📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="327"]
56426 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19 20 & 21


میں یا آپ ؟؟؟
یا یہ معاشرہ ؟؟
یا ہماری پولیس یا گورنمنٹ ؟؟
یا وہ ۔۔۔
جو کہیں چھپا بیٹھا یہ سب کام کر رہا ہے ؟؟
اپیل کرتی ہوں ہماری گورنمنٹ سے ۔۔۔
کہ جلد سے جلد آبان سکندر کو پکڑ کے ۔۔
اسے کڑی سے کڑی سزا سنائیں ۔۔۔
عنازیہ مضبوط لہجے میں کہہ رہی تھی ۔۔۔
آبان سکندر نے ٹی وی آف کردیا ۔۔۔
خیام جو حرام مشروب لے کے ابھی ابھی وہاں آ کے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
آبان سکندر اسے گھورنے لگا تھا ۔۔۔
” ایک اور لڑکی کی موت ہوئی ہے ۔۔۔ خیام سدھر جاؤ ۔۔۔ چھوڑ دو یہ گندے کام “
اس کی آواز سرد تھی ۔۔۔
خیام استہزائیہ ہنسا تھا ۔۔۔
” تو بڑا گھل رہا ان کے غم میں “
آبان سرد نگاہوں اسے دیکھتا رہا تھا ۔۔۔
” میں ڈرگ بیچتا ہوں ۔۔ لڑکیوں کی عزت نہیں۔ ۔۔۔ “
خیام نے گھونٹ بھرتے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
” اوہ میں بھول گیا تھا ۔۔ تو عزت دار بزنس مین ہیں ۔۔۔ “
آبان نے آبرو اچکائے تھے ۔۔
” اپنا گند کہیں اور جا کے بنایا کرو ۔۔۔ یہ بنگلہ میں نے اپنے کام کے لئے ارینج کیا ہے ۔۔۔ تیری گندگی کے لئے نہیں “
خیام نے کندھے اچکائے
” تیری غیر موجودگی میں ۔۔۔
اپنا شغل کیا کروں گا میں “
” نہیں کرو گے اب سے ۔۔
جدھر کرنا ہے جا کے کر ۔۔۔
مجھے یہ گندگی نہیں پسند “
اس نے دو ٹوک انداز میں کہا ۔۔
” ہاں تیرے ساتھ تو کھبی کوئی لڑکی یہاں آئی نہیں ۔۔ “
خیام مذاق اڑانے والے انداز میں بولا تھا ۔۔ ۔
” میرا پرسنل میٹر ہے ۔۔۔۔۔ تیری طرح ویب سائٹس پہ عزتیں نیلام نہیں کرتا میں ۔۔۔ “
آبان کا لہجہ سنجیدہ تھا ۔۔
خیام اسے دیکھ کے رہ گیا ۔۔
” میں تیرا دوست ہوں یار “
” دوست ہے تو دوست بن کے رہ ۔۔۔ “
کہہ کے وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔۔
” کدھر جا رہا تو اب ؟”
خیام پوچھنے لگا ۔۔
” میٹنگ ہے میری ۔۔۔ “
کہہ کے وہ باہر کی طرف چل دیا تھا ۔۔۔
” اور ہاں ۔۔۔ “
چلتے چلتے وہ رکا تھا ۔۔۔۔
” میرے آنے تک اپنی گندگی صاف کر ادھر سے “
جبکہ خیام اپنی ڈرنک انجوائے کرنے لگا ۔۔۔
” نہ کروں تو ؟؟”
آبان نے مٹھیاں بھنچی تھی ۔۔۔
آگے بڑھ کے اس کھینچ کے اٹھایا تھا ۔۔۔
اور دھکا دے کے باہر کی طرف گرایا تھا ۔۔۔
” یہ کر سکتا ہوں میں ۔۔۔ “
وہ غرایا تھا ۔۔۔
” آبان ۔۔۔ میں تیرا دوست ہوں یار ۔۔۔
تیرے اس بنگلے میں میری کوئی جگہ نہیں ؟؟”
خیام ہمدردی بٹورنے کے لئے منمنایا تھا ۔۔۔
” تجھے جگہ دی ادھر ۔۔
لیکن گالی بن گیا ہے تو میرے لئے ۔۔۔
منع کرتا ہوں ۔۔
نہ کر ۔۔۔۔ لڑکیوں کے ساتھ یہ گھناؤنا کام نہ کر ۔۔
بٹ میری بات نہیں سنتا تو ۔۔
انف ناؤ ۔۔۔
گند اٹھا اپنا اور نکل میرے گھر سے ۔۔۔۔
شام تک مجھے تیرا کوئی بھی گند ۔۔ ادھر نظر نہ آئے ۔۔۔ “
آبان پھر سے غرایا تھا ۔۔۔
اور ٹیبل کو ٹھوکر مارتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
اسے آبان کی باتوں سے سروکار ہی نہیں تھا کچھ ۔۔ ۔
لیکن جس طرح سے وارننگ دے کے گیا تھا وہ ۔۔۔
خیام کو تھوڑا سا ڈر لگا تھا ۔۔۔۔
آبان سکندر ڈرگ ڈیلر تھا ۔۔۔
مافیا میں ۔۔۔
اپنے فاڈر کا بزنس آگے بڑھا رہا تھا ۔۔۔
اور آبان سکندر کے نام سے جانا جاتا تھا وہ مافیا میں ۔۔
لیکن خیام کی طرح اسے ۔۔
لڑکیوں کی عزتیں نیلام کرنے کا شوق نہیں تھا ۔۔۔
وہ خیام کی ان حرکتوں پہ خاموش ضرور تھا ۔۔۔
لیکن وہ اس معاملے میں اس سے دور ہی رہتا تھا ۔۔۔

