Anokhi Khushi by Asma Khan | Emotional Urdu Romance & Healing Story NovelM80012 Anokhi Khushi (Last Episode)
Anokhi Khushi (Last Episode)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Anokhi Khushi By Asma Khan
”اور کیا زہر بھر کر گئیں ہیں وہ آپ میں“وہ آرزدگی سے پوچھتا مزید نزدیک ہوا اور مہر کا دل اچھل کر باہر آگیا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ خرسند اس کی باتیں سن لے گامہر کو لگا کہ اب وہ کبھی خرسند سے نگاہیں نہیں ملاپائے گی
”آ۔۔آپ“وہ بمشکل بڑبڑائی اور زرگ چپکے سے باہر نکل گئی کہ وہ جانتی تھی کہ اس کے پاس نہیں مگر خرسند کے پا س الفاظ ہی الفاظ ہیں وہ اس کی بدگمانی دور کر دے گا
”جی میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کی باتیں سن لیں“وہ اسکے لہجے کی کاٹ اور سردمہری پر تکلیف سے لب کاٹتی سر جھکا گئی اپنے محبوب کی نظروں سے کون گرنا چاہتا ہے وہ خرسند کی ناراضگی کبھی نہیں سہہ سکتی تھی
”میں آپ کو کوئی چیز نظر آتا ہوں مہر جسے نیہا نے چکھ کر جھوٹا کر دیا“وہ دکھ سے بولااور وہ مزید شرمندہ ہوئی
”چار ماہ سے آپ میرے ساتھ اکیلی آفس جاتی رہی ہیں کبھی آپ کو غلط نیت سے ہی دیکھا ہو تو بتائیے“وہ جزباتی ہوااور وہ نفی میں سر ہلانے لگی
”م۔۔میرا یہ مطلب۔۔“
”یہی مطلب تھا آپ کاجھوٹا تب ہوتا ہے کوئی جب کسی سے جسمانی تعلق بنائے اس نے کہا اور آپ نے یقین کر لیا اور یقین کر لیا مطلب آپ کو میں حوس پرست لگتا ہوں“وہ اس کی بات کاٹتا دکھ اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں بولا اور مہر کے گال آنسو ؤں سے تر ہوگئے جن کا محبت بھرا اور نرم لہجہ سنا ہو ان کے ایسے لہجے برداشت نہیں ہوتے وہ خود کو یہاں سے غائب کر لیناچاہتی تھی
”یہ تھی پہلی بات۔۔دوسری بات پہ آتے ہیں کہ انہیں آپ پر ترس آگیااس لئے مجھے آپ کے لئے چھوڑ دیا۔۔“وہ اسکی بات دہراتا ہے
”حیرت ہے مجھ سے پہلے انہیں پتہ چل گیا کہ آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں اور ان کو اپنی شادی کے بعد ہی آپ پر تر س آناتھاویسے۔۔“وہ آئبروکو شہادت کی انگلی سے کھجاتا طنزیہ مسکرایا
”تر س کس بات کاآپ میری محبت میں پیرالائز یا ہاسپٹلائز تو نہیں ہوگئی تھیں تو پھر آپ ان کومنہ توڑ جواب نہیں دے سکی تھیں کہ انہیں آپ پر نہیں خود پر ترس آگیا تھا کہ وہ مجھ جیسے معمولی سے پروفیسر اور اجڈ سے سائیکالوجسٹ کیساتھ اپنی زندگی برباد نہیں کر سکتیں تھیں۔۔۔“اس کی آواز بلند ہوئی اور مہر کانپ سی گئی دل اور دماغ دونوں پھٹنے کے قریب تھے
”خ۔۔خرسند ا۔۔ایسا نہیں ہے م۔میری۔۔“
”ایسا ہی ہےمہر“وہ تلخی اور دکھ کی ملی جلی کیفیات میں اس کی بات کاٹتا آنکھیں بند کر کے ہونٹ بھینچتا ضبط کرتا ہے اور مہر بے بسی سے رورہی تھی پچھتاوے سر اٹھانے لگے تھے جو پہلے سمجھ نہیں آرہا تھا اب آرہا تھا
