📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="327"]
56426 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1 & 2

اسکے انگلیوں کی سرسراہٹ اسے اپنی پشت پہ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
اس کے پرحدت لبوں کا لمس عنازیہ کو اپنی گردن پہ محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
وہ جھٹکے سے مڑی تھی ۔۔۔
لیکن
ہر طرف لاشیں تھیں ۔۔۔۔
اس کے اپنوں کی لاشیں ۔۔۔
اس کے پاپا کی خون میں لٹ پر باڈی ۔۔۔
اس کے مما کی تڑپتی باڈی ۔۔۔
اس کے بھائی کا مردہ جسم
اور
اس کی چھوٹی بہن کی برہنہ لاش ۔۔۔
وہ آنسو آنکھوں میں لیے ان سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جنہیں وہ کھو چکی تھی ۔۔۔
اور
بلکل اچانک وہ سامنے آ گیا تھا ۔۔
” عالیار خان”

وہ ایکدم سے چیخ کے اٹھی تھی ۔۔۔
پورا جسم پسینے سے نہایا ہوا تھا ۔۔۔
چہرے پہ پسینے کی ننھی ننھی بوندیں تھی ۔۔۔
اور دل کانپ رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا
وہ اپنے کمرے میں تھی ۔۔۔۔
دوسرے کمرے سے امتسال بھاگتی ہوئی آئی تھی ۔۔۔
” عنازیہ ٹھیک ہو تم ؟”
وہ خوفزدہ آنکھوں سے امتسال کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
پھر رونے لگ گئی ۔۔۔
” کیسے زندہ گھوم رہا ہے میرے اپنوں کا قاتل ۔۔۔۔۔ کیسے “
وہ اپنے بال مٹھیوں میں پکڑ کے چلائی تھی ۔۔۔۔۔
امتسال نے اسے ایسا کرنے سے روکا تھا ۔۔۔۔

” ریلیکس عنازیہ مل جائے گا قاتل ۔۔۔ عالیار نے کہا تو ہے کہ ڈھونڈ نکالے گو اسے “
” جھوٹ بولتا ہے وہ ۔۔۔ جھوٹا ہے وہ ۔۔۔ مجھے تکلیف دیتا ہے وہ “
وہ چیخی تھی ۔۔۔
” جو شخص تم سے اتنی محبت کرتا ہے عنازیہ کہ تمہیں چوٹ تک لگے وہ تڑپتا ہے ۔۔۔۔۔ پھر کیسے وہ تکلیف دےسکتا ہے تمہیں ؟ حقیقت جلد کھل کے سامنے آ جائے گی “
امتسال پرسوچ نظروں سے اپنی دوست کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کافی عرصے سے وہ دونوں ایک ساتھ اس فلیٹ میں رہتی تھی ۔۔۔۔
جب سے عنازیہ ۔۔۔ عالیار خان سے الگ ہوئی تھی اور طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی ۔۔۔ تب سے وہ یہی تھی۔ ۔۔
وہ نفرت کرتی تھی عالیار خان سے اور اسے ہمیشہ یہی لگتا کہ عالیار کو اس سے کھبی محبت نہیں ہوئی وہ بس اس کے ساتھ تھا ۔۔۔ اس کے لئے سب رشنا ہی ہے جس کے ساتھ اس نے عالیار کو رنگے ہاتھوں پکڑا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن امتسال کو ایسا نہیں لگتا تھا ۔۔۔
جو شخص پولیٹیکس میں ہوتے ہوئے بھی اتنی شدت کی محبت کرتا ہو اپنی بیوی سے ۔۔۔۔ وہ کیسے ایسا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔
جبکہ عنازیہ یہی سمجھ رہی تھی ۔۔۔ کہ اس سے بےانتہا محبت کی سزا کاٹ رہی ہے وہ اب ۔۔۔۔۔
عنازیہ ایک جرنلسٹ تھی ۔۔۔
ایک کانفرنس میں دونوں کا سامنا ہوا تھا ۔۔۔
اور پھر محبت ۔۔۔
شادی ۔۔۔۔
جنون کی حد تک عشق ۔۔۔
اور پھر سب ختم ۔۔۔۔
عنازیہ اسے اپنی وحشت زدہ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” مجھ سے زیادہ تمہیں اس سے ہمدردی ہے ۔۔۔۔ “
امتسال نے افسوس سے اسے دیکھا ۔۔ اور پھر اسے گلے لگا لیا ۔۔۔
” میں یہ نہیں کہتی کہ تم بری ہو ۔۔۔ لیکن عنازیہ کچھ تو ہے ۔۔۔ کوئی ایسا پہلو ضرور ہے جو ہمیں نظر نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔ اور مجھے وہ ڈھونڈنا ہے “
” تم بس عالیار خان کو بےقصور پروف کرنا چاہتی ہو ۔۔۔ “
وہ امتسال کو گھور رہی تھی ۔۔۔
” اور تم عالیار خان کو قصوروار “
امتسال نے بھی دوبدو جواب دیا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ اس سے الگ ہو کے بیڈ پہ گرتے منہ پہ تکیہ رکھ لیا ۔۔۔۔
” گڈ نائٹ “
امتسال تاسف سے سر ہلا گئی ۔۔۔
اور اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف چل پڑی ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” کتنا کڑوا سچ لکھتی ہو تم یار”
امتسال اس کے قریب بیٹھی کہہ رہی تھی ۔۔۔۔ نیوز پیپر بھی اس کے سامنے رکھا تھا اس نے ۔۔۔
جس میں اس کا کالم جگمگا رہا تھا ۔۔۔
عنازیہ کے لبوں پہ تلخ مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔۔
” سچ ۔۔۔۔ سچ ہی ہوتا ہے اب یہ انسانوں پہ ہیں کہ کتنا کڑوا اور کتنا میٹھا لگتا ہے انھیں ۔۔۔ “
امتسال نے ساتھ ہی ریموٹ سے ٹی وی آن کر دیا تھا ۔۔۔ اور پہلی نظر ہی اس دشمن جاں پہ پڑی تھی عنازیہ کی ۔۔۔
اور سوال بھی اسی کے بارے میں تھا ۔۔۔
” مسٹر عالیار خان ۔۔۔۔ اتنی محبت کا انجام یوں ہونا تھا کیا ؟؟؟ آپ کی مسز عنازیہ ڈائیورس چاہتی ہے آپ سے ۔۔۔ مطلب آپ دو لو برڈز الگ ہونگیں ؟”
اس کے لبوں پہ مبہم مسکراہٹ پھیلی تھی ۔۔۔۔
عنازیہ بھی کانپتے دل کے ساتھ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” الگ تو تب ہی ہونگیں جب آپ کو میری سانسیں اسٹاپ ہونے کی نیوز ملے گی “
” *****”
عنازیہ کے منہ سے اچھی خاصی گالی نکلی تھی ۔۔۔۔
امتسال کو ہنسی آ گئی ۔۔۔
” ہی از سو ہینڈسم “
لیکن عنازیہ کی گھوریاں دیکھ کے منہ پہ زپ کا نشان بنایا اپنے ہاتھ سے ۔۔۔
” لیکن وہ تو آپ پہ بدکردار ہونے کا الزام لگا چکی ہے ….”
