اٹھی تھی ۔۔۔

” میں آن ائیر جا رہی ۔۔۔ ٹیک کئیر “

خیام نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔

وہ جا چکی تو خیام بھی وہاں سے اٹھ کے اپنے کیبن میں آیا تھا ۔۔۔۔

اپنا موبائل اٹھا کے اس نے رشنا کو کال کی تھی ۔۔۔

” ہیلو ۔۔۔۔ اٹس یور ٹرن ناؤ رشنا ۔۔۔۔ وہ ویڈیو لیک کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے ۔۔۔ سو اسٹارٹ رائٹ ناؤ “

کال ڈسکنیکٹ کر کے وہ دیر تک ۔۔۔

غیر مرئی نقطے کو گھورتا مسکراتا رہا ۔۔۔۔

عالیار خان سے بدلے کا وقت آن پہنچا تھا اب ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے ۔۔۔

آبان سکندر بیٹھا ۔۔۔

کسی مووی کو دیکھنے میں محو تھا ۔۔۔

جب خیام نے حرام مشروب کی گلاس اس کے منہ پہ پھینکی تھی ۔۔۔۔

آبان سکندر نے چونک کے اسے دیکھا ۔۔۔

جو خطرناک تیور لیے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔

پھر دوبارہ سے اپنی پہلے والی پوزیشن میں بیٹھ کے ٹی وی دیکھنے لگا ۔۔۔

” کس کے ہاتھوں کا کمال ہے یہ ؟؟؟ “

” عنازیہ کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہے تم “

وہ غرایا تھا ۔۔

جبکہ وہ مسکرانے لگا ۔۔

” آئی جسٹ لو ہر یار ۔۔۔۔۔ تبھی نہیں چھوڑ رہا “

” ابے سالے “

وہ ایک ہاتھ سے اس کا گریبان پکڑ کے غرایا تھا ۔۔۔

” بکواس کی ہے ناں میں نے ۔۔۔ کہ اپنے مسلوں میں عنازیہ کو بیچ میں نہ لا ۔۔۔۔ سمجھ نہیں آتی تجھے “

” وہ خود پاؤں پھنساتی ہے میرے کاموں میں ۔۔۔۔ اب بھگتنا تو ہوگا ہی اسے “

وہ اپنی شرٹ اس کی گرفت سے چھڑاتے بولا تھا ۔۔۔

” تیری سینڈ کی ہوئی اس ویڈیو کا اس پہ اثر تک نہیں ہوا ۔۔ وہ ڈرتی نہیں ہے تجھ سے اور نہ تیرے اس اوچھے ہتھکنڈوں سے “

خیام نے اسے شرم دلانے کی کوشش کرتے کہا تھا ۔۔۔

جبکہ آبان سکندر ہنسنے لگا تھا ۔۔۔ ۔

” یار ایسی لڑکیاں مجھے بہت اٹریکٹ کرتی ہے۔ ۔۔ ان سے لڑنے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔ انرجی زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔ تھکنے کا نام ہی نہیں لیتی ایسی لڑکیاں ۔۔۔۔ خوب جمے گا رنگ ۔۔۔ جب سامنے ہوگیں آبان سکندر اور عنازیہ خان “

خیام کے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے بےنیاز وہ بولے جا رہا تھا ۔۔

خیام نے اپنے لب بھینچ لیے ۔۔۔

” آبان ۔۔۔۔ سن لیں عنازیہ سے فاصلہ رکھ ۔۔۔۔ اس سے دور رہ “

” نہیں رہ سکتا ناں ۔۔ مجھے بھی محبت ہو رہی اس سے اب تو ۔۔۔ “

آبان ہنستے ہو کہنے لگا ۔۔۔

خیام نے آگے بڑھ کے اسے چہرے پہ مکہ مارا تھا ۔۔۔ ۔

” اوووو “

آبان خود کو بچاتے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

” مسلہ کیا ہے تجھے اب ۔۔۔۔ اچھا عنازیہ تیری ہی ہے ۔۔ چل خوش ۔۔۔ “

خیام صوفے پہ گرتے بیٹھا تھا ۔۔۔۔

” کل کے نیوز چینلز ۔۔۔ ویب سائٹس پہ عالیار خان کے ویڈیو کے لنک ہوگیں “

آبان نے چونک کے اسے دیکھا تھا ۔۔

” کیا مطلب ؟؟ تو یہ سب عالیار خان نے کیا ہے تیرے ساتھ ؟”

خیام اثبات میں سر ہلانے لگا ۔۔ ۔

” اور اب رشنا بدلہ لے گی عالیار خان سے ان سب کا بدلہ “

” واؤ ۔۔۔ کمال ہوگیا یہ تو ۔۔۔۔ مطلب کل بہت امپورٹنٹ دن ہے تیرے لئے “

آبان اسے سراہتے بولا تھا ۔۔

” اور عالیار خان کی بربادی کی شروعات “

اس کے لبوں پہ تلخ مسکراہٹ تھی ۔۔۔

اسے اب کل کا انتظار تھا بےصبری سے !!!

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

From High to Hell

#Malayeka

#Episode_14

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

Episode 14

دھڑام سے دروازہ کھول کے وہ اندر آئی تھی ۔۔۔

اپنے بیڈ پہ سوئے اس شخص پہ نظر پڑی ۔۔۔

جو مزے سے سو رہا تھا ۔۔۔۔

پوری دنیا اس کی لیکڈ ویڈیو کس تماشا کر رہی تھی۔ ۔۔

اور یہ مسٹر دنیا جہان سے بےخبر سو رہا تھا ۔۔۔۔

ایک پل کو جی چاہا ۔۔۔

بھاری سا ڈیکوریشن پیس اٹھا کے اس کے منہ پہ مار دیں ۔۔۔۔

بیڈ کے قریب آ کے اس نے پانی سے بھرا جگ اس پہ انڈیلا تھا ۔۔۔

وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔

کچھ لمحے تو سمجھ نہیں آئی ۔۔۔

کہ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔

عنازیہ پہ نظر پڑی ۔۔۔۔

تو اسے گھورنے لگا

” کیا مسلہ ہے اب تمہیں صبح صبح “

وہ جھنجھلایا تھا ۔۔

عنازیہ نے اس کا موبائل اٹھا کے اس کے منہ پہ پھینکا تھا ۔۔۔۔

عالیار نے ہوشیاری سے خود کو سائیڈ پہ کیا تھا ۔۔۔

” کھول کے دیکھ لو ۔۔۔

اپنا تماشا ۔۔۔۔۔

پورے نیوز چینلز ۔۔۔ ویب سائٹس ۔۔۔۔ اینٹرنیٹ ۔۔۔ فیس بک ۔۔۔

ہر جگہ تمہارا منہ کالا ہو رہا ہے “

وہ چلائی تھی ۔۔۔

” اور مزے کی بات ۔۔ سب مجھ سے آ کے پوچھ رہے از اٹ ٹرو عنازیہ ۔۔۔۔ یو بلڈی ****** تمہاری وجہ سے میری عزت کی بھی دھجیاں اڑ رہی ہے “

عالیار نے اس کی گالی پہ اپنے لب بھینچ لیے تھے ۔۔

” کیا بکواس ہے “

وہ اپنا موبائل کھول کے دیکھنے لگا ۔۔

اور واقع ہر طرف اس کی اور رشنا کی ویڈیوز ہی تھی ۔۔۔

” یو ٹولڈ می کہ تم نے کچھ نہیں۔ کیا ۔۔۔ رشنا تمہارے قریب آئی تھی ۔۔۔ تم بہکے نہیں تھے ۔۔۔۔

Then what the hell is this Aaliyar Khan “

وہ چلائی تھی ۔۔۔۔

جبکہ عالیار ویڈیو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

جس میں وہ صوفے پہ بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ اور رشنا شارٹ ڈریس میں ملبوس ۔۔۔

اس پہ جھک رہی تھی ۔۔۔۔

اپنی انگلی کی پور سے اس کی گردن چھو رہی تھی ۔۔۔۔

اپنے لب اس کے لبوں کے قریب کر رہی تھی ۔۔۔

اور آگے کی ویڈیو نہیں تھی ۔۔۔

اس نے عنازیہ کی طرف دیکھا ۔۔۔

جس کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا ۔۔۔

اور آنکھیں پانیوں سے بھر چکی تھی ۔۔۔

” عنازیہ یہ جھوٹ ہے ۔۔۔۔ میں نے رشنا کے ساتھ کچھ نہیں کیا ۔۔ ویڈیو ہی ہاف ہے ۔۔۔۔ آگے کی ویڈیو میں تمہیں صاف دیکھ جائے گا کہ میں بےقصور ہوں “

وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔

” اور کتنا جھوٹ بولو گے تم عالیار خان ۔۔۔ کتنا جھوٹ ؟

کتنا گراؤ گے خود کو میری نظروں میں ۔۔۔

میں وہاں نہ آتی ۔۔۔

تم مجھے نہ دیکھتے تو تم بھی “

وہ آگے نہ بول پائی ۔۔

آنسوؤں سے اس کا گلا رندھ گیا تھا ۔۔۔ ۔

” بدکرداری کا ثبوت ہی چاہئیے تھا میڈیا کو ۔۔ لو مل گیا “

عالیار بیڈ سے اتر کے اس کے پاس آیا تھا ۔۔

” عنا….. “

” بس ۔۔ “

عنازیہ نے ہاتھ اٹھا کے اسے آگے آنے سے روکا ۔۔

” میرے قریب مت آؤ عالیار ۔۔۔ نفرت ہو رہی ہے مجھے خود سے کہ میں نے تم سے محبت کی ۔۔۔ “