اسے نفرت تھی عنازیہ سے ۔۔۔
شدید نفرت ۔۔۔
تبھی خیام کے کیے کا الزام خود پہ لے کے ۔۔
عنازیہ کو مینٹلی ٹارچر کرتا ۔۔۔
لیکن پرسکون نہ ہو پاتا ۔۔
نفرت بڑھتی جاتی ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” میں ہوں آپ کا اپنا اینکر آحان خان ۔۔۔
آپ کے اپنے نیوز چینل سے ۔۔۔
آپ کے سامنے حاضر ہوں ۔۔۔
بہت سی اہم خبروں کے ہمراہ “
وہ دونوں ابھی ایک پرسکون سی جگہ پہ تھے ۔۔۔
شہر سے قدرے دور ۔۔
” اور میں اپنے آحان خان کی عین ہوں ۔۔۔ “
وہ ہنستی ہوئی کہہ رہی تھی ۔۔ ۔
” یہ کیا یار ۔۔ ٹھیک سے کرو پریکٹس “
وہ اسے شاکی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
جبکہ وہ چہک رہی تھی ۔۔
ادھر ادھر چہکتی پھر رہی تھی۔۔۔۔
” صحیح تو ہے ۔۔ میں اپنے آحان کی عین ہوں ۔۔۔۔ اور یہی میرا نام ہے ۔۔۔ بی کاز یہ نام مجھے میرے آحان نے دیا ہے “
آحان سر جھٹک کے مسکرایا تھا ۔۔۔
وہ اس کے قریب آئی تھی
اس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی ۔۔
” ایم کنفیوز ۔۔ تمہاری آنکھیں لائٹ گرے ہیں یا ڈارک گرے “
آحان مسکرانے لگا ۔۔
” تم بھی ناں ۔۔۔ “
” یو آڑ بلشنگ آحان “
وہ ہنس رہی تھی ۔۔۔
” نو ۔۔۔ ایم ناٹ بلشنگ ۔۔۔ “
وہ انکار کر رہا تھا ۔۔۔
جبکہ عین ہنس رہی تھی ۔۔۔
” تم خود کنفیوز ہو ۔۔۔ چلو آئسکریم کھاتے ہیں “
” نو ۔۔ بلکل بھی نہیں ۔۔ “
وہ منع کرنے لگا ۔۔
” وائی ؟”
عین کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھی ۔۔
” پبلک پلیس پہ تمہارے ساتھ نو ائیسکریم “
وہ اٹھ کے چلنے لگا ۔۔
جبکہ وہ اس کے ارد گرد چکر کاٹ رہی تھی ۔۔
” کیوں آحان؟”
” بھولا نہیں لاسٹ ٹائم ۔۔۔ آئسکریم کھاتے ہوئے کہا حرکتیں کی تھی تم نے “
عین یاد کر کے ہنسنے لگی ۔۔۔
” وہ ۔۔ وہ تو “
اسے یاد تھا کیسے اپنے آئسکریم کھانے کے اسٹائل سے آحان کو زچ کیا تھا ۔۔۔
اور وہ سٹپٹا کے ادھر ادھر دیکھنے لگا تھا ۔۔۔۔
وہ ہنسے جا رہی تھی ۔۔۔
آحان رکا تھا ۔۔۔
اس کی ہنسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
اس کا ہاتھ تھام کے ۔۔
اسے کھینچ کے سینے قریب کیا تھا ۔۔
وہ اس کے سینے سے لگی تھی ۔۔
سر اٹھا کے احان کو دیکھنے لگی ۔۔۔
جو شدتیں لیے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” اب ہنسی تو آئی سوئیر تمہاری ہنسی پی جاؤں گا ۔۔۔ منہ نہ بنانے لگ جانا “
عین کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔
پلکیں خود ہی جھک گئی تھی ۔۔۔
چہرے پہ خوبصورت رنگ سے کھلے تھے ۔۔۔
آحان ان خوبصورت رنگوں کو دیکھے گیا ۔۔
جھک کے اس کی گال پہ اپنے لب رکھ کے ۔۔
اپنی شدتیں بکھرائے تھے ۔۔۔
” چلیں آئسکریم کھانے “
سرگوشی میں بولا تھا ۔۔
عین نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔
آحان کی جسارت پہ وہ کچھ کہہ ہی نہیں پائی تھی ۔۔۔
آحان مسکراتا اسے لیے وہاں سے جانے لگا ۔۔۔
کہتی بھی کیا ۔۔۔
کچھ کہہ دیتی ۔۔
وہ مزید گستاخیاں کرتا ۔۔
اور عین کی وہیں بس ہو جانی تھی ۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” عنازیہ فری ہو ؟”
امتسال نے اس کے کیبن میں جھانکا تھا ۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتی اسے دیکھنے لگی ۔۔
امتسال اس کے پاس آ کے بیٹھ گئی تھی ۔۔
” امپورٹنٹ بات کرنی تھی تم سے “
” ہاں بولو ۔۔ سن رہی ہوں “
عنازیہ پیپرز سائیڈ پہ رکھ کے اسے دیکھنے لگی ۔۔
” میرا بھائی حدید بہت اچھا انسان ہے “
وہ شروع ہو چکی تھی ۔۔
عنازیہ نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔
” کیوٹ بھی ہے “
ساتھ میں عنازیہ نے لقمہ دیا تھا۔ ۔
” ہاں ۔۔ پانچ وقت کی نہیں تو کھبی کھبی پڑھ ہی لیتا ہے نماز ۔۔۔ “
عنازیہ نے اپنی امڈتی مسکراہٹ روکی ۔۔
” مسلمان بچہ ہے ۔۔
بچپن میں قرآن پاک بھی پڑھتا تھا ۔۔
اب بھی پڑھتا ہے رمضان میں ۔۔۔
روزے بھی رکھتا ہے ۔۔
کیریکٹر کا بھی بہت اچھا ہے۔
بس کھبی کھبی تنگ کرتا ہے مجھے ۔۔۔
سوبر ہے ۔۔
بس کھبی کھبی شرارتیں کرتا ہے۔ ۔
ہر لڑکی اسکے ساتھ خوش رہے گی ۔۔
آئی مین اس کی بیوی “
وہ اسٹاپ ہو کے اب عنازیہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” یہ سب تم مجھے کیوں بتا رہی ہو امتسال ۔۔ جیسے میں اسے جانتی ہی نہیں ہوں “
وہ حیران تھی ۔۔
امتسال کو اچانک سے کیا ہو گیا ہے ۔۔
” اپنے گھر کا داماد بنا لو اسے “
وہ جلدی سے بولی تھی ۔۔ ۔
” وہاٹ؟”
عنازیہ حیران و پریشاں اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” غلط بول گئی میں ۔۔
آئی مین شمائم کو ہمارے گھر کی بہو بنا لو ۔۔۔ “
وہ سانس ہموار کرتے بولی تھی ۔۔
” یو مین ۔۔ تم پروپوزل لائی ہو شمائم کے لئے حدید کا “
وہ ہنسنے لگی ۔۔
” ہاں ناں یار ۔۔
مت ہنس ۔۔
میرا بھائی تیری نند کے عشق میں پڑ چکا ہے ۔۔
ڈوبکیاں مار رہا ہے ۔۔ “
عنازیہ ہنس رہی تھی اس کے انداز پہ ۔۔
” کچھ کر یار ۔۔
اکلوتا بھائی ہے میرا کیوٹ سا “
امتسال نے مسکین سی شکل بنائی تھی ۔۔۔۔
عنازیہ ہنسی روک کے اسے دیکھنے لگی ۔۔
” تو میرے گھر آ کے پروپوز کر شمائم کو پاگل “
” اوہ ہاں ۔۔
وہ تو میں آؤں گی ہی ۔۔
تیری پرمیشن چاہئیے تھی بس “
امتسال نے سر پہ ہاتھ مار کے کہا ۔۔۔
” ہاں جیسے حدید مجھ سے پرمیشن لے کے شمائم کے عشق میں پڑ گیا تھا “
عنازیہ نے طنز کیا ۔۔
” اوہ یار ۔۔
شمائم میرے بھائی کو گھاس ہی نہیں ڈالتی ۔۔۔
بےچارا میرا بھائی “
امتسال نے بےچارگی چہرے پہ طاری کرتے کہا
” رئیلی؟؟
شمائم کی اتنی ہمت ” ۔
عنازیہ نے مصنوعی غصے سے کہا ۔۔۔
” اسے بول ۔۔
ایک ہی بھائی ہے میرا ۔۔
اسے تنگ کرنا چھوڑ دے “
امتسال کا ایک اور ایموشنل وار ۔۔۔
” کیوٹ بھائی ۔۔۔
ایسے کون کرتا کیوٹ آدمی سے “
عنازیہ نے بھی لقمہ دیا ۔۔
” بلکل بلکل ۔۔۔
سوچو تو آگے فیوچر کا بھی کچھ سوچو ۔۔
بیبیز بھی کیوٹ ہونگیں میرے بھائی کی طرح ” ۔
امتسال کی بات پہ عنازیہ نے آبرو اچکائے تھے ۔۔
” کیوں میری شمائم جیسے پیاری نہیں ہے “
” نہیں ۔۔ نہیں پیاری ہے۔ ۔۔
بٹ میرے کیوٹ بھائی کو بھی پیار سے دیکھ لیا کرے ۔۔
وہ ہرٹ ہو جاتا ہے۔ ۔۔
اتنا سا تو تھا جب مما چلی گئی ۔۔
اور ڈیڈ بھی اپنی دوسری بیوی کے ساتھ بزی ہو گئے ۔۔
یار اسے میں نے پالا ہے “
امتسال دکھی ہو گئی تھی ۔۔
عنازیہ نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کے نرمی سے دبایا ۔۔۔
دونوں نے اپنوں کو کھو دیا تھا کسی نہ کسی طرح سے ۔۔
” ڈونٹ ووری ۔۔۔
وہی ہوگا ۔۔۔ جو ہمارا حدید چاہے گا ۔۔۔۔ “
امتسال کی آنکھیں بھیگی تھی ۔۔
” اینڈ ایم شیور شمائم بھی یہی چاہتی ہے ۔۔۔ میں بات کروں گی اس سے “
عنازیہ نے مسکراتے کہا تھا ۔۔
تو امتسال بھی نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا پڑی تھی ۔۔
عجیب بات ہے ناں ۔۔
یہاں ہر انسان اپنے اندر ایک دکھ چھپائے بیٹھا ہے ۔۔۔
مسکرانا پڑتا ہے ۔۔
جینا پڑتا ہے ۔۔
چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لئے ہنسنے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے ہمیں ۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

آبان سکندر ۔۔۔
صوفے کی پشت پہ سر رکھے ۔۔
سگریٹ پہ سگریٹ پیتا ۔۔۔
ان مرغولوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔
ابرش اسے کب سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اس کے چہرے پہ درد کی پرچھائیاں تھی ۔۔۔
وہ جب بھی خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ۔۔
جب بہت درد میں ہوتا ۔۔
تب وہ اپنی اسی دوست ابرش کے پاس آتا ۔۔۔ ۔
ابھی بھی وہ یہیں تھا ۔۔ ۔
اور ابرش جانتی تھی ۔۔
آج پھر سے اس کے زخم اڈھیرے گئے ہیں ۔۔۔
” بس کرو آحان ۔۔۔ کتنا پیو گے تم اس زہر کو ؟”
وہ اس کے ہاتھ سے سگریٹ کا ٹکڑا لیتے بولی تھی ۔۔ ۔
آبان کے لبوں پہ زخمی مسکراہٹ تھی ۔۔
” جب تک یہ زہر سرایت نہیں کرتا میرے وجود میں “
ابرش اسے دیکھ کے رہ گئی ۔۔
جس کی آنکھوں میں درد ہلکورے لے رہا تھا ۔۔
نمی تھی ان آنکھوں میں ۔۔۔
” اس کی نفرت کو بجھانے کے لئے ۔۔
تم خود کو ختم کر رہے ہو آحان “
ابرش کا دل اس کے لئے اداس ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ اپنا سینہ مسلنے لگا ۔۔
” درد ہو رہا ہے ابرش ۔۔۔
بہت درد ہو رہا ہے “
اس کی آنکھیں بھیگی تھی ۔۔۔
ابرش اس کے قریب آ کے بیٹھ گئی ۔۔
” ابرش ایم ان پین ۔۔۔
اس کے درد کو بھلانے کے لئے ۔۔۔
میں نشہ کرتا ہوں ۔۔
لیکن پھر بھی وہ سر پہ سوار ہوتی ہے ۔۔۔
ہر لڑکی میں ۔۔۔
اسے ڈھونڈتا ہوں ۔۔۔
لیکن تشنگی بڑھتی جاتی ہے ۔۔۔
وہ مجھے کسی لڑکی ۔۔
کسی عورت ۔۔
کسی وجود میں نہیں ملتی ۔۔
نفرت کرتا ہوں اس سے ۔۔۔ پھر بھی “
وہ اپنا ماتھا پیٹنے لگا ۔۔
” پھر بھی وہ یہاں سے جاتی ہی نہیں ہے ۔۔ کہیں نہیں جاتی ۔۔۔ “
وہ چلایا تھا ۔۔
ابرش نے اسے بانہوں میں بھر لیا ۔۔
اور وہ اسکے کندھے پہ سر رکھے رو رہا تھا ۔۔۔
ٹوٹ رہا تھا ۔۔۔
ابرش بھی خاموشی سے اسے رونے دے رہی تھی۔ ۔۔۔
” آئی ہیٹ ہر ۔۔۔۔ آئی ہیٹ ہر “
وہ ہچکیاں لیتے کہہ رہا تھا ۔۔
ابرش کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی ۔۔۔
وہ جاننا چاہتی تھی ۔۔
پوچھنا چاہتی تھی اس کے پاس جا کے ۔۔۔
لیکن آبان نے اسے منع کیا ہوا تھا ۔۔
تبھی وہ کھبی اس کے پاس نہیں۔ گئی تھی ۔۔
لیکن اپنے دوست کو یوں ٹوٹتے بکھرتے دیکھ کے ۔۔
وہ کرچی کرچی ہو رہی تھی ۔۔۔
اس نے اپنے آبان کی پیشانی پہ اپنے لب رکھے تھے ۔۔
اس کے آنسو صاف کیے تھے ۔۔
” ہئی ۔۔۔ ہشششش ریلیکس ۔۔۔ “
اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کے وہ مسکرا رہی تھی ۔۔
آبان بھیگی آنکھوں سے اسے کی دیکھ رہا تھا ۔۔ ۔
” سونا چاہتا ہوں ابرش ۔۔۔
سویا نہیں میں اتنے دنوں سے ۔۔ “
ابرش نے مسکرا کے ۔۔
اس کا سر اپنی گود میں رکھا تھا ۔۔ ۔
آبان وہیں صوفے پہ لیٹا تھا ۔۔
اس کا سر ابرش کی گود میں تھا ۔۔
اور وہ نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی ۔۔۔
یہاں تک کہ وہ نیند کی وادیوں میں چلا گیا ۔۔۔۔
ابرش کو اپنے اس دوست سے بےحد انسیت تھی ۔۔۔
اچانک ہی دوست بنے تھے ۔۔
بار میں ہی ملے تھے ۔۔۔۔
وہ بہت ٹوٹا ہوا تھا ۔۔
ابرش نے ہی اسے سنبھالا تھا اس رات ۔۔
اور پھر اجنبی سے دوست بن گئے تھے ۔۔۔
وہ یونہی بیٹھی رہی ۔۔
کہیں آبان کی نیند نہ خراب ہو ۔۔۔
وہ پرسکون سا سو رہا تھا ۔۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” نہیں بھابی ۔۔۔ “
عنازیہ کی بات سن کے شمائم بدک کے پیچھے ہٹی تھی ۔۔
” لیکن کیوں شمائم ؟”
عنازیہ حیرت سے اس کا گریز دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” وہ چاہتا ہے تمہیں شمائم “
وہ اپنے ہاتھ مسلنے لگی ۔۔
عنازیہ نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا تھا ۔۔
” تم بھی چاہتی ہو ناں اسے “
شمائم نے چونک کے اسے دیکھا اور پھر نظریں جھکا گئی ۔۔
” تو پھر انکار کی وجہ ؟؟” ۔
وہ بےبسی سے عنازیہ کی سوالیہ آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔
” میں اس کی محبت کے قابل نہیں ہوں بھابی “
آنسو بھی اس کی گال پہ پھسلا تھا ۔۔ ۔
” کیوں شمائم ؟؟؟ تم ایسا کیوں سوچتی ہو ؟”
عنازیہ اس کے گال چھو کے پوچھ رہی تھی ۔۔
” میں کیریکٹر لیس ہوں بھابی “
کہتے ساتھ کے وہ رو پڑی تھی ۔۔
” وہاٹ ؟” عنازیہ نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔
” کل کو اسے میرے بارے میں سب پتہ چلا تو ۔۔۔ تو وہ چلا جائے گا ۔۔
مجھ سے نفرت کرے گا ۔۔
میں کیسے ان آنکھوں میں خود کے لئے نفرت دیکھ پاؤں گی “
اس نے روتے ہوئے کہا ۔۔
” وہ ایسا نہیں کرے گا شمائم “
عنازیہ اسے تسلی دیتے بولی تھی ۔۔
” کیسے نہیں کرے گا بھابی ۔۔۔
آپ جانتی تو ہے ۔۔۔
میں اس ویڈیو میں کیا کچھ کر رہی تھی ۔۔۔ “
وہ بھیگی آنکھوں سے عنازیہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” ہششش شمائم ۔۔ اس ویڈیو کا کوئی وجود ہی نہیں۔ ہے “
عنازیہ نے اس کے آنسو پونچھے تھے ۔۔
” اگر ہوتا وجود تو؟؟”
شمائم کی آنکھوں میں خوف تھا ۔۔ ۔
” میرے ہوتے تمہیں کچھ نہیں۔ ہو سکتا شمائم یہ مت بھولو ۔۔۔
حدید بہت اچھا انسان ہے ۔۔
بچپن سے اس نے بہت دکھ دیکھے ہیں ۔۔
امتسال نے اسے بےحد پیار سے بڑا کیا ہے ۔۔
بن ماں کا بڑا ہوا ہے وہ ۔۔
امتسال اپنے بھائی سے بےحد محبت کرتی ہے شمائم ۔۔
انھیں ہرٹ مت کرو ۔۔
جب تم خود بھی حدید کو چاہتی ہو تو چھوٹی سی بات کو ایشو بنا کے ۔۔۔
انھیں مت رلاؤ پلیز ۔۔
مت ہرٹ کرو پلیز “
عنازیہ محبت سے اسے سمجھا رہی تھی ۔۔
شمائم کچھ دیر سوچتی رہی ۔۔
پھر اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔
لیکن میں حدید کو سب بتاؤں گی پھر اگر وہ چاہے تو مجھے اپنا لیں ورنہ چھوڑ دے “
کہہ کے اس نے اپنے لب کاٹے تھے ۔۔
عنازیہ اسے دیکھ کے رہ گئی بس ۔۔۔
اب حدید کا کیا ری ایکشن ہوگا ۔۔
کیسے ری ایکٹ کرے گا ۔۔۔
اس کا فیصلہ کرنا ابھی سے مشکل تھا۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