”یہ تھی دوسری بات،اب آتے ہیں تیسری بات کی طرف کہ آپ سیکنڈ چوائس ہیں آپ ساری زندگی نیہا کی بھیک کی محتاج رہیں گی۔۔کمال ہے“وہ ہنسا مگر اس کی ہنسی کے درد کومحسوس کرتی مہر کے سر میں شدید درد اٹھی تھی وہ نازک سی لڑکی اتنی سی ڈانٹ پر ہی ڈپریشن میں آگئی تھی
میں انسان ہوں مہر بھیک نہیں ہوں جو آپ کی جھولی میں وہ گرائے گیں میرے بھی جذبات ہیں کچھ، مرد جس عورت سے محبت کرتاہے جب وہ کسی اور کی ہوجائے تو وہ مرد کے دل سے نکل جاتی ہے خدا کی قسم میرے دل میں اب نیہا کے لئے کوئی جزبات نہیں ہیں ان سے محبت کے قصیدے میں نے کبھی نہیں پڑھے اپنے جزبات کا اظہار میں نے صرف اپنی بیوی کے لئے رکھا تھا میں اب آپ کی طرف جھکاؤ رکھ رہا تھامگر آپ نے مجھے میری اوقات بتادی، کیا میرا یہ قصور ہے کہ میں نے نیہا کو انسان ہونے کے ناطے اچھے سے ٹریٹ کیا اور الزام قدموں میں بچھنے کا لگ گیا،کیا میرا یہ قصور ہے کہ میں نے نیہا کی کزن ہونے کے ناطے کچھ فیور کر دی اور الزام ابھی بھی محبت ہے کا لگ گیا میری حیثیت آپ کو ایک بھیک کی سی، ایک بچے کھچے کچرے جیسی لگتی۔۔“
”اللہ کے واسطے بس کریں پلیز“وہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑ گئی کہ اب برداشت نہیں ہورہا تھا درد بڑھ رہا تھا
”آ۔۔آپ بہت اچھے ہیں میں ہی نادان سی ہوں مجھے معاف کردیں م۔۔مجھے تکلیف ہورہی ہے“وہ اسکی طرف دیکھ کر التجا کرتی ہے جو بھیگی پلکوں سے اسے دیکھ رہا تھا
”مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے مہر کبھی کبھی ہمارا اچھا ہونا ہی ہمارے لئے سزا بن جاتا ہے مگر میں پھر بھی نیہا کو معاف کرتا ہوں انہوں نے آپ کو میرے بارے میں جو بھی کہا اللہ پہ چھوڑتا ہوں مہر اور رہی بات آپ کی تو آپ کہتی ہیں کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے مگر تعجب ہے کہ دو باتوں پر آپ میرے بارے میں اتنا برا سوچ رہی ہیں کسی حاسد کے بھڑکانے پربھڑکنے والے کبھی محبت نہیں کرتے مہر آپ محبت اور فرمانبرداری کا ڈھونگ نہ رچائیں“وہ نفی میں سر ہلانے لگی
”بہرحال بے فکر رہیں۔۔“وہ خود کو سنبھال چکا تھا اس لئے مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور اس کے گال پہ اٹکے آنسو انگوٹھے کی مدد سے صاف کرتا ہے
”میں دادا صاحب کو منالوں گا اور یہی کہوں گا کہ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتاآپ کی فرمانبرداری قائم رہے گی۔۔“وہ نرمی سے کہتا اس کی جان نکال رہا تھا اس کا لہجہ ہمیشہ کی طرح محبت اور نرمی لئے ہوئے تھایوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو
”اللہ پاک آپ کو بہت اچھا اور نیک ہمسفر دے جس کے دل میں صرف آپ کا عکس ہو اور رہی بات میری تو میں جب کسی بیوہ یا پھر طلاق یافتہ سے شادی کروں گا تو نیہا انہیں سیکنڈ چوائس اور جھوٹا کھانے کا طعنہ نہیں سناپائے گی ڈونٹ وری مہر میں رات تک دادا صاحب کو اس شادی کو روکنے کے لئے منا لوں گا“وہ کہتا جانے لگا کہ مہر جزباتی ہوتی اس کا گریبان پکڑ کر اس کے انتہائی قریب ہوئی
