📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14713"]
46645 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Khushi (Episode 04)

Anokhi Khushi By Asma Khan 

”جی ٹھیک ہے۔جی میں چکر لگا لیتا ہوں۔۔پیسوں کی آپ فکر نہ کریں اللہ کا شکر ہے۔۔جی ٹھیک اللہ حافظ“وہ فون بند کرتا چشمہ آنکھوں پہ لگا کہ فائل دیکھنے لگاباریک چیزوں کیلئے یا رات میں اکثر اسے چشمے کی ضرورت پڑ جاتی تھی جونہی وہ اپنا دھیان فاٸل پر لگاتا ہے توخاموش ماحول میں یکدم شور ساگونجا
”ماھی وے محبتاں سچیاں وے۔۔
منگدا نصیبا کج اور وے۔۔“وہ حیران سا دیکھتا ہے تو مہر کا سیل بج رہا تھاجو خودکچھ دیر پہلے واش روم گئی تھی جبکہ خرسندشاذ اس کی رنگ ٹیون سن کر حیران ہوا کہ اس کے خیال میں مہر کافی سنجیدہ اور ڈیسنٹ طبعیت کی مالک لڑکی تھی اب یہ تو اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ وہ شیطانی منصوبہ سازی میں اپنے بھاٸیوں سے کم نہ تھی بس اس کے سامنے شرافت اور سنجیدگی کا چولہ پہن کر آتی تھی
”قسمت دے مارے ہو اسی کی کریے۔۔
قسمت تے کس دا زور اے۔۔“وہ تھوڑی ناگواری محسوس کرتا ہے کہ اسے ایسے گانے بالکل پسند نہیں تھے اورکچھ دیر کو مہر واش روم سے نکلی تو وہ شکر کرتا ہے اور مہر اپنے موبائل کی بھاں بھاں پہ بوکھلا کہ جلدی سے اس پر جھپٹی
”ماھی وے محبتاں س۔۔۔“وہ جلدی سے سیل آف کر دیتی ہے کہ خرسند اور دادا صاحب کے سامنے وہ سبھی بڑے شریف بچے تھے اور وہ اپنی شرافت ابھی برقرار رکھنا چاہتی تھی
”و۔۔وہ سوری“وہ شرمندہ ہوئی
”اٹس اوکے میوزک موڈ کے لئے اچھا ہوتا ہے“وہ اسکی خفت مٹانے کو بولاتو وہ مسکرا کر سر ہلاتی ہے
”مہر کبرڈ سے جمیل احمد کی فائل نکال دیں گی“وہ اسے مصروف کرنے کو بولا تو وہ سر ہلاتی بخوشی”جی۔۔جی“کہتی جلدی سے الماری کی طرف بڑھی کہ کارپٹ میں پاؤں اٹکا اور وہ دھڑام سے زمین بوس ہوئی اسکا سر الماری سے بری طرح سے لگا تھا
”حسبی اللہ“خرسند فکرمند سا اس کی طرف بڑھا اور اسے سیدھا کیا جو بری طرح رو رہی تھی اس کے ماتھے سے خون کی پتلی سی دھار نکل کراس کے گال پر آگئی
”پلیز ڈونٹ کرائنگ مہر بی بریو کچھ نہیں ہوا“وہ اسے تسلی دیتا جلدی سے دراز میں سے فسٹ ایڈ باکس نکال لایا اور اس کے سر کو تھام کے زخم صاف کرنے لگا
”ن۔۔نہیں پلیز“وہ روتے ہوئے پرے ہوئی
”زخم صاف کرنے دیں مہر آپ تو بہت بہادر ہیں“وہ اس کا دھیان بٹانے کو اس کی گال سہلاتا پیار سے بولا اور وہ آنکھیں پھاڑے ساکت سی اسے دیکھتی ہے وہ خوبصورت سے زیادہ خوب سیرت شخص ٹھکرائے جانے کے لائق بالکل نہیں تھا وہ کچھ پل کے لۓ اس کی ذات میں کھو سی گٸ دل کی حالت بدلی بدلی سی لگ رہی تھی یا بدل چکی تھی
”تمھیں میرا احسان مند ہونا چاہیے مہر کہ تمہارے لئے جگہ خالی کر کے جارہی ہوں“آس پاس گونجتی کسی کی آواز پہ وہ پھر خود پر خول چڑھا گئی
”آپ تو بہت بہادر ہیں مہر اتنی سی تکلیف پہ اتنا کیوں رونے لگیں“اسے درد نہ ہو وہ اسے باتوں میں لگاتا ہے