From High to Hell

#Malayeka

#Episode_20

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

Episode 20

آحان نے اتنی زبردست پریزینٹیشن دی تھی ۔۔۔
کہ پوری کلاس نے تالیاں بجائی تھی ۔۔
ان میں عین سب سے آگے تھی ۔۔
وہ تو سیدھی ہوٹنگ کرنے لگ گئی تھی ۔۔۔
آحان اس کی حرکت پہ محفوظ ہوا تھا ۔۔
جبکہ سر جبار نے اسے اچھی خاصی گھوری دی تھی ۔۔۔
” تمہیں پتہ ہے آحان کا فاڈر ایک ڈرگ ڈیلر ہے ۔۔۔ اسمگلر ہے “
زونیہ نے اچانک اس کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی ۔۔
اس نے چونک کے زونیہ کو دیکھا تھا ۔۔۔
پھر سر جھٹک کے وہ آحان کو دیکھنے لگی ۔۔
جو اسی کی طرف آ رہا تھا ۔۔
” کانگریجولیشن ۔۔ “
اس نے چہکتے ہوئے آحان کو مبارکباد دی تھی ۔۔
وہ مسکرا کے اپنی سیٹ پہ جا کے بیٹھ گیا ۔۔۔
جبکہ عین نے پھر سے زونیہ کی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی ۔۔
زونیہ کب سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی ۔۔
لیکن اسے کوئی خاص تاثر نہیں نظر آیا تھا ۔۔۔
کلاس آف ہونے پہ سب جانے لگیں ۔۔۔
زونیہ نے پھر سے اس سے کچھ کہنے کی کوشش کی تھی ۔۔
” ع۔۔۔۔ “
لیکن وہ نظرانداز کرتی آحان کی طرف دیکھنے لگی ۔۔
جو اس کے پاس ہی آیا تھا ۔۔۔
زونیہ نے اپنی لب بھینچ لیے تھے ۔۔
” چلیں ؟”
آحان اسے نظر بھر کے دیکھتا بولا ۔۔
” یس “
وہ بھی مسکراتی ہوئی اٹھی تھی ۔۔
” تم چلو میں آتی ہوں “
آحان سر اثبات میں ہلاتا کلاس سے نکلنے لگا ۔۔۔
جب وہ زونیہ کی طرف مڑی تھی ۔۔
” آج تو آحان کے اگینسٹ میرے کان بھرنے کی کوشش کی ہے تم نے ۔۔
معاف کردیتی ہوں ۔۔
بٹ بی کئیر فل نیکسٹ ٹائم ۔۔۔
تم سے زیادہ احان کو جانتی ہوں ۔۔
اس کا فاڈر اگر اسمگلر ہے یا ڈرگ ڈیلر ہے ۔۔۔
تو تمہارا باپ کیا ہے ۔۔۔
اسٹے ان یور لیمٹس “
وہ اس پہ غرائی تھی ۔۔
اور باہر دروازے کے پاس کھڑا آحان اس کی باتیں سن چکا تھا ۔۔۔
عین باہر آئی تھی مسکراتی ہوئی ۔۔
” پارٹی کرنے چلیں “
آحان نے اسکے چہرے کو غور سے دیکھتے سر اثبات میں ہلایا تھا ۔۔۔
دونوں آگے بڑھ گئے تھے ۔۔
آحان کا ذہن چلتے ہوئے بھی اس کی باتوں میں الجھا ہوا تھا ۔۔۔
اس کے چہرے پہ پھیلی شرارت اور معصومیت کو دیکھتا وہ سر جھٹک گیا تھا ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” کیوں انکار کر رہی ہو تم مجھ سے شادی سے ؟”
شمائم کے چلتے قدم رکے تھے ۔۔
جب وہ بلکل اس کے سامنے کھڑا پوچھنے لگا تھا ۔۔
اسے اندازہ تھا کہ وہ ایسے ہی اس کا راستہ روک کے اس سے پوچھے گا ضرور ۔۔۔
” بتاتی ہوں ۔۔۔ وہاں چلیں “
وہ قدرے پرسکون جگہ کی طرف اشارہ کرتی بولی تھی ۔۔
وہاں رش کم تھے ۔۔
دونوں وہاں جا کے درخت کے سائے میں رکھے بینچز پہ بیٹھ گئے تھے ۔۔
” سن رہا ہوں “
وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
شمائم اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی ۔۔۔
” میری ویڈیوز لیک ہوئی تھی ۔۔۔ “
اس نے اچانک سے کہا تھا ۔۔
” تو ؟؟؟ “
شمائم نے چونک کے اسے دیکھا ۔۔
” آئی مین پھر کیا ہوا تھا ؟”
حدید کے چہرے پہ اسے کوئی خاص تاثر نظر نہیں آیا ۔۔۔
” تمہیں غصہ نہیں آیا ؟؟ آئی مین مجھ سے تمہیں نفرت نہیں ہو رہی ؟”
وہ حیرانی سی پوچھ رہی تھی۔۔۔
” کیا تم ایسا چاہتی ہو کہ مجھے تم سے نفرت ہو ؟؟”
وہ اسے نظروں کے حصار میں لیے پوچھ رہا تھا ۔۔
شمائم سر جھکا گئی ۔۔
اس کی آنکھیں بھیگی تھی ۔۔۔
” ہماری سوسائٹی کی پرابلم ہی یہی ہے ۔۔۔
ہم کچھ برا دیکھتے ہیں تو اسے برا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ ۔ یہ نہیں سوچتے ۔۔ یہ نہیں پوچھتے ۔۔ کیوں ؟؟
کیا ہوا تھا ۔۔
وہ کوئی غلطی بھی تو ہو سکتی ہے اس کی ۔۔
ہر غلطی کرنے والا برا تو نہیں ہوتا ۔۔
قابلِ نفرت نہیں ہوتا ۔۔۔
دکھاؤ ویڈیوز اپنی ؟”
وہ پوچھنے لگا ۔۔
” نہیں ہے کوئی بھی ۔۔
بھابی نے ہیک کروا کے سب ڈیلیٹ کروایا تھا “
اس نے آہستگی سے بتایا ۔۔۔
” گرلز ہاسٹل کی اسٹوری ہے ناں ؟”
اس نے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
” تو اس بیس پہ میں تم سے شادی سے انکار کردوں ۔۔
تمہیں اپنانے سے انکار کردوں ؟”
وہ اس کے جھکے سر کو دیکھتا کہہ رہا تھا ۔۔۔
اس کاسر مزید جھک گیا ۔۔
آنسو متواتر بہنے لگیں ۔۔۔
وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔۔
” مجھے تم سے شادی کرنی ہے شمائم ۔۔۔
محبت کرتا ہوں تم سے ۔۔
اور اپنے آگے کی لائف میں تمہیں ہی ہمیشہ ایمجن کیا ہے ۔۔۔
اگر انکار کرو گی ۔۔
زبردستی شادی کروں گا “
شمائم نے اپنی بھیگی آنکھیں اٹھا کے اسے دیکھا ۔۔
اس کی آنکھوں میں حیرت تھی ۔۔
” وہاٹ؟”
حدید نے آبرو اچکا کے دیکھا تھا اسے ۔۔۔
” کر رہی ہو شادی ۔۔۔ یا زبردستی نکاح کا کوئی بندوبست کروں ؟”
وہ جلدی سے ناسمجھی میں سر اثبات میں ہلانے لگی ۔۔۔
حدید نے آگے بڑھ کے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی ۔۔
” ایسے مت دیکھو ۔۔۔۔
میں نکاح کا انتظار کیے بنا ہی تمہیں kiss کر لوں گا “
اس کی سرگوشی پہ شمائم نے گھبرا کے پلکیں جھکا دی تھی ۔۔۔
اس کی پلکیں لرز رہی تھی۔ ۔
اور ہاتھوں کی لرزش چھپانے کی کوشش کرتی ۔۔
حدید کو گہرا مسکرانے پہ مجبور کر گیا تھا ۔۔۔
وہ
وہ مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
اسے افسوس ہوا تھا شمائم کے لئے ۔۔
کہ وہ ٹریپ ہوئی تھی ۔۔ ۔
لیکن اسے اس بات سے فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔
اسنے محبت کی تھی شمائم ۔۔
بنا کچھ جانے ۔۔
اور آج بھی وہ اپنی محبت نبھا رہا تھا
اور کل بھی نبھانے کا عزم کر چکا تھا وہ ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” بھیگی بھیگی سی ہے راتیں
بھیگی بھیگی یادیں
بھیگی بھیگی باتیں
بھیگی بھیگی ۔۔۔
آنکھوں میں کیسی نمی ہے ۔۔
آہا ۔۔۔ آہا ۔۔۔۔۔ “
آحان گٹار بجاتا ۔۔۔
مائک پہ گا رہا تھا ۔۔۔
میوزیکل فنکشن ارینج ہوا تھا ان کے یونیورسٹی ۔۔۔
جس میں آحان خاص اس کے لئے یہ سونگ گا رہا تھا ۔۔
” فار مائی لو ۔۔۔ “
اور عین مسکرائی تھی ۔۔۔۔
اور اب گانے کے بول ۔۔۔
اسکے دل کو دھڑکا رہے تھے ۔۔

