Anokhi Khushi by Asma Khan | Emotional Urdu Romance & Healing Story NovelM80012 Anokhi Khushi (Episode 10)
Anokhi Khushi (Episode 10)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Anokhi Khushi By Asma Khan
آج پورے گھر میں چہل پہل چھائی ہوئی تھی کہ آج شام کو شادی کی ڈیٹ فکس کی جاچکی تھی خرسند شاذ اور مہر کی شادی اسی مہینے کے آخر میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھااور سب کا جوش و خروش دیکھنے کے لائق تھااس وقت بھی سوائے رحمان علی،فاطمہ، خرسند اور مہر کے سبھی لاؤنج میں تشریف فرما تھے
”بھئی شادی والا گھر ہے کوئی ہنگامہ تو ہونا چاہئے“فرحین نے سب کو جوش دلایا
”ہاں ہاں بالکل تو ہو جائے مقابلہ“ احد ہاتھ اٹھا کر میدان میں اتراتو زرگ کیوں پیچھے رہتی
”میری ٹیم کا نام ہے زر“
”اور میری ٹیم کا نام ہے احد دی ڈان اب آپ لوگ فیصلہ کریں کہ آپ لوگوں نے کس ٹیم میں جانا ہے“ احد نے سب کی دلچسپی بڑھائی اور وہ سب ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ کون کس ٹیم میں جائے
”میں تو اپنے بھائی کے ساتھ ہوں“عارض نے احد کو تھپکا
”میں بھی اپنے بیٹے کے ساتھ“اظفر بھی گئے
”تو بس ٹھیک ہے آپ سب مرد ایک طرف اور ہم سب عورتیں ایک طرف“ناظمہ نے فیصلہ سنایاجس پر سب متفق تھے
”ہم چار مرد اور آپ تین عورتیں“عارض مصنوعی بیچارگی سے ان کا مزاق اڑاتا ہے تو زرگ نے گھورا
”عورت ایک بھی بھاری ہوتی ہے“فرحین اٹھلائیں
”درست فرمایا بیگم یونہی نہیں صوفہ زمین میں دھنستا جارہاہے“اظفر کے چوٹ کرنے پر وہ غصے سے بھناگئیں اور باقی سب کی ہنسی چھوٹ گئی
”تو ہو جائے مقابلہ“احد نے تان لگائی
”مقابلے کے مامے پہلے بتاتو دو کہ مقابلہ کس چیز کا ہے“کاشف بھنا کر بولے
”ریسلنگ کا“عارض چہکا تو ساتھ ہی اظفر کا دھموکاپڑا
”ہمارے دور میں تو ٹپے ہوتے تھے ہمیں تو وہی آتے ہیں“ناظمہ نے کہا تو ساری ینگ پارٹی بدمزہ ہوئی
”بالکل نہیں ہمیں تو بالکل نہیں آتے یہ کچھ اور سوچیں“زرگ نے انکار کیا تو سب سر ہلاتے سوچنے لگے
”آئیڈیا۔۔“عارض چٹکی بجاتاصوفے سے اچھلا تو سب حیرت سے اسے دیکھتے ہیں
”کیوں نہ ہم اپنی طرف سے شعر بنا کر ایک دوسرے پر لگائیں مطلب جس کی باری ہوگی اس کو ایک حرف دیا جائے گا اور وہ اس سے ایک منٹ کے اندراندر شعر بنا کرسنائے گا“اس کا آئیڈیا سب کو اچھا لگا
”یہ صحیح ہے اور اگر جو ایسا نہ کر سکاتو پھر“فرحین نے پوچھا تواحد فوراََبولا
”تو پھر اس کی چھترول ہوگی“
”فٹے منہ تیرا اب ہم سفید بالوں کے ساتھ چھترول کروائیں گے“ناظمہ نے باقاعدہ لعنت بھیجی تو وہ پہلو بدل کر رہ گیا
”چلو کوئی نہ وہ پانچ سو دے گا ہار کی صورت“اظفر کے مشورے پر احد،عارض اور فرحین کے دل پر ہاتھ پڑا کہ پانچ سو۔۔۔
”چلیں ڈن ہوگیا آجاؤ میٹر س پر سب“کاشف نیچے میٹرس پر زرگ اور احد کے پاس بیٹھے کہتے ہیں تو سب سر ہلاتے ان کے پاس بیٹھے اب وہ سب دائرے کی شکل میں بیٹھے ہوئے کھیلنے کو تیار تھے
”چلیں لیڈیز سیکنڈ“احد نے پین اظفر کی طرف کیااور فرحین جو پین پکڑنے لگی تھیں منہ بناگئیں سبھی مسکرائے
”اِل مینرڈ ہمیشہ لیڈیز فرسٹ ہوتا ہے“زرگ نے منہ بنا کر کہا تو وہ اسے گھورتا ہے
”چلیں اسٹارٹ کریں ماموں“وہ بات بدلتی اظفر سے بولی تو وہ سر ہلاتے پین گھماتے ہیں اور پین سیدھا ان کی بیوی کو ہی شکار بناتا ہے وہ دل تھامتی ہیں کہ بات پانچ سو کی تھی اب۔۔
”ہاں تو میری پیاری بیگم۔۔“وہ شرارتی ہوئے اورباقی سب کا ہنسنا شروع تھا
”آپ کو ہم سے پیار ہے تو ہم اپنا نام ہی دیتے ہیں الف سے اظفر“ان کی بات پر سب پرجوش سے فرحین کو دیکھتے ہیں جن کے چہرے پر ہوائیاں اڑیں
”جلدی کریں ٹائم اسٹارٹ ہے“احد نے اسٹاپ واچ پاس رکھی
”ہا ں ہاں بن گیا۔۔عرض کیاہے۔۔“وہ گلہ کھنکارتی ہیں ”ایسا نصیب جاگا تھا میرا محبوب سے مل کر“وہ سر کھجاتی سوچتی ہیں
”ایسا نصیب جاگا تھا میرا محبوب سے مل کر۔۔۔۔کہ مدت ہوئی اس خوش نصیبی پہ لعنت بھیجتے ہوئے“
”ہاہاہا“سب کے قہقہے ابل پڑے اور فرحین اظفر کی سلگتی نظروں سے منہ چھپانے لگیں
”چلیں لیڈیز“احد پین ناظمہ کو دیتا ہے اور ان کا نشانہ ان کا متوقع داماد ہی بنا
”چلو جی ہونے والی ساس پرلگاؤ چوٹ“کاشف نے اسکی کمر تھپکی زرگ شرما کر سر جھکاگئی
”کاف سے ہی بناؤ“وہ محبت سے کاشف کو دیکھ کر کہتی ہیں تو سب کے ”اوئے ہوئے“کرنے پر شرما گئیں
”بونگا پن نہ دکھانا“اظفر نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو وہ منہ پھلا کر انھیں دیکھتا ہے تو وہ ہنسے اپنے اس بیٹے کو تنگ کرنا انھیں بہت پسند تھا
”کبھی کبھی میرے دل میں بہکا سا سوال آتا ہے“وہ پہلا فقرہ کہتا دوسرا سوچنے لگاتو فرحین کا الارم اسٹارٹ”جلدی ورنہ ٹائم ختم“
”اچھا نہ بنا رہا ہوں عرض کیا ہے۔۔“وہ انھیں تسلی دیتا اسٹائل سے شعر پڑھنے لگا
”کبھی کبھی میرے دل میں بہکا سا سوال آتا ہے
ّبڑی بیٹی تو بیاہ دی آپکی چھوٹی بیٹی کا خیال آتا ہے“اور اس کے شعر نے پوری محفل زعفران بنا دی تھی سب کاہنس ہنس کر برا حال تھا
”بھائی صاحب درد ہے“کاشف مصنوعی بیچارگی سے اظفر کو کہتے ہیں اور سب کو ہنسی روکنا مشکل تھازرگ عارض کی محبت بھری نظروں سے گھبراتی حیا سے سمٹ گئی
”اب میری باری“احد نے پین گھمایاتو وہ کاشف کی طرف آیا وہ پھر گھماتا ہے اور اس بار پین زرگ پہ رکا تھا
”اوہ نو“اس نے سر تھاما تو وہ ہنستے ہوئے ”ع۔۔ع سے عارض“بتاتا ہے ساتھ ہی رشوت دی
”دیکھو زرگ اس ٹائم صلح کر لو اور میری تعریف ہی کرنا“اس کی منت پر وہ انگوٹھا دکھاتی ہے
”عرض کیا ہے۔۔۔“وہ جلد ہی شعر بنا چکی تھی کہ احد کیلئے ا س کے پاس ایسے بڑے شعر تھے
”عرض میری خدا تک پہنچی تو یہی التجا ہوگی میری
انشاء اللہ بدصورت،چڑیل،کالی کلوٹی سی بیوی ہوگی تیری“سب کی ایک بار پھر ہنسی چھوٹ گئی
”زرگ تمہارے کیڑے پڑیں“وہ کھڑا ہو کر چلانے لگا اور سب اس کا مزاق اڑانے لگے پورا ”رحمان ولا“ان کی ہنسی کی جھنکاروں سے گونجنے لگا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”کچھ پریشان سے لگ رہے ہوخیریت ہے نا“وہ آہستہ سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے پوچھتی ہیں تو وہ دھیما سا مسکرایا
”امی جان اگر کوئی مجھ سے میری زندگی کا سکون پوچھے تو میں بلاتکلف کہوں گا کہ میری ماں کے ہاتھ جب میرے بالوں میں چلتے ہیں“ا س کی بات پر وہ مسکرا کر اسے دیکھتی ہیں جو ان کی گود میں سر رکھے ہوئے تھا
”ماں ہوں تمہاری سمجھ سکتی ہوں کہ بات کو ٹال رہے ہو خوش نہیں ہو اس شادی سے یا پھر نیہا کو بھول نہیں پائے“وہ سنجیدہ ہوئیں
”میری ماں ہیں آپ ہی تو ایک سمجھ سکتی ہیں مجھے۔۔“وہ ایک آئبرو اٹھا کر انھیں دیکھتا ہے
”جہاں تک شادی کی بات ہے تو میں بہت خوش ہوں مہر یقینا ایک اچھی بیوی ثابت ہوں گی اور رہی بات نیہا کی تو وہ اسی دن اس دل سے نکل گئیں تھیں جب وہ کسی اور کی ہوگئیں تھیں اب نہ تو وہ میرے دل میں ہیں اور نہ ہی دماغ میں اب وہ صرف میری ایک کزن ہیں اور ایک کزن کے ناطے میں ان سے اچھے سے ملتا ہوں میرے دل میں ان کیلئے اب ذرا برابر جزبات نہیں رہے امی جان“وہ انھیں وضاحت پیش کرتی ہیں
”شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کی محبت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے عورت محبت میں تن من حتی کہ قیمتی سے قیمتی چیز بھی قربان کر دیتی ہے اگر اسے معلوم ہو کہ مرد کے دل کی وہ اکیلی حکمران ہے تم لاکھ اچھے سہی خرسند مگر تم نے کی تو خیانت ہے“وہ حیران سا انھیں دیکھتا ہے
”تمہاری نیہا سے محبت مہر اس سے واقف ہے میں نے نوٹ کیا ہے وہ بڑوں کی خوشی کی خاطر ہاں کر چکی ہے مگر وہ ادا س ہے اور اس کی اداسی تمہاری ماضی میں کی گئی محبت ہے وہ اپنے حق کیلئے بول نہیں سکی“انہوں نے حقیقت بیان کی
”کسی سے محبت ہوجانا گناہ تو نہیں ہوتا امی جان اور اب تو میں صرف ان سے مخلص ہوں گا“وہ تڑپ کر کہتا اٹھ بیٹھا