وہ آنسو بھری سے اسے دیکھتی چلائی تھی ۔۔۔۔

” عنازیہ ۔۔۔ “

وہ بےبسی کی انتہا پہ تھا ۔۔۔۔

اور اس کی وہ شکوہ کرتی نگاہیں ۔۔۔۔

” کیا میں کافی نہیں تھی تمہارے لئے عالیار ؟؟؟ ایسا کیا تھا اس میں جو مجھ میں نہ ڈھونڈ پائے تم ۔۔۔ “

وہ اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑ کے چلائی تھی ۔۔۔

” میں سکون نہ دے پائی تمہیں۔ ؟؟؟ میرا وجود تمہاری خواہشات کی تکمیل کے لئے ناکافی تھا عالیار ۔۔۔ جو رشنا کے پاس چلے گئے ۔۔۔۔ اور سب مجھ سے پوچھ رہے “

وہ اس کی شرٹ چھوڑ کے ۔۔۔۔

وہیں نیچے بیٹھ کے رونے لگی ۔۔۔

” سب مجھ سے پوچھ رہے ۔۔۔ کیا یہ سچ ہے ۔۔۔ عالیار ایسا ہے کیا “

وہ رو رہی تھی ۔۔۔

اپنے اعتبار کے ٹوٹنے کا ماتم کر رہی تھی ۔۔۔

عالیار کو سمجھ نہیں۔ آ رہی تھی ۔۔۔

کیسے اسے اپنی صفائی دے ۔۔۔

کیسے اس کا دل خود سے صاف کرے ۔۔۔

وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔

اس کے بالوں کو چھونے لگا ۔۔۔

عنازیہ نے اس کے ہاتھ نفرت سے جھٹک دیے ۔۔۔

” کیوں عالیار ؟؟؟ کیوں ؟”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی کہہ رہی تھی ۔۔۔

” اپنی حفاظت کرنا ۔۔۔

اپنے جسم کی حفاظت کرنا بس ایک عورت کے لئے ہی ہے ۔۔

مرد کے لئے کچھ نہیں ہے ؟؟ ۔

محبت میں وفا کرنا کیا مرد کو نہیں سکھایا گیا ؟؟؟”

عالیار کی آنکھ سے آنسو پھسل کے گال پہ گرا تھا ۔۔۔

” تمہیں لگتا ہے عنازیہ کہ میں ایسا ہوں ؟”

اس نے ٹوٹے لہجے میں پوچھا تھا ۔۔۔۔ ۔

” کیا میں اتنا گرا ہوا ہوں عنازیہ ؟؟

اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے پوچھو خود سے کہ میں اس گناہ کا مرتکب ہو چکا ہوں ؟”

عنازیہ کو اس کی آنکھوں میں سچائی کی جھلک دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔

” پوچھو خود سے عنازیہ ۔۔۔۔ “

” دھوکا نہیں۔ کھاؤں گی اب تمہارا عالیار خان “

عنازیہ نے نفی میں سر ہلاتے کہا تھا ۔۔۔

عالیار اس کی آنکھوں میں نفرت دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ ۔

” اگر تمہیں لگتا ہے میں گناہ کا مرتکب ہوا ہوں ۔۔۔

تم سے بےوفائی کا مرتکب ہوا ہوں ۔۔۔

تو تمہیں کھبی جھوٹا پروف نہیں کروں گا میں عنازیہ ۔۔۔

کھبی نہیں ۔۔۔۔ “

وہ عنازیہ کی آنکھوں میں دیکھتا کہہ رہا تھا ۔۔۔

” بس دل میں ایک کسی سی رہے گی ساری عمر کہ کاش عنازیہ ۔۔۔ ایک بار سہی ۔۔۔ میرا اعتبار تو کر لیتی “

اس کے لبوں پہ زخمی مسکراہٹ تھی ۔۔۔

عنازیہ نے سر جھٹک کے رخ موڑا تھا ۔۔۔۔۔ ۔

عالیار اپنی جگہ سے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔ ۔

” میں محبت میں کھبی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا عنازیہ خان ۔۔۔۔ “

کہہ کے وہ وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔۔

عنازیہ اسے جاتا دیکھتی رہی تھی ۔۔۔۔

وہ شخص عجیب ہی تھا ۔۔۔

ٹوٹا ہوا سا ۔۔۔

بکھرا ہوا سا ۔۔۔

تھکا ہوا سا لگا تھا اسے ابھی وہ شخص ۔۔۔۔ !!!

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” میم عنازیہ “

وہ جیسے کی گاڑی سے باہر نکلی ۔۔۔

ایک ہجوم سا اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

مائیک اور کیمرے ہاتھ میں لیے ۔۔۔۔۔

وہ سب جیسے اسی کے ہی منتظر تھے ۔۔

” میم عنازیہ ۔۔ آپ نے جو عالیار خان پہ بدکرداری کا الزام لگایا تھا ۔۔۔ آج وہ سچ ثابت ہوا ہے ۔۔۔ آپ کیا کہنا چاہے گی اس بارے میں ؟”

کوئی سوال کر رہا تھا ۔۔

” میم عنازیہ اب کیا کرنے والی ہے آپ ؟؟ ڈائیورس لے گی آپ ؟؟”

دوسرا سوال داغا گیا تھا ۔۔۔

” میم عنازیہ ۔۔۔ عالیار خان نے اپنی اس حرکت سے آپ کی محبت کا سودا کیا ہے ۔۔۔۔ کیا کہنا چاہے گی آپ ؟”

” رشنا کے ساتھ کب سے تعلقات تھے عالیار خان کے ؟؟؟”

سوال پہ سوال داغے جا رہے تھے ۔۔۔

اور عنازیہ ان کے بیچ سے ہو کے گزرتی ۔۔۔

آفس کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔۔

گارڈز عنازیہ کے دونوں طرف ساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔۔۔

رپورٹرز کو عنازیہ سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔

آفس کے اندر پہنچتے ہی عنازیہ نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔

باہر شور سا برپا تھا ۔۔

میم عنازیہ ۔۔۔ میم عنازیہ ۔۔۔ کر رہے تھے سب ۔۔۔

اس کا جواب جاننا چاہ رہے تھے سب۔ ۔

اس کا ری ایکشن دیکھنا چاہ رہے تھے سب ۔۔۔

وہ سر تھام کے اپنے روم میں آ کے بیٹھ گئی ۔۔۔

جب امتسال اس کے پاس آئی تھی ۔۔

” عنازیہ “

اس نے نم آنکھوں سے امتسال کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔

” سب ختم ہو گیا امتسال “

امتسال نے آگے بڑھ کے اسے گلے لگایا تھا ۔۔۔

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی رو پڑی تھی ۔۔۔

عالیار خان ۔۔۔

اس کی محبت ۔۔۔ اس کا شوہر تھا وہ ۔۔۔۔

اسے کھبی ایسی امید نہیں۔ تھی عالیار خان سے ۔۔۔۔

اور اب ۔۔۔

سب جیسے ختم ہو چکا تھا ۔۔۔

جبکہ پاس کھڑا خیام زیر لب مسکرا پڑا تھا ۔۔۔

عالیار خان کی بربادی شروع ۔۔۔

اور

عنازیہ خان غم سے نڈھال ہو کے اب خیام کی پناہوں میں آئے گی ۔۔۔

خیام وہاں کھڑا یہی سوچ رہا تھا ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” اوہ ہیلو ڈارلنگ ۔۔۔۔ عالیار خان “

رشنا کی آواز ائیر پیس پہ سنتے ہی ۔۔۔

غصے کی لہر اس کے وجود میں شدت سے دوڑی تھی ۔۔۔۔

” یہ ہو کیا رہا ہے عالیار ۔۔۔ ایوری وئیر رشنا اور عالیار خان ہو رہا ۔۔۔ آئی مین میرا نام تمہارے نام کے ساتھ لیا جا رہا ہے ۔۔۔۔ وہاٹ آ پلیزینٹ سرپرائز فار می”

ایک ادا سے کہتی وہ اس کا اشتعال بڑھا گئی تھی ۔۔۔

” شٹ اپ یو بچ ۔۔۔۔۔ یہ کیا بیہودہ حرکت ہے “

وہ غرایا تھا جبکہ رشنا ہنسنے لگی تھی ۔۔

” ارے کوئی نہیں ڈئیر عالیار ۔۔۔ ڈونٹ بی سو ہائپر ۔۔۔ اوہ کم آن بیبز ۔۔۔ یہ سب تو ہونا ہی تھا ایک دن “

” شٹ اپ رشنا ۔۔۔ یو نو بیٹر کہ اس ویڈیو کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہے ۔۔۔ تم اس ویڈیو کو غلط رنگ دے رہی ہو “

وہ چلایا تھا ۔۔۔

” ہاں ناں ۔۔۔ اس کا تو دوسرا سین میرے پاس ہی ہے ۔۔۔ جب تم نے مجھے دھکا دے کے خود سے الگ کیا تھا ۔۔۔۔۔ “