” سپنوں کا سایہ پلکوں پہ ایا۔۔
پل میں ہنسایا ۔۔
پل میں رلایا ۔۔
پھر بھی یہ کیسی کمی ہے ۔۔
اہا۔۔ اہا”
آحان کی نظریں اسکے مسکراتے چہرے پہ تھی ۔۔
” نہ جانے کوئی ۔۔۔
کیسی ہے یہ زندگانی ۔۔۔
زندگانی ۔۔۔
ہماری ادھوری کہانی ۔۔۔۔ “
آنکھیں موند کے اس نے یہ الفاظ سنائے تھے ۔۔
عین کو اپنی آنکھیں نم ہوتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
آحان نے اشارے سے پوچھا تھا ۔۔
اس نے مسکرا کے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔

” آدھی آدھی جاگی
آدھی آدھی سوئی
آنکھیں یہ تیری
تو لگتا ہے روئی
لے کر کے نام ہمارا ۔۔۔
آہا ۔۔۔ اہا “
سب اسے رشک سے دیکھ رہے تھے ۔۔
جس کی ایک نگاہ کے لئے یہاں سب بچھی جاتی تھی ۔۔
وہ اپنی نگاہیں اس پر سے ہٹا ہی نہیں پا رہا تھا ۔۔۔

” روٹھا روٹھا رب
چھوٹا چھوٹا سب
ٹوٹا ٹوٹا دل
کیسے ہو جینا گوارا ۔۔
آہا ۔۔۔ آہا ۔۔۔ “
اشارے سے اسے اسٹیج پہ اپنے پاس بلایا تھا ۔۔
وہ اس کے پاس جا کے بیٹھی تھی ۔۔
مائیک اس کی طرف کر کے ۔۔۔
وہ اس کے ساتھ گانے لگا ۔۔
” نہ جانے کوئی ۔۔
کیسی ہے یہ زندگانی ۔۔
ہماری ادھوری کہانی “
وہ بھی اسکے ساتھ لفظ سے لفظ ملا کے گا رہی تھی ۔۔
” بھیگی بھیگی سی ہے راتیں
بھیگی بھیگی یادیں
بھیگی بھیگی باتیں
بھیگی بھیگی
آنکھوں میں کیسی نمی ہے ۔۔
آہا ۔۔۔ اہا “
پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ۔۔
اور وہ دونوں مسکرا کے ایکدوسرے کے دیکھ رہے تھے ۔۔
” آئی لو یو “
آحان نے سرگوشی کی تھی ۔۔
اور وہ بلش کر گئی تھی ۔۔۔

” واؤ واؤ امیزنگ “
ایک اسٹوڈنٹ جو اینکر تھا ۔۔
وہاں آیا تھا ۔۔
” یو آڑ امیزنگ آحان خان ۔۔
اینڈ دی گورجیئس یو ۔۔
ہمارے آحان کی عین ۔۔۔ “
وہ مسکرائی تھی ۔۔
” بٹ بٹ ۔۔
وہ ہیو آ سرپرائز فار یو گائز”
دونوں نے سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔
پھر سامنے اس اینکر کو دیکھنے لگے ۔۔
جب باقی ہوٹنگ کرنے لگیں ۔۔
” سرپرائز لایا جائے “
اس کی کلاس میٹ ہاتھ میں خوبصورت سے سجائے گئے دو کراؤنز لے کے آئی تھی ۔۔
” واوووووووووو”
ہوٹنگ ہو رہی تھی ۔۔
” ہماری یونیورسٹی کے فیورٹ کیوٹ سے کپل کے لئے ۔۔
ہمارا چھوٹا سا گفٹ “
اور تالیوں کے شور میں ۔۔
دونوں کے سروں پہ ۔۔
کراؤنز کو سجایا گیا ۔۔
” وڈ ہوپ ۔۔۔
کہ ہم ہمیشہ آپ دونوں کو یونہی ساتھ دیکھے ۔۔۔۔
اینڈ ویری سون شادی کی گڈ نیوز ملے ہمیں “
وہ خوشی سے چہک رہی تھی ۔۔
آحان بھی اسے دیکھ دیکھ کے مسکرا رہا تھا ۔۔۔
اور باقی سب ان کے لئے تالیاں بجا رہے تھے ۔۔
ان میں کچھ ایسے بھی تھی
جو حسد سے جل رہے تھے ۔۔
کچھ حسرت سے دیکھ رہے تھے ۔۔
اور
کچھ دلی خوشی محسوس کر رہے تھے ان کے لئے ۔۔۔
وہ دونوں خوش تھے اس بات سے بےخبر ۔۔
کہ حسد رشتوں کو کھا جاتی ہیں ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا ۔
تو سامنے صوفے پہ منہ گھٹنے میں دیے رواحہ کو روتے ہوئے پایا ۔۔۔
وہ گھبرا کے اس کے قریب آیا تھا ۔۔
” رواحہ “
اس نے جیسے ہی سر اٹھایا ۔۔
اپنے سامنے ارحان کو دیکھ کے اٹھی تھی ۔۔
اور اس کے گلے لگی تھی ۔۔
” آپ ٹھیک ہے ارحان ۔۔
آپ کو کچھ ہوا تو نہیں۔ ناں ؟”
وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔
” رواحہ میں ٹھیک ہوں ۔۔کیوں رو رہی ہو ؟”
” وہ ناں ۔۔۔ “
وہ اس سے الگ ہو کے ۔۔۔ اب سوں سوں کرتی ناک کے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” کیا وہ ؟؟”
وہ اس کے گرد بازوؤں کا گھیرا کیے ۔۔
تھوڑا جھک کے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
رواحہ نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔
پھر جلدی سے نظریں جھکا دی ۔۔
” نیوز میں بتا رہے تھے کہ آپ پہ قاتلانہ حملہ ہوا ہے ۔۔۔
پھر میں آپ کو کال ملا رہی تھی ۔۔
آپ ریسیو ہی نہیں کر رہے تھے ۔۔
مجھے لگا ۔۔۔ “
وہ روتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ گئی تھی ۔۔۔
” کہ میں مر گیا ہوں “
اس نے دھیمے لہجے میں کہا تھا ۔۔
رواحہ نے تڑپ کے اس کے لبوں پہ اپنا نازک سا ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔
ارحان نے اس کے ہاتھ کو چوما تھا ۔۔۔
رواحہ جھینپ ہی گئی تھی ۔۔۔
” ہوا تھا حملہ ۔۔۔
لیکن تمہارے لئے میں بچ گیا ۔۔
تمہارا یہ روپ دیکھنے کے لئے میں بچ گیا “
وہ نرم سرگوشی کر رہا تھا ۔۔
رواحہ کی پلکیں لرزی تھی ۔۔
” اتنی محبت کرتی ہو مجھ سے رواحہ ؟”
وہ اس کے کان کے پاس جھکا پوچھ رہا تھا ۔۔۔
رواحہ نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔
” تو یہ گریز کیوں مجھ سے ؟”
اس کی مدھم سرگوشی پہ ۔۔۔
رواحہ نے اپنی جھکی پلکیں اٹھائی تھی ۔۔۔
” آپ نہیں کرتے ناں ۔۔۔
خود ہی مجھے چھوڑ گئے تھے آپ “
شکایت کرتی نگاہیں ۔۔۔
شکوہ کرتے لب ۔۔
اس کی نظریں رواحہ کے نازک لبوں پہ ٹھہری تھی ۔۔۔۔
” اب کرتا ہوں محبت ۔۔۔ “
” چھوڑ گئے تھے آپ مجھے “
وہ پھر سے شکوہ کر گئی ۔۔
ارحان نے بےاختیار اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔
” اب نہیں جاؤں گا کہیں ۔۔۔ “
دھیما سا ۔۔۔
آنچ دیتا لہجہ ۔۔۔
رواحہ بوکھلا کے پیچھے ہونے لگی تھی ۔۔
لیکن ارحان نے اس کی پشت پہ اپنے ہاتھ رکھ کے ۔۔۔
اسے اپنے بےحد قریب کیا ۔۔۔۔
” رہو ناں پاس ۔۔۔ “
رواحہ کی سانسیں جیسے اٹکی تھی ۔۔۔
” کل کو پچھتانا پڑ گیا آپ کو تو ؟”
وہ بھی آنکھیں موندے سرگوشی کر رہی تھی ۔۔
” نہیں پچھتاؤں گا “
وہ دھیمے سے بولا تھا ۔۔
” کل کو کہہ دیا کہ غلطی ہو گئی تو ؟”
وہی شکایت بھری سرگوشی ۔۔۔
” موت کی بد دعا دے دینا “
بےچین سے سرگوشی تھی ۔۔۔
رواحہ تڑپ کے اس کے سینے سے لگی تھی ۔۔
اور بےخیالی میں اپنے لبوں کی گرفت مضبوط کی تھی ۔۔۔
ارحان مسکرا کے ۔۔۔
اس کی لبوں سے ۔۔۔
اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں گڈمڈ کرنے لگا ۔۔۔
رواحہ مزاحمت نہیں کر رہی تھی ۔۔
وہ جو کب سے ۔۔۔
ارحان کی محبت دل میں بسائے ۔۔۔۔
اس پہ اپنا سب وار چکی تھی ۔۔۔
اور ابھی۔۔۔۔
اس کی قربت میں تڑپ رہی تھی ۔۔۔
ارحان نے نرمی سے اسے چھوڑ دیا تھا ۔۔۔
وہ اپنی سانسیں بحال کرنے لگی ۔۔۔
” ابھی تو بہت جھیلنا باقی ہے مجھے رواحہ ۔۔۔۔ ابھی سے دم توڑ رہی ہو “
وہ سرگوشی کر رہا تھا ۔۔
رواحہ تو پلکیں اٹھاکے اسے دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی ۔
بس نظریں جھکائے اپنی سانسیں بحال کر رہی تھی ۔۔
” آج کی حسین رات تک ملتوی کر رہا ۔۔۔ “
وہ اس کے کان کی لو لبوں سے دباتا بولا تھا ۔۔۔
رواحہ نے ایک نظر اسے دیکھا تھا ۔۔
وہ مسکراتا ہوا واشروم گیا تھا فریش ہونے ۔۔۔
اور رواحہ کے دل کی دنیا میں جیسے ہنگامہ برپا تھا ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

