Anokhi Khushi by Asma Khan | Emotional Urdu Romance & Healing Story NovelM80012 Anokhi Khushi (Episode 03)
Anokhi Khushi (Episode 03)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Anokhi Khushi By Asma Khan
”ہونہہ۔کیسے سویا پڑا ہے میں لڑکی ہوں تو دونوں کے کپڑے میں پریس کروں گی جیسے لڑکی ہونا بہت بڑا گناہ ہو“وہ استری گرم کرتے ہوئے منہ پھلا کر بولی ساتھ ہی دماغ میں ایک شیطانی منصوبہ بھی آیا
”اسے تو میں بتاتی ہوں۔۔ہاہ ابھی تو میرے بال بڑھنا شروع ہوئے تھے اور اس نے ان کا بیڑہ غرق بھی کر دیا“وہ پلگ نکال کر گرم استری لیے اس کی طرف بڑھی جوکہ اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا
”کہاں پر اسٹیمپ لگاؤں“وہ سوچتی ہے اور پھر استری اس کے سرین پر رکھ دی اور پورا ’رحمان ولا‘احد کی چیخوں سے دہل اٹھااور جب فرحین،ناظمہ اورمہر کمرے میں داخل ہوئیں تو زرگ معصومیت سے استری کر رہی ہے اور احد ساکت نظروں سے چھت کو گھور رہا ہے
”کیا آفت آن پڑی“فرحین منہ پھلاکر بولیں
”خیریت تو ہے بیٹا“کمرے میں داخل ہوتیں فاطمہ پریشانی سے پوچھتی ہیں
”جی جی مجھے کیا ہونا ہے“وہ سرخ چہرے سے بامشکل مسکرایاجبکہ مہر مشکوک نظروں سے زرگ کی طرف دیکھتی ہے جس کا سارا دھیان شرٹ کی طرف تھا
”ہم سمجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا یقینا ان دونوں نے پھر کوئی شرارت کی ہوگی چلو چلیں“ناظمہ غصے سے کہتیں باہر نکل گئیں تو فرحین بھی خونخوار نظروں سے ان دونوں کو گھورتی ناظمہ کے پیچھے گئیں
”شرارتیں کم کرتے ہیں بیٹا اب آپ بڑے ہو گئے ہیں“فاطمہ مسکرا کر سمجھاتیں چلی گئیں اورمہر سوچ کر رہ گئی کہ خرسندشاذ فاطمہ پر ہی گیا ہے
”احد ایسے کیوں لیٹے ہو چلو آؤ موسم انجوائے کرتے ہیں“مہر احد کے پاس آئی تو وہ بیچارگی سے گویا ہوا
”میں تم لوگوں کے سامنے نہیں اٹھوں گا“
”کیوں کیا ہوا۔زرگ سچ بتاؤ تم نے کیا کیاہے میرے بھائی کے ساتھ“وہ کسی خدشے کے تحت زرگ کی طرف دیکھتی ہے
”کچھ نہیں کیا میں نے تمہارے بھائی کے ساتھ سمجھی“وہ غصے سے ہاتھ نچا کر بولی تو احد اس عظیم ہستی کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھتا ہے
”ویسے بھی میں ایک مشرقی اور شرمیلی لڑکی ہوں ایسی ویسی نہیں ہوں“باقاعدہ ایکٹنگ کی گئی
”ہاں ہاں یہ اتنی مشرقی اور شرمیلی ہیں کہ ان کو استری کے ساتھ کسی لڑکے کی پینٹ پھاڑنے میں بالکل شرم محسوس نہیں ہوئی“وہ بیچارگی سے بولا کہ درد بھی بہت ہورہا تھا جبکہ مہر تڑپ اٹھی تھی
”اتنا بڑا ظلم میرے بھائی پر چڑیل اگر یہی سب تیرے ساتھ ہوتا تو“
”تو کچھ کم بھی نہیں کرتا یہ“زرگ نے تنک کر جواب دیا ساتھ ہی مرحم والی ٹیوب بھی پھینک دی جسے مہر نے کیچ کر لیا
”چلو میری جان مرحم لگاؤں“مہر پیار سے اس کا گال تھپکتی بولی تو وہ بدک کر پیچھے ہوا
