📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14713"]
46645 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Khushi (Episode 02)

Anokhi Khushi By Asma Khan 

”یہ میرا چھوٹا سا آفس اور وہ آپ کی سیٹ“وہ نرمی سے کہتا بڑے سے فر نشڈ آفس کے کونے میں موجود اسٹائلش سی کرسی اور میز کی طرف اشارہ کرتا ہے
”تھینک یو بھائی“وہ تھوڑی سی کنفیوز ہو رہی تھی
”آپکو پتہ ہے ہر جگہ اپنے علیحدہ رولز اینڈ ایٹی کیٹس رکھتی ہے چونکہ یہاں میں آپکا سینئرہوں تو آپکو مجھے سر کہنا چاہئے گھر میں میں آپکا بھائی ہوں سو کال می سر اوکے“وہ مسکرا کر اسے سمجھاتا کرسی پر بیٹھا ساتھ اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا
”اوکے بھائی۔۔اوہ سوری سر“وہ بوکھلائی سی کہتی اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھی
”مجھے سات سال ہو گئے ہیں یہاں اورآپ میری تیسری اسسٹنٹ ہیں یقینا آپ سے کافی کچھ سیکھنے کو ملے گااور آپ بھی کافی کچھ سیکھیں گی“وہ حسب معمول ہی مسکرا کر بولاتو مہر بھی مسکرا کر سر ہلاتی ہے
”آج کے دن توآپ میری مہمان ہیں تو کیا لیں گی ٹھنڈا یا گرم“وہ کریڈل اٹھائے پوچھتا ہے تو وہ ہچکچا کر ”کچھ بھی“بولی وہ سر ہلائے ہدایت دے کر اس کی طرف متوجہ ہوا
”سو میں دو گھنٹے کیلئے یونی لیکچر دینے جاتا ہوں تو میرے بعد یہاں کی ساری ذمہ داری آپکی ہو گی“وہ یہ بات جانتی تھی کہ خرسند شاذ یونی میں نفسیات کا لیکچر لینے بھی جاتا ہے اس لئے مطمئن تھی
”اس لئے بی کونفیڈنٹ۔۔کونفیڈنس اگلے بندے کو آدھا آپ کے بس میں کر دیتا ہے“وہ اس کو کنفیوژ سا دیکھ کر ہدایت کرتا ہے تو وہ اثبات میں سر ہلاتی خود کو پراعتمادظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے
”پلیز ڈونٹ مائنڈ مگر آپ کے پرفیوم کی سمیل کافی تیز ہے“وہ شرمندہ سی ہو گئی کیونکہ صبح زرگ نے خرسندشاذ کے ساتھ جانے کیلئے بہت تیز پرفیوم لگا دیا تھاوہ بہت پر جوش تھی کہ اسے نیہا کی بجائے مہر ہمیشہ اپنے خرسند بھائی کیلئے پسند تھی۔۔
”سوری کل سے احتیاط کروں گی“سر جھکا کر کہا
”اوہ ڈونٹ سے سوری پلیزمیں آپکا بڑا بھائی ہوں تو اس وجہ سے مجھے لگا کہ مجھے آپ کو سمجھانا چاہیے کہ اچھی لڑکیاں اتنی تیز خوشبو باہر جاتے وقت نہیں لگاتیں کہ ان کی روحانی خوشبو مانند پڑ جاتی ہے“وہ پیار کے ساتھ اسے سمجھاتاہے اور مہر نے عمل کرنے کی بھی ٹھان لی تھی اسی وقت پیون چائے لے کر آگیا
”السلام علیکم چچا جی کیسے ہیں آپ“وہ انکو سلام کرتا اٹھ کر کپ تھام لیتا ہے اور مہر کیلئے کوئی حیرانی کی بات نہ تھی کہ وہ تھا ہی ایسا ہر کسی سے ہنس کر بات کرنے والاہر کسی کا خیال رکھنے والا۔۔
”واعلیکم السلام بیٹا میں بالکل ٹھیک اللہ کا شکر ہے“وہ بھی مسکرا کر جواب دیتے ہیں تو خرسندشاذ سر ہلا گیا
”تم کیا جانو نیہا تم نے اس انسان کو چھوڑ کر کتنی بڑی غلطی کر دی ہے“وہ محض سوچ کر رہ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”مامی میرے بال نیچے سے کتنے رف سے ہو گئے ہیں نا“زرگ فرحین کو اپنے بال دیکھاتی منہ بسورے بولی
”تم فکر نہ کرو آخر میرے پارلر کا کورس کس دن کام آئے گا میں ابھی تمہارے بال نیچے سے کاٹ دیتی ہوں پھر دیکھنا کتنے اچھے بال آئے گے“وہ جلدی سے اپنے دراز سے قینچی نکال لاتی ہیں جبکہ اسی وقت احدنازل ہو گیا
”آپ اس کے بال کاٹنے لگی ہیں“وہ چیخ کر بولا اور دونوں منہ کھولے اسے دیکھتی ہیں
”میں بہت اچھے سے بال کاٹتا ہوں لائیں دیں میں اس کے بال کاٹوں گا“اور اس کے مطالبے پر وہ جلدی سے اپنا سر ڈھانپتی ہے
”بالکل نہیں میرے بال مامی ہی کاٹیں گی تم پر مجھے کوئی اعتبار نہیں“
”نہیں میں ہی کاٹوں گا“وہ فرحین سے قینچی چھینتا اس کی طرف بڑھا جو بچاؤ کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی
”احد یہ کیا تماشہ ہے یہ میرا شکار ہے“فرحین غصے سے چلائیں مگر وہ فورا ْسے اس کے بال اپنی گرفت میں لیتا اس کی لٹ کو کاٹ دیتا ہے
”یہ میرے لئے ایک سنہری موقع ہے مما جی اس چڑیل سے بدلہ لینے کا“وہ اپنے بالوں کی لٹ کو اس کے ہاتھ میں دیکھ کر چیختی ہوئی فرحین کی طرف بھاگی
”دیکھ لوں گی میں تمہیں کمینے انسان“وہ سرخ چہرہ لئے غصے سے بولی تو احد مسکراگیا
”احد تمہاری وجہ سے میرا برسوں پرانا پارلر کا کورس کام نہیں آیاخدا تمہیں پوچھے“فر حین کو اپنا قلق تھا
”شکر ہے کہ آپ نے اپنا برسوں پرانا پارلر کا کورس مجھ پر نہیں آزمایاورنہ تو میں پوری گنجی ہو جانا تھا“وہ یہ سن کر کہ فرحین کا پارلر کا کورس برسوں پراناہے تو خود کے بچنے پر شکر کرتی ہے جبکہ فرحین منہ پھلاگئیں
”ہاں اور میں نے تمہاری گنج پر اتنے۔۔۔“
”بکواس بند کرو کمینے انسان“وہ غصے سے مکا ّکستی اس کے پیچھے بھاگی اور فرحین اپنی قینچی سامنے کرتی آہ بھر کر رہ گئیں
”کتنا پیار کرتا ہے احد زرگ سے“انھیں بال نہ کاٹنے پر قلق تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”مہر آج کا دن کیسا گزرا“زرگ نے تکیہ درست کرتی مہر سے دلچسپی سے سوال پوچھا تو وہ ٹھہری اور اس کی طرف دیکھا
”بس نارمل تھا یار یہ بندہ بہت گہری شخصیت کا حامل ہے ہر بات پہ مسکراہٹ جس میں کہ خالی پن ہے ہر بات میں فلسفہ کہ بندے کا عمل کرنے کو دل کرے مجھے کبھی کبھی یقین نہیں ہوتا کہ یہ انسان ہمارا کزن ہے“وہ تفصیل سے جواب دیتی بیڈ پر بیٹھی اور لیپ ٹاپ کھول لیا
”ویسے میں دن کے بارے میں پوچھا تھا خرسند بھائی کے بارے میں نہیں“زرگ نے مزاق کیا اور وہ سرخ سی سر نیچے کر گئی
”م۔میں سمجھی تم ان کے بارے میں پوچھ رہی ہوویسے میں تو ممی پر حیران ہوں کہ اچانک بنا بتائے مجھے ان کے ساتھ بھیج دیا میں تو پچھتارہی ہوں ایم اے نفسیات کرکے“وہ منہ پھلا تی ہے تو زرگ ہنسی
”چلو کوئی بات نہیں شادی سے پہلے کر لو یہ سب“وہ مزید تنگ کرنے کے موڈمیں تھی
”بکواس بندنہیں کر سکتی تم“وہ غصے سے کہتی لیپ ٹاپ پہ مصروف ہو گئی
”مہر تم جانتی ہو کہ خرسندبھائی نیہا کی شادی کے بعدکتنے اپ سیٹ ہو گئے ہیں نیہا نے ان کے ساتھ اچھا نہیں کیا“زرگ کن اکھیوں سے اسے دیکھتی افسوس سے بولی اور مہر طنزیہ مسکرائی
”ہاں تو یہ ہی پاگل تھے جنھوں نے اس کے عشق میں جدائی کو بھی قبول کر لیا اور سارے گھر کو اس کی شادی کیلئے راضی کیا“وہ غصے سے بولی زرگ کو لہجے میں ناجانے کیوں حسد محسوس ہواوہ پرسوچ نظروں سے اس کو دیکھتی آہستہ سے بولی
”شایدانھوں نے ٹھیک کیا ہومہر کیونکہ بپھری ہوئی عورت اپنے سامنے کھڑے کسی بھی شخص کا لحاظ نہیں کرتی یہ اس سے شادی کر بھی لیتے تو وہ انھیں کبھی بھی خوش نہیں رکھ پاتی“مہر اس کے الفاظ پر لاپروائی سے شانے اچکاتی لیپ ٹاپ بند کر کے کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی اسے اس موضوع پر بات کرنا انتہائی ناپسندتھاجبکہ زرگ اس کے اس رویے پر افسوس سے سر ہلاکر رہ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تمہارے بیٹے نے کل پھر ایک فضول حرکت کی“اظفر نے فرحین کو گھور کر اطلاع فراہم کی جوکہ ان کیلئے پرانی تھی
”اب کیا کیا میری جان کے ٹوٹے نے“وہ محبت سے عارض کو دیکھتی ہیں
”کل یہ سارے اسٹاف کے سامنے پیون کے اوپر گرا اور سارا اسٹاف ان دونوں پر ہنسنے لگا۔۔بندہ دھیان سے چل لیتا ہے“سبھی ہنسنے لگے جبکہ عارض پہلو بدل کر رہ گیاکہ ہر روز ناشتے کی ٹیبل پر اس کی کلاس لگنی لازمی تھی
”کوئی بات نہیں بچہ ہے ابھی“فاطمہ مسکرا کر گویا ہوئیں وہ بہت کم بولتی تھیں مگر ان کا بولنا سب کو بہت مقدم سا لگتا تھا
”ویسے اظفر تمہاری تینوں اولادیں فرحین پر گئی ہیں پوری کی پوری شرارتی“ناظمہ نے لقمہ دیاجس کی تائید سب نے کی
”بالکل بلکہ زرگ بھی مجھ پر گئی ہے اب میں ہوں ہی اتنی پیاری کہ سب مجھ پر جاتے ہیں“ان کے گردن اکڑا کر شوخی سے کہنے پر سبھی ہنسنے لگے کہ وہ تھیں ہی ایسی۔۔۔
”اوکے میں چلتا ہوں اللہ حافظ“خرسندشاذ اٹھ کھڑا ہوا تو فرحین نے مہر کو ٹہوکا دیاتو وہ جلدی سے ہاتھ صاف کرتی اس کے پیچھے بھاگی رحمان علی مطمئن سے مسکرا گئے
”آپ نے ناشتہ ٹھیک سے کر لیاسوری وہ مجھے یاد نہیں رہا“وہ اپنے اٹھ کر آنے پر شرمندہ ہوا
”نو اٹس اوکے میں ناشتہ کر چکی تھی“وہ کہتی اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی خرسند ڈرائیونگ کرنے لگا
آپ سمائل بہت کم کرتی ہیں مہر جو کہ بہت ضروری ہے اگلا بندہ اپنی آدھی فرسٹریشن بھول جاتا ہے آپکو مسکراتا دیکھ کر“وہ مسکرا کر اسے ہدایت کرتا ہے
”آپ ہمیشہ اگلے بندے کو کیوں پریفر کرتے ہیں کیا ہمارے رائٹس کوئی نہیں ہوتے“وہ سنجیدہ سی سوال کرتی ہے
”کیونکہ اگلا بندہ درحقیقت آپکا ہی عکس ہوتا ہے آپ اسے جیسا پلیٹ فارم دو گے وہ آپکو ویسا ہی پرفارم کر کے دیکھائے گا تو کوشش کریں کہ وہ پلیٹ فارم مسکراہٹ ہو“اسکی بات پر وہ تلخی سے مسکرائی
”خرسند بھائی اخباریں بھری پڑی ہیں کبھی کوئی باپ غیرت کے نام پر بیٹی کو مار رہا ہے تو کہیں بھائی بہن کا رشتہ نیلام ہو رہا ہے ساس بہو پر تو کہیں بہو ساس سے زیادتی کر رہی ہے آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں اگلا بندہ درحقیقت آپکا عکس ہے اب جس کا جس پر زور چلتا ہے اس نے اس کو دبا رکھا ہے اپنی فرسٹریشن کسی کمزور پر نکال کر خود کو راحت پہنچائی جاتی ہے“وہ دل کی بھڑاس نکالتی ہے شاذ لمبا سا سانس کھینچ کر رہ گیا
”ویل مجھے سات سال ہو گئے ہیں اس فیلڈ میں آئے ہوئے میرے بہت سے اسٹوڈنٹس اور کولیگز میں آپ جیسا جوش اور سینسیویٹی ہوتی تھی وہ بھی دنیا کو آپکی طرح ہی لیتے تھے مگر آہستہ آہستہ سمجھ گئے جانتی ہیں کیوں۔۔“وہ اسکی طرف دیکھتا ہے جبکہ وہ خاموش تھی
”میں انھیں ہمیشہ BATکی مثال دیتا ہوں۔۔۔“وہ حیران ہوئی اور اسے دیکھا جو خاموشی سے ڈرائیونگ کرنے لگا تھا
”مطلب“بالآخر پوچھ لیا تو وہ مسکرایا
”یو نو کہ BATکو روشنی میں نظر نہیں آتا وہ اپنی منزل اندھیروں میں تلاش کرتی ہے روشنی میں موجود رکاوٹوں سے ٹکراتی ہے مگر الجھتی نہیں ہے خود کو فوری پرے کر لیتی ہے اسے کون برا کہہ رہا ہے کون گالیاں دے رہاہے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسے تو اپنی منزل اندھیرا تلاش کرنا ہے اور بالآخراندھیرے میں وہ اپنی مرضی کی آپ مالک ہوتی ہے جو چاہے کر سکتی ہے لڑ سکتی ہے اترا سکتی ہے بالکل اسی طرح۔۔“وہ گئیر بدلتا بات کرتے ہوئے سامنے دیکھ رہا تھااور مہر اس کی بات توجہ سے سن رہی تھی
”اسی طرح آخرت کی زندگی روشنی اور دنیا کی زندگی اندھیرا ہے اور اس اندھیرے میں انسان اندھادھند بھاگ رہا ہے وہ BATکی طرح بیہیو کرے تو روشنی کو اپنا مقدر بنا سکتا ہے جیسے وہ پرواہ نہیں کرتی راستے کی رکاوٹوں کی ویسے یہ بھی نظرانداز کرنا سیکھ لے تو اپنی منزل بہت آسانی کے ساتھ پا سکتا ہے اگر کوئی اسے گھور رہا ہے گالیاں دے رہا ہے تو کیو ں جواباُرک کر اسے گالیاں دے اسے تو اپنی منزل روشنی ڈھونڈنی ہے نا دو قدم کے فاصلے پر بتائی گئی ہے ہماری منزل جو ہم ادھر ادھر کی لڑائیو ں میں سو قدم کے فاصلے پر لے جاتے ہیں“وہ گاڑی روکتا ہے کہ آفس آچکا تھا
”اس لیے BATکی طرح خود پر دھیان دو خود کو سنوارو لوگ کیا کر رہے ہیں کیسے کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں اس پر توجہ دے کر اپنی منزل کومت دور کرو کیونکہ۔۔آپ نے ان کی جنت یا دوزخ میں نہیں جانا“وہ مسکرا کر کہتا باہر نکل گیا جبکہ وہ کچھ دیر پر سوچ نظروں سے سامنے دیکھتی پھر سر جھٹکتی باہر نکل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