اس کی آنکھوں میں آگ دہک رہی تھی ابھی ۔۔۔ ۔

” اسی کا تو بدلہ ہے یہ سب مائی ڈئیر عالیار ۔۔۔۔ ویسے بھی عالیار خان میرا نہ ہو سکا تو وہ عنازیہ کا کیسے ہو سکتا ہے۔ ۔۔۔۔ اب ہوگا یہ کہ تمہیں میرے پاس ہی آنا پڑے گا ۔۔۔۔ تلوے چھاٹتے آؤ گیں تم ۔۔۔ کیونکہ عنازیہ کے لئے ہمارا مجنوں خیام ہے ناں ۔۔۔ سنا ہے بڑا مجنوں بنا پھرتا ہے عنازیہ کے لئے ۔۔۔۔ “

وہ ایک ادا سے بولی تھی ۔۔۔

” بکواس بند کرو ۔۔۔ “

وہ دھاڑا تھا ۔۔۔۔۔

برداشت کی حد ختم ہو رہی تھی ۔۔۔۔

” ارے اتنا غصہ ۔۔۔ چہ چہ چہ ۔۔۔۔ اوہ کم آن اتنا غصہ تمہارے اس خوبصورت چہرے پہ نہیں جچتا ۔۔۔۔ اب تم اکیلے رہ گئے ہو ۔۔۔

عنازیہ تو خیام کی ہونے لگی ۔۔

تو کم میرے پاس ۔۔ آئی ایم ہئیر فار یو بیبز “

وہ اسے غصہ دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی تھی ۔۔۔

اس نے موبائل بیڈ پہ پھینکا تھا ۔۔۔۔

غصے سے کمرے کی ہر چیز تہس نہس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

وہ مرد تھا ۔۔

ایک مضبوط مرد ۔۔۔

اسے اپنے امیج کی بھی پرواہ نہیں تھی ۔۔

لوگ کیا سوچتے ہیں ۔۔

میڈیا کیا کہتا ہے ۔۔۔

اسے پرواہ تھی تو بس عنازیہ خان کی ۔۔

جو اس سے بدظن ہو چکی تھی ۔۔۔۔

اور یہی بات اسے توڑ رہا تھا ۔۔۔

رشنا کے لئے اس کا اشتعال بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔

اس کے ذہن میں رشنا کی باتیں گونجنے لگی ۔۔

خیام اور عنازیہ ۔۔۔۔

غصے سے اس نے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پہ پنچ مارا تھا ۔۔۔۔

اس کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔

اسے پرواہ کب تھی اس زخم کی ۔۔۔

وہ اپنے دل کے زخم پہ رو رہا تھا ۔۔۔۔

وہیں صوفے پہ سر تھام کے بیٹھ گیا ۔۔۔

” عنازیہ ۔۔۔ “

وہ چلایا تھا ۔۔۔

” میں بےقصور ہوں عنازیہ ۔۔۔ کیسے یقین دلاؤں ۔۔۔ کیسے “

اس کو دل اپنا ماتھا پیٹنے کو چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ اپنی محبت کھونے جا رہا تھا ۔۔۔

اپنی زندگی میں ۔۔۔

عنازیہ خان وہ پہلی لڑکی تھی ۔۔

جسے اس نے ٹوٹ کے چاہا تھا ۔۔

اور

اب اسے ہی کھو چکا تھا وہ ۔۔۔۔

اس کا دل جیسے گہری کھائی میں گرتا محسوس ہو رہا تھا اسے ۔۔۔۔۔

محبوب کی آنکھوں میں سپنے لئے شک دیکھنا ۔۔۔

اپنے لئے بےیقینی دیکھنا ۔۔۔

اپنے لئے اسے بدظن ہوتے دیکھنا ۔۔۔

بہت تکلیف دہ ہوتا ہے ۔۔

اور

جب آپ سے وہ دور چلا جائے ۔۔۔۔

تب آپ کی سانسیں بھی وہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے ۔۔۔

آپ سے بہت دور ۔۔۔ !!!

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

ایک بار ۔۔۔

دو بار ۔۔۔

تین بار ۔۔۔

عنازیہ بار بار وہ ویڈیو پلے کر کے دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔

وہ جاننا چاہتی تھی ۔۔۔

عالیار خان کا سچ وہ جاننا چاہتی تھی ۔۔۔۔

اسے عالیار کی آنکھوں میں سچائی نظر آئی تھی ۔۔۔

وہ عنازیہ سے جھوٹ نہیں بول سکتا ۔۔۔

اس کا دل گواہی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

اور

اس نے کچھ نوٹ کیا تھا ۔۔۔

ویڈیو نامکمل تھی ۔۔۔

ایڈیٹ کر کے ہاف ویڈیو دکھائی گئی تھی میڈیا کو ۔۔۔۔

عالیار لب بھینچے جس طرح سے ۔۔۔۔

اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے ۔۔۔۔۔۔

اور اس سے آگے کی ویڈیو نہیں تھی ۔۔۔۔

عالیار کے الفاظ کی بازگشت تھی اس کے کانوں میں ۔۔۔۔

موبائل سائیڈ پہ رکھ کے ۔۔۔

اس نے اپنے درد کرتے سر کو ہاتھوں پہ گرایا تھا ۔۔۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔

کہ وہ کیسے کوئی راستہ ڈھونڈے ۔۔۔

کیسے حقیقت تک پہنچے ۔۔۔۔

جب کافی کا مگ اس کے سامنے رکھا گیا تھا ۔۔۔

اس نے چونک کے اوپر دیکھا ۔۔

تو خیام مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” کافی ۔۔ “

عنازیہ نے گہرا سانس لے کے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔

خیام بھی اس پہ بھرپور نظر ڈالتا ۔۔۔

اسکے سامنے بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔

” ڈسٹرب لگ رہی ہو “

وہ پوچھنے لگا ۔۔

” ہاں ۔۔۔ نہیں آئیڈیا کہ کیا سچ ۔۔۔۔”

لیکن کچھ سوچ کے چپ ہو گئی تھی وہ ۔۔۔۔

” کیا ہوا ۔۔۔۔ چپ کیوں ہو گئی “

خیام کی سوالیہ نظریں اس پہ تھی ۔۔

عنازیہ نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

” کچھ نہیں ۔۔۔ بس تھوڑا تھک گئی ہوں “

وہ کافی کا سپ لیتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔

خیام اس کی ادھوری بات سے بدمزہ ہوا تھا ۔۔

لیکن خاموش رہا تھا ۔۔۔۔

” رشنا کو جانتے ہو تم ؟”

وہ یونہی عام سا سوال کر رہی تھی جبکہ خیام بوکھلا ہی گیا ۔۔

” ن۔۔۔ نہیں تو “

” ہمممم “

وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

” ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ؟”

خیام گڑبڑا ہی گیا تھا ۔۔۔

عنازیہ نے سر جھٹکا ۔۔۔

” کچھ نہیں ۔۔ بس کچھ سوچ رہی تھی ۔۔۔ “

” کیا سوچ رہی ہو ؟”

اس نے پھر سے سر جھٹکا ۔۔

” تمہارا زخم کیسا ہے اب خیام ؟”

وہ پوچھ رہی تھی ۔۔۔

خیام مسکرانے لگا ۔۔

” بیٹر ہوں بس ۔۔۔۔ تمہارے عالیار خان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مجھے مروانے میں “

عنازیہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

” رشنا کسی بات کا بدلہ لینے کے لئے ایسا کر رہی ہے آئی تھنک “

عنازیہ اچانک سے بولی تھی ۔۔

خیام چونکا تھا ۔۔

” کیسا بدلہ “

” اس سب کے پیچھے جسٹ رشنا نہیں ۔۔ کوئی اور بھی ہے جو اس کے ساتھ یہ سب کر رہا ہے “

عنازیہ بولی تھی ۔۔۔

” ک ۔۔۔ کون ؟”

خیام کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔

عنازیہ کی نظریں اس پہ تھی ۔۔

اور وہ کنفیوز سا ادھر ادھر دیکھنے لگا تھا ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” عین ۔۔۔ جب تم ہنستی ہو ناں ۔۔۔

تو میرا دل کرتا ہے کہ میں تمہاری ہنسی سے ۔۔۔

تمہارے چہرے پہ بننے والے ان چھوٹے چھوٹے ڈمپلز میں دفن ہو جاؤں ۔۔۔ “

آحان محبت سے چور نظروں سے اسے دیکھتے کہہ رہا تھا ۔۔۔

وہ مسکرائی تھی ۔۔۔

پلکیں جھکا کے ۔۔۔

آحان نے اپنی انگلی کی پور سے ۔۔۔

اس کے گالوں پہ بننے والے ان ڈمپلز کو چھوا تھا ۔۔۔۔۔

وہ بہت دلچسپی سے اس کی لرزتی پلکوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” میری محبت ۔۔۔

جب تمہارے چہرے پہ شائن کرتی محسوس ہوتی ہے مجھے عین ۔۔۔

تو دل چاہتا ہے کہ۔۔۔ “

وہ رک گیا تھا ۔۔

عین اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

” کہ ؟؟”