”م۔۔میں آپ سے سچ میں بہت محبت کرتی ہوں پلیز ایسا مت کیجئے گا“وہ اسکے کندھے پر سر جھکاتی ہے اورخرسند شاذ حیران رہ گیا اسے خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے وقت تھمتا ہوا سا محسو س ہواوہ اسے خود سے دور نہیں کر پایا
سوچوں میں گناہ ہے کیا
سوچوں میں سزا ہے کیا
انوکھی خوشی ہے کیا
انوکھی جزا ہے کیا
اِن کے چہرے پڑھتے پڑھتے کاتب ہوا ہوں
ٹھکرا دیا پھر بھی
مجھ کو میرا گناہ ہے کیا
پوری سوچوں پہ تسلط ہے تو میرے خدا
پوری آنکھوں پہ مسلط ہے وہ میرے خدا
”میری م۔محبت ڈھونگ نہیں۔۔ہے م۔میں نے اپنے دل سے مجبورہو کر ہاں کی تھی۔م۔معاف کردیں پلیز مت کریے گا ایسا۔۔میں آپ س۔سے ہی شادی کرناچاہتی ہوں“وہ پسینے میں شرابور سی اس سے اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی اور وہ سناٹے میں گھرا ہوا سن رہا تھاوہ پہلی دفعہ اس سچوئشن سے گزر رہا تھا اور دل کی دھڑکن بھی پہلے کبھی اتنی تیز نہیں ہوئی تھی اتنی بے باک نہیں ہوئی تھی
جینے کا ہنر سیکھا ہے تجھ سے
آنکھوں نے خدا دیکھا ہے دل میں
ٹوٹی سی شاخ بجھتی سی پیاس ہوں میں تیرے بنا
میرے دل پہ مسلط ہے وہ میرے خدا
میری روح پہ تسلط ہے وہ میرے خدا
”م۔۔معاف کردیں۔۔اہ“اسکی سانسیں اکھڑنے لگیں اور خرسند اب فکرمند ہوا
”مہر کیا ہوا ہے آپکو“وہ اس کا گال تھپتھپاتا اسے سامنے کرتا ہے اور وہ روتے ہوئے شرمندہ سی اس سے نظر نہیں ملا رہی تھی
”داداصاحب۔۔انکل آنٹی جلدی آئیں“وہ زور سے ان کو آواز دیتا ہے اور گرتی ہوئی مہر کو ساتھ لگائے بیڈ پر بیٹھاساتھ ہی اس کا گال تھپتھپا کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرتا ہے
تیرے پاس روشنی تھی مل گیا تجھے تیرا سایہ
میرے پاس اندھیرا تھاہر کوئی کر گیا پرایا
دنیا میں برے ہیں سب تو میں بھی ہوں حصہ
کیسے ملے جنت میرے پاس عمل ہے کیا
پوری دنیا پہ تسلط ہے تو میرے خدا(از:اِسماء خان)
”کیا ہوا“سب کمرے میں داخل ہوئے تو مہر کو بکھری سی حالت میں خرسند کی بانہوں میں پایا اس کی گرم سانسیں خرسند کے چہرے کو جھلسا رہی تھیں
”پ۔۔پلیز ایسا م۔۔مت کیجئے گا“وہ کہتی اس کے پہلو میں ہی بالآخر بے ہوش ہوگئی اور باقی سب حیران و پریشان سے بھاگ کر اس کی طرف بڑھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”ایسا کیا ہو گیا کہ اس کی یہ حالت ہوگئی“سبھی کا یہ سوال تھا مرد حضرات سب کے سب ہاسپٹل آئے تھے اور خواتین گھر پر دعاگو تھیں
”خرسند کیا ہوا تھا“رحمان کے سوال پر وہ سر جھکاتا لب کاٹنے لگا کہ اب کیا بتائے کہ کیا بات ہے
”خرسند بھائی میری بہن کو کچھ نہیں ہونا چاہئے یقینا آپ نے ہی اسے کچھ کہا ہے“احد غصے سے بل کھاتا اسے دھمکاتا ہے
”بکواس بند کرو“اظفر نے اسے غصے سے ٹوکا