وہ رپورٹر کہہ رہی تھی ۔۔۔
” وہ کہہ رہی ہے تو ٹھیک ہی کہہ رہی ہوگی “
وہ مبہم سا لہجہ ۔۔۔
” اتنی محبت اپنی مسز سے “
وہ رپورٹر کہہ رہی تھی ۔۔۔
” *****”
دوسری گالی دیکھ کے اس نے ٹی وی آف کردیا ۔۔۔۔
امتسال اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
” تیری گالیوں پہ مر مٹا ہوگا عالیار خان ۔۔۔۔۔ “
عنازیہ کی گھوریاں عروج پہ تھی ۔۔
” نہیں مطلب اتنی ہاٹ لگتی ہو۔۔۔ گالی دیتی ہو تو “
وہ سر کھجا کے بولی تھی ۔۔
” تجھے بھی دوں ؟”
عنازیہ نے دانت پیستے کہا تھا ۔۔۔
تو امتسال کانوں کو ہاتھ لگا کے سر نفی میں ہلانے لگی ۔۔۔۔
تبھی آفس کا دروازہ کھلا اور خیام انوار اندر آیا تھا ۔۔
” ہیلو گرلز “
وہ مسکرا کے وہیں ان کے پاس بیٹھا تھا ۔۔۔
عنازیہ کا چہرہ اس نے غور سے ملاحظہ فرمایا
” منہ کیوں بارہ بجا رہے تمہارا ؟”
جبکہ جواب امتسال نے دیا
” عالیار خان کو فریش فریش گالیاں دے کے فارغ ہوئی ہے ابھی “
” شٹ اپ بوٹ آف یو “
عنازیہ غصے سے کہتی اپنے کام۔میں مصروف ہوگئی تھی ۔۔۔۔
جبکہ خیام اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” ڈائیورس لینا اتنا ایزی نہیں ہے عنازیہ میڈم ۔۔۔ ملک کا اچھا وکیل کراؤ پہلے ۔۔۔۔ “
” ذلیل انسان ہر وکیل خریدلیتا ہے ۔۔۔۔ “
اس نے دانت پیسے تھے ۔۔۔
” یوں کرتے ہیں دونوں جا کے اسے قتل کر دیتے ہیں۔۔۔ قصہ ہی ختم “
خیام نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے کہا تھا ۔۔۔
” مت بھولو ۔۔۔ میں بھی یہیں ہوں اور عالیار خان جیسا بھی ہے میرا فیورٹ ہے ۔۔۔ “
امتسال نے اونچی آواز میں کہا تھا ۔۔ پھر اشتعال سے ہاتھ ٹیبل پہ مار کے کہا
” اور عنازیہ سن لو میری بات ۔۔۔ جس دن تم سمجھو گی کہ عالیار خان بےقصور ہے ۔۔۔ وہ سینسئیر ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ تو بہت دیر ہو چکی ہوگی ۔۔۔۔ “
سنجیدگی سے کہہ کے وہ اٹھ کے جا چکی تھی ۔۔۔۔ جبکہ عنازیہ سر ہاتھوں پہ گرائے اس کی باتوں کو سوچ رہی تھی ۔۔۔
اتنا تو وہ بھی جانتی تھی کہ عالیار خان ایسا کھبی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔

دل کے کسی کونے میں ہمک ہمک کے صدا آ رہی تھی کہ وہ بےقصور ہے ۔۔۔
لیکن دماغ کہتا ۔۔۔ وہ اتنا بھی بےقصور نہیں ہے ۔۔۔۔ بدکردار ہے ۔۔۔ بھول گئی اس رشنا کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا تھا تم۔نے ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے وہ لمحہ گھوم گیا جب وہ فارم ہاؤس گئی تھی اس کے ۔۔۔ اور وہاں رشنا اس پہ بےباکانہ انداز میں جھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے غصے سے پین ہی توڑ دیا ۔۔۔۔ خیام اسے ہی غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” تم امتسال کی باتوں پہ غصہ مت کرو ۔۔۔۔ اسے کیا پتہ ۔۔۔۔ عالیار کی مرضی سے ہوا ہے سب ۔۔۔۔ ثبوت بھی مل جائیں گے “
عنازیہ نے اسے دیکھا
” تم اتنے یقین سے کہہ سکتے ہو کہ عالیار نے کیا ہے یہ سب ؟”
شکی مزاج تو سدا کی تھی ۔۔۔۔
خیام گڑبڑا سا گیا ۔۔۔۔
” وہ ۔۔۔۔ تم۔نے ہی تو کہا تھا ابھی ۔۔۔ انفیکٹ ہمیشہ یہی کہتی ہو کہ عالیار نے کیا ہے یہ سب “
عنازیہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی ۔۔۔
خیام کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
عنازیہ نظریں ہٹا چکی تھی اس پر سے اب ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا موبائل سوئچ آن کیا تھا ۔۔۔
دل بے طرح دھڑک رہا تھا ۔۔۔
آنکھوں میں جیسے خوف ہلکورے لے رہا تھا ۔۔۔
خشک لبوں پہ زبان پھیرتے تر کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔۔۔۔
اور اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔
اس کی آنکھیں ساکت رہ گئی تھی ۔۔۔
آگے پیچھے بہت سے واٹس ایپ میسجز آئے تھے ۔۔۔۔
وہ دھندلائی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
اپنا برہنہ وجود ۔۔۔۔
شاور لیتے ہوئے ویڈیو ۔۔۔
اپنی ریڑھ کی ہڈی تک میں اسے سرسراہٹ محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔
” یہ ۔۔۔ یہ سب کیسے ؟”
وہ رو بھی نہیں پا رہی تھی ۔۔۔
نشے میں دھت ۔۔۔ بہت سی لڑکیوں کے بیچ گھری ۔۔۔۔
وہ اس کی ہاسٹل فیلوز ہی تھیں ۔۔
اس نے غور کیا تھا ۔۔۔
جو اسے چھو رہی تھی ۔۔۔
اس کی گردن پہ اپنے لب رکھ رہی تھیں۔ ۔۔
کوئی اس کے لبوں کو چھو رہا تھا ۔۔۔
کوئی اس کی کمر پہ ۔۔۔
اور
وہ نشے میں دھت ۔۔۔۔۔
اپنا بھاری سر تھامے ۔۔۔۔۔
ہوش و خرد سے بیگانہ ۔۔۔۔
موبائل اس کے ہاتھ سے گر چکا تھا ۔۔۔
وہ رو رہی تھی ۔۔۔
اپنے بال نوچ رہی تھی ۔۔۔۔۔
” یہ ۔۔۔ یہ سب کب ہوا ؟؟؟ “
اس کے موبائل پہ کال آئی تھی ۔۔۔ اس نے گھبرا کے تیزی سے موبائل اٹھایا ۔۔
کانپتے ہاتھوں ریسیو کر کے کان سے لگایا تھا جب آبان سکندر کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی تھی ۔۔۔
” میری پیاری شمائم ۔۔۔۔۔ “
اور اس کا وجود لرز اٹھا تھا ۔۔۔۔
” دیکھ چکی تو ہوگی ۔۔۔۔ اپنے خوبصورت مومنٹس ۔۔۔ یو نو وہاٹ جب میں کیپچر کر رہا تھا تو افففف ۔۔۔۔۔ تم تو کلی ہو کلی “
اسے گھن آئی تھی آبان سکندر کی باتوں سے ۔۔۔۔
” کیا چاہتے ہو؟ کیوں کر رہے یہ سب ؟”
وہ روئی تھی ۔۔ اور وہ ہنس پڑا تھا ۔۔۔۔
” بس چاہتا ہوں میرے ساتھ ایک سرپرائز ویڈیو بناؤ ۔۔۔۔ پھر عالیار خان کو دکھا کے سرپرائز کر دیں گے اسے ۔۔۔ “
وہ سفاکیت سے بولا تھا اور شمائم کا دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔ روح تک کانپ گئی تھی اس کی ۔۔۔
” کیا ہوا شمائم بیبز ۔۔۔۔۔ دیکھو ناں اگر یہ ویڈیو تمہارے بھائی تک گئی تو وہ ہوگا آپے سے باہر ۔۔۔۔۔ تمہیں ہی مار ڈالے گا ۔۔ مجھے تو کچھ ہوگا نہیں ۔۔۔۔۔ “
شمائم کی ہچکیاں بندھ گئی تھی خوف سے ۔۔۔
” میرے ساتھ کچھ پل بٹھاؤ ۔۔۔ دونوں انجوائے کریں گے ۔۔۔۔ تم ۔۔۔ میں ۔۔۔ حسین پل ۔۔۔۔ اففف تمہارا کروٹیں لیتا بدن اور میری بےباکیاں ۔۔۔ ٹو مچ فن “
وہ کہہ رہا تھا اور شمائم کی سانس اٹک رہی تھی۔۔۔
” تو ملتے ہیں کل شام کو ۔۔۔ نہیں رات کو ۔۔۔۔ حسین رات ۔۔۔۔ “
وہ کال ڈسکنیکٹ کر چکا تھا اور شمائم سن بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا ۔۔۔
وہ رونا تک بھول گئی تھی ۔۔۔۔
اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے ۔۔۔۔
اس کی سانسیں جیسے اٹک رہی تھی ۔۔۔
‘ شمائم ۔۔۔ اپنی ان دوستوں سے دور رہو ۔۔ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی’
دور کہیں سے عنازیہ کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی تھی ۔۔
‘ آؤ کم آن بھابی ۔۔۔ آپ بہت شکی ہے قسم سے ‘
اس نے ہچکی لی تھی ۔۔
‘ شمائم ختم کر دیں گی وہ ایک دن تمہیں ۔۔۔۔ اپنے بھائی کا مان مت توڑنا کھبی ۔۔۔ ان کی عزت ہے اچھالنا مت کھبی ‘
عنازیہ کی آواز پھر گونجی تھی ۔۔
‘ تو آپ کیا کر رہی ہے بھابی ۔۔۔۔۔ سب کے سامنے انھیں بدکردار تک کہہ دیا آپ نے ‘
اس نے تنک کے کہا تھا ۔۔
‘ میں نے اسے بدکردار کہا ہے شمائم ۔۔ میں خود بدکرداری کا مرتکب کھبی نہیں ہوئی جو اس کی بدنامی کا باعث بنے ‘
عنازیہ نے تیز لہجے میں کہا تھا
‘ تو کیا میں بدکردار ہوں ‘
وہ غصے سے چلائی تھی ۔۔
عنازیہ اسے دیکھے گئی ۔۔۔
‘ اللہ وہ دن کھبی نہ لائے شمائم کہ تم پہ بدکرداری کا داغ لگ جائے ۔۔۔۔’
اور ابھی وہ تڑپ تڑپ کے رو رہی تھی ۔۔۔
وہ بدکردار ہو گئی تھی ۔۔۔
بدکرداری کا مرتکب ہو چکی تھی ۔۔۔
بدکردار بن گئی تھی وہ ۔۔۔ !!!!

