📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="327"]
56426 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29


اور وہی ہوا تھا ۔۔ جو عنازیہ نے چاہا تھا ۔۔۔ کسی بھی میڈیا چینل کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔۔ کسی بھی رپورٹر ۔۔۔ کسی بھی جرنیلسٹ کو۔ ۔۔ نیوز یہی تھی بس ۔۔ کہ آبان سکندر نے خودکشی کر لی ہے ۔۔۔ برائی کو انجام مل چکا تھا لیکن ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ آحان خان کو دنیا کے سامنے نہیں لانا چاہتی تھی ۔۔۔ دل کے کسی کونے میں آج بھی اس آحان خان کے لئے احترام تھا ۔۔۔ جس سے وہ کھبی محبت کرتی تھی ۔۔۔ وہ اس احترام ۔۔ اس محبت کا مان تو رکھ سکتی تھی ناں ۔۔۔۔ اتنا تو حق تھا اس شخص کا شاید عنازیہ پہ ۔۔۔ وہ برا تھا۔ ۔۔ غلط تھا۔ ۔۔ معاشرہ نے اسے غلط قرار دیا تھا ۔۔ کیوں ؟؟؟ کیونکہ جس شخص کا باپ برا ہو ۔۔ اس کی اولاد اچھی کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔ کیا ایسا ہی ہے ؟؟؟ ہم انسانوں کو کب تک اس کے آباؤ اجداد سے پہچانے گیں ؟؟ کیا اس انسان کی اپنی شناخت نہیں۔ ہوتی ؟؟ آحان خان ایک ڈرگ ڈیلر کا بیٹا تھا ۔۔ لیکن وہ خود اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہتا تھا ۔۔ ایک جرنیلسٹ بن کے ۔۔ لیکن اس کی آواز دبائی گئی ۔۔۔ اور وہ خود بھی دب گیا ۔۔۔ ان آوازوں پہ کان دھرے ۔۔۔ وہ بھی ان تاریکیوں میں ڈوبنے کے لئے قدم آگے بڑھائے تھے ۔۔ اور ۔۔۔ اور اس کا ایمبیشن ؟؟؟ اس کی خواہش ؟؟؟ اس کی محبت ؟؟؟ سب کا گلا گھونٹ دیا تھا اس نے۔ ۔۔ عنازیہ خاموشی سے سامنے پڑے لیپ ٹاپ کی اسکرین کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ خیام اپنے انجام کو پہنچا تھا ۔۔۔ برائی کا انجام یہی ہوتا ہے ۔۔۔ اس کی خواہش کے مطابق خیام کی لاش کو ۔۔۔ اسی کے آفس کے سامنے ۔۔۔ سولی پہ لٹکایا تھا ۔۔۔ آحان خان نے ۔۔ اس کے لبوں پہ تلخ مسکراہٹ پھیلی تھی ۔۔۔ کتنی عجیب بات ہے ۔۔۔ کتنا مان ہوتا ہمیں کھبی کھبی کچھ لوگوں پہ ۔۔۔ جنہیں ہم دوست کہتے ہیں ۔۔ کولیگ کہتے ہیں ۔۔ اور پھر پتہ چلتا ہے ۔۔۔ وہی ہماری زندگیاں تباہی کرنے کے در پہ ہے ۔۔۔ وہی ہمارے اپنوں کا قاتل ہے ۔۔۔ اس کے اپنوں کو موت کے گھاٹ اتار کے ۔۔۔ وہ کس دیدہ دلیری سے اسکے ساتھ رہ رہا تھا۔ ۔۔ اور وہ ۔۔۔۔ اسے کھبی خیام کے وجود سے اس کے اپنوں کے خوں کی بو ہی محسوس نہیں ہوئی ۔۔۔ کھبی ان معصوم لڑکیوں کے خون کی بو محسوس نہیں۔ ہوئی ۔۔ ان کی عزتیں نیلام کرتا رہا ۔۔ اور عنازیہ خان ۔۔۔۔ آنکھیں بند کیے تھی ۔۔۔ اپنے ارد گرد سے ۔۔۔ اسے آبان سکندر کی تلاش تھی ۔۔۔۔ لیکن وہ شیطان اس کے ساتھ تھا ۔۔ اسے وہ نہ پہچان سکی ۔۔۔ ۔ خیام انوار ۔۔۔ ” تم ہار گئی عنازیہ خان ۔۔۔ یہاں آ کے تم ہار گئی ۔۔۔ اس شیطان کو تم اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ کے نہ اتار پائی ” وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑائی تھی ۔۔۔ ” میں ہار گئی ۔۔۔۔ “