”سامنے والا ہمیشہ یہی کہتا ہے کیونکہ وہ اس درد سے گزرا جو نہیں ہوتا“وہ تلخی سے بولی تو خرسند کی مسکراہٹ معدوم ہوئی وہ اس کے پل پل بدلتے موڈ سے کبھی کبھی حیران رہ جاتا تھا
”مگر جو درد کو سمجھتے ہیں انھیں معلوم ہوجاتا ہے کہ درد کس نوعیت کا ہے“وہ ہلکے سے بولا
”میں نہیں مانتی کہ کوئی درد کو سمجھنے والا ہوتا ہے اگر ایسا ہوتا تو کوئی زخم خوردہ نہ پھر رہا ہوتا“ہمیشہ کی طرح وہ پھر بحث پر اتری تو خرسند مسکرایااور پٹی کرنے کے بعد فسٹ ایڈ باکس دراز میں رکھ کر پین کلر اور پانی کا گلاس لئے اس کی طرف بڑھا
”آپ کو پتہ ہے مہر کہ ایک شخص نیوز پیپر کی صرف ہیڈ لائنز پڑھتا ہے وہ شخص یقینا جاننے والا یا خود کو انٹرٹین کرنے والا ہوتا ہے اور ایک وہ شخص ہے جونیوز پیپر پورا پڑھتا ہے بار بار پڑھتا ہے وہ سمجھنے والا محسوس کرنے والا ہوتا ہے“وہ ٹھہرا اور اسے دیکھا جو ابھی بھی بچوں کی طرح منہ کھولے اور آنکھوں میں آنسو لئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی وہ مسکرا کر پانی کا گلاس اور پین کلر اسے دیتا ہے
”تو ہر شخص میں اور ہر شخص کی ترجیحات میں فرق ہوتا ہے مہر آپ صرف یہ دیکھیں کہ آپ نے صرف جاننے والا بننا ہےیا پھر سمجھنے والا“وہ میز پر سے چابیاں اٹھاتا ہے
”یہ میڈیسن لے کر کچھ دیر ریسٹ کریں میں پیون کو کہہ دیتا ہوں کہ کسی کلائنٹ کو نہ بھیجیں ٹائم کم ہے ورنہ میں گھر چھوڑ آتا آپ کو“وہ دروازے کی طرف بڑھا
”آپ کہاں جارہے ہیں“وہ بے دھیانی سے پوچھ بیٹھی تووہ مسکرا کر پیچھے اسے دیکھتا ”یونی لیکچر دینے“کہتا باہر نکل گیا تو وہ چکراتے سر کے ساتھ کونے میں پڑے بیڈ پر جاکر لیٹ گئی
”کسی کا چہرہ پڑھ لینا کتنی بڑی چوری ہوتی ہے اور کچھ لوگ سرعام یہ چوری کرتے ہیں“وہ لب دباتی سوچتی ہے اور کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”آج تو کوئی میری خوبصورتی کا اندازہ کر ہی نہیں سکتا“وہ صابن ہاتھ پر ملتی شیشے میں اپنا خوبصورت چہرہ دیکھتی مسکرائی
”آف کورس یو آر بیوٹیفل زرگ“احد اس کے قریب آکر محبت سے بولا تو وہ منہ پھلا کر اسے دیکھتی ہے
”خبردار اگر کوئی بدتمیزی کی میں بہت خوش ہوں اس وقت کل میری فرینڈ کی برتھ ڈے ہے میں آج فیشل کروں گی“وہ اسے وارن کرتی صابن منہ پر ملنے لگی
”لو میں کیوں بلاوجہ تمہیں تنگ کروں گا“وہ معصومیت سے کہتا اپنے پیچھے چھپایا گلاس آگے کرتا ہے”ہونہہ“وہ ناک چڑھاتی نل کھولتی ہے جسے احد چالاکی سے بند کرتا گلاس کا سیاہ پانی اس کے ہاتھوں پر ڈالنے لگا اور جب وہ چہرہ دھو کر شیشے میں اپنا چہرہ دیکھتی ہے تو خوف سے چلااٹھی کیونکہ پورا چہرہ سیاہ ہوا پڑا تھااور زرگ بیچاری کو ہارٹ اٹیک آنے والا ہو گیا
”کمینےےے۔۔آج نہیں چھوڑوں گی تمہیں“وہ پاس پڑاوائپر اٹھا کر غصے سے چلاتی اس کے پیچھے بھاگی
