Anokhi Khushi by Asma Khan | Emotional Urdu Romance & Healing Story NovelM80012 Anokhi Khushi (Episode 05)
Anokhi Khushi (Episode 05)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Anokhi Khushi By Asma Khan
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”آئم سوری“خرسند شرمندگی سے بولاانھیں ہلکا ہلکا اندھیرا ہو چکا تھاکہ مہر کے سونے کی وجہ سے شاذ کسی اور کام پہ چلاگیا اور وہاں سے لیٹ ہوگیا
”کس بات کی سوری“وہ حیرانگی سے پوچھتی ہے
”میری وجہ سے آپ کو چوٹ لگی نہ میں آپ کو فائل لینے کا کہتا اور نہ آپ کے چوٹ لگتی“وہ اس کی بات پہ ہنسی
”آپ اس وقت سائیکو کیس لگ رہے ہیں آپ جانتے ہیں کہ وہ چوٹ میرے نصیب میں تھی“وہ اسے یاد دلاتی ہے تو وہ بھی مسکرایا
”جلدی گاڑی چلائیں موسم خراب ہورہا ہے“وہ ونڈاسکرین سے باہر دیکھتی بولی تو وہ سر ہلاتا ہے
”سردیوں میں تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے موسم“خرسند نے کہاتو وہ سرگوشی کرتی ہے
”ہمارے دل کا موسم تو سدابہار ہی خراب رہنا اب“وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتا ہے
”جی کچھ کہا آپ نے“وہ فوراََسیدھی ہوئی
”جی میں کہہ رہی تھی کہ گھر والے پریشان ہورہے ہوں گے کہ ہم ابھی تک نہیں آئے“وہ ٹالتی ہے تو خرسند سر ہلاتا ہے
”بے فکر رہیں میں فون کر کے آپ کی چوٹ اور لیٹ ہونے کا انفارم کردیا تھا“وہ مسکرا کر اسے مطلع کرتا ڈرائیونگ پر توجہ دیتا ہے
”آپ نے کبھی غصہ کیا ہے“وہ دلچسپی سے پوچھتی ہے تو وہ ہنسا
”آپ میری کزن ہو جانتی ہی ہومجھے“
”میں نے کبھی آپ کو شدید غصے میں نہیں دیکھا میں حیران ہوتی ہوں کہ کوئی کیسے ہمیشہ بنا غصے کے رہ سکتا ہے“وہ پرجوش ہوئی پین کلر کی وجہ سے اب درد بالکل نہیں ہورہا تھا
”خیر میں بھی انسان ہوں اور غصہ آنا ایک فطری عمل ہے مجھے بھی آتا ہے غصہ لیکن میرے خیال میں مجھ میں برداشت کے ہارمونز زیادہ ہیں“وہ ہنسا
”تو کیا اگر ابھی یہاں سے چورڈاکو ہمیں گھیر لیں اور مجھے گندی نظروں سے دیکھیں تو بھی آپ کے برداشت کے ہارمونز ہی زیادہ رہیں گے غصہ نہیں آئے گا آپ کو“وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی بولتی خرسند کو چونکا گئی وہ اسے دیکھتا ہے جو جواب طلب نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ادھ کھلے بھرے بھرے سرخ ہونٹ،سیاہ لانبی پلکوں والی بڑی بڑی آنکھیں الغرض سردی سے کانپتا ہوا اس کا دلکش روپ کسی کا بھی ایمان خراب کر سکتا تھا
”ایسے کیا دیکھ رہے ہیں میں فرضاََ کہا ہے“وہ تھوڑا ہچکچائی اس کی نظروں سے۔۔جبکہ خرسند جلدی سے بوکھلاکر اپنا دھیان ڈرائیونگ پر دیتا ہے
”آئی تھنک مہر آپ مجھ سے زیادہ اچھی سائیکالوجسٹ بن سکتی ہیں“وہ اسے کہتا گاڑی پارک کرتا ہے کہ گھرآچکا تھاوہ گاڑی سے نکل کر اس کی طرف کا ڈور اوپن کرتا ہے تو وہ ”شکریہ“کہتی باہر نکلی خرسند گاڑی لاک کرتا اس کے پیچھے ہی اندر کی طرف بڑھا
”السلام علیکم“دونوں یک زبان بولے
”واعلیکم السلام شکر ہے تم لوگ خیریت سے آگئے“سب سلام کا جواب دیتے ہیں رحمان علی شکر ادا کرتے ہیں
”زیادہ چوٹ تو نہیں آئی میری جان“اظفر فکرمندی سے مہر کو ساتھ لگاتے پوچھتے ہیں تو سبھی مسکرائے
”نہیں بس معمولی سی تھی جلدی سے کھانا دیں بہت بھوک لگی ہے“وہ ابھی کھانا شروع کرنے لگے تھے اسلئے وہ بھی جلدی سے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی خرسند بھی فاطمہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا
تو فاطمہ محبت سے اسے دیکھتیں اس کے لۓ کھانا نکالنے لگیں
”ہم تو پریشان ہو گئے تھے کہ زیادہ چوٹ نہ آگئی ہو“ناظمہ فکرمندی سے بولیں جس کی سب نے تائید کی
”آپ فکر نہ کریں پھپھو اس ڈائن کو کچھ نہیں ہونا“احد کی بکواس پر سبھی نے اسے گھورا
”ہاں بالکل یاد نہیں بچپن میں کتنی بری سیڑھیوں سے گری تھی مگر مجال ہے جو صحت کو فرق پڑا ہو“عارض نے بھی تنگ کرنے کو کہا تو وہ روہانسی سی اظفر کو دیکھتی ہے
”پاپاجی دیکھ لیں یہ کتنے بدتمیز ہیں“اس کی شکایت پر اظفر نے انھیں دیکھا کہ وہ کتنے بدتمیز ہیں سب ان کی نوک جھوک پر ہنسنے لگے
”بیٹا پیار سے تنگ کرتے ہیں آپکو دیکھنا جس دن رخصت ہوئی تو کتنا روئیں گے یہ“فاطمہ نے پیار سے پچکارا
”مجھے کہیں نہیں جانا ہمیشہ آپ لوگوں کے ساتھ رہنا ہے“وہ بچوں کی طرح منہ بنا کر بولی تو خرسند نے اسے دیکھا اسی وقت مہر کی نظریں بھی اس کے ساتھ ملیں مگر وہ سٹپٹا کر جلدی سے کھانے پر جھک گئی
”یعنی ساری زندگی سینے پر مونگ دلنا چاہتی ہو“احد کے آہ بھر کر کہنے پر سبھی دبا دبا مسکراگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تو پھر کہاں تک پہنچی تمہاری لو اسٹوری“زرگ نے شرارت سے کہا تو وہ غصے سے اس کی طرف دیکھتی ہے
”بکواس نہ کرواچھا میرا ایسا کوئی پلین نہیں اور ویسے بھی وہ نیہا سے پیار کرتے ہیں“
”یار کرتے تھے۔۔کرتے ہیں نہیں اور خرسند بھائی کیلئے گھر میں رشتہ ہوتے ہوئے داداجی کبھی بھی ان کا رشتہ باہر نہیں کریں گے“زرگ نے مسکرا کر حقیقت بیان کی
”تو پھر ایسا کرتے ہیں کہ تمہارا کر دیتے ہیں“وہ بھی مسکرا کر طنز کرتی ہے تو زرگ ہنستے ہوئے اسکی طرف کروٹ بدلتی ہے
”سوچ لو پھر تمہارے بھائی کنوارے مر جائیں گے“وہ ٹھرکی انداز میں بولی اتنا تو اسے پتہ تھا کہ اس کی شادی عارض سے ہی متوقع تھی
”ویسے تو میری بھی خواہش تھی خرسند بھائی جیسا کہاں ملے گا نرم مزاج،خوش اخلاق اور سب سے بڑھ کر فرمانبردار تمہیں پتہ ہے کہ فرمانبردار شوہر اللہ کی طرف کتنا بڑا انعام ہوتا ہے“وہ ڈھٹائی سے بولی تو مہر افسوس سے سر ہلاتی اسے دیکھتی ہے
”شرم کر لو کچھ ساتھ میں میرے بھائیوں پر بھی جیک لگارہی ہو اور ساتھ میں خرسند بھائی پر بھی“اس کی بات پر زرگ قہقہہ لگاتی سرہانے کو گلے لگا لیتی ہے
”اور یہ دونو ں بھائیوں پر نظر نہ رکھو صرف عارض سے ہی ہونی ہے تمہاری شادی انشاء اللہ“مہر نے صاف گوئی سے کہا
”اس گھر کیلئے بھی یہی ٹھیک ہے“زرگ کی بات پر مہر مسکراگئی
”اچھا سنو پرسوں نیہا آرہی ہے شادی کے بعد پہلی دفعہ گھر آرہی ہے اپنے شوہر کے ساتھ“وہ اطلاع دیتی ہے تو مہر حیران ہوئی
”داداجی راضی ہیں“وہ پوچھ بیٹھی
”خرسند بھائی کس مرض کی دوا ہیں“زرگ ہنس کر کہتی کمبل تان کر لیٹ گئی جبکہ مہر کی مسکراہٹ غائب ہو گئی اس کے اردگردبس یہی آواز تھی کہ”وہ ہمیشہ میری ڈھال بن کر رہے گا میں کسی مرد کی پہلی،سچی اور پاک محبت ہوں مہر اور مرد جس عورت سے سچی محبت کر لے وہ کبھی بھی دربدر نہیں ہوتی میرے لئے اس کے دل اور گھر کے دروازے ہمیشہ اور ہر حال میں کھلے رہیں گے“نیہا کی مہندی کے دن کی اسکے ساتھ ہوئی گفتگو اسے ہمیشہ یاد رہنی تھی وہ اس دن اسے باور کرواگئی تھی کہ اپنے شوہر کے ٹھکرانے کے بعد بھی اس کے لئے خرسند کا آپشن ہمیشہ رہنا تھااور مہر ہمیشہ کسی خطرے کے زیرِپیش نہیں رہنا چاہتی تھی وہ کسی آپشن کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”واہ کیا مزیدار خوشبو ہے“عارض مسکرا کر کہتا کچن میں داخل ہوا آج نیہا اپنے شوہر کے ساتھ آرہی تھی اس لئے سبھی اپنے کاموں سے جلدی فارغ ہو کر اس کے استقبال کیلئے گھر پر موجود تھے
”میں منہ توڑ دینا اگر اٹھایا تو“وہ ٹرے سے کباب اٹھانے لگا تو فرحین نے چمچہ اس کے آگے کیا
”فرحین کوئی بات نہیں آپ لے لو بیٹا“فاطمہ پہلے فرحین اور پھر عارض کو کہتی ہیں تو وہ مزے سے کباب اٹھا کر کھانے لگااسی وقت احد نازل ہوا
”اکیلے نہ کھانا ہمیں چھوڑ کر تم۔۔۔کھائے بنا بھلا ہم کیا جیئں گے“وہ لہک لہک کر اپنے جزبات کا اظہار کرتا ہے
”مامی جان انھوں نے سارے اسی طرح کھا جانے ہیں“زرگ نے شکایت لگائی تو احد کھاجانے والی نظروں سے اس فتنی کو دیکھتا ہے
”تو کیا ہوا زرگ کباب ہی کھا رہے ہیں اسپیشل چیزیں تو فریج میں پڑی ہیں“ناظمہ نے بھانڈہ پھوڑا اور پھر سب خواتین کو جلسے کی صورت اپنی طرف دیکھتا پاکر بوکھلائیں
”اوہ واؤ اس کا مطلب فریج پر ڈاکہ ڈالنا چاہئے“وہ فریج کی طرف بڑھاکہ مہر نے رستہ روک لیا
”میرے کہنے پر بازار سے آلو لائے تھے جو اب چٹوروں کی طرح آگئے ہو“وہ منہ بنا کر بولی تو احد مصنوعی درد آمیز لہجے اور شکل سے بولا
”یعنی۔۔یعنی تم ایک آلو۔۔“ساتھ ہی ہاتھ کا آلو بنایا
”آلو کی خاطر اپنے حسین وجمیل اور خوبرو بھائی کو انکار کرو گی“ساتھ ہی مصنوعی آنسو لگالئے اس کے ڈرامے پر سب کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی
”احد اور حسین و جمیل۔۔ہاہا“زرگ نے مزاق بنایاتو وہ ناک پھلاکر اس کی طرف چہرہ کرتا ہے
”منہ دیکھو جیسے پلاسٹک کا لوٹا“بھڑاس نکالی
”اوہ ویری نائس جوک۔۔“وہ ہاتھ چہرے پر رکھ کر مصنوعی ہنسا اور پھر غصے سے اسے دیکھاباقی سب ان کی لڑائی انجوائے کر رہے تھے
”اپنا منہ دیکھا ہے جیسے کدّو پہ ڈنڈی“اس کے جوک پر زرگ نے اپنا منہ پکڑ کر ”ہاہ“کیا اور پھر شروع ہو گئی
”تمہارا سائیکل کی اتری چین جیسا منہ،آنکھیں تمہاری چوہے کے بل جیسی،ناک تمہارا سوئی میں پڑے دھاگے جیسااور ہونٹ۔۔ہونٹ تمہارے کیلے سے اترے سڑے چھلکے جیسے“وہ ایک ہی سانس میں ساری جگتیں اسے سنا گئی اور دروازے میں کھڑے اظفر اور کاشف حیران رہ گئے
”ماشاء اللہ کیا ٹریننگ ہے“کاشف ناظمہ کو طنز کرتے ہیں اور آہ فرحین بھرتی ہیں
”ہائے یہی ٹریننگ ہمارا دل آپ لوگوں پہ ٹرائے کرنے کو چاہتا ہے مگر کیا کریں شریعت اجازت نہیں دیتی“
”شاباش بیگم ویسے رکھ کہ لعنت بھیجی ہے اپنی لو میرج پہ“اظفر کیوں پیچھے رہتے ساتھ ہی رخ زرگ کی طرف کیا
”خیر سے ایک بیٹے کی تو سو فیصد صحیح خصوصیات بتائی ہیں زرگ بیٹا یہ دوسرے کی بھی بتاؤ نہ کچھ“وہ خاموشی سے کباب بناتی فاطمہ کے پاس سے کباب اٹھا اٹھا کر کھاتے عارض کے چھکے چھڑاگئے کباب حلق میں ہی اٹک گیا اور منہ کھلا کا کھلا تھا
”ویسے تو ٹھیک ہے ماموں مگر تھوڑا بونگا ہے“وہ شرارت کرتی ہے تو عارض منہ بنا کر باہر نکل گیا سب کی ہنسی چھوٹ گئی
”تو ہوگی بونگوں کی سردار خبردار میرے ذہین و فطین بھائی کو کچھ کہا“مہر اپنے بھائی کا دفاع کرتی حساب برابر کرکے باہر نکل گئی
”ہاں خود کو دیکھو بھینس جتنی موٹی عقل والی“احد کیوں پیچھے رہتااور زرگ غصے سے ان تینوں کے پیچھے بھاگی
”بدتمیزو۔رکو بتاتی ہوں تم سب کو“پیچھے ان سب کی ہنسی چھوٹ گئی
”اللہ تعالی ان کو ہمیشہ ایسے ہی ہنستا مسکراتا رکھے ان چاروں کی وجہ سے ہی تو گھر میں رونق ہے“فاطمہ کی دعا پر سب نے زیر لب آمین کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