Anokhi Khushi by Asma Khan | Emotional Urdu Romance & Healing Story NovelM80012 Anokhi Khushi (Episode 08)
Anokhi Khushi (Episode 08)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Anokhi Khushi By Asma Khan
”جی میں آج ایک مہمان کے ساتھ آؤں گا۔۔نونو کسی قسم کی تیاری کی کوئی ضرورت نہیں۔۔اوکے اللہ حافظ“وہ فون بند کرتا سر کو خم دیتے ہوئے فائلز سمیٹنے لگا”جی تو حمزہ پھر کب اپنا کلینک کھولنے کا ارادہ ہے“وہ اپنے سامنے بیٹھے اپنے سابقہ اسٹوڈنٹ سے دوبارہ کلام کرتا ہے جو کال آنے کی وجہ سے رک گیا تھا
”انشاء اللہ بہت جلد کھولنے کا ارادہ ہے اور اس کی اوپننگ آپ سے ہی کروانی ہے سر “خرسند خوش دلی سے سر ہلاتا ہے کہ اس کے اکثرشاگرد اپنے کلینک کا افتتاح اسی سے کرواتے تھے”کیونکہ آج میں جو بھی ہوں وہ آپ کی وجہ سے ہی ہوں سر آپ سے اچھا استاد میں نے آج تک نہیں دیکھا“حمزہ کی تعریف پر فائل پر جھکی مہر کا دھیان بھٹکا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ ایک بہترین استاد تھا
”استغفراللہ حمزہ میری اتنی اوقات کہاں“وہ شرمندہ ہوالیکن حمزہ پھر بھی اپنے موقف پہ تھا
”اوکے سر پھر ملتے ہیں کافی ٹاٸم ہو گیا مجھے بینک بھی جانا تھا۔۔چلتا ہوں اللہ حافظ“حمزہ مسکراتے ہوئے کہتا اٹھ کھڑا ہوا تو خرسند بھی اٹھ کر اس سے ہاتھ ملاتا ”اللہ حافظ اپنا خیال رکھنا“بولااور اس کے رخصت ہونے کے بعد وہ میز پر سے کار کی چابیاں اٹھاتاپینٹ کی پاکٹ میں رکھتا ہے
”مہر جلدی سے فائلز سمیٹ کر آجائیں آج آپ کو ایک جگہ کا وزٹ کروانا ہے“وہ فائلز سمیٹ کر دراز میں رکھتااسے مطلع کرتا ہے تو وہ تھوڑا حیران ہوئی کہ اتنے عرصے میں وہ پہلی دفعہ پوچھ نہیں بتا رہا تھا
”کہاں“وہ پوچھتی ہے تو وہ لبوں کو پھیلاتا سانس کھینچ کر چھوڑتا پھر گویا ہوا
”سو سوری بٹ اٹس سرپرائز۔۔جلدی سے آجائیں میں گاڑی میں ویٹ کررہا ہوں“وہ مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا
”انھیں کیا ہوا آج اتنے خوش کیوں لگ رہے ہیں۔۔اوہ ہاں یاد آیا محبوبہ جو مل کے گئی ہے“وہ پہلے حیرت اور پھر طنزیہ انداز میں بولتی موبائل پرس میں ڈال کر اس کے پیچھے چلتی گاڑی میں آبیٹھی
”ویسے آپ کی طبیعت ٹھیک تھی دو دن لیو لی“وہ کار اسٹارٹ کرتا سرسری سا پوچھتا ہے تو وہ چونک کر اسے دیکھتی ہے
”ہمم بس دل نہیں چاہا“بمشکل نارمل انداز میں جواب دیا
”گڈ اچھی بات ہے کبھی کبھی دل کی بھی مان لینی چاہیے“وہ آج واقع خوش تھا جو اس کے لہجے کو نوٹ کیے بغیر مسکرا کر بولا
”آپ تو مانتے ہی دل کی ہیں نا خرسند بھائی“وہ مسکرا کر طنز کرتی ہے تو خرسند اسے دیکھتا ہے
”بالکل جس دل میں اوپر والا رہتا ہو اس دل کی مان لینی چاہیے“وہ گیئر بدلتا کہتا سامنے دیکھتا ڈرایؤنگ کرنے لگامہر کچھ پل لاجواب ہوئی
”آپ سے ایک بات پوچھوں“وہ اسکی طرف سائیڈ کرتی اجازت لیتی ہے تو وہ اسکی طرف مثبت انداز سے دیکھتا سر ہلاتا ہے
”اگر آپ کے پاس تین آپشن ہوں عزت،محبت اور فرمانبرداری تو آپ کس کو چنیں گے“وہ چیلنج دیتی نظروں سے اسے دیکھتی ہے
”یہ سوال کافی دلچسپ اور مشکل پوچھا ہے آپ نے کہ مجھے یہ تینوں چیزیں ہی بہت پسند ہیں“وہ مسکرایا
”نہیں ایک سیلیکٹ کریں“وہ بضد ہوئی تو وہ کچھ دیر چپ سا سوچنے لگا
”پہلی سیڑھی عزت اور دوسری سیڑھی فرمانبردار ی پھر محبت ہوتی ہے مہر جس محبت میں عزت اور فرمانبرداری نہ ہووہ محبت کبھی نہیں ہوتی تو میں یقینا محبت کو ہی چوز کروں گا کہ یہ ہر خصوصیت کو اپنے اندر رکھتی ہے“وہ مسکرا کر کہتا مہر کی بے چینی بڑھا گیا اسے سمجھ نہیں آئی کہ اس نے اسکی الجھن حل کی ہے یا مزید بڑھا دی ہے گاڑی رکنے پر وہ خیالوں سے نکلی تو سامنے ایک خوبصورت سی عمارت کھڑی تھی وہ حیرانی سے خرسند کو دیکھتی ہے
”دارالامان۔۔میں آج بہت خوش ہوں کہ میں نے تین سال کی محنت کے بعد یہ چھوٹا سا نیک کام کر لیا ہے اسی کا وزٹ کروانے کیلئے میں آپ کو لایا ہوں“وہ گاڑی سے نکلتا حسب معمول اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولتا ہے اور مہر اس کے ہمقدم ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”السلام علیکم بابا صاحب“اظفر سلام کرتے ان کے پاس بیٹھے
”واعلیکم السلام مجھے تمہارا ہی انتظار تھا“وہ مسکرا کر جواب دیتے ہیں
”دراصل آج میں نے تم لوگوں سے بہت اہم بات کرنی ہے“وہ سب کو مخاطب کرتے ہیں سب بڑے ہیٹر آن کئے شام کی چائے سے لطف آمیز ہوتے رحمان صاحب کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے اور زرگ،احد اور عارض کو باہر ٹی وی لاؤنج میں ہی بیٹھنے کی ہدایت کی گئی تھی اور وہ چھپ کر سن گن لینے سے بھی قاصر تھے کہ عارض کی دھمکیاں اس کے بقول یہ ایک غیر اخلاقی حرکت ہے اگر وہ باز نہ آئے تو اندر رپورٹ جائے گی اور وہ دونوں منہ بسور کر اس چمچے کی وجہ سے آرام سے بیٹھے ہوئے تھے
”جی ضرور بابا صاحب آپ کریں بات ہم سن رہے ہیں“کاشف مؤدب سے بولے تو وہ سر ہلاتے بات کا آغاز کرتے ہیں
”جیسا کہ تم سب جانتے ہو کہ میں ہمیشہ سے خرسند کے بارے فیصلے کرنے والا رہا ہوں شہزاد کی موت کے بعد۔۔“ان کے پردرد الفاظ پہ فاطمہ کی آنکھوں میں آنسو چمکے
”میں نے ہی اسے باپ کی حیثیت سے پالا ہے اور جب نیہا میں اس کا رجحان دیکھا تو میں نے کاشف سے اس سلسلے میں بات کی تھی مگر نیہا نے اپنی حرکتوں سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ خرسند کے لائق ہی نہیں تھی۔۔“ناظمہ بمشکل ضبط کرتی ہیں کہ بہرحال اپنی بیٹی کے بارے میں سخت الفاظ کونسی ماں برداشت کرتی ہے
”بحرحال اب میں ایک بار پھرباپ کی حیثیت سے خرسند شاذ کا رشتہ اپنی مہر کیلئے مانگتا ہوں“سبھی کے چہروں پر خوشی کے تاثرات جگمگائے
”تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے اظفر“وہ ان کی طرف دیکھتے ہیں
”بالکل نہیں بابا صاحب بلکہ میں ایک خوش قسمت باپ ہوں جس کا خرسند شاذجیسا انسان داماد بن رہا ہے اور مہر آپکی بھی بیٹی ہے آپ جب چاہیں جیسے چاہیں اس کا نکاح خرسند سے کر دیں میں کون ہوتا ہوں اعتراض رکھنے والا“اظفر مسکرا کر رضامندی ظاہر کرتے ہیں
”شاباش مجھے یہی امید تھی تم سے مگر بات دراصل یہ ہے کہ خرسند اور فاطمہ چاہتے ہیں کہ مہر کی خواہش پوچھی جائے میں انھیں کہہ بھی چکا ہوں کہ وہ نیہا جیسی خودسر نہیں ہے کہ۔۔۔“
”معاف کیجئے گا بابا صاحب مگر میری بیٹی نے کوئی گناہ نہیں کیا جو آپ بار بار اس کو نافرمان قرار دے رہے ہیں اسے اپنی پسند سے شادی کرنے کا پورا اختیار تھا“ناظمہ بالآخر دھیمی مگر تلخ آواز میں اپنی بیٹی کا دفاع کرتی ہیں اور سب کی مسکراہٹ معدوم سی ہوگئی
”نافرمان کب ناظمہ میں تمہاری بیٹی کو بے حیا قرار دوں گا جس نے چار سال تک خرسند سے محبت کی منگنی مگرمحبت کی شادی کسی اور سے کر لی ایسی لڑکیاں ماں کی تربیت دکھاتی ہیں“ان کے سخت الفاظ پر سبھی سر جھکا گئے ماحول جو خوشگوار ہونا تھا اس میں کشیدگی آگئی جبکہ ناظمہ منہ پھلائے باہر نکل گئیں
”معاف کیجئے گا بابا صاحب میں اپنی بیٹی اور بیوی دونوں کی۔۔۔“
”دونوں کو اتنی ڈھیل ہی نہیں دینی چاہئے کہ وہ تمہارا سر جھکا دیں تمہیں اپنا بیٹا سمجھا ہے ہمیشہ اسی لئے اپنے خرسند۔۔“ان کی اور فاطمہ کی آنکھیں بھیگیں
”بیٹے کا دل توڑنے پہ معاف کیا ہے نیہا تمہاری بیٹی ہے اس کے بارے تم سے ہمیشہ پوچھا جائے گاکاشف“وہ آبدیدہ سے ہوئے اور سب بلاوجہ ہی شرمندہ ہونے لگے کہ نیہا اور خرسند کی چھ سال زبانی اور چار سال آفیشل منگنی رہی تھی اور ان کی محبت کے چرچے پورے خاندان میں پھیلے ہوئے تھے
”ویسے بابا صاحب میرے تو بابا ہی اس دنیا میں نہیں تو میری کرتوتوں کے بارے کس سے پوچھا جائے گا“فرحین کے معصومیت سے پوچھنے پر سب کے چہروں پر کچھ دیر پہلے کی چپقلش کے اثرات تھوڑے کم ہوئے
”ویسے بھی زرگ تو ماشاء اللہ اتنی پیاری بچی ہے اسے ڈھیل کی کیا ضرورت“
”جب اپنے بیٹے سے اس کی شادی کرو گی تب یہ پیار بھرا ماشاء اللہ طنز بھرے ماشاء اللہ میں بدل جائے گا“اظفر انھیں تنگ کیے بغیر کیسے رہ جاتے وہ منہ بنا کر رحمان علی سے چھپ کر انھیں سائیڈ مارتی ہیں تو سبھی کے چہروں پہ مسکراہٹ رینگ گئی
”کاشف بھائی آپ ناظمہ کو جا کہ منا لیجئے اندر ناراض بیٹھی ہوں گی“فاطمہ بی بی نے کاشف کو کہا تو وہ رحمان صاحب کی طرف دیکھتے ہیں
”جاؤ میاں بیوی ہے تمہاری میری طرف کیا دیکھتے ہو چاہو تو دو تین چانٹے بھی لگا دینا تاکہ بات کرنے کی تمیز آئے“ان کے نروٹھے انداز پر سب کی ہنسی چھوٹ گئی کاشف سر ہلاتے جلدی سے اپنی بیوی کو منانے کمرے سے باہر نکل گئے
”تو فرحین بہو تم مہر سے رضامندی لے لینا کل تک“انھوں نے فرحین کو حکم جاری کیا تو وہ سر ہلاتی ہیں
”مہر پر مجھے پورا یقین ہے بابا وہ ہمیشہ ہماری پسند پہ خوش رہی ہے اور یہاں بھی اسے ہم پر پورا یقین ہے کہ ہم اس کے لئے کوئی غلط فیصلہ نہیں لیں گے“ان کے لہجے میں اپنی بیٹی کیلئے تفاخر جھلک رہا تھا
”ہوں۔۔اور میں سوچ رہا تھا کہ خرسند اور مہر کی شادی پر زرگ اور عارض کی بھی باقاعدہ منگنی کر دینی چاہیے“وہ پرسوچ ہوئے
”یہ تو بہت اچھی بات ہے بابا صاحب اور بہتر یہی ہے کہ آپ ہی کاشف اور ناظمہ سے بات کر لیں“اظفر نے خوشدلی سے کہا کہ ان کی ہاں تو ہوئی ہوئی تھی مگر اب آفیشل منگنی کیلئے بھی ان کی اجازت چاہیئے تھی
”ہمم۔۔مگر رخصتی زرگوشے کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی سر انجام ہوگی“ان کا مشورہ کم اور حکم زیادہ تھا وہ سر ہلا کر تسلیم کرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