وہ ابھی ابھی گرلز ہاسٹل سے نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔
اپنا موبائل چیک کرتی وہ اپنی کار کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔
جب کسی نے اچانک سے اس کا بازو کھینچا تھا ۔۔۔
اس سے پہلے وہ چیختی ۔۔۔
اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ کے اسے اپنے ساتھ ۔۔۔
کچھ فاصلے پہ موجود گھنے درخت کے پاس لے گیا تھا ۔۔
اس کے چہرے پہ ماسک تھا ۔۔
تبھی وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہی تھی ۔۔
اسے درخت سے لگا کے ۔۔۔
وہ اب اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
” ہئی مائی لیڈی “
” تم ۔۔۔۔ “
وہ اس کے بازوؤں سے نکلنے کی مزاحمت چھوڑ کے ۔۔
اب خونخوار نظروں سے اس کے ماسک لگے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” بھولتی نہیں ہے کھبی آپ مجھے ویسے؟”
وہ مزے سے بولتا اسے طیش دلا گیا تھا ۔۔
” چھوڑو مجھے یو ۔۔۔ “
وہ چیخی تھی ۔۔
” ہشششش “
اپنی انگلی اس کے لب پہ رکھی تھی ۔۔
عنازیہ نے دانت گاڑے تھے اس کی انگلی پہ ۔۔۔۔
آبان نے ہاتھ کھینچ کے اس کی گردن پہ رکھا تھا ۔۔۔
” میرے ہر کام میں ٹانگ بہت اڑاتی ہے آپ ۔۔۔۔ مس عنازیہ خان “
عنازیہ نے تیز نظروں سے گھورا تھا ۔۔
لیکن وہ چونکی تھی ۔۔۔
اس کی آنکھیں دیکھ کے وہ ایک پل کو چونک سی گئی تھی ۔۔۔
وہ حیرت سے اس کی آنکھوں کا کلر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
‘ تمہاری آنکھوں کا کلر مجھے کنفیوز کر دیتا ہے ۔۔۔ یہ ڈارک گرے ہیں یا لائٹ گرے ‘
اسے اپنے الفاظ یاد آئے تھے ۔۔۔
آبان ایکدم سے اسے چھوڑ کے پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔
اور پھر بھاگتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف گیا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ اس کی پیچھے آئی تھی ۔۔
لیکن وہ گاڑی لے جا چکا تھا ۔۔۔
وہ وہیں کھڑی رہی ۔۔۔
” نہیں ۔۔۔ “
وہ خود ہی اپنی بات کی نفی کر رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آحان کی ڈیتھ ہو چکی ہے ۔۔
اس کا پلین کریش ہو گیا تھا عنازیہ ۔۔۔ “
آذر کی آواز اس کے کانوں ٹکرائی تھی ۔۔
اس کی آنکھیں بےیقین تھی ۔۔۔
” اسے ڈھونڈنا چھوڑ دو ۔۔
اس کا انتظار اب بےمطلب ہے عنازیہ ۔۔۔
وہ ہم میں نہیں ہے اب”
آذر کی آواز پھر سے ابھری تھی ۔۔ ۔
” ی۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ۔۔۔
آ۔۔۔ آحان ۔۔۔۔۔ “
لفظ ٹوٹ ٹوٹ کے اس کی زبان سے ادا ہوئے تھے ۔۔۔
” میں اس سے کانٹیکٹ میں تھا عنازیہ ۔۔
لیکن اس نے تمہیں کچھ بھی بتانے سے منع کر دیا تھا ۔۔۔
لیکن آج جب یہ نیوز سننے کو ملی تو ۔۔۔
سوچا تمہیں بتا دوں ۔۔۔ “
آذر کہہ رہا تھا ۔۔
” کیوں ؟؟؟ “
عنازیہ ساکت آنکھوں سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
” آحان نہیں چاہتا تھا کہ تمہارا اس سے سامنا ہو ۔۔۔ “
آنسو ٹوٹ کے گر رہے تھے ۔۔۔
اور
وہ سامنے روڈ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جہاں سے ابھی ابھی آبان سکندر گیا تھا ۔۔۔۔
” وہی آنکھیں ۔۔۔ “
وہ بڑبڑائی تھی ۔۔۔۔
‘ لیٹ می گیس ۔۔ ۔۔
تمہاری آنکھیں ڈارک گرے ہیں یا لائٹ گرے “
اسے اپنی آواز سنائی دی تھی ۔۔۔
وہ دھندلائی آنکھوں سے روڈ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
اس کے موبائل پہ کال آ رہی تھی ۔۔۔
وہ سر جھٹک کے کال سننے لگی ۔۔
گاڑی آگے لے جا کے اس نے اپنا ماسک اتارا تھا ۔۔
دوسری سیٹ پہ جھٹک کے پھینکا تھا اس نے ۔۔۔
اسے عنازیہ کی حیران آنکھیں یاد آئی ۔۔
تو اسنے غصے سے گاڑی سائیڈ پہ روکی تھی ۔۔۔
” شٹ ۔۔۔ “
اس نے غصے سے ہاتھ اسٹئیرنگ پہ مارا تھا ۔۔۔
” شٹ ۔۔ شٹ میں گیا ہی کیوں وہاں “
وہ اب لب بھینچے سامنے سڑک پہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آؤٹ آف کنٹری جا رہا ہوں میں ۔۔ “
وہ سامنے روڈ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اسے اپنی ہی آواز سنائی دی تھی ۔۔
” بدلہ نہیں لو گے عنازیہ سے ۔۔۔
وہ چیٹ کر چکی تمہیں “
یہ آذر تھا ۔۔
” محبتوں میں بدلے نہیں لیے جاتے ۔۔۔
میں تو اس سے محبت کر بیٹھا تھا ۔۔۔
اگر وہ جھوٹ بول رہی تھی تو کوئی بات نہیں ۔۔۔
سہہ گیا میں یہ بھی “
اپنا ٹوٹا لہجہ اسے سنائی دیا تھا ۔۔۔
” آحان ۔۔۔
اسے جب بھی ہنستے ہوئے دیکھتا ہوں ۔۔
غصہ آتا ہے مجھے ۔۔۔
دل کرتا ہے پوچھوں اس سے کہ کیوں تم نے یہ سب آحان کے ساتھ ۔۔۔
آج کل اپنے کسی امیر کزن کے ساتھ نظر آتی ہے ۔۔۔
کافی فری ہیں دونوں آپس میں ۔۔۔ “
آذر کی آنکھیں مسکرا رہی تھی ۔۔۔
وہ انھیں الگ کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا ۔۔۔۔
وہ یہ سب کہہ رہا تھا ۔۔
یہ جانے بنا کہ اس کے دل پہ کیا گزر رہی ہے یہ الفاظ سنتے ہوئے ۔۔۔
” ایم اسپیچ لیس رائٹ ناؤ “
آحان نے دکھ بھرے لہجے میں بس اتنا ہی کہا تھا ۔۔
” اور تمہارا ایمبیشن ۔۔۔
تمہارا ڈریم جرنیلسٹ بننے کا؟”
آذر خود کو دکھی کرتا بولا تھا ۔۔۔
” مر گیا آحان خان ۔۔۔
مر گئی محبت ۔۔۔
مر گئے خواب ..”
آنسو ٹوٹ کے اس کے گال پہ پھسلا تھا ۔۔۔
” مجھے ختم کر دیا تم نے مسز عنازیہ خان ۔۔۔
مجھے ختم کر دیا “
وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں کو ۔۔۔۔
ونڈ اسکرین سے ۔۔۔
روڈ پہ کھڑی عنازیہ پہ گاڑے ۔۔
سرد لہجے میں کہہ رہا تھا ۔۔۔
وہ جو اب تک وہاں کھڑی یہ سوچ رہی تھی ۔۔
کہ آبان کی آنکھیں آحان سے کتنی ملتی ہے ۔۔۔
ہل بھی نہیں پا رہی تھی اپنی جگہ سے ۔۔۔۔۔
” آحان مر چکا ہے عنازیہ “
سرگوشی ہوئی تھی ۔۔۔
۔۔
اس نے اپنا موبائل اٹھایا ۔۔۔
اور عنازیہ کو کال کرنے لگا ۔۔
” ہیلو ۔۔۔ “
اس کی آواز ابھری تھی ۔۔۔
” مائی لیڈی “
وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا ۔۔
عنازیہ کی تیوریاں چڑھ گئی ۔۔
” مجھے اتنی حیرت سے دیکھ رہی تھی آپ ۔۔۔
کوئی اپنا یاد آ گیا تھا کیا آپ کو ؟”
اس کے چہرے پہ اذیت بھری مسکراہٹ تھی ۔۔
لیکن آواز سپاٹ تھی ۔۔
” میرا کوئی اپنا تم جیسا گھناؤنا کام نہیں کرتا ۔۔ جو تمہیں دیکھ کے کوئی یاد آئے مجھے “
اس نے دانت پیستے کہا تھا ۔۔
آبان سکندر ہنس پڑا تھا ۔۔
لیکن ساتھ میں اپنی آنکھوں سے امڈتے آنسو کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرنے لگا ۔۔۔
” سوچ لیں ۔۔۔
آپ کوبھی کڈنیپ کر لوں گا میں ۔۔۔۔ “
عنازیہ کچھ دیر خاموش ہوئی تھی ۔۔
پھر غرائی تھی ۔۔
” موت کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہو اپنے ؟”
جبکہ پھر سے وہ ہنسا تھا ۔۔۔
” امیزنگ ۔۔۔۔
کیا بات ہے آپ کی ۔۔۔
اگر کڈنیپ کر لیا آپ کو کسی دن ۔۔
تو سوچ لیں ۔۔
ڈر جائے گی آپ مجھ سے “
پھر سے وہی زخمی مسکراہٹ تھی اس کے لبوں پہ ۔۔۔
” پہلے تم ہمت تو کر لو مجھے کڈنیپ کرنے کی “
وہ بنا ڈرے غرائی تھی ۔۔۔
” ویٹ اینڈ واچ ۔۔۔۔ مس عنازیہ خان “
وہ سرد لہجے میں بولا تھا ۔۔
اور پھر کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی ۔۔۔
اس کے چہرے پہ درد رقم تھی ۔۔۔
” ول یو میری می عین ؟”
” نو ۔۔۔۔ “
اس نے شدت اذیت سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔
” آئی رئیلی لو یو عالیار ۔۔۔ “
اس کے کانوں میں گونجی تھی عنازیہ کے کہے الفاظ ۔۔۔
وہ چلایا تھا ۔۔۔
گاڑی اسٹارٹ کر کے اس نے فل اسپیڈ پہ ڈال دی تھی ۔۔۔۔
اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔
لیکن وہ اسپیڈ کم کرنے کی بجائے ۔۔
بڑھا رہا تھا ۔۔۔۔ ۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