” واؤ امیزنگ ۔۔۔ محبتیں بانٹی جا رہی ہے ” حورین کی آواز پہ وہ سب چونکے تھے ۔۔ نرمین بھی اس کے قریب آئی تھی ۔۔ ” حورین ” ” اسٹاپ اٹ مما پلیز ” وہ سرد لہجے میں بولی تھی ۔۔ نظریں ابھی تک ان تینوں پہ تھی ۔۔ ” حوریں بیٹا ۔۔ پاس آؤ میرا بچہ ۔۔ یہ دونوں تمہارے بہن بھائی۔ ۔۔ ” اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتے ۔۔۔ حوریں نے بدتمیزی سے ان کی بات کاٹی تھی ۔۔۔ ” نہیں ہیں میرے کچھ یہ دونوں ۔۔ مجھ سے میرا سب چھیننے آئے ہیں یہ دونوں ۔۔۔ ” ” حورین چپ کرو ” نرمین آگے بڑھی تھی ۔۔ ” آگے مت آئیے مما آپ ۔۔۔ آپ سب ملے ہوئے ہیں ۔۔ مجھ سے میرا سب چھیننے کے لئے آپ سب ملے ہوئے ہیں ۔۔۔ مجھے اکیلا کر دینا چاہتے ہیں آپ ۔۔ ” وہ چلا رہی تھی ۔۔۔ تاشفین کا ہاتھ بےساختہ اپنے دل کے مقام پہ گیا تھا ۔۔۔ نرمین کی نظر پڑی تھی ۔۔ تو حورین کو کھینچتی ہوئی باہر لے جانے لگی ۔۔ ۔ ” تمہارے بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ۔۔۔ چلو باہر ” باہر آ کے حورین نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا تھا ۔۔۔ ” حورین بی ہیو ۔۔ وہ تمہارے بابا ہے ۔۔۔ جانتی ہو کتنا بڑا آپریشن ہوا ہے ان کا ” حورین نے آنسو بھری آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا تھا ۔۔۔ ” وہ میرے بابا ہے ۔۔۔ وہ دونوں چھین رہے ہیں مجھ سے میرے بابا ۔۔۔۔ آپ جانتی ہے ناں کرنا پیار کرتی ہوں میں اپنے بابا سے ۔۔۔ ” کہہ کے وہ روتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔۔ نرمین لب کاٹنے لگی ۔۔۔ شمائم کو دکھ نے آن گھیرا تھا ۔۔۔ وہ آگے بڑھی تھی ۔۔ دھیرے سے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔ نرمی۔ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ کے رہ گئی بس ۔۔۔

وہ خاموشی سے بالکونی میں بیٹھی ۔۔۔ ہلکی ہلکی بارش کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ عالیار جو ابھی ابھی نیند سے جاگا تھا ۔۔ گھڑی پہ نظر ڈالی ۔۔۔ دن کے گیارہ بج رہے تھے ۔۔۔۔ لیکن آسمان پہ چھائے بادلوں کی وجہ سے شام کا احساس ہوتا تھا ۔۔۔۔ وہ آہستہ روی سے چلتا وہیں بالکونی میں آکے ۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔ عنازیہ کے خوبصورت چہرے پہ سوگواری سی تھی ۔۔۔ عالیار کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔۔ پھر مدھم آواز میں اسے پکارا تھا ۔۔ ” عنزا ۔۔۔ ” عنازیہ نے اس کی طرف نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ بس بارش کی بوندوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ” عالیار ۔۔۔ پتہ ہے وہ کون تھا ؟؟” ” آحان خان ” عالیار نے آہستہ آواز میں جواب دیا ۔۔۔ عنازیہ نے چونک کے اسے دیکھا ۔۔۔۔ ” تمہیں کیسے پتہ ؟؟” عالیار ہلکا سا مسکرایا تھا ۔۔ ” کیا میں اپنی بیوی کو ۔۔۔ اپنی عنزا کو نہیں جانتا ؟؟؟ ” عنازیہ نے نظریں پھیر کے پھر سے بارش کی بوندوں کو دیکھنا شروع کیا ۔۔۔ ” وہ کیا بننا چاہتا تھا اور کیا بن گیا ۔۔۔۔ ” اس نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ۔۔ ” انہی ہاتھوں سے مرا وہ ۔۔ اتنا بددل تھا وہ سب سے ۔۔۔ کہ وہ میرے ہاتھوں ہی مرنا چاہتا تھا ۔۔۔ اور ۔۔۔ اور اس کی خواہش بھی پوری ہوگئی ۔۔۔ ” اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔۔۔ آنسو بہنے لگے تھے۔ ۔۔ عالیار بس اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ سن رہا تھا ۔۔۔۔۔ ” اسکی آنکھوں میں اداسی تھی ۔۔ مایوسی تھی ۔۔ جب ۔۔ جب وہ مر رہا تھا ناں عالیار ۔۔۔ اس ۔۔ اس کی آنکھیں ۔۔۔ اس کی آنکھیں جیسے بہت پہلے ہی مر گئی تھی۔ ۔۔ خالی آنکھیں ۔۔۔ میں نے مارا اسے ۔۔۔۔ میں نے ” وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کے ۔۔ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تھی اب۔۔۔ عالیار نے آگے بڑھ کے اسے اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا ۔۔۔ اس کا نازک سا وجود کانپ رہا تھا ۔۔۔۔ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔۔ اور عالیار بھی اسے رونے دے رہا تھا ۔۔۔ ایسے ہی شاید اس کے اندر کا غبار باہر نکلتا ۔۔۔ وہ آیا ہی اس کے زخموں پہ مرہم بن کے تھا ۔۔۔ تب بھی وہ اس کے ہر زخم پہ مرحم بنا تھا ۔۔۔ اور آج بھی وہ اس کے ساتھ تھا ۔۔۔

شمائم کو باہر بینچ پہ ہی حورین بیٹھی نظر آ گئی تھی ۔۔۔ وہ اس کے پاس آ کے وہیں بیٹھ گئی ۔۔۔ حورین نے ایک عدد گھوری سے اسے نوازا تھا ۔۔ ۔ ” میرا نام شمائم ہے ” وہ مسکرانے کی کوشش کرتی بولی تھی ۔۔۔ ” تمہارے بھائی حدید کی فیانسی ” حورین کی آنکھوں میں ناگواری ابھری تھی ۔۔ ” نہیں ہے وہ میرا بھائی ” ” کیوں ؟” شمائم نے اچانک پوچھا تھا ۔۔۔ ” کیوں کرتی ہو اس سے نفرت ؟؟” شمائم نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا ۔۔ ” کیونکہ وہ نفرت کے قابل ہیں ۔۔۔ دونوں بہن بھائی” حورین نے نفرت بھرے لہجے میں کہا تھا ۔۔ ” کس نے کہا تم سے کہ وہ نفرت کے قابل ہے حورین ؟؟” شمائم اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ” میں پاسٹ سے ریلیٹیڈ کچھ نہیں کہنا چاہوں گی حورین ۔۔۔ لیکن تم خود سوچو اور سمجھو ۔۔۔ جب تم اس دنیا میں آئی ۔۔۔ تب تمہاری مما تاشفین انکل کی وائف تھی ۔۔ اور صدف آنٹی کی ڈیتھ ہو چکی تھی ۔۔۔ تمہارے پاس ۔۔۔ نرمین آنٹی تھی ۔۔ تاشفین انکل تھے ۔۔ امتسال اور حدید کے پاس کون تھے ؟؟؟ ” وہ کچھ دیر رک کے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھنے لگی ۔۔۔ ” کوئی نہیں ۔۔۔ مما تو تھی ہی نہیں ۔۔۔ ان کے ڈیڈ بھی ان سے الگ تھے ۔۔ تمہارے پاس تھے ۔۔۔ کس بیس پہ ان دونوں سے نفرت کرتی ہو تم حورین ؟؟ تمہارے پاس سب کچھ تھا ۔۔ تمہارا فیورٹ روم ۔۔۔ تمہارے فیورٹ ٹائز ۔۔ تمہارے فیورٹ ڈریسز شوز ۔۔۔ تمہاری فیورٹ چاکلیٹس ۔۔ اور وہ دونوں ۔۔۔ کچھ نہیں تھا ان کے پاس ۔۔۔ انہوں نے اپنی لائف میں بچپن دیکھا ہی نہیں۔ ۔۔ کوئی ماں بن کے نہیں آئی ان کے پاس ۔۔۔ باپ کا مان نہیں تھا ان کے پاس ۔۔۔ حورین تمہارے پاس سب تھا ۔۔ پتہ ہے کیا نہیں۔ تھا ؟؟؟ ” حورین لب سیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ۔ ” تمہارا دل ۔۔۔ تمہارا محبت کے احساس سے بھرا ہوا دل نہیں۔ تھا تمہارے پاس ۔۔۔ پاسٹ میں جو غلطیاں کر چکے ہیں ۔۔۔ انکل اور آنٹی ۔۔ اب اس پہ شرمندہ ہیں ۔۔ سدھارنا چاہتے ہیں سب ۔۔ کیا تم نہیں سدھارو گی کچھ ؟؟ کیا تم نہیں دینا چاہو گی انھیں بڑے بہن بھائی ہونے کا مان؟؟؟ وہ رو دیا تھا حورین ۔۔ تمہارا بھائی ۔۔۔ وہ تمہارا بھائی ہی ہے حورین ۔۔ تمہارے انکار سے خون کے رشتے نہیں بدلے گیں ۔۔۔ جو محرومیاں انہوں نے بچپن میں دیکھی ہے ۔۔ کیا ان محرومیوں کا مداوا نہیں بنو گی تم ؟؟؟ ” شمائم کی باتوں پہ حورین اپنے لب کاٹنے لگی ۔۔۔ شمائم مسکرا کے اٹھی تھی اور اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔ ” تم کر سکتی ہو حورین ۔۔ ان سے ۔۔ ان کی بھینی ہوئی محبتیں پھر سے انھیں دلوا سکتی ہو ۔۔۔ ان کا مان بن کے ۔۔ ” وہ رخ موڑ کے جا چکی تھی جبکہ حورین وہیں بیٹھی دیر تک ایک ہی نقطے کو گھورتی رہی تھی ۔۔۔

ارحان علی خان کی فرمائش پہ ۔۔۔ آج وہ اس کی لائی ہوئی ساڑھی پہنی ہوئی تھی ۔۔۔ اور اب کمرے کے بیچ وہ بیچ کھڑی ۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ ۔کیسے قدم بڑھائے اس کی طرف۔ ۔ کیسے جھکی پلکیں اٹھا کے اسے دیکھے ۔۔۔ جو دنیا جہان کی محبت آنکھوں میں سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن ۔۔ اسے اپنے قریب ارحان علی خان کی مدھم خوشبو محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس نے جھکی ہوئی ۔۔۔ اپنی لرزتی پلکیں اٹھائی تھی ۔۔۔ اور دھڑکتے دل کے ساتھ پھر سے جھکا دی تھی ۔۔۔ وہ تو ایسے محو دیدار تھا ۔۔۔ کہ رواحہ کا رواں رواں جیسے دھڑکن بنا ہوا تھا ۔۔۔۔ اور جب ۔۔۔ ۔ارحان علی خان نے ۔۔۔ اس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے ۔۔۔ اسے اپنے قریب کیا ۔۔۔ وہ تو بوکھلا ہی گئی ۔۔ سانسیں اتھل پتھل ہو چکی تھی ۔۔۔ ارحان علی خان کی پرحدت سانسیں اس کے چہرے کو چھو رہی تھی ۔۔۔ اور وہ آنکھیں بند کیے اس کی سرگوشیاں سن رہی تھی ۔۔۔ اس کے نرم لبوں پہ ۔۔۔۔ ارحان علی خان نے اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔۔ اپنی سانسیں ان ہیل کی تھی ۔۔۔ اور رواحہ نے بے ساختہ اس کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں دبوچا تھا ۔۔۔ نرمی سے اس کے لبوں کو چھوتا ۔۔۔۔ وہ رواحہ کے حواسوں پہ چھا رہا تھا ۔۔۔۔ اس کی گردن پہ جھکا ۔۔۔۔ اس کی بیوٹی بون پہ اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔۔ اپنی سانسیں اس کی گردن پہ چھوڑتا ۔۔۔۔ اپنے محبت بھرے لمس چھوڑ رہا تھا ۔۔۔۔ ” ا۔۔۔ ارحان ۔۔۔۔ ” وہ اپنی اٹکتی سانسوں کے بیچ اتنا ہی بول پائی تھی ۔۔۔ ارحان نے دھیرے سے اس کا رخ موڑا تھا ۔۔۔ اور اب اس کے بلاؤز سے نظر آتی ۔۔۔ اس کی پشت پہ اپنی شدتیں بکھیر رہا تھا ۔۔۔۔ رواحہ اس کی اتنی شدتوں پہ نیم جان سی ہو رہی تھی ۔۔۔ وہ رخ موڑ کے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ ارحان اس کے آنکھوں کی تحریر کو پڑھ چکا تھا ۔۔۔۔ رواحہ نے پلکیں جھکا دی تھی ۔۔۔ ” آج نہیں رواحہ ۔۔۔ آج بس میں تم ۔۔ اور کچھ مت سوچو ” اور اسے بانہوں میں بھر لیا تھا ۔۔۔ اسے بیڈ پہ لٹا کے ۔۔۔ اسے مہلت دیے بنا ۔۔۔ اس کے نازک سے وجود پہ جھکا ۔۔۔ اس کے وجود پہ اپنی شدتیں بکھیر رہا تھا ۔۔۔ اپنے محبت بھرے لمس چھوڑ رہا تھا ۔۔۔۔ ساڑھی کا پلو ہٹا کے ۔۔ وہ رواحہ کو خود میں جذب کر رہا تھا ۔۔ اور خود اس کی خوشبوؤں سے بھرے وجود میں مدہوش سا ہو رہا تھا ۔۔۔ رات بھی مدھم سرگوشیاں کر رہی تھی ۔۔۔ محبت کی تکمیل ہو رہی تھی ۔۔۔