📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14713"]
46645 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Khushi (Episode 07)

Anokhi Khushi By Asma Khan

”اوہوں۔۔ہوں“وہ رحمان صاحب کے کمرے کی جلتی لائٹ اور ان کی کھانسی کی آواز پر ان کے کمرے کی طرف دیکھتا متفکر ہوا اور دروازے پر دستک دے ڈالی
”آجاؤ“ان کی اجازت پر وہ کمرے میں داخل ہوا اور اسے دیکھ کر ان کے چہرے پر خوشی اور ملائمت کا احساس جاگا
”آؤ۔۔آؤ بیٹا“وہ مسکرا کر ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں تو خرسند مسکراتے ہوئے ان کے پاس بیڈ پر آبیٹھا
”خیریت دادا صاحب میں یہاں سے گزر رہا تھا تو آپ کے کمرے کی لائٹ جلتی دیکھ کر اندر آگیا“وہ استفسار کرتا ہے
”ہاں بس تہجد پڑھنے کی تیاری کر رہا ہوں تم کیوں یہاں سے گزر رہے تھے“وہ چشمہ آنکھوں پہ سیٹ کرتے اس کا خوبرو چہرہ دیکھتے ہیں ساتھ ہی کھانسی پھر چھڑ گئی
”تہجد کیلئے ہی اٹھا تھا سائیڈٹیبل پر پانی نہیں تھا تو وہ لینے آگیاآپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی“وہ فکرمندی سے ان کا نحیف ہاتھ تھامتا ہے
”نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں اب اس عمر میں تھوڑی بہت کھانسی تو لگ ہی جاتی ہے“وہ مسکرا کر کہتے سیدھے ہوکر بیٹھ گئے
”آپکی عمر کو کیا ہوا ابھی بھی میرے بڑے بھائی لگتے ہیں“وہ پرمزاح انداز میں بولا تو وہ ہنسنے لگے
”برخوردار اگر ایسا ہے تو پھر شادی کر لو کیونکہ میں تو پوتے پوتیوں والا ہو ں اور تم ابھی تک کنوارے بیٹھے ہو“انھوں نے اسی کے انداز میں کہا
”درست فرمایاداداصاحب لیکن لڑکی تو پسند کر لیں کوئی“وہ تھوڑا جھینپ کر کہتا ہے تو وہ مسکراگۓ
”اتنے دن مہر تمہارے ساتھ گئی ہے تمہیں کیسی لگی میرا مطلب ہے کہ وہ تمہارے ساتھ شادی کیلئے موزوں ہے؟“انہوں نے دوبارہ تکیے سے ٹیک لگا کر اس سے سوال پوچھا تووہ کچھ پل کیلئے خاموش سا ہوگیا
”وہ اچھی لڑکی ہے دادا صاحب مگر وہ اس قدر حساس ہے کہ وہ اس بات کو لے کر انکار کر دے گی کہ میں ایک عدد محبت کر چکا ہوں“وہ خدشہ بیان کرتا ہے تو رحمان صاحب کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرے
”یہ کوئی وجہ نہیں ہے رشتے سے انکار کرنے کی مرد ہزاروں محبتیں بھی کر لے تو بھی ہزاروں محبتوں کی گنجائش رکھتا ہے اور تم نے اسے بیوی بنانا ہے محبوبہ نہیں“ان کے درشتی سے کہنے پر وہ مسکراگیا
”وہ آپکا دور تھا دادا صاحب جب عورت بیوی کا درجہ پاکر ہی خوش ہو جاتی تھی اسے محبوبہ بننے سے زیادہ بیوی بننا پسند تھا۔۔“وہ کچھ توقف رکھتا ہے
”آج کی عورت کے اصول و ضوابط کچھ اور ہیں وہ آپ سےعزت،محبت،وقت اور دولت بیکِ وقت مانگے گی بیویوں کی بھی کچھ قسمیں ہوتی ہے داداصاحب۔۔“وہ آئبرو ہلاتا انھیں دیکھتا بتاتا ہے حالانکہ اس کی ایک بھی بیوی نہیں تھی
”ایک وہ ہوتی ہے جو اپنے حق کیلئے لڑے گی،جھگڑے گی اور بالآخر اپنا حق وصول کر کے ہی دم لے گی،ایک وہ ہوتی ہے جو نہ لڑے گی اور نہ ہی کسی بحث میں پڑے گی بس چپ چاپ علیحدگی اختیار کر لے گی ایسی عورت بہت انا والی ہوتی ہے داداصاحب۔۔“وہ کچھ پل کو تھوڑا خاموش ہوا جبکہ رحمان علی خاموشی سے اس کے چہرے کو دیکھتے اسے سن رہے تھے اپنے اس پوتے کو سننا انھیں سب سے بڑھ کر لطف آمیز لگتا تھااس کی آواز اور لہجے میں ایسا ٹھہراؤ اور سرور تھا کہ اسے سننے والا سحر میں جکڑ جاتا تھا