”بچاؤ۔ؤ۔۔ایٹمی حملہ تیارررر“وہ متوقع پٹائی سے بچتا بھاگنے لگااور رستے میں آتا ہر شحص زرگ کی شکل دیکھ کر دل تھام رہا تھا جو کہ خوفناک سی سیاہ ہوٸ پڑی تھی
”ہاہائے میرے پاس آتی میں اچھے سے بیس سیٹ کر دیتی“ڈسٹنگ کرتی فرحین نروٹھے پن سے شکوہ کرتی ہیں تو وہ ٹھہری
”یہ بیس نہیں آپکے بیٹے کی کرتوت سیٹ ہے منہ پر“وہ غصے سے بولتی وائپر احد کو مارنے بھاگی کہ اندر آتے عارض کا منہ گیند کی صورت وائپر سے لگا اور دروازے پہ جاکے چسپاں ہوا۔۔
”ہاہاہا بیچارہ میرا بھائی“احد ہنسا جبکہ زرگ اس کالال ٹماٹر جیسا منہ دیکھ کر تھوڑا شرمندہ ہوئی
”ہاہ۔۔میرا چاند سا بیٹا تم نے کلین بوڈ کر دیا“فرحین کی ممتا جاگی تووہ عارض کا سر سینے سے لگا لیتی ہیں جو سرخ کے ساتھ ساتھ تھوڑا پھول بھی گیا تھا
”سوری مگر آج آپ کا دوسرا بیٹا اس دنیا سے اٹھانا ہے مجھے“وہ پہلے شرمندہ مگرپھر غصے میں آتی وائپر صوفے کے پیچھے کھڑے احد کی طرف پھینکتی ہے جو اپنا بچاؤ کرتا پیچھے ہوا اور وائپر سامنے سے آتی ناظمہ کی طرف جارہانہ انداز میں بڑھا
”یہ دیکھیں بھابھی میں نے کتنی ز۔۔“اور ان کے ہاتھوں میں پکڑا فیرنی کا باؤل وائپر کے ایک نشانے سے ان کے خوبصورت بالوں اور چہرے کو چاندی سا کر گیاسبھی منہ پہ ہاتھ رکھے ان کی طرف دیکھتے ہیں جو ساکت آنکھوں سے اپنی لختِ جگر کو دیکھتی ہیں
”م۔۔مماااا و۔۔وہ“وہ تھوک نگلتی خود کا بچاؤ کرنے لگی اور ادھر ناظمہ کے ہاتھ میں وائپر آگیا
”ناہنجار گندی اولاد ستیاناس کر دیا میری فیرنی اور چہرے کا آج نہیں بچتی تو مجھ سے“وہ باہر کو بھاگتی زر گ کے نشانہ لگاتی ہیں جسے عارض اپنی طرف کرلیتا ہے اور وائپر گاڑی پارک کرکے اندر آتے اظفر کے چودہ طبق روشن کر گیاسبھی دبی دبی ہنسی ہنسے کہ اس واٸپر نے متعلقہ نشانے کے سوا سبھی کو شکار بنا لیا تھا
”اوئی ماں یہ ویلکم میزائل کس نے پھینکا“وہ سر پکڑ کر بولے ساتھ ہی جھک کر وائپر پکڑ لیاسبھی زبان دانتوں تلے دبائے صورتحال سمجھنے لگے
”یقینا ایسا ویلکم فرحین ہی کر سکتی ہے صبح پیسے جو نہیں دیے تھے“وہ خونخوار نظروں سے فرحین کو دیکھتے ہیں جو بیچارگی سے نفی میں سر ہلاتی ہیں
”آج دیتا ہوں تمہیں پیسے“وہ وائپر کو سیدھا کر کے مزاقاََ انہیں ڈراتے ہیں کہ کاشف کی چیخ پر سب نے ان کی طرف دیکھاجن کا چہرہ سرخ تھا
”کیا ہوا“اظفر حیرانی سے بولے تووہ نیچے دیکھتے ہیں سب ان کی نظروں کا تعاقب کرتے ہیں تو دیکھا کہ وائپر نے پیچھے سے ان پر حملہ کر دیا ہے اظفر جلدی سے وائپر پرے پھینکتے ہیں کہ اس سے پہلے یہ کسی اور کو شکار بناۓ
”اوہ میں بچ گئی“فرحین مزے سے ہاتھ نچاتیں نعرہ لگاتی ہیں تو سب کی ان کے اسٹاٸل پرہنسی چھوٹ گئی
”کیا ہورہا ہے یہ سب“رحمان علی کی گرجدار آواز پر سبھی سیدھے ہو گئے
”بریک ڈانس“عارض بیچارے کی زبان نے اسے پھر دھوکا دیا اور وہ سب کی نظروں کا مرکز بنا کہ اب دادا صاحب اس کی کیسی خاطر کرتے ہیں اور کونسا ڈانس اس کے لۓ منتخب کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