اس نے اچانک سے پوچھا تھا ۔۔

آحان زیر لب مسکرایا تھا ۔۔۔

” بےاختیار ہو کے ۔۔۔

تمہیں مکمل محبت کردوں ۔۔۔۔ “

وہ مسکراتی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

دل کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی ۔۔۔

گال دہکنے لگے تھے ۔۔۔

آنکھیں جیسے بےاختیار ۔۔۔۔

اس کی گرے آنکھوں کو چوم رہی تھی ۔۔۔

پلکیں جھکانا محال سا لگا تھا ۔۔۔

” آحان ۔۔۔ یہ اسمیل کیسی ہے ؟؟”

وہ کھوئی کھوئی سی پوچھ رہی تھی ۔۔۔

” کون سی اسمیل ؟؟”

آحان بھی کھویا کھویا سا تھا ۔۔۔

” میرا چکن “

وہ ایکدم سے ہڑبڑا کے اوون کی طرف بھاگی تھی ۔۔

یہ آحان کا کچن تھا ۔۔۔

جہاں عین اپنی کارستانی انجام دے رہی تھی ۔۔۔

” اوہ شٹ “

چکن آدھا جل گیا تھا ۔۔۔

آحان بھی مسکراتا ہوا اس کے پیچھے آیا تھا ۔۔۔

” دیکھو ناں۔

تمہیں محبت کرنے کا خیال بھی ابھی آیا تھا “

عین روٹھے انداز میں بولی تھی ۔۔

آحان گہرا مسکرایا ۔۔

” قریب آنے نہیں دیتی ہو ۔۔

محبت کیسے کرے گیں “

عین نے گھور کے اسے دیکھا ۔۔

لیکن وہ زیر لب مسکرا رہا تھا ۔۔۔

پھر عین نے رونی صورت بنائی ۔۔

” اوہ کم آن لیو اٹ ۔۔۔ “

اس کا ہاتھ تھام کے اسے ڈایینگ ٹیبل کی طرف لا کے ۔۔

کرسی پہ بٹھایا تھا ۔۔

” میں باہر سے آرڈر کر لیتا ہوں ۔۔۔ “

عین نے روٹھے انداز میں اسے دیکھا ۔۔

جبکہ وہ مسکراتا اب کال ملا رہا تھا اپنے موبائل سے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” عین سے عنازیہ خان بن گئی تم آج میرے لئے ۔۔۔ “

ماضی کی یادیں تھی ۔۔۔

سگریٹ کا دھواں تھا ۔۔۔

اور

نشے میں دھت اس کا وجود تھا ۔۔۔

ہمکلامی سی کی تھی اس نے خود سے ۔۔۔

لہجہ درد سے چور تھا ۔۔۔

آنکھیں کرب زدہ تھی۔ ۔۔

” ول یو میری می عین ؟؟”

” نو “

آوازوں نے پھر سے تنگ کیا تھا ۔۔۔

وہ اپنا سینہ مسلنے لگا ۔۔

آنکھوں میں نمی سی تھی ۔۔

” آحان خان سے میں آبان سکندر بن گیا ۔۔۔

اور

تم آحان خان کو چھوڑ کے ۔۔

عین سے عنازیہ خان بن گئی ۔۔۔ “

اسے عنازیہ کا عالیار کے ساتھ ۔۔

مسکراتا چہرہ یاد آیا ۔۔۔

تو درد سے آنکھیں میچ کے ۔۔

اس نے اس زہر بھرے سگریٹ کے لمبے لمبے کش لیے تھے ۔۔۔۔

” محبت کرتی ہوں تم سے آحان ۔۔۔ “

محبت بھری آواز ابھری تھی اس کے کانوں میں ۔۔۔

اسکے ہاتھوں میں واضح لرزش تھی ۔۔۔۔

” اور میں نفرت کرتا ہوں تم سے عنازیہ خان ۔۔۔

بےحد نفرت ۔۔ “

وہ غرایا تھا خود پہ ہی ۔۔۔

” اور اپنی نفرتیں تم میں انڈیل دوں گا ۔۔۔ “

اس کی گرے آنکھوں میں سرخ رنگ کی دوڑیں سی بنی تھی ۔۔۔

اسے کسی بات سے غرض نہ تھی ۔۔

کہ خیام کیا کر رہا ہے ۔۔۔

عالیار کو نیچا دکھانے کے لئے ۔۔

عنازیہ کو تنگ کرنے کے لئے ۔۔

اسے اپنے قریب لانے کے لئے ۔۔۔

اس نے آج تک اپنا دل کسی کے سامنے نہیں کھولا تھا ۔۔

خیام جو اس کا دوست تھا ۔۔

اسے بھی آج تک علم نہ ہو سکا کہ عنازیہ کا کیا رشتہ ہے آبان کے ساتھ ۔۔۔

وہ ڈرگ ڈیلر جس لڑکی کی وجہ سے بنا ۔۔

وہ عین کوئی اور نہیں ۔۔

بلکہ عنازیہ خان ہے ۔۔۔ !!!!

” اپنی نفرتیں تمہارے رگ رگ میں بھر دوں گا عنازیہ خان ۔۔

جس طرح سے تم نے مجھے سراپا نفرت بنا دیا ۔۔۔ “

آواز سرد تھی ۔۔۔

آنکھیں بھی سرد تھی ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

From High to Hell

#Malayeka

#Episode_15

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

تیری یاد آئے جب مجھ کو
میں لوٹ آؤں گا ۔۔
وہ بھیگی رات ۔۔
جب بارش ہو ۔۔۔
میں بھیگ جاؤں گا ۔۔۔ “
آنکھیں موندے ۔۔۔
گٹار بجاتے وہ اپنی آواز کے سر بکھیر رہا تھا ۔۔۔
عنازیہ اسے آنکھوں میں نمی اور محبت سمائے ۔۔
محویت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” فاصلے ۔۔۔ سمٹ نہ سکے
راستے ۔۔۔۔ جو مٹ نہ سکے
ان فاصلوں کو ۔۔۔
سمٹنا ہے ۔۔۔۔
ان راستوں پہ ۔۔
چلنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کی بات ۔۔
کوئی جانے نا جانے
میں کہہ جاؤں گا ۔۔۔
وہ تیرے ساتھ
گزارے لمحے ۔۔
نہ بھول پاؤں گا “
اس نے آنکھیں کھول کے عنازیہ کو دیکھا تھا ۔۔۔
عنازیہ کو اس کی آنکھوں میں بھی نمی کی جھلک دکھائی دی تھی ۔۔۔
” آحان ۔۔۔ کیا ہوا ؟”
وہ مسکرانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔
سر جھٹک کے اس کے گال کے ہلکے سے چھوا تھا ۔۔۔
” جب بھی کچھ سنانے لگتا ہوں ۔۔
میری آنکھوں میں تمہارا ہی چہرہ اترتا ہے ہمیشہ “
عنازیہ مسکرانے لگی ۔۔
” اچھا ہے ناں ۔۔
کھبی مجھے بھولنے کا موقع ہی نہیں ملتا ہوگا تمہیں “
” بھولنا چاہتا بھی نہیں۔ ۔۔۔ “
اس کے بالوں کو سنوارتے اس نے کہا تھا ۔۔۔
عنازیہ پلکیں جھکا گئی ۔۔۔
آحان کو اس پہ بےاختیار پیار آیا تھا ۔۔
گٹار گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ رکھ کے وہ اس کا ہاتھ تھام کے ۔۔۔
اس کے ہاتھ کی انگلی میں موجود رنگ کو چھونے لگا ۔۔۔
” پلکیں جھکا کے مجھے ان آنکھوں کو پڑھنے سے روک کیوں دیتی ہو عین “
وہ دھیمے لہجے میں سرگوشی کر رہا تھا ۔۔۔
باہر ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی ۔۔۔
وہ دونوں شہر سے قدرے دور ایک پرسکون جگہ پہ تھے ۔۔۔
عنازیہ نے مسکرا کے ۔۔
پلکیں اٹھائی تھی ۔۔۔۔
آحان کی گرے آنکھوں میں جذبوں کا جہان آباد تھا ۔۔۔
عنازیہ کے گال دہک اٹھے تھے ۔۔.
” تو تم بھی ایسے مت دیکھا کرو مجھے ۔۔ “
” کیوں نہ دیکھوں ؟”
وہ پھر سے پلکیں جھکا گئی ۔۔
” میں کنفیوز ہو جاتی ہوں ۔۔۔ “
آحان دھیرے سے ہنس پڑا تھا ۔۔۔
” میں تو ابھی انکل سے کہنے جا رہا ۔۔۔
مجھے آپ کی بیٹی سے نکاح کرنا ہے ۔۔۔
جب میرے ڈیڈ آئے تو انھیں انکار مت کیجئیے گا پلیز “
آحان کے کہنے پہ ۔۔۔
عنازیہ نے چونک کے اسے دیکھا۔ ۔
” بابا سے کہو گے ؟؟
ابھی ؟؟”
” یس ۔۔ “
وہ کندھے اچکا گیا ۔۔۔
” اور بابا نے کہا نو ۔۔۔
تو ؟؟؟”
وہ گھبرانے کی ایکٹنگ کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
” تو اٹھا کے لے جاؤں گا “
عنازیہ کو ہنسی آ گئی ۔۔