From High to Hell

#Malayeka

#Episode_21

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

Episode 21

امتسال آج بہت عرصے بعد ۔۔
تاشفین ارحم کے بنگلے پہ آئ تھی ۔۔۔
اسے اپنے بھائی کی خاطر آنا ہی تھا ۔۔۔
تاشفین اپنی بیٹی کو دیکھ کے مسکرائے تھے ۔۔
” امتسال ۔۔۔ کیسی ہو میری بچی ؟”
جبکہ امتسال سپاٹ نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھی ۔۔
اسے اس شخص سے کوئی دلچسپی نہیں۔ تھی ۔۔۔
” حدید کے لئے پروپوزل لے کے جانا ہیں ارحان علی خان کی بہن کے لئے ۔۔۔ سوچا آپ کو بتا دوں ۔۔
ایز آ فاڈر ۔۔۔
آپ اپنا فرض نبھانے کے لیے میرے ساتھ اگر آنا چاہے “
لہجہ بھی سرد اور سپاٹ تھا ۔۔
تاشفین مسکرائے تھے ۔۔
” یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔۔
میرا بیٹا اتنا بڑا ہو گیا “
ان کے لہجے میں محبت تھی ۔۔
” جی ۔۔
ہوگیا بڑا آپ کا بیٹا ۔۔
شادی کے قابل بھی ہو گیا ۔۔ “
وہ اب بھی سرد لہجے میں بات کر رہی تھی ۔۔
تاشفین نے اپنی بیٹی کو غور سے دیکھا ۔۔
کتنی اجنبی لگ رہی تھی وہ ۔۔
کتنا سرد برتاؤ ۔۔
انھوں نے گہرا سانس لیا ۔۔۔
” کب جانا ہیں ؟”
” شام کو “
کہہ کے امتسال جانے کے لئے مڑی تھی ۔۔۔
جب تاشفین نے اسے آواز دی ۔۔
” امتسال “
وہ رک کے اسے دیکھنے لگی ۔۔
” کچھ دیر بیٹھو بیٹا ۔۔۔ “
وہ نرمی سے کہہ رہے تھے ۔۔
امتسال نے ایک سرد نگاہ ان پہ سر تا پیر ڈالی ۔۔۔
” مجھے آفس جانا ہے “
کہہ کے وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔۔
تاشفین وہیں کھڑے رہے ۔۔
جوانی کا جوش کم ہوا تو ۔۔
انھیں یہ احساس بھی ہو گیا ۔۔
کہ بچوں کو صرف پیسے نہیں چاہئیے ہوتے ۔۔
انھیں باپ کی سرپرستی ۔۔
باپ کا سایہ ۔۔
باپ کی محبت بھی چاہئیے ہوتی ہے ۔۔
اور
تاشفین ارحم دوسری شادی کے بعد یہ سب بھول چکا تھا ۔۔
ایک باپ کے فرائض وہ بھول چکے تھے ۔۔
جو اب انھیں یاد آ رہے تھے ۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

عنازیہ اپنے گیلے بال ڈرائی کر رہی تھی ۔۔
جب عالیار نے بلکل اچانک اس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے ۔۔۔
اسے اپنے قریب کیا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ نے ایک بھرپور گھوری سے اسے نوازا تھا ۔۔۔
” کدھر غائب رہتی ہے میری مسز ۔۔
جو مجھے ہی نظر نہیں آتی “
اس کی گردن میں چہرہ چھپائے وہ پوچھ رہا تھا ۔۔
” میرا مسٹر بھی تو غائب رہتا ہے ۔۔ بیوی کو گھر لا کے بھول ہی گیا ہے “
وہ بھی طنز کرنا نہ بھولی تھی ۔۔۔
عالیار نے نظر اٹھا کے ۔۔
اسکے عکس کو آئینے میں دیکھا ۔۔
” واہ کیا فرمان ہیں آپ کے مسز ۔۔
مطلب میں غائب رہتا ہوں؟”
وہ ڈرائیر رکھ کے اس کی طرف مڑی تھی ۔۔۔
” یس مائی ڈئیر ہبی ۔۔
اپنی بیوی کو ٹائم نہیں دیتے آپ “
اس کا کالر پکڑ کے وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی کہہ رہی تھی ۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا تھا ۔۔۔
” ابھی تو ٹائم ہی ٹائم ہیں ۔۔
تو کیا خیال ہے ؟”
وہ اسے اپنے قریب کرتا بولا تھا ۔۔
” ابھی بلکل بھی کوئی ٹائم نہیں ہے ۔۔۔
شمائم کو دیکھنے امتسال کی فیملی آ رہی ہے “
عالیار چونک کے اسے دیکھنے لگا ۔۔
” ہماری شمائم اتنی بڑی ہو گئی ؟”
” جی بلکل ۔۔۔
حدید تاشفین امتسال کا چھوٹا بھائی ہے ۔۔
شمائم اسے پسند ہے ۔۔
اور اسے اپنانا چاہتا ہے ۔۔
بہت اچھا لڑکا ہے ۔۔
ایجوکیٹیڈ ۔۔ ویل مینیرڈ
اور بہت کیوٹ “
وہ گن گن کے بتا رہی تھی ۔۔
عالیار رک کے اسے دیکھنے لگا ۔۔
” یہ کیوٹ والی بات ہضم نہیں ہوئی ۔۔۔ “
” تو ENO بنا کے پی لو “
وہ منہ بنا کے بولی تھی ۔۔
” ہئی یو ۔۔۔ “
عالیار اس کی طرف لپکا تھا ۔۔
لیکن عنازیہ پیچھے ہٹی تھی ۔۔
” فریش ہو کے آؤ جلدی ۔۔
وہ لوگ آ رہے ہوگیں ۔۔۔ “
عالیار وہی رک کے اسے دیکھنے لگا ۔۔
” بتاتا ہوں رات کو تمہیں ۔۔۔ “
وہ اسے دھمکی آمیز لہجے میں کہتا واشروم کی طرف جانے لگا ۔۔
” رات کو میں امتسال کے فلیٹ جا رہی “
اس نے اچانک کہا تھا ۔۔
” وہاٹ “
عالیار مڑا تھا ۔۔۔
اور اب کڑے تیوریوں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔
” تم کہیں نہیں جا رہی “
” پہلے پرامس کرو ۔۔
تنگ نہیں کرو گے “
اس کے چہرے پہ شرارت تھی ۔۔
عالیار کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔
” تمہاری تو ۔۔۔ “
کہہ کے وہ اس کے پیچھے لپکا تھا ۔۔
لیکن عنازیہ پھرتی سے کمرے سے نکل کے دروازہ بند کر چکی تھی ۔۔۔ ۔
عالیار بھی سر جھٹک کے واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔
جبکہ عنازیہ اپنی ہنسی دباتی ۔۔
سیڑھیاں اترنے لگی ۔۔۔
مہمانوں کے آنے سے پہلے وہ سب دیکھ لینا چاہتی تھی ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