”کیوں پاپا پوچھیں ان سے کہ میری بہن ان کو کس چیز سے منع کر رہی تھی شادی سے ایک ہفتہ پہلے یہ اس کے کمرے میں اکیلے کیوں گئے“اس کے سوال پر سب کو سانپ سونگھ گیااور خرسند بات اپنے کردار پہ جاتی دیکھ کر تڑپ اٹھا
”میں ایسا ویسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتا احد“وہ دکھ سے بولا
”ہم جانتے ہیں خرسند کہ کوئی اور بات ہے اور تم۔۔“کاشف خرسند کو تسلی دیتے پھر احدکو کہتے ہیں ”فوراََگھر جاؤ۔۔عارض اسے لے جاؤ“ان کے حکم پر عارض سر ہلاتا اس کا بازو پکڑ کر اسے ساتھ لے جانے لگا
”یقینا انھوں نے ہی کوئی بدتمیزی کی ہوگی“وہ بری طرح بدگمان تھا
”بی ہیو یور سیلف احد سب جانتے ہیں کہ وہ کتنے اچھے انسان ہیں کسی کو تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتے اور یہ تو بہت بری بات کر رہے ہو تم“عارض بھی اس بار غصے میں آیاتو وہ بمشکل ضبط کرتا ہے اورگاڑی سے باہر دیکھنے لگا
”انشاء اللہ مہر ہوش میں آکر سب بتا دے گی“وہ اسے تسلی دیتا گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے ادھر ڈاکٹر مہر کے ہوش میں آنے کی خوشخبری سناتا ہے تو سب نےشکرکیا
”ٹینشن لینے کی وجہ سے معمولی سا نروس بریک ڈاؤن تھا جس سے بے ہوش ہو گئیں اب وہ بالکل ٹھیک ہیں“خرسند شرمندہ ہوا
”کیا وہ شادی شدہ ہیں“ڈاکٹر کے سوال پر سب ان کو حیرت سے دیکھتے ہیں
”نہیں ابھی کچھ دن میں ہونی ہے“کاشف نے بتایا
”تو پھر خرسند کون ہیں“وہ ان کے سوال پر خرسند کو دیکھتے پھر ان کو مطلع کرتے ہیں ”فیانسی ہیں ان کے کیوں خیریت ہے“
”اوہ نائس ایکچوئیلی وہ بے ہوشی میں بھی خرسند سے معافی مانگ رہی تھیں اس لئے میرے خیال میں ان کے فیانسی کو پہلے انہیں معافی اور تسلی دینی چاہئے“
ڈاکٹر مسکرا کر ہدایت کرتے وہاں سے نکل گئے اور سب کی نظریں خرسند کی طرف اٹھیں جو چور نظروں سے سب کو دیکھتا سر کھجاتا ہے
”آئم سوری انکل مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ میرے غصہ کرنے پر۔۔۔“
”تمہاری ہونے والی بیوی ہے چاہو تو دو چانٹے بھی لگا دینا تاکہ آئندہ غلطی نہ کر ے“اظفر نے رحمان علی کی نقل اتاری تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی
”چلو میاں فی الحال تو ہماری پوتی کو ہمارے پوتے کی تسلی درکار ہے ہم ایک نظر اسے دیکھ لیں تو کاشف مجھے گھر لے جاؤ عشاء کی نماز کا ٹائم ہورہا ہے اظفر اور خرسند تم لوگ مہر کو ساتھ لے کہ آجانا“ان کی پہلی بات پر خرسند سرخ سا ہوگیااور کاشف رحمان صاحب کی بات پر عمل کرتے ایک نظر مہر کو دیکھ کر رحمان صاحب کے ساتھ گھر چلے گئے اور اظفر خرسند کو مہر کے پاس بٹھا کر خود میڈیسن لینے اور ڈیوز کلئیر کرنے چلے گئے
”مہر“وہ دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کر محبت سے بولا تو وہ جھٹ سے آنکھیں کھولتی ہے کہ اس کے علاوہ وہ ابھی کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی
”آپ نے انکار نہیں کیا نا“وہ خدشہ بیان کرتی ہے تو وہ مسکرا کر نفی میں سر ہلاتا ہے اور مہر خوشی سے جھوم اٹھی
”کہیں تو کر دوں“وہ چھیڑتا ہے
”میں جان لے لوں گی چاہے دسویں محبت اور چوتھی بیوی کیوں نہ بننا پڑے میں پھر بھی آپ کی ہی بنوں گی“وہ ضدی پن سے بولی اور اس کی بات پر خرسند ہنس پڑا
”نیہا کو کیا کہیں گی کہ۔۔“
”نام مت لیں اس بدتمیز،چڑیل اور حاسد عورت کا اب کرے میرا دماغ خراب میں بالوں سے پکڑ کر گھما ڈالنی“وہ غصے میں جذباتی ہوتی اٹھ بیٹھی اور اس کی چلتی زبان اور منصوبے سن کر خرسند کی پیشانی عرق آلود ہوئی
”استغفراللہ مہر آپ کو کبھی میری بات نہیں سمجھ آتی گالی کیوں دے رہی ہیں وہ بڑی ہیں آپ سے ادھر آپ کے بھائی مجھ سے لڑاکا ہورہے تھے اور ادھر آپ کو لڑائی سوجھ رہی ہے“وہ گلہ کرتا ہے
”کیا انہوں نے بدتمیزی کی آپ سے کمینے کہیں کہ مجھے جالینے دیں گھر کر لیتی میں ان کا علاج“وہ کچھ زیادہ ہی خوش ہورہی تھی کہ اسکا دل اب صاف ہوچکا تھا اور اب تو وہ خرسند کی شریک حیات بننے والی تھی اب اس نے اس کے سامنے معصوم اور ڈیسنٹ بن کے کیا کرنا تھااس لئے کھل کر شروع ہوئی اور خرسند حیران در حیران ہو رہا تھا کہ اسکی یہ کزن تو بڑی ڈیسنٹ اور بے زبان سی تھی
”اوہ میرے اللہ مہر آپ کو کیا ہوگیا ہے میری توبہ جو آئندہ آپ کو ڈانٹا کیونکہ بعد میں آپ تو بہت لڑاکا بن جاتی ہیں“وہ کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے تو مہر ہنسی
”آئندہ کبھی مجھ سے ناراض بھی مت ہوئیے گامیں بڑی پاگل سی ہوں مجھے عزت کیساتھ محبت بھی پوری پوری چاہئے اب آپ صرف میرے ہیں۔۔ ہے نا“وہ یقین چاہتی ہے تو خرسند مسکرایا
”آپ کے نام کے دو مطلب ہیں مہر مطلب سورج اور محبت سورج روشنی بکھیرتا ہے تو محبت روح کا سکون ہے اور ایک دن میرا گھر اور دل آپکی محبت کی کرنوں سے روشن ہوجائے گاسورج واحد ہے اور محبت لامحدود میرے لئے بھی آپ واحد اور آپ سے محبت لامحدود ہوگی انشاء اللہ“وہ اسکا ہاتھ تھامے محبت سے بولا تو مہر کے دل نے ایک بیٹ مس کی وہ طمانیت سے اسکا پرنور چہرہ آنکھوں میں جزب کرتی ہے
”اور جانتی ہیں کہ میرے نام کا کیا مطلب ہے۔۔“وہ اسکی دلچسپی بڑھاتا ہے مہر جانتی تھی کہ وہ ساری زندگی بھی اسے سنتی رہے پھر بھی بور نہیں ہوگی
”خرسند شاذ کا مطلب ہے ‘انوکھی خوشی’اور میرے اللہ پاک نے آپ کی صورت میں مجھے انوکھی خوشی ہی دی ہے اورمیں وعدہ کرتا ہو ں کہ اپنے نام کیطرح آپ کو ہمیشہ خوش رکھوں گااس انوکھی خوشی کو ہر دم برقرار رکھوں گا“وہ اسکے ہاتھ کو ہلکے سے دبا کر چھوڑتا اس سے وعدہ کرتا ہے اور مہر کو یقین تھا کہ وہ واقع میں اپنا وعدہ پورا کرے گا وہ کبھی اس کی آنکھوں میں آنسو لانے کا سبب نہیں بنے گا اور وہ بھی دل میں عہد کرتی ہے کہ وہ آئندہ کبھی کسی کے بھڑکانے پر اس سے بدگمان نہیں ہوگی کہ اللہ نے اس کیلئے بہترین”انوکھی خوشی“عطا کی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد