📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14713"]
46645 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Khushi (Episode 01)

Anokhi Khushi By Asma Khan 

”اب تم دیکھنا میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں زرگ ٗ ٗوہ کمینگی بھری سرگوشی کرتادروازہ آہستہ سے کھول کر کمرے میں داخل ہوا.سارا گھر خاموشی میں ڈوباہوا تھاکہ ساری خواتین اپنے کمروں میں دوپہر کوآرام کر رہی تھیں جبکہ مردحضرات اپنے کاموں پر گئے ہوئے تھے ایسے میں یہ ایک بہترین موقع تھا اس کیلۓ۔۔۔

”بس تھوڑا سا صبر کرو مائی سویٹ ہارٹ“ وہ آگے بڑھ کر آہستہ سے بیڈپر بیٹھا اور اس کے منہ سے کمبل اتارکر چہرہ سیدھا کیاساتھ ہی پاکٹ سے چھوٹی سی شیشی نکال کر اسے کھولتا اسکے ہونٹوں اور ناک پر چینی کا شیرہ لگانے لگا جبکہ وہ اپنی درگت سے بے خبر ہلکا سا کسمساکر پھر گہری نیند میں جا چکی تھی.
”آہا۔۔تین دن سے مکھیاں اکٹھی کر رہا ہوں تم سے بدلہ لینے کیلۓ“وہ دوسری بوتل اسکے منہ کے پاس جاکر کھولتا ہے تو بہت سی مکھیاں اردگردبھنبھنانے لگیں
”جاؤ میری شیرنیو مقابل کی جاکر کس کرو“آدھی سے ذیادہ مکھیاں اس بیچاری کے خوبصورت ہونٹوں اور چھوٹی سی ناک میں گھسنے کے مقابلے شروع کر چکی تھیں وہ مسکرایا اور موبائل نکال کر اس کی تصویر کھینچتا ہے
”آؤ۔۔ؤچ“مہر کی چیخ پر وہ ہڑبڑایا جبکہ زرگوشے ڈر کر اٹھ بیٹھی اور دروازے میں کھڑی مہر کو اپنی طرف خوف سے دیکھتا پایا
”ک۔کیا ہوا“دونوں اکٹھے بولے
”زر اس احدکے بچے نے تمہاری گندی تصویر۔۔“مہر برے سے منہ بنانے لگی اور زرگ کچھ کا کچھ سمجھ گٸ
”کیا گندی تصویر“وہ غصے سے اٹھنے لگی کہ اس کے سر پر مکھیاں یوں بھنبھنانے لگیں کہ جیسے کسی قلعے کو فتح کرنا مقصود ہو
”احد سچ بتاؤ کیسی گندی تصویر لی ہے میری“وہ خونخوار بلی کی طرح اس کی طرف بڑھی تو وہ موبائل اسے دیتا وہاں سے بھاگااور تصویر دیکھنے کے بعد اسے سمجھ آگئی کہ یہ مکھیاں کیوں اس کے سر پر اگنی کے پھیرے لے رہی ہیں وہ غصے سے بلبلا اٹھی
”مہر تم دیکھنا اس احد کے بچے سے میں کیسے بدلہ لیتی ہوں شیرہ لگا کر سارے جہان کی مکھیاں یہاں دعوت عام پہ بلالیں“وہ زخمی ناگن کی طرح چکر کاٹتی ضبط کرتی ہے
”ہاں تم صحیح کہہ رہی ہو اب احد میں ذرا سی شرم تو ہونی چاہئے کہ اپنی کزن کی عزت کا خیال رکھے اب دیکھو نہ ان میں کئ میل مکھیاں بھی تو ہوں گی اور وہ تمہاری کس کر رہی ہیں اور اسے کوئی غیرت ہی نہیں ہے“مہر نے معصومیت سے کہا تو وہ مزید آگ بگولا ہوئی
”تم فکر نہ کرو مہر اب میں اسے ایسا مزہ چکھاؤں گی کہ یاد رکھے گا“وہ موبائل دیوار پر مارنے لگی کہ جلدی سے رکی کیونکہ موبائل بھی اس کا اپنا تھااور مکھیوں کو پھر اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر جلدی سے واش روم کی طرف بھاگی اور مہر کی ہنسی چھوٹ گٸ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”خرسند بیٹا جاب کیسی چل رہی ہے“اظفر محبت سے اس کی طرف دیکھتے پوچھتے ہیں تو وہ مسکرا کر ”ٹھیک چچا صاحب“بولا
”اب تمہارا شادی کے بارے میں کیا خیال ہے“رحمان علی کھنکار کر گویا ہوئے تو سبھی نے کچھ پل کو کھانا چھوڑ کر ان کی طرف دیکھا جن کا سارا دھیان فقط خرسند شاذ کی طرف تھا
”نیہا کے بعد اب تمہارا بھی گھر بس جانا چاہئے“ان کی بات پر وہ ضبط سے لب کاٹ گیا سب کی نظریں اس کے چہرے سے اذیت ڈھونڈرہی تھیں مگر اسے اپنے تاثرات چھپانے میں عبور حاصل تھا
”داداصاحب میں ابھی وقت چاہتا ہوں اگر آپ کی اجازت ہو باقی جیسا آپ چاہیں“ہمیشہ کی طرح فرمانبردار لہجے میں کہا
”کوئی مسئلہ نہیں تم وقت لینا چاہتے ہو تو لے لو“وہ خوشدلی سے بولے تو سبھی ناشتے میں مصروف ہو گئے”خرسند بیٹا فاطمہ بھابھی کہہ رہی تھیں کہ تمہارا اسسٹنٹ چلا گیا ہے“فرحین نے بات کا آغاز کیا
”جی چچی اس کی گورنمنٹ جاب ہو گئی ہے“وہ مسکرا کر جواب دیتا ہے
”تو پھر تم مہر کو اپنے ساتھ لے جایا کرو اس نے اپنا گریجوایشن کمپلیٹ کر لیا ہے کچھ سیکھ ہی جائے گی“انھوں نے کھانا کھاتی مہر کے سر پر بم پھوڑا تو وہیں علی رحمان اور زرگ خوش ہو گئے
”جی کیوں نہیں چچی جو آپ کا حکم“وہ پھر خوشدلی سے بولااور مہر کو اس کی اسی خوشدلی سے چڑ تھی اس نے اپنی تیئس سالہ زندگی میں کبھی اس شخص کو شدید غصے میں نہیں دیکھا تھا وہ ایک مشہورو مقبول سائیکالوجسٹ تھا اور اس لحاظ سے اسے اگلے بندے کا ذہن پڑھنے میں مشکل نہیں ہوتی تھی مگر پھر بھی اسے خاموش رہنا پسندتھا
”مہر آپ کب جانا پسند کریں گی“وہ مہر کی طرف رخ کرتا ہے تو وہ ہڑبڑائی اور فرحین کی طرف دیکھا جو اسے آنکھ سے اشارہ کرتی ہیں
”جی بھائی وہ میں کل چلوں گی“وہ مسکرا کر سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا
”اوکے پھر میں چلتا ہوں اللہ حافظ“وہ بریف کیس اٹھاتاباہر نکل گیارحمان صاحب بھی چھڑی کا سہارالیتے کمرے کی طرف بڑھ گئے
”عارض کل آفس میں تم نے ایم ڈی صاحب سے کیا بدتمیزی کی تھی“اظفر لگے ہاتھوں عارض کے چھکے چھڑاگئے
”وہ۔۔وہ میں نے تو کچھ نہیں کیا“وہ منمنایا جبکہ وہ غصے سے فرحین کی طرف دیکھتے ہیں جو ہمیشہ کی طرح سر جھکائے مسکرا رہی تھیں کہ جانتی تھیں پھر ان کے لاڈلے نے کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے تین دن ہوئے تھے اسے آفس جاتے وہ ایم بی اے کرچکا تھا مگر ابھی رزلٹ آؤٹ نہیں ہوا تھا
”اب کیا کیا اس بیچارے نے پاپا“مہر نے مسکرا کر پوچھا
کل ایم ڈی صاحب کی آنکھ میں کچھ چلاگیاانھوں نے اسے دیکھنے کو کہا ان شہزادے نے ان کی آنکھ میں ایسی انگلی ماری کہ ابھی تک ان کو نظر نہیں آرہا“ان کی شکایت پر سبھی کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی
”وہ مان نہیں رہے تھے کہ ان کی آنکھ میں کچھ نہیں تو پھر میں نے انگلی مار کہ بتادیا کہ ہاں کچھ ہے“اس کی بات پر اظفر کی پھر افسوس بھری نظر فرحین پر گئی جو لب دبائے کان کھجانے لگیں اظفر نیپکن سے ہاتھ صاف کرکے الوداعی کلمات کہتے آفس کیلئے نکل گئے تو عارض بھی بریف کیس اٹھاتا ان کے پیچھے بھاگا
”زرگ بس کرو یا پھر کھا کھا کر موٹاپے میں بھینس کو بھی مات دینی ہے جلدی کرو میں لیٹ ہو رہا ہوں“احد نے اکتا کر زرگ کو ٹوکا تو وہ خلاف معمول مسکرا کر اسے دیکھتی ہے احد کو خطرہ محسوس ہوا
”چلتے ہیں مگر پہلے اپنی بائیک تو دیکھ لو جو پنکچر ہوئی پڑی ہے“
”واٹ۔۔لیکن رات تک تو ٹھیک تھی“وہ حیرانی سے بولا
”ہاں تو کیا پتہ کسی نے اپنا بدلہ لے لیا ہو“وہ آرام سے بولی اور وہ ضبط کرتا مٹھیاں بھینچ گیا
”چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں“ساتھ ہی دھمکی دیتاباہر نکل گیاجبکہ وہ آرام سے ناشتہ کرنے لگی کہ جانتی تھی کہ وہ اسے چھوڑ کر نہیں جائے گا ورنہ اظفر صاحب سے زبردست پٹائی ہوتی وہ ابھی بھی اپنے بیٹوں کی غلطی پر جی بھر کر ان کی چھترول کرتے تھے
”کچھ شرم کر لیا کرو بڑا ہے تم سے خبردار جو آئندہ ایسا کیا“ناظمہ غصے سے اسے ٹوکتی ہیں مگر سبھی جانتے تھے کہ احد اور زر کبھی بھی سدھرنے والی قوم نہ تھی دونوں ایک ہی یونی میں ایک ہی کلاس میں بی ایس کیمسٹری کر رہے تھے مگر ان دونوں کی آپس میں کیمسٹری کبھی میچ نہیں ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رحمان علی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی بڑے بیٹے شہزاد نہایت مہذب و رحم دل انسان تھے ان کی شادی ان کی ماموں زادکزن فاطمہ سے ہوئی جو پرہیزگاراورنیک خاتون تھیں انکی ایک ہی اولادخرسند شاذ تھا جسکے بعد دو بیٹیاں بھی ہوئیں مگر زندہ نہ رہ سکیں اور نہ ہی فاطمہ آئندہ کیلئے ماں بن سکیں چنانچہ انھوں نے اسے اللہ کی رضا سمجھ کر صبر شکر سے کام لیا۔رحمان علی کی دوسری اولاد ناظمہ تھیں جن کی شادی ان کے پھپھو زادکاشف سے ہوئی ماں باپ نہ ہونے کی وجہ سے کاشف گھر داماد بن کر ان کے ساتھ ہی قیام پذیر تھے ان کی دو بیٹیاں نیہا اور زرگوشے ایک دوسرے کے الٹ تھیں نیہا سنجیدہ اور غصیلی طبیعت کی مالک تھی اگلے بندے کو بات کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا تھاجبکہ زرگوشے انتہائی لاابالی اور شرارتی لڑکی تھی جس بنا پر وہ گھر بھرکی لاڈلی تھی۔۔
تیسری اولاد اظفر علی تھے جنھوں نے اپنی پسند سے اپنی کلاس فیلو فرحین سے شادی کی تھی لاابالی اور بچوں جیسی فرحین جلد ہی جوائنٹ فیملی سسٹم میں رچ بس گئیں اور اس میں بڑا ہاتھ فاطمہ کی صابر اور ملنسار طبیعت کا تھا اظفر کے تین بچے تھے سب سے بڑی مہر جو شرارتی تو تھی مگر رو دھو کر سچی بن جاتی اور ڈانٹ اس کے بھائیوں کو پڑ جاتی۔۔پھر عارض کا نمبر آتا تھا جو تھوڑی معصوم فطرت کا تھا ہر بار شرارت سے توبہ کرتا مگر پھر بھی کچھ الٹا سیدھا ہو جاتا تھا۔۔پھر آتی تھی اس گھر کے شیطان کی باری جس کا نام احد علی تھازرگ واحد لڑکی تھی جو اس سے پوراپورا بدلہ لیتی تھی دس سال پہلے شہزاد صاحب کی طبعی موت کے بعدخرسند شاذ مزید کم گو اور سنجیدہ مزاج ہو گیا تھااور اس گھر میں وہ واحد شخص تھا جو نہ شرارت کرتا تھا اور نہ اس کے ساتھ کوئی شرارت کرتا تھاکہ سبھی اس کا احترام کرتے تھے وہ اور نیہا ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے جس کا پتہ سب گھر والوں کو تھاوہ دونوں ایک جیسی نیچر نہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے میں انوالوتھے جس پر سبھی خوش تھے سوائے زرگ کے اسے اپنی نک چڑھی بہن خرسند شاذ جیسے انسان کیلئے بالکل پسند نہ تھی سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ تین ماہ پہلے نیہا نے سب کو ششدر کر دیا وہ اپنے کسی آفس کولیگ کو پسند کرنے لگی تھی جو اس کے خیال میں ہر لحاظ سے خرسندسے بہتر تھا سب گھر والے اس کی شادی کے خلاف تھے اور وہ جانتی تھی کہ سب کیسے مانیں گے اور بالآخر سب مان بھی گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