” اتنی ہمت آ گئی ہے تم میں “
” دکھاؤں کتنی ہمت ہے ؟؟”
وہ اس کی طرف جھکتے بولا تھا ۔۔۔
تو عنازیہ بوکھلا سر نفی میں ہلانے لگی ۔۔۔۔۔
جبکہ آحان اپنے اور اس کی طرف کا دروازہ بند کر کے گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔
گاڑی جب عنازیہ کے گھر کے سامنے رکی ۔۔۔
تو طلال خان پہلے سے وہاں موجود تھے ۔۔۔۔
دونوں باہر آئے تھے ۔۔
” اسلام علیکم بابا ۔۔۔ “
عنازیہ نے آگے بڑھ کے سلام کیا ۔۔
” اسلام علیکم انکل “
آحان نے بھی احترام سے انھیں سلام کیا تھا ۔۔۔
” وعلیکم السلام کیسے ہو بیٹا ؟”
طلال خان بھی محبت سے اسے دیکھتے پوچھ رہے تھے ۔۔۔
” الحمدللہ آپ کی دعائیں ہیں ۔۔
آپ کی طبیعت کیسی ہے اب ؟”
عنازیہ دونوں کو مسکرا کے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” ٹھیک ہوں ۔۔
چلو اندر ۔۔۔۔
شام کی چائے پہ اچھا خاصا اہتمام ہوا ہے ۔۔
تم بھی ساتھ دو ہمارا “
” جی انکل ۔۔۔ “
طلال خان آگے بڑھے تو ۔۔۔
عنازیہ اور آحان بھی ایکدوسرے کو مسکرا کے دیکھتے ہوئے ان کے پیچھے ہی اندر کی طرف بڑھ گئے تھے ۔۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

اپنے گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑتی۔۔۔
وہ واشروم سے نکلی تھی ۔۔۔۔
یونہی بے خیالی میں وہ سوئے ہوئے ارحان کے سرہانے آ کے کھڑی ہو کے اسے غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
ہائے دشمن جاں ۔۔۔
دل دھک سے رہ گیا تھا اس کا ۔۔۔
مردانہ وجاہت کا مکمل شاہکار ۔۔۔۔
کوئی اتنا پیارا بھی ہو سکتا ہے ۔۔
وہ بھی پورے کا پورا پیارا ۔۔۔
وہ سوچتی اس پہ جھکی تھی ۔۔۔
نم بالوں کی بوندیں ارحان کے چہرے پہ گری تھی ۔۔۔۔
۔۔ ایک پل کو دل چاہا ۔۔۔
جھک کے اس چہرے کو ۔۔۔
اپنے نرم و نازک لبوں۔ سے چھو کے ۔۔۔۔۔۔
اس بےحد حسین احساس کو اپنے دل میں اتارے ۔۔۔۔
ارحان کے بوجھل سانسوں کی تپش اسے اپنے چہرے پہ محسوس ہوئی ۔۔۔۔
تو دل جیسے پسلیوں سے باہر آنے کو مچلنے لگا ۔۔۔۔۔۔
اس کے قربت کی خواہش ۔۔۔
رواحہ کے دل پہ جیسے حاوی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔
اور ایک منٹ کی دیر بھی نہ ہوئی تھی ۔۔۔
جب ارحان نے ۔۔۔
اس نازک سراپے کو کھینچ کے خود پہ گرایا تھا ۔۔۔
رواحہ اس اچانک افتاد پہ بوکھلا گئی تھی ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی ۔۔۔
ارحان نے اسے بیڈ پہ ۔۔۔
اپنے پہلو میں گرایا ۔۔۔
اور خود اس پہ جھکا اس کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
” م۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ “
اسے بوکھلاہٹ میں سمجھ نہیں آئی تھی کہ کیا کہے اب ارحان کو ۔۔۔۔
” چ۔۔۔ چھوڑئیے مجھے “
وہ اٹھنے لگی ۔۔۔
لیکن ارحان کی گرفت میں وہ پھنس کے رہ گئی ۔۔۔۔
” جب جاگ رہا ہوتا ہوں تب تو کتراتی ہو مجھ سے ۔۔۔ اور جب سو رہا ہوتا ہوں تب اتنے قریب آتی ہو ۔۔۔۔ “
ارحان اسے نظروں کے حصار میں لیے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
کچھ ہی دن ہوئے تھے ۔۔۔
اسے ارحان کی زندگی میں شامل ہوئے ۔۔۔۔
لیکن شاید اس کے عشق کی شدت ہی اتنی تھی ۔۔۔۔
کہ ارحان کو رواحہ بےحد اپنی اپنی ہی لگنے لگی تھی ۔۔۔۔۔
” ایسا کچھ نہیں۔ ۔۔ میں تو وہ ۔۔۔۔۔ ہاں میں دیکھ رہی تھی سانس کیوں نہیں لے رہے آپ “
اسے کچھ اور نہ سوجھا ۔۔۔
تو یہ بھونڈا سا بہانہ بنا دیا ۔۔۔
ارحان زیر لب مسکرانے لگا ۔۔
” نہیں آ رہی سانس ۔۔۔ تم ان ہیل کردو پلیز “
اور اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کے رواحہ کی تو روح ہی جیسے فنا ہونے لگی ۔۔۔۔۔
” چھوڑئیے مجھے ۔۔۔ “
وہ پھر سے اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی تھی ۔۔۔
” نہ چھوڑوں تو ؟؟؟”
رواحہ نے رک کے اس کے چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔
آج تو نظریں ہی کچھ اور کہہ رہی تھی ۔۔۔۔
چہرہ دہکنے لگا تھا رواحہ کا ۔۔۔۔
سانسیں تیز رفتار ٹرین کی طرح چلنے لگی تھی ۔۔۔۔
پلکیں من من بھاری ہو چکی تھی ۔۔۔۔
وہ نظریں جھکا گئی تھی ۔۔۔
ارحان نے دلچسپی سے اس ادا کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
محبت کی الوہی چمک سی تھی رواحہ کے چہرے پہ۔ ۔۔۔
ہزاروں خوبصورت رنگ بکھرے پڑے تھے اسکے چہرے پہ ۔۔۔
” تمہیں دیکھ کے کہیں سے نہیں لگتا ۔۔۔ کہ تم میرے محبت بھرے ستم سہہ سکو گی اپنی نازک سی جان پہ “
اس کی سرگوشی پہ رواحہ نے پلکیں اٹھا کے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
” آپ کو مجھ سے محبت ہی کب ہے ؟؟”
بنا سوچے سمجھے شکوہ ہوا تھا ۔۔۔۔
ارحان کے لبوں پہ مسکراہٹ ٹھہر گئی تھی ۔۔۔
اور جب رواحہ بات کی تہہ تک پہنچی ۔۔۔
تو شرم سے پانی پانی ہونے لگی تھی ۔۔۔
وہ پلکیں ہی جھکا گئی ۔۔۔۔
وہ اتنے قریب تھے ۔۔۔
کہ کوئی فاصلہ ہی نہیں تھا دونوں کے بیچ ۔۔۔۔
اوپر سے ارحان اپنے لب ۔۔۔
اس کے کپکپاتے لبوں کے بےحد قریب کر کے ۔۔۔۔
رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی ۔۔۔
رواحہ کے لئے تو سانس لینا بھی دشوار لگ رہا تھا ۔۔۔
” اور اگر کہہ دوں کہ محبت ہے تو ؟”
وہ دھیمی آنچ دیتی سرگوشی میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔
” رواحہ علی خان ۔۔۔۔ اعتراف کرنے جا رہا ہوں میں ۔۔۔
کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے تو ؟؟؟”
وہ پھر سے مدھم سرگوشی کر رہا تھا۔ ۔۔
اور
رواحہ اتنی قربت میں ۔۔۔
اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھی ۔۔۔۔ ۔
ارحان نے نرمی سے ان آنکھوں پہ اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔
اور رواحہ تو جیسے آنکھیں موندے ۔۔۔
اس لمس کو اپنے اندر جذب کرنے لگی ۔۔۔۔
اس کا نازک سا وجود کانپ رہا تھا ۔۔۔۔
من پسند شخص اتنے قریب ہو ۔۔
اور
اظہارِ محبت بھی کرے ۔۔۔
تب ہوش کہاں رہتا ہے کسی بات کا ۔۔۔۔۔
” ا۔۔۔۔ ار ۔۔۔۔ ارحان “
وہ ہکلائی تھی ۔۔۔
اس نے اپنے لبوں سے ۔۔۔
ان نازک لبوں کو چھوا تھا ۔۔۔۔۔
بےحد نرمی سے ۔۔۔
بےانتہا محبت سے ۔۔۔۔۔
رواحہ کو اپنی سانس مدھم ہوتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔
آنسو اس کے گالوں پہ پھسلے تھے ۔۔۔۔
ارحان نے ان آنسوؤں کو محسوس کیا ۔۔۔ تو چونکا تھا ۔۔۔۔
” رواحہ “
اس کی سرگوشی پہ ۔۔۔
رواحہ نے بےاختیار اس کی شرٹ مٹھی میں بھینچی تھی ۔۔۔۔
سسکی سی نکلی تھی ۔۔۔۔
ارحان دھیرے سے مسکرا پڑا ۔۔۔
اپنی گرفت نرم کی تھی اس نے اب۔ ۔۔ ۔
” اتنی نازک سی تو ہو تم رواحہ ۔۔۔۔ کیسے سہہ پاؤ گی مجھے تم “
ارحان کے کہنے کی دیر تھی ۔۔۔
رواحہ اسکے سینے منہ دے کے سسک پڑی تھی ۔۔۔۔ ۔
” ہئی ۔۔۔۔ کیا ہوا ہے رواحہ “
وہ اب بھی نرم سی سرگوشی کر رہا تھا ۔۔۔
” شکرگزاری کے آنسو ہیں یہ ارحان ۔۔۔ “
اس نے بھرائی آواز میں کہا تھا ۔۔۔۔
” آپ میرے ہیں ۔۔۔ صرف میرے ۔۔۔۔۔ اس خوبصورت احساس کے لئے شکرگزاری کے آنسو ہیں ۔۔۔۔
میں جتنی خوش قسمت ہوں ۔۔۔۔
اپنی خوشقسمتی پہ نازاں ہونے کے آنسو ہیں یہ ۔۔۔۔ “
وہ کتنی معصوم سی تھی ۔۔۔
کس قدر معصومیت سے اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی ۔۔۔
ارحان بس دیکھے گیا اسے ۔۔۔
وہ جو شادی کی پہلی رات ۔۔۔
یوں اسے چھوڑ گیا تھا ۔۔۔
ہکا بکا ۔۔۔
جسے اپنی تذلیل محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
جو اپنی تذلیل پہ روئی تھی ۔۔۔۔
آج
وہ یوں اس سے اظہار کرتی کتنی معصوم سے لگ رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے بےتابی سے اسے بانہوں میں بھر لیا۔۔۔۔۔۔
” میں محبت اور عشق سے گندھی ہوئی رواحہ کو خود سے کیسے دور کر سکتا ہوں مسز رواحہ علی خان ۔۔۔۔۔۔ میں ایسا کھبی نہیں کر سکتا “
وہ دھیمے لہجے میں کہہ رہا تھا ۔۔۔
رواحہ جیسے پرسکون ہو گئی تھی ۔۔۔۔
اس کے لب مسکرائے تھے ۔۔۔۔۔
اس نے اپنی آنکھیں موند لی تھی ۔۔۔۔
ارحان کی قربت کو محسوس کرتے ۔۔۔
وہ یونہی سوگئی تھی ۔۔۔۔۔
کچھ دیر میں ہی ارحان کو اس کی بوجھل سانسیں سنائی دی تھی ۔۔۔
ارحان دھیرے سے مسکرا پڑا ۔۔۔
کتنے مزے سے سورہی تھی وہ ۔۔۔
ارحان بھی کمفرٹر اوڑھاتا ۔۔۔
اسے اپنی بانہوں میں یونہی لیے سونے لگا تھا اب ۔۔۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