حدید ۔۔۔
امتسال کے ساتھ باہر آیا ۔۔۔
تا کہ دونوں بہن بھائی ارحان علی خان کے گھر جا سکے ۔۔۔۔
جب اس کی نظر سامنے کھڑی تاشفین ارحم کی کار پہ پڑی ۔۔
اس نے رک کے سرد نظروں سے اس کار میں بیٹھے وجود کو دیکھا ۔۔
پھر اپنی بہن کو دیکھنے لگا ۔۔
” ایمی یہ کیوں آیا ہے ؟’
” میں نے بلایا ہے “
امتسال نے اس کی طرف دیکھتے کہا تھا ۔
” بٹ وائی ایمی ۔۔ یہ کیوں جا رہا ہمارے ساتھ ؟”
غصہ اس کے لہجے سے چھلک رہا تھا اور چہرے پہ بھی ۔۔
” ریلیکس حدید “
امتسال نے اسے تسلی دی ۔۔
” کھبی کھبی ہمیں ایسے ڈیسیژنز لینے پڑتے ہیں جو ہماری مرضی کے خلاف ہوتے ہیں ۔۔ بٹ اٹس اوکے ۔۔
جو بھی ہے ہمارے فاڈر ہیں ۔۔۔۔
سو بیٹر ہمارے ساتھ جائیں “
وہ حدید کو سمجھا رہی تھی ۔۔
لیکن حدید پھر بھی لب بھینچے ہوئے تھا ۔۔۔
دونوں کار تک آئے تھے ۔۔
تاشفین اپنی گاڑی سے باہر نکلے تھے ۔۔۔
اور مسکرا کے دونوں کو دیکھنے لگے ۔۔۔
” چلتے ہیں “
امتسال حدید کا ہاتھ دباتی گاڑی کی طرف آئی تھی ۔۔۔
نہ کوئی سلام نا حال چال پوچھا ۔۔۔
تاشفین اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے ۔۔
حدید بھی نظریں چرائے گاڑی میں جا کے بیٹھ گیا ۔۔۔
تاشفین کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ ابھر کے معدوم ہوئی تھی ۔۔
ان کا ہی بویا ہوا تھا یہ سب ۔۔
جو یوں صلہ مل رہا تھا انھیں ۔۔
وہ بھی گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔۔
اور گاڑی اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔
گاڑی میں تینوں نفوس خاموش تھے ۔۔۔
عجیب تناؤ والی خاموشی تھی ۔۔۔۔
امتسال نے کن اکھیوں سے تاشفین کو دیکھا ۔۔
وہ باہر دیکھ رہے تھے ۔۔
اسے اب شرمندگی ہو رہی تھی۔ ۔۔
اور یہی سوچ رہی تھی ۔۔
کہ اسے مروتا سلام کر لینی چاہئے تھی۔ ۔۔۔ ۔
نرم سا دل اس کا اب دکھ رہا تھا اس شخص کے لئے ۔۔
لیکن پھر سر جھٹک کے باہر دیکھنے لگی ۔۔
” مجھے کیا ۔۔ “
تاشفین چپ چاپ باہر دیکھ رہے تھے ۔۔
دل پہ عجیب سا بوجھ آن پڑا تھا ۔۔
عجیب احساسات میں گھر گئے تھے ۔۔ ۔
ایک ناکارہ چیز کی طرح خود کو محسوس کر رہے تھے ۔۔۔۔
جو گھر کے کسی کونے میں پڑی رہتی ہے ۔۔
اور خود نظر کرم کے لئے ترستی ہے ۔۔۔ ۔
وہی حال ان کا ابھی ہو رہا تھا۔ ۔
جو اپنے دونوں بچوں کے ایک نظر کرم کے لئے ترس رہے تھے ۔۔
لیکن وقت ہاتھ سے مٹی کی طرح پھسل چکا تھا ۔۔ ۔
کچھ ہاتھ میں نہ تھا ۔۔
خالی ہاتھ تھا وہ ۔۔۔
اپنے ہی کیے کی سزا بھگتنا پڑ جائے
تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے ۔۔
وہی حالت ابھی تاشفین ارحم کی تھی ۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

نکاح کی تاریخ پکی ہوئی تھی ۔۔۔۔
حدید مسکرا رہا تھا ۔۔۔
کن اکھیوں سے رواحہ کے پہلو میں بیٹھی شمائم کو بھی ایک ایک نظر ڈال کے دیکھ لیتا ۔۔
جس کے ہاتھ میں اس کے نام کی انگوٹھی ابھی ابھی عنازیہ نے پہنائی تھی ۔۔
وہ خوش تھی ۔۔
حدید کے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھ کے وہ امتسال سے بھی زیادہ خوش ہو رہی تھی ۔۔۔
شمائم بھی اسے تو عزیز تھی ۔۔
دونوں ہی بن ماں کے بڑے ہوئے تھے ۔۔۔
اور دونوں بےحد خوش تھے ۔۔
نکاح کی تاریخ طے ہوئی تھی ۔۔
اور
رخصتی ان کے اسٹڈیز کے کمپلیٹ ہونے کے بعد کے لئے رکھی گئی تھی ۔۔
امتسال نے چپکے سے ایک نظر تاشفین ارحم پہ ڈالی تھی ۔۔۔
جو ارحان علی خان کے ساتھ کچھ ڈسکس کر رہے تھے ۔۔۔
بات کرتے وہ ایک ایک نظر حدید پہ بھی ڈال دیتے تھے ۔۔
ان کے چہرے پہ عجیب اذیت سی تھی ۔۔۔
حدید نے مروتا بھی ان سے بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔
ان کے مبارک ہو کہنے پہ بھی خاموش رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
امتسال کو عجیب دکھ آن گھیرا تھا ۔۔۔
وہ شخص ان کے لئے یہاں تک آیا تھا ان کے ساتھ ۔۔۔
اور وہ بدلے میں اس شخص کی بار بار تذلیل کر رہے تھے ۔۔۔
تبھی جب گاڑی میں اس نے دیکھا کہ تاشفین ارحم چپکے چپکے ۔۔
اپنی آنکھیں مسلتے امڈتے آنسو صاف کر رہے ۔۔۔
تو دل بےطرح تڑپا تھا ۔۔۔
انھوں نے کھبی ان کی ماں کو دکھ نہیں دیا تھا ان کی زندگی میں ۔۔
وہ بہت محبت کرتے تھے مما سے ۔۔
ان کے جانے کے بعد بھی وہ شادی سے انکار کرتے رہے ۔۔
لیکن پھر ایک دن انھوں نے شادی کر لی ۔۔۔
ان کی نئی بیوی کو وہ کھبی ماں کو درجہ نہ دے سکے ۔۔
وہ بھی کھنچی کھنچی رہتی تھی ۔۔۔
اور پھر تناؤ اتنا بڑھا ۔۔۔
کہ وہ دور ہوتی گئی تاشفین ارحم سے ۔۔۔۔
فلیٹ کے سامنے کار رکی تھی ۔۔۔
حدید نیچے اتر کے تن فن کرتا جا چکا تھا ۔۔۔
امتسال تاشفین ارحم کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔
ایک سایہ سا گزرا تھا ان کے چہرے پہ ۔۔۔
وہ بھی اترے تھے ۔۔
لیکن حدید نے ان کی طرف دیکھنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔۔۔
امتسال انھیں ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ان کی نظریں حدید کا پیچھا کر رہی تھی ۔۔۔
سر جھٹک کے انھوں نے امتسال کی طرف دیکھا ۔۔
اور مسکرانے کی کوشش کرنے لگے ۔۔۔
امتسال سر جھکا گئی ۔۔۔
پھر کچھ دیر بعد سر اٹھا کے انھیں دیکھا تھا ۔۔۔
” مبارک ہو آپ کو ۔۔۔ “
تاشفین مسکرائے تھے ۔۔
آنسو کا ایک قطرہ ان کی آنکھ سے پھسل ۔۔
ان کی بیئرڈ میں گم ہو گیا تھا ۔۔۔
امتسال نے ان کے آنسو دیکھے تھے ۔۔
” حدید کو میری طرف سے مبارکباد ضرور دینا ۔۔۔ مین ایک اچھا باپ نہ بن پایا کھبی بھی ۔۔۔ تم دونوں کے لئے ۔۔ اس کے لئے معاف کر دینا “
بھاری آواز میں کہتے وہ سر جھکا گئے تھے ۔۔۔
امتسال ان کے جھکے سر کو دیکھتی رہی ۔۔۔
” اپنا خیال رکھئیے گا ۔۔۔
اللہ حافظ “
انھوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔
کتنی بےچینی تھی ۔۔۔
امتسال کے سر پہ ہاتھ رکھنے کی چاہ دل میں لیے ۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھے تھے ۔۔۔
گاڑی آگے بڑھ چکی تھی ۔۔۔
اور آنسوؤں نے جیسے راستہ دیکھ لیا تھا بہنے کا ۔۔۔ ۔
امتسال وہیں کھڑی رہی ۔۔۔
جب تک گاڑی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی ۔۔۔
دل پہ بھاری بوجھ لیے ۔۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ فلیٹ کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔
رشتوں میں دراڑ آ جائے ۔۔۔
تو انسان خالی ہاتھ ہی رہتا ہے ۔۔۔۔
رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی ۔۔
ہم نا مکمل سے ہی ہوتے ہیں ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

لیپ ٹاپ سامنے رکھے ۔۔۔
وہ انہماک سے اسائنمنٹ بنا رہا تھا ۔۔۔
جب اسے اپنی گردن پہ گہری بوجھل سانسوں کا احساس ہوا ۔۔۔
اس نے چونک کے اپنے پاس بیٹھی عنازیہ کو دیکھا ۔۔
جو مزے سے اس کے کندھے پہ سر رکھے سو چکی تھی ۔۔۔
وہ گہرا مسکرایا تھا ۔۔۔۔
وہ اس کے ساتھ ۔۔۔
اس کے گھر آ کے ۔۔
اسائنمنٹ بنانے کا پروگرام بنائے ہوئے تھی ۔۔
اور جناب بیچ میں ہی سو چکی تھی ۔۔۔
آحان نے اسے دھیرے سے خود سے الگ کر کے ٹھیک سے سلانا چاہا تھا ۔۔۔۔
لیکن محترمہ اتنی گہری نیند میں تھی شاید ۔۔
کہ جیسے ہی آحان نے صوفے سے اٹھ کے اسے وہاں ٹھیک سے لٹانے کی کوشش کی ۔۔
تو وہ آحان کا ہاتھ پکڑ کے پھر سے سو چکی تھی ۔۔۔
اور آحان اب دم بخود سا وہاں بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
دل میں خواہش سی جاگی تھی ۔۔۔
اسے چھو لینے کی خواہش ۔۔
اس کی بند پلکوں سے خواب بننے کی خواہش ۔۔۔
اس کے نرم نیم وا لبوں سے ۔۔۔
سانسیں چرانے کی خواہش ۔۔۔
اس کی گردن پہ احان کی نظر رکی تھی ۔۔
اور دل خواہش کرنے لگا ۔۔۔
اس کی گردن پہ اپنے محبت بھرے لمس چھوڑ کے ۔۔
اس کی خوشبو کو خود میں اتارنے کی خواہش ۔۔۔۔
اپنی خواہشات کو تھپکی دیتے وہ نظریں چرانے لگا تھا ۔۔
لیکن دل بھی ناں ۔۔۔
ہمک ہمک کے کہہ رہا تھا۔ ۔ ۔
کچھ تو جسارتیں کر لو پیار بھری ۔۔۔
کچھ تو گستاخیاں کر لو شرارت بھری ۔۔
وہ بےبسی سے اس کے سراپے کو دیکھ رہا تھا ۔۔
اپنے دل کو ڈپٹ کے وہ اٹھنے لگا ۔۔۔۔۔
آہستگی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے الگ کر کے صوفے پہ آرام سے رکھا تھا۔ ۔۔ ۔
اور پھر اٹھ کے کمفرٹر لایا بیڈ روم سے ۔۔
اس پہ اچھی طرح اوڑھا کے ۔۔
وہ دوسرے صوفے کی طرف جانے لگا ۔۔۔
جب پھر سے نظر اس موم سی گڑیا پہ پڑی ۔۔
جو اسے دل و جان سے بھی زیادہ عزیز تھا ۔۔۔
بےساختہ ہاتھ بڑھا کے ۔۔۔
اپنی انگلی کی پور سے ۔۔۔
اس کے نیم وا لبوں کو ہلکا سا چھوا تھا ۔۔۔۔
کتنے نرم تھے ۔۔
اس نے اس احساس کو اپنے اتارا تھا ۔۔
گہرا سانس لے کے وہ دوسرے صوفے پہ جا کے بیٹھ چکا تھا
اور اپنا اور اس دشمن جاں کا اسائنمنٹ بنانے لگا ۔۔۔
ایک گھنٹے تک وہ اپنی اور اس کی اسائنمنٹ بنا چکا تھا ۔۔۔
لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھ کے ۔۔
اس نے تھک کے صوفے کی پشت پہ سر رکھ کے آنکھیں موند لی تھی ۔۔۔
عنازیی کی آنکھ کھلی ۔۔۔
تو اچانک گڑبڑا کے اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔
اسی گڑبڑاہٹ میں آحان کی آنکھ بھی کھل چکی تھی ۔۔ ۔
اور
اپنی نیند سے بوجھل آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
” میں سو گئی تھی ؟؟”
وہ اپنی آنکھیں مسلتی پوچھ رہی تھی ۔۔۔
آحان مسکرایا تھا ۔۔
” لگ تو یہی رہا ۔۔۔ “
‘ میرا اسائنمنٹ “
اس نے رونی سی شکل بنائی تھی ۔۔
” بن گئی ہے۔۔۔ “
وہ اپنے سر کو دائیں بائیں کرتا اپنی نیند کو بھگانے کے لئے بولا تھا ۔۔۔۔۔
اسے معلوم تھا اب محترمہ کے سوالوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے ۔۔
کون سی نیند ۔۔
کہاں کی نیند ۔۔۔
” تم نے بنائی آحان ۔۔۔ “
وہ آنکھوں میں پیار بسائے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔
اسے آحان کے چہرے پہ کافی تھکاوٹ محسوس ہوئی تھی ۔۔
” میں کافی بنا کے لاتی ہوں تمہارے لئے “
وہ ایکدم اپنی جگہ سے اٹھی تھی ۔۔۔
بوکھلاہٹ میں پاؤں نیچے پڑے کمفرٹر پہ پھنسا
اور دھڑام سے آحان کے اوپر گری تھی ۔۔۔
آحان نے اسے جلدی سے بازوؤں میں بھر لیا تھا ۔۔
” عین آڑ یو اوکے ۔۔ ٹھیک ہو ؟
چوٹ تو نہیں آئی ؟”
وہ پریشانی سے پوچھ رہا تھا ۔۔ ۔جبکہ وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔ ۔
” ہاں ۔۔۔۔ یہ کمفرٹر بھی ناں عجیب “
وہ اٹھنے کی کوشش کرتی بولی تھی ۔۔
لیکن اسکے گلے کی نازک سی چین ۔۔۔
آحان کی شرٹ کے بٹن میں پھنسی تھی ۔۔۔۔۔
” اوہ میری چین ۔۔۔ “
وہ پریشانی سے اپنی چین اس کی شرٹ کے بٹن سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
اس کے پریشان چہرے پہ ۔۔۔
اس کے بکھرے بال ۔۔۔
اس کی جھکی نظریں ۔۔۔
اپنی چین نکالنے کی تگ و دو کرتی ۔۔۔
آحان بےاختیار اسے اپنے بےحد قریب دیکھے گیا ۔۔۔۔
دل میں ہلچل سی ہوئی تھی ۔۔۔
سانسیں بھی مضطرب ہوئی تھی ۔۔۔
انگلی کی پور سے اس کے بال ۔۔۔
کانوں کے پیچھے کرنے لگا ۔۔
بےحد نرمی سے ۔۔
عنازیی نے چونک کے اسے دیکھا تھا ۔۔۔
ان آنکھوں میں تو محبت کا جہان آباد تھا ۔۔۔
بےلوث محبتوں کے لو دیتے جذبے ۔۔۔
وہ بس اس کی ان گرے کلر کی آنکھوں میں دیکھتی رہی ۔۔۔
جن کے بارے میں وہ ہمیشہ کہتی ۔۔
یہ ڈارک گرے ہیں یا لائٹ گرے ۔۔
دل کی دھڑکن کھبی مدھم ہوتی ۔۔
تو کھبی تیز ۔۔۔
گال دہکنے لگے تھے ان نظروں کے تصادم سے ۔۔۔
آحان نے ہاتھ بڑھا کے ۔۔۔
اپنے انگوٹھے سے ۔۔۔
اس کے گال کو رب کیا تھا ۔۔۔۔۔
اس کی بےساختہ نظریں جھکی تھی ۔۔
پلکوں میں لرزش تھی ۔۔۔
اس کے لبوں کو بےساختہ چھوا تھا انگوٹھے سے ۔۔۔
” آ۔۔۔۔ آحان ۔۔۔ “
وہ بس اتنا ہی کہہ پائی تھی ۔۔۔
اس لمحے کی گرفت سے نکالنا آسان نہیں تھا ۔۔۔
” وہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ چین ۔۔۔ بٹن “
وہ ہکلائی تھی ۔۔۔
آحان بہ مشکل خود کو اس لمحے کی گرفت سے آزاد کرنے لگا ۔۔
اس نے آرام سے چین کو اپنی شرٹ کے بٹن سے الگ کیا ۔۔۔
نرمی سے اپنے پرحدت لب ۔۔۔ ۔اس کی پیشانی پہ رکھ کے ۔۔
اپنی محبت کی مہر ثبت کی تھی ۔۔۔
اور پھر عنازیہ کی اٹھنے میں مدد کر کے خود بھی کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔
عنازیہ نظریں جھکائے اپنے بال باندھنے لگی ۔۔۔
جبکہ آحان اس کے سراپے کو نظر بھر کے دیکھتا ۔۔۔۔۔
کہنے لگا ۔۔
” ب۔۔۔ بھوک لگی ہوگی ۔۔۔
کچھ بنا بھی لیتے ہیں ساتھ میں ۔۔۔ “
عین نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
اور پھر اس کے ساتھ کچن کی طرف بڑھ گئ تھی ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” آحان ایک بات تو بتاؤ ؟”
آذر اس کا کلاس میٹ اس کے سامنے بیٹھا کہہ رہا تھا ۔۔ ۔
” ہاں پوچھو ؟”
آحان اپنا موبائل چھوڑ کے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
” عنازیہ نے کھبی کہا تم سے کہ وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے ؟” ۔
آحان نے چونک کے اسے دیکھا ۔۔
” کیوں ؟؟”
” نہیں مطلب ۔۔۔
کیا پتہ وہ ٹائم پاس کر رہی ہو ۔۔
اسے تمہارے فاڈر کا بھی پتہ ہے کہ مافیا میں ہے ۔۔۔
وہ ایک عزت دار گھر کی بیٹی ہے ۔۔
کیا وہ یا اس کی فیملی تم سے رشتہ جوڑنے کے لئے مانے گی ؟”
تیر نشانے پہ لگا تھا ۔۔
آذر اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
جس کے چہرے پہ تفکرات تھے ۔۔۔
” یوں کرو ۔۔
اسے یونی گراؤنڈ میں ۔۔
سب کے سامنے پروپوز کرو ۔۔
دیکھو کیا کہتی ہے وہ ؟”
آذر نے ایک اور شوشا چھوڑا ۔۔
” سب کے سامنے کیوں “
آحان اچنبھے سے اسے دیکھنے لگا ۔۔
” وہ اس لئے کہ ۔۔۔
یونی کے پاپولر کپل ہو تم دونوں ۔۔۔
سب کے سامنے پروپوز کرو گے ۔۔۔
تو سب کے سامنے ہی جواب دے گی وہ ۔۔۔
اب جن کو تم دونوں سے مسلہ ہے ۔۔
ان کا منہ بھی بند ہو جائے گا “
آحان ناسمجھی سے اسے دیکھتا سر اثبات میں ہلانے لگا ۔۔۔
تو آذر کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی ۔۔۔
اسی طرح آذر نے عنازیہ سے بھی کہا تھا ۔۔
” جب پروپوز کرے تو فرسٹ ٹائم میں ہی اسے ہاں مت کہہ دینا تم ۔۔۔
تھوڑا تنگ کرو ۔۔
تھوڑا تڑپاو ۔۔
وہاں سے چلی جانا ۔۔
جب وہ تمہارے پیچھے آئے گا ۔۔
تب ہاں کہہ دینا ۔۔۔ “
عنازیہ ہنسنے لگی تھی ۔۔
” واؤ ۔۔۔
مطلب منی ہارٹ اٹیک “
آذر بھی مسکرایا تھا ۔۔
” یس ۔۔ “
لیکن انجام سے بےخبر عنازیہ اس کی بات مان گئی تھی ۔۔
اور پل پل اس لمحے کا انتظار کرنے لگی ۔۔
کہ کب آحان اسے پروپوز کرے گا ۔۔
اور کب وہ اسے تنگ کرے گی ۔۔۔