”ہاں گناہ نہیں ہوتا لیکن وہ کسی سے محبت کر تی تو گناہ ہوتا“
”طنز کر رہی ہیں“وہ یاسیت زدہ سا بولاتو وہ اسکا پرنور چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیتیں نفی میں سر ہلاتی ہیں
”نہیں میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تم اس کا گلہ ختم کر دو اسے یقین دلاؤ کہ نیہا اب کہیں نہیں رہی اب وہ تمہاری محبت تمہاری بیوی ہوگی محبوبہ تعریف اور بیوی محبت کی بھوکی ہوتی ہے اسکے دل کو اپنی طرف سے شادی سے پہلے ہی صاف کر لو خرسند کہ جب وہ تمہارے نکاح میں آئے تو دل کی رضا سے آئے کسی خطرے کسی شک میں مبتلانہ آئے“ساتھ ہی اس کے ماتھے سے بوسہ لیاتو وہ مسکرا کر سرہلاتا ہے
”میں جانتا ہوں کہ ان کے دل میں میرے لیے نرم گوشہ ہے لیکن وہ کسی وجہ سے غیرمطمئن ہیں اور وہ وجہ آج مل گئی ہے مجھے۔۔“وہ ان کے ہاتھ کو دھیرے سے دبا کر اٹھ کھڑا ہوا
”میں ان کا دل اور دماغ آج صاف کردیتا ہوں مگر ڈائریکٹ محبت کا اظہار نکاح کے بعد کروں گا“وہ سر ہلاتی ہیں اور خرسند ان کے دوپٹے سے ڈھکے بالوں پر لب رکھ کر کمرے سے نکل گیااور مہر کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا اور دروازہ کھلا دیکھ کر تھوڑا حیران ہواابھی وہ دروازے کھٹکھٹانے ہی والا تھا کہ سامنے ہی وہ زرگ پر برس رہی تھی
”نہیں کر رہی میں خوشی سے شادی جو بھنگڑے ڈالوں صرف بڑوں کی خوشی کی خاطرقربانی دے رہی ہوں اور آئندہ اس گھٹیا لڑکی کا نام مت لینا جسے میں اس دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کرتی ہوں“وہ حیران سا انہیں دیکھتا ہے مہر کا چہرہ دوسری طرف تھا اس لئے وہ اسے دیکھنے سے قاصر تھی اور زرگ کی دروازے کی طرف سائیڈ تھی
”آخر کیوں تم اتنی بدگمان ہو وہ ان کی ماضی کی محبت تھی اب ایسا کچھ نہیں ہے اور نیہا آپی نے ایسا کیا کہہ دیا جو تم اتنی بدگمان ہو“زرگ بھی غصے سے بولی وہ کافی دن سے اسے چھیڑ رہی تھی اور آج مہر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا اس لئے غصے میں آگ بگولا ہوتی دل کی بھڑاس نکال رہی تھی
”ماضی کی محبت نہیں تھی ابھی بھی اس کے قدموں میں بچھے ہوئے ہیں وہ جو چاہتی ہے یہ حاضر کردیتے ہیں اس کی ہر خواہش ابھی بھی ان کیلئے مقدم ہے اور رہی بات نیہا کی تو تم نے اس کی گھٹیا بکواس نہیں سنی“وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ غصے میں کیا کیا بول رہی ہے اور خرسند ششدر سا اس کے دل کا حال سن رہا تھاوہ یقین نہیں کر پارہا تھا کہ مہر اس قدر بدگمان ہے اتنی بدتمیزی کر سکتی ہے
”لیکن تم خرسند بھائی سے محبت کرتی ہو تم انکار کر سکتی تھی کسی نے زبردستی نہیں کی تم سے مہر اور بتاؤ مجھے کہ کیا کہہ دیا میری بہن نے تمہیں وہ بیچاری تو آئی ہی ایک دفعہ ہے“زرگ نے بھی حساب برابر کیا اور آج اس سے تفصیل سے بحث کرنے کی ٹھان لی کہ وہ اپنی دوست پلس کزن کو اداس نہیں دیکھ سکتی تھی وہ آج اس کے دل کا غبار ہلکا کر دینا چاہتی تھی اور خرسند بھی آج اپنا ضبط آزما لینا چاہتا تھاچار مہینے سے وہ اس بیوقوف لڑکی کو پیار سے سمجھا رہا تھا مگر وہ ویسی کی ویسی بدگمان تھی
”ہاں کرتی ہوں محبت مگر انہیں میری محبت کی نہیں صرف نیہا کی محبت کی قدر ہے اور تم سننا چاہتی ہو نہ اپنی بیچاری بہن کی باتیں تو سنو وہ۔۔وہ“مہر کی آنکھوں میں آنسو آگئے حلق میں بھی آنسوؤں کا گولہ اٹک گیاجبکہ زرگ کی نظر اچانک خرسند پر پڑی تو وہ بوکھلا گئی اور مہر کو چپ کروانے کا سوچتی ہے مگر وہ اسے خاموش رہنے کا اشارہ کرتا آگے بڑھ آیا زرگ شرمندہ سی سرجھکاگئی
”وہ عورت مجھے اپنی مہندی والے دن بھی سیکنڈ چوائس بننے کا طعنہ دے کہ گئی تھی۔۔تم اس دن پوچھ رہی تھی نہ کہ میرا موڈ کیوں آف ہے تو اس دن بھی تمہاری بہن مجھے میری اوقات بتا کر گئی تھی وہ۔۔وہ مجھے کہتی ہے کہ وہ میرے لئے اپنا جھوٹا چھوڑ کر جارہی ہے میں۔۔میں اس کا چھوڑا ہوا کھاؤں گی“وہ ہچکیوں سے رونے لگی اور خرسند اور زرگ دونوں ششدر سے ساکت تھے وہ بے یقین تھے کہ نیہا اتنا زہر بھر سکتی ہے اس کے دل میں اتنی حاسد عورت ہو سکتی ہے کہ اپنی ٹھکرائی گئی محبت کو بھی کسی اور کے پہلو میں خوش نہیں دیکھ سکتی
”زرگ م۔۔میں پہلے کیوں نہیں نظر آئی انہیں میں اسکے ٹھکرانے کے بعد ہی کیوں نظر آئی م۔۔مجھے ہی کیوں اچھی بیٹی بننا پڑا نیہا کو کیوں اسکی ہر خواہش پوری کرنے کی اجازت مل گئی اسے ہر جگہ سے محبت اور میرے لئے بچا کھچا۔۔“خرسند کو اس کے الفاظ نے بے پناہ تکلیف دی وہ آنکھیں میچتا لب کاٹ کر رہ گیا فیصلہ کرنے میں آسانی ہورہی تھی
”وہ کہتی کہ اسے میری محبت پر ترس آگیا اسی لئے وہ خرسند کو میرے لئے چھوڑ رہی ہے و۔۔وہ کبھی بھی اسے نہیں بھول سکتے وہ جب چاہے مجھے خرسند کی زندگی سے نکال سکتی ہے م۔۔میں ساری زندگی اسکی بھیک کی محتاج رہوں گی“وہ سر جھکاتی ہچکیاں بھرنے لگی اور زرگ خاموش تھی اس کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے جن سے وہ اسے تسلی دے پاتی
”اور کیا زہر بھر کر گئیں ہیں وہ آپ میں“وہ آرزدگی سے پوچھتا مزید نزدیک ہوا اور مہر کا دل اچھل کر باہر آگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