Anokhi Khushi by Asma Khan | Emotional Urdu Romance & Healing Story NovelM80012 Anokhi Khushi (Episode 06)
Anokhi Khushi (Episode 06)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Anokhi Khushi By Asma Khan
”تو آپ ابھی بھی نیہا سے پیار کرتے ہیں ابھی بھی آپکو اس کا خیال اس کی فکر ہے“وہ تلخی سے سوچتی ہے آج خرسند کا نیہا کیلئے کئیرنگ انداز اور نیہا کی جتاتی نظریں اسے بہت اندر تک جلا گئی تھیں وہ اس بات کو زیادہ سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر پھر بھی ناجانے کیوں وہ بہت ہرٹ ہو رہی تھی
”ہونہہ۔۔مجھے کیا اگر ٹھکرائے جانے کے بعد بھی وہ اس کے دیوانے ہیں تو مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا“وہ خود کو تسلی دیتی ہے کہ اسے اپنے گال پر آنسو گرتا محسوس ہوا وہ بہت حساس طبیعت رکھتی تھی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی دل سے لگانے والی یہ تو پھر اس کی زندگی بھر کا معاملہ تھا
”میں ساری زندگی کسی ناکام عاشق کے ساتھ نہیں گزار سکتی“وہ آنسو صاف کرتی گلاب کے پھول کو چھیڑتی ہے سردی میں وہ کوٹ پہنے باہر لان میں پودوں کے پاس کھڑی تھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی قفس میں قید ہو اس کے اندر الاؤ سا جل رہا تھا
”آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں“خرسند کی اچانک آمد پر وہ ہڑبڑاگئی
”سی“وہ انگلی تھام لیتی ہے کہ گلاب سے لگا کانٹا اسکی انگلی پہ لگا تھا”آر یو اوکے“وہ پریشانی سے آگے بڑھا
”جی“مہر سرد مہری سے کہتی جانے لگی
”سنیں“وہ غیر شعوری طور پر اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے مہر پھٹی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھتی ہے جو ملائمت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اسکے دل نے یکدم ایک بیٹ مس کی تھی
”سوری“وہ ہاتھ چھوڑتا معذرت کرتا ہے کہ یہ اچانک ہوا تھا اس کا ایسا کوٸ ارادہ ہرگز نہیں تھا
”ایکچوئیلی مجھے نیند نہیں آرہی تھی تو سوچا کہ تھوڑی چہل قدمی کر لوں اور یہاں آکر دیکھا تو آپ ہیں غالباََآپ کو بھی نیند نہیں آرہی“وہ مسکرا کر کہتا ہے اور مہر نے مسکرانا بھی گوارا نہیں کیا خرسند کو تھوڑا برا محسوس ہوا
”آپ سب کے ساتھ فرینکلی بات کرتی ہیں میرے ساتھ کیا ناراضگی ہے آپ کی“اس کے درست اندازے پر وہ اسے دیکھتی ہے
”نہیں تو ایسی بات نہیں“وہ آہستہ سے بولی اور جانے کوپر تولنے لگی
”کیا ہم بات کر سکتے ہیں تھوڑی دیر“خرسند مسکرا پوچھتا ہے کہ نیند تو آنہیں رہی تھی
”ویسے ساری باتیں تو آپ نے کر لی ہونگی آج نیہا صاحبہ سے“وہ ناچاہتے ہوئے بھی طنز کر گئی اور خرسند اس کی بات پہ کچھ دیر کیلئے حیران وپریشان رہ گیا مہر کو بھی اپنے الفاظ کی سنگینی کا علم ہوا تو آہستہ سے ”سوری“کہہ دیاخرسند نے فقط سر ہلایا
”اگر آپ کو کوئی الجھن یا کوٸ غلط فہمی ہے مہر تو آپ ڈسکس کر لیں مجھ سے“وہ فراخدلی سے اسے اجازت دیتا ہے تو وہ اسے دیکھتی کچھ پل کوسوچتی ہے
”اگر برا نہ لگے تو ایک بات پوچھوں“
”جی جی بالکل“وہ ہمہ تن گوش ہوا
”آپ ابھی بھی نیہا سے پیار کرتے ہیں کیا“وہ بالآخر پوچھ بیٹھی خرسند کو اسکے لہجے میں حسد سا محسوس ہوا وہ دھیمے سے مسکرا گیا
”نہیں“وہ یک لفظی جواب دیتا ہے مگر مہر مطمئن نہیں ہوئی
”پھر اتنا خیال کیوں ہے اس کا“اس کے سوال پر وہ لب دباتا کچھ پل خاموش ساسامنے دیکھتا ہے اور اس کی خاموشی مہر کو زہر لگی تھی
”وہ کزن ہیں میری مہر جیسے آپ ہیں میرے لیے جیسا آپ کے ساتھ ہے میرا بیہیو ویسا ہی ان کے ساتھ ہے“وہ دفاع کرتا ہے جس پر مہر کو ذرا سا بھی یقین نہیں تھایا پھر وہ یقین کرنا ہی نہیں چاہتی تھی
”اور محبت۔۔میرے خیال میں محبت تب تک رہتی ہے جب تک کوئی تیسرا نہ آجائے میں نے تب صبر کیا تھا جب تیسرا آیا تھا اور اب شکر کرتا ہوں کہ اللہ تعالی نے ہر چیز کا بدل رکھا ہوا ہے انشاء اللہ اس نے میرے لیے کچھ اچھا ہی سوچ رکھا ہوگااور جہاں تک بات ہے نیہا سے محبت کی تو وہ میرا ماضی تھا اب وہ میری صرف کزن ہیں مہر امید ہے آپ سمجھ گئی ہونگی کہ محبت کا پنجرہ فقط دو پنچھیوں سے ہی سجتا ہے اور نیہا کا پنچرہ سجا ہوا ہے“وہ مسکرا کر اسے سمجھاتا ہے
”اوکے گڈ نائٹ آپ بھی سو جائیں اب“وہ آہستہ سے چھوٹے چھوٹے قدم لیتااس سے دور ہوتا چلا گیا جبکہ وہ بے بسی سے بھیگی پلکیں لیے وہیں بنچ پر بیٹھ گٸ کہ ابھی بھی نیند آنکھوں میں نہیں بسی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”عارض“زرگ نے کمرے کی طرف بڑھتے عارض کو دھیمے سے پکارا تو وہ جی جان سے ہمہ تن گوش ہوا اور پلٹ کر اس کی طرف بڑھا
”ادھر آنا ذرا میرے لیپ ٹاپ پہ فائل سیو نہیں ہورہی اسے دیکھنا“وہ تھوڑا ہچکچائی کہ رات کا وقت تھا اور مہر بھی باہر گئی ابھی تک نہیں آئی تھی
”کیسے سیو ہو جب تمہارے دل پہ ہماری محبت کی فائل سیو نہیں ہورہی“وہ اس کی طرف جھک کر لگاوٹ سے بولا تو وہ اسے گھورتی پرے ہوئی
”زیادہ باتیں نہ بناؤاور جلدی سے بتاؤ کہ کیا مسئلہ ہے“وہ کرسی پہ بیٹھ کر پاسورڈ کھولتی منہ بنا کر بولی
”تم کب تک لاپرواہ رہو گی زرگ“وہ اس کی کرسی پر ہاتھ رکھ کرہلکا سا جھک کر سرگوشی کرتا ہے تو مہر لب کاٹتی اٹھنے لگی کہ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھاتا ہے”بیٹھو کھا نہیں جاؤں گا تمہیں جسمانی تشدد کم کرتی ہوجو ذہنی تشددپر بھی اتر آٸ ہو“وہ مصنوعی غصے سے بولا
”میں کب کرتی ہوں تم پہ تشدد جھوٹے انسان چپ چاپ فائل سیو کرو اور نکلو یہاں سے“وہ بھی اسی کے انداز میں بولی تو وہ ہنسا
”انتہائی ان رومانٹک لڑکی ہو تم۔۔نو پرابلم شادی کے بعد جی بھر کر سارے بدلے لوں گاجی بھر کر رومینس۔۔۔“
”عارض“وہ سرخ انار سی اٹھ کھڑی ہوئی
”تم نکلو میرے کمرے سے“وہ اسے باہر جانے کا اشارہ کرتی ہے تو وہ ہنستے ہوئے لیپ ٹاپ پہ جھکااور اس کی فائل سیو کرنے کی کوشش کرنے لگا اتنی دیر وہ خاموشی سے اسے دیکھتی اپنی دھڑکنوں کا شور سنتی رہی کہ شرارتی سی زرگ بالاخر ایک نازک دل لڑکی بھی تھی
”لو تمہاری فائل تو سیو ہو گئی اب کیا انعام دو گی“وہ معنی خیزی سے کہتا اس کی طرف بڑھا تو وہ بوکھلائی
”کیا مطلب“وہ انجان ہوئی تو عارض مسکراتے ہوئے اس کے ماتھے پر لب رکھتا ہے اور زرگ سناٹے میں آگئی
”عارض“اس کے لب کپکپائے
”ان خوبصورت لبوں سے میرا نام مت لیا کرو شادی کے بعد ان پہ ٹرائی۔۔۔“
”بکواس بند کرو بدتمیز“وہ شرم سے دہری ہوتی جلدی سے واش روم کی طرف بھاگی تو عارض ہنسنے لگا
”تو گویا تم اپنے لیپ ٹاپ کی طرح اپنے دل کا پاسورڈ بھی کھول کر مجھے دے گئی ہو زرگ“وہ لیپ ٹاپ بند کرتا مسکرا کر بولااور سیدھا احد کو یہ خوشخبری سنانے بھاگا معصوم سے عارض کی معصوم سی شرارتیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