”جبکہ ایک ایسی بھی ہوتی ہے جو نہ لڑے گی،نہ بحث کرے گی اور نہ ہی علیحدگی اختیار کرے گی بس چپ چاپ سہنے اور صبر کی عادی ہو جائے گی وہ عورت داداصاحب خود کو اندر سے مار لیتی ہے اور مہر بھی ایسی ہی عورت ہے وہ آپ لوگوں کی خوشی کی خاطر مجھ سے شادی کر لیں گی مگر اپنے جزبات کو دفن کر لیں گی اور میں ایسا نہیں چاہتا کہ وہ خود کو اندر سے مار لیں“وہ حقیقت بیان کرتا ہے اور اس کی آخری بات پہ وہ بگڑے
”تو تمہارا مطلب ہے کہ میں اب تمہارے لئے خاندان سے باہر رشتہ ڈھونڈو ایک ایسی لڑکی جو دوچار محبتیں کر چکی ہو تاکہ اسے تمہاری کی گئی محبت پر اعتراض نہ ہو جبکہ گھر میں بہترین رشتہ موجود ہے“وہ غصے سے کہتے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے
”معافی چاہتا ہوں دادا صاحب مگر میرا ایسا مطلب نہیں تھا میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ ان کوبتانے کی بجائے ان کی رضامندی لی جائے اگر وہ دل سے راضی ہیں اس رشتے پر تو میں بہت خوش ہوں اور پوری کوشش کروں گا کہ انھیں محبت دے سکوں“وہ ان کے غصے کے پیش نظر آہستگی سے بولا اور سر کو جھکا لیا کہ نامحرم سے کی گئی محبت ہمیشہ سر کو جھکاتی ہی ہے
”خوش قسمت ہوگی مہر جو تمہارے نکاح میں آئے گی وہ سمجھدار ہے وہ نیہا والی بیوقوفی کبھی نہیں کرے گی“وہ اسکی اداسی پر نرمی سے گویا ہوتے اسکا ہاتھ تھپتھپاتے ہیں
”داداصاحب اکثر۔۔“وہ کچھ پل رک کر اوپر والا لب دباتا سائیڈ پر دیکھ کر پھر ان کی طرف دیکھتا ہے
”اکثر جو ایک دفعہ ٹھکرادئے جائیں وہ بار بار ٹھکرائے جاتے ہیں اور مجھے دوسری دفعہ ٹھکرائے جانے سے ڈر لگتا ہے“
”کیا تم مایوس ہو گئے ہو خرسند شاذ ایک بیوفا عورت کے چھوڑ دینے سے تم اللہ کی رحمت سے مایوس ہو چکے ہو جو ایسا ڈر رکھتے ہو“وہ بے یقینی سے بولے
”بالکل نہیں داداصاحب میرا ایسا مطلب ہرگز نہیں تھا میں اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہو سکتا وہ بہت بہتر سوچے ہوئے ہیں میرے لئے بس انسانوں کا اعتبار نہیں کوئی“وہ ان کا ہاتھ تھام کر محبت سے چومتا بولا
”میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں خرسند تم مستجاب ٹھہرو گے تم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں سے ہو تمہاری پیشانی ہی نہیں تمہارا دل اور نفس بھی جھکتا ہے اس کے آگے چلو آؤ اکٹھے نماز پڑھ کر دعا کرتے ہیں“وہ اسکا چہرہ کانپتے ہاتھوں سے تھامتے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہیں تو وہ مسکرایا اور ان کو سہارا دے کر اٹھانے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”کیا کر رہی ہو“زرگ اس کے پاس آکر اسکے بازو پر چٹکی کاٹ کر پوچھتی ہے تو زرگ نے اسے گھوری سے نوازا
”ای میلز چیک کر رہی تھی۔۔تم کالج نہیں گئی“وہ حیران بھی ہوئی تو زرگ سر ہلاتی اس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئی
”دل نہیں کر رہا تھا اور تم سے پوچھنے آئی تھی کہ تم کیوں نہیں جارہی دو دن سے“اس کے سوال پر مہر لب کاٹ کر رہ گئی
”بس یونہی“وہ لاپرواہ بنی کہ اس کا غصہ ابھی تک نہیں اترا تھاوہ ابھی تک خود کو بے نیاز بنانے کی کوشش کر رہی تھی
”کیا مطلب یونہی ہر چیز کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے سچ بتاؤ کہ کیوں نہیں جارہی“وہ جواب طلب کرتی ہے تو مہر بیزاری سے ایک نظر اسے دیکھتی دوبارہ سے اپنے کام پہ مصروف ہوگئی
”مہر میں تم سے پوچھ رہی ہوں میں پرسوں سے تمہیں دیکھ رہی ہوں نہ تم ٹھیک سے بات کر رہی ہو اور نہ ہی تمہارا موڈ ٹھیک ہو رہا ہے آخر کیا بات ہے جو تمہیں ڈسٹرب کر رہی ہے“وہ غصے سے پوچھتی ہے اور مہر ضبط کرتی پھر خاموش رہی تو وہ لیپ ٹاپ چھین لیتی ہے
”مہر“وہ چلائی تو مہر بھیگی پلکوں سے اسے دیکھتی ہے
”تنگ مت کرو زرگ میں فی الحال کوئی بات نہیں کرنا چاہتی“وہ جان چھڑاتی ہے ساتھ ہی لیپ ٹاپ لینے کی کوشش کی جسے زرگ نے پہنچ سے دور کر دیا
”پہلے بتاؤ کہ کیا ہوا ہے کیا نیہا نے کچھ کہا ہے کیونکہ اس کے جانے کے بعدہی سے تمہارا موڈ آف ہے“وہ خدشہ بیان کرتی ہے اور مہر طیش سے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھتی ہے
”نام مت لو اسکا زرگ ورنہ میں کچھ کر بیٹھوں گی تمہاری بہن اب میری برداشت سے باہر ہے“اس کے نفرت آمیز الفاظ پر زرگ حیرت و بے یقینی سے اسے دیکھتی ہے ”مہر۔۔“اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی مہر اٹھ کر واش روم میں گھس گئی
”ایسا کیا ہو گیاجو یہ اتنی شاؤٹڈ ہے“زرگ ناسمجھی سے سوچتی لیپ ٹاپ میز پر رکھتی باہر نکلی اور سب سے پہلا سامنا ہی افلاطون سے ہوا
”ہائے اوو ہم سے لڑائی اور ہمارے برادر سے آنکھ مٹکائی“وہ اس کی پونی چھیڑتا شرارت سے بولا اب اگر زرگ چھٹی کرے گی تو احد کہاں پیچھے رہتا
”شٹ اپ۔۔تم سے کس پاگل نے کہا کہ میں عارض سے آنکھ مٹکا رہی ہوں“وہ چلائی
”کیا سچ میں ایسا نہیں چلو کوئی بات نہیں میں عارض کو کہتا ہوں کہ اپنی محبوبہ پہ پھر ٹرائی مارے“وہ آگ لگانے لگا
”یو پاگل،ڈینگی کے مچھر بکواس بند کرو میں کوئی اس کی محبوبہ نہیں ہوں“وہ تپ کر بولی
”اوہ نائس ویسے میں اسے کہا بھی تھا کہ زرگ تم سے محبت کر ہی نہیں سکتی وہ تو مجھے آئی لو یو بول چکی ہے“وہ معصومیت سے جھوٹ بولتازرگ کے اصل معنوں میں چھکے چھڑا گیا
”ایک نمبر کے جھوٹے انسان میں کب تم سے یہ بولا“وہ چیخی
”کیا“وہ حیران سا پوچھتا ہے
”یہی آئی لو یو“وہ روانی سے بولی اور احد ہنسنے لگا
”چلو اب تو بول دیا“اسکی چالاکی پر وہ دانتوں تلے لب دبا کر اسے گھورتی ہے
”ویسے زرگ کتنا بدنصیب ہے میرا بھائی جو تم جیسی خون چوسنے والی اور گرگٹ کے جتنی لمبی زبان والی سے عشق کر بیٹھا ہے نا“وہ اس کی طرف جھک کر اس کی رضامندی لیتا ہے اور وہ رکھ کے اس کے گال پر مکا مارتی ہے احد کا منہ دوسری طرف لگا
”اوئی ماں۔۔جلاد لڑکی ٹھہرو ذرا“وہ آگے کو بھاگتی زرگ کے پیچھے لگا اور لاؤنج میں جا کر اس کو بالوں سے پکڑ کر گھما ڈالا
”آآآں۔۔ہاں“وہ بال پکڑتی چلائی پونی ٹیل میں مقید بال اب عجیب و غریب نقشہ پیش کر رہے تھے
”کیا ہوا“صوفے پر آرام سے اخبار پڑھتی فرحین کو اب ہوش آیا تھا کہ ان کے پاس کوئی شور ہو رہا ہے
”مامی دیکھیں آپ کے بیٹے نے میرے بالوں کا کیا حال کیا ہے“وہ اپنے بکھرے ہوئے بال روتے ہوئے دکھاتی ہے جبکہ احد جلدی وہاں سے بھاگا
”ہاہائے فٹے منہ تیرا احد کے بچے کیا حال کر دیا بچی کے بالوں کا۔۔تم فکر نہیں کرو زرگ اس کی بیوی آجائے اس کے بالوں سے لیں گے سارے بدلے اس کو گنجی کر دینا ہم نے“ان کی مستقبل کی شاندار پلیننگ پر وہ منہ کھولے ان کو دیکھتی پھر پاؤں پٹخ کر وہاں سے نکل گئی
”بہت جبرون ساس بننا ہے میں نے ہائے کتنے مزے آئیں گے ساس بن کے“فرحین اپنی بہو کے خیالوں میں کھوگئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