روتی بلکتی سی وہ ۔۔۔
اپنی ہاسٹل فیلوز کے ساتھ ۔۔۔۔
اس بنگلے پہ تھی ۔۔۔
جس کا ماحول بہت ظالم اور بوجھل ساتھا ۔۔۔۔
وہ چھ لڑکیاں خوش تھیں ۔۔۔
رقص کر رہی تھیں ۔۔۔
اور
وہ ۔۔۔۔ وہ بس رو رہی تھی ۔۔۔
” ارے کتنا روتی ہو تم ۔۔۔ “
خیام مسکراتا ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ سمٹی سمٹائی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” مجھے ڈرپوک لڑکیاں بلکل نہیں پسند ۔۔۔۔ بی بریو یار ۔۔۔۔ ہماری عنازیہ خان سے ہی کچھ سیکھو ۔۔۔۔ “
وہ کہہ رہا تھا ۔۔
اور وہ لڑکی ڈبڈباتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” م۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو پلیز “
خیام اپنا سر دائیں بائیں ہلانے لگا ۔۔۔
” نہیں دے سکتا ناں ۔۔۔ “
اس نے ایک گہرا سانس لیا تھا ۔۔۔۔
” دیکھو کتنی مگن وہ سب ۔۔۔۔۔ خود میں مگن ۔۔۔ رقص کرتی “
وہ ان لڑکیوں کی طرف اشارہ کرتے اس سے کہہ رہا تھا ۔۔۔
وہ لڑکی ہچکی لیتے رونے لگی ۔۔
” م۔۔۔۔ مجھے جانے دو پ۔۔۔ پلیز ۔۔۔ “
خیام خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
جبکہ اس کے رونے میں شدت آ گئی تھی ۔۔۔
خیام نے آنکھیں بند کر کے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
لیکن اس لڑکی کو رونا ۔۔۔
اس کے دماغ پہ جیسے ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا ۔۔۔۔
” بس ۔۔۔۔ “
اس نے ایک زور دار تھپڑ اس لڑکی کے منہ پہ مارا تھا ۔۔۔
وہ لڑکی غش کھا کے ۔۔۔
اوندھے منہ نیچے گری تھی ۔۔۔۔
” مجھے رونے سے نفرت ہے ۔۔۔ کیا ہے ۔۔۔۔ نفرت ہے “
وہ چلایا تھا ۔۔۔۔
باقی لڑکیاں رک کے انھیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ لڑکی نیچے گری ۔۔۔
منہ میں ہچکیاں دباتی ۔۔۔ ۔خود کو رونے سے روک رہی تھی ۔۔۔
اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا ۔۔۔۔
خیام اس کے قریب ہوا تھا ۔۔
” ٹیک آف یور ڈریس “
اس لڑکی نے خوفزدہ آنکھوں سے اس بےحس انسان کو دیکھا تھا ۔۔۔
” آئی سیڈ ٹیک آف یور ڈریس “
جبکہ وہ رونے لگ گئی ۔۔۔۔۔
” پ۔۔۔ پلیز مجھے ج۔۔۔ جانے دو “
وہ ہچکیاں لیتی رو رہی تھی ۔۔۔
خیام جنونی انداز میں اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔
اس کے کپڑے پھاڑنے لگا ۔۔
اور وہ چلا رہی تھی ۔۔۔
اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی ۔۔۔
جس کا اس پہ خاص اثر نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔
وہ لڑکی کو خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
خیام نے غصے سے اسے بالوں سے پکڑا ۔۔۔۔۔۔
اور اس کا سر دیوار سے پٹخنے لگا ۔۔۔
” کہا ناں ۔۔۔
مت رو ۔۔۔
مت رو ۔۔۔ مت رو “
وہ چلایا تھا ۔۔۔
بلکہ دھاڑا تھا ۔۔۔
سب لڑکیاں خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔ ۔۔
اور وہ جنونی انداز میں۔ اس لڑکی کو پٹخ رہا تھا ۔۔۔۔۔
” عزت پیاری ہے ناں ۔۔۔
یہ لو ابھی تمہاری عزت کی دھجیاں اڑاتا ہوں ۔۔۔۔ “
وہ اس پہ جھکا تھا ۔۔۔
اس کی عزت تاڑ تاڑ کرنے جھکا تھا ۔۔۔۔
وہ جنونی ہو رہا تھا ۔۔۔
پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔
لیکن وہ لڑکی بےسدھ پڑی تھی ۔۔۔۔
خیام چلایا تھا ۔۔۔۔
پاس پڑا چاقو اٹھا کے ۔۔۔
اس کے ساکت جسم پہ وار کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔
خون کے چھینٹے تھے ہر طرف ۔۔۔
اس معصوم جسم کے ٹکڑے تھے ہر طرف ۔۔۔۔
لڑکیاں یہ سب دیکھ کے چیخ رہی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو رہی تھیں ۔۔۔
چلا رہی تھیں ۔۔۔۔
خیام ان کی طرف خونخوار نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔
” ہشششششششش “
وہ سب اس سے ڈر کے ۔۔۔
اپنی منہ پہ ہاتھ رکھے ۔۔۔۔
اپنی آوازوں ۔۔۔
اپنی چیخوں کا گلا گھونٹ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔
” جو بھی چیخے گی ۔۔۔۔۔۔
جو بھی روئے گی ۔۔۔۔
یہیں انجام ہوگا “
ان کی آنکھیں خوف سے پھیل چکی تھیں ۔۔۔۔۔
وہ لڑکھڑاتا ہوا اٹھا تھا ۔۔۔۔
محتسب پاس آیا تھا ۔۔۔
” یہ کیا کر دیا تم نے ؟؟”
خیام نے گھور کے اسے دیکھا ۔۔
” بکواس بند کرو ۔۔۔
یہ لڑکیاں رحم کے قابل بھی نہیں ہے ۔۔۔
انھیں بس اپنے مقصد کے لئے استعمال کرو اور پھینک دو ۔۔ “
محتسب نے تاسف سے اس لڑکی کو دیکھا ۔۔
جس کے ٹکڑے ہو چکے تھے ۔۔۔
اور پھر ڈری سہمی ہوئی لڑکیوں پہ ایک نظر ڈالی ۔۔۔

ایک اور ظلم ہوا تھا ۔۔۔
ایک اور اہ۔۔۔
ایک اور سسکی کو دبایا گیا تھا ۔۔۔
ایک اور قتل ۔۔۔
انسانیت کا قتل ۔۔۔۔
معصوم خوابوں کے روندے جانے کا قتل ۔۔۔
معصوم جسم کو کچل دیا گیا تھا ۔۔۔
روح تک جھلس گئی تھی ۔۔۔
لیکن ابھی تک کوئی نہ جان سکا تھا کہ ان سب کے پیچھے خیام ہے ۔۔۔۔ ۔
اس ظالم کے شکنجے سے ۔۔۔
معصوم تتلیوں کو بچانے میں کوئی بھی کامیاب نہیں۔ ہو پا رہا تھا ۔۔۔۔
سب بس یہی جانتے تھے کہ اس کے پیچھے آبان سکندر ہے ۔۔
لیکن آبان سکندر کون ہے ؟؟
کہاں ہے ؟؟ ۔یہ بھی کوئی نہ جان پایا تھا ۔۔۔
اور
آبان سکندر ۔۔۔ عنازیہ خان کو اپنے پیچھے گھن چکر کی طرح چلا رہا تھا ۔۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” ہیلو خولہ “
عنازیہ کی آواز پہ خولہ جو آفس ورک کر رہی تھی ۔۔۔
چونکی تھی ۔۔۔
” اسلام علیکم میم “
” وعلیکم السلام ۔۔۔ ایک فیور چاہئیے تھا تمہارا “
عنازیہ نے جلدی سے کہا تھا ۔۔
” یس میم ۔۔۔ کہئیے “
خولہ نے جواب دیا تھا ۔۔۔
” عالیار کہاں ہے ؟”
عنازیہ پوچھنے لگی ۔۔
” اپنے آفس میں ہے “
خولہ نے سر کھجاتے جواب دیا تھا ۔۔۔ ۔
” عالیار کے روم میں جاؤ ۔۔۔۔ اور ان کے موبائل میں سے مجھے رشنا کا نمبر لے کے سینڈ کر دو “
عنازیہ کی بات پہ وہ چونکی تھی ۔۔
” بٹ میم ۔۔۔ ہاؤ ؟؟؟ ان کے موبائل کا پاس ورڈ مجھے نہیں۔ پتہ “
وہ گھبرائی تھی ۔۔
” میں بتاتی ہوں ۔۔۔ Anza ہے پاس ورڈ ۔۔۔ اب جلدی سے نمبر لے کے سینڈ کردو مجھے ۔۔۔ اٹس ارجنٹ ۔۔۔ ہری اپ “
اس کے کہنے پہ خولہ جلدی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہو چکی تھی ۔۔
” اوکے میم ۔۔۔۔ میں ابھی سینڈ کرتی ہوں “
کہہ کے وہ اب موبائل ہاتھ میں لیے سوچ رہی تھی ۔۔۔ کہ کیسے جائے وہ اندر ۔۔۔۔ ۔
اس نے آگے بڑھ کے دروازے پہ ناک کیا ۔۔۔
” کم ان”
کی آواز پہ خولہ اندر گئی تھی ۔۔۔۔
” یس مس خولہ ؟”
اور خولہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ کہ کیا کہے ۔۔۔
اس کی نظر موبائل پہ گئی ۔۔
جو عالیار نے ٹیبل پہ رکھی تھی ۔۔۔۔
” وہ سر ۔۔۔۔ “
وہ گھبرائی ہوئی سی تھی ۔۔
” اینی پرابلم مس خولہ ؟”
عالیار نے اس کی گھبراہٹ نوٹ کی تھی ۔۔۔
” یس سر ۔۔۔ آئ مین نو سر۔ ۔
آئی مین یس سر “
وہ بوکھلا ہی گئی تھی ۔۔
عالیار کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ ۔۔
جب کہ وہ سر جھکا گئی ۔۔۔
” سر میرے سیل میں بلینس نہیں ہے ۔۔۔ کین آئی یوز یور موبائل ۔۔۔ کال کرنی ہے مجھے “
عالیار اسے دیکھ کے رہ گیا ۔۔۔
اور پھر اپنے موبائل کا پاس اوپن کر کے اس کی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔ ۔
” یہ لیں مس خولہ “
خولہ نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل لیا تھا ۔۔
” تھینک یو سر ۔۔ میں ابھی بات کر کے آتی ہوں “
کہہ کے وہ کمرے سے نکل گئی تھی ۔۔۔۔
جلدی جلدی سے رشنا کا نمبر ڈھونڈ کے ۔۔۔
اپنے موبائل میں لینے لگی ۔۔۔
جبکہ اچانک عالیار اس کے سر پہ پہنچا تھا ۔۔۔۔
” مس خولہ ۔۔۔۔ “
اور عالیار کا موبائل چھوٹ کے گرا تھا خولہ کے ہاتھوں سے ۔۔۔
خوفزدہ نظروں سے وہ عالیار کو دیکھنے لگی تھی اب ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” ہیلو امتسال ۔۔ کہاں ہو تم ؟”
کال ریسیو ہوتے ہی عنازیہ نے پوچھا تھا ۔۔
” جاضسم کے ساتھ ہوں ۔۔۔ “
امتسال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا ۔۔۔
” گھر پہ ہو ؟” ۔
عنازیہ کے سنجیدگی سے پوچھنے پہ امتسال بھی پریشان ہو گئی ۔۔ ۔
” ہاں ۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے عنازیہ ؟؟”
” میں آ رہی ہوں ۔۔ آ کے بتاتی ہوں “
کہہ کے اس نے کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی ۔۔
کیونکہ اسے کوئی اور کال آ رہی تھی ۔۔۔
اس نے جلدی سے کان سے لگایا تھا ۔۔۔
” ہیلو “
” ع۔۔۔ عنازیہ آپی “
کسی لڑکی کی روتی ہوئی آواز تھی ۔۔
” ہاں۔۔۔ ہاں کیا ہوا ہے ؟”
” وہ ۔۔۔ وہ رابی ۔۔۔ رابی کو بھی مار دیا ۔۔۔ یہاں ۔۔۔ یہاں ہاسٹل میں “
اس نے روتے ہوئے بتایا ۔۔۔
” میں ۔۔۔ میں آ رہی ہوں “
کہہ کے وہ جلدی سے اپنا بیگ اٹھا کے نکلنے لگی تھی ۔۔
جب خیام سے ٹکرا گئی تھی ۔۔۔
” آڑ یو اوکے عنازیہ ؟”
عنازیہ نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔۔
” ایک اور مرڈر “
اور جلدی سے آگے بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔
خیام بھی اس کے پیچھے پیچھے ہی نکلا تھا ۔۔۔

دونوں گرلز ہاسٹل پہنچے ۔۔۔
تو پولیس وہاں پہلے سے موجود تھی
اور انویسٹیگیشن کر رہی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ لڑکی جس نے عنازیہ کو کال کی تھی ۔۔
عنازیہ پہ نظر پڑتے ہی اسکے پاس آئی تھی ۔۔
” عنازیہ آپی “
عنازیہ نے اسے گلے لگایا۔۔۔۔۔
” ہمیں بچا لیں آپی ۔۔ پلیز ہمیں بچا لیں “
خیام خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اسے یوں بار بار عنازیہ کے اس کیس میں ٹانگ اڑانا بلکل پسند نہیں تھا ۔۔۔۔
لیکن وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔
خاموشی سے اس کے ساتھ کھڑا تھا۔ ۔۔۔۔
عنازیہ نے جب لاش دیکھی ۔۔۔۔
جسے چادر میں چھپایا گیا تھا ۔۔۔ ۔تو اسے وومیٹ کا احساس ہوا تھا ۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی دوسری طرف گئی تھی ۔۔۔۔۔
درخت کے ساتھ کھڑی ۔۔۔
وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی تھی ۔۔۔
خیام اس کے پاس آیا تھا ۔۔۔
” عنازیہ ۔۔۔۔ “
ڈرتے ڈرتے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔۔
جسے عنازیہ نے جھٹکے سے ہٹا دیا تھا ۔۔۔۔ ۔
خیام اپنے ہاتھ کو دیکھتا لب بھینچ گیا ۔۔۔
وہ اسے اپنے قریب تک نہیں آنے دیتی تھی ۔۔
اور یہی بات خیام کو چھبتی تھی ۔۔۔
” کیسا ظالم اور بےحس انسان ہے ۔۔۔۔ کیوں کر رہا وہ یہ سب ان معصوم لڑکیوں کے ساتھ ۔۔۔ کون ہے یہ آبان سکندر ؟”
آخر میں وہ چلائی تھی ۔۔۔۔
” عنازیہ پلیز ۔۔۔ تم کیوں اس کیس میں پڑ رہی ہو ؟؟ روز نئی ۔۔۔۔ “
عنازیہ نے اسے سرد نگاہوں سے دیکھا تھا ۔۔۔ ۔
” کیا مطلب کیوں پڑ رہی ہوں ؟؟؟
ان معصوم لڑکیوں کو کوئی مدد کرنے والا نہیں ہے ۔۔۔۔
جانتے ہو ۔۔۔
ساری لڑکیاں ان فیملیز سے ہیں جن کے ماں باپ بہت مشکل سے دو وقت کی روٹی کے لئے ہر طرح کی مشکل برداشت کرتے ہیں ۔۔۔۔
میں ان کی ہیلپ کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔
شاید اسی طرح ۔۔۔۔ “
وہ سسک پڑی تھی ۔۔
” شاید اسی طرح ۔۔۔۔۔
میری فیملی بھی تو ایسے ہی موت کے گھاٹ اتری تھی ۔۔
میں کچھ نہیں۔ کر پائی ان کے لئے ۔۔۔ ۔
میں ۔۔۔ میں ان کے قاتل تک نہیں پہنچ پائی ۔۔۔۔
خیام ۔۔۔۔ خیام تم نے دیکھا تھا ۔۔۔
کس قدر سفاکی سے ۔۔۔۔ “
وہ ایکدم سے رو پڑی تھی ۔۔۔
خیام کو اپنا دل جیسے کسی گہری کھائی میں گرتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔
وہ خاموشی سے اسے روتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کیا کہتا ۔۔۔
کیسے کہتا ۔۔۔
اس کے پاس الفاظ نہیں تھے عنازیہ کو خاموش کرانے کے لئے ۔۔۔۔
وہ وہیں بیٹھ کے رو رہی تھی ۔۔۔
زخم گہرے تھے ۔۔۔
جو بھرنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔
خود کو بےحد اکیلا محسوس کر رہی تھی وہ۔ ۔۔
کوئی نہیں تھا اس کا ۔۔
نہ ماں ۔۔۔
نہ باپ ۔۔
نہ بھائی ۔۔
نہ بہن ۔۔۔
اور نہ ہی عالیار ۔۔۔۔
” عنازیہ ۔۔۔۔۔ عنازیہ پلیز مت رو پلیز “
خیام کی آواز پہ وہ چونکی تھی ۔۔۔
اس نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے ۔۔۔۔
اپنی جگہ سے ایک عزم کے ساتھ اٹھی تھی ۔۔۔
” میں ڈھونڈ لوں گی اس آبان سکندر کو۔ ۔۔
انصاف دلاؤں گی ان ہاسٹل گرلز کو ۔۔۔۔ “
خیام کا دل ہی دہل گیا ۔۔۔ اس کے چہرے پہ پھیلی سختی کو دیکھ کے۔ ۔۔۔۔
عنازیہ نہیں جانتی تھی کہ اصل قاتل ان لڑکیوں کا تو خیام انوار ہے ۔۔۔
آبان سکندر تو بس نام ہیں ۔۔۔
جبکہ عنازیہ اسے چھوڑ کے آگے بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

رات کی تاریکی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
عنازیہ گرلز ہاسٹل کے سامنے کھڑی ۔۔۔
اس عمارت کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جہاں کی لڑکیوں کی زندگی ۔۔۔
ان کی عزتیں خطرے میں تھی ۔۔۔۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔۔۔
وہ درخت کی اوٹ میں ہوگئی تھی ۔۔۔
اسے جاننا تھا کہ رات کے اس پہر کون آتا ہے یہاں ۔۔۔
وہ درخت کی اوٹ میں ہو کے سامنے ہاسٹل گیٹ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
آبان سکندر اسے اپنی کار سے دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔
اس کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔
” اوہ مائی لیڈی ۔۔۔۔ “
وہ چہرے پہ بلیک ماسک ٹھیک کر کے گاڑی سے اترا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ جو سامنے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اچانک سے کسی نے اسے پشت سے اپنی گرفت میں لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
عنازیہ کی چیخ نکلتے رہ گئی تھی ۔۔۔
” ہئی مائی لیڈی “
اس کی گردن کی پشت پہ اپنی سانسیں چھوڑتا ۔۔۔۔ آبان سکندر سرگوشی میں کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ کو سمجھ آ گئی تھی کہ وہ آبان سکندر ہے ۔۔۔۔
” آبان سکندر ۔۔۔ “
اس نے دانت پیستے کہا تھا ۔۔
” اوہ واؤ ۔۔۔۔۔ ایم آئی یور فیورٹ مائی لیڈی “
وہ مسکرا کے سرگوشی کر رہا تھا ۔۔۔ ۔
” لیو می یو باسٹرڈ “
وہ غرائی تھی ۔۔۔
ساتھ میں اس کے بازوؤں سے نکلنے کی کوشش بھی کی تھی ۔۔۔
وہ ہنسنے لگا تھا ۔۔۔۔
” آمنا سامنا ہو ہی گیا ہمارا ۔۔۔۔
آئی ایم لکی بائے دا وے “
وہ اپنی گرفت سخت کرتا کہہ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ عنازیہ کے لئے اذیت کے لمحے تھے یہ ۔۔۔۔
” اتنی خوبصورت ہے آپ مس عنازیہ ۔۔۔
جان کیوں پیاری نہیں ہے آپ کو “
وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔
عنازیہ ہاتھ پیچھے کر کے اس کا ماسک اتارنا چاہ رہی تھی ۔۔
جبکہ آبان نے پھرتی سے اس کا ہاتھ ۔۔۔
اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لیا تھا ۔۔۔
” اتنی بھی کیا جلدی ہے آپ کو ۔۔۔۔ “
ساتھ ہی جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا ۔۔۔۔۔
عنازیہ اس کے سینے سے لگی تھی ۔۔۔
” لیو می ذلیل انسان “
وہ چلائی تھی ۔۔۔
” ہشششششش “
اس کے لبوں پہ اپنی انگلی رکھ کے وہ اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
” آئی جسٹ لو بریو گرلز ۔۔۔۔۔ اینڈ یو آڑ ایکسٹرا بریو گرل ۔۔۔۔ ویسے ڈنر کا کچھ نہیں کیا آپ نے ۔۔۔۔ میں تو ویٹ کر رہا تب سے ۔۔۔ کینڈل لائٹ ڈنر کے لئے “
وہ اپنی گرے آنکھوں سے ۔۔۔
اسکے چہرے کاجائزہ لیتا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
” ******* “
اس نے گالی دی تھی ۔۔۔
اندھیرے کی وجہ سے وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پارہی تھی اسے ۔۔۔
جبکہ آبان سکندر بےساختہ ہنسا تھا ۔۔۔
” آپ ایسا کرے گی ۔۔۔
میں تو پاگل سا ہو جاؤں گا ۔۔۔
آپ کے لبوں سے ہر گالی کو چنوں گا ۔۔۔۔ “
وہ اپنے اور اس کے لبوں کی طرف اشارہ کرتا بول رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
عنازیہ کو اس کی بات سے آگ ہی لگ گئی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ آبان نے اسے گھما کے اپنے بازوؤں پہ گرا لیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ عنازیہ نے پھرتی سے ۔۔
اس کے پیٹ پہ اپنی ٹانگ ماری تھی ۔۔۔
وہ ایکدم سے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔
اور عنازیہ سنبھل کے کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
اور ساتھ اپنی ٹانگ گھما کے اسے مارنی چاہی تھی ۔۔۔۔
جب وہ پیچھے ہوا تھا ۔۔۔
عنازیہ کا وار خالی گیا تھا ۔۔۔۔
” واؤ ۔۔۔۔ “
آبان سکندر مزے سے کہتا اسے مزید اشتعال دلا گیا تھا ۔۔۔۔
وہ آگے بڑھی تھی ۔۔۔
دوبارہ سے اسے مارنے ۔۔۔۔
لیکن وہ پھرتی سے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔
” وہ ول فائٹ مس عنازیہ ۔۔ بٹ کسی اور دن ۔۔۔
فی الحال بائے “
وہ پیچھے قدم اٹھاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
اور پھر بھاگتا ہوا گاڑی تک گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
عنازیہ اس کے پیچھے آئی تھی ۔۔
لیکن وہ جا چکا تھا ۔۔۔۔۔
غم و غصے سے وہ وہیں کھڑی رہی۔ ۔۔۔
اس نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھی ۔۔۔۔
وہ اسے نہیں دیکھ پائی تھی ۔۔۔۔
اس کے لمس کو اپنے گرد محسوس کر کے ۔۔۔
اسنے جھرجھری لی تھی ۔۔۔۔
” ڈیم اٹ ۔۔۔۔ آبان سکندر ایک دن ضرور آئے گا ۔۔
کہ تمہیں اپنی مرضی کی سزا دوں گی میں ۔۔۔ “
اس نے دانت پیسے تھے ۔۔۔
جبھی اس کے موبائل پہ کال آئی تھی۔ ۔۔
نمبر امتسال کا تھا ۔۔۔
اپنی سانس ہموار کر کے اس نے کال ریسیو کی ۔۔۔ ۔
” ہیلو امتسال “
” عنازیہ کہاں ہو تم ؟؟ آئی کیوں نہیں تم ابھی تک ۔۔۔ جلدی آؤ کچھ دکھانا ہے ۔۔۔ ہری اپ “
امتسال نے جلدی سے کہا تھا ۔۔
” میں ابھی پہنچتی ہوں “
کہہ کے وہ جلدی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔
گاڑی آگے لے جا کے اس نے سائیڈ پہ روکی تھی ۔۔۔۔
لب بھینچے وہ سامنے روڈ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کانپتے ہاتھوں سے اس نے جلدی سے سگریٹ نکالا تھا ۔۔
اور اب لبوں سے لگا کے ۔۔۔ اس نے سگریٹ جلائی تھی ۔۔۔
لمبے لمبے کش لیتا وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