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

وہاں پہنچتے ہی پہلا کام اس نے یہ کیا کہ ٹیبل پہ رکھا لیپ ٹاپ بند کر دیا ۔۔۔۔ ۔
جاسم جو گلاسز لگائے لیپ ٹاپ کی اسکرین پہ غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس افتاد پہ بوکھلا کے سامنے کھڑی اپنی سونامی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ جسے عام زبان میں امتسال بھی کہتے تھے ۔۔۔
اور پھر گہرا سانس لے کے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا ۔۔۔
جانتا تھا اب اس کے کانوں کی پکائی ہوگی ۔۔۔۔
” کاش میں میتھس ہوتی “
اس نے دانت پیستے کہا تھا
” اور کوئی امتسال آ کے تمہارا منہ بند کر دیتی “
اس نے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کر کے لقمہ دیا تھا ۔۔۔
امتسال اسے گھور کے رہ گئی ۔۔۔۔
” اتنا تنگ آ گئے ہو مجھ سے ۔۔ تو بول دو چلی جاتی ہوں بہت دور تم سے “
وہ روہانسی ہوئی تھی ۔۔۔
اور منہ موڑ کے جانے لگی تھی اور یہیں جاسم ہار جاتا ۔۔۔۔
اپنی جگہ سے اٹھا اور راستے میں ہی اسے جا لیا ۔۔۔
اس کے سامنے کھڑا ہوگیا ۔۔۔
” ہئی ۔۔۔ “
جبکہ وہ پلکیں جھپک جھپک کے اسے معصومیت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جاسم نے اپنی ہنسی روکی تھی ۔۔۔
” آئسکریم کھانے چلتے ہیں “
جاسم بولا تھا ۔۔۔ اور امتسال سب بھول کے چہکی تھی ۔۔۔
” اسٹرابیری ۔۔۔۔ “
” بلکل ۔۔۔ بٹ واپس آ کے تم مجھے یہ میتھس پرابلم سولو کرنے دو گی ۔۔۔ “
وہ اپنا والٹ اور کیز اٹھاتا بولا تھا ۔۔۔
امتسال منہ بنا کے وہیں صوفے پہ بیٹھ گئی تھی ۔۔۔ جاسم اسے حیرت سے دیکھنے لگا
” اب کیا ہو گیا “
” تم نے اظہارِ محبت اسی میتھس سے کیوں نہ کیا ؟”
وہ غصے میں اسے گھور رہی تھی ۔۔۔
” روز کرتا تو ہوں “
جاسم زیر لب مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
امتسال کچھ دیر اسے گھورتی رہی ۔۔۔
پھر اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی ۔۔۔۔
” بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہارا میتھس “
کہہ کے وہ غصے میں تن فن کرتی جانے لگی ۔۔ جب جاسم اس کے اور دروازے کے بیچ حائل ہو گیا ۔۔۔۔ اور اسے نظروں کے حصار میں لے کے مسکرانے لگا ۔۔۔
” اب کیا مسلہ ہے ۔۔ جا تو رہی ہوں “
وہ غصے سے منہ بسورتی بولی تھی
” یہی تو مسلہ ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ تم جاؤ “
وہ گھمبیر لہجے میں بولا تھا
” کیوں ؟”
وہ شاکی نظروں سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی
” آئی لو یو امتسال “
وہ اسے نظروں کے حصار میں لیے بولا اور امتسال کو لگا دھڑکن مدھم ہوتے ہوتے اب تیز ہو گئی ہے ۔۔۔
” تو کیوں میتھس کو میرا سوتن بنا رہے “
وہ اب بھی منہ پھلائے ہوئے تھی ۔۔۔
اس نے امتسال کا نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔
جس ہاتھ میں اس کے نام کی انگوٹھی تھی ۔۔۔ اس پہ اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔
پرحدت لبوں کا لمس امتسال کو اندر تک محسوس ہوا تھا ۔۔۔
” یہ جو ہے ناں ۔۔۔۔ یہ اس بات کا پروف ہے کہ جہاں جاسم۔اور امتسال ہونگیں ۔۔۔وہاں میتھس تو ہوگا ہی “
رومینٹک ہوتے ہوتے وہ ایکدم سے شوخ ہوا تھا ۔۔۔ اور وہ جو کچھ رومینٹک سننے کے انتظار میں تھی ۔۔۔ غصے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔۔
” دفع ہو جاؤ “
جبکہ جاسم ہنس رہا تھا اب ۔۔۔ امتسال کو ایسے ہی تنگ کرتا وہ ہمیشہ اور وہ روہانسی ہو جاتی ۔۔۔ جیسے سچ میں جاسم کے لئے اس سے زیادہ میتھس ہی امپورٹنٹ ہو۔ ۔۔ اب یہ کوئی جاسم سے پوچھے کہ وہ کس قدر امتسال کی محبت میں پور پور ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

#Episode_2

Episode 2

کانفرنس کے ختم ہوتے ہی وہ ارحان علی خان کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔ تا کہ اپنے نیوز چینل کے لئے وہ اس کا انٹرویو لے سکیں آج کے متعلق ۔۔۔۔۔
ارحان علی خان اس کا جیٹھ بھی تھا ۔۔۔۔۔ جو عنازیہ سے بےحد پیار کرتا تھا ۔۔۔ وہ ان کی چہیتی تھی۔ ۔۔ اور عنازیہ بھی اس کی بہت عزت کرتی تھی اور آج بھی عالیار سے تعلق ختم کرنے کے بعد بھی وہ اس گھر کے ہر فرد کا احترام کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
” مس عنازیہ ؟”
کسی کے بلانے پہ وہ مڑی تھی ۔۔۔
” سر آپ کو بلا رہے ہیں ۔۔۔
آپ نے انٹرویو لینا تھا ناں ان کا “
وہ سر اثبات میں ہلا کے اس کے ساتھ آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔
روم کے سامنے رک کے اسے اندر جانے کا کہہ کے وہ شخص اب جا چکا تھا ۔۔۔۔ وہ اندر آئی تھی ۔۔۔ سامنے ہی کوئی اسے راکنگ چئیر پہ بیٹھا نظر آیا ۔۔۔ عنازیہ کی طرف اس کی پشت تھی ۔۔۔۔۔
” ارحان بھائی ۔۔۔۔ “
لیکن وہ شخص جیسے ہی گھوما ۔۔۔ تو ساتھ ہی عنازیہ کو بھی پورا کمرہ گھومتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔
غصے کی لہر اسکے پورے وجود پہ پھیلی تھی ۔۔۔۔۔۔
جبکہ اس کے چہرے پہ مبہم مسکراہٹ تھی ۔۔۔
” تم ۔۔۔۔ “
غم و غصے سے اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا ری ایکٹ کرے ۔۔۔۔
غصے سے مٹھیاں بھینچتی وہ مڑی تھی کہ کمرے سے جا سکے ۔۔۔۔ لیکن عالیار خان ایک جھٹکے سے اٹھ کے اسکے قریب آ چکا تھا ۔۔۔۔
اس کے گرد بازوؤں کا حصار بنا کے اسے اپنے قریب کیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ بوکھلا کے اس کے سینے سے جا لگی تھی ۔۔۔
عالیار کی گرم سانسیں اسے اپنی گردن کی پشت پہ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
” چھوڑو مجھے “
وہ غرائی تھی ۔۔۔
اس کے حصار سے نکلنے کے لئے وہ پھڑپھڑا رہی تھی ۔۔۔۔
” بدکردار ہوں میں ۔۔۔ پروف بھی تو چاہئیے ناں میڈیا کو میری بدکرداری کا ۔۔۔۔ تو اب “
اس کا رخ موڑ کے وہ اپنی طرف کر چکا تھا ۔۔ لیکن چوکا نہیں تھا ۔۔۔۔
اس کی پشت پہ ہاتھ رکھے اسے اپنے بےحد قریب کیا ۔۔۔۔
دونوں کی اتھل پتھل ہوتی سانسیں ایک دوسرے کا چہرہ چھو رہی تھی ۔۔۔۔
عالیار خان اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے ہوئے تھا ۔۔۔
” میری بیوی دے گی میری بدکرداری کا پروف سب کو ۔۔۔ “
وہ چبا چبا کے بولا تھا ۔۔۔۔
” مجھے کوئی بھی پروف دینے کی ضرورت نہیں۔ کسی کو “
وہ چٹخ کے بولی تھی ۔۔۔ ساتھ ہی پورا زور لگایا تھا اسے خود سے الگ کرنے کے لئے لیکن بےسود ۔۔۔
عالیار کی گرفت کافی مضبوط تھی ۔۔۔
وہ تلملا کے رہ گئی ۔۔۔
” اچھا ۔۔۔ میڈیا کو یہ بات بتانے کی بڑی ضرورت تھی تمہیں۔ کہ میرا ہزبینڈ بدکردار ہے ۔۔۔ “
وہ درشتی سے بولا تھا
” میں نے کسی بھی میڈیا کے سامنے یہ بات نہیں کی ۔۔۔۔۔ چھوڑو مجھے “
وہ دانت پیستی بولی تھی ۔۔۔۔۔
” جھوٹ مت بولو ۔۔۔ “
وہ اب بھی سرد نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ۔
” تمہاری طرح جھوٹی نہیں ہوں میں ۔۔۔۔۔۔ تم ایک بدکردار اور قاتل انسان ہو “
وہ بھی عنازیہ ہی تھی ۔۔۔
ایک بہادر جرنیلسٹ ۔۔۔
ایک نڈر نیوز رپورٹر ۔۔۔۔
” یہ تو تم بھی جانتی ہو کہ تمہاری فیملی کے قتل میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ۔۔۔۔ “
” چھوڑو مجھے “
وہ خود کو چھڑانے لگی ۔۔۔۔
لیکن عالیار خان اسے اپنے بےحد قریب کر چکا تھا ۔۔۔
اس کی پرحدت سانسیں عنازیہ کی گردن کو چھو رہی تھی ۔۔۔۔
اور عنازیہ ۔۔۔۔۔
اسے لگا جیسے وہ اس حصار سے نہیں نکل پائے گی ۔۔۔۔۔۔۔
اسے لگا وہی لمحہ اس کے سامنے آن کھڑا ہو۔۔۔ جب عالیار خان اس کے گرد بازوؤں کا حصار بناتا اور وہ اس حصار میں پگھل سی جاتی ۔۔۔
اس کے برانڈ پرفیوم کی خوشبو اس کے حواسوں پہ چھا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ مزاحمت چھوڑ کے اب اس کی ٹھوڑی پہ اپنی پیشانی ٹکا چکی تھی ۔۔۔۔۔
بےترتیب سانسیں تھی اس کی ۔۔۔۔
وہ گہرے گہرے سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
اور عالیار خان اس کے وجود کی اٹھتی مدھم خوشبو میں جیسے اپنے حواس کھو رہا تھا ۔۔۔۔
دل کی دھڑکن مدھم ہوئی تھی ۔۔۔
اور پھر تیز ہوئی تھی ۔۔۔
” مت کرو عالیار ۔۔۔۔ پلیز جانے دو ۔۔۔۔۔ “
وہ اپنی بےترتیب ہوتی سانسوں کے بیچ بولی تھی ۔۔۔
یہ وہی تو تھا ۔۔۔ جس کے قریب آنے پہ وہ اپنے دل کی دھڑکنوں کا شور سنتی اور پھر پاگل سی ہو کے اسی کے سینے میں چھپنے لگ جاتی ۔۔۔۔۔
اسکے پناہوں میں بکھر جاتی ۔۔۔
” مت جاؤ عنازیہ ۔۔۔۔ واپس آ جاؤ ۔۔۔ ادھورا ہوں تم بن “
وہ بھاری آواز میں ۔۔۔ بوجھل سرگوشی ۔۔۔۔
عنازیہ کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
” آئی کانٹ ۔۔۔۔ “
عالیار کے ہاتھ کی گرفت کم ہوئی تھی اور وہ ایکدم سے پیچھے ہوئی تھی ۔۔
بھیگی پلکوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
حصار سے باہر نکلی ۔۔۔ لیکن دل ہمک رہا تھا پھر سے اس کی قربت کے لئے ۔۔۔۔۔
” یو ہرٹ می آ لاٹ “
وہ بھرائی آواز میں بولی تھی۔۔
” میں قاتل نہیں ہوں عنازیہ “
وہ مدھم لیکن بھاری لہجے میں بولا تھا ۔۔۔۔۔
” تم۔میرے قاتل ہو عالیار ۔۔۔۔ میری محبت کے قاتل ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
آنسو کا قطرہ پھسلا تھا اس کے چہرے پہ ۔۔۔۔
اور وہ منہ موڑ کے اسکمرے سے جا چکی تھی ۔۔۔۔ جبکہ عالیار وہیں کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح کھڑا اس بند دروازے کو دیکھتا رہا ۔۔۔
‘ جانتی ہوں عالیار ۔۔۔ تم قاتل نہیں ہو ۔۔۔ تم میری فیملی کے قاتل ہو بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔ لیکن تم میری محبت کے قاتل ہو ‘
چلتے ہوئے اس کے دماغ میں یہی سب چل رہا تھا ۔۔۔۔
آنکھیں۔ دھندلائی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
اور دل جیسے شکوہ کناں تھا ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” آ رہی ہے ہماری پیاری سی چڑیا “
محتسب اس کی طرف مڑ کے بولا تھا ۔۔۔۔۔ جبکہ وہ استہزائیہ ہنسی ہنسا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس معصوم لڑکی کی ویڈیو بنا رہا تھا ۔۔۔۔
اور وہ لڑکی چند روپوں کی خاطر اپنی نازیبا ویڈیو بنوا رہی تھی ۔۔۔۔
تا کہ وہ ان پیسوں سے اپنے ہاسٹل کی فیس بھر سکے ۔۔۔۔۔
اب وہ محتسب کے ساتھ باہر نکلا تھا ۔۔۔ ۔
” یہ ہاسٹل کی تتلیاں بھی ناں ۔۔۔ بہت آگ ہوتی ان میں “
یہ خیام تھا ۔۔۔۔ خیام انوار ۔۔۔ وہی جو نیوز پیپرز میں کالم لکھتا ہے ۔۔۔۔ جسکی لکھاری کی سب لڑکیاں دیوانی ہے ۔۔۔۔
جو ہمیشہ یہی کہتا ہے لڑکیوں قابلِ احترام ہے ۔۔۔
اور اس کا دوسرا سائیڈ یہ ہیں ۔۔۔
ہاسٹل کی لڑکیوں کا ناجائز استعمال ۔۔۔
انھیں بلیک میل کرنا ۔۔۔۔
محتسب ہنسا تھا ۔۔۔۔
” اس آنے والی چڑیا کا کیا کرنا ہے اب ؟”
” آنے دیں اسے ۔۔۔۔ اس عالیار خان کو ایسا سبق سکھاؤں گا ۔۔۔۔ کہ اس کی نسل در نسل یاد رکھے گی ۔۔۔۔۔۔ “
خیام کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا
” اسے کیا لگا تھا ۔۔۔۔ وہ بچ پائے گا ۔۔۔۔۔ اتنی بڑی فیملی کا گدھا ۔۔۔۔۔ عنازیہ کو چھیننے چلا تھا مجھ سے ۔۔۔۔ اس عزت دار فیملی کی عزت تو اب میری مٹھی میں ہے ۔۔۔ اور میں اچھالوں گا اب اس کی عزت ۔۔۔۔ منہ چھپاتا پھرے گا وہ “
وہ غرایا تھا ۔۔۔۔
” ٹینشن نہ لیں ۔۔ سب ہو جائے گا ۔۔۔ وہ عنازیہ بھی تیری ہو جائے گی اور عالیار خان کا پتہ بھی صاف ہو جائے گا ۔۔۔۔۔ “
محتسب نے اسے تسلی دی تھی ۔۔
” وہ میری ہو یا نہیں ۔۔۔ فرق نہیں پڑتا مجھے ۔۔۔ بس مجھے سے استعمال ہی تو کرنا ہے ۔۔۔ عالیار نہیں جانتا کہ عنازیہ کو خود تک پہنچانے کے لئے کہ میں کیا کیا کر چکا ہوں اور کیا کیا کر سکتا ہوں ۔۔۔ “
اس کی آنکھوں میں وحشت تھی ۔۔۔۔۔
سفاکیت تھی ۔۔۔۔
محتسب اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
وہ ہمیشہ خود کو ہی خطرناک سمجھتا تھا لیکن خیام انوار کو دیکھ کے اسے یہ بات تسلیم کرنی پڑی کہ وہ اس سے زیادہ خطرناک اور سفاک ہے ۔۔۔
” یہ چڑیا آئ کیوں نہیں ابھی تک “
وہ سر جھٹک کے ادھر ادھر دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
” آ جائے گی۔۔۔ آ جائے گی ۔۔۔”
خیام کے لبوں پہ تلخ مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔ اور آنکھوں میں عجیب وحشت ۔۔۔۔
” ہمارا آبان سکندر کہاں ہے ؟”
محتسب پوچھ رہا تھا ۔۔
” اسے انٹرسٹ نہیں میرے ان کاموں سے ۔۔۔ اسے تو بس نشہ چاہئیے ۔۔۔ وہ کیا جانے اصلی نشہ تو ان لڑکیوں میں ہے ۔۔ “
ذلالت اس کے چہرے سے ٹھپک رہی تھی ۔۔
” نام اس کا خراب ہو رہا ہے ۔۔
مزے ہم لے رہے ہیں۔ “
محتسب ہنسا تھا ۔۔
” اسے کونسا لوگ اس نام سے جانتے ہیں ۔۔۔ جو امیج خراب ہو اس کا ۔۔۔ اسے بس مافیا اور ڈرگز کی فکر ہے “
خیام نے کندھے اچکاتے کہا تھا ۔۔۔
محتسب بھی مسکرانے لگا ۔۔
اور سچ ہی تو تھا ۔۔
سارا کام خیام انوار کرتا ۔۔
اور نام آبان سکندر کا تھا ان کاموں میں ۔۔۔
اپنا اصلی نام اس نے مخفی کر رکھی تھی ۔۔
اور اپنی پوری شناخت بھی ۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

ارحان علی خان نے اسے گھر پہ بلایا تھا ۔۔۔ انٹرویو کے لئے
اور وہ مانی بھی اس شرط پہ تھی کہ عالیار خان نہیں ہونا چاہئے گھر پہ ۔۔۔۔
جس پہ ارحان علی خان کھل کے مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی لاونج میں ہی تھی ۔۔۔۔
گھر کے ملازم اسے دیکھ کے خوش ہوئے تھے اور اس کی تواضع کے لئے کچن میں مصروف ہو گئے تھے ۔۔
” ہمارے گھر کی رونق آئی ہے ۔۔۔۔ ہماری چھوٹی میم صاحبہ آئی ہے”
جبکہ محترمہ عنازیہ سکون سے گھر کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔۔۔ ارحان علی خان شاور لے رہا تھا ۔۔۔ تبھی وہ فرصت سے گھر کا جائزہ لیتی سیڑھیاں چڑھتی اوپر گئی تھی ۔۔۔۔۔ اپنے اور عالیار کے کمرے کے سامنے ایک پل کو رکی تھی وہ ۔۔۔۔
دل زور سے ڈھرکا تھا ۔۔۔۔۔
ادھر ادھر نظر دوڑائی
” وہ کون سا گھر پہ ہے “
کہہ کے مطمئن سی ہو کے وہ کمرے کا دروازہ کھول کے اندر گئی تھی ۔۔۔
اور بہت سی خوبصورت یادوں نے دل پہ زور زور سے دستک دی تھی ۔۔۔۔
درد کی ٹیسیں سی اٹھی تھی ۔۔۔
لیکن
اس کے لب مسکرا رہے تھے ۔۔۔
ہلکی ہلکی سی مسکراہٹ تھی ان لبوں پہ ۔۔۔۔
سامنے اپنے اور عالیار کی مسکراتی تصویر پہ نظر پڑی تو ہونٹ سکڑ گئے تھے ۔۔۔۔۔
وہ قدم آگے بڑھاتی گئی ۔۔۔
کچھ دیر رک کے اس تصویر کو دیکھا ۔۔۔
پھر سر جھٹک کے اس نے اپنا وارڈ روب کھولا ۔۔
اس کے ڈریسز ویسے ہی ہینگ تھے ۔۔۔۔
اس کے فٹ وئیر ۔۔۔
اس کے بیگز ۔۔۔
سب ویسے ہی تھے جو چھ مہینے پہلے وہ چھوڑ کے گئی تھی ۔۔۔۔
اس کی نظر ساتھ ہی اس دشمن جاں کے وارڈ روب پہ پڑی ۔۔۔
اس نے وہ بھی کھول دیا ۔۔۔۔
ویسا ہی تھا سب ۔۔۔
جیسا اس نے سجایا تھا ۔۔۔۔
اس کے برانڈ پرفیوم کی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی ۔۔۔
آنکھیں موند کے اس نے اس خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارا ۔۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا یہ عنازیہ کا فیورٹ پرفیوم ہے ۔۔۔
تبھی اس کے وارڈ روب سے بھی یہی خوشبو آ رہی تھی ۔۔۔
لیکن اب کافی قریب سے آ رہی تھی وہ خوشبو ۔۔۔۔
وہ حواسوں پہ چھا جانے والی مدھم سی خوشبو ۔۔۔۔
وہ ایکدم مڑی تھی
اور
اپنے بلکل سامنے ۔۔۔
بےحد قریب ۔۔۔۔ عالیار خان کو پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے ۔۔۔
کھڑے دیکھ کے ۔۔۔۔
آنکھیں حیرت سے پھیلی تھی ۔۔۔۔
یہ تو گھر پہ نہیں تھا۔ ۔
یہ کہاں سے آ گیا ۔۔۔
میں کیوں آئی یہاں ۔۔۔
میں تو گئی آج ۔۔۔۔۔
وہ اس کے پہلو سے ہو کے گزرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
جب عالیار نے اس کی کلائی پکڑ کے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا ۔۔۔۔
ابرو اچکائے اس کی ہوائیاں اڑاتے چہرے کو غور سے دیکھا ۔۔۔
” میں ۔۔ وہ ارحان بھائی “
اسے سمجھ نہیں آئی کہ کیا کہے ۔۔
” اب یہ مت کہنا ۔۔۔ دھیان نہیں۔ رہا ۔۔۔ ارحان بھائی کا روم سمجھ کے یہاں آ گئی تھی “
عالیار اس کی آنکھوں میں دیکھتا چوٹ کر گیا تھا ۔۔۔
جبکہ عنازیہ کو سیکنڈ نہیں۔ لگا تھا اہنی پرانی ٹون میں آنے میں ۔۔۔۔
گھور کے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا تھا ۔۔
جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا ۔۔۔
” تم سے مطلب ۔۔۔ میں جب ۔۔۔ جدھر جاؤں “
تلملا کے کہا گیا تھا ۔۔۔
” تو بی بی یہ میرا روم ہے “
” میرا بھی روم ہے ۔۔۔ فضول آدمی “
روانی میں کہی گئی بات پہ وہ بعد میں چونکی تھی ۔۔۔
” تو رہو یہیں اپنے روم۔میں ۔۔۔۔۔۔ فلیٹ میں جا کے کیوں رہ رہی ہو “
وہ اس کا بھرپور نظروں سے جائزہ لیتے بولا تھا ۔۔۔۔
عنازیہ تاؤ پیچ کھاتی ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔۔۔
ایک تو اپنی بےاختیاری پہ بھی غصہ آیا تھا ۔۔۔ کیسے کہہ دیا کہ میرا بھی روم ہے ۔۔۔
کچھ کہے بنا وہ آگے بڑھی جانے کے لئے۔ ۔۔
” اپنے وجود کی خوشبو یہاں چھوڑے جا رہی ہو ۔۔۔ اب نہ جانے رات کیسے کٹے گی ان گمشدہ یادوں کے ساتھ “
گھمبیر آواز پہ اس کے قدم رکے تھے ۔۔۔۔
دل بھی بےچین سا ہوا تھا ۔۔۔
مڑ کے دیکھ لو اسے ۔۔۔۔
ایک بار تو دیکھ لو اسے ۔۔۔
لیکن
دل کی خواہش کو تھپکی دے کے سلایا گیا تھا ۔۔۔
اور جب بولی تو لہجہ سرد اور سپاٹ تھا
” اکھاڑ کے پھینک دو ان سب یادوں کو ۔۔۔ بیٹر فار یو “
کہہ کے وہ کمرے سے نکل کے جا چکی تھی ۔۔۔
عالیار ویسے ہی کھڑا رہا تھا ۔۔۔
خاموش ۔۔۔
ساکت ۔۔۔۔
بس لبوں پہ زخمی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔
” میں نے تم سے بےوفائی نہیں کی عنازیہ ۔۔۔۔۔ میں گناہ کا مرتکب نہیں۔ ہوا “
اس نے ٹھنڈی آہ بھری ۔۔۔۔
رشنا کا خود پہ جھکا بہکا وجود ۔۔۔
عنازیہ کی بےیقین آنکھیں ۔۔۔
جب اسے یاد آیا ۔۔۔ تو جھرجھری سی لی تھی اس نے ۔۔۔۔
” میں گناہ کا مرتکب نہیں۔ ہوا ۔۔۔ “
وہ پھر سے زیر لب بڑبڑایا تھا ۔۔۔۔
اس کی نظر بیڈ کی طرف اٹھی تھی ۔۔۔۔
حسین لمحوں نے یادیں بن کے دستک دی تھی ۔۔۔۔۔۔
دل بھی بےاختیار سا ہوا تھا ۔۔۔
نظر ڈریسنگ ٹیبل پہ گئی ۔۔۔
دل بوجھل سا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
اب تو ہر طرف یہی یادیں تھی ۔۔۔۔
خوبصورت ۔۔۔
درد دیتی یادیں ۔۔۔
” اب لمحہ لمحہ کیسے گزرے گا میرا یہاں عنازیہ ۔۔۔۔ اپنے وجود سے مہکا جو گئی ہو میرا کمرا “
زیر لب مبہم سا کہتا وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا وہیں بیڈ کے کونے پہ بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
جب تھکن سی ہونے لگی ۔۔۔۔
تو پیچھے کی طرف لیٹ گیا تھا ۔۔۔
آنکھیں موند لی تھی ۔۔۔
جب زلفوں کا جال اس کے چہرے پہ پھیلا تھا ۔۔۔۔
نرم و نازک لمس کا احساس اپنی گردن پہ محسوس ہوا تھا اسے ۔۔۔۔
لب مسکرا دیے تھے اس کے ۔۔۔۔
اب وہ آنکھیں نہیں کھولنا چاہتا تھا ۔۔
کھول دیتا آنکھیں ۔۔۔
تو وہ لمحے ۔۔۔ وہ لمس ۔۔۔۔ وہ بوجھل سانسوں کا شور ۔۔۔
کھو دیتا وہ ۔۔۔
وہ خود کو ان لمحوں کے حوالے کر رہا تھا ۔۔۔
ان لمحوں کا اسیر ہو رہا تھا وہ ۔۔۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

رات کے آٹھ بج رہے تھے ۔۔۔۔
وہ تھکی تھکی سی اپنے فلیٹ کی طرف آ رہی تھی ۔۔۔
جب امتسال کی کال آئی تھی اسے ۔۔۔
” کہاں ہو تم ؟”
عنازیہ نے آبرو اچکا کے پوچھا تھا ۔۔۔
” او یار ۔۔۔۔ جاسم مجھے سرپرائز دینے لے جا رہا ہے ۔۔۔۔ افف ایم سو ایکسائیٹیڈ ۔۔۔۔۔ اچھا ہے ناں ۔۔۔ میتھس سے آگے بھی کچھ سوچا اس نے “
وہ شروع ہو چکی تھی اور عنازیہ نے یونہی چلتے چلتے اپنی امڈتی ہنسی کو روکا تھا
” تو مطلب رات کو تیری نو انٹری گھر پہ ۔۔۔ “
” نہیں نہیں یار۔۔۔ آؤں گی رات کو ۔۔ بٹ تھوڑا لیٹ ہو جاؤں گی ۔۔۔ جاسم خود ہی مجھے چھوڑ دے گا ۔۔۔۔۔ تجھے اس لئے بتا رہی کہ تو میرے بنا انجوائے کر اپنا ڈنر ۔۔
ویسے اگر عالیار سے تیری لڑائی نہ ہوئی ہوتی ۔۔۔ تو ابھی تو بھی عالیار کے ساتھ ہوتی ڈنر کرتے ہوئے ۔۔۔ پھر مجھے تیری ٹینشن بھی نہ ہوتی ۔۔۔ ارے بابا دل پرسکون ہوتا کہ میری پیاری سی دوست ایٹ لیسٹ اکیلی تھوڑی ہے ۔۔۔ ہائے اسکا بی لوڈ ہبی اس کے ساتھ ہے “
وہ پھر سے لن ترانی میں لگ گئی تھی ۔۔۔
” امتسال بس کر دے ۔۔۔ جا کے جاسم کا دماغ کھا “
وہ اکتا کے بولی تھی ۔
” جاسم کا دماغ کیوں ۔۔۔ ہم پیزا کھا ریے ہیں ۔۔۔اینڈ یو نو واٹ ۔۔۔ “
اس سے پہلے کے وہ شروع ہو جاتی ۔۔۔۔
” ہیلو ۔۔۔۔ ہیلو آواز نہیں ا رہی ۔۔۔ آئی کانٹ گیٹ یو ۔۔۔ ہیلو ۔۔۔ ہیلو “
وہ اوور ایکٹنگ کرنے لگ گئی ۔۔۔۔ اور امتسال نے منہ بسور کے کال ڈسکنیکٹ کر دی ۔۔۔۔
عنازیہ اس کی باتوں پہ مسکراتی ہوئی اپنے فلیٹ کی طرف آئی تھی ۔۔۔
بیگ سے چابی نکال کے دروازہ کھولنے ہی لگی تھی ۔۔۔
جب کسی ذی روح نے اس کی کلائی پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔
عنازیہ چیخ کے پیچھے ہوئی تھی ۔۔۔