”استغفراللہ میری پینٹ تپتا ہوا تندور پیش کر رہی ہے اور تمہارے خیال سے میں تم سے یہ لگواؤں گا ہرگز نہیں لاؤ دو اسے میں خود لگاؤں گا اور تم جاؤ“وہ ٹیوب جھپٹتا غصے سے بولا تو مہر سر ہلاتی جانے لگی
”سوسوری مگر بدلہ تو لینا تھا“زرگ اس کے پاس جاکر معصومیت سے بولی تو احد بل کھا کر رہ گیا
”اب تم میری بازی کا انتظار کرنا“وہ چیلنج دیتا ہے تو زرگ ناک سے مکھی اڑاتی باہر نکل گئی
”میں چاہ کر بھی تم سے پورا پورا بدلہ نہیں لے پاتا“وہ سوچ کر مسکرایامگر جلد ہی درد نے اس کی چیخیں نکال دیں
”آہ۔۔تمہاری اگلی پچھلی ساری نسلیں استری کا شکار ہو کر مریں زرگ“وہ کرلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تو پھر آپ نے کیا نتیجہ نکالا شاغل احمد سے“وہ بال پوائنٹ اون اوف کرتا مہر سے سوال کرتا ہے
”سر ہمارے ہاں اکثر بچوں کا ایشو یہی ہوتا ہے کہ ان کے پیرنٹس انھیں پراپر ٹائم نہیں دیتے مگر اس بچے کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں اس کے پیرنٹس اسے پراپر ٹائم دیتے ہیں میرے خیال میں اس بچے کو کمپنی ایشو لائک موبائل ٗموویز یا فرینڈز کی وجہ سے ہے“وہ آخر پر ہونٹ سکیڑ کر اس کے تاثرات کو بھی دیکھتی ہے جوکہ کچھ حوصلہ افزا تھے
”ہوسکتا ہے ایسا۔۔لیکن ذیادہ لاڈپیاراور ضدوں کو پورا کرنا آج کے بچوں کو ذیادہ ضدی یا کہہ لیں کہ بدتمیز بنا رہا ہے“وہ کار کی چابیاں میز پر سے اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا
”چلیں“وہ مہر کو کہتا باہر جانے لگاتو مہر بھی سر ہلاتی بیگ کاندھے پر ڈال کر اس کے ہمراہ گاڑی میں آبیٹھی کچھ دیر خاموش سامنے دیکھنے کے بعد وہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتی ہے جو چپ چاپ سنجیدگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا
”مبارک ہو مہر میرے بعد تم میری جگہ لو گی“کسی کی آواز کانوں سے ٹکرائی تو وہ ضبط سے آنکھیں بند کرتی سامنے دیکھنے لگی
”کبھی آپ نے سوچا کہ آپ خود کو سائیکالوجسٹ مانتے ہیں مگر آپ خود ایک سائیکو کیس ہیں“خرسند حیرانی سے اسے دیکھتا ہے جو سامنے دیکھ رہی تھی وہ مسکراگیا
”ہر انسان ہی ہوتا ہے سائیکو کیس“وہ ڈرائیونگ کرتا لاپروائی سے بو لا
”آپ کا مطلب میں بھی سائیکو گھر والے بھی سائیکو“وہ نروٹھے پن سے شکوہ کرتی ہے
”ضروری تو نہیں ہوتا کہ ہر کانچ ،شیشہ ہو اور ہر شیشہ،آئینہ ہو“وہ کچھ پل کو رکا جو کہ اس کی عادت تھی کہ بات کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر سوچ کر بولنا
”ہر انسان کسی نہ کسی پہلو میں سائیکو ہوتا ہے آپ جانتی ہیں کہ موت برحق ہے مگر پھر بھی اپنے والدین کے بارے میں یہی کہیں گی کہ آپ انھیں کچھ نہیں ہونے دیں گی یہ ایک عجیب بات ہے نا کہ آپ کا کوئی اختیار نہیں مگر پھر بھی اس بارے خود کو بہلا رہی ہیں ٹھیک اسی طرح ایک ماں اپنے بیٹے کو دنیا کا سب سے خوبصورت اور اچھا انسان ہی کہے گی حالانکہ وہ ایسا نہیں بھی ہو سکتا مگر وہ ماں اپنے بیٹے کیلئے سائیکو ہے۔۔میں بھی سائیکو ہو سکتا ہوں مگر میرے کیس کی نوعیت کیا دیکھی ہے آپ نے وہ مجھے بتا دیں“وہ دلچسی سے پوچھتا اسے دیکھتا ہے جو اسے ہی دیکھ رہی تھی
”آپ نے اپنے ہاتھوں سے اپنی محبت کو مسمار کر دیا اگر نیہا غلطی کر رہی تھی تو آپ کو اسے سپورٹ کرنے کی بجائے اسے اپنی محبت یاد دلانی چاہیے تھی“وہ روانی سے ہدایت کرتی ہے
”آپ مجھ سے چھ سال چھوٹی ہیں کیا آپ مجھ سے ذیادہ محبت کو جانتی ہیں“وہ سوال پوچھتا ہے
”نہیں میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ آپ کو ایک دفعہ کوشش کر۔۔۔“
”محبت میں کوششیں تب تک چلتی ہیں جب تک محبت یکطرفہ ہودو طرفہ محبت میں کوشش کی بجائے مان ہوتا ہے اور جب مان ٹوٹ جائے تو رشتے کبھی نہیں جڑتے“وہ صاف گوئی سے بولااور مہر لب دباگئی
”ویسے آپ کافی ذہین معلوم ہوتی ہیں امید ہے نیکسٹ ٹائم اس موضوع پر بات نہیں کریں گی“وہ مسکرا کر تنبیہ کرتا ہے
”جی۔۔ویسے آپ مجھے تم کہہ کر پکار سکتے ہیں“وہ مسکرا کر پیشکش کرتی ہے
”پھر آپ بھی مجھے تم کہہ کر پکاریں گی“
”آپ مجھ سے بڑے ہیں میں کیوں آپ کو تم کہہ کر پکاروں گی“وہ حیرانی سے بولی تو وہ سر ہلاتا اوپر والا لب دبانے لگا
”چھوٹا ہو یا بڑاعزت دیں گے تو واپس ملے گی میں آپ کو عزت دیتا ہوں تو آپ مجھے ریٹرن کرتی ہیں“وہ سچائی سے کہتا ہے
”اب ایسی بھی بات نہیں ہے“وہ کھسیانی سی ہوگئی
”ایسی ہی بات ہے اگر میں یہاں روڈ پر آپ کو اتاردوں توآپ یقینامجھے دعائیں تو نہیں دیں گی پتہ ہے مہر محبت یکطرفہ چل جاتی ہے مگر عزت ہمیشہ دو طرفہ ہی چلتی ہے“وہ مسکرا کر کہتا مہر کو لاجواب کر گیا ”یہ شخص غصے میں کیسا لگے گا“وہ سوچ کر مسکرائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”داداجی میں سمجھ گیاہوں کہ بیوی ہمیشہ ارینج ہی کرنی چاہیئے“عارض کی پھلچھڑی پر سب کے منہ سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ پڑا
”کیا ہوا“عارض معصومیت سے پوچھتا ہے
”میرے بھائی عارض بیوی ارینج نہیں ہوتی شادی ارینج ہوتی ہے“احد مزاق اڑانے والے انداز میں بولاتو وہ کھسیا سا گیایہ سردیوں کی سرد سی شام تھی سبھی ہیٹر آن کیے رحمان صاحب کے کمرے میں موجودتھے جو کہ اکثر اوقات سب کی محفل کا مرکز ہوتا تھا
”ویسے تمہیں کیوں خیال آیا کہ بیوی ہمیشہ ارینج ہی کرنی چاہیئے“کاشف ہنس کر پوچھتے ہیں
”دیکھیں نا کل مامانے پاپاکے ساتھ بہت برا کیا“وہ منہ بنا کر فرحین کی شکایت کرتا ہے جو اسے خاموش رہنے کا اشارہ کرتی ہیں
”میں بتاتا ہوں بابا صاحب کہ آپ کی بہو کی کیا کرتوتیں ہیں“اظفر نے نعرہ حق بلند کیاسبھی کے چہرے کھلکھلارہے تھے کہ اس گھر کی رونق اظفر فیملی سے مشروط تھی
”کل میں نے بیگم صاحبہ کو شوپنگ سے منع کیا تو میری چائے میں۔۔“
”ایویں ایویں۔جان بوجھ کر نہیں کیا بس غلطی سے میٹھے کی بجائے میٹھا سوڈا پڑ گیا“وہ اپنی صفائی پیش کرتی ہیں تو سبھی کی ہنسی چھوٹ گئی جبکہ خرسند فقط مسکرا رہا تھا
”اور پاپا جو ساری رات واش روم سے میٹینگ کرتے رہے اس کا کیا“عارض جزباتی ہوا
”کیا اب چھوڑیں گے بھی اس بات کو“زرگ نے تنک کر کہا تو وہ محبت سے اسے دیکھتا اثبات میں سر ہلاتا ہے
”خرسند یہ بتاؤ ہماری مہر تنگ تو نہیں کرتی تمہیں“رحمان صاحب کبھی خرسند کو مخاطب کیے بغیر نہیں رہ سکتے تھے
”بالکل نہیں دادا صاحب بلکہ یہ تو بہت obedientہیں“وہ مسکرا کر کہتا مہر کو دیکھتا ہے جوکہ اسے ہی دیکھ رہی تھی نظریں جھکاگئی
”بس میرا ہی کمال ہے جلیبی کی طر ح سیدھی کر رکھی ہے“احد نے اس کی پونی کھینچی تو وہ اس کے جھانپڑ رسید کرتی ہے
”منہ دھو رکھو اپنا“ساتھ ہی لب کشائی کی
”دھو بھی لے تو کونسا فرق پڑنا ہے“زرگ کی زبان پہ کھجلی ہوئی تو وہ غصے سے اسے دیکھتا ہے
”اپنی رنگت دیکھ لو گندے نالے میں اگی سیاہ اکائی جیسی“ناک چڑھا کر بدلہ اتارا تو وہ بھی مقابلے پر اتری
”اچھا اچھابس اب لڑنا نہ شروع کر دینا“ناظمہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھایاتو وہ منہ بنا گئی
”چلتا ہوں دادا صاحب“خرسند شاذ وقت دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا تو رحمان سر ہلاتے ہیں کہ جانتے تھے اب اپنی ماں کی طرح اس کی بھی عبادت کا وقت ہوچکا ہے”شب بخیر جاؤ بیٹا“
”اللہ حافظ“وہ مسکرا کر کہتا باہر نکل گیا
”چلو اب تم لوگ بھی جاؤ اپنے کمروں میں اور عشاء کی نماز پڑھ کر سونا“وہ سبھی کو تلقین کرتے ہیں تو سب سر ہلاتے ”گڈ نائٹ“کہہ کر اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے یہ الگ بات تھی کہ اظفر کے بیٹے اس بارے میں ہڈحرام تھے دونوں نے موبائل آن کر لیے
”یار تجھے کیا لگتا ہے کہ زرگ مجھے پسند کرتی ہے یا نہیں“عارض نے احد سے پوچھا تو وہ کچھ پل موبائل سے نظریں ہٹاکر اسے دیکھتا ہے
”وہ اس دنیا میں سب کو پسند کر سکتی ہے سوائے میرے“اس نے ہنس کر کہا وہ جانتا تھا کہ اس کا بھائی زرگ کو پسند کرتا ہے اور وہ اپنے بھائی کی خوشی میں خوش تھا
”نہیں یار اسے میں بھی کبھی پسند نہیں آؤں گا“عارض نے رونی صورت بنائی
”کون کہتا ہے کہ عشق تبا ہ کرتا ہے۔۔۔
کون کہتا ہے کہ عشق تباہ کرتا ہے احدؔ
کوئی بیوی سے بھی نباہ کرتا ہے۔۔ واہ“وہ شعر کو بگاڑتا ہے
”ویری فنی“عارض نے منہ بنایا
”ارے یار فکر کیوں کرتا ہے تیرا بھائی ہے نا سب ٹھیک کر دوں گا“وہ شیخی بگارتا ہے
”رہنے دے جو اس نے ماننا ہے تیری وجہ سے وہ بھی انکار ہو جائے گا“اس کے صاف انکار پر وہ ہنسنے لگا
”ویسے میں تو چاہتا ہوں کہ خرسند بھائی مہر کو پسند کر لیں کتنے اچھے لگے گیں وہ میری بہن کے ساتھ“عارض حسرت سے بولا تو احد حیرانی و ناگواری سے اسے دیکھتا ہے
”شرم کر ہماری بہن اتنی گئی گزری نہیں کہ ہم یہ دعا کریں کہ اسے کوئی پسند کرے اگر اسے وہ پسند آئے تو ہی یہ ممکن ہے تم تھوڑی غیرت کرو“احد کے جل کر کہنے پرعارض منہ بنا کر اس کے لات رسید کرتا ہے
”پرہیزگار انسان کے نکاح میں میری بہن ہو اس کیلئے میں منت مانگنے میں بھی شرم محسوس نہیں کروں گا“وہ حسرت سے بولا جبکہ احد نے سر جھٹکا